Ayah 3:120120۔ (آیت)” ان تمسسکم “ مؤمنوا اگر تمہیں پہنچتی ہے ” حسنۃ “ کوئی نیکی ، دشمن پر غلبہ پانے کے بعد کوئی آسانی مثلا مال غنیمت تمہیں مل جائے تو وہ لوگ جوق درجوق دین میں داخل ہوجاتے ہیں ، اس وجہ سے ان کو بہت رنج پہنچتا ہے ۔ (آیت)” تسؤھم “ تو وہ غمگین ہوجاتے ہیں (آیت)” وان تصبکم سیئۃ “ ۔ اگر تم پر کوئی برائی پڑجاتی ہے ، مثلا دشمن کو کچھ حاصل ہوجاتا ہے یا تمہارے درمیان کوئی اختلاف واقع ہوجاتا ہے ، یا قحط پڑجاتا ہے یا کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ” یفرحوا بھا وان تصبروا “۔ وہ اس اذیت پر خوش ہوتے ہیں ۔
(آیت)” وتتقوا “ اور تم رب سے ڈرتے رہو گے (آیت)” لایضرکم “ وہ تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ، (آیت)” کیدھم شیئا “۔ ابن عامر ، ابن کثیر ، نافع، اہل بصرہ کے نزدیک یہ قرات ہے (آیت)” لایضرکم “ ضاد کے کسرہ کے ساتھ بغیر شد کے اس صورت میں ” ضاد یضیر ضیرا “ اس صورت میں مجزوم جواب جزاء ہے اور باقی قراء ضاد کے ضمہ اور راء کی تشدید کے ساتھ پڑھتے ہیں ،۔
ضر یضر ضرا “۔ ۔۔۔۔۔۔ ” رد یرد ردء ا “۔ کی طرح ، اس کی مرفوع ہونے کی دو وجہیں ہیں۔
(1) یہ اصل میں ” یضروکم “ تھا راء کو راء میں ادغام کیا اور پہلی راء کا ضمہ ضاد کو دیا اور راء پر ضمہ ضاد کے ضمہ کی اتباع کی وجہ سے ہے ۔
(2) ” لایضرکم “۔ میں لا بمعنی لیس کے ہے ، اس صورت میں تقدیری عبارت اس طرح ہوگی (آیت)” وان تصبروا وتتقوا فلیس یضرکم کیدھم شیئا “۔ اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو اس کا مکر تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا ، (آیت)” ان اللہ بما تعملون محیط “ وہ جاننے والا ہے (آیت)” واذ غدوت ۔۔۔۔۔ واللہ سمیع علیم “۔ (121)
Ayah 3:121(تفسیر) 121۔:
واذ غدوت ۔۔۔۔۔۔۔ مقاعد للقتال “۔
(مقاعد للقتال کی مختلف تفاسیر)
حسن بصری (رح) کے نزدیک اس سے بدر کا دن مراد ہے ، مقاتل کے ہاں احزاب کا دن مراد ہے ، باقی تمام مفسرین کے نزدیک احد کا دن ہے ، مجاہد (رح) ، کلبی (رح) ، اور واقدی (رح) ، فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ صبح کو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے گھر سے آئے اور پیدل چل کر احد تک پہنچے اور لڑائی کے لیے اپنے ساتھیوں کی صف بندی کرنے لگے جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے ۔
(آپ ﷺ کا غزوہ احد کے لیے نکلنا)
محمد بن اسحاق (رح) ، سدی (رح) ، روایت کیا ہے کہ مشرکین احد کے مقام پر بدھ کے دن اترے ، جب آپ ﷺ کو ان کے نزول کی اطلاع موصول ہوئی آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے مشورہ کیا اور ابی بن عبداللہ سلول منافق کو بھی مشورہ کے لیے بلایا حالانکہ اس سے پہلے کبھی بھی آپ ﷺ نے اس کو مشورہ کے لیے نہیں بلایا ، عبداللہ بن ابی اور اکثر انصار نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ آپ مدینہ میں ہی رہئے اس سے باہر نہ نکلیں ، کیونکہ خدا کی قسم ! ہم جب بھی دشمن سے قتال کے لیے باہر نکلتیء ہیں تو دشمن ہم پر کامیاب رہا ہے اگر دشمن اندر آکر ہم پر حملہ آور ہوا ہے تو ہم اس پر کامیاب رہے ہیں اب جبکہ آپ ہم میں موجود ہیں ہم کو کیا ڈر ہے اگر مشرک جہاں ہیں قیام پذیر اور عورتیں اوپر سے ان پر پتھر برسائیں گے اور اگر لوٹ کر چلے جائیں گے تو ناکام لوٹیں گے ، آپ ﷺ کو یہ رائے پسند آئی ، بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے فرمایا اے اللہ کے رسول ! ﷺ ان کتوں کی طرف نکل کر چلنا چاہیے تاکہ وہ یہ خیال نہ کریں کہ ہم بزدل اور کمزور ہوگئے ہیں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے خواب میں مذوبحہ گائے دیکھی ہے جس کی تاویل بھلائی کے ساتھ ہے اور میں نے تلوار کی دھار ٹوٹی ہوئی دیکھی ہے میرے نزدیک اس کی تعبیر شکست ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میں نے اپنا ہاتھ مضبوط زرہ میں داخل کیا اس کی تعبیر میں نے دی مدینہ میں داخلہ یا قیام پس اگر مدینہ میں ہی قیام رکھنے کی تمہاری رائے ہو آپ کو یہی پسند تھی کہ دشمن مدینہ کے اندر آجائیں گے اور گلیوں میں ان سے لڑائی ہو، مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو بدر سے رہ گئے تھے اللہ نے احد کے دن ان کو شہادت سے بھی سرفراز کردیا ۔
انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم پسند کرتے ہیں کہ ان کی طرف جہاد کرنے کے لیے نکلیں ، آپ ﷺ گھر میں داخل ہوئے اور جنگی لباس پہن کر نکلے ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے جب دیکھا کہ آپ ﷺ جنگی لباس پہن لیا تو نادم ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم سے غلطی ہوئی کہ ہم آپ ﷺ کو مشورہ نہ دیتے بلکہ وحی کا انتظار کرتے ، کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ سے معذرت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ آپ ﷺ کی جو رائے ہے اس پر کر گزرئیے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اسلحہ پہن کر بغیر لڑائی کے اتار دے ۔ مشرکین نے احد کے میدان میں بدھ اور جمعرات کو قیام کیا ، آپ ﷺ نے جمعہ کی نماز کے بعد ایک انصاری صحابی کی نماز جنازہ پڑھ کر روانہ ہوئے، آپ ﷺ نے احد کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں صبح کی نصف شوال 3 ہجری میں احد میں قیام کیا اور اسی دن جنگ ہوئی ، اسی پر اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” واذ غدوت من اھلک تبوی “ سے مراد مؤمنین کا احد میں اترنا ہے مقاعد للقتال کی جگہیں ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ” بوات القوم اذا وطنتھم “ جب قوم کسی جگہ پڑاؤ کرے اور ” تبوؤا “ ھم کہتے ہیں جب وہ کسی مکان کو روندیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ولقد بوانا بنی اسرائیل مبوا صدق “۔ اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو پسندیدہ جگہ اور دوسری جگہ فرمایا ” ان تبوا لقومکما بمصر بیوتا “ اس سے مراد جنگی مشق کی جگہ ہے ۔ (آیت)” واللہ سمیع علیم “۔
Ayah 3:122(تفسیر) 122۔:
(آیت)” اذ ھمت طائفتان منکم ان تفشلا “۔ وہ بزدل کمزور اور پیچھے رہنے والے تھے ، طائفتان سے مراد خزرج میں سے بنو سلمہ اور اوس میں سے بنو حارثہ ہیں، یہ جنگ کے دو بازو تھے ، اسی وجہ سے آپ ﷺ احد کی طرف ایک ہزار افراد کا لشکر لے نکلے ، بعض نے کہا کہ نوسو پچاس افراد کا لشکر لے کر نکلے جب وہ مقام شوط پر پہنچے تو عبداللہ بن ابی ایک تہائی لوگوں کو لے واپس لوٹا جس کی تعداد تین سو تھی ، یہ کہتے ہوئے لوٹا کہ ہم کیوں اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو قتل کریں ، ابو جابر سلمی اس کے پیچھے گیا اور کہا میں تم کو تمہارے نبی اور تمہاری جانوں کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ لوٹ کر نہ جاؤ عبداللہ بن ابی بولا اگر ہم جانتے ہوئے کہ یہ قتال ہے تو ہم آپ کی پیروی کرتے، بنو سلمہ اور بنو حارثہ نے واپس جانے کا ارادہ کیا لیکن اللہ نے ان کو محفوظ کرلیا اور وہ نہیں لوٹے ، اللہ نے اپنی یہی نعمت عظمی ان کو یاد دلائی اور فرمایا (آیت)” اذ ھمت طائفتان منکم ان تفشلا “ ۔۔۔۔۔ واللہ ولیھما “۔ اس کا مددگار اور ان کا محافظ (آیت)” وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون “۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اذ ھمت طائفتان منکم ان تفشلا واللہ ولیھما “۔ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے متعلق نازل ہوئی ، جب اللہ تعالیٰ نے ” واللہ ولیھما “۔ فرمایا تو ہم کو گزشتہ ارادہ فرار سے اتنی خوشی ہے کہ ہم بھاگنے کا ارادہ نہ کرتے تو اتنی مسرت نہ ہوتی ۔
Ayah 3:123(ببدر کی تفسیر اور مختلف اقوال)
123۔ (آیت)” ولقد نصرکم اللہ ببدر “۔ بدر یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جگہ کا نام ہے ، یہی اکثر مفسرین کے نزدیک ہے ، بعض نے کہا یہ یہ ایک کنویں کا نام ہے ، بعض نے کہا کہ بدر نام کے ایک شخص کا کنواں ہے ، اس آیت کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے ان پر نصرت کرکے احسان کیا جبکہ (آیت)” وانتم اذلۃ “ جمع ہے ذلیل کی ، قلت عدد کو ذکر کیا کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اس جنگ میں تین سو تیرہ تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی قلت تعداد کے باوجود بھی ان کی مدد فرمائی (آیت)” فاتقوا اللہ لعلکم تشکرون “۔
Ayah 3:124124۔ (آیت)” ان تقول للمؤمنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم “۔ اس آیت کے مصداق میں مفسرین کا اختلاف ہے ۔
قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ بدر کے دن اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ مدد فرمائی (آیت)” فاستجاب ربکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ “۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تین ہزار فرشتوں کے بعد پھر پانچ ہزار کردیئے ، (آیت)” بثلاثۃ الاف من الملائکۃ منزلین “۔
Ayah 3:125(غزوہ بدر میں نصرت خداوندگی )
125۔ بلی ان نصبروا وتتقوا ویاتوکم من فورھم ۔۔۔۔ مسومین “۔ انہوں نے بدر میں صبر اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ سے تقوی اختیار کیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے پانچ ہزار فرشتوں سے مدد کی جیسا کہ وعدہ کیا تھا ، حسن (رح) ، فرماتے ہیں بس یہی پانچ ہزار قیامت کے دن تک مسلمانوں کے لیے پشت پناہ رہیں گے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ و مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بدر کے علاوہ فرشتوں نے کسی معرکے میں جنگ نہیں کی اور جنگوں میں انہوں نے شمولیت اختیار کی لیکن قتال نہیں کیا محمد بن اسحاق (رح) ، کا بیان ہے کہ جب احد کے دن لوگ آپ ﷺ کو چھوڑ کر چلے گئے تو آپ کے پاس سعد بن مالک باقی رہے جو تیر پھینک رہے تھے اور ایک جوان میرے پاس موجود تھا ، جب میں تیر پھینکتا تو وہ مجھے تیر پکڑا دیتا یا میری کمان میں تیر ڈال دیتا اور وہ کہتا ارم دو مرتبہ کہا جب معرکہ ٹھنڈا ہوگیا تو اس شخص کے متعلق پوچھا تو کوئی بھی اس کو نہیں جانتا تھا ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو احد میں دیکھا کہ دو سفید پوش آپ ﷺ کی طرف سے بہت شدت سے لڑ رہے تھے اس طرح لڑتے ہوئے میں نے نہ کبھی پہلے دیکھا نہ بعد میں ، انہی کی دوسری روایت یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے دائیں اور بائیں جانب دو اشخاص کو دیکھا جو سفید پوش تھے نہ اس سے پہلے اتنا زیادہ کوئی لڑتا ہوا دیکھا نہ اس کے بعد وہ دونوں جبرئیل (علیہ السلام) ومیکائیل (علیہ السلام) تھے ۔
شعبی کا بیان ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اطلاع ملی کہ کرز بن جابر محاربی مشرکوں کی مدد کرنا چاہتا ہے ، یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” الن یکفیکم ان یمدکم “۔ الی قولہ ” مسومین “۔ کرز کو شکست ملی اور وہ واپس لوٹ آیا ، اس کی کسی نے مدد نہیں کی ، بعض حضرات نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے بدر کے دن وعدہ کیا کہ اگر تم طاعت پر صبر کرو گے اور حرام کردہ اشیاء سے بچو گے تو اسی طرح تمام جنگوں میں تمہاری مدد کی جائے گی ، انہوں نے صبر نہیں کیا مگر جنگ احزاب کے موقع پر جب بنو قریظہ اور بنو نضیر نے ان کا محاصرہ کیا تھا ، عبداللہ بن ابی اوفی فرماتے ہیں کہ ہم بنی قریظہ اور بنو نضیر کا محاصرہ کیے رہے لیکن فتح حاصل نہیں ہوئی ، رسول اللہ ﷺ اپنی منگوا کر اپنا سر مبارک دھو رہے تھے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر عرض کیا کہ تم لوگوں نے ہتھیار کھول دیئے اور ملائکہ نے ابھی تک اپنا اسلحہ نہیں اتارا ، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فورا ایک کپڑا منگوا کر سر سے لپیٹا سر نہیں دھویا ، پھر ہم کو جمع کرنے کے لیے منادی کرائی ہم فورا تیار ہوگئے اور قریظہ ونضیر کی بستیوں پر جا پہنچے ، اس روز تین ہزار ملائکہ نے ہماری مدد فرمائی ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں آسانی سے فتح نصیب فرمائی ۔
ضحاک (رح) اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ احد ہی کا دن تھا جس دن کے لیے اللہ تعالیٰ نے مدد کا وعدہ کیا تھا کہ ہم صبر کریں گے اگر صبر نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ہماری مدد بھی نہ فرماتے ، (آیت)” ان یمدکم ربکم “۔ امداد لشکر کی مدد کرنے کو کہتے ہیں بعض نے کہا کہ جو کسی کی طرف سے قوت اور امداد کے لیے آئے جیسا کہ کہا جاتا ہے ” امدہ امدادا “۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” البحر یمدہ “۔ بعض نے کہا کہ مد خیر اور شر دونوں معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اس پر دلالت کرتا ہے (آیت)” ویمدھم فی طغیانھم “۔ ۔۔۔۔۔” ونمدلہ من العذاب مدا “۔ یہاں دونوں جگہوں پر شر کے لیے استعمال ہوتا ہے اور خیر کے لیے یہاں استعمال ہوا (آیت)” انی ممدکم بالف من الملائکۃ منزلین “۔ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا (آیت)” وامددناکم ب اموال وبنین “ ۔ تیسری جگہ ارشاد فرمایا (آیت)” بثلاثہ الاف من الملائکۃ منزلین “۔ ابن عامر نے زاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے جو تکثیر پر دلالت کرتا ہے ، جیسا کہ اللہ کے اس فرمان میں (آیت)” ولو اننا نزلنا الیھم الملائکۃ “۔ اور دوسرے حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” لولا انزل علینا الملائکۃ “۔ اور دوسری جگہ (آیت)” انزل جنودا لم تروھا “ ہے پھر فرمایا ” بلی “ بلکہ ہم تمہاری مدد کریں گے ، (آیت)” ان تصبروا “ اگر تم اس پر صبر کرو گے دشمن کی طرف سے پہنچنے والی ایذاء سے ” وتتقوا “ اپنے نبی کی مخالفت سے بچو ” ویاتوکم “ اس سے مراد مشرکین ہیں۔ ” من فورھم ھذا “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت قتادہ (رح) ، حسن (رح) ، اور اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ نبی کریم ﷺ کی مخالفت کی وجہ سے وہ تم سے لڑنے آئیں گے ، مجاہد (رح) اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے غضب کی وجہ سے وہ آپ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے ضرور آئیں گے کہ ان مشرکین کو بدر کا غصہ ہے (آیت)” یمددکم ربکم بخمسۃ الاف من الملائکۃ “۔ پانچ ہزار فرشتہ آئے ہیں البتہ تین ہزار فرشتے آئے اور ان کے ساتھ ہزار کا وعدہ کیا۔
” مسومین “ اس سے مراد نشان زدہ ہونا ہے ۔
(مسومین کی مختلف قراتیں اور تفاسیر)
ابن کثیر (رح) ، ابو عمرو (رح) اور عاصم (رح) ، واؤ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے واؤ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے جو حضرات کسرہ پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں ، کہ انہوں نے اپنے گھوڑوں کو نشان زدہ کردیا اور جو حضرات فتحہ پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو نشان زدہ کردیا ، تسویم کا معنی ہے نشاندار ہونا اور مسومۃ علامت کو کہتے ہیں ، اس علامت میں آئمہ کے مختلف قول ہیں ، عروۃ بن الزبیر فرماتے ہیں کہ ” ملائکۃ ابلق گھوڑوں پر سوار تھے اور ان کے عمامے زرد تھے۔
حضرت علی ؓ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ان کے عمامے سفید تھے جن کی دمین دونوں شانوں کے درمیان انہوں نے چھوڑ رکھی تھیں ۔
ہشام بن عروہ (رح) ، اور کلبی (رح) نے کہا کہ ان کے عمامے زرد تھے جو شانوں پر لٹکے ہوئے تھے ، قتادہ (رح) اور ضحاک (رح) نے کہا فرشتوں نے (اپنے) گھوڑون کی پیشانیوں اور دموں میں اون کا نشان لگا دیا تھا ، روایت کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ بدر کے دن صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فرمایا تم اپنا نشان لگا لو کیونکہ ملائکہ نے سفید اون کے نشان اپنی ٹوپیوں اور خودوں میں لگا لیے ہیں ۔
Ayah 3:126(تفسیر) 126۔:
(آیت)” وما جعلہ اللہ “ یہ وعدہ اور مدد اس لیے کی (آیت)” الا بشری لکم “۔ تاکہ تمہارے لیے خوشخبری ہو ” ولتطمئن “ اور تم مطمئن ہو سکون قلب حاصل ہو ، (آیت)” قلوبکم بہ “ تمہارے دلوں میں خوف نہ ہو دشمنوں کی تعداد کی زیادتی اور اپنی تعداد کی کمی کی وجہ سے ۔
(آیت)” وما النصر الا من عنداللہ العزیز الحکیم “۔ فتح تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے نہ کہ ملائکہ کی کثرت اور کثیر لشکر وسازو سامان سے ، لہذا تم اسی سے مدد طلب کرو اور اسی پر توکل اختیار کرو اس لیے کہ عزت اور حکومت اسی کی طرف سے ہے ۔
Ayah 3:127127۔ (آیت)” لیقطع طرفا من الذین کفروا “۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کی تاکہ کافروں کی ایک گروہ کو ہلاک کر دے ، سدی (رح) ، فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مدد اس لیے کی تاکہ شرک کے ستونوں میں سے ایک رکن کو مٹادیں ان کے قتل اور قید کرنے کے ذریعے ، چانچہ بدر میں کافروں کے ستر کمانڈر اور سردار مارے گئے اور ستر گرفتار ہوئے اور جنہوں نے اس آیت کو احد کے ساتھ متعلق کیا ہے ، اس نے کہا کہ احد میں کافروں کے سولہ سردار مارے گئے تھے اور شروع میں فتح مسلمانوں کی ہوئی تھی لیکن جب انہوں نے رسول کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت کی تو فتح شکست کی صورت میں بدل گئی ، (آیت)” اویکبتھم “۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے پچھاڑ دینا ، یمان فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ ان کے چہرے کو پھیر دیا ، سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ان پر لعنت فرمائی ہے ، ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ معنی ہے ہلاک کیا ، بعض نے کہا رسوا کرنا مبکوت بھی اسی سے ہے بعض نے کہا کہ ان کو غم پہنچ گیا اور ان کو غصہ کے ساتھ لوٹا دیا ، بعض نے کہا کہ ذلیل کر کے لوٹا دیا ۔ (آیت)” فینقلبوا خائبین “۔ جس امید پر وہ آئے تھے اس امید کیے بغیر وہ واپس لوٹ گئے ، (یعنی ناکامی اور نامرادی کو لے کر)
Ayah 3:128128۔ (آیت)” لیس لک من الامر شیئ “۔
(آیت)” لیس لک من الامر شیئ “۔ کا شان نزول)
اس آیت کے شان نزول میں آئمہ کرام کا اختلاف ہے، بعض حضرات نے کہا کہ اس آیت کا نزول ” بئر معونہ “ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر ہوا اور وہ ستر قراء صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تھے جن کو آپ ﷺ نے جنگ احد سے چار ماہ بعد 4 ہجری صفر کے ماہ میں ستر قراء کو ان کی طرف بھیجا تاکہ ان کو قرآن کریم کی تعلیم دی ، ان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے امیر منذر بن عمرو تھے مگر عامر بن طفیل (رح) نے ان سب قراء کو شہید کردیا ،
آپ ﷺ کو جب یہ خیر پہنچی تو بہت رنج اور دکھ ہوا ، آپ ﷺ ایک ماہ تک ان قبائل والوں کے لیے بددعا کرتے رہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” لیس لک من الامر شیئ “۔
سالم اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جب آپ (علیہ السلام) فجر کی نماز میں دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو یہ فرماتے ” اللھم العن فلانا ، فلانا ، فلانا “ کہ اے اللہ فلاں ، فلاں ، فلاں پر لعنت فرما یہ ” سمع اللہ لمن حمدہ “۔ کہنے کے بعد ارشاد فرماتے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، (آیت)” اویتوب علیھم او یعذبھم فانھم ظالمون “۔ اور ایک قوم نے کہا کہ یہ احد کے دن کے بارے میں نازل ہوئی ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ کے رباعیہ دانت شہید ہوئے اور سر مبارک میں زخم پہنچا آپ ﷺ کا خون بہہ رہا تھا ، آپ ﷺ ارشاد فرما رہے تھے کہ وہ قوم کیسے فلاح و کامیاب ہوگی جو اپنے نبی کو زخمی کریں اور دانت کو زخمی کر دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرما رہے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” لیس لک من الامر شیئ “۔
عبدا للہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے احد کے دن ارشاد فرمایا اے اللہ ! لعنت فرما حارث بن ہشام پر ، اے اللہ ! لعنت فرما صفوان بن امیہ پر ، اس پر یہ آیت نازل فرمائی ، یہ اسلام لے آئے اور ان کا اسلام بہت ہی اچھا تھا ۔
محمد بن اسحاق (رح) ، کا بیان ہے کہ جب احد کے دن حضور اقدس ﷺ اور مسلمانوں نے دیکھا کہ کافروں نے مسلمانوں کے ناک ، کان اور آلات تناسل کاٹ کر سب کو مثلہ بنادیا تو کہنے لگے اگر اللہ نے ہم کو ان پر غلبہ عنایت کیا تو جیسا انہوں نے کیا ہے ہم بھی ایسا ہی کریں گے اور اسی طرح مثلہ بنائیں گے کہ کسی عرب نے کسی کے ساتھ ایسا نہ کیا ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے لیے مکمل استیصال (جڑ سے اکھاڑ دینے) کا ارادہ کرلیا تھا اور ان کے تباہ ہوجانے کی بددعا دینے کا ارادہ کیا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ سب مسلمان ہوجائے گے ۔ (آیت)” لیس لک من الامر شیئ “۔ کا معنی ہے، (آیت)” لیس الیک “ آپ کی طرف اس کا کوئی اختیار نہیں ، جیسے اس آیت میں ” ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان “ اس سے مراد الی الایمان ہے (آیت)” اویتوب علیھم “۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے جب تک وہ توبہ نہ کرلیں او یا تو حتی کے معنی میں ہے یا الا کے معنی میں ہے ، مطلب یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو عذاب دینا یا نہ دینا کوئی بات آپ کے اختیار میں نہیں یہاں تک کہ اللہ مسلمان ہونے کی وجہ سے یا ان پر رحم فرمائے گا اور تم کو اس پر خوشی ہوگی یا ان کو عذاب دے گا اور اس سے تم کو تسکین حاصل ہوگی ” لیقطع طرفا “ اور (آیت)” ولیس لک من الامر شیئ “۔ یہ دونوں جملوں کے درمیان کلمہ معترضہ ہے ۔
Ayah 3:129(تفسیر) 129۔:
واللہ ما فی السموات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ غفور رحیم “۔
Ayah 3:130130۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مضاعفۃ “۔ یہ اس وجہ سے ایسا کرتے تھے کہ ہماری زندگی طویل ہے اور قرض کے مال کی زیادتی ہو اور اس کی ادائیگی میں خوب تاخیر ہو ، ” واتقوا اللہ “ سو کھانے سے ڈرو۔ ” لعلکم تفلحون “۔
Ayah 3:131(تفسیر) 131۔:
(آیت)” واتقوا النار التی اعدت للکافرین “۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو خوف دلاتا ہے اور فرماتا ہے ۔
Ayah 3:132132۔ (آیت)” واطیعوا اللہ والرسول لعلکم ترحمون “۔ تاکہ تم رحم کرو۔
Ayah 3:133133۔ (آیت)” وسارعوا “ قراء اہل شام و مدینہ والوں نے ” سارع “ بغیر واؤ کے پڑھا ہے (آیت)” الی مغفرۃ من ربکم “ اپنے اعمال میں سبقت کرو اور آگے بڑھو جو مغفرت کو واجب کرنے والا اعمال ہوں ۔
(سابقوا الی مغفرۃ ، کی مختلف تفاسیر)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام لانے میں سبقت کرو ، ایک روایت میں ہے کہ توبہ کی طرف سبقت کرو ، یہی عکرمہ (رح) کا قول ہے ۔
حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا بیان ہے کہ فرائض کے ادا کرنے میں سبقت کرو، ابو العالیہ فرماتے ہیں ہجرت کی طرف سبقت کرو ، ضحاک فرماتے ہیں کہ جہاد کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت کرو، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرو ،
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ تکبیر اولی کی طرف سبقت کرو ، (آیت)” وجنۃ “ اور باغ کی طرف ۔ (آیت)” عرضھا السماوات والارض “ اس کی چوڑائی آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہے ، جیسا کہ سورة حدید میں مذکور ہے ، (آیت)” وجنۃ عرضھا کعرض السماء والارض “۔ ایسی جنت جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے ، یعنی اس مین وہ سما سکتی ہے ، یہاں پر طول کو ذکر نہیں کیا بلکہ چوڑائی کو ذکر کیا مبالغہ کے طور پر کیونکہ ہر چیز کی لمبائی ہوتی ہے یہاں پر عرض کو ذکر کرکے اس طرف اشارہ کیا کہ جب عرض کا یہ حال ہے تو طول کا کیا حال ہوگا ، امام زہری (رح) ، فرماتے ہیں کہ یہاں عرض کو ذکر کیا اس کی لمبائی صرف اللہ ہی جانتا ہے یہ ایک مثال ذکر فرمائی ہے نہ کہ واقعتا وہ آسمان و زمین کے برابر ہوگا جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔
” کعرض السموات والارضین السبع عند ضنکم “ (عوام کے خیال میں سب سے زیادہ وسیع آسمان و زمین ہے اس لیے آیت مبارکہ میں آسمان و زمین کی وسعت سے جنت کی وسعت کو تشبیہ دے کر بیان کیا جس طرح اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” خالدین فیھا مادامت السموت والارض “۔ میں جنت کے اندر دوام سکونتی کو بقاء ارض وسماء کی مدت سے تشبیہ دی ، یہ انسانوں کے خیال کے مطابق تشبیہ دی حالانکہ زمین و آسمان دونوں فنا ہونے والے ہیں ، ہمیشہ قائم نہیں رہیں گے ۔
طارق شہاب سے روایت کرتے ہیں کہ یہود کے کچھ لوگوں نے عمر بن الخطاب ؓ سے سوال کیا حضرت عمر ؓ کے پاس اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین بھی موجود تھے ، انہوں نے کہا کہ کیا تم اس آیت کو نہیں دیکھتے (آیت)” وجنۃ عرضھا السموت والارض “۔ آگ کہاں ہے اس پر حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ کیا تمہارے پاس جب رات آتی ہے تو دن کہا ہوتا ہے ؟ اور جب دن آتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے ؟ وہ کہنے لگے یہ مثال تو تورات میں بھی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ چاہے ، اگر یہ سوال کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت)” وفی السماء رزقکم وما توعدون “ اور آسمان میں تمہارے لیے رزق ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ، اگر جنت آسمان میں ہے تو پھر اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر کیسے ہوسکتی ہے کہا گیا ہے جنت میں ایک دروازہ کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے۔
انس بن مالک ؓ سے پوچھا گیا کہ جنت آسمان میں ہے یا زمین میں ہے ؟ فرمایا کس زمین و آسمان میں جنت کی سمائی ہوسکتی ہے ، دریافت کیا گیا پھر کہاں ہے ؟ فرمایا ساتوں آسمانوں کے اوپر اور جہنم ساتوں زمینوں کے نیچے ہے، قتادہ (رح) ، فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یہ خیال کرتے تھے کہ جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر اور عرش کے نیچے ہے اور جہنم ساتوں زمینوں کے نیچے ہے ۔ (آیت)” اعدت للمتقین “۔
Ayah 3:134134۔ (آیت)” الذین ینفقون فی السراء والضراء “ آسانی اور تنگی میں ، مؤمنین کے پہلے اوصاف جو جنت کو واجب کردیتے ہیں وہ سخاوت ہے ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سخی اللہ کے قریب ہے جنت کے قریب ہے لوگوں کے قریب ہے اور آگ سے بعید ہے اور بخیل اللہ سے دور ، جنت سے دور لوگوں سے دور ، آگ کے قریب ہے اور جاہل سخی اللہ کے ہاں محبوب ہے عابد بخیل سے ۔ (آیت)” والکاظمین الغیظ “ بھر بھر کر غصہ آنے کے باوجود اپنے نفس کو روکنے والا کظم کہا جاتا ہے کسی چیز کو روکنا اس کے بھرپور ہونے کے بعد ” کظم الغیظ “ کہا جاتا ہے غصہ کی وجہ سے انسان کو بھر پور ہوجانا پھر اس کو روک لینا اور اس کو ظاہر نہ کرنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” اذ القلوب لدی الحناجر کا ظمین “۔ اس آنے والے دن سے جس وقت کلیجے دل کو پہنچیں گے ۔
معاذ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غصہ کو قابو میں رکھے گا حالانکہ وہ غصہ نکالنے پر اس کو قدرت حاصل تھی کہ وہ اپنے غصہ کو نافذ کر دے (لیکن اس نے نافذ نہیں کیا) اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن سب مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اس کو اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے لے لے ، (آیت)” والعافین عن الناس “۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اپنے غلاموں سے بےادبی کرنے کی وجہ سے د درگزر فرمانا ، زید بن اسلم اور مقاتل فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے درگزر کرے جس نے ان کے ساتھ ظلم کیا اور ان کے ساتھ برا کیا (آیت)” واللہ یحب المحسنین “۔ سفیان ثوری (رح) ، فرماتے ہیں کہ برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کرنا جبکہ احسان کے بدلے میں احسان کرنا تجارت ہے ۔
Ayah 3:135135۔
(آیت)” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “۔ کا شان نزول)
Ayah 3:136(تفسیر) 136۔:
(آیت)” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “۔ ابن مسعود ؓ کا بیان ہے کہ مؤمنین مسلمین نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ہم سے بنی اسرائیل ہی اللہ کی نظر میں زیادہ عزت والے تھے ، ان میں سے اگر کوئی رات کو گناہ کرلیتا تو وہ گناہ صبح کو اس کے دروازے کی چوکھٹ پر اس کا کفارہ لکھا ہوا ملتا ہے کہ اپنا ناک یا کان کاٹ ڈال یا ایسا کرلے ، حضور ﷺ یہ سن کر خاموش ہوگئے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت تیھان تمار کے متعلق نازل ہوئی جس کی کنیت ابو معبد تھی ، اس کے پاس ایک خوبصورت عورت آئی یہ شخص کھجوروں کا کاروبار کرتا تھا ، اس عورت کو صحابی نے کہا کہ اندر کمرے میں جید کھجوریں پڑی ہیں ، چناچہ اس عورت کو لے کر وہ اپنے گھر گئے اور ان کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور بوسا دیا ، عورت نے کہا اللہ سے ڈر تیھان نے فورا اس کو چھوڑ دیا اور اس حرکت پر پشیمان ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور قصہ عرض کردیا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
مقاتل (رح) ، اور کلبی (رح) کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، ان میں سے ایک انصاری تھا اور دوسرا ثقیف کا تھا ، ثقفی ایک مرتبہ جہاد پر گیا اور انصاری کو اپنے گھر کا نگران بنا لیا ، ایک روز انصاری نے ثقفی کے گھر والوں کے لیے گوشت خریدا اور فرماتے ہیں ثقفی کی بیوی نے جب انصاری سے گوشت لینا چاہا تو وہ عورت کے پیچھے پیچھے گھر آگیا اور اس کے ہاتھ کو چوم لیا ، پھر اس کو پشیمانی ہوئی اور واپس لوٹ آیا مگر خاک سر پر اڑاتا ہوا سرگرداں ہو کر جنگل کی طرف نکل گیا ، ثقفی جب لوٹ کر آیا اور انصاری استقبال کے لیے نہیں آیا تو اس نے اپنی بیوی سے انصاری کا حال پوچھا ، عورت نے کہا ایسے بھائیوں کی تعداد خدا زیادہ نہ کرے اور پوری حالت بیان کردی ، ادھر انصاری پہاڑوں اور جنگل میں گھومتا توبہ و استغفار کرتا پھر رہا تھا ، ثقفی نے انکی تلاش کی اور جب مل گیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس لے گیا تاکہ کوئی سکون اور کشائش کا اراستہ آپ کے پاس مل جائے ، انصاری نے قصہ عرض کردیا اور کہا کہ میں تباہ ہوگیا ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا تیرا برا ہو ، کیا تجھے معلوم نہیں کہ غازی کے سلسلے میں اللہ اتنی حمیت رکھتا ہے اتنی مقیم کے لیے نہیں رکھتا ، اس کے بعد یہ دونوں حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے دیا تھا ، آخر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے مگر آپ نے بھی شیخین جیسا جواب دیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “۔ ایسی برائی جو اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والی ہو، فحش کا اصل قبح ہے اور حدود کا نکلنا جابر نے فرمایا کہ فاحشہ سے مراد زنا ہے ۔
(آیت)” اوظلموا انفسھم “۔ ظلم سے مراد زنا سے کم والا گناہ ، بوسہ معانقہ ، دیکھنا اور چھونا ہے ، مقاتل (رح) ، اور کلبی (رح) ، کہتے ہیں کہ فاحشہ زنا سے کم درجہ کا گناہ ہے ، بوسہ دینا یا چھونا یا اس کو دیکھنا یا ایسا فعل جو اس کے لیے حلال نہیں ، یا انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا نافرمانی کرکے ۔
بعض نے کہا کہ کبائر کا ارتکاب کیا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا چھوٹے گناہ کر کے ، بعض نے کہا کہ انہوں نے فاحشہ کا ارتکاب کیا قولا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا عملا ۔ (آیت)” ذکروا اللہ “ یاد کرو اللہ کی وعید کو کہ اللہ ان سے ضرور پوچھے گا ، مقاتل بن حیان (رح) ، فرماتے ہیں کہ گناہ کے وقت اللہ کا ذکر زبان سے کرو۔ (آیت)” فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ “۔ یا اللہ کے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا ہے ۔ (آیت)” ولم یصروا علی ما فعلوا “۔ اپنے گناہوں پر قائم نہ رہو اور نہ ہی ان پر ڈٹے رہو بلکہ توبہ ، اللہ کی طرف رجوع اور استغفار کرو ، اصرار کا معنی ہے کسی چیز کا ثابت قدم رہنا ، حسن بصری ل فرماتے ہیں کہ بندہ جان کر گناہ کرلے اور اس پر اصرار بھی کرے تو وہ اس وقت تک معاف نہیں ہوگا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے ۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اصرار خاموشی اور استغفار کو ترک کرنا ہے ۔
واقد عمری ابو نضرہ سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ میں مولی ابی بکر ؓ سے ملا اور میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے اس بارے میں حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے استغفار کیا اس نے اصرار نہیں کیا خواہ دن میں لوٹ لوٹ کر ستر بار گناہ کیا ہو ۔
(آیت)” وھم یعلمون “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، حسن (رح) ، مقاتل (رح) ، کلبی (رح) ، فرماتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ گناہ کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ گناہوں پر اصرار نقصان دہ ہے ، ضحاک (رح) ، فرماتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ گناہوں کو بخشنے کا مالک ہے حسن بن فضل (رح) ، فرماتے ہیں وہ اس امر کو جانتے ہیں ، کہا ن کا ایک رب ہے جو گناہ معاف فرماتا ہے ۔
بعض نے کہا کہ وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہو ، اللہ تعالیٰ کے عفو سے بڑے نہیں ، بعض نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ استغفار طلب کریں تو ان کے گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے۔
Ayah 3:137(تفسیر) 137۔:
(آیت)” اولئک جزاء ھم ۔۔۔۔ ونعم اجر العاملین “۔ سے مراد اطاعت گزار بندے ہیں ، اسماء بن حکم فزاری (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں جب کسی انسان سے آپ ﷺ کی حدیث کے متعلق سنتا ہوں جس سے اللہ چاہتا مجھ کو نفع دیتا تو وہ مجھ کو نفع دیتا اور جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے کوئی میرے سامنے حدیث بیان کرتا تو میں اس سے قسم اٹھواتا ، جب وہ قسم اٹھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرلیتا ۔ مجھے ابوبکر صدیق ؓ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی بندہ مؤمن گناہ کرتا ہے پھر وہ اچھی طرح طہارت حاصل کرتا ہے پھر نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے ، پھر وہ اللہ سے استغفار طلب کرتا ہے تو اللہ اس کو معاففرما دیتا ہے روایت کیا اس کو ابو عیسیٰ نے قتیبہ سے اور انہوں نے ابو عوانۃ سے اور زیادہ کیا پھر پڑھا (آیت)” والذین اذا فعلوا فاحشۃ اوظلموا انفسھم “۔
عبدالرحمن بن ابی عمرہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی بندے نے گناہ کیا اور کہا اے میرے رب ! مجھ سے ایک گناہ ہوگیا ہے تو اسے معاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف بھی کرتا ہے اور پکڑ بھی کرتا ہے ، میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا ، کچھ دنوں کے بعد اس شخص نے پھر ایک گناہ کیا اور عرض کیا پروردگار مجھ سے ایک اور گناہ ہوگیا تو معاف کر دے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا بندہ واقف ہے کہ اس کا ایک مالک ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور گرفت بھی کرلیتا ہے میں نے اپنے بندہ کا گناہ بخش دیا ، کچھ وقت کے بعد بندہ نے ایک اور گناہ کیا اور عرض کیا پروردگار تو معاف فرما دے اللہ نے فرمایا میرا بندہ سمجھتا ہے کہ اس کا ایک مالک ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گرفت بھی کرلیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخشا اب وہ جو کچھ چاہے کرے۔
ابوذر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حدیث قدسی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے ابن آدم ! بیشک میں نے تجھے بخش دیا جو تونے مجھ سے مانگا اور جو تونے مجھے امید کی اے ابن آدم ! اگر تو مجھ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ تیرے گناہ زمین بھرنے کے برابر ہوں تو میں تجھ سے اس حال میں ملوں گا کہ تیرے سارے گناہ معاف کر دوں گا اس شرط پر کہ تو نے شرک نہ کیا ہو ، ابے ابن آدم اگر تو گناہ کرے یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان کے کناروں کے برابر بھی ہوں تو تم مجھ سے گناہ کی بخشش مانگو تو میں تمہارے گناہ معاف کر دوں گا ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ عباس سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھے مغفرت معاصی پر قادر جانتا ہے میں اس کو بخش دیتا ہوں اور اس کے گناہوں کی کثرت کی پرواہ نہیں کرتا ، جب کہ اس نے کسی کو میرے ساتھ شریک نہ ٹھہریا ہو ، ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (آیت)” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ آخر آیت تک۔
Ayah 3:138138۔ (آیت)” قد خلت من قبلکم سنن “۔ عطاء سے مراد شرائع اسلام ہیں ، کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ہر قوم کے لیے اللہ کی طرف سے ایک طریقہ اور راستہ رہا ہے جن لوگوں نے اس کو مانا اور اس پر چلے اللہ ان سے راضی ہوا ، مجاہد (رح) نے کہا کہ تم سے پہلے بھی قومیں ہلاک ہوئیں جنہوں نے تم سے پہلے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تکذیب کی ، بعض نے کہا کہ سنن سے مراد امتیں ہیں اور سنت سے مراد امت ہے جیسا کہ شاعر کا قول ہے ۔
ماعاین الناس من فضل کفضلکم ولا راو امثلکم فی سالف السنن :
لوگوں نے ان کے فضل جیسا کہ کوئی فضل اور ان کی طرح کوئی قوم گزشتہ اقوام میں نہیں دیکھی ، بعض نے کہا کہ سنن سے مراد اہل سنن ہیں ، سنت اس طریقہ کو کہا جاتا ہے جو خیر یا شر کی پیروی کرے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں نے اچھا طریقہ ایجاد کیا اور برا طریقہ ایجاد کیا ، جب کوئی شخص ایسا عمل کرے گا جس سیء اس کی اقتداء یعنی پیروی کی جائے خیر ہو یا شر ، آیت کا معنی یہ ہوگا کہ تم سے پہلے خیر وشر کے بہت طریقے یا بہت طریقوں والے گزر گئے تم ملک میں چل پھر کر دیکھ لو کہ تکذیب خیر کا نتیجہ کیسے ہوا اور جھٹلانے والوں کا انجام کیسے ہوا ، (آیت)” فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔ ان جھٹلانے والوں کو عنقریب بدلہ دیں گے اور یہ بدلہ جنگ احد میں ہوا جیسا کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ہم انکو مہلت دیتے ہیں تاکہ یہ اپنے انجام کار تک پہنچ جائیں اور نبی کریم ﷺ کی نصرت ہو اور ان کے مددگاروں کی اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کرنے کی صورت میں ۔
Ayah 3:139139۔ ” ھذا یہ قرآن ” بیان اللناس “ تمام لوگوں کے لیے ” وھدی “ گمراہی سے ہدایت ہے (آیت)” موعظۃ للمتقین “۔ خاص طور پر پرہیزگاروں کے لیے ۔
Ayah 3:140(تفسیر) 140۔ـ:
(آیت)” ولا تھنوا ولا تحزنوا “۔ آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو جہاد پر ابھارنا مقصود ہے اور صبر کی تعلیم دینا ہے کہ احد کے دن جو آپ کو مصائب اور تکالیف پہنچیں ان پر صبر کریں ، (آیت)” ولا تھنوا “ کا مطلب یہ ہے کہ تم کمزور مت ہو اپنے دشمنوں سے جہاد کرنے میں بزدل مت ہو جو مصیبت تم کو پہنچی ہے اس کے بدلے میں احد کی لڑائی میں پانچ مہاجر حضرت حمزہ ؓ ، اور حضرت مصعب بن عمیر ؓ ، اور ستر انصاری ؓ شہید ہوئے ، (آیت)” ولا تحزنوا “ اور جو تم سے چھین گیا اس پر غمگین نہ ہوں ۔ (آیت)” وانتم الاعلون “۔ تمہیں بلندی عطا کی جائے گی مدد ونصرت کے ساتھ اور اپنے دشمنوں پر کامیابی کیساتھ (آیت)” ان کنتم مؤمنین “ اس لیے کہ تم ایمان والے ہو ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ گھاٹی میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو شکست ہوگئی ، خالد بن ولید ، مشرکوں کا سوار دستہ ساتھ لے کر یہاں سے چڑھ کر حملہ کرنا چاہتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے دعا کی ، اے اللہ ! یہ ہمارے اوپر نہ آئیں ہم کو تیرے سوا کسی اور کو قوت حاصل نہیں ، مسلمان تیر اندازوں کی ایک جماعت پہاڑ پر چڑھ گئی تھی ، اور انہوں نے رات وہیں گزاری تھی ، اس گروہ نے مشرکوں کی فوج کو تیروں کا نشانہ بنایا اور ان کو شکست دی (آیت)” وانتم الاعلون “۔ کا مصداق یہی ہے ،۔
کلبی (رح) ، کا قول ہے کہ جنگ احد میں مسلمانوں کو زخمی ہونے کی تکلیف ہوئی لیکن باوجود زخمی ہوجانے کے رسول اللہ ﷺ نے ان کو دشمن کے پیچھا کرنے کا حکم دیا ، یہ حکم مسلمانوں پر گراں گزرا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس پر اللہ کا یہ فرمان دلیل ہے (آیت)” ولا تھنوا فی ابتغاء القوم “۔
Ayah 3:141141۔ (آیت)” ان یمسسکم قرح “۔ حمزہ (رح) ، اور کسائی (رح) اور ابوبکر نے قاف کے ضمہ کے ساتھ ” قرح “ پڑھا ہے بمعنی ” حیث جائ “ کے ہے یعنی جہاں سے بھی آئے اور دوسرے قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے دونوں کا معنی ایک ہی ہے جیسا کہ ” جھد “ اور ” جھد “ ضمہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ ایک ہی معنی ہے ، فراء فرماتے ہیں کہ اگر قاف کے فتحہ کے ساتھ ہو تو یہ زخم کا نام ہے اور اگر ضمہ کے ساتھ زخم کے درد کو کہتے ہیں ، یہ خطاب مسلمانوں کو ہے جب وہ غزوہ احد سے شکستہ دل اور غمگین ہو کر لوٹے ، اللہ تعالیٰ اس پر فرماتے ہیں (آیت)” ان یمسسکم قرح “ اس سے مراد احد کا دن ہے ، (آیت)” فقد مس القوم قرح مثلہ “ اس سے پہلے تمہیں بدر میں وہ زخم پہنچ چکے تھے (آیت)” وتلک الایام نداولھا بین الناس “ کبھی یہ جیت کے دن ان کے ہوتے ہیں اور کبھی یہ جیت کے دن تمہارے ہوتے ہیں بدر کے دن مسلمانوں نے مشرکوں کے ستر قید کیے اور ستر قتل کیے ، جنگ احد میں مشرکین نے مسلمانوں کے پچھتر شہید اور ستر کے قریب کو زخمی کر کے بدلہ لیا ۔
(جنگ احد میں مسلمانوں کا امتحان)
ابو اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا وہ بیان کر رہے تھے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے پچاس پیادوں کا جبیر بن مطعم ؓ کو سردار بنا کر حکم دے دیا تھا اور فرمایا تھا اگر تم دیکھو کہ پرندے ہم کو جھپٹ کرلے جا رہے ہیں تب بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا جب تک میرا پیغام تمہارے پاس نہ پہنچ جائے اور اگر دیکھو کہ ہم نے دشمن کو بھگا دیا اور روند دیا تب بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا تاوقتیکہ میں تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں ، راوی فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے خود دیکھا کہ عورتیں ٹانگوں سے کپڑے اٹھائے تیزی سے بھاگ رہی تھیں اور ان کی پازیبیں اور پنڈلیاں کھل گئی ہیں یہ دیکھ کر عبداللہ بن جبیر کے ساتھی بولے لوگو ! تمہارے ساتھی غالب آگئے تم کس کا انتظار کر رہے ہو چلو مال غنیمت حاصل کریں ، عبداللہ بن جبیر ؓ نے کہا کیا تم حضور اقدس ﷺ کا فرمان بھول گئے، کہنے لگے خدا کی قسم ! ہم تو ضرور ان کے پاس پہنچ کر مال غنیمت حاصل کریں گے ، چناچہ جونہی یہ لوگ کافروں پر پہنچے تو ان کے رخ پھرگئے اور یہ شکست کھا کر بھاگے ۔
(اس پر آپ ﷺ پچھلی صف میں کھڑے تم کو پلٹ کر آنے کے لیے پکار رہے تھے) یہی فرمان باری ہے (آیت)” والرسول یدعوکم فی اخراکم “۔ کہ آپ ﷺ کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی باقی نہیں رہا ، مشرکین نے ستر مسلمانوں کو شہید کردیا جبکہ حضور اقدس ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے بدر کے دن ستر مشرکوں کو قتل کیا اور ستر کو قید کرلیا تھا ، ابوسفیان نے کہا کہ تمہاری قوم میں محمد ﷺ موجود ہیں تین مرتبہ پکار کر کہا کیا تمہارے ساتھ عمر بن الخطاب ؓ موجود ہیں تین مرتبہ کہا پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور کہنے لگا سب مارے گئے ، یہ سن کر حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے رہا نہ گیا اور پکار کر کہنے لگے اے دشمن خدا ! خدا کی قسم تو جھوٹا ہے جن کے تو نے نام لیے ہیں وہ سب زندہ ہیں اور تمہیں رسوا کرنے والا کانٹا موجود ہے ، پھر وہ کہنے لگا آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہوگیا ، لڑائی ڈول کی مانند ہے مقتولین میں تم کو کچھ لوگ مثلہ ملیں گے (جن کے ناک ، کان اور دوسرے اعضاء ستر کاٹے گئے) لیکن میں نے اس کا حکم نہیں دیا تاہم مجھے یہ برا بھی معلوم نہیں ہوا پھر اس کے بعد وہ جنگی گانے بولنے لگا ، ھبل کی جے، ھبل کی جے ، آپ ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ آپ جواب کیوں نہیں دیتے ؟ وہ فرمانے لگے اے اللہ کے رسول میں کیا کہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا کہو ” اللہ اعلی واجل “ وہ کہنے لگا ” ان لنا العزی ولا عزی لکم “۔ کہ ہمارا عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا آپ اس کو جواب کیوں نہیں دیتے ؟ وہ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! ﷺ کیا کہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہو ” اللہ مولانا ولا مولی لکم “۔ کہ اللہ ہمارا مولی ہے اور تمہارا کوئی مولی نہیں یہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ ابو سفیان نے کہا کہ یہ دن اس دن کے مقابلے میں ہوگیا اور ایسے ایام ڈھول کی مانند ہوتے ہیں حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ تم ہمارے برابر نہیں ہوسکتے کیونکہ ہمارے مقتولین جنت میں اور تمہارے مقتولین جہنم میں جائیں گے ، زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا غلبہ تو ہوتا ہی ہے کیونکہ اللہ نے فرما دیا ہے (آیت)” وان جندنا لھم الغالبون “۔ کہ ہمارے گروہ ان پر ہمیشہ غالب ہی رہیں گے باقی جنگ احد کے دن جو عارضی شکست ہوئی وہ مسلمانوں نے فرمان نبوی کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ہوئی (آیت)” ولیعلم اللہ الذین امنوا ویتخذ منکم شھدائ “۔ یہ آزمائش اس وجہ سے ہوئی تاکہ معلوم ہوجائے کہ مخلص مؤمن کون ہیں اور منافق کون ہیں ، شہداء یہ قوم کی عزت کی وجہ سے ہے۔ (آیت)” واللہ لا یحب الظالمین “۔
Ayah 3:142(تفسیر) 142۔:
(آیت)” ولیمحص اللہ الذین امنوا “۔ تاکہ وہ تمہیں گناہوں سے پاک صاف کر دے ۔ (آیت)” ویمحق الکافرین “۔ تاکہ کافروں کو فناء کر دے ہلاک کر دے ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کافر تمہیں قتل کرتے ہیں تو اس میں تمہارا اعزاز ہے کہ تمہیں شہادت کا رتبہ دے کر گناہوں سے تلافی ہوگی اور اگر تم کافروں پر غلبہ پاؤ گے تو کافروں کو مٹانے اور ان کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
Ayah 3:143143۔ (آیت)” ام حسبتم “۔ استفہام انکاری ہے ام منقطعہ ہے کہ کیا تم گمان کرتے ہو ۔ (آیت)” ان تدخلوا الجنۃ ولما یعلم اللہ “ ” ولما “ بمعنی ” لم “ کے ہے یعنی اللہ نے تمہارے مجاہدوں کا امتیاز ابھی تک نہیں کیا (آیت)” الذین جاھدوا منکم ویعلم الصابرین “۔