Ayah 3:39(تفسیر) 39۔:
(آیت)” فنادتہ الملائکۃ “۔ حمزہ (رح) کسائی (رح) وغیرہ نے ” فنادتہ “ تاء کی جگہ یاء پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ، لفظ ملائکہ جمع ذکر کیا اور اس کے آخر میں تاء تانیث ذکر کی کیونکہ اصول یہ ہے کہ جب اس سے پہلے فعل آجائے تو تاء کے ساتھ ذکر کرتے ہیں ، یہ جماعت کا نام ہے اور ان کو تانیث کیساتھ ذکر کرنا احسن ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” قالت الاعراب “ ابراہیم (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ قرآن میں ملائکہ جمع کے ساتھ زکر کرتے ہیں ، ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ اس وجہ سے اس کو اختیار کرتے تھے مشرکین کی مخالفت کی وجہ سے کیونکہ مشرکین یہ کہتے ” الملائکۃ بنات اللہ تعالیٰ “ کہ فرشتئے اللہ کی بیٹیاں ہیں، شعبی (رح) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب تاء اور یاء میں اختلاف واقع ہوجائے تو یاء کو ترجیح دی جائے گی اور اسی کو ابن مسعود ؓ قرآن کریم میں ذکر کرتے ہیں ۔
(حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو الملائکۃ جمع کے ساتھ ذکر کرنے کی وجوہات)
ملائکہ سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” الذین قال ھم الناس “ یہاں پر ناس جمع کا صیغہ مذکور ہے لیکن اس سے صرف نعیم بن مسعود مراد ہیں ، اور آگے (آیت)” ان الناس “ یہاں ناس سے مراد ابو سفیان بن حرب ہیں ۔ مفضل بن سلمہ کہتے ہیں کہ جب قائل کسی قوم کا سردار ہو تو اسی کو جمع کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی قوم کو بھی شامل ہوتا ہے اور حضرت جبرئیل (علیہ السلام) فرشتوں کے سردار ہیں اس لیے ان کو جمع کے صیغہ کے ساتھ ذکر کیا اور بہت ہی کم وبیش یہ واقعہ ہوا کہ جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو کہیں بھیجا گیا ہو تو ان کے ساتھ فرشتے جمع نہ ہوئے ہوں ۔
اسی وجہ سے ملائکہ جمع کا صیغہ ذکر کرتے ہیں (آیت)” وھو قائم یصلی فی المحراب “ محراب سے مراد مسجد ہے اور حضرت زکریا (علیہ السلام) شیخ اعظم تھے قربانی کا پیش کرنا اور قربان گاہ کا دروازہ کھولنا آپ ہی کے سپرد تھا ، آپ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہوسکتا ، ایک روز حضرت زکریا (علیہ السلام) مسجد میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، (قربان گاہ کے قریب مسجد میں) اور لوگ اندر داخل ہونے کے لیے اجازت کے منتظر تھے کہ اچانک ایک نوجوان سفید پوشاک میں ملبوس نمودار ہوا لوگ اس کو دیکھ کر گھبرا گئے، انہوں نے آواز دی اور وہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تھے ” یا زکریا “ اے زکریا (آیت)” ان اللہ یشرک بیحی “۔ ابن عمر ؓ اور حمزہ (رح) نے ” ان “ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ، مطلب ہوگا کہ فرشتوں نے ان کو آواز دی فرشتوں نے اور کہا بیشک اللہ اور دوسرے قراء نے ” ان “ کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے ۔ مطلب ہوگا کہ فرشتوں نے ان کو آواز دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خوشخبری دیتا ہے، حمزہ (رح) نے ” یبشرک “ شین کو بغیر شد کے پڑھا ہے اور قرآن میں تمام مقامات پر اسی طرح پڑھا ہے صرف ایک جگہ (آیت)” فبم تبشرون “۔ میں تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ، اس جگہ پر تمام قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور ان دونوں مقامات میں کسائی نے ان کی موافقت کی ہے اور ” سبحان الذی “ کھف اور حمعسق “ میں ابن کثیر (رح) نے ان کی موافقت کی اور ابو عمرو (رح) نے صرف ” حمعسق “ میں ان کی موافقت کی اور باقی قراء نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور جن حضرات نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے وہ ” بشر، یبشر، تبشیرا “ اور یہ افصح اللغات ہے ، تشدید کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” فبشر عبادی “ اور ” فبشرناہ باسحاق “ اور ” بشرناک بالحق “ اور انکے علاوہ آیات میں تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور جو حضرات تخفیف کے ساتھ پڑھتے ہیں ، وہ لغت تہامہ کے تحت ہے اور یہی قراۃ ابن مسعود ؓ کی ہے۔ ” بیحیی “ یہ معرفہ ہے اس وجہ سے اس پر کسرہ نہیں آئے گا ، یعمر اور یزید کی طرح اس کی مثال ہے، اس کی جمع ” یحیون مثل موسون اور عیسون “ کے ہے ۔
(یحیی نام رکھنے کی مختلف وجوہات)
یحیی ان کا نام کیوں رکھا گیا ، اسی بارے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ انکی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے بانجھ پن کو دور کیا ۔
حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انکے دل کو ایمان سے مزین فرمایا بعض نے کہا کہ ان کو یحییٰ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ شہید ہوگئے اور شہدا زندہ ہوتے ہیں ۔
بعض نے کہا کہ یحییٰ کا معنی ہے یموت اور بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انکواطاعت پر زندہ رکھا ، کبھی نہ نافرمانی کی اور نہ ہی اس کا ارادہ کیا ، ” مصدقا “ منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے (آیت)” بکلمۃ من اللہ “۔ کلمۃ سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
(کلمہ کہنے کی وجہ تسمیہ)
عیسی (علیہ السلام) کو کلمۃ اللہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ بغیر باپ کے لفظ کن سے پیدا ہوئے تھے ۔
اس وجہ سے ان کو کلمہ سے تعبیر کیا گیا ، بعض حضرات نے کلمہ نام رکھنے کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے کلام سے لوگوں کو ہدایت ملتی ہے، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات سے لوگ ہدایت حاصل کرتے ہیں، بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت دی اپنے کلام سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ سے ، اس وجہ سے کلمہ کہا گیا ،
بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے تمام انبیاء کو مطلع کیا کہ میں ایک نبی کو بغیر باپ کے پیدا کروں گا ، اس وعدہ کے پورا ہونے کی وجہ سے ان کو کلمۃ کہا گیا ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سب سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور ان کو نبوت کی تصدیق کی ، حضرت یحیٰ (علیہ السلام) چھ ماہ بڑے تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اور یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔
پھر حضرت یحیٰ (علیہ السلام) شہید کیے گئے ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع الی السماء سے پہلے ابوعبیدہ ؓ نے (آیت)” بکلمۃ من اللہ “ کی تفسیر بکتاب اللہ اللہ کی کتاب اور اس کی نشانی سے کی ہے ، جیسا کہ اہل عرب بولتے ہیں ” انشہ فی کلمۃ فلان “ اس سے مراد قصیدہ ہے ۔ ” وسیدا “ یہ فعیل کے وزن پر سادیسود سے ہے وہ سردار جس کی تابعداری کی جاتی ہے اور اس کی بات حتمی ہوتی ہے ۔
(سیدا کی مختلف تفاسیر)
مفضل نے کہا کہ دین میں سردار ہوں گے ، ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ سید سے مراد حسن خلق ہے، سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ سید وہ ہوتا ہے جو اللہ رب العزت کی اطاعت کرے، سعید بن المسیب (رح) نے کہا کہ سید فقیہ عالم کو کہتے ہیں ، قتادہ کہتے ہیں کہ علم عبادت ، پرہیزگاری کے سردار ہوں گے، بعض نے کہا کہ ایسا حلیم جو کسی چیز کی وجہ سے غضب نہ ہو ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ، بعض نے کہا سید پرہیزگار یہ ضحاک (رح) کا قول ہے ، سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں کہ جو حسد نہ کرے ، بعض نے کہا کہ سید وہ ہے جو تمام امور خیر میں سب سے بڑھ کر ہو ، بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تھوڑی سی چیز پر راضی ہونے والا ، بعض نے کہا کہ سید سخی کو کہتے ہیں ، جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے ” من سیدکم یا بنی سلمۃ “ اے بنی سلمہ تم میں سب سے زیادہ سخی کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جد بن قیس بخیل شخص ہے ، فرمایا اس کا علاج کیا ہے لیکن تم میں سید عمرو بن جموع ہے ۔
(آیت)” وحصورا ونبیا من الصالحین “۔ حصور کا اصل میں حصر سے مشتق ہے ۔
(حصورا کی تفسیر)
اس کا معنی ہے بندش روک، حصورا ابن مسعود حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سعید بن جبیر ؓ اور قتادہ ؓ عطاء (رح) حسن (رح) کے نزدیک جو نہ عورتوں کے پاس آئے اور نہ ہی ان کا قرب حاصل کرے ، (یعنی نہ ہی عورتوں کے قریب جانے والا ہو) اس بناء پر یہ حصور فعول بمعنی فاعل کے ہوگا ، مطلب یہ ہوگا کہ جو اپنے نفس کو خواہشات سے روکنے والا ہو۔
سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں کہ وہ عنین ہے جس میں تخلیقی مادہ نہ ہو ، اس صورت میں حصور محصور کے معنی میں ہوگا ، عورتوں سے روکا ہوا ،
سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مثل کپڑے کی طرح تھے ، اس کے باوجود اگر شادی کرتے تو نظر کی حفاظت کے لیے ۔
ایک قول یہ ہے کہ حصور کہا جاتا ہے اپنے آپ کو وطی کرنے سے روکنا اس کی قدرت رکھتے ہوئے، اس قول کو بعض حضرات نے دو وجوہ کی بناء پر مختار قرار دیا ۔
(1) کلام میں تعریف کا زیادہ شائبہ نہیں ہوگا اور یہ مقام مدح کے زیادہ مناسب ہے۔
(2) یہ کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) ان جیسے عیوب سے پاک تھے ۔
Ayah 3:40(تفسیر) 40۔:ـ
(آیت)” قال رب “ اصل میں یا سیدی تھا اے میرے سردار ! حضرت زکریا (علیہ السلام) نے جبرئیل (علیہ السلام) سے کہا یہی قول کلبی (رح) اور ایک جماعت کا ہے (آیت)” انی یکون “ ۔۔۔۔۔۔ ” این یکون “ کے معنی میں ہے ” لی غلام “ کہ میرا غلام کہاں سے آئے گا ۔
(حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوشخبری کے وقت حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر)
(آیت)” وقد بلغنی الکبیر “۔ یہ مقلوب کی قسم ہے مطلب یہ ہے کہ میں بوڑھاپے میں پہنچ چکا ہوں جیسا کہ کہا جاتا ہے ” بلغنی الجھد ای انا من الجھد “ کہ مجھے مشقت پہنچی ہے ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ مجھے کبر پہنچ چکا اور بوڑھاپے نے مجھے کمزور کردیا ، کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو جب بچے کی خوشخبری دی گئی تو اس وقت ان کی عمر بانوے سال تھی اور بعض نے کہا کہ ننانوے سال تھی ۔
ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا کہ اس وقت ان کی عمر ایک سو بیس سال تھی اور آپ کی بیوی کی عمر اٹھانوے سال تھی (آیت)” وامراتی عاقر “ بیمار ہے (بانجھ) بچے نہیں جن سکتی ، ” عاقر “ مذکر ومؤنث دونوں میں مشترک بولا جاتا ہے ، کاف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے ، (آیت)” قال کذلک اللہ یفعل مایشائ “۔ اگر سوال کیا جائے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے یہ سوال کیونکر کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو وعدہ فرمایا تھا ، (آیت)” انی یکون لی غلام “ کیا آپ اللہ کے وعدہ پر شک کرتے ہیں اور اس کی قدرت میں۔
بعض نے کہا کہ جب فرشتے نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو آواز دی تو فورا شیطان نمودار ہوا اور کہنے لگا اے زکریا یہ آواز جو آپ سن رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ شیطان کی طرف سے ہے ۔
اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی تو دوسرے احوال کی طرح یہاں بھی وحی ہی آتی ، اس وسوسہ کو دور کرنے کے لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) نے (آیت)” انی یکون لی غلام “ کے الفاظ کہے، عکرمہ (رح) اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اللہ کے وعدہ پر شک نہیں تھا بلکہ پیدائش کی کیفیت کے متعلق تھا کہ پیدائش کا طریقہ کیا ہوگا کہ کیا ہم دونوں میاں بیوی کو جوان کیا جائے گا یا ہمیں بوڑھاپے میں ہی دیا جائے گا یا مجھے کسی اور بیوی سے لڑکا ہوگا ، اپنے سمجھنے کے لیے یہ سوال کیا نہ کہ شک کرنے کی وجہ سے یہ حسن کا قول ہے ۔
Ayah 3:41(تفسیر) 41۔:
(آیت)” قال رب اجعل لی آیۃ “ یعنی ایک علامت مقرر کیجئے میری بیوی کے حمل کے وقت تاکہ مزیدعبادت کے ذریعے شکر ادا کی جائے ، (آیت)” قال ایتک ان لا تکلم الناس “۔ تو بات کرنے سے رک جائے گا ” ثلاثۃ ایام “ تو قبول کر میری تمام عبادات کو اور میری زبان کو بات کرنے سے نہ روکیں ۔
(کلام نہ کرنے کی مختلف تفاسیر)
کلام سے مراد دنیاوی کلام ہے نہ کہ ذکر خداوندی کہ آپ اللہ کی عبادت کر سکوگے ، جیسا کہ سورة مریم میں ہے (آیت)” الا تکلم الناس ثلاث لیال سویا “۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر دلیل ہے (آیت)” وسبح بالعشی والابکار “۔ ذکر اللہ کا حکم دیا گیا اور لوگوں سے کلام کرنے سے روک دیا گیا ” زبان کو تین دن تک لوگوں سے کلام کرنے سے روک دیا گیا ، اکثر مفسرین کا یہی قول ہے ۔
قتادہ (رح) کا قول ہے کہ تین دن تک زبان کو کلام کرنے سے روکنے کی وجہ وہ سوال ہے جو آپ نے فرشتے سے کیا تھا اس سوال پر عتاب ہے (آیت)” الا رمزا “ کا معنی ہے اشارہ کرنا اور اشارہ تو کبھی زبان سے آنکھ سے ہاتھ سے اور کبھی شہادت والی انگلی سے ۔
فراء (رح) کا قول ہے رمز کبھی کبھار زبان سے ہوگا اور وہ ہلکی سی آواز جسے ھمس کہا جاتا ہے ، عطاء نے کہا کہ کلام نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ تین روز روزہ رکھنا ، کیونکہ وہ لوگ روزہ کی حالت میں سوائے اشارہ کے زبان سے بات نہیں کرتے تھے۔ (آیت)” واذکر ربک کثیر وسبح بالعشی والابکار “۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد تسبیح اور نماز ہے عشی زوال شمس لے کر غروب شمس تک اسی وجہ سے ظہر وعصر کی نماز کو کہتے ہیں اور ابکار سے صلوۃ فجر سے چاشت کی نماز کے درمیان کو کہتے ہیں ۔
Ayah 3:4242۔ (آیت)” واذ قالت الملائکۃ “ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے جب کہا (آیت)” یا مریم ان اللہ اصطفاک “ تو اختیار کر ” وطھرک “ پاک وہ مردوں کے چھونے سے ۔
(حضرت مریم (علیہا السلام) کی باقی عورتوں پر فضلیت)
بعض کے ہاں حیض ونفاس سے پاک رہ ، سدی (رح) فرماتے ہیں حضرت مریم (علیہا السلام) کو حیض نہیں آتا تھا ، بعض نے گناہوں سے پاک ہونا مراد لیا ہے ، (آیت) ” واصطفاک علی نساء العالمین “۔ اپنے زمانے کی عورتوں سے تجھے چن لیا، بعض نے کہا کہ بیت المقدس کی طرف آزاد کرنے والی یہی عورت ہیں اور کوئی نہیں ۔
عبداللہ بن جعفر سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ عورتوں میں افضل حضرت مریم بن عمران ہیں اور اس زمانے کی عورتوں میں افضل حضرت خدیجہ ؓ ہیں ، وکیع اور ابو معاویہ ہشام اور عروہ سے یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ وکیع نے یہ بات کرتے وقت زمین اور آسمان کی طرف اشارہ کیا (کہ اس زمین و آسمان میں اس ان سے افضل کوئی نہیں) حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مردوں میں کامل بہت ہیں لیکن عورتوں میں کامل صرف مریم بنت عمران ، آسیہ زوجہ فرعون ہیں اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ، حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تیرے لیے جہاں کی عورتوں سے مریم بن عمران اور خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ﷺ اور آسیہ زوجہ فرعون کافی ہیں ۔
Ayah 3:43(تفسیر) 43۔ـ:
(آیت)” یا مریم اقنتی لربک “۔ فرشتوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) سے کہا کہ آپ اپنے رب کی فرمانبرداری کریں ۔
(قنوت کی مختلف تفاسیر)
امام مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ نماز میں قیام کو طویل کریں اپنے رب کے لیے اور قنوت طاعت اور فرمانبرداری کو کہتے ہیں ، بعض نے کہا کہ قنوت طویل قیام کو کہتے ہیں ، امام اوزاعی (رح) فرماتے ہیں جب ملائکہ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کو یہ کہا تو یہ نماز میں اتنا طویل قیام کیا کہ ان کے پاؤں کھڑے کھڑے سوجھ گئے خون اور قئی آنے لگی ، (آیت)” واسجدی وارکعی “ سجدہ کو مقدم ذکر کیا کیونکہ ان کی شریعت میں رکوع سے سجدہ مقدم تھا ، بعض ن ے کہا کہ تمام شریعتوں میں رکوع سجدہ سے مقدم ہے ، واؤ ترتیب کے لیے نہیں بلکہ جمع کے لیے ہے جیسا کہ اس طرح کہنا جائز ہے کہ ” رایت زیدا وعمرا “ جب زید پہلے آیا یا عمرو کو پہلے دیکھا پھر زید کو ، (آیت)” مع الراکعین “۔ راکعات نہیں فرمایا کیونکہ نماز میں عورتیں مردوں کی تابع ہیں اور یہ اعم ہے اور یہ سب کو شامل ہے بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ ۔
Ayah 3:4444۔ (آیت)” ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک “۔ حضرت محمد ﷺ کو کہا گیا کہ جو باتیں ہم آپ کو بتلاتے ہیں حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ، حضرت مریم (علیہا السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں ” وما کنت “ اے محمد ” لدیھم اذ یلقون اقلامھم “ سمندر میں قلموں کے ذریعے قرعہ اندازی کر رہے تھے ، (آیت)” ایھم یکفل مریم “۔ کون اس کی دیکھ بھال اور تربیت کرے گا (آیت)” وما کنت لدیھم اذ یختصمون “۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت کے بارے میں جھگڑ رہے تھے ۔
Ayah 3:4545۔ (آیت)” اذ قالت الملائکۃ یا مریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمۃ المسیح عیسیٰ ابن مریم “۔ اسمہ ذکر کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کینت ذکر کی ان کو مسیح کیوں کہا گیا ۔
(حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مسیح کہنے کی وجوہات)
اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ، بعض نے کہا مسیح فعیل بمعنی مفعول مطلب یہ ہے کہ آپ کی ذات سے تمام گندگیاں صاف کردی گئیں ، اور آپ کو گناہوں سے پاک رکھا ، بعض نے کہا کہ مسیح کو مسیح برکت کی وجہ سے کہا گیا ، ” عند البعض “ یہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے پیٹ کے مسلنے سے پیدا ہوئے۔
بعض نے کہا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے پر سے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مسح کیا تاکہ شیطان کے شر سے محفوظ رہیں اس لیے ان کو مسیح کہا گیا ، بعض حضرات نے کہا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قدم کو مسح کیا گیا کہ ان کے پاؤں میں کبھی ورم نہیں آتا ۔
دجال کو بھی مسیح کہتے ہیں کیونکہ وہ ایک آنکھ سے ممسوح ہوگا اور بعض نے کہا کہ فعیل بمعنی فاعل کے ہے جیسے علیم اور عالم ہے ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مسیح اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ بیماری والے شخص کو ہاتھ لگاتے تو وہ ٹھیک ہوجاتا ۔ بعض نے کہا کہ آپ ہمیشہ سیاحت کرتے رہتے تھے کہ کہیں مقیم نہیں ہوتے تھے اس لیے مسیح کہا گیا ، اس صورت مسیح میں میم زائد ہوگا ، ساح یسیح سے ہوگا جس کا مادہ سیح ہے ، ابراہیم نخعی (رح) فرماتے ہیں کہ مسیح صدیق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور مسیح کذاب دجال ہے ، اس صورت میں یہ لفظ اضداد میں ہوگا ، ” وجیھا “ شریف ، عالی مرتبہ والا ، وجاہت والا ہے ، ” فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین “ اللہ کے نزدیک ۔
Ayah 3:46(حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات)
(تفسیر) 46۔ :
(آیت)” ویکلم الناس فی المھد “۔ بچپن میں بولنے سے پہلے ، شیرخوارگی میں کلام کرے گا ، جیسا کہ سورة مریم میں ہے (آیت)” قال انی عبداللہ اتانی الکتاب “۔ مجاہد (رح) سے بیان کیا گیا کہ حضرت مریم (علیہا السلام) فرماتی ہیں کہ جب میں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اکیلے ہوتے تو ہم دونوں آپس میں باتیں کرتے رہتے اور جب کوئی انسان ہمارے پاس آجاتا تو وہ میرے پیٹ میں تسبیح بیان کرتے اور میں اس کو سنتی تھی ، ” وکھلا “ رفع الی السماء سے پہلے تمام قوتوں کا مجتمع ہونا۔
حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ آسمان سے اترنے کے بعد وہ کلام کرے گا اور بعض نے کہا کہ ہمیں اس بات کی خبر دی گئی کہ وہ زندہ ہیں اور کہولت سے پہلے وفات نہیں پائیں گے کہولت کے بعد کلام کرنا معجزات میں سے ہے بعض نے کہا کہ حالت کہولت میں ان کو نبی ہونے کی خوشخبری سنا دی گئی اور شیر خوارگی میں کلام کرنا معجزہ ہے اور کہولت میں کلام کرنا دعوت ہوگا ۔
مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” کھلا “ سے مراد حلیم ہونا اور اہل عرب سن کہولت کی مدح کرتے ہیں اس لیے کہ درمیانی حالت عقل کی پختگی ، رائے میں جودت اور تجربہ ہوتا ہے ۔ (آیت)” ومن الصالحین “۔ کہ وہ نیک بندوں میں سے ہوگا ، انبیاء کرام (علیہم السلام) کی یہی شان ہوتی ہے ۔
Ayah 3:47(تفسیر) 47۔ :
(آیت)” قالت رب “ اے میرے سردار یہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو فرمایا بعض نے کہا کہ یہ کلام عزوجل کو فرمایا (آیت)” انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر “۔ یعنی مجھے کسی مرد نے نہیں چھوا ‘۔ حضرت مریم (علیہا السلام) نے یہ بات بطور تعجب کے کہی کیونکہ عام طور پر تو بچہ پیدا ہوتا ہے والد کے ساتھ جبکہ میں نے تو نکاح ہی نہیں کیا (آیت)” قال کذلک اللہ یخلق مایشاء اذا قضی امرا “۔ جب کسی چیز کا ارادہ کرلیتا ہے ۔ (آیت)” فانما یقول لہ کن فیکون “ جس چیز کا تو ارادہ کرتا ہے وہ ہوجاتا ہے (آیت)” کذلک اللہ یخلق مایشاء “۔ بعض نے کہا یہ قول عطف ہے اس فرمان (آیت)” ان اللہ یبشرک “ پر۔
Ayah 3:48(تفسیر) 48۔:
(آیت)” ویعلمہ “ قراء اہل مدینہ ، عاصم (رح) ، یعقوب (رح) ، نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے ان کے ساتھ پڑھا ہے ۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان (آیت)” ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک “۔ (الکتاب) کتاب سے مراد تحریر اور خط ہے ” والحکمۃ “ سے مراد علم اور سمجھ ہے ، (آیت)” والتوراۃ والانجیل “ سکھلایا اللہ نے تورات اور انجیل کو۔
Ayah 3:49(تفسیر) 49۔:
(آیت)” ورسولا “۔ اور آپ کو رسول بنائیں گے (آیت)” الی بنی اسرائیل “ بعض نے کہا کہ رسول بلوغت کے بعد تھے ، بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے پہلے نبی یوسف (علیہ السلام) ہیں اور آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ، جب ان کو بھیجا فرمایا ” انی “ امام کسائی (رح) فتحہ پڑھتے ہیں کیونکہ رسالت اس پر واقع ہے ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ” انی “ ہے، ” قد جئتکم بایۃ “ بمعنی نشانی علامت ہے ” من ربکم “ اپنے قول کی تصدیق ہے کہ جو اللہ کا دیا ہوا ہوگا ، یہاں تو ایک علامت کا ذکر کیا حالانکہ آپ کے پاس بہت سارے معجزات تھے ، یہ سب ایک چیز پر دلالت کرتے ہیں، یعنی جس نے رسالت کی تصدیق کی گویا اس نے سب معجزات کی تصدیق کی ، جب یہ بات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو کہا انہوں نے جواب میں کہا وہ کیا ہے اور کہاں سے آئے گا ، فرمایا ” انی “ نافع نے الف کے کسرہ کے ساتھ جملہ مستانفہ پڑھا ہے اور باقیوں نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ” اخلق “ خلق کا معنی صورت بنانا اندازہ کرنا (آیت)” لکم من الطین کھیئۃ الطیر “۔ ابو جعفر (رح) نے ” کھیۃ الطاھر “ پڑھا ہے ۔ اس مقام پر اور سورة مائدہ میں ہے ، ہئیت کا معنی صورت ہے اس کا مصدر ” المھیاء “ آتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ لے آؤ کوئی چیز جب اس پر قدرت اور صلاحیت ہو، (آیت)” فانفخ فیہ “ پرندے میں پھونک مارو۔
(آیت)” فیکون طیرا باذن اللہ “ اکثر قراء نے جمع کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ انہوں نے بہت سارے پرندوں کو بنایا ، اہل مدینہ اور یعقوب (رح) نے ” طائرا “ پڑھا ہے یہاں پر واحد ذکر کیا یہ پرندے کی ایک نوع کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے چمگادڑ کے علاوہ کوئی پرندہ نہیں بنایا ، چمگادڑ کو خاص ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تخلیق کے لحاظ سے یہ سب پرندوں سے زیادہ کامل ہے اس کے پستان اور دانت بھی ہوتے ہیں اور اس کو حیض بھی آتا ہے ، وھب (رح) کا قول ہے کہ یہ پرندہ جو لوگوں کی نظروں کے سامنے ہو تو اڑتا رہتا ہے جب لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوجائے تو گر کر مرجاتا ہے، یہ ایسا صرف اس لیے ہوتا ہے تاکہ خدائی تخلیق اور بندے کی تخلیق میں فرق واضح ہوجائے تاکہ جان لے کہ تخلیق میں کمال صرف اللہ عزوجل کا ہے ، (آیت)” وابری الاکمہ والابرص “ ان دونوں کو شفاء دے اور ان دونوں کو تندرست کرلیں ۔
(الاکمہ والابرص کی تفسیر)
الائمہ کی تفسیر میں آئمہ کی مختلف آراء ہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ جو بچپن سے اندھا ہو ،
حسن (رح) اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ نابینا ، عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ اعمی جس کی نظر کمزور ہو ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جو دن کو دیکھ سکتا ہو اور رات کو اس کو کچھ نظر نہ آتا ہو۔
ابرص وہ ہے جس میں سفید داغ ہوں ، ان دونوں بیماریوں کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ یہ لاعلاج بیماریاں ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طب کا زور تھا اس لیے لوگوں کو طبی معجزہ دکھلایا ، وہب (رح) کہتے ہیں کہ بسا اوقات ایک دن میں پچاس پچاس ہزار مریض جمع ہوجاتے ہیں جو خود آنے کی طاقت رکھتا تھا وہ خود آجاتا اور جو آنے کی طاقت نہیں رکھتا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس کے پاس تشریف لے جاتے ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے تندرست ہونے کی دعا کرتے ، ساتھ ایمان کی شرط لگاتے ۔ ” واحی الموتی باذن اللہ “۔
(حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دوسرا معجزہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنا)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے چار آدمیوں کو زندہ کیا ، عاذر ، ابن العجوز ، عاشر کا بیٹا ، سام بن نوح ، ۔
1۔ عاذر آپ کا دوست تھا مرنے لگا تو اس کی بہن نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ کا دوست مر رہا ہے آپ تک پہنچنے کے لیے تین دن کی مسافت تھی ، آپ اپنے ساتھیوں سمیت پہنچے تو عاذر کو مرے تین دن ہوگئے تھے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی بہن سے فرمایا کہ مجھے اس کی قبر پر لے چلو، عاذر کی بہن ان کو قبر پر لے گئی ، آپ نے اللہ سے دعا کی عاذر اٹھر کھڑا ہوا اور اس کے بدن سے روغن ٹپک رہا تھا ، پھر قبر سے نکل آیا اور کافی عرصہ زندہ رہا ، اس کی اولاد بھی ہوئی ،
2۔ بڑھیا کے بچے کا جنازہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے گزرا ، آپ (علیہ السلام) نے دعا کی وہ فورا چارپائی پر اٹھ بیٹھا ، لوگوں کے کندھوں سے نیچے اتر آیا اور کپڑے پہن کر چارپائی کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر واپس گھر کو لوٹ گیا ، وہ بھی بعد میں زندہ رہا اور اس کے بھی بچے ہوئے ۔
3۔ ” ابنۃ العاشر “ محصول ٹیکس کی بیٹی ، اس کی بیٹی ایک روز قبل مرگئی ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے لیے دوسرے دن دعا فرمائی تو اللہ نے اس کو زندہ کردیا ، وہ بعد میں بھی زندہ رہی اور اس کے بچے بھی ہوئے ۔
4۔ سام بن نوح ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کی قبر پر گئے اور اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم لے کر پکارا ، سام قبر سے نکل آیا ، قیامت برپا ہونے کے اندیشے سے اس کا آدھا سر سفید ہوچکا تھا ، اس زمانے میں لوگوں کے بال سفید نہیں ہوتے تھے ، سام نے کہا کیا قیامت قائم ہوچکی ہے ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں ، میں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم لے کر پکارا تھا ، پھر آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اب مرجاؤ ، سام نے کہا اس شرط پر مرنے کو تیار ہوں کہ اللہ تعالیٰ موت کی مشقت سے محفوظ رکھے، آپ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور دعا قبول ہوئی ” وانبئکم “ اور میں تمہیں خبر دوں گا ، ” بما تاکلون “ وہ اشیاء جن کو میں دیکھتا ہوں ۔
(حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تیسرا معجزہ)
” وما تدخرون “۔ اور جو تم ذخیرہ کرکے رکھتے ہو (آیت)” فی بیوتکم “ یہاں تک کہ تم اس کو کھالو، بعض نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے جو کچھ صبح کھا کر آتا تو آپ بتلا دیتے اور جو دن کو کھاتے وہ بھی بتلا دیتے اور رات کے لیے جو اشیاء ذخیرہ اندوزی کرکے رکھتے تھے وہ بھی بتلا دیتے ،
سدی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جائے درس میں جا کر بچوں کو بتا دیتے کہ تمہارے باپوں نے یہ یہ بنایا ہے اور کسی بچے سے یہ فرماتے کہ جاؤ تمہارے گھر والوں نے فلاں فلاں چیز کھائی ہے اور فلاں چیز اٹھا کر رکھ دی ہے ، بچہ گھر جا کر روتا ، آخر گھر والے وہ چیز اس کو دے دیتے اور اس بچے سے پوچھتے تمہیں یہ کس نے بتایا ہے تو وہ بچہ کہتا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ، پھر گھر والوں نے اپنے بچوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ملنے ممانعت کردی اور کہہ دیا کہ اس جادوگر سے نہ ملنا ۔
ایک دفعہ سب بچوں کا گھر میں جمع کرلیا ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کو تلاش کرتے ہوئے تشریف لائے تو لوگوں نے کہا کہ یہاں بچے نہیں، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ پھر اس گھر میں کون ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ اس میں خنزیر ہیں ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ سب ایسے ہی ہوجائیں گے ، جب انہوں نے گھر کا دروازہ کھولا تو وہ سب خنزیر تھے اور یہ خبر پورے مصر میں پھیل گئی بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درپے ہوگئے ، جب ان کی والدہ کو ان کی جان کا خطرہ محسوس ہوا تو گدھے پر سوار کر کے مصر روانہ کردیا، حضرت قتادہ (رح) ش کہ یہ واقعہ مائدہ کے سلسلہ میں ہوا تھا ، بنی اسرائیل جہاں بھی ہوتے ان پر من وسلوی کا دسترخوان اترتا لیکن انکو اس بات کا حکم تھا کہ وہ اس میں خیانت نہ کریں اگلے دن کیلئے ذخیرہ نہ کریں ، لیکن بنی اسرائیل نے خیانت کی اور اس کا ذخیرہ کرنا شروع کیا ، پس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کو بتلا دیتے کہ تم نے دسترخوان سے کیا چیز کھائی ہے اور کیا چیز چھپا کر رکھی ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انکی صورتیں خنزیر کی شکل میں مسخ کردی (آیت)” ان فی ذلک “ اس قصہ میں (آیت)” لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین “۔
Ayah 3:50(تفسیر) 50۔:
(آیت)” ومصدقا “ اس کا عطف ” رسولا “ پر ہے (آیت)” لما بین یدی من التوراۃ ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم “۔ یعنی گوشت اور چربیاں ، ابوعبیدہ ؓ فرماتے ہیں کہ بعض سے کل مراد ہے ، مطلب یہ ہے کہ وہ سب اشیاء جو تمہارے لیے حرام کردی گئی ہیں ، یہاں بعض کو ذکر کرکے کل مراد لیا جیسا کہ لبید کا شعر ہے :
” تراک امکنۃ اذا لم ارضھا اویرتبط بعض النفوس حمامھا :
یہاں بعض نفوس سے کل نفوس ہے ۔ (آیت)” وجئتکم بایۃ من ربکم “۔ جو نشانیاں ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں ، آیت کو واحد ذکر کیا کیونکہ سب جنس واحد سے ہیں جو رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ (آیت)” فاتقوا اللہ واطیعون “۔
Ayah 3:5151۔ (آیت)” ان اللہ ربی وربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم “۔
Ayah 3:52(تفسیر) 52۔:
(آیت)” فلما احس عیسیٰ “۔ امام فراء (رح) نے ” احس “ کا ترجمہ ” وجد “ سے کیا اور ابوعبیدہ ؓ نے ” عرف “ (پہنچانا) سے کیا ہے مقاتل نے کہا کہ احس کا معنی ” رای “ دیکھا ہے (آیت)” منھم الکفر “ جب انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ کیا تو انہوں نے مدد طلب کی ۔
(ایک واقعہ)
(آیت)” قال من انصاری الی اللہ “۔ امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا سبب یہ ہوا کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف بھیجا اور انکو دعوت دینے کا حکم دیا ، بنی اسرائیلیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے شہر سے نکال دیا ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ شہر سے نکل گئیں ، یہ دونوں زمین میں چلتے رہے حتی کہ ایک بستی میں پہنچے وہاں ایک شخص نے ان کو بطور مہمان ٹھہرایا اور ان دونوں کے ساتھ احسان کیا ، اس شہر میں ظالم و جابر بادشاہ رہتا تھا ، ایک دن یہ شخص غمگین پریشان زدہ اپنے گھر میں داخل ہوا اور حضرت مریم (علیہا السلام) اس شخص کی بیوی کے پاس موجود تھیں اس عورت نے حضرت مریم (علیہا السلام) نے کہا کہ آپ کے شوہر کی کیا شان ہے ؟ میں اس کو آج غمگین دیکھ رہی ہوں ، اس کی بیوی نے کہا کہ آپ اس بارے میں نہ پوچھئے ، حضرت مریم (علیہا السلام) نے کہا کہ بتلاؤ شاید کہ اللہ تعالیٰ تم پر فراخی کرے ، اس شخص کی بیوی کہنے لگی کہ ہمارا بادشاہ ہر ایک شخص کو ایک دن کا کھانا اور اس کے لشکر کو دیتا اور ان کو خمر پلاتا ، اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اس کو سزا دی جاتی تھی اور آج یہ دن آپہنچا کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں حضرت مریم (علیہا السلام) نے اس عورت سے کہا کہ آپ یہ بات کسی کو نہ بتلائیں گے میں اپنے بیٹے کو کہوں گی وہ دعا کرے گا جو آپ کے لیے کفایت کر جائے گی ، اس کے متعلق حضرت مریم (علیہا السلام) نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بتلایا ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر ایسا کروں تو ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے ، حضرت مریم (علیہا السلام) نے کہا کہ کوئی بات نہیں ہماری طرف سے ان پر احسان و اکرام انعام ہوگا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے قریب ہوجائیں تو وہ اپنی ہانڈیوں اور رکابیوں کو پانی سے بھر دیں ، پھر وہ مجھے اطلاع کریں ، انہوں نے ایسا ہی کیا پھر اللہ تعالیٰسے انہوں نے دعا کی ، ہانڈیوں میں پانی شوربے اور گوشت سے تبدیل ہوگیا اور رکابیوں کا پانی شراب میں تبدیل ہوگیا ، اس طرح کی شراب اور کھانا کسی نے نہیں دیکھا تھا ، جب بادشاہ آیا اس نے کھایا اور خمر پیا تو کہنے لگا کہ یہ شراب کہاں سے لائے ہو ؟ جواب دیا کہ اسی زمین سے لائے ہیں ، بادشاہ نے کہا کہ میری شراب بھی اسی ملک سے لائے ہیں لیکن وہ تو ایسی نہیں ، پھر کہا گیا کہ فلاں زمین کی شراب ہے لیکن جب بادشاہ پر یہ بات خلط ملط ہوئی تو اس نے اس بات سے شدت اختیار کرلی ، پھر اس شخص نے کہا کہ میں آپ کو بتلاتا ہوں کہ میرے پاس ایک لڑکا ہے وہ جو چیز بھی اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے اسے دے دیا جاتا ہے ، اس نے ، اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ایسا شوربا اور گوشت اور شراب عطا کی ۔
بادشاہ کا ایک بیٹا تھا جو کچھ دن پہلے فوت ہوگیا تھا ، بادشاہ کا ارادہ تھا کہ وہ اس کو اپنا خلیفہ بنائے گا اور وہ بچہ اس کو بہت محبوب تھا ، اس شخص نے کہا کہ اس کی دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے پانی کو اعلی شراب بنادیا تو یہ میرے بیٹے کو بھی دعا کے ساتھ زندہ کرے ۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اس کے بارے میں من جانب اللہ کلام کیا گیا ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ ایسا نہ کریں اگر ایسا کرو گے وہ زندہ ہوجائے گا اور شر میں مبتلا ہوجائے گا ، بادشاہ نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ، میں اس کو زندہ دیکھنا چاہتا ہوں ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر وہ زندہ ہوجائے تو آپ ہمیں چھوڑ دیں گے اور ہمیں کہیں بھی جانے سے روکیں گے نہیں ، بادشاہ نے حامی بھر لی ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے لیے دعا فرمائی ، جب بادشاہ کی رعایا نے اس کے زندہ ہونے کو دیکھا تو وہ اسلحہ لے کر آئے اور کہنے لگے تو بھی ہمیں فناء کرے گا جب اس کو موت قریب آئی تو اس نے اپنے بیٹے کو خلیفہ بنانے کا ارادہ کیا اب تو بھی ہمیں اسی طرح کھائے گا جیسا کہ تیرے باپ نے کھایا ، وہ سب اس کو قتل کرنے کے درپے ہوئے ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حواریین کے پاس آئے اور وہ مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو ؟ وہ کہنے لگے ہم مچھلیوں کا شکار کر رہے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم میرے ساتھ نہیں چلتے تاکہ لوگوں کا شکار کریں ، وہ کہنے لگے کہ آپ کون ہیں ؟ وہ کہنے لگے میں عیسیٰ بن مریم اللہ بندہ اور اس کا بھیجا ہوا ہوں۔ (آیت)” من انصاری الی اللہ “ کہ تم ایمان لاؤ اور میرے ساتھ چلو۔ (آیت)” من انصاری الی اللہ “۔ سدی (رح) ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ الی اللہ بمعنی مع اللہ کے ہے کہ کون میری مدد کرے گا اللہ کی مدد کے ساتھ ، اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم “ یہاں ” الی اموالکم “ بھی بمعنی مع ” اموالکم “ ہے حسن (رح) اور ابوعبیدہ ؓ ش ” الی “ بمعنی ” فی “ کے ہے عبارت اس طرح ہے کہ ” من المواتی فی اللہ ای فی ذات اللہ ، وسبیلہ “ اللہ کی ذات میں اور اس کے راستے میں ، بعض نے کہا کہ ” الی فی “ کی جگہ استعمال ہوا ہے ، معنی یہ ہوگا کہ کون ہے جو اللہ کی مدد کے ساتھ میری نصرت کرے گا ۔
(حواریین کون تھے ان کا پیشہ کیا تھا ؟ )
حواریین کے متعلق اس میں اختلاف ہے ، مجاہد (رح) ، اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ مچھلیوں کا شکار کرنے والے ماہی گیر تھے ، ان کو حواریین اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ ان کے کپڑے سفید تھے، بعض نے کہا کہ وہ ملاح تھے اور حسن (رح) ، فرماتے ہیں کہ وہ دھوبی تھے چونکہ یہ کپڑوں کو دھو کر سفید کرتے تھے اس لیے ان کو حواری کہا جاتا تھا ۔
حضرت عطاء (رح) ، فرماتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہا السلام) نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذمے کچھ کام لگائے تھے ، ان کاموں میں سے آخری کام حواریوں کے سردار نے لگایا تھا اور وہ لوگ دھوبی اور (صباغ کپڑوں کو رنگنے والے تھے) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس انہوں نے کپڑے جمع کردیئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ میں سفر میں جا رہا ہوں اور میں نے یہ صنعت سکھلا دی ہے، میں دس دن تک واپس نہیں آسکوں گا اور یہ کپڑے مختلف رنگوں کے ہیں ، ان میں سے جو کپڑا جس رنگ کا ہے اسی رنگ میں صباغ کردیں ، امید ہے میرے آنے کے وقت تک آپ فارغ نہیں رہیں گے جب ان کا سردار سفر کے لیے چلا گیا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایک بڑے ٹب میں ایک رنگ کو پکایا اور اسمیں تمام کپڑے ڈال دیئے اور پھر ان کپڑوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگے ” کونی باذن اللہ علی ما ارید منک “ ، کہ اللہ کے حکم میں اس طرح ہوجاؤ جس طرح میں ارادہ کرتا ہوں، جب حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور سارے کپڑے اس بڑے گھڑے (ٹب) میں موجود تھے انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ کیا کیا فرمایا میں تو فارغ ہوگیا ، انہوں نے کہا کہ وہ سب کپڑے کہاں ہیں، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ وہ اس گھڑے میں ہیں ، انہوں نے کہا وہ سب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ جی ہاں انہوں نے کہا کہ وہ سب کپڑے تو خراب ہوگئے ہوں گے، فرمایا ٹھہرو اور دیکھتے رہنا پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس گھڑے سے سرخ ، زرد ، سبز ، الغرض جس کپڑے کو جو رنگ لگانا تھا اس کو اسی طرح لگا ہوا تھا اس پر حواریین تعجب کرنے لگے اور وہ جان گئے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے، لوگوں نے کہا جلدی کرو اور دیکھو اس پر وہ اور اس کے ساتھ سب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اس واقعہ سے حواریین سارا ماجرہ سمجھ گئے۔
(حواری کہنے کی وجہ)
ضحاک (رح) فرماتے ہیں ان کے دل صاف تھے اس لیے ان کو حواری کہا گیا ، ابن المبارک (رح) نے کہا کہ ان کے چہروں پر عبادت کا اثر اور نور نمایاں تھا ، عرب میں حور کسی چیز کی سفیدی کو بیان کرنے کے لیے بولا جاتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے ، ” رجل احور وامراۃ حوراء “ یعنی ان کی آنکھ کی سفیدی ، کلبی (رح) اور عکرمہ (رح) نے کہا کہ ان کے چہروں پر عبادت کا اثر اور نور نمایاں تھا اس لیے حوری کہا گیا چونکہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جماعت کے برگزیدہ افراد تھے اور یہ بارہ افراد تھے، روح بن قاسم نے بیان کیا کہ میں نے قتادہ (رح) سے حواریوں کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا حواری وہ لوگ تھے جو خلافت کے اہل تھے ، اور دوسرا قول حواریوں کی تعبیر وزراء سے کی ہے ، حسن نے فرمایا کہ حواریین سے مراد مددگار ہیں ، عرب میں حواری اس پر بولا جاتا ہے جس کو مدد کے لیے پکارا جائے ،
محمد بن منکدر (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا وہ فرما رہے تھے کہ آپ ﷺ نے عزوہ خندق میں پکارا تو حضرت زبیر ؓ نے آپ کی پکار کا جواب دیا ، پھر دوبارہ پکارا پھر بھی حضرت زبیر ؓ نے لبیک کہا ، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کے لیے کوئی حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ؓ ہے ۔
سفیان (رح) فرماتے ہیں کہ حواری مددگار کو کہتے ہیں ، معمر اور قتادہ (رح) نے کہا کہ آپ ﷺ کے حواریین قریش میں سے تھے ، اور وہ حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ ، حضرت علی ؓ حمزہ ؓ ، جعفر ِرضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابوعبیدۃ بن الجراح ؓ و عثمان بن مظعون ؓ ، عبدالرحمن بن عوف ؓ ، سعد بن ابی وقاص ؓ ، طلحہ بن عبید اللہ ؓ زبیر بن العوام ؓ ، ہیں۔ (آیت)” قال الحواریون نحن انصار اللہ “ جو اللہ کے دین اور اس کے رسول کے مددگار ہیں ، (آیت)” امنا باللہ واشھد “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں ، ” بانا مسلمون “۔
Ayah 3:53(تفسیر) 53۔:
(آیت)” فاکتبنا مع الشاھدین “۔ جنہوں نے اپنے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی صداقت کی شہادت دی ۔
عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” مع الشاھدین “۔ سے مراد ” مع النبیین “۔ ہیں کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) اپنی اپنی امت کی گواہی دیں گے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ عنہنے فرمایا کہ شاہدین سے مراد محمد ﷺ اور ان کی امت ہے چونکہ یہ امت تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی رسالت اور تبلیغ کی شہادت دے گی ۔
Ayah 3:54(ومکروا ومکر اللہ کی تفسیر)
(تفسیر) 54۔:
(آیت)” ومکروا “ جن لوگوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کفر کو محسوس کیا انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کرنے کا ارادہ کیا ، جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان حواری واپس اپنی قوم کی طرف لوٹ کر آئے اور ان کو دعوت کی طرف آمادہ کیا ، انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا ، اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ومکراللہ واللہ خیرالماکرین “۔ مخلوق کا مکر حبث ہے اور دھوکہ ، حیلہ کرنا ہے ، جب مکر کی نسبت اللہ کی طرف ہو تو معنی یہ ہوگا کہ اللہ نے تدبیر کی اور اس کی سرکشی کو پکڑا ، اس طور پر کہ اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” سنستدرجھم من حیث لا یعلمون “۔
زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ مکر من اللہ کا مطلب یہ ہے کہ انکے مکر کی سزا دینا جزاء کو مکر مقابلہ کی وجہ سے فرمایا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” اللہ یستھزی بھم “۔ ۔۔۔۔۔ ” وھو خادعھم “۔ ومکر اللہ ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق جو خفیہ تدبیر کی وہ یہ تھی کہ جب انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی شبیہ دوسرے شخص پر ڈال دی اور وہ قتل کیا گیا۔
(حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان پر اٹھایا جانا)
کلبی (رح) نے ابی صالح کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ یہودیوں کی جماعت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے آئی ، آپ کو دیکھ کر کہنے لگے کہ جادوگر جادوگرنی کا بیٹا آگئے (نعوذ باللہ) آپ پر تہمت لگائی اور آپ کی والدہ پر بھی جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی یہ بات سنی تو آپ نے ان کے لیے بددعا کی اور ان پر لعنت کی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خنزیر کی شکل میں مسخ کردیا ، یہودیوں کے سردار یہودا نے جب یہ دیکھا تو وہ گھبرا گیا اور آپ کی بددعا سے ڈر گیا ، پھر اس نے تمام یہودیوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل پر جمع کردیا ، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) چھت کے ذریعے کمرے میں داخل ہوئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا کرلے گئے، یہود کے سردار نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو حکم دیا جس کا نام ططیانوس تھا کہ وہ آپ کے کمرے میں داخل ہو کر آپ کو قتل کر دے، جب ان کے کمرے میں داخل ہوا تو اس کو عیسیٰ (علیہ السلام) کہیں نظر نہیں آئے ، وہ گھبرا گیا ، اس نے گمان کیا کہ وہ قتل کیا جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ اس شخص پر ڈال دی ، جب وہ کمرے سے باہر نکلا تو لوگوں نے اس کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سمجھ کر قتل کردیا اور اس کو سولی پر لٹکا دیا ۔
(حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے حواریوں کو وصیت کرنا)
وہب کا بیان ہے کہ رات کے کچھ حصے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) چلے، یہودیوں نے ان کے لیے ایک لکڑی اور بانس گاڑھ کے رکھا تھا تاکہ ان کو سولی پر لٹکائیں ، زمین میں بہت اندھیرا چھا گیا ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا جو ان کے درمیان حائل ہوگئے، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان حواریوں کو اس رات جمع کیا اور وصیت فرمائی اور کہا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص کافر ہوجائے گا مرغ کے صبح آواز لگانے سے پہلے اور مجھے تھوڑے سے دراہم میں فروخت کر دے گا ، پس حواریین وہاں سے چلے گئے اور جدا جدا ہوگئے ، یہود نے آپ کو تلاش کرنے میں بہت مشقت اٹھالی ، بالآخر وہ حواریین میں سے ایک کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ اگر تم مجھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق دریافت کرو گے تو تیس درہم دوں گا ، اس حواری نے تیس درہم لے لیے اور ان کا ٹھکانا بتلا دیا ، جب وہ دلالت کرنے والا شخص اس گھر میں داخل ہوا تو اس پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ ڈال دی گئی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھا لیا اور جس شخص نے بتلایا تھا اس کو پکڑا تو وہ کہنے لگا کہ میں تو وہ شخص ہوں جس نے آپ کو بتلایا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہاں ہیں ؟ انہوں نے اس کی بات کی طرف توجہ ہی نہ دی اور اس کو قتل کر ڈالا اور اس کو سولی پر لٹکا دیا اور وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ یہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
(حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زمین پر دوبارہ اترنا)
جب اس کو سولی پر چڑھا دیا گیا تو حضرت مریم (علیہا السلام) اور دوسری وہ عورت جس کے جنون کو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ٹھیک کردیا تھا روتی ہوئی صلیب پر لٹکی ہوئی نعش کے پاس پہنچیں ، اچانک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے نمودار ہو کر ان سے کہا کہ تم کیوں روتی ہو ، اللہ تعالیٰ نے مجھے اٹھا لیا اور سوائے بھلائی کے مجھے کوئی دکھ نہیں پہنچا ، باقی یہ صلیب کشادہ شخص تو میرا ہم شکل ہے، اللہ نے ان کی نظروں میں اس کو میرا ہم شکل بنادیا پھر سات روز کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ مریم (علیہا السلام) کے پاس پہاڑ پر جا کر اتر وہ غمگین ہے ، مریم (علیہا السلام) کی طرح نہ کوئی رویا اور نہ اس کے برابر کسی کو غم ملا ، وہاں جا کر حواریوں کو جمع کرنا اور اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے کے لیے شہر میں پھیلا دینا ، حسب الحکم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ پر اترے جس کا نام مجد لانیہ ہے ، آپ کے نزول کے وقت پہاڑ بقعہ نور بن گیا ، حواری آکر آپ کے پاس جمع ہوئے ، آپ نے دین کی دعوت دینے کے لیے ان کو ملک میں پھیلا دیا ، اس کے بعد اللہ نے ان کو اٹھا دیا ، صبح ہوئی جس جس حواری کو جس جس کی ہدایت کے لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے مقرر کیا تھا اس حواری نے اس کی زبان میں گفتگو کی ،۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ومکروا ومکراللہ واللہ خیرالماکرین “۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے دس ساتھیوں کو قید کرلیا ۔ ان میں ایک شخص داخل ہوا تاکہ ان کو قتل کرے، اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ ڈال دی ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں سے کہا کہ تم میں سے کون ہے جس پر میری شکل ڈال دی جائے گی اور وہ مقتول ہوگا ، قوم میں سے ایک شخص نے کہا میں اے اللہ کے نبی ، اس شخص کو مارنے لگے ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو روک دیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھا لیا اور آپ کو پر پہنا دیئے گئے اور آپ پر نور ڈال دیا گیا اور کھانے پینے کی اشیاء کی حاجت ختم کردی گئی اور وہ فرشتوں کے ساتھ عرش کے ارد گرد اڑتے ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بشکل انسانی صفت ملکہ سمائیہ ارضیہ ہوئے ۔
اہل مؤرخین نے لکھا ہے کہ تیرہ سال کی عمر میں شکم مریم (علیہا السلام) میں استقرار عیسیٰ ہو اور سرزمین (اوری شلم) بابل پر سکندر کے حملہ کو 65 سال گزرے تھے کہ آپ کی پیدائش ہوئی اور آغاز وحی کے وقت آپ کی عمر 30 سال تھی اور جب آپ 33 سال کے ہوئے ، شب قدر ماہ رمضان میں بیت المقدس سے اللہ نے آپ کو اٹھا لیا ، گویا اٹھنے کے وقت آپ کی نبوت کو تین سال گزرے تھے ، آپ کے بعد حضرت مریم (علیہا السلام) چھے سال زندہ رہیں ، حضرت مریم (علیہا السلام) کی عمر اس وقت 52 سال تھی۔
Ayah 3:55(متوفیک ورافعک کی مختلف تفاسیر)
(تفسیر) 55۔:
(آیت)” اذ قال اللہ یا عیسیٰ ان متوفیک ورافعک “۔ متوفی کے متعلق آئمہ کے مختلف اقوال ہیں ، حسن (رح) کلبی (رح) اور ابن جریج (رح) نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تجھے پکڑ لوں گا اور بغیر موت کے دنیا سے اٹھا کر اپنے پاس لے جاؤں گا جس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” فلما توفیتنی “ دلالت کر رہا ہے ، میں نے تمہیں آسمان کی طرف اٹھا لیا اور میں زندہ ہوں اس لیے کہ لوگ کسی کے اٹھائے جانے سے اس کی مدد کرتے ہیں نہ کہ اس کے مرنے کے بعد ، لہذا یہاں پر توفی کی دو تاویلیں کی جائیں گی ،۔
(1) میں نے تجھے اپنی طرف پورا پورا اٹھاؤں گا اور تجھے کوئی چیز ضرر نہیں پہنچا سکے گی ، جیسا کہ عام طور پر محاورات میں بولا جاتا ہے ” توفیت من کذا وکذا واستوفیہ “۔ جب اس کو پورا پورا لیا جائے۔
(2) میں تجھے اپنی سپردگی میں لے لوں گا ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ” توفیت من کذا ای تسلمتہ “ میں نے خود اس کو لے لیا اپنی سپردگی میں لے لیاوصول کرلیا ، ربیع بن انس ؓ فرماتے ہیں کہ یہاں توفی سے مراد نیند ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سو گئے تھے ، پھر سونے کی حالت میں ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا ، آیت کا معنی یہ ہوگا ” انی منیمک ورافعک الی “۔ کہ میں آپ کو نیند دے کر پھر اپنی طرف اٹھاؤں گا جیسا کہ اللہ کا فرمان (آیت)” وھو الذی یتوفاکم باللیل “ اللہ وہی ہے جو تم کو رات کو سلاتا ہے بعض نے کہا کہ ” توفی “ سے مراد موت ہے علی بن طلحۃ کی روایت ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول نقل کیا کہ اس کا معنی ” انی ممیتک “ ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ” قل یتوفاکم ملک الموت “ اس صورت میں بھی اس کی دو تاویلیں کی جائیں گی ،۔
(1) وھب کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دن کی تین ساعات کے لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو موت عطا کی ، پھر ان کو زندہ کیا ، پھر اپنی طرف اٹھا لیا ، محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ نصاری کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دن کی سات گھڑیوں کے لیے موت عطا کی پھر زندہ کر کے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔
(2) ضحاک کا قول یہ ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہوئی ہے عبارت یوں ہوگی ، ” انی رافعک الی ومطھرک من الذین کفروا ومتوفیک ومتوفیک بعد انزالک من السماء “ کہ میں تمہیں پہلے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تجھے یہودیوں کے شر سے محفوظ رکھوں گا پھر آسمان سے نزول کے بعد موت دوں گا ، سعید بن مسیب ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں اور نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ عنقریب تم میں عیسیٰ بن مریم (علیہا السلام) حاکم عادل اتریں گے ، صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیہ کو ساقط کردیں گے اور مال کو بہائیں گے کہ کوئی قبول بھی نہیں کرے گا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اس زمانے میں تمام ادیان باطلہ ختم ہوجائیں گے صرف اسلام باقی رہے گا اور دجال بھی ہلاک ہوجائے گا آپ (علیہ السلام) زمین پر چالیس سال رہیں گے پھر آپ کی وفات ہوجائے گی ، مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھائیں گے ،
حسین بن فضل (رح) سے کہا گیا کہ کیا تم نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق قرآن میں کچھ پاتے ہو ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! اور اللہ کا یہ فرمان پڑھا ” وکھلا “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہولت کے زمانے تک دنیا کی زندگی میں نہیں پہنچے تو لامحالہ یہی مطلب ہوگا کہ دنیا میں اتر کر اس عمر تک پہنچیں گے ، (آیت)” ومطھرک من الذین کفروا “۔ ان کے درمیان سے آپ کو نکالوں گا اور ان سے نجات دوں گا۔ (آیت)” وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ “۔
(اتبعوک سے کون لوگ مراد ہیں)
امام قتادہ (رح) ، ربیع (رح) ، شعبی (رح) ، مقاتل (رح) ، کلبی (رح) کہتے ہیں کہ وہ اہل السلام ہوں گے ، جو ان کی رسالت کی تصدیق کریں گے اور ان کی تابعداری کریں گے امت محمدیہ ﷺ میں سے ، یہ ان لوگوں سے بہتر ہوں گے ، جو ظاہرا کفر پر ہوں گے ۔
ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حواریین ہیں کہ ان لوگوں سے افضل ہیں جنہوں نے کفر کیا ، بعض نے کہا کہ وہ اہل روم ہیں ، بعض نے کہا کہ نصاری مراد ہیں ، یعنی یہود کی مملکت ختم ہوجائے گی ، اور نصاری مملکت قیامت تک دائم رہے گی ، اس صورت میں اتباع بمعنی دعا اور محبت کے ہوگی کہ یہ لوگ دین کی اتباع نہیں کریں گے (آیت)” ثم الی مرجعکم “۔ آخرت کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ (آیت)” فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون “۔ دین کے معاملے میں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس معاملے میں وہ اختلاف کرتے ہیں ۔