3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 3:103

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 3:103 in the Quran reader

اور سب مل کر خدا (کی ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ

(تفسیر) 103۔: (آیت)” واعتصموا بحبل اللہ جمیعا “۔ حبل اس سبب کو کہتے ہیں جو مطلوب و مقصود تک پہنچانے میں ذریعہ بنے اور ایمان کو بھی حبل کہتے کیونکہ یہ سبب جو جہنم کے خوف سے بچاتا ہے۔ (واعتصموا بحبل اللہ کی تفسیر) اس کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑنا ، ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جماعت ہے اور فرماتے ہیں کہ تم جماعت کو لازم پکڑو اس لیے کہ یہ ایسی رسی ہے جس کے پکڑنے کا حکم دیا گیا ہے اور جماعت میں جو تمہیں طاعت ناپسند سمجھتے ہو وہ بہتر ہے ، اس فرقت سے جو تم پسند کرتے ہو ، مجاہد (رح) اور عطاء (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد عہد اللہ ہے، قتادہ (رح) ، اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قرآن کریم ہے ، ابن مسعود نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قرآن کریم اللہ کی مضبوط رسی ہے (اس کو پکڑے رکھو اور وہ واضح نور ہے اور شفاء نافع ہے اور اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے جو اس کو پکڑے اور نجات ہے جو اس کی پیروی کرے ۔ مقاتل بن حبان ؓ کا قول ہے کہ (آیت)” بحبل اللہ “ ۔ سے مراد اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کی اطاعت ہے (آیت)” ولا تفرقوا “ اور تم تفرقہ اختیار نہ کرو جیسا کہ یہود و نصاری نے کہا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تین باتوں پر راضی ہوتا ہے ، وہ تین باتیں یہ ہیں کہ تم اللہ کی عبادت کرو ، اس کا کسی کو شریک نہ کرو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور اللہ جس کو تمہارا حاکم بنا دے اس کی خیرخواہی کرو ، یہ باتیں اللہ کو پسند ہیں اور تین باتوں سے وہ نارض ہوتا ہے ، فضول باتوں کی بحث سے مال کو برباد کرنے سے اور کثرت سے سوال کرنے سے ، (آیت)” واذکرو نعمۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فالف بین قلوبکم “۔ (انصار کی جماعت پر اللہ تعالیٰ کا احسان) محمد بن اسحاق بن یسار (رح) اہل اخبار سے منقول ہے کہ اوس اور خزرج دونوں بھائی تھے ، ان دونوں کے درمیان دشمنی ہوگئی وجہ دشمنی ایک قتیل کی وجہ سے ہوئی ، اس میں اتنا اضافہ ہوا کہ وہ ایک سو بیس سال تک باہم جنگ ہوتی رہی لیکن اسلام نے ان کے اندر دشمنی والی آگ بجھا دی اور آپ ﷺ کی شفقت کی بدولت ان میں اتفاق ہوگیا ، ان کے درمیان محبت کا سبب یہ ہوا کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں ایک شخص تھا جس کا نام سوید بن صامت تھا ، قوم والے اس کو طاقت ور اور اصیل ہونے کی وجہ سے کام کہتے تھے یہ حج یا عمرہ کرنے کی غرض سے مکہ گیا اس وقت رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوچکی تھی ، اور آپ کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم مل چکا تھا ، آپ ﷺ نے سوید کی آمد کی خبر سنی اور اس کے پیچھے گئے، اس کو اسلام اور اللہ عزوجل کی دعوت دی ، سوید نے کہا شاید تمہارے پاس ویسی ہی کوئی چیز ہے جیسی میرے پاس ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے پوچھا تمہارے پاس کیا ہے ؟ سوید نے کہا کہ لقمان کا رسالہ یعنی حکمت ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو میرے سامنے پیش کرو ، سوید نے اس کو پیش کیا ، آپ نے فرمایا ، یہ اچھا ہے مگر میرے پاس جو چیز ہے وہ اس سے افضل ہے ، میرے پاس قرآن کریم ہے جس کو اللہ رب العزت نے نور و ہدایت بنا کر اتارا ہے پھر آپ ﷺ نے اس کو قرآن کریم۔ سنایا اور اسلام کی دعوت دی ، سوید نے نفرت نہیں کی اور کہنے لگا یہ اچھی چیز ہے پھر واپس مدینہ چلا گیا اور کچھ ہی مدت کے بعد جنگ بعاث میں قبیلہ خزرج نے اس کو قتل کردیا ، اس کی قوم والوں کا کہنا ہے کہ مسلمان ہونے کی حالت میں اس کو قتل کیا گیا ، پھر اس کے بعد ابو الجیسر ، انس بن رافع اور ان کے ساتھ بنی اشھل کا گروہ جس میں ایاس بن معاذ بھی شامل تھا ، قریش سے معاہدہ تعاون کرنے کے لیے آیا ، جب آپ ﷺ کو یہ بات سنائی گئی تو آپ تشریف لے گئے اور ان کے پاس بیٹھ کر فرمایا جس کام کے لیے تم آئے کیا اس سے بہترچیز کی تم کو خواہش ہے لوگوں نے کہا وہ کیا چیز ہے ، ؟ فرمایا میں اللہ کا پیغمبر ہوں ، اللہ نے مجھے اپنے بندوں کے پاس بھیجا ہے میں ان کو دعوت دیتا ہوں کہ کسی چیز کو اللہ کا ساجی قرار نہ دو ، اللہ نے مجھ پر کتاب بھی نازل کی ہے ، اس کے بعد آپ ﷺ نے ان کے سامنے اسلام کا تذکرہ کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا ، ایاس بن معاذ نوجوان لڑکا تھا ، کہنے لگا قوم والو جس کام کے لیے تم آئے ہو خدا کی قسم یہ اس سے بہتر ہے ، ابو الجیسر نے ایک لپ بھر کر کنکریاں ایاس کے چہرے پر ماریں اور بولا یہ اپنی بات رہنے دے کہ ہم دوسری غرض سے آئے ہیں ، ایاس خاموش ہوگیا اور رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور وہ لوگ بھی مدینہ کو لوٹ گئے، مدینہ پہنچنے کے بعد اوس و خزرج کے درمیان جنگ بعاث ہوئی اور کچھ عرصہ کے بعد ایاس کا انتقال ہوگیا ، پھر جب اللہ نے چاہا کہ اس کا دین ظاہر اور رسول غالب ہوجائے تو آپ ﷺ حج کے زمانے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین (انصاری صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کی جماعت سے ملے اور اپنے آپ کو قبائل عرب کے حوالے کردیا ، جیسا کہ ہر سال موسم حج میں ہوتا ہے ، عقبہ گھاٹی کے پاس ایک خزرجی گروہ سے ملاقات ہوئی ، اس جماعت میں چھے شخص تھے ، اسعد بن زرارہ ، عوف بن حارث ابن عفراء ہیں ، رافع بن مالک عجلانی ، قطبہ بن عامر بن خریدہ ، عقبہ بن عامر بن بانی ، جابر بن عبداللہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا تم کون ہو ، وہ کہنے لگے ہم خزرجی ہیں ، فرمایا کیا تم یہودیوں کے ساتھیوں میں سے ہو ، وہ کہنے لگے جی ہاں ! فرمایا کیا تم بیٹھ کر میری بات نہیں سنو گے ، انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں ، سنیں گے اس کے بعد سب بیٹھ گئے ، رسول اللہ ﷺ نے ان کو اللہ کی دعوت دی ، اسلام پیش کیا اور قرآن کریم پڑھ کر سنایا (وہ سب اسلام لے آئے) ان کے اسلام کی (خدا کی طرف) سے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مدینہ میں وہ یہودیوں کے ساتھ رہتے تھے ، یہودی اہل کتاب اور اہل علم تھے اور یہ لوگ بت پرست اور مشرک یہودیوں سے ان کا کچھ جھگڑا ہوجاتا تھا تو یہودی کہتے تھے اب ایک نبی آنے والا ہے جس کی بعثت کا زمانہ قریب ہے ہم اس کا اتباع کریں گے اور اس کے ساتھ ہو کر تم کو قوم عاد کی طرح قتل کریں گے بس اس گروہ نے جب رسول اللہ ﷺ کی بات اور اسلام کی دعوت سنی تو آپس میں کہنے لگے تم جانتے ہو کہ یہ وہی پیغمبر ہیں جن کا نام لے کر یہودی تم کو دھمکی دیتے تھے اب یہودی تم سے اس کی مدد حاصل کرنے میں سبقت نہ کرنے پائیں، چناچہ سب نے حضور ﷺ کی تصدیق کی اور مسلمان ہوگئے اور وہ کہنے لگے ہم ایسی قوم کو چھوڑ کر آئے ہیں جن میں آپس کی جنگ اور دشمنی اتنی ہے کہ کسی قوم میں نہیں ہے ، اب امید ہے کہ اللہ آپ کے ذریعے سے اس میں اتفاق کرا دے گا ، عنقریب ہم انکے پاس جائیں گے اور ان کو اس بات کی دعوت دیں گے ، اگر اللہ نے ان سب کو آپ کے معاملے میں متفق کردیا ، آپ سے بڑھ کر پھر کوئی عزت یافتہ نہیں ہوگا ، پھر یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس سے اپنے شہر کو لوٹ گئے اور مدینہ پہنچ کر آپ ﷺ کا تذکرہ کیا اور مدینہ والوں کو اسلام کی دعوت دی ، آپ ﷺ کا تذکرہ مدینہ میں اتنا پھیل گیا کہ انصار کے ہر گھر میں آپ ﷺ ہی کا چرچا ہونے لگا۔ (عقبہ اولی اور انصار کی جماعت کا بیعت کرنا) پھر آئندہ سال موسم حج میں انصار کے بارہ افراد آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے ان میں اسعد بن زرارہ ، عوف بن عفراء ، معاذ بن عفراء رافع بن مالک العجلانی ، ذکوان بن عبد القیس ، عبادۃ بن صامت ، یزید بن ثعلبہ ، عباس بن عبادہ ، عقبہ بن عامر ، قطبہ بن عامر، یہ سب خزرجی تھے اور ابو الہیثم بن تیھان اور عویم بن ساعدہ یہ دونوں اوس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ، عقبہ اولی میں آپ ﷺ سے ان کی ملاقات ہوئی آپ ﷺ نے ان سے ویسی ہی بیعت فرمائی جیسی عورتوں کو فرمائی تھی کہ تم شرک نہیں کرو گے اور نہ چوری کرو گے نہ زنا کرو گے ۔۔۔۔۔۔ الخ اگر تم ان کو پورا کرو گے تو تمہارے لیے جنت ہے ، اگر تم ان میں کسی کا ارتکاب کرو گے تو تمہیں اگر دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو وہ تمہارے گناہ کی تلافی ہوجائے گی لیکن اگر تمہارے جرم پر پردہ پڑا رہا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے چاہے تو وہ اس کا بدلہ لے اور چاہے تو وہ معاف کر دے ، راوی کہتے ہیں کہ یہ واقعہ جنگ سے پہلے کا ہے جب یہ لوگ واپس آ رہے تھے تو اس وقت رسول اللہ ﷺ نے مصعب بن عمیر بن ہاشم بن مناف کو ان کے ساتھ کردیا اور حکم دے دیا کہ انکو قرآن کریم پڑھانا اسلام کی تعلیم دینا اور دین کا سمجھانا ، مدینہ میں حضرت مصعب بن عمیر ؓ کا نام مقری ہوگیا اور اسعد بن زرارہ کے گھر پر آپ کا قیام ہوا، کچھ عرصے کے بعد اسعد بن زرارہ حضرت مصعب ؓ کو لے بنی ظفر کے ایک باغ پر گئے اور اندر جا کر بیٹھ گئے وہاں دوسرے مسلمان بھی جمع ہوگئے ، دوسری طرف سعد بن معاذ نے اسید بن حضیر سے کہا یہ دونوں شخص ہمارے گھر آکر ہمیں کمزور سمجھ کر آدمیوں کو بہکانا چاہتے ہیں تم جا کر ان دونوں کو جھڑک کر نکال دو ، اسعد میرے ماموں کا بیٹا ہے اگر یہ رشتہ نہ ہوتا تو میں خود ہی یہ کام کرلیتا تمہاری ضرورت بھی نہیں ہوتی ۔ سعد اور اسید بنی اشھل کے بڑے مشرکوں میں شمار ہوتے ہیں ، مشورہ کے مطابق اسید اپنا نیزہ لے کر مصعب اور اسعد کے پاس گیا ، دونوں باغ کے اندر بیٹھے ہوئے تھے ، اسید کو دیکھ کر اسعد نے مصعب ؓ سے کہا یہ آنے والا اپنی قوم کا سردار ہے اس کو مسلمان بناؤ ، مصعب ؓ نے جواب دیا اگر یہ بیٹھ جائے گا تو اس سے بات کروں گا ، اسید پہنچ کر دونوں کے سامنے کھڑا ہوگیا اور گالیاں دینے لگا اور کہنے لگا تم ہمارے ہاں کیوں آئے ہو ، کیا ہمارے کمزور سمجھ والوں کو بیوقوف بنا رہے ہو ، اگر تم کو اپنی جان سے کچھ محبت ہے تو یہاں سے ہٹ کر چلے جاؤ مصعب ؓ نے کہا آپ بیٹھ کر ہماری بات تو سن لیجئے ، اگر آپ کو ہماری بات سمجھ میں آجائے تو مان لینا اگر ناپسند لگے تو آپ کے گراں لگنے کی وجہ سے بات نہیں کی جائے گی ، اسید نے کہا یہ بات تم نے ٹھیک کہی ، یہ کہہ کر نیزہ زمین میں گاڑھ کر دونوں کی طرف رخ کرکے بیٹھ گیا ، حضرت مصعب ؓ نے اسلام کے متعلق بات کہی اور قرآن کریم پڑھ کر سنایا ، مصعب ؓ کا بیان ہے ابھی وہ کچھ بولا بھی نہ تھا مگر ہم کو اس کے چہرے کی چمک اور بشاشت سے اسلام کے آثار نظر آنے لگے تھے، قرآن سننے کے بعد کہنے لگا یہ تو بڑی اچھی اور خوبصورت چیز ہے ، اچھا بتاؤ کہ اس مذہب میں داخل ہونے کے وقت تم کیا کرتے ہو ؟ مصعب ؓ اور اسعد نے جواب دیا غسل کرلو ، کپڑے پاک کرو ، پھر شہادت حق دو ، پھر دو رکعت نماز پڑھو ، اسید نے فورا اٹھ کر جا کے غسل کیا ، کپڑے پاکیزہ پہنے اور کلمہ شہادت پڑھ کر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز ادا کی اور کہنے لگے میرے پیچھے ایک اور آدمی ہے ، اگر اس نے تمہاری بات مان لی تو اس کی قوم کا کوئی شخص تامل نہیں کرے گا ، وہ سعد بن معاذ ؓ ہے میں ابھی اس کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں ۔ پھر وہ اپنا نیزہ لے کر چوپال میں ٹھہر گیا ، سعد نے پوچھا پیچھے کیا چھوڑ آئے، اسید نے کہا خدا کی قسم میں نے تو ان میں کوئی جرات نہیں پائی ، میں نے ان کو روک دیا ، انہوں نے کہا جیسا آپ کو پسند ہے ہم ویسے ہی کریں گے لیکن مجھے ایک خبر ملی ہے کہ بنی حارثہ اسعد کو قتل کرنے نکلے ہیں کیونکہ اسعد تمہارے ماموں کا بیٹا ہے وہ اسکو قتل کرکے تم سے عہد شکنی کرنا چاہتے ہیں ، یہ سن کر سعد غضب ناک ہو کر فورا اٹھ کھڑا ہوا ، نیزہ ہاتھ میں لیا اور بولا خدا کی قسم ! میرے خیال میں تم نے کچھ کام نہیں کیا باغ میں پہنچ کر دیکھا تو مصعب اور اسد دونوں کو مطمئن پاک سمجھ گیا کہ اسید نے مجھے اس لیے بھیجا ہے کہ میں خود پہنچ کر انکی بات سنوں ، جب سامنے جا کر کھڑا ہوا تو گالیاں دینے لگا ، پھر اسعد بن زرارہ سے بولا اگر مجھ سے تمہاری رشتہ داری نہ ہوتی تو پھر میرے متعلق تجھے یہ کہنے کی جرات نہ ہوتی تو ہمارے گھر ایسی باتیں لے کر آتا ہے جن کو ہم ناپسند سمجھتے ہیں ، سعد کو دیکھتے ہی اسعد نے مصعب ؓ کو کہہ دیا تھا کہ یہ آنے والا اپنی قوم کا سردار ہے ، اگر اس نے تمہاری بات مان لی تو پھر اس کی قوم میں کوئی تمہاری مخالفت نہیں کرے گا ۔ مصعب ؓ نے سعد سے کہا ذرا بیٹھ کر ہماری بات سن لیجئے ، اگر آپ کو اچھی لگے تو سن لینا اور اگر ناپسند لگے تو ہم آپ کے سامنے نہیں بیان کریں گے ، سعد نے کہا کہ بات ٹھیک ہے پھر اپنا نیزہ زمین میں گاڑھ کر بیٹھ گیا ، انہوں نے اس پر اسلام پیش کیا اور قرآن کی کچھ آیات تلاوت کیں اور ان دونوں نے کہا کہ ہم نے اس کے چہرے کی چمک اور خوشی دیکھ کر پہچان گئے کہ اس پر اسلام غالب آگیا، (یہ بات ہمین اس کے ساتھ کلام کرنے سے پہلے معلوم ہوگئی ) پھر سعد نے کہا جب تم مسلمان ہوتے ہو اور اس دین میں داخل ہونے کے لیے کیا کرتے ہو دونوں نے کہا کہ تم غسل کرلو اور اپنے کپڑے پاک کرلو ، پھر شہادت ادا کرو جیسا کہ اس کا حق ہے اور دو رکعت نماز (بطور شکرانہ) پڑھو ، نماز پڑھنے کے بعد وہ اپنی قوم کے پاس گئے ساتھ اسید بن حضیر بھی تھے قوم والوں نے آتا دیکھ کر کہا خدا کی قسم اب سعد کا وہ چہرہ نہیں جو جاتے وقت تھا ، سعد نے قوم سے کہا اے بنی الاشھل تم مجھے اپنے اندر کیسا جانتے ہو ؟ قوم والوں نے کہا کہ آپ ہمارے سردار ہیں سب سے زیادہ آپ کی رائے فضیلت رکھتی ہے ، آپ کا قول وفعل نہایت مبارک ہے ، سعد نے کہا تو تمہارے مردوں اور عورتوں سے بات کرنا حرام ہے جب تک تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ لے آؤ ، سعد کے اس قول کے بعد بنی عبدالاشھل کے احاطہ میں کوئی مرد عورت بغیر اسلام لائے نہیں رہے اور اسعد بن زرارہ اور مصعب ؓ دونوں لوٹ کر اسعد کے گھر آگئے ، مصعب ؓ یہیں مقیم رہے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہتے ، یہاں تک کہ انصار کے گھروں میں کوئی گھر ایسا نہیں رہا جس میں کچھ مرد اور عورتیں مسلمان نہ ہوں مگر بنو امیہ بن زید کے گھر اور خطمہ وائل اور واقف کے گھروں میں لوگ مسلمان نہیں ہوئے ، اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں ابو قیس بن اسلت شاعر موجود تھا اور یہ خاندان والے اس کی بات سنتے اور مانتے تھے، اس نے سب کو اسلام قبول کرنے سے روکا ہوا تھا ، یہاں تک کہ آپ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لے گئے اور جنگ بدر ، احد ، خندق بھی گزر چکی تھیں۔ (عقبہ ثانیہ میں انصار کی بیعت) راوی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مصعب بن عمیر ؓ مکہ کی طرف لوٹے اور انصار کی ایک جماعت جو ستر افراد پر مشتمل تھی ان میں کچھ لوگ حاجی تھے اور بعض مشرک بھی تھے مکہ پہنچنے کے بعد وسط ایام تشریق میں عقبہ ثانیہ پر رسول کریم ﷺ سے ملاقات ہونے کا وعدہ ہوا ، یہی بیعت عقبہ ثانیہ کہلاتی ہے کعب بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ میں اس وقت موجود تھا اور ہم حج سے فارغ ہوئے اور وعدہ ملاقات والی رات آئی ہمارے ساتھ عبداللہ بن عمرو بن حرام ابو جابر کو ہم نے بتایا اور ہم اپنے ساتھ والے مشرکین سے کچھ باتیں پوشیدہ رکھتے تھے مگر اس شخص کو بتلا دیا تھا ، اور اس سے گفتگو کرلی تھی اور کہہ دیا تھا کہ آپ ہمارے سرداروں میں سے ایک سردار ہیں اور ہمارے بزرگ ہیں ، ہم یہ نہیں چاہتے کہ کل آپ آگ کا ایندھن بنیں اس لیے جس حالت میں آپ ہیں اس حالت میں آپ کو چھوڑ دینا ہم کو پسند نہیں ، غرض ہم نے اس کو اسلام کی دعوت دی اور وہ مسلمان ہوگیا اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کے وعدہ ملاقات کی اس کو اطلاع دے دی اور عقبہ میں ہمارے ساتھ آگیا اور نقیب ہوگیا ۔ جس رات کا وعدہ تھا اس رات کی تہائی تک تو اپنی اپنی جگہوں پر گزارا جب ایک تہائی گزر گئی تو ہم اپنے آپ کو چھپتے چھپاتے قطار کی چال میں نکلے اور عقبہ کے پاس گھاٹی میں پہنچ کر جمع ہوئے ، اس وقت ہم ستر مرد اور دو عورتیں تھیں ، ایک بنی نجار کی ام عمارہ نسیبہ بنت کعب اور دوسری بنی سلمہ کی ام منیع اسماء بنت عمرو بن عدی گھاٹی کے اندر ہم رسول اللہ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے ، آخر رسول اللہ ﷺ حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ تشریف لے آئے، حضرت عباس ؓ نے فرمایا اے خزرج کی جماعت تم واقف ہو کہ محمد ﷺ ہم میں سے ہیں جو لوگ ہماری قوم میں ہمارے خیالات کے ہیں ان سے ہم نے ان کی حفاظت کی ہے، اپنی قوم میں باعزت اور اپنے شہر میں حفاظت سے ہیں لیکن یہ سب سے کٹ کر تم سے جڑنا چاہتے ہیں اور تم سے کٹنے پر راضی نہیں ہیں ، پس سوچ لو اگر اس بات کو تم پورا کرسکو جس کے لیے ان کو بلا رہے ہو اور مخالفوں سے ان کی حفاظت کرسکو تو تمہاری ذمہ داری تم پر ہے اور اگر تم پر یہ خیال کرتے ہو کہ جب یہ تمہارے پاس پہنچ جائیں گے تو تم ان کو بےیارومددگار اور بےسہارا چھوڑ دو گے تو ابھی سے ان کو چھوڑ دو ، یہ عزت و حفاظت کے ساتھ ہیں ، کعب کا بیان ہے ہم نے جواب دیا جو کچھ ہم سے آپ نے فرمایا ہم نے اس کو سن لیا لیکن اے رسول خدا ! ﷺ آپ خود کچھ فرمائیے اور اپنے لیے اور اپنے رب کے لیے ہم سے جو عہد لینا چاہیں لے لیجئے ، راوی فرماتے ہیں ، کہ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اور کلام اللہ کی تلاوت فرمائی ، اور اللہ کی طرف بلایا اور اسلام کی طرف راغب کیا پھر فرمایا میں تم سے ان شرطوں پر بیعت لیتا ہوں کہ تم جس طرح اپنے بال بچوں کی حفاظت کرو گے اسی طرح میری بھی حفاظت کرنا، یہ سن لو ، براء بن معرور نے دست مبارک پکڑ لیا اور عرض کیا ، قسم ہے اس کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم جس چیز سے اپنی اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں اس سے آپ کی حفاظت بھی کریں گے ، اے اللہ کے رسول ﷺ ہماری بیعت قبول فرمائیے ہم بھی جنگجو ہیں اور دوسرے لوگوں سے ہمارا معاہدہ ہے جو بزرگوں سے چلا آرہا ہے ۔ براء رسول اللہ ﷺ سے بات کر ہی رہے تھے کہ ابوالہیثم بن تیھان بیچ میں بول اٹھے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! ﷺ کچھ لوگوں سے ہمارے معاہدے ہیں اب انکو ختم کرنا پڑے گا کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ ہم سب معاہدے ختم کردیں اور اللہ آپ کو غلبہ عنایت فرما دے تو ہم آپ کو چھوڑ کر اپنی قوم کی طرف آجائیں ، یہ کلام سن کر آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا نہیں تمہارا خون میرا خون ہے تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ، جس سے تم لڑو گے میں بھی لڑوں گا جس سے تم صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم اپنی قوم سے بارہ نمائندے مقرر کرو جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی طرح اپنی اپنی قوم کے ذمہ دار ہوں ، حسب الحکم بارہ نمائندے چھانٹے گئے تو خزرجی اور تین اوسی ، عاصم بن عمرو ، بن قتادہ کا بیان ہے کہ جب بیعت کے لیے گئے لوگ جمع ہوگئے تو عباس بن عبادہ بن فضلہ انصاری نے کہا کہ اے گروہ خزرج کیا تم جانتے ہو کہ کس شرط پر تم اس شخص کی بیعت کر رہے ہو ہر سرخ اور کالے سے لڑنے کی بیعت کر رہے ہو اگر تمہارا خیال ہو کہ جب تمہارے مالوں پر کوئی مصیبت پڑے گی اور تمہارے سردار مارے جائیں گے تو تم اس کو بےیارومددگار چھوڑے جاؤ گے تو ابھی بعیت نہ کرو ورنہ اس وقت خدا کی قسم دنیا وآخرت کی رسوائی نصیب ہوگی اور اگر مالوں کی تباہی اور سرداروں کی ہلاکت کے باوجود تم اپنے اس وعدے کو پورا کرسکتے ہو جس پر تم اس شخص کو دعوت دے رہے ہو تو اس کو لے لو خدا کی قسم ! یہ دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے ،۔ انصار نے جواب دیا ہم مالوں کی تباہی اور سرداروں کے قتل ہوجانے کے بعد بھی ان کو نہیں چھوڑیں گے اور اسی شرط پر ان کو قبول کر رہے ہیں لیکن اے اللہ کے رسول ! ﷺ اگر ہم نے یہ شرط پوری کردی تو ہم کو اس کے عوض کیا ملے گا ؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا جنت، انصار نے عرض کیا تو دست مبارک پھیلائیے ، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک پھیلایا سب نے بیعت کرلی ، پہلے براء بن معرور نے ہاتھ میں ہاتھ دیا، پھر دوسرے لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی ۔ (بیعت کے بعد شیطان کا چیخنا) جب ہم بیعت کرچکے تو عقبہ کی چوٹی سے بلند آواز سے شیطان نے پکار کر کہا اے اہل حباحب کیا تم کو مذمم (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔۔۔۔۔ (نعوذ باللہ) اور صباۃ (بےدین) کے ساتھ مل کر تم جنگ کے لیے متفق ہوگئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ اللہ کا دشمن ہے عقبہ کا ” ازب “ ہے ۔ (ازب اس وقت شیطان کا نام تھا) آپ ﷺ نے فرمایا اے دشمن خدا سن لے خدا کی قسم ! میں تیرے مقابلے کے لیے بالکل فارغ ہوجاؤں گا ، پھر فرمایا اب تم اپنی اپنی جگہ چلے جاؤ ، عباس بن عبادہ بن نضلہ نے عرض کیا قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اگر آپ چاہیں تو ہم کل صبح ہی اہل منا پر تلواریں لے کر ٹوٹ پڑیں ، فرمایا مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا ، تم اپنی رہائش گاہ کی جگہ چلے جاؤ ، حسب الحکم ہم اپنی جگہ چلے گئے اور سو گئے، صبح ہوئی تو قریش کے بڑے بڑے لوگ ہمارے پڑاؤ پر آئے اور کہنے لگے اے گروہ خزرج ہم کو اطلاع ملی ہے کہ تم ہمارے اس ساتھی کے پاس آئے ہو اس کا کو ہمارے پاس سے نکال کرلے جانا چاہتے ہو اور ہمارے خلاف جنگ کرنے کے لیے اس سے بیعت کر رہے ہو خدا کی قسم ! عرب کے کسی قبیلے سے جنگ چھڑ جانا ہمارے نزدیک اتنی قابل نفرت نہیں جتنی تم سے ہے ، یہ سن کر ہمارے مشرک (خزرجی اور اوسی) کھڑے ہوگئے اور اللہ کی قسمیں کھا کر کہنے لگے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہمیں اس کا علم ہے ۔ حقیقت میں انہوں نے سچ کہا تھا ان کو بیعت کا علم ہی نہ تھا ان کی باتوں کے وقت ہم آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے، غرض سب لوگ اٹھ کر کھڑے ہوئے، ان میں سے ایک شخص حارث بن مغیرہ مخزومی نئی جوتیاں پہنے ہوئے تھا ، میں نے ابوجابر سے ایک بات کہی ، گویا میں مشرکین انصار کے کلام کی تائید کر رہاہوں اور بات یہ تھی کہ میں نے ان سے کہا ابوجابر تم ہمارے سرداروں میں سے ہو لیکن اتنی بھی تم میں استطاعت نہیں کہ اس قریشی جوان کی جوتیوں کی طرح جوتیاں ہی بنوالو، حارث نے یہ بات سنی تو فورا پاؤں سے جوتیاں نکال کر میری طرف پھینک دیں اور بولا خدا کی قسم ! اب تو انکو پہنے گا ، ابو جابر نے کہا ہائے تو نے جو ان کو غصہ دلا دیا ، جوتیاں واپس کر دے، میں نے کہا میں تو واپس نہیں کروں گا یہ شگون اچھا ہے ، اگر فال سچی ہوئی تو خدا کی قسم ! میں اس کے کپڑے اتار لوں گا ، غرض مضبوط معاہدہ کے بعد انصار مدینہ کو لوٹ گئے اور مدینہ میں اسلام کا ظہور ہوگیا ، قریش کو اس کی اطلاع ملی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو دکھ دینے لگے حضور اقدس ﷺ نے ساتھیوں سے فرمایا اللہ نے تمہارے کچھ بھائی بنا دیئے ہیں اور امن کی ایک جگہ بھی دیدی ہے تم ہجرت کر کے مدینہ چلے جاؤ اور اپنے انصاری بھائیوں میں مل کر رہو، اس حکم پر سب سے پہلے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے ابو سلمہ بن عبدالاسد مخزومی تھے ، پھر عامر بن ربیعہ نے پھر عبداللہ بن جحش نے پھر پے درپے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب جانے لگے ۔ اسی طرح اسلام کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مدینہ والے اوس اور خزرج کے قبیلوں کو متفق بنادیا اور رسول اللہ ﷺ کے ذریعے ان میں باہم صلح کرا دی ۔ (آیت)” واذکروا نعمۃ اللہ علیکم “۔ یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر کی اے انصار کی جماعت (آیت)” اذ کنتم اعدائ “۔ اسلام سے پہلے تم آپس میں باہم دشمن تھے ، (آیت)” فالف بین قلوبکم “ تمہارے دلوں میں اسلام کی وجہ سے محبت ڈال دی ، (آیت)” فاصبحتم “ بس تم ہوگئے ، (آیت)” بنعمتہ “ اس کی رحمت اور اس کے دین اسلام کی وجہ سے ” اخوانا “ بھائی بھائی ، اور آپس میں ہمدردی پیدا کردی ، ” وکنتم “ اور تھے تم یعنی اوس اور خزرج کے جماعتو ! (آیت)” علی شفا حفرۃ من النار “ آگ کے کنویں کے کنارے پر تھے قریب تھا کہ تم اس میں گرپڑتے ، سوائے کفر پر موت کے کوئی چیز اس میں گرنے سے مانع نہیں رہی تھی ، ” فانقذکم “ پس تمہیں بچالیا اللہ نے ” منھا “ اس آگ سے ایمان کی وجہ سے (آیت)” کذلک یبین اللہ لکم ایۃ لعلکم تھتدون “۔
Ayah 3:104

وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 3:104 in the Quran reader

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں

(تفسیر) 104۔: (آیت)” ولتکن منکم امۃ “ تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہیے ، ” من “ یہ صلہ ہے تبعیضیہ نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” فاجتنبوا الرجس من الاوثان “۔ یہاں بعض اوثان سے بچنا مراد نہیں بلکہ تمام اوثان سے اجتناب مراد ہے ، ” ولتکن “ من لام برائے امر کے لیے ہے (آیت)” یدعون الی الخیر “ خیر سے مراد اسلام ہے ۔ (آیت)” ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر واولئک ھم المفلحون “۔ طارق بن شہاب سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی بری بات دکھائی دے وہ اپنے ہاتھ سے اس کو بدل دے ، اگر ہاتھ سے نہ کرسکے تو زبان سے روک دے اور اگر زبان سے نہ روک سکے تو دل سے اس کو برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۔ عبدالرحمن اشھل حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم ضرور بالضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب بھیج دے گا پھر تم اس کے دور ہونے کی دعا کرو گے مگر تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی ، قیس بن ابی حازم سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو ! تم یہ آیت نہیں پڑھتے ہو ، (آیت)” یا ایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم “۔ حالانکہ میں نے حضور اقدس ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ اگر لوگ بدکاریاں دیکھ کر ان کو بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے تو ممکن ہے کہ اللہ ان سب پر اپنا عمومی عذاب بھیج دے ۔ امام شعبی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں سستی کرنے والا اور حدود میں پڑنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگوں نے قرعہ اندازی کے بعد کوئی کشتی کے بالائی حصے میں اور کچھ نچلے درجہ میں سوار ہوگئے ، نچلے درجہ والے پانی لے کر بالائی درجہ والوں کے پاس سے گزرتا ہے تو ان کو تکلیف پہنچتی ہے اس لیے نچلے درجہ والوں نے کشتی کے نچلے حصہ میں سوراخ کرنا شروع کیا ، بالائی درجہ والوں نے آکر کہا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو ، اس نے جواب دیا کہ آپ لوگوں کو میری وجہ سے تکلیف ہوئی ہے اور مجھے پانی کی ضرورت ہے ، اب اگر وہ لوگ اس کے ہاتھ پکڑ لیں گے تو اس کو بھی ڈوبنے سے بچا لیں گے اور خود بھی بچ جائیں گے اور اگر وہ سوراخ کرتے ہوئے چھوڑ دیں گے تو اس کو بھی ہلاک کریں گے اور خود بھی ہلاک ہوجائیں گے ۔
Ayah 3:105

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 3:105 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہوگئے اور احکام بین کے آنے کے بعد ایک دوسرے سے (خلاف و) اختلاف کرنے لگے یہ وہ لوگ ہیں جن کو (قیامت کے دن) بڑا عذاب ہوگا

(ولا تکونوا کالذین تفرقوا کی مراد میں مفسرین کے مختلف اقوال) (تفسیر) 105۔ـ: اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں کہ تم یہودیوں ونصرانیوں کی طرح نہ ہوجانا ، (کہ جس طرح وہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے اسی طرح تم ہوجاؤ) بعض نے کہا کہ اس سے مراد مبتدعین کی جماعت ہے ۔ ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ اس سے شام کے حروری مراد ہیں ، عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ حضرت ابوامامہ ؓ کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ میں بھی تھا جب ابوامامہ ؓ انکے سامنے کھڑے تھے اور ارشاد فرما رہے تھے کہ یہ جہنم کے کتے ہیں یہ پہلے مؤمن تھے اور اب یہ مرتد ہوگئے ہیں ، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت)” ولا تکونوا کالذین تفرقوا اختلفوا من بعد ما جاء ھم البینات “ سے لے کر ” اکفرتم بعد ایمانکم “ تک ۔ حضرت عمربن خطاب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ جنت کے درمیان میں ہو تو وہ جماعت کو لازم پکڑے ، اس لیے کہ شیطان اکیلے شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور دو شخصوں سے دور بھاگتا ہے (آیت)” واولئک لھم عذاب عظیم “۔
Ayah 3:106

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 3:106 in the Quran reader

جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے ؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو

(تبیض وجوہ وتسود وجوہ کی مختلف تفاسیر) 106۔ (آیت)” تبیض وجوہ وتسود وجوہ “۔ یوم منصوب ظرف ہونے کیوجہ سے، عبارت یوں ہوگی ، فی یوم “ مفعول بہ محذوف ہے۔ ” تبیض وجوہ المؤمنین وتسود وجوہ الکافرین “۔ مؤمنین کے چہرے سفید اور کافروں کے چہرے سیاہ ہوں گے ، بعض نے کہا کہ مؤمن مخلصین کے چہرے سفید اور منافقین کے چہرے سیاہ ہوں گے ، سعید بن جبیر ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس آیت کو یوں پڑھا ہے ” تبیض وجوہ اھل السنۃ وتسود وجوہ اھل البدعۃ “۔ اہل سنت کے چہرے سفید اور اہل بدعت کے چہرے سیاہ ہوں گے ۔ کلبی (رح) ابی صالح سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ہر قوم کے معبود کو اٹھایا جائے گا جس کی وہ عبادت کرتے تھے ، ہر قوم اپنے اپنے معبود کو دیکھ کر اس کی طرف بھاگیں گے ، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے (آیت)” نولہ ماتولی “۔ کہ ہم اس کو اسی راستے پر چلائیں گے جس پر وہ چلا ، جب وہ ان کے پاس پہنچ جائیں گے تو غمگین ہوجائیں گے ، اس غم کی وجہ سے ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے ، باقی اہل قبلہ یہود و نصاری رہ جائیں گے انکے پاس اٹھانے والا کوئی معبود نہیں ہوگا ، پھر یہ اللہ تعالیٰ کے پاس آئیں گے اور سجدہ کریں گے جو شخص دنیا میں اطاعت فرمانبرداری ، ایمان خالص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے تھے ، باقی اہل کتاب ، منافقین رہ جائیں گے جو سجدہ کی طاقت نہیں رکھ سکیں گے ، مؤمنین کو سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی جب وہ سر اٹھائیں گے تو ان کے چہرے اولوں کی طرح سفید ہوں گے اور جب منافقین اور اہل کتاب نے مؤمنین کے سفید چہروں کو دیکھا تو ان کو بہت شدید غم لاحق ہوا جس کی وجہ سے ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے ، وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہمارے چہرہ سیاہ ہوگئے ہم تو مشرکین میں سے نہیں ہیں ، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیں گے دیکھو ان کو کیسے اپنے اوپر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ اہل معانی نے لکھا ہے کہ چہروں کی سفیدی اور چمک ان کو خوشخبری اور ان کا سرور ان کے عمل کی وجہ سے ہے کہ اللہ ان کو قیامت کے دن ثواب عطا فرمائیں گے اور انکے چہروں کی سیاہی ان کے غم ، شکستہ دل ہونے کی وجہ سے اعمال کے برے ہونے اور اللہ کے عذاب کی وجہ سے ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان دلالت کرتا ہے (آیت)” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ ولایرھق وجوھم قتر ولا ذلۃ “۔ جنہوں نے بھلائی کی ان کے لیے ہے اور بھلائی و زیادتی اور نہیں آئے گی ان کے منہ پر سیاہی اور نہ رسوائی اور دوسری آیت والذین کسبوا السیئات جزاء سیئۃ بمثلھا وترھقھم ذلۃ “ اور جنہوں نے برے اعمال کیے تو ان کو برا بدلہ ملے گا اسی کے برابر اور رسوائی ان کو ڈھانپ لے گی اور فرمایا (آیت)” وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ ووجوہ یومئذ باسرۃ “ کتنے ہی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے اور کتنے ہی چہرے اس دن اداس ہوں گے اور فرمایا (آیت)” وجوہ یومئذ مسفرۃ ضاحکۃ مستبشرۃ ووجوۃ یومئذ علیھا غبرۃ “۔ کتنے چہرے اس دن روشن ہوں گے ہنستے اور خوشیاں کرتے ہوں گے اور کتنے ہی چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر گردوغبار پڑی ہوگی ، ان کے چہروں پر سیاہی چھائی ہوگی ، (آیت)” فاما الذین اسودت وجوھھم اکفرتم بعد ایمانکم “۔ ان کو کہا جائے گا کہ کیا ایمان لانے کے بعد تم نے کفر کیا ۔ (سوال و جواب) (آیت)” فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون “۔ سوال یہ کیسے فرمایا کہ تم ایمان لانے کے بعد کیوں کافر ہوگئے ؟ حالانکہ وہ تو ایمان لائے ہی نہیں ، اس کا جواب دیا کہ ابی بن کعب ؓ نے اس کی یوں حکایت کی کہ یہاں ایمان سے مراد عہد الست والا وعدہ ہے ، جب اللہ رب العزت نے پوچھا تھا (آیت)” الست بربکم “ ۔۔۔۔۔۔ قالوا بلی “۔ ابی کہتے ہیں کہ عبارت اس طرح ہوگی (آیت)” اکفرتم بعد ایمانکم یوم المیثاق “۔ اس عہد الست کے دن ایمان لانے کے بعد تم کافر ہوگئے ہو منکر ہوگئے ہو ، حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد منافقین ہیں کہ وہ زبان سے ایمان کا اقرار کرتے تھے اور دل سے انکار کرتے تھے ، عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ وہ اپنے اپنے انبیاء کرام (علیہم السلام) پر ایمان لاتے لیکن جب آپ ﷺ کی بعثت ہوئی تو آپ ﷺ کی نبوت کے منکر ہو کر کافر ہوگئے ، بعض حضرات کہتے ہیں کہ ان کو اہل ایمان اس وجہ سے کہا گیا کہ یہ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے تھے یعنی اہل قبلہ میں سے تھے ، ابو امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد خوارج ہیں ، حضرت قتادہ (رح) ، فرماتے ہیں کہ اس سے مراد اہل بدعت ہیں۔ اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں حوض پر ہوں گا اور دیکھتا رہوں گا کہ کون کون میرے پاس آتا ہے کچھ لوگ میرے سے پرے ہی پکڑ لیے جائیں گے میں کہوں گا اے رب ! یہ تو میرے ہیں ، میری امت میں سے ہیں کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا ، خدا کی قسم ! یہ برابر اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے رہے۔ حارث اعور فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ سے منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی کو اپنے اہل و عیال سے جدا کیا جاتا ہے وہ اپنے اہل و عیال کی طرف اس وقت تک نہیں لوٹتا جب تک کہ وہ ایسا عمل نہ کرے جو جنت کو واجب کرنے والا ہو اور کسی شخص کو اپنے اہل و عیال سے جدا کیا جاتا ہے وہ اپنے اہل کی طرف اس وقت تک نہیں لوٹتا جب تک کہ وہ ایسا عمل نہ کرلے جو جہنم کا موجب ہو ، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ، (آیت)” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “۔ پھر آواز دی کہ یہ وہ لوگ جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا اور کعبہ سے پھرگئے ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا ان فتنوں سے پہلے عمل کرلو جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح چھا جائیں گے ، صبح کو آدمی مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ، شام کو کافر ہوگا اور صبح کو مؤمن ، دین کو دنیا کے چند حقیر سامان کے عوض بیچ ڈالے گا ۔
Ayah 3:107

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:107 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے منہ سفید ہونگے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے

(تفسیر) 107۔ : (آیت)” وما الذین ابیضت وجوھم “۔ جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اہل طاعات والے ہیں ، (آیت)” ففی رحمۃ اللہ “ اللہ کی رحمت سے جنت مراد ہے ، (آیت)” ھم فیھا خالدون “۔
Ayah 3:108

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:108 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا اہل عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا

108۔ (آیت)” تلک ایات اللہ ۔۔۔۔۔۔ وما اللہ یرید ظلما للعلمین “۔
Ayah 3:109

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 3:109 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور سب کاموں کا رجوع (اور انجام) خدا ہی کی طرف ہے

(تفسیر) 109۔: (آیت)” وللہ ما فی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجع الامور “۔
Ayah 3:110

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:110 in the Quran reader

(مومنو ! ) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں

(شان نزول) 110۔ (آیت)” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔ عکرمہ اور مقاتل (رح) کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابی بن کعب ؓ حضرت معاذ بن جبل ؓ ، اور سالم مولی ابی حذیفہ ؓ ، کے متعلق نازل ہوئی ، واقعہ یہ ہوا کہ مالک بن صیف اور وہب بن یہود یہ دو یہودی تھے ، ان دونوں نے ان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے کہا کہ ہم تم سے افضل ہیں اور ہمارا دین افضل ہے جس کی تم تبلیغ کرتے ہو ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (کنتم خیر امۃ سے کون لوگ مراد ہیں ؟ ) سعید بن جبیر ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ (آیت)” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی ۔ جویبر (رح) ، نے ضحاک (رح) کے حوالے سے روایت نقل کی کہ اس سے محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جو حدیث کے نقل کرنے اور تبلیغ کرنے اور آنے والے مسلمانوں کو ان کی اتباع کرنے کا حکم دیا ، عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ (آیت)” کنتم خیر امۃ “۔ ہمارے اولین کے لیے ہے پچھلوں کے لیے نہیں ہے۔ عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ میری امت کا بہترین زمانہ جو میرے ساتھ ملاہوا ہے (صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعینکا زمانہ) پھر وہ زمانہ جو اس سے ملا ہوا ہے (تابعین کا زمانہ) پھر وہ زمانہ جو ان کے ساتھ ملا ہوا ہو (تبع تابعین کا زمانہ) عمران ؓ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے اپنے زمانے کے بعد دو قرن کا ذکر فرمایا یا تین کا ، پھر اس کے بعد ایسی قوم آئے گی جو خیانت کرنے والی ہوگی امانت دار نہیں ہوگی وہ گواہی دیں گے لیکن وہ گواہی معتبر نہیں ہوگی اور وہ قسمیں اٹھائیں گے لیکن ان کو پورا نہیں کریں گے ان میں موٹاپا ظاہر ہوجائے گا ۔ ابی سعید ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو گالی نہ دو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ جیسا سونا خرچ کردے تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ایک مد صدقہ کرنے کے برابر بلکہ اس سے آدھا خرچ کرنے کے برابر نہیں پہنچے گا اور بعض نے کہا کہ تم سب مؤمن مل کر خرچ کرو تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی اس مقدار کے ثواب تک نہیں پہنچ سکتے ، ” کنتم “ سے مراد ” انتم “ ہے یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” واذکروا اذکنتم قلیلا “۔ یاد کرو اس وقت کو جب تم بہت تھوڑے تھے اور دوسرے جگہ فرمایا (آیت)” واذکروا اذانتم قلیل “۔ اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تم اللہ کے ہاں لوح محفوظ میں بہتر امت ہو۔ بعض نے کہا کہ ” للناس “ صلہ ہے ” خیر امۃ “ کا عبارت یوں ہوگی ” انتم خیر امۃ للناس “ لوگوں میں سے تم بہترین امت ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اس کا معنی کرتے ہیں کہ لوگوں کے لیے سب لوگوں سے بہتر ہو کہ وہ زنجیروں میں بندھے ہوئے آتے ہیں تم ان کو اسلام میں داخل کرلیتے ہو ۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں ہم امت محمدیہ مراد ہیں کہ جن کو اس کے بعد کوئی نبی قتال کا حکم نہیں کرے گا اور وہ ان سے قتال کریں گے اور ان کو اپنے دین میں داخل کردیں گے وہ لوگوں میں بہترین امتی ہوں گے ۔ بعض نے کہا کہ ” للناس “ صلہ ہے ” اخرجت “ کا ، اس کا معنی یہ ہوگا اس امت محمدیہ سے بہتر کوئی امت اللہ نے نہیں نکالی ، بہز بن حکیم اپنے باپ وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (آیت)” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔ فرمایا کہ تم ستر امتوں کا تتمہ ہو اور تم سب سے بہتر ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والے ہو ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ وہ حضور اقدس ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ امت ستر امتوں کے آخر میں آئی جو اللہ کے نزدیک بہترین اور عزت والی ہے ، حضرت انس ؓ سے راویت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی مثال ایسی ہے جیسے بارش معلوم نہیں اس کا ابتدائی حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ ۔ حضرت سعید بن المسیب ؓ حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت کرتے ہیں وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں داخلہ تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) پر حرام قرار دیا گیا یہاں تک کہ میں اس میں داخل نہ ہوجاؤں اور تمام امتوں پر جنت کا داخلہ حرام قرار دیا گیا ہے جب تک کہ میری امت جنت میں نہ داخل ہوجائے عبداللہ بن بریدہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اہل جنتیوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اور اسی (80) میری امت کی ہوں گی ، پھر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا (آیت)” تامرون بالمعروف ۔۔۔۔۔ منھم المؤمنون واکثرھم الفاسقون “۔ فاسقون سے مراد کافر ہیں ۔
Ayah 3:111

لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 3:111 in the Quran reader

اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی

(تفسیر) 111۔: (آیت)” لن یضرورکم الا اذی “۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ جب سرداران یہود نے مسلمان اہل کتاب جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے ایمان والو ! یہ یہود آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے سوائے زبان سے اور سرکشی سے ، بعض نے کہا کہ ان کے سامنے وہ کلمہ کفر کہہ کر ان کو اذیت دیتے ۔ (آیت)” وان یقاتلوکم یولوکم الادبار “۔ وہ شکست کھا کر بھاگیں گے ”‘’(آیت)” ثم لا ینصرون “ پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی بلکہ تمہاری مدد کی جائے گی ۔
Ayah 3:112

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت کو دیکھو گے کہ ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آجائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لئے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اسکے) پیغمبروں کو ناحق قتل کردیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

(تفسیر) 112۔: (آیت)” ضربت علیھم الذلۃ اینما ثقفوا “۔ جہاں پر تم ان کو پاؤ ، (آیت)” الا بحبل من اللہ “ جہاں بھی تم ان کو پاؤ ان کو کمزور کرو اور قتل کرو یا ان کو قید کرلو یہ ایمان نہیں لائیں گے مگر اللہ کے عہد سے کہ وہ اسلام لے آئیں ، (آیت)” وحبل من الناس “ مسلمانوں کے عہد سے یا قبول جزیہ سے یا ان سے امان طلب کرنے سے یعنی وہ اس عہد سے ان کی جان ومال ، عزت وآبرو محفوظ وہ جائے گی ، (آیت)” وباء وا بغضب من اللہ “ یعنی مرنے کے بعد پھر لوٹ کر آئیں گے ، (آیت)” وضربت علیھم المسکنۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلک بما عصوا کانوا یعتدون “۔
Ayah 3:113

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہل کتاب میں کچھ لوگ (حکم خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے اور (اسکے آگے) سجدے کرتے ہیں

(شان نزول) (تفسیر) 113۔: (آیت)” لیسوا سواء من اھل الکتاب امۃ قائمۃ “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور مقاتل (رح) کا قول ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی اسلام لے آئے ، یہود کے سرداروں نے کہا کہ محمد پر ایمان لانے والے وہی لوگ ہیں جو ہم سے برے ہیں ، اگر اچھے ہوتے تو اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر دوسرے کی طرف نہ جاتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ (امۃ قائمۃ کا مصداق) اس کی وجوہ میں آئمہ مفسرین کا آپس میں اختلاف ہے، بعض حضرات نے کہا کہ یہاں اختصار ہے تقدیری عبارت یوں ہے ” لیسوا سواء من اھل الکتاب امۃ قائمۃ واخری غیر قائمۃ “۔ اہل کتاب میں سے تمام لوگ برابر نہیں ہوسکتے ، ان میں سے بعض ” امۃ قائمۃ “ ۔ کا مصداق ہیں اور دوسری غیر قائمہ کا مصداق ، یہاں دونوں گرہوں میں ایک کے ذکر پر اکتفاء کیا ، بعض نے کہا کہ (آیت)” لیسوا سوائ “ میں کلام تمام ہو رہا ہے کیونکہ آگے دونوں فریقوں کا ذکر اس آیت میں بیان کیا گیا ۔ (آیت)” منھم المؤمنون واکثرھم الفاسقون “ پھر فرمایا (آیت)” لیسوا سوائ “ یعنی مؤمنین اور فاسقین برابر نہیں ہوسکتے ، پھر آگے فاسقین کے وصف کو ذکر کر کے ارشاد فرمایا (آیت)” لن یضروکم الا اذی “ پھر آگے مؤمنین کا وصف ذکر کیا (آیت)” امۃ قائمۃ “۔ بعض نے کہا کہ من اہل الکتاب یہ کلام کا پہلا حصہ ہے پھر دونوں فریقین کا تذکرہ کیا کہ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے ، پھر فرمایا (آیت)” من اھل الکتاب “۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ یہود اور امت محمدیہ ﷺ (جو اللہ کے حکم سے صراط مستقیم پر قائم ہے) برابر نہیں ہوسکتے (آیت)” امۃ قائمۃ “۔ ؛ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ہدایت یافتہ اللہ کے حکم پر قائم رہنے والا نہ ہی اس کو ضائع کرنے والا اور نہ ہی اس کو چھوڑنے والا، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد امت عادلہ ہے ، امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ فرمانبردار اللہ کی کتاب اور ضوابط کا پابند رہنے والا ہو۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد نماز میں کھڑے رہنے والا بعض نے کہا اس سے مراد امت طریقت ہے ، اس آیت کا معنی ” ای ذو وا امۃ “۔ ذو طریقت کے معنی میں ہے ۔ (آیت)” یتلون آیات اللہ “۔ قرآن کریم کی آیات پڑھتے ہیں ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ تابعداری کرتے ہیں ، آناء اللیل “۔ رات کی چند گھڑیوں میں ” انائ “ کا واحد ” انی “ ہے جیسے ” نحی وانحاہ “ سے اسی طرح ” انی “ اور اناء ہے ، مثل ” معی وامعاہ “ اور ” انی ۔۔۔۔۔ منا “ اور ” امناء “ کی طرح ہے ۔ ” وھم یسجدون “ سجدہ سے مراد نماز پڑھنا ہے کیونکہ قرآن کی تلاوت سجدہ میں نہیں کی جاتی بلکہ نماز کے قیام میں کی جاتی ہے ، اس کے معنی میں مفسرین کے مختلف معانی ہیں ، بعض نے کہا کہ اس سے قیام اللیل مراد ہے ، ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے عشاء کی نماز مراد ہے کیونکہ اہل کتاب عشاء کی نماز نہیں پڑھتے تھے، عطاء (رح) فرماتے ہیں (آیت)” لیسوا سواء من اھل الکتاب امۃ قائمۃ “ اس آیت سے مراد نجران کے چالیس اور حبشہ کے بتیس (32) اور روم کے آٹھ آدمی تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مذہب کے پیروکار تھے ، انہوں نے بعثت سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی تھی اور آپ ﷺ کی ہجرت سے پہلے انصار کی ان سے دوستی تھی ، انصار میں سے اسعد بن زرارہ ، براء بن معرور ، محمد بن سلمہ ، ابو قیس بن صرمۃ بن انس یہ توحید پرست تھے ، جنابت کا غسل کرتے تھے اور شریعت حنفیہ (ابراہیمی مذہب) سے واقف تھے اور یہ راتوں کو قیام کرتے تھے ، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوگئے تو انہوں نے آپ ﷺ کی تصدیق کی اور ان کی مدد کی ۔
Ayah 3:114

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

(اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنے کو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتے اور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں

114۔ (آیت)” یؤمنون باللہ والیوم الاخر۔۔۔۔۔۔۔ واولئک من الصالحین “۔
Ayah 3:115

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

(تفسیر) 115۔: (آیت)” وما یفعلوا من خیر فلن یکفروہ “۔ حمزہ ، کسائی اور امام حفص (رح) ، کے نزدیک ” یفعلوا “ ہے، اس صورت میں یہ امۃ قائمۃ کی خبر دینا مقصود ہے اور دوسرے قراء نے ” تفعلوا “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے ، اس صورت میں ” کنتم خیر امۃ “ پر عطف ہوگا ، ابو عمرو نے دونوں قراتیں تلاوت فرمائیں ، اسی آیت کا معنی یہ ہے کہ جو نیکی تم کرو گے ہم اس کے ثواب کو گھٹائیں گے نہیں بلکہ تم اس پر شکر اختیار کرو اور اس پر تمہیں بدلہ دیا جائے گا (آیت)” واللہ علیم بالمتقین “۔ متقین سے مراد مؤمنین ہیں۔
Ayah 3:116

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے عذاب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے

116۔ (آیت)” ان الذین کفروا لن تغنی عنھم ۔۔۔۔۔ من اللہ شیئا “۔ ان کا مال فدیہ میں ان کو نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی اولاد ان کی مدد ونصرت کے لیے دی جائے گی کہ ان کے ذریعے سے اللہ کے عذاب سے بچاؤ کا سامان کرو ، ان دونوں کو خصوصی طور پر اس لیے ذکر کیا کیونکہ انسان اپنے آپ سے مصیبت کبھی مال دے کر دور کرتا ہے اور کبھی اولاد کی مدد سے اس کو دور کرتا ہے ، (آیت)” واولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون “۔ آگ کے ساتھی اس وجہ سے کہا یہ اسی کے اہل ہیں ، نہ یہ آگ سے نکل سکیں گے اور نہ ہی وہ اس سے جدا ہوں گے جیسے کہا جاتا ہے ، ” کصاحب الرجل یفارقہ “۔ فلاں کا ساتھی اس سے جدا ہوگیا۔
Ayah 3:117

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کردے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

(مثل ما ینفقون کی مختلف تعریفیں) 117۔ (آیت)” مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیوۃ الدنیا “۔ نفقات سے مراد ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں کا جنگ کا بدر اور احد میں نبی کریم ﷺ کی دشمنی میں مال کا خرچ کرنا ، ہے، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہود کا اپنے علماء پر خرچ کرنے والا مال مراد ہے ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ کفار کے تمام نفقات و صدقات کا دنیا کی غرض کے لیے خرچ کرنا ہے، بعض نے کہا کہ یہ دکھاوئے کا خرچ مراد ہے جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو۔ (آیت)” کمثل ریح فیھا صر “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ سخت گرم اور ہلاک کردینے والی لو کو کہتے ہیں بعض نے کہا ” صر “ کے معنی آواز کے ہیں ۔ اکثر مفسرین کا قول ہے کہ ایسی ہوا جس میں سخت سردی ہو، ” اصابت حرث قوم “ ، حرث کا معنی کھیتی ہے، (آیت)” ظلموا انفسھم “۔ اپنے نفسوں پر کفر اور نافرمانی کرکے ظلم کیا اور اللہ تعالیٰ کے حق سے روکا ، ” فاھلکتہ “ اس آیت کا معنی ہے کفار کے مال خرچ کرنے کی مثال ایسی ہے جس طرح سرد ہوا یا جلا ڈالنے والی لو ظالموں کو کھیتی کو تباہ و برباد کردیتا ہے ، اسی طرح کافروں کا مال خرچ کرنا تباہی اور بربادی کا مؤجب ہی ہے نہ دنیا میں اس کا کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ آخرت کے ذخیرہ ہوتا ہے ، (آیت)” وما ظلم اللہ “۔ اس وجہ سے اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا ، (آیت)” ولکن انفسھم یظلمون “۔ کفر اختیار کرکے اور نافرمانی کرکے اپنے نفسوں پر خود ظلم کیا ،
Ayah 3:118

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

مومنو ! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازدار نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی (اور فتنہ انگیزی کرنے میں) کسی طرح کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہو ہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنادی ہیں

(کافروں کے ساتھ میل جول رکھنے کا بیان اور آیات کا شان نزول) 118۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ کچھ مسلمانوں کا یہود کے ساتھ میل جول اور باہمی دوستی تھی کیونکہ دونوں ہمسائے خرچ کرنے میں معاون ، عہد وحلف میں ایک دوسرے کے مددگار اور رضاعت کے معاملے میں ایک دوسرے کے معاون تھے ، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس میل جول سے فتنہ کے اندیشے کے باعث مسلمانوں کو منع فرمایا ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان مؤمنین کے بارے میں نازل ہوئی جو منافقین کی طرف میل جول میں مائل تھے اللہ تعالیٰ نے انکو منع کردیا ۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا “۔ سے مراد اولیاء واصفیاء جو تمہاری ملت کے علاوہ تھے ” بطانۃ “ راز دار کو کہتے ہیں ، اس کپڑے کو بھی کہتے ہیں جو پیٹ سے ملا ہوا ہو چونکہ یہ خفیہ امور پر مطلع ہوتا ہے جس پر کوئی دوسرا مطلع نہیں ہوتا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی علت نہی بیان فرمائی کہ کافروں کی طرح ان کو راز دان مت بناؤ ، لا یالونکم خبالا “۔ یہ لوگ تمہارے اندر شر اور فساد پیداد کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے بلکہ شر اور فساد کرنے کے لیے پوری پوری کوشش کریں گے ، ” خبال “ شر اور فساد کو کہتے ہیں ” خبالا “ منصوب ہے مفعول بہ ثانی ہونے کی وجہ سے ، ” یالو “ یہ فعل متعدی ہے جو دو مفعولوں کا تقاضا کرتا ہے ، بعض نے کہا کہ یہ منصوب بنزع الخافض ہے، عبارت اس طرح ہوگی ’‘’ ای بالخبال “۔ (آیت)” وہ پسند کرتے ہیں جو تم پر مشقت ، تکلف میں پڑنا شر، ہلاکت کا ہونا آتا ہے ، ” قد بدت البغضاء “ اس سے مراد بغض ہے وہ اپنی دشمنی ظاہر کردیتے ہیں ، (آیت)” من افواھم “ اپنے منہ سے گالی دینے کی صورت میں یا ایسی باتیں کرنے کی صورت میں جو تمہیں تکلیف پہنچتی ہے، بعض نے کہا کہ مشرکین کا مسلمانوں کے عیوب پر مطلع ہونا (آیت)” وما تخفی صدورھم “ ۔ اور وہ بغض جو ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے ، آپ سے دشمنی اور غصے کی وجہ سے ” اکبر “ وہ ظاہری بغض سے بڑا ہے (آیت)” قد بینا لکم الایات ان کنتم تعقلون “۔
Ayah 3:119

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو ! ) غصے میں مرجاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

(تفسیر) 119۔: (آیت)” ھا انتم “۔ ھا تنبیہ انتم مذکر مخاطب سے کنایہ ہے ” اولاء “ اسم اشارہ ہے اس سے مراد مؤمنین کی جماعت ” تحبونھم “ تم ان یہود سے محبت کرتے ہو جن سے تمہیں روکا گیا تھا ، ان اسباب کی وجہ سے جو زمانہ جاہلیت میں (انکی آپس میں) قرابت ، رضاعت اور مصاہرت تھی (آیت)” ولا یحبونکم “۔ اور وہ تم سے محبت نہیں کرتے اختلاف دین کی وجہ سے ، مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد منافقین ہیں جو مسلمانوں سے باہم دوستی کا دعوی کرتے تھے ، ظاہرا ایمان لا کر اور مسلمانوں کو ان کے دلوں کا علم نہیں تھا ۔ (آیت)” وتؤمنون بالکتاب کلہ “۔ ان کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور وہ تمہاری کتاب پر ایمان نہیں رکھتے ۔ (آیت)” واذا لقوکم قالوا امنا واذا خلوا “ جب وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں (آیت)” عضوا علیکم الانامل من الغیظ “ انگلیوں کے پوروں کو کاٹتے ہیں ، انامل کی جمع ” انملہ “ آتی ہے میم کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ، وغصہ کی وجہ سے جب وہ مؤمنین کو جمع دیکھتے ہیں ، ” عض الانامل “ کنایہ سے شدت غضب سے یہ ضرب المثل ہے (آیت)” قل موتوا بغیظکم “۔ تم اپنے غصہ میں مرنے پر برقرار رہو،۔ (آیت)” ان اللہ علیم بذات الصدور “۔ تمہارے دلوں کو جانتا ہے کہ خیر ہے یا شر۔