3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 3:164

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے

164۔ (آیت)” لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم “۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ المؤمنین سے عرب کے تمام مؤمن مراد ہیں ، کیونکہ بنو تغلب کے علاوہ باقی ہر عربی قبیلہ کا قریش سے کچھ نہ کچھ نسبی تعلق ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم “۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد تمام مؤمنین ہیں ، اس صورت میں (آیت)” من انفسھم “ سے مراد ایمان اور شفقت کے ہیں نسب کے اعتبار سے معنی مراد نہیں ، اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” لقد جاء کم رسول من انفسکم “۔۔۔۔۔۔ یتلوا علیھم ایاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا “۔ یہ (آیت)” قد کانوا “ ۔ کے معنی میں ہے (آیت)” من قبل “ بعثت سے قبل مراد ہے ۔ (آیت)” لفی ضلال مبین “۔
Ayah 3:165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (احد کے دن کفار کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے تو تم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) خدا ہر چیز پر قادر ہے

165۔ (آیت)” اولما “ حین کے معنی میں ہے یعنی جب (آیت)” اصابتکم مصیبۃ “ اس سے جنگ احد مراد ہے ۔ قد اصبتم مثلیھا “ اس سے قبل تمہیں اس جیسی بدر میں پہنچ چکی ہے ، مشرکین نے احد کے دن مسلمانوں کے ستر مجاہدین شہید کئے جبکہ مسلمانوں نے بدر میں ستر کافروں کو مارا اور ستر کو قید کر کے لائے تھے ۔ (آیت)” قلتم انی ھذا “ کہ یہ تکلیف اور شکست اور مسلمانوں کا قتل ہونا کہاں سے آئی حالانکہ ہم تو مسلمان ہیں اور آپ ﷺ ہم میں موجود ہیں ۔ (آیت)” قل ھو من عند انفسکم “۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ کام ناپسند گزرا جو آپ کی قوم نے کیا کہ فدیہ لے کر قیدی چھوڑ دیئے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ ان کو دو باتوں میں سے ایک بات اختیار کرلینے کا حکم دیں یا تو وہ آگے بڑھ کر قیدیوں کی گردنیں کاٹ ڈالیں یا فدیہ لے کر چھوڑ دیں مگر اس صورت میں ان قیدیوں کی تعداد کے برابر مسلمانوں کو شہید ہونا لازمی ہوگا ، رسول اللہ ﷺ نے اس کا تذکرہ لوگوں کے سامنے کیا تو وہ کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ! (ي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ہمارے قبیلہ کے لوگ ہیں ، بھائی ہیں ، ہم ان سے فدیہ لے لیں گے اور اس مال سے دشمن کے مقابلہ کے لیے طاقت فراہم کرلیں گے ، ہم میں سے ان کی تعداد کے بقدر شہید ہوجائیں گے تو ہوجائیں ہمیں یہ بات منظور ہے چناچہ احد کے دن بدر کے قیدیوں کے تعداد کے برابر ستر مسلمان شہید ہوئے ، پس یہی معنی ہے اللہ کے اس فرمان کا (آیت)” قل ھو من عند انفسکم “۔ کہ تم نے فدیہ لے کر قتل کو اپنے لیے اختیار کرلیا ، (آیت)” ان اللہ علی کل شی قدیر “۔
Ayah 3:166

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے واقع ہوئی اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم کرلے

(تفسیر) 166۔: (آیت)” وما اصابکم یوم التقی الجمعان “۔ احد کے میدان میں مسلمانوں پر قتل ، زخموں اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ، ” فباذن اللہ “ اللہ کی قضاء اور قدرت سے ” ولیعلم المؤمنین “ تاکہ خالص مؤمن اور منافقین میں تمیز ہو سکے ، بعض نے کہا تاکہ دونوں گروہ دیکھے جائیں گے کون اچھا ہے اور کون اچھا نہیں ۔
Ayah 3:167

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور جب ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے راستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا اس سے خوب واقف ہے

167۔ (آیت)” ولیعلم الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔ فی سبیل اللہ “ اللہ کے دین کے سربلندی اور اس کی اطاعت کی وجہ سے لڑو۔ ” اودفعوا “ یعنی تم اپنے اہل و عیال اور بچوں کی طرف سے ہی دفاع کرلو ، امام سدی (رح) فرماتے ہیں چلو لڑو نہیں مسلمانوں کی جماعت مین شامل ہوجاؤ کہ ان کی تعداد بڑھ جائے اور تم اپنی جگہ جمے رہو ، فرار اختیار نہ کرو ، (آیت)” قالوا لو نعلم قتالا لاتبعناکم “۔ عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھی تھے جو احد کے دن تین سو کے قریب لے کر واپس چلا گیا تھا ، اس وقت انہوں نے کہا تھا ، ھم للکفر یومئذ اقرب “ اس دن انہوں نے ایسا فعل کیا جو کفر کے قریب ہے ۔ ” منھم للایمان “ ان میں سے بعض ایمان کے قریب تھے، (آیت)” یقولون بافواھھم “۔ وہ کلمہ ایمان صرف زبانی کہتے تھے دل سے نہیں کہتے (آیت)” مالیس فی قلوبھم واللہ اعلم بما یکتبون “۔
Ayah 3:168

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا

168۔ (آیت)” الذین قالوا لاخوانھم “۔ انہوں نے اپنے نسبی بھائیوں سے کہا نہ کہ دینی بھائیوں سے جو احد میں شہید کیے گئے تھے ’ وقعدوا “ یعنی ہماری طرح جنگ سے بیٹھے رہتے ، (آیت)” لو اطاعونا “ اور وہ آپ ﷺ کو چھوڑ کر چلے جاتے اور گھروں میں بیٹھے رہتے ، ” ماقتلوا قل “ اے محمد ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے ” فادرئؤا “ کہ اب تم اپنی جانوں سے موت کو دفع کرو (آیت)” عن انفسکم الموت ان کنتم صادقین “۔ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو تو کر کے دکھا دو حالانکہ تقدیر کو کوئی ٹال نہیں سکتا ۔
Ayah 3:169

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے

(شان نزول) 169۔ (آیت)” ولا تحسبن الذین ۔۔۔۔ امواتا “ یہ آیت شہداء بدریین کے بارے میں نازل ہوئی ، جن میں چودہ افراد ان میں آٹھ انصاری صحابی ؓ ۔۔۔۔۔ اور چھ مہاجرین صحابی ؓ تھے ۔۔۔۔ اور بعض نے کہا کہ یہ آیت شہداء احد کے متعلق نازل ہوئی اور وہ ستر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تھے ۔ (شہید زندہ ہوتا ہے) ان مہاجرین میں سے چار حمزہ بن عبدالمطلب ؓ ، مصعب بن عمیر ؓ ، عثمان بن شماس ؓ ، عبداللہ بن جحش ؓ اور تمام انصار ؓ تھے ، عبداللہ بن مرہ ؓ مسروق ؓ سے روایت کرتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے اس آیت کے متعلق پوچھا (آیت)” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون “۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان کی ارواح سبز پرندوں کی شکل میں ہوگی اور ایک روایت میں ہے کہ سبز پرندون کے پوٹوں میں ہے جو عرش کی قندیلوں کے ساتھ معلق ہیں وہاں سے جنت کی سیر کرتے ہیں جہاں چاہتے ہیں پھر واپس عرش کی قندیلوں میں واپس آجاتے ہیں ، اللہ انکو دیکھتا ہے اور فرماتا ہے کیا تم کچھ چاہتے ہو ایسا روزانہ تین مرتبہ ہوتا ہے، دوسری آیت میں آیا ہے کہ اللہ فرمانا ہے مجھ سے مانگو جو کچھ چاہو وہ جواب دیتے ہیں اے رب ! اے رب ! ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں کے اندر دوبارہ لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایک بار اور تیرے راستے میں جہاد کریں پھر جب اللہ رب العزت دیکھتا ہے کہ ان کی کوئی ضرورت نہیں تو ان کو اپنی حالت پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے ارشاد فرمایا س کہ احد کے دن جب تمہارے ساتھی مارے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے پوٹوں میں داخل کردیا ، وہ جنت کی نہروں میں اترتے ہیں جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت میں جہاں چاہتے ہیں سیر کرتے ہیں اور جنت کے پھلوں سے کھاتے ہیں اور واپس لوٹ کر سونے کی ان قندیلوں میں چلے جاتے ہیں جو عرش کے نیچے آویزاں ہیں ۔ جب انہوں نے اپنی عمدہ خواب گاہ کھانا پینا دیکھا اور اللہ نے ان کے لیے جو عزت فراہم کی ہے تو اس کا معائنہ کیا تو وہ کہتے ہیں کہ کاش ! ہماری اس موجودہ راحت اور حسن سلوک جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کیا اطلاع ہوجاتی تاکہ ان کو بھی جہاد کی ترغیب ہوتی اور وہ جہاد سے روگرداں نہ ہوتے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں تمہاری طرف سے ان کو اطلاع دے دوں گا اور تمہارے بھائیوں کو خبر پہنچا دوں گا ، شہداء یہ سن کر خوش اور ہشاش بشاش ہوجاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” ولا تحسبن الذین ’“ سے لے کر ” لایضیع اجر المؤمنین “۔ تک۔ طلحہ بن خراش ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ مجھ سے ملے اور ارشاد فرمایا اے جابر کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں ناشکستہ دیکھ رہا ہوں ، میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے والد شہید ہوگئے اور ان کے بچے رہ گئے اور ان پر قرض بھی ہے ، فرمایا کیا میں تجھے بشارت نہ دوں کہ اللہ تیرے باپ سے کس طرح ملا، میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمائیے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس سے کلام کیا پردہ کی اوٹ سے کیا مگر تمہارے باپ کو زندہ کرکے روپرو کلام کیا اور فرمایا میرے بندے اپنی آرزو مجھ پر بیان کر میں تجھے دوں گا ، تیرے باپ نے کہا میرے رب مجھے پھر زندہ کر دے کہ میں دوبارہ تیرے راستے میں قتل کر دیاجاؤں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرا فیصلہ ہوچکا کہ مرنے کے بعد پھر وہ نہیں لوٹیں گے ، راوی کا بیان ہے کہ پھر ان شہداء کے بارے میں نازل ہوئی ۔ (آیت)” لا تحسبن الذین قتلوا “۔ بیر معونہ کے شہداء صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا واقعہ) حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی بندہ مرتا ہے اور اس کو اللہ کے ہاں اچھا انعام ملے اور وہ دوبارہ دنیا کی طرف لوٹنے کی تمنا کرے مگر صرف شہید جو اتنے انعامات کے ہونے کے باوجود وہ دوبارہ شہادت کی تمنا کرے گا ، بعض حضرات نے کہا کہ ان آیات کا نزول بیئرمعونۃ کے شہداء کے بارے میں نازل ہوئی جس کا سبب وہ ہے جس کو محمد بن اسحاق (رح) ، نے انس بن مالک ؓ اور بعض اہل علم نے بیان کیا کہ ابو براء عامر بن مالک بن جعفر جن کا لقب ملاعب الاسنۃ تھا ، یہ بنو عامر بن صعصہ کا سردار تھا ، یہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو ہدیہ پیش کیا آپ ﷺ نے اس ہدیہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ارشاد فرمایا کہ میں مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا ، اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارا ہدیہ قبول کرلوں تو مسلمان ہوجاؤ پھر اس پر اسلام کو پیش کیا گیا اور اس کو وہ تمام انعامات بیان کیے جو مؤمنین کو حاصل ہوتے ہیں اور اس کے سامنے قرآن کی آیات تلاوت کی گئی لیکن پھر بھی وہ اسلام نہیں لایا اور وہ کہنے لگا محمد جس کی تم دعوت دیتے ہو وہ خوبصورت ہے پس اگر تم اپنے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں کو اہل نجد کے لیے بھیج وہ تو مجھے امید ہے کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرلیں گے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے اہل نجد کی طرف سے اپنے آدمیوں کے متعلق خطرہ ہے ، ابو البراء کہنے لگا میرا ان کے ساتھ تعلق ہے ۔ میں ان کی پناہ کا ذمہ لیتا ہوں ، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت منذر بن عمر ساعدی ؓ کو ستر منتخب انصاری صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا سردار بنا کر سب کو بھیج دیا ، ان ستر آدمیوں کو قاری کہا جاتا تھا (یعنی یہ سب قاری اور عالم قرآن تھے) انہیں میں حضرت ابوبکر ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت عامر بن فہیرہ ؓ بھی تھے یہ روانگی ماہ صفر 4 ہجری میں ہوئی ، غرض یہ لوگ چل دیئے اور بئیر معونہ پہنچ کر پڑاؤ کیا ، بیئر معونہ کی زمین بنی عامر کی زمین اور بنی سلیم کے پتھریلے علاقہ کے درمیان واقع تھی یہاں پہنچ کر ان لوگوں نے حضرت حرام ؓ بن ملحان کو رسول اللہ ﷺ کانامہ مبارک دے کر بنی عامر کے کچھ آدمیوں کے ساتھ عامر بن طفیل کے پاس بھیجا ، حضرت حرام ؓ نے پہنچ کر کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں ، تمہارے پاس آیا ہوں ، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول اللہ ﷺ ہیں ، لہذا تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آؤ ، حضرت حرام ؓ کی اس تبلیغ کے بعد ایک شخص نیزہ لے کر گھر کی جھونپڑی سے برآمد ہوا اور آتے ہی حضرت حرام ؓ کے پہلو پر برچھا مارا جو دوسرے پہلو سے نکل گیا ، حضرت حرام ؓ فورا بول اٹھے ، اللہ اکبر ، رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا ، اس کے بعد عامر بن طفیل نے بنی عامر کو ان صحابیوں کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے خلاف چیخ کر آواز دی ، بنی عامر نے اس کی بات قبول کرنے سے انکار کردیا اور بولے ابو براء ؓ کی ذمہ داری کو نہ توڑو، عامر بن طفیل ، نے بنی سلیم کے قبائل عصبہ ، رعل اور ذکوان کو پکارا انہوں نے آواز پر لبیک کہی اور نکل کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر چھا گئے اور فرودگاہ پر آکر سب کو گھیر لیا ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے مقابلہ کیا یہاں تک کہ سب شہید ہوگئے صرف کعب بن زید ؓ بچ گئے اور وہ بھی اس طرح کہ کافر ان کو مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے مگر ان میں کچھ سانس باقی تھی اس لیے زندہ رہے اور آخر خندق کی لڑائی میں مارے گئے ۔ عمرو بن امیہ ضمیر اور ایک انصاری جو عمرو بن عوف کے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے جب ان پر مصیبت پہنچی تو انہوں نے دیکھا کہ لشکر کے اوپر پرندے منڈلا رہے ہیں ، دونوں کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! یہ کسی واقعہ کی علامت ہے یہ دونوں سامنے آئے تاکہ دیکھ سکیں دیکھا کہ قوم خون میں لت پت ہے اور گھوڑے ان کے سروں پر کھڑے ہیں ، انصاری نے عمرو بن امیہ سے کہا کہ تم کیا دیکھتے ہو اور تمہاری کیا رائے ہے وہ کہنے لگا میں تو کہتا ہوں کہ ہم اس خبر کو آپ ﷺ تک پہنچائیں ، انصاری نے کہا کہ اللہ اکبر میں تو منذر بن عمرو جہاں قتل ہوئے ہیں میں بھی وہاں شہید ہونا چاہتا ہوں ، پھر قوم سے قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے اور عمرو بن امید کو قید کرکے لیے گئے لیکن عمرو نے بتایا کہ میں قبیلہ مضر سے ہوں تو عامر بن طفیل نے ان کو چھوڑ دیا ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اطلاع دی ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ حرکت ابو براء نے کی ہے اس نے یہ حرکت کی جو اس کے لیے خوف کا سبب بنی ، جب یہ خبر براء تک پہنچی تو اس کو یہ بات بہت شاق گزری اور اسی وجہ سے بھی کہ وہ آپ ﷺ کے قرب و جوار میں ہوتا تھا اور ان لوگوں میں سے جن کو مصیبت پہنچی ، ان میں سے عامر بن فہیرہ بھی تھے ۔ عامر بن طفیل کہتا تھا ان میں وہ شخص کون تھا کہ جب وہ مارا گیا تو اس کو آسمان و زمین کے درمیان اٹھا لیا گیا یہاں تک کہ آسمان مجھے اس سے نیچا نظر آنے لگا لوگوں نے کہا وہ عامر بن فہیرہ ؓ تھے ۔ اس واقعہ کے بعد ابو براء کے بیٹے ربیعہ نے عامر بن طفیل پر حملہ کردیا ، عامر گھوڑے پر سوار تھا ، ربیعہ نے ان کے نیزہ مارا اور قتل کردیا صحین میں بوساطت قتادہ ، حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رعل اور ذکوان اور عصیہ اور بنی لحیان کے قبائل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ظاہر کیا کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور دشمنوں کے خلاف رسول اللہ ﷺ سے (فوجی) مدد مانگی ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے ان کے ساتھ ستر انصاری جن کو ہم قاری کہتے تھے بطور مدد کردیئے ، یہ حضرات دن میں لکڑیاں جمع کرتے (اور فروخت کرکے گزارا کرتے) اور رات کو نمازیں پڑھتے تھے ، جب یہ لوگ بیئر معونہ پر پہنچے تو کافروں نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور (سب کو) شہید کردیا ، رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے ایک ماہ تک صبح کی نماز میں دعائے قنوت پڑھی جس میں کچھ قبائل عرب یعنی رعل ، ذکوان ، عصیہ اور بنی لحیان کے لیے بددعا کی ، امام احمد ، بخاری ، مسلم ، اور بیہقی نے حضرت انس ؓ کی روایت اور بیہقی (رح) نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے اور بخاری نے عروہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، ہمارے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیج دیجئے جو ہم کو قرآن اور سنت کی تعلیم دیں ، حضور اقدس ﷺ نے ان کے ساتھ ستر انصاری جن کو قاری کہا جاتا تھا بھیج دیئے ، مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی یہ درخواست کرنے والے ان قاریوں کے درپے ہوگئے اور سب کو شہید کردیا، شہداء نے کہا اے اللہ ! ہمارے نبی کو یہ خبر پہنچا دے ، دوسری روایت میں آیا ہے کہ ہمارے بھائیوں کو یہ خبر پہنچا دے کہ ہم نے (اے اللہ) تجھے پالیا ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہے ، اللہ نے وحی بھیجی کہ میں شہداء کی طرف سے (اے مسلمانو ! ) تم کو یہ پیام پہنچاتا ہوں کہ اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے راضی ۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا پہلے ہم (قرآن میں) ان شہدا کے بارہ میں پڑھتے تھے ، ” بلغو عنا قومنا انا قد لفینا ربنا فرضی عنا وارھانا “۔ لیکن پھر یہ جملے منسوخ کردیئے گئے (اور قرآن سے خارج کردیئے گئے) اس واقعہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک صبح کی نماز میں قبائل رعل ، ذکوان ، عصیہ اور بنی لحیان کے لیے بددعا کی، ان قبائل نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تھی ۔ حضرت انس ؓ کا قول ہے کہ ہم اس کو ایک زمانے تک پڑھتے رہے ہیں پھر اس کو اٹھا لیا گیا اور اللہ نے نازل فرمایا (آیت)” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “۔ بعض نے کہا کہ یہ لفظ شہداء کے اولیاء کا ہے کہ جب ان کو دنیا میں کچھ فراوانی حاصل ہوئی تو وہ ان شہداء پر افسوس کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تو نعمت میں ہیں ، ہمارے آباء ہماری اولاد اور ہمارے بھائی قبروں میں ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں تاکہ ان شہداء کی حالت ان پر واضح ہوجائے (آیت)” ولا تحسبن “۔ نہ گمان کرو (آیت)” الذین قتلوا فی سبیل اللہ “ ابن عامر نیے ” قتلوا “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ، دوسرے قراء نے بغیر تشدید کے پڑھا ہے ۔ (آیت)” بل احیاء عند ربھم “۔ ہمارے دین (مذہب) میں زندہ ہیں ، بعض نے کہا لوگوں کی یاد میں زندہ ہیں ، کہ قیامت تک انکا تذکرہ ہوتا رہے گا ، بعض نے کہا کہ ان کو رزق بھی دیا جاتا ہے وہ کھاتے بھی ہیں اور ان چیزوں سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں زندوں کی طرح ۔ بعض نے کہا کہ زندہ ہیں اس لیے ہر روز کہ انکی ارواح رکوع اور سجدہ کرتی ہیں ، عرش کے نیچے قیامت کے دن تک ، بعض نے کہا کہ شہید قبر میں بوسیدہ نہیں ہوگا اس لیے احیاء کہا اور زمین اس کو نہیں کھائے گی ، عبیدہ بن عمیر فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ جب احد کے شہداء کے پاس سے گزر رہے تھے جب مصعب بن عمیر ؓ کے پاس پہنچے تو ان کے لیے دعا فرمائی پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت)” من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ “۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ قیامت کے دن یہ سب اللہ کے نزدیک شہید ہوں گے سنو ان کے پاس آیا کرو ان کی زیارت کیا کرو ، ان کو سلام کہا کرو ، قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت تک جو کوئی ان کو سلام کرے گا وہ ضرور اس کے سلام کا جواب دیں گے ، ” یرزقون “ جنت کے پھلوں میں سے ان کو ہدیہ ہیں ۔
Ayah 3:170

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں اور جو لوگ ان سے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہو کر) ان میں شامل نہیں ہو سکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

(تفسیر) 170۔: فضل سے مراد رزق اور اس کا ثواب ہے ” ویستبشرون “ اور وہ اس میں خوش ہوتے ہیں ، (آیت)” بالذین لم یلحقوا بھم من خلفھم لم “ اس سے مراد وہ بھائی جن کو وہ دنیا میں زندہ چھوڑ کر آئے ایمان کی حالت میں اور جہاد کی حالت میں ان کو یہ معلوم ہے کہ جب ہمیں بھی شہادت سے نوازا جائے گا اور ہم ان سے ملیں گے اور وہ انعامات ہمیں بھی ملیں گے جوان کو ملے ، اس وجہ سے ان کو خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ (آیت)” ان لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔
Ayah 3:171

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہو رہے ہیں اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

(تفسیر) 171۔: (آیت)” یستبشرون بنعمۃ من اللہ وفضل وان اللہ “ یہ ” بان اللہ کی طرح ہے ، امام کسائی (رح) نے الف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے جملہ مستانفہ ہوگا ۔ (آیت)” لا یضیع اجر المؤمنین “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اور کلمہ کی تصدیق کرتا ہے تو جب تک وہ واپس گھر نہیں لوٹتا اس وقت تک اللہ تعالیٰ اس کے گھر والوں کی ذمہ داری خود اپنے ذمہ لے لیتا ہے یا تو واپس لوٹتا ہے ثواب اور مال غنیمت لے کر لوٹتا ہے اگر شہید ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجاتا ہے ، قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوگا اور اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخم کھاتا ہے جب وہ قیامت کے دن آئیگا تو اس کے زخم سے خون نکل رہا ہوگا جس کا رنگ تو خون کا ہوگا اور خوشبو مشک جیسی ہوگی ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شہید کو بوقت شہادت اتنی تکلیف ہوتی ہے جتنی تکلیف چیونٹی کے کاٹنے کے باعث ہوتی ہے ۔
Ayah 3:172

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا و رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے

172۔ (آیت)” الذین استجابوا للہ والرسول “۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب ابوسفیان اپنے لشکر کو لے کر احد سے واپس روحاء مقام پر پہنچا وہاں پہنچ کر اس کو بہت ندامت ہوئی اور اپنے آپ کو ملامت کرنے اور کہنے لگا ، محمد ﷺ کو تو ہم نے نہیں مارا اور نہ ان کو واپس لوٹایا کہ ہم ان کے ساتھ خوب قتال کریں ، یہاں تک کہ کچھ لوگ بچ جائیں ، لوٹو اور ان کو جڑ سے اکھاڑ دو ، یہ خبر آپ ﷺ تک پہنچی ، اس پر آپ ﷺ نے دل میں ہی دعا کی دشمن مرعوب ہوجائے اور ہمارے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے دلوں میں تسلی آجائے ، چناچہ ابو سفیان کے لشکر کے لوگ واپس احد کے میدان میں آنے سے کترانے لگے ۔ آپ ﷺ کیساتھ ایک جماعت جو آپ ﷺ کے حکم پر تیار رہتے تھے حالانکہ ان کو زخموں اور غموں نے چور کیا ہوتا ہے ، آواز دینے والے نے آواز دی کہ سنو آج کے دن ہمارے ساتھ وہی نکلے گا جو کل ہمارے ساتھ نکلے تھے ، جابر بن عبداللہ ؓ کہنے لگے کہ آپ کے منادی نے آواز لگائی ہے کہ صرف وہی لوگ آج میرے ساتھ نکل کر چلیں ، جو کل جنگ میں شریک تھے ، میرا قصہ یہ ہے کہ مجھے جن میں شریک ہونے کا بہت شوق تھا لیکن میرے والد نے مجھے اپنی جگہ میری سات یا نو بہنوں کا نگران مقرر کیا تھا اور کہا تھا کہ ان عورتوں کو بغیر کسی مرد کے سرپرستی کے چھوڑ جانا نہ تیرے لیے مناسب ہے نہ میرے لیے اور میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد پر جانے کے لیے تجھے اپنے اوپر ترجیح نہیں دے سکتا ۔ شاید اللہ مجھے شہادت نصیب فرما دے ، اس مجبوری کی وجہ سے میں لڑکیوں کا نگران ہوکر شرکت جہاد سے رہ گیا تھا ، اس واقعہ کے سننے کے بعد آپ ﷺ نے جابر ؓ کو اجازت دے دی ، آپ ﷺ دشمن کے اوپر رعب ڈالنے کے لیے نکلے تاکہ ان کو یہ خبر پہنچ جائے کہ آپ ﷺ ان کے تعاقب میں نکلے ہیں ، اور مسلمان قوت والے ہیں اور گزشتہ دن کی شکست دشمن کے مقابلے میں ان کو کمزور نہیں بنا سکتی ، چناچہ رسول اللہ ﷺ ستر آدمیوں کو ساتھ لے کر مدینہ سے نکلے ان میں حضرت ابوبکر ؓ ، عمر ؓ ، عثمان ؓ تعالیٰ عنہ ، علی ؓ ، طلحہ ؓ ، زبیر ؓ ، سعد ؓ ، سعید ؓ ، عبدالرحمن بن عوف ؓ ، عبداللہ بن مسعود ؓ ، حذیفہ بن یمان ؓ ، ابوعبیدہ بن جراح ؓ (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) ستر اصحاب کو لے کر حمراء الاسد مقام پر پہنچے ، یہ مدینہ منورہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے ۔ (غزوہ بدر صغری کا بیان) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں ، عبداللہ بن زبیر سے اے میری بہن کے بیٹے ! اللہ کی قسم آپ کے باپ ودادا یعنی ابوبکر ؓ ، زیبر ؓ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا (آیت)” والذین استجابوا ولرسول من بعدما اصابھم القرح “۔ آپ ﷺ معبد الخزاعی کے پاس سے گزرے ، خزاعی اس وقت مسلمان تھا اور بنو خزاعۃ کے مسلمان اور کافر سب تہامہ میں رسول اللہ ﷺ سے میل جول رکھتے تھے ، آپ ﷺ سے ان کا معاہدہ تھا ، وہ تہامہ کی کوئی بات آپ ﷺ سے پوشیدہ نہیں رکھتے تھے معبد خزاعی نے کہا جب وہ مشرک تھا اس نے کہا اے محمد ﷺ جو مصیبت آپ پر اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر پڑی اس سے بڑا دکھ ہوا۔ ہماری خواہش تھی کہ اللہ آپ کے ساتھ عافیت والا معاملہ ہی کرے ، اس کے بعد یہاں سے نکل کر معبد ابو سفیان کے پاس روحاء میں پہنچا مشرکوں نے لوٹ کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنا چاہا اور انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے سرداروں کو ہم ختم کرچکے ہیں ، اب لوٹ کر باقی لوگوں پر حملہ کر کے ان کی طرف بالکل بےخوف ہو کر رہ جائیں گے ، ابو سفیان نے جب معبد کو دیکھا تو پوچھا ادھر کیا خبر ہے ؟ معبد نے کہا محمد ﷺ اور ان کے ساتھی اتنی بڑی فوج لے کر تمہاری تلاش میں نکلے ہیں کہ اتنی فوج میں نے کبھی نہیں دیکھی ، وہ تمہارے لیے دانت تیز کر رہے تھے جو لوگ اس روز جنگ میں شریک نہیں ہو سکے تھے وہ بھی ان کے ساتھ اکٹھے ہوگئے ہیں اور اپنی گزشتہ غلطی پر پشیمان ہیں، ان کے اندر تمہارے لیے بہت غصہ ہے کہ میں نے کبھی ایسا غصہ ان میں نہیں دیکھا ، ابو سفیان نے کہا تیرا برا ہو تو کہا کہہ رہا ہے وہ کہنے لگا واللہ میرے خیال میں تم کوچ کرنے بھی نہ پاؤ گے کہ گھوڑوں کی پیشانیاں تم کو نظر آجائیں گی ، ابو سفیان نے کہا خدا کی قسم ہم تو یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ لوٹ کر ان پر حملہ کریں تاکہ ان کے باقی لوگ بھی ختم ہوجائیں ، معبد نے کہا میں تم کو اس حرکت سے روکتا ہوں ، معبد کے اس قول نے ابوسفیان کا رخ موڑ دیا اور معبد کہنے لگا کہ اللہ کی قسم ان میں ایک سوار کو دیکھا جو یہ اشعار پڑھ رہا تھا ۔ کادت تھد من الاصوات راحتی اذسالت الارض بالجراد الابابیل : یہ شعر پڑھے اور ابوسفیان واپس لوٹ گیا اور اس کے ساتھی بھی لوٹ گئے ، ان کے پاس سے عبد القیس کا قافلہ گزرا اور کہا کہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ وہ کہنے لگا کہ مدینہ کا ارادہ ہے ، انہوں نے یہ کہا کہ شکست کھا کر بھاگے ہوئے ہیں ، ابو سفیان کہنے لگا کہ میری طرف سے محمد ﷺ کو ایک پیغام پہنچادوگے تو میں تمہارے لیے عکاظ بازار میں کشمش کے اونٹ لادوں گا ، سواروں نے کہا جی ہاں ابوسفیان کہنے لگا کہ جب تم وہاں پہنچو تو ان کو خبر دے دینا کہ ہم نے تمہارے خلاف لشکر جمع کیا ہے تاکہ تمہارے مابقیہ کا بھی خاتمہ کرلیں یہ کہہ کر ابو سفیان مکہ کو طرف روانہ ہوگیا ، یہ قافلہ جب حمراء الاسد کے قریب سے گزرا تو اس نے آپ ﷺ کو بتلا دیا جو پیغام ابو سفیان نے دیا تھا ، آپ ﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا (آیت)” حسبنا اللہ ونعم الوکیل “ پھر آپ ﷺ تین دن کے بعد مدینہ منورہ لوٹ گئے ، یہی اکثر مفسرین کا قول ہے مجاہد (رح) ، اور عکرمہ ؓ کا قول ہے کہ یہ آیت بدر صغری کے متعلق نازل ہوئی جس کی تفصیل یہ ہے کہ احد کی واپسی کے وقت ابو سفیان نے کہا محمد ﷺ اگر تم کو منظور ہو تو آئندہ سال بدر صغری پر ہمارا اور تمہارا مقابلہ ہوگا ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان شاء اللہ ہمارے تمہارے درمیان یہی ہوگا ، آنے والے سال ابو سفیان مکہ سے قریش کو لے کر نکلا اور مجنہ مقام پر پڑاؤ کیا ، یہاں پہنچ کر اللہ نے اس کے دل میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا اور واپس ہوجانے کا خیال پیدا ہوگیا نعیم بن مسعود اشجعی عمرہ کرنے کے لیے آیا ہوا تھا ، ابوسفیان سے اس کی ملاقات ہوئی ، ابو سفیان نے اس سے کہا کہ نعیم میں نے محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کو جنگ کرنے کا چیلنج تو کردیا کہ آئندہ تمہارا اور ہمارا مقابلہ بدر صغری کے میلہ میں ہوگا مگر یہ خشکی کا سال ہے اور ہمارے لیے جنگ اسی سال مناسب ہے جب ہم جانوروں کو سبزہ چرائیں اور خود دودھ پئیں ، اب میری رائے یہ ہے کہ بدر صغری کو نہ جاؤں لیکن یہ امر بھی مناسب نہیں کہ میں وہاں نہ جاؤں اور محمد ﷺ وہاں پہنچ جائیں ۔ اس سے مسلمانوں میں اور جرات بڑھ جائے گی ، میری طرف سے چیلنج کی خلاف ورزی سے یہ بہتر ہے کہ محمد ﷺ کی طرف سے خلاف ورزی ہو لہذا تم مدینہ پہنچ کر مسلمانوں کو روک دو اور ان سے جا کر یہ کہو کہ ابوسفیان کے پاس بہت بڑا لشکر ہے تم اس کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے ، اگر تم اس خدمت کو سرانجام دو گے تو میں تم کو دس اونٹ دوں گا جو سہیل بن عمرو کے پاس بطور ضمانت جمع کر دوں گا ، چناچہ سہیل اونٹوں کا ضامن ہے اور نعیم مدینہ پہنچ گیا وہاں لوگ ابوسفیان کے چیلنج کی تیاری کر رہے تھے ، نعیم نے پوچھا تم لوگوں کا کہاں کا ارادہ ہے لوگوں نے جواب دیا بدر صغری کے میلے پر ہم نے ابوسفیان کے ساتھ لڑنے کا معاہدہ کیا ہے نعیم نے کہا کہ تمہاری رائے بری ہے وہ تمہارے گھروں میں اور تمہارے مستقر پر آئے تھے ، تم میں سے سوائے بھاگنے کے اور کوئی نہ بچ سکا ، اب خود نکل جانا چاہتے ہو وہ بھی تمہارے مقابلے کے لیے بدر صغری کے موقع پر جمع ہوگئے اور خدا کی قسم تم میں سے کوئی نہیں بچے گا ، یہ باتین سنکر بعض کمزور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نکلنے کے لیے مناسب نہیں سمجھ رہے تھے (اس وجہ سے منافقوں اور یہودیوں کو بڑی خوشی ہوئی اور کہنے لگے محمد ﷺ اس گروہ سے نہیں بچ سکیں گے) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ میں ضرور بضرور نکلوں گا، اگرچہ اکیلے ہی نکلنا پڑے ، بزدل لوگ یہ بات سن کر واپس چلے گئے اور جو بہادر تھے وہ بھی لڑنے کے لیے تیار ہوگئے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا (آیت)” حسبنا اللہ ونعم الوکیل “۔ آپ ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو لے کر بدر صغری کی طرف روانہ ہوئے وہاں مشرکین مسلمانوں سے ملاقات کرتے اور مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے کہتے تھے کہ قریش نے تمہارے مقابلے میں بہت بڑا لشکر تیار کیا ہوا ہے اس پر مسلمان انکو جواب کہتے (آیت)” حسبنا اللہ ونعم الوکیل “۔ یہ لشکر بدر کے مقام پر پہنچ گئے جہاں پر جاہلیت کے زمانے میں بازار لگا کرتا تھا ، ہر سال اس میں آٹھ دن بازار لگتا تھا آپ ﷺ نے بدر کے میدان میں اٹھ دن تک اس کا انتظار کیا لیکن ابوسفیان مجنہ سے واپس مکہ لوٹ گیا ، آپ ﷺ اور مشرکین کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی ، انہوں نے بدر صغری کے بازار میں تجارت کر کے نفع کیا اور ایک درہم کے بدلے دو درہم حاصل کیے اور مدینہ کو صحیح سالم نفع کما کر لوٹے ، یہی مطلب ہے (آیت)” الذین استجابوا اللہ والرسول “۔ یعنی انہوں نے اس جنگ کو قبول کیا اور وہاں حاضر ہوئے ، ” الذین منصوب ہے مؤمنین “ کی صفت ہونے کی وجہ سے تقدیری عبارت یوں ہوں گی ” ان اللہ لایضیع اجر المؤمنین المستجیبین الذین استجابوا للہ والرسول “ اللہ مؤمنین مستجیبین کے اجر کو ضائع نہیں کرتے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کی ۔ (آیت)” من بعد ما اصابھم القرح “۔ پہنچی ہے ان کو زخم ، کلام یہاں پر مکمل ہورہا ہے اور آگے ارشاد فرماتے ہیں (آیت)” للذین احسنوا منھم “۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور جنت کے لیے لیبک کہنے کی وجہ سے ” واتقوا “ اور وہ بچے گناہوں سے (آیت)” اجر عظیم “۔
Ayah 3:173

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

(جب) ان سے لوگوں نے آ کر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے (لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے

(تفسیر) 173۔ : (آیت)” الذین قال لھم الناس “ الذین منصوب ہے یا تو (آیت)” الذین استجابوا “ سے بدل ہوگا ، یا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے فعل محذوف امدح ہوگا (آیت)” الناس “۔ سے مراد نعیم بن مسعود ؓ ہے اور یہی قول مجاہد (رح) اور عکرمہ (رح) کا ہے ، عام سے خاص کو مراد لیا گیا ، جیسا کہ اس آیت میں (آیت)” ام یحسدون الناس “۔ اس سے اکیلے محمد ﷺ مراد ہیں ،۔ محمد بن اسحاق اور ایک جماعت کے نزدیک الناس سے مراد عبدالقیس کے شاہ سوار ہیں ، (آیت)” ان الناس قد جمعوا “۔ یہاں الناس سے مراد ابوسفیان اور اس کے ساتھی ہیں ۔ ” فاخشوھم “ پس تم ان سے ڈرو اور ان سے بچو کیونکہ ان کے مقابلے میں تمہاری کوئی طاقت نہیں (آیت)” فزادوھم ایمانا “۔ ان کی تصدیق اور ایمان میں مزید اضافہ فرما دیا (آیت)” وقالوا حسبنا اللہ “ اللہ ہمیں کافی ہے (آیت)” ونعم الوکیل “ سارے امور تمہاری طرف ہی ہیں ، فعیل بمعنی مفعول کے ہے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا (آیت)” حسبنا اللہ ونعم الوکیل “۔ اس جملہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت کہا تھا جب آپ کو آگ میں ڈالا گیا تھا اور حضرت محمد ﷺ نے بھی یہی ارشاد فرمایا جب ان کو لوگوں نے کہا (آیت)” لکم فاخشوھم فزادھم ایمانا وقالوا حسبنا اللہ ونعم الوکیل “۔
Ayah 3:174

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

174۔ (آیت)” فانقلبوا “۔ پس وہ لوٹ آئے ۔ (آیت)” بنعمۃ من اللہ “ اپنی عافیت کے ساتھ جس کو دشمن کی طرف سے کوئی خوف نہ پہنچا ہو ۔ ” وفضل “ تجارت اور نفع کے ساتھ جو انہوں نے بازار سے حاصل کیا تھا (آیت)” لم یمسسھم سوئ “۔ نہ ان کو کوئی مصیبت پہنچی اور نہ ہی تکلیف پہنچی ۔ (آیت)” واتبعوا رضوان اللہ “۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ یہ جہاد ہوگا اس پر اللہ نے انکو جہاد کا ثواب عطا فرمایا اور ان سے راضی ہوا (آیت)” واللہ ذوفضل عظیم “۔
Ayah 3:175

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا

(تفسیر) 175۔: (آیت)” انما ذلکم الشیطان “۔ یعنی یہ جو انہوں نے کہا (آیت)” ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوھم “۔ یہ مذکورہ قول شیطان کا فعل ہے ، شیطان نے ان کی زبانوں سے یہ بات کہلوائی ہے تاکہ وہ تم کو خوفزدہ بنادیں اور تم پست ہمت ہوجاؤ ۔ (آیت)” یخوف اولیائ “۔ وہ تمہیں ان کے اولیاء (سرداروں) سے ڈراتا ہے اسی طرح ابی بن کعب ؓ کی قرات میں ہے پھر اس کا معنی ہے کہ مؤمنین کو ڈراتے ہیں کافروں سے ، سدی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ تمہارے دلوں میں اپنے دوستوں کو بڑا کرکے ظاہر کرتا ہے تاکہ تم ان سے ڈر جاؤ ، یہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرات ہے (آیت)” یخوفکم اولیاء ہ “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فلاتخافوھم وخافون “۔ میرے حکم کے ترک سے (آیت)” ان کنتم مؤمنین “۔ میرے وعدے کی تصدیق کرنے والے کیونکہ میں نے تمہارے لیے مدد اور نصرت کا کفیل وضامن ہوں ۔
Ayah 3:176

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

176۔ (آیت)” ولا یحزنک “۔ حضرت نافع ؓ نے ی کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور زا کے کسرہ کے ساتھ اسی طرح پورے قرآن میں اسی طرح آیا ہے سوائے سورة انبیاء کے (آیت)” لا یحزنھم الفزع الاکبر “۔ آیا ہے البتہ ابو جعفر ؓ کی کی قرات میں صرف سورة انبیاء میں اس طرح آیا ہے ، باقی مقامات پر اس طرح نہیں آیا اور ان کی دو لغات ہیں ” حزن یحزن ۔۔۔۔۔ اخزن یخزن “ غالب لغت خزن یخزن ہے ” الذین یسارعون فی الکفر “۔ ضحاک فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کفار قریش ہیں جبکہ بعض نے کہا کہ اس سے مراد منافق ہیں جو کفر میں داخل ہونے کے لیے تیزی کے ساتھ کفر میں داخل ہو رہے ہیں ، (آیت)” انھم لن یضروا اللہ شیئا “۔ کفر میں ان کا جلدی سے داخل ہونا کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ، (آیت)” یرید اللہ الا یجعل لھم حظا فی الاخرۃ “۔ ان کے لیے آخرت میں ثواب ہے اس ثواب کی وجہ سے ان کے لیے رسوائی ہے یہاں تک کہ وہ کفر میں جلدی داخل ہوتے ہیں ، (آیت)” ولھم عذاب عظیم “۔
Ayah 3:177

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

177۔ (آیت)” ان الذین اشتروا “۔ جس نے ایمان کے بدلہ میں کفر کو لے لیا ، ” الکفر بالایمان لن یضروا اللہ شیئا “۔ کفر میں جلدی داخل ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو نقصان پہنچائیں گے (آیت)” ولھم عذاب الیم “۔
Ayah 3:178

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیے جاتے ہیں تو یہ انکے حق میں اچھا ہے (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں اور آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

178۔ (آیت)” ولا یحسبن الذین کفروا “۔ بعض قراء نے اس کو تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے انکو یاء کے ساتھ پڑھا ہے جو حضرات یاء کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ” فالذین محل رفع میں فاعل ہے تقدیری عبارت اس طرح ہوگی ، ” لایحسبن الکفار املاء نا لھم خیرا “۔ کفار یہ گمان نہ کریں کہ ہم نے ان کے لیے بہتری جمع کی ہے جنہوں نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے وہ کہتے ہیں کہ عبارت یہ ہوگی ” وتحسبن یا محمد الذین کفروا “۔ اے محمد ﷺ ان کے کفر کی وجہ سے آپ پریشان نہ ہوں یہ منصوب ہے بدل ہونے کی وجہ سے (آیت)” انما نملی لھم خیر لانفسھم “۔ املاء امہال اور تاخیر کو کہا جاتا ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ، ” عشت طویلا وتملیت حینا “ ۔ تم طویل عرصہ تک زندہ رہو اور تمہیں ایک مدت تک مہلت ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” واھجرنی ملیا “۔ اس کا مطلب ہے طویل زمانہ تک پھر فرمایا (آیت)” انما نملی لھم “۔ ہم ان کو مہلت دے دیں گے ، لیزدادوا اثما ولھم عذاب مھین “ مقاتل فرماتے ہیں کہ یہ مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ، عطاء فرماتے ہیں اس سے مراد قریظہ اور نضیر ہیں ۔ حضرت ابوبکر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ سب سے اچھا آدمی کون ہے ؟ فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال اچھے ہوں عرض کیا گیا سب سے برا کون ہے ؟ فرمایا جس کی عمر دراز اور عمل برے ہوں ۔
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

(لوگو ! ) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا اور اللہ تم کو غیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گا البتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا۔

(شان نزول) 179۔ (آیت)” ما کان ۔۔۔۔۔ من الطیب “۔ اس آیت کے شان نزول کے متعلق آئمہ کے اقوال مختلف ہیں ۔ کلبی (رح) نے کہا کہ قریش نے آپ ﷺ سے کہا کہ اے محمد ﷺ آپ کو گمان ہے کہ جو آپ ﷺ کی مخالفت کرے گا وہ جہنم میں جائے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور جو آپ ﷺ کے دین کی پیروی کرے گا وہ جنت میں جائے گا اور اللہ اس سے روضی ہوگا ، ہمیں خبر دیجئے کہ جو آپ پر ایمان لائے اور جو آپ پر ایمان نہ لائے اس کا کیا انجام ہوگا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ۔ امام سدی (رح) کا قول ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے میری امت اپنی شکلوں میں طینی حالت میں لائی گئی جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے لائی گئی تھی اور جو لوگ مجھ پر ایمان لانے والے ہیں اور جو لوگ ایمان لانے والے نہیں سب مجھے دکھلا دیئے ، اس فرمان کی اطلاع منافقین کو پہنچی تو انہوں نے بطور استہزاء کے بولے کہ محمد ﷺ کا دعوی ہے کہ جو لوگ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ان میں کون مؤمن ہوگا اور کون غیر مؤمن محمد ﷺ ان سب سے واقف ہیں اور ہم ان کے ساتھ رہتے ہیں اس کے باوجود ہم کو نہیں پہچانتے ۔ جب یہ خبر آپ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا لوگ کس وجہ سے میرے علم پر طنز کرتے ہیں تم اپنے زمانے سے قیامت کے دن تک جو چیز مجھ سے پوچھو گے میں تمہیں بتادوں گا ، یہ سن کر حضرت عبداللہ بن حذیفہ سہمی ؓ نے کھڑے ہو کر پوچھا میرا باپ کون ہے اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا حذافہ تمہارے والد ہیں ۔ حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین حق ہونے پر قرآن کے امام ہونے پر اور آپ کے نبی ﷺ ہونے پر راضی ہیں ، آپ ہم کو معاف فرما دیجئے ، اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے ، حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم باز آگئے پھر منبر سے اترے آئے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اس آیت کے نظم وحکم میں آئمہ کا اختلاف ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور ضحاک (رح) اور مقاتل (رح) اور کلبی (رح) اور اکثر مفسرین کے نزدیک خطاب کفار اور منافقین کو ہے ۔ یعنی (آیت)” ما کان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ “۔ اے کفار اور منافقین جماعت جو کفر اور نفاق سے بھری ہوئی ہے ، (آیت)” حتی یمیز الخبیث من الطیب “ ۔ حمزہ (رح) ، کسائی (رح) ، یعقوب (رح) ، نے یاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور تشدید کے ساتھ بھی پڑھا ہے انفال میں اسی طرح ہے اور باقی قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے جیسے کہا جاتا ہے ” مازالشی یمیز میزا “۔ جب کسی چیز سے جدا کر کے اس کو ممتاز کردیا جائے ، ابو معاذ فرماتے ہیں کہ جب دو چیزوں میں تفریق کی جائے جیسا کہ کہا جاتا ہے ” مزت میزا “ جب کسی شیء کے لیے بولا جائے بعض نے کہا کہ یہ تمیز سے ہے ، تخفیف کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے جدا ہونا جدا کرنا ۔ اسی سے فرقت الشعر آتا ہے ۔ آیت کا معنی یہ ہوگا یہاں تک کہ ہم منافق اور مخلص میں فرق کردیں گے ہم نے مؤمنین اور منافقین کو احد کی لڑائی میں جدا جدا کردیا ۔ یہاں تک کہ خالص مؤمن اور خالص منافق ظاہر ہوگئے ، قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ مؤمن اور کافر میں تمیز اختیار کردی ہجرت اور جہاد کے ساتھ۔ ضحاک رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں کہ (آیت)” ما کان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ “۔ جب وہ اپنے آباء و اجداد کی پشت میں تھے اور عورتوں کے رحم میں تھے اے منافقین و مشرکین کی جماعت ! تمہارے اور مؤمنین کے درمیان اس وقت تمیز ہوگئی تھی ، جب تم اپنے باپ دادوں کی پشتوں میں اور اپنی ماؤں کے رحموں میں تھے اور بعض نے کہا (آیت)” حتی یمیز الخبیث “۔ سے مراد گناہ گار بندہ اور ” من الطیب “ سے مراد مؤمن ہے، مطلب یہ ہے کہ مؤمنین نے اپنے اوزار اور ہتھیار نہیں اتارے تھے حالانکہ وہ اس وقت زخموں سے چور اور مصیبت زدہ تھے کہ دوسری جنگ کا حکم آگیا ، (آیت)” وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب “۔ تم میں سے چونکہ کوئی غیب کی باتوں پر مطلع نہیں ہوسکتا ، (آیت)” ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشائ “۔ یعنی بعض کے علم پر ان کو مطلع کردیں گے ، جیسا کہ فرمان ہے (آیت)” عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدالا من ارتضی من رسول “۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی شایان شان نہیں کہ وہ محمد ﷺ کو غیب کے علم پر مطلع کریں ، (آیت)” ولکن اللہ اجتباہ “۔۔۔۔۔۔۔ ” فامنوا باللہ وان تؤمنوا وتتقوا فلکم اجر عظیم “۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لیے برا ہے۔ وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو معلوم ہے۔

(بخل اور زکوۃ نہ دینے والوں کی مذمت) (تفسیر) 180۔: (آیت)” ولا یحسبن ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ ھو خیرا لھم “۔ بخل کرنے والے لوگ بخل کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں ، (آیت)” بل ھو “۔ بلکہ وہ بخل ” شرلھم سیطوقون “۔ ان کو طوق بنا کر ڈالا جائے گا ، (آیت)”۔ مابخلوا بہ یوم القیامۃ “ زکوۃ میں سے جو انہوں نے نہیں دی ، اس کو سانپ کی شکل بنا کر ان کے گلے میں ڈال دی جائے گی جو اس کو قدم کے اوپر سے کاٹے گا ، یہ قول ابن مسعود ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، ابی وائل (رح) ، شعبی (رح) ، امام سدی (رح) ، کا قول ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوۃ نہیں دی تو قیامت کے دن اس کے مال کو ایسے سانپ کی شکل پر کردیا جائے گا جو گنجا ہوگا اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سیاہ دھبے ہوں گے قیامت کے دن وہ سانپ زکوۃ نہ دینے والے کی گردن کا طوق بنایا جائے گا اور اس کی دونوں بانچھیں پکڑ کر کہے گا میں تیرا مال ہوں میں تیرا بےزکوۃ خزانہ ہوں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت)” ولا یحسبن الذین یبخلون “۔ حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی بھی ایسا ہو کہ اس کے پاس اونٹ یا گائے ، بھینس یا بکریاں ہوں اور وہ ان کا فرض ادا نہ کرے تو قیامت کے دن یہ جانور بہت بڑی جسامت اور موٹے تازے ہو کر سامنے آئیں گے اونٹ اپنے کھروں سے اس کو روندیں گے اور گائے بکریاں اس کو اپنے سینگوں سے ماریں گے ، جب پچھلی قطار اس کو روندتی ہوئی اور مارتی ہوئی اس پر پہنچے گی تو گھو کر اول قطار آپہنچے گی یہ روندنے اور مارنے کا سلسلہ اس وقت تک قائم رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ ہوجائے ، ابراہیم نخعی (رح) کا قول ہے کہ اس آیت کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو قیامت کے دن آگ کا طوق پہنائیں گے ، مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ان کو قیامت کے دن اس بات کا مکلف بنایا جائے گا کہ دنیا میں جن اموال پر تم نے بخل کیا ان کو لے آؤ ۔ عطیہ (رح) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس آیت کا نزول یہود کے سرداروں کے متعلق ہوا جنہوں نے آپ ﷺ کی صفت اور نبوت کو چھپایا یہاں بخل سے مراد کتمان علم مراد لیا ہے ، جیسا کہ سورة نساء میں ہے، جیسا کہ سورة نساء میں ارشاد فرمایا (آیت)” الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل ویکتمون ما اتاھم اللہ من فضلہ “۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب (آیت)” سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیامۃ “۔ یہ ہے کہ ان کا بوجھ اور ان کے گناہ کا بوجھ اٹھائیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” یحملون اوزارھم علی ظھورھم “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وللہ میراث السموت والارض “ ۔ وہ ہمیشہ باقی اور دائم رہنے والی ہے تمام مخلوق کے فناء ہونے کے بعد اور ان کی املاک کی ہلاکتوں کو کے بعد وہ سب مرجائیں گے اور ان کے وارث ہوں گے اس کی دلیل (آیت)” ان نحن نرث الارض ومن علیھا “۔ ۔۔۔۔۔ واللہ بما تعملون خبیر “۔ اہل بصرہ اور اہل مکہ نے اس کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Ayah 3:181

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتشِ ) دوزخ کے مزے چکھتے رہو۔

(حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی صداقت پر آیات کا نزول) (تفسیر) 181۔: حسن (رح) ، اور مجاہد (رح) ، اللہ کا قول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ یہود کہنے لگے (نعوذ باللہ) اللہ فقیر ہوگیا وہ ہم سے قرضہ مانگتا ہے اور ہم امیر ہیں ، حسن (رح) ، کا قول ہے کہ یہ کہنے والا حی بن اخطب تھا ، عکرمہ ؓ ، سدی (رح) ، مقاتل (رح) ، محمد بن اسحاق (رح) ، کے بیان کے مطابق جب آپ ﷺ نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو ایک تحریر دے کر بنی قینقاع کے یہودیوں کے پاس بھیجا اور تحریر میں ان کو اسلام لانے نماز پڑھنے زکوۃ ادا کرنے اور اللہ کے لیے قرض حسنہ دینے کی دعوت دی ، حسب الحکم ایک روز حضرت ابوبکرصدیق ؓ یہودیوں کے مدرسہ میں گئے وہ آپ نے دیکھا کہ بہت سے شخص ایک یہودی کے پاس جمع ہیں ، یہ شخص فخاض بن عازوراء تھا جو یہود کے بڑے علماء میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ایک اور عالم بھی تھا جس کا نام اشیع تھا ، حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے فخاض سے فرمایا اللہ سے ڈرو اور مسلمان ہوجاؤ ، خدا کی قسم تم خوب جانتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں جو اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ آئے ہیں ان کا ذکر تمہارے پاس تورات میں میں لکھا ہوا موجود ہے لہذا ان پر ایمان لے آؤ، ان کی تصدیق کرو اور اللہ کو قرضہ حسنہ دو اللہ تم کو جنت میں داخل کر دے گا اور دہرا ثواب دے گا ، فخاض نے کہا حضرت ابوبکرصدیق ؓ تم تو کہتے ہو کہ ہمارا رب ہم سے ہمارا مال قرض مانگتا ہے قرض تو فقیر غنی سے مانگتا ہے پس اگر تمہاری بات صحیح ہے تو اللہ فقیر ہوا اور ہم غنی ، اللہ تو تم کو سود سے منع کرتا ہے اور خود ہم کودے گا ، اگر وہ غنی بھی ہو تب بھی ہم کو سود نہیں دے گا ، یہ سن کر حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو غصہ آیا اور فخاض کے منہ پر آپ نے ایک زور دار ضرب رسید کی اور کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر ہمارا تجھ سے معاہدہ نہ ہوتا تو اللہ کے دشمن میں تیری گردن مار دیتا ، فخاض رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا دیکھو تمہارے ساتھی نے میرے ساتھ کیسی حرکت کی ہے حضور اقدس ﷺ نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے فرمایا تم نے ایسی حرکت کس وجہ سے کی ؟ حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ دشمن خدا نے بہت بڑی بات کہی تھی اس نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ، مجھے یہ سن کر غصہ آیا اور میں نے اس کے منہ پر مارا ، فخاض نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے اس قول کا انکار کردیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فخاض کے قول کی تردید اور حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے قول کی تصدیق میں مندرجہ ذیل آیت نازل فرمائی ” لقد سمع اللہ قول الذین “ تا آخر آیت تک ۔ (آیت)” سنکتب ما قالوا “۔ ہم ان کے قول کو لکھتے ہیں جو اللہ پر جھوٹی بات باندھتے ہیں ہم اس کا بدلہ ضرور دیں گے ، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ہم ان کے قول کو محفوظ کر کے رکھیں گے ، واقدی (رح) فرماتے ہیں کہ ہم حکم دیتے ہیں کہ لکھ کر محفوظ رکھیں گ ے ، اس کی مثال اللہ کے اس فرمان میں ہے (آیت)” وانا لہ کاتبون “۔۔۔۔۔۔۔۔ وقتلھم الانبیاء بغیر حق ونقول ذوقوا عذاب الحریق “۔ حمزہ (رح) ، نے اسے ” سیکتب “ پڑھا ہے یاء کے ضمہ کے ساتھ ” وقتلھم “۔ لام کے ضمہ ساتھ ’ ویقول “ کو یاء کے ساتھ ” ذواعذاب الحریق “ حریق سے مراد جہنم کی آگ ہے حریق بمعنی محرق ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے (آیت)” لھم عذاب الیم “ الیم بمنی مولم کے ہے ۔
Ayah 3:182

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا۔

182۔ (آیت)” ذلک بما قدمت ایدیکم وان اللہ لیس بظلام للعبید “۔ اللہ کے شایان شان نہیں کہ وہ بغیر گناہ کے عذاب دے ۔
Ayah 3:183

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جو لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آ کر کھاجائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا ؟

(الذین قالوا ان اللہ عھد الینا “۔ کا شان نزول) (تفسیر) 183۔: (آیت)” الذین قالوا ان اللہ عھد الینا “۔ کلبی (رح) کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول کعب بن اشرف مالک بن صیف ، وہب بن یہوذا ، زید بن تابوت وفخاض بن عازوراء حی بن اخطب کے بارے میں ہوا ، انہوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے محمد ﷺ آپ کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمارے طرف رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی حالانکہ اللہ نے تورات میں یہ حکم دے دیا ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ کی طرف سے پیغمبر ہونے کا دعوی کرے تو تم اس پر ایمان نہ لانا (آیت)” ان لا نؤمن لرسول “۔ اور آپ کا گمان ہے کہ آپ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں (آیت)” حتی یاتینا بقربان تاکلہ النار “۔ اگر آپ ایسی قربانی لے کر آئے تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” الذین قالوا “۔ اللہ نے ان کے قول کو سن لیا جو کچھ انہوں نے کہا ” ثانی الذین “۔ پہلے الذین پر رد ہے اور وہ منصوب ہے (آیت)” ان اللہ عھد الینا “۔ ہمیں اللہ نے حکم دیا اور اپنی کتاب میں وصیت فرمائی کہ تم رسول پر ایمان نہیں لاؤ گے یعنی تم اس بات کی تصدیق نہ کرو گے کہ وہ اللہ ک ی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے اور تم اس وقت تک آپ ﷺ پر اوپر ایمان نہیں لاؤ گے جب تک کہ ان کی قربانی کو آسمان سے آنے والی آگ نہ کھالے اور اس آگ میں دھواں بھی نہ ہو ، قربان کہتے ہیں ہر وہ کام جو اللہ کے قریب کرنے والا ہو خواہ وہ قربانی ہو صدقہ جاریہ ہو یا عمل صالح ہو ، یہ ” فعلان “ کے وزن پر ” قربۃ “ کا صیغہ ہے ۔ یہ دونوں قربتیں قربانی اور صدقہ اور غنیمت کا مال ان کے لیے حلال نہیں تھا ، (بنی اسرائیل کے لیے) جب وہ قربان گاہ میں قربانی کرتے یا مال غنیمت کا مال جمع کرتے آسمان سے آگ آتی تو وہ اس کو کھاجاتی جس میں دھواں نہ ہوتا ، اس میں گونج اور گڑگڑاہٹ کی آواز ہوتی تھی ، آخر اس قربانی کو کھا جاتی ، یہ قبول ہونے علامت تھی اور اگر آگ نہ آتی تو وہ اپنی حالت پر باقی رہتا ۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا تھا کہ تم میں جب کو جب کوئی نبی آئے تو تم اس کی اس وقت تک تصدیق نہ کرنا جب تک کہ وہ قربانی لائے اور آسمان سے آگ آکر اس کو کھاجائے یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ تشریف لائے جب یہ دونوں آجائیں تو تم ان پر ایمان ضرور لے آنا بغیر اس شرط کے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت تام کرنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا ، ” قل “ اے محمد ﷺ کہہ دیجئے ” قد جاء کم “ اے یہودیوں کی جماعت ” رسل من قبلی بالبینات وبالذی قلتم “۔ جو تم نے اس قربانی کے لیے کہا (آیت)” فلم قتلتموھم “۔ حضرت زکریا علیہ السلام، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ، اور بہت سارے انبیاء کرام (علیہم السلام) تم نے کیوں کر قتل کیے ، اس خطاب سے ان کے اسلاف مراد ہیں کیونکہ وہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے قتل پر راضی تھے ، (آیت)” ان کنتم صادقین “۔ تمہیں سزا دی جائے گی ، ان کے علم کی سچائی کی وجہ سے (یعنی تمہیں معلوم تھا کہ یہ انبیاء کرام (علیہم السلام) سچے ہیں انہوں نے وہ قربان کو پیش کیا اور اس کو آگ بھی کھاگئی تھی لیکن پھر بھی تم نے ان کو قتل کیا) یہ فعل تمہارے آباء و اجداد کے فعل کی بناء پر ہے حالانکہ یہ انبیاء کرام (علیہم السلام) معجزات اور نشانیاں بھی لائے ہیں ۔
Ayah 3:184

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آ چکے ہیں اور لوگوں نے ان کو بھی سچا نہیں سمجھا۔

184۔ (آیت)” فان کذبوک ۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ بالبینات والزبر “۔ ابن عامر نے ” بالزبر “ پڑھا ہے، اس کا معنی کتاب ہے ، مزبور کے معنی میں ہے یعنی لکھی ہوئی کتاب یہ رسول ورسل کی طرح ہے ، ” والکتاب المنیر “۔ واضح اور روشن کتاب لائے ، ۔