Ayah 3:56(تفسیر) 56۔ :
(آیت)” فاما الذین کفروا فاعذبھم عذابا شدیدا فی الدنیا “۔ دنیا میں سزا قتل کے قید کے ذریعے ، جزیہ کی صورت میں یا ذلت کی صورت میں (آیت)” وفی الاخرۃ “ آخرت میں دوزخ کے عذاب سے (آیت)” ومالھم من نصرین “۔
Ayah 3:5757۔ (آیت)” فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فیوفیھم اجورھم “۔ ورش ، حسن ، حفص نے ” فیوفیھم “۔ کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نون کے ساتھ پڑھتے ہیں ، اللہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا ، (آیت)” واللہ لا یحب الظالمین “۔ نہ کافروں پر رحم کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی تعریف کی جائے گی ،۔
Ayah 3:5858۔ (آیت)” ذلک “ حضرت عیسیٰ ومریم (علیہ السلام) اور حواریین کے متعلق جو قصہ ہم نے بیان کیا ہے ” نتلوہ علیک “ آپ کو جبرئیل (علیہ السلام) کی وحی کی ذریعے بتلا دیا جائے گا، (آیت)” من الایات والذکر الحکیم “۔ آیات سے مراد قرآن اور ذکر سے مراد حکمت ہے ، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ذکر سے مراد حکمت ہے یا ذکر سے مراد محکم جو باطل سے محفوظ ہے ، بعض کے نزدیک (آیت)” الذکر الحکیم “۔ سے مراد لوح محفوظ ہے ، لوح محفوظ سفید موتی (کی اتنی لمبی تختی ہے جیسے زمین سے آسمان تک درمیانی خلاء اور یہ) عرش سے متعلق ہے۔
بعض نے کہا کہ آیات سے مراد وہ علامات ہیں جو نبوت پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ یہ ایسی خبریں ہیں جو محض کتاب اللہ کو پڑھنے والا ہی جان سکتا ہے یا جس کی طرف وحی آئے اور آپ ﷺ تو امی ہیں وہ پڑھ بھی نہیں سکتے ۔
Ayah 3:59(ان مثل عیسیٰ کا شان نزول)
59۔ (آیت)” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم “۔ اس آیت کا نزول نجران کے وفد کے بارے میں ہوا ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ آپ ہمارے آقا کو کیوں گالی دیتے ہو ؟ آپ ﷺ نے پوچھا میں کیا کہتا ہوں وہ کہنے لگے کہ آپ انکو اللہ کے بندے کہتے ہو ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، بیشک وہ اللہ کے بندے اللہ کے رسول اور اللہ کا کلمہ تھے جو عذرا بتول کے شکم میں اللہ نے ڈال دیا تھا یہ سن کر ان کو غصہ آیا اور کہنے لگے کہ آپ نے کوئی آدمی ایسا دیکھا ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا ہو، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ان مثل عیسیٰ عنداللہ “۔ ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا، جیسا کہ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کو بغیر ماں اور باپ کے پیدا کیا ۔
(آیت)” خلقہ من تراب ثم قال لہ “ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ” کن فیکون “ یعنی ہوجا پس وہ ایسے ہوگئے ۔
(ایک شبہ اور اس کا جواب)
اگر سوال کیا جائے کہ پھر اس آیت ” خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون “۔ کا کیا مطلب ہوگا کیونکہ تکوین تخلیق کے بعد تو نہیں ہوتی ، جواب دیا کہ اس کو پہلے بنایا پھر ہم نے خبر دی کہ ہم نے لفظ ” کن “ کہا ان کی پیدائش بغیر ترتیب کے تھی جس طرح کہ پیدائش میں تمام اعضاء برابر ہوتے ہیں اس طرح نہیں تھے ، جب ہم نے ” کن “ کہا تو وہ تمام اعضاء ترتیب کے ساتھ ہوگئے ، یہ اس قول کی طرح ہے جیسے کوئی کہے ” اعطیناک الیوم درھما ثم اعطینک امس درھما “۔ کہ آج تمہیں ایک درہم دوں گا اور پھر ایک درہم کل دوں گا ، اس طرح عبارت تھی ” ثم اخبرک انی اعطیتک امس درھما “۔ کہ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ کل بھی ایک درہم دوں گا اور جو مثال ما قبل میں گزر چکی ہے وہ قیاس کے جواز کی دلیل ہے، اس لیے کہ قیاس اصل کو فرع کی طرف لوٹا دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کو ایک تشبیہ کی طرف لوٹا دیا یعنی آدم (علیہ السلام) کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آدم (علیہ السلام) کے ساتھ باپ نہ ہونے میں مشابہت ہے۔
Ayah 3:60(تفسیر) 60۔:
(آیت)” الحق من ربک “ یہی حق ہے جو تمہارے رب کی طرف سے یا تمہارے رب کے پاس سے آچکا ہے (آیت)” فلاتکن من الممترین “ عیسائی آپ کے عیسیٰ (علیہ السلام) ہونے میں شک میں پڑگئے ، یہ خطاب آپ ﷺ کو ہے مراد آپ ﷺ کی امت ہے ۔
Ayah 3:6161۔ (آیت)” فمن حاجک فیہ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق وہ جھگڑتے ہیں یا اس حق بات میں کون ہے جو آپ سے مناظرہ کرے (آیت)” من بعد ما جاء ک من العلم “۔ علم سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اللہ کا بندہ اور رسول ہونا ہے ، یعنی اس علم کے آجانے کے بعد کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں (آیت)” فقل تعالوا “ اصل میں تعالیوا تھا باب تفاعل سے علو ہے ضمہ یاء پر ثقیل تھا یاء کو حذف کردیا، فراء کہتے ہیں بمعنی تعال کے ہے اوپر اٹھو (ندع) یہ مجزوم ہے جواب امر ہونے کی وجہ سے جزم کی علامت واؤ کے ساقط ہونے کی وجہ سے ہے۔ (آیت)” ابناء ناوابناء کم ونساء نا ونساء کم ونفسنا وانفسکم “۔ بعض نے کہا کہ ” ابناء نا “۔ سے مراد حسن اور حسین ؓ ہیں اور ” نساء نا “ سے مراد فاطمہ ؓ ” انفسنا “ سے مراد خود آپ ﷺ کی ذات اقدس ہے اور حضرت علی ؓ ہیں ، عرب کے لوگ ابن عم کو نفس سے پکارتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” ولا تلمزوا انفسکم “ یہاں ” انفسکم “ سے مراد تمہارے بھائی ہیں ، بعض نے کہا کہ نفس سے نفس سے عموم مراد ہے، اہل دین کی جماعت پر ” ثم نبتھل “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے یعنی دعا میں خشوع اختیار کرنا ، کلبی (رح) نے کہا کہ دعا میں خوب مبالغہ اور کوشش کرو ، کسائی (رح) اور ابوعبیدہ ؓ نے کہا ” نبتھل ، ابتھال ، التعان ، باب افتعال سے ہے اسی سے ” بھلۃ “ ہے ، اس کا معنی لعنت ہے ، (آیت)” فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین “۔ ہم میں سے یا تم میں سے عیسیٰ کے معاملے ہیں ، یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے ہیں اللہ کے بیٹے نہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ، اور ان کو مباہلہ کی دعوت دی ہم نے جواب دیا کہ ہم ذرا لوٹ کر اس معاملہ میں غور کرلیں ہم کل آئیں گے تو وہ بعض بعض سے جدا ہوگئے ، ان سب نے عاقب سے کہا وہ ذی رائے اور ذی عقل والا تھا اہل وفد نے تخلیہ میں اس سے پوچھا عبدالمسیح آپ کی کیا رائے ہے ؟ عاقب نے جواب دیا تم سب نصاری عیسائیت کو خوب جان چکے ہو کہ محمد ﷺ نبی مرسل ہیں خدا کی قسم کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی قوم نے کسی نبی سے مباہلہ کیا ہو اور پھر ان کا کوئی بڑا زندہ رہا ہو یا چھوٹے کو بڑھنے کا موقع ملاہو۔
اب اگر تم نے ایسا کیا تو سب تباہ ہوجاؤ گے ، لہذا اگر تم اپنے انکار پر ہی قائم رہنا چاہتے ہو تو اس شخص سے صلح کرلو اور اپنے ملک کو لوٹ جاؤ ، اس مشورہ کے مطابق سب لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ صبح کے وقت ان کے پاس آئے اس حال میں کہ حضرت حسین ؓ کو اٹھائے ہوئے تھے اور حضرت حسن ؓ نے ان کا ہاتھ مبارک پکڑا ہوا تھا اور حضرت فاطمہ ؓ آپ ﷺ کے پیچھے چل رہی تھیں اور حضرت علی ؓ بھی پیچھے چل رہے تھے اور آپ ﷺ یہ ارشاد فرما رہے تھے کہ جب میں دعا کروں تو تم امین کہنا ، یہ دیکھ کر نجران کا پادری کہنے لگا اے گروہ نصاری ! مجھے ایسے چہرے نظر آرہے ہیں کہ اگر یہ اللہ سے دعا کریں تو اللہ پہاڑ کو بھی اس کی جگہ سے ہٹا دے گا ، لہذا تم ان سے مباہلہ نہ کرو ورنہ سب مرجاؤ گے ، اور روز قیامت تک روئے زمین پر کوئی عیسائی باقی نہیں رہے گا ، آخر اہل وفد نے کہا ابو القاسم ہماری رائے یہ ہوئی ہے کہ ہم آپ سے مناظرہ نہیں کریں گے ، آپ اپنے مذہب پر رہیں اور ہم اپنے مذہب پر ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم مباہلہ سے انکار کرتے ہو تو مسلمان ہوجاؤ لہذا مسلمانوں کے جو حقوق ہیں وہی حقوق تمہارے بھی ہوجائیں گے ، جب اہل وفد نے مسلمان ہونے سے انکار کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اب ہم تمہارے ساتھ جنگ کریں گے ، وہ کہنے لگے ہمیں عرب کے ساتھ جنگ کرنے کی طاقت نہیں ، ہم آپ سے اس شرط پر صلح کرسکتے ہیں کہ آپ ہم پر نہ لشکر کشی کریں نہ ہم کو خوف زدہ کریں اور نہ اپنا مذہب ترک کرنے پر مجبور کریں ، ہم سالانہ دو ہزار جوڑے کپڑوں کے آپ کو ادا کرتے رہیں گے ایک ہزار ماہ صفر میں اور ایک ہزار ماہ رجب میں ۔
آپ ﷺ نے اس شرط پر صلح کرلی اور فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اہل نجران کے سروں پر عذاب آہی گیا تھا اگر وہ مباہلہ کرتے تو ان کی صورتیں مسخ ہو کر بندروں اور سوروں جیسی ہوجاتیں ، ساری وادی آگ سے بھڑک اٹھتی اور نجران کے رہنے والے یہاں تک کہ درختوں کے پرندے بھی ہلاک ہوجاتے اور سال پلٹنے نہ پاتا کہ سارے عیسائی ہلاک ہوجاتے ۔
Ayah 3:62(تفسیر) 62۔:
(آیت)” ان ھذا لھو القصص الحق “۔ یہ خبر حق ہے (آیت)” وما من الہ الا اللہ “۔ من صلۃ ہے تقدیری عبارت یہ ہوگی ” وما الہ الا اللہ “ ۔ کہ کوئی بھی شیء الہ نہیں سوائے اللہ کے ۔ (آیت)” وان اللہ لھو العزیز الحکیم “۔
Ayah 3:6363۔ (آیت)” فان تولوا “ اگر ایمان سے روگردانی کرو گے (آیت)” فان اللہ علیم بالمفسدین “ اللہ جانتا ہے ان لوگوں کو جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور غیر اللہ کو پکارتے ہیں ۔
Ayah 3:64(شان نزول)
64۔ (آیت)” قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم “۔ مفسرین کا قول ہے کہ نجران کا وفد مدینہ منورہ میں آیا تو اس کی ملاقات یہودیوں سے ہوئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق دونوں فریق کا مناظرہ ہوگیا ، عیسائیوں نے کہا کہ ابراہیم نصرانی تھے اور ہم ان کے دین پر ہیں اور اسی وجہ سے لوگوں سے اولی ہیں اور یہود نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور ہم ان کے دین پر ہیں ، ان کا ہم سے قریب ترین تعلق ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا ان دونوں جماعتوں کا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے دین سے کوئی سروکار نہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) دین حنیف پر ہیں اور میں ان کے دین پر ہوں ۔ لہذا تم سب ابراہیم (علیہ السلام) کے دین یعنی اسلام کی اتباع کرو ، یہودی بولے آپ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو رب بنا لیا اسی طرح ہم بھی آپ کو رب بنالیں ، عیسائی کہنے لگے آپ کی یہ تو مرضی ہے کہ یہودیوں نے جو بات عزیر (علیہ السلام) کے بارے میں کہی ہے وہی ہم آپ کے بارے میں کہنے لگیں ، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ، (آیت)” قل یاھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ “۔ جس قصہ کی کچھ تفصیل ہو عرب اس کو کلمۃ کہہ دیتے ہیں ، اسی لیے قصیدہ کو کلمہ کہا جاتا ہے ، ” سواء “ اسم فاعل مستویۃ کے معنی میں ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ” یقال دعا فلان الی السواء “ فلاں شخص کو سیدھے راستے کی طرف دعوت دی اور ہر چیز کا سیدھا ہونا اس کے وسط سے ہوتا ہے جیسا کہ اللہ کا فرمان ” فراہ فی سواء الجحیم “۔ یہاں سواء بمعنی ” للنصفۃ “ ہے ، تمام امور کے اندر عدل اسی کا درمیان میں ہونا ہوتا ہے ۔ ” سوائ “ صفت ہے ” کلمۃ “ کی مگر یہ مصدر ہے اور مصدر نہ تثنیہ ہوتا ہے اور نہ جمع اور نہ مؤنث (اس لیے اس کو مؤنث ذکر کیا) جب سواء کی سین کو فتحہ دیا جائے تو مد کے ساتھ پڑھیں گے اور جب کسرہ یا ضمہ دیا جائے تو پھر مد نہیں کی جائے گی ، جیسا کہ فرقان باری تعالیٰ ہے ، ” مکانا سوی “ پھر کلمہ کی تفسیر کی اور فرمایا ” الا نعبد الا اللہ “ ان لانعبد محل رفع میں واقع ہے ۔
زجاج فرماتے ہیں کہ مرفوع ہے ابتداء کی وجہ سے ، بعض نے کہا کہ نصب ہے حرف صلۃ کے محذوف ہونے کی وجہ سے ۔
معنی یہ ہوگا کہ ہم عبادت نہیں کرتے مگر اللہ کی بعض نے کہا کہ محل جر میں واقع ہے اس صورت میں یہ ” کلمۃ “ سے بدل ہوگا ۔
عبارت یوں ہوگی ” ای تعلوا الی کلمۃ ان لا نعبد لا اللہ “۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ “۔ جس طرح یہود و نصاری نے کیا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ “۔ ہے ، عکرمہ فرماتے ہیں کہ وہ بعض بعض کو سجدہ کرتے تھے ، یعنی بعض آدمی بعض کو سجدہ نہ بنائیں ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں ہم کسی کو اطاعت نہیں کرتے ، (آیت)” فان تولوا فقولوا اشھدوا “۔ اے پیغمبر ! تم اور سب مسلمان کہہ دیں کہ اہل کتاب تم گواہ رہو ” بانا مسلمون “ کہ ہم خالص توحید پرست ہیں ۔
(حضور ﷺ کا نام مبارک ہرقل کے نام)
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ابوسفیان بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ ہرقل (بادشاہ) نے مجھے اور قریش کی جماعت کو طلب کیا، ان دنوں ہم شام میں تجارت کی غرض سے گئے ہوئے تھے اور ہماری رسول اللہ ﷺ کی درمیان صلح تھی ، ایلیاء میں ہم ہرقل کے پاس پہنچے ، ہرقل نے ہم سب کو مجلس میں طلب کیا، اس وقت ہمارے اردگرد روم کے بڑے بڑے سردار تھے، اس کے بعد اس کے بعد اس نے وہ خط منگوایا جو دحیہ کلبی ؓ کے ہاتھ رسول اللہ ﷺ نے حاکم بصری کو بھیجا تھا ، اس حاکم نے وہ خط ہرقل کے پاس پہنچا دیا تھا اس نے پڑھا اس کی ابتداء کچھ یوں تھی ۔
” بسم اللہ الرحمن الرحیم ، من محمد بن عبداللہ ورسولہ الی ھرقل عظیم الروم سلام علی من اتبع الھدی ، اما بعد : “
یہ خط اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے ہرقل کی جانب جو روم کا بڑا شخص ہے سلام ہو اس پر جو ہدایت کا اتباع کرے ۔ ” اما بعد “ میں تجھ کو دعوت دیتا ہوں اس کلمہ کی جو اسلام کی طرف لانے والا ہے یعنی کلمہ طبیہ کی ، مسلمان ہوجاؤ محفوظ رہو گے اللہ تم کو دہرا ثواب دے گا ، اگر تم نے روگردانی کی تو رعایاکا گناہ بھی تم پر پڑے گا ، اے اہل کتاب ایک ایسی جماعت کی طرف آجاؤ جو ہمارے تمہارے درمیان برابر ہے، وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کو پوجا نہ کریں ، اس کا کسی چیز کو شریک نہ قرار دیں اور ہم میں سے کوئی اطاعت اللہ کی اجازت کے بغیر نہ کرے، اس کے بعد بھی اگر انہوں نے روگردانی کی تو مسلمانو ! تم کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہوچکے ہیں یعنی اللہ کے حکم کے تابع ہوچکے ہیں ۔
Ayah 3:65(تفسیر) 65۔:
(آیت)” یا اھل الکتاب لم تحاجون فی ابراہیم “۔ تم گمان کرتے ہو کہ ابراہیم تمہارے دین پر تھے حالانکہ تمہارا دین یہودیت اور نصاری کا ہے ، یہودونصاری کا دین تو بعد میں آیا ، یہود کا دین تورات کے نزول کے بعد پیدا ہوا اور نصاری کا دین انجیل کے نزول کے بعد ہوا تورات و انجیل دونوں کتابیں ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئیں ، (آیت)” وما انزلت التوراۃ والانجیل الا من بعدہ “ ابراہیم (علیہ السلام) کے طویل زمانہ بعد نازل ہوئیں ، موسیٰ (علیہ السلام) ایک ہزار سال بعد آئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دو ہزار برس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آئے ۔ (آیت)” افلا تعقلون “ ان کے قول کا باطل ہونا واضح ہے ۔
Ayah 3:66(تفسیر) 66۔ (آیت)” ھا انتم “۔ دوہمزے آپس میں ملے ہوئے ہیں، ابو عمرو کے نزدیک اسی طرح ہے اور باقی قراء ہمزہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اس کی صرف تحقیق میں آئمہ کا اختلاف ہے، بعض حضرات کے نزدیک اس کی اصل ” انتم “ ہے اور ھاء تنبیہ ہے ، اخفش فرماتے ہیں اس کا اصل ” ا انتم “ پہلے ہمزہ کو ھاء سے بدل دیا ، جیسے ” ھرقت “ اصل میں ” ارقت “ تھا ہمزہ استفہامیہ کوہ سے بدل دیا ۔ ” ھولائ “ یہ اصل میں اولاء تھا اس میں ھاء تنبیہ کو داخل کیا جو ندا کی جگہ میں تھا ، عبارت یوں ہوگی : ” یاھولاء انتم “۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حاججتم فبما لکم بہ علم فلم تحاجون فیما لیس لکم بہ علم “۔ تم ان امور کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تم کو کچھ علم نہیں یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق کہ تم یہ دعوی کرتے ہو کہ تم ان دونوں کے دین پر ہو ، حالانکہ تمہاری طرف توراۃ انجیل میں بھی نازل کی گئی، پھر تم کس چیز کے بارے میں جھگڑتے ہو جس کا تمہارے پاس کچھ علم نہیں اور نہ ہی تمہارے پاس کوئی مضبوط دلیل ہے کہ تم انکو یہودی یا نصرانی کہو، بعض نے کہا کہ ” حاججتم “ سے مراد آپ ﷺ کے متعلق تم اپنی کتابوں میں انکے آنے کا ذکر ہے لیکن تم اس بات کو نہیں مانتے ، تم اس کے متعلق باطل طور پر جھگڑا کرتے ہو تو پھر ابراہیم (علیہ السلام) کے دین وملت پر ہونے کا دعوی کس طرح کرتے ہو نہ تو ایسا تمہاری کتابوں میں موجود ہے اور نہ ہی تمہارے پاس اس کا علم ہے (آیت)” واللہ یعلم وانتم لا تعلمون “۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بری کردیا جو یہود و نصاری کہتے تھے ۔
Ayah 3:67(تفسیر) 67۔:
(آیت)” وما کان ابراھیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما وما کان من المشرکین “۔ حنیف جو ادیان باطلہ سے ادیان حقہ کی طرف مائل ہو ، بعض نے کہا کہ حنیف جو مؤحد ہو حج کرے، قربانی کرے اور ختنہ کرے اور کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے، یہ تمام ادیان میں سب سے آسان اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ہے۔
Ayah 3:6868۔ (آیت)” ان اولی الناس بابراھیم للذین اتبعوہ “ ان کے زمانے میں جو انکی پیروی کرے اور اس کے بعد بھی ” وھذا النبی “ نبی سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ (آیت)” والذین امنوا “۔ اور جو لوگ ایمان لائے اس امت سے (آیت)” واللہ ولی المؤمنین “۔
(حضرت جعفر ؓ کی حبشہ کی طرف ہجرت اور کفار سے مناظرہ)
کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) سے اور انہوں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے اور محمد بن اسحاق ابن شہاب کے حوالے سے حدیث ہجرت الحبشہ ذکر کی ہے کہ جب حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ آپ ﷺ کے اصحاب کو ساتھ لے کر مکہ چھوڑ کر حبشہ کی چلے گئے اور انہوں نے ایک گھر میں قیام کیا اور آپ ﷺ بھی مدینہ کو ہجرت کر کے چلے گئے اور پھر بدر کی جنگ میں بھی ہوچکی ، قریش دارالندوہ میں جمع ہوئے اور کہنے لگے محمد ﷺ کے جو ساتھ نجاشی کے پاس چلے گئے ہیں ان کے ذمہ ہمارے مقتولین بدر کا قصاص ہے ، لہذا کچھ مال جمع کرکے نجاشی کے پاس بطور ہدیہ کے لیے جاؤ ممکن ہے تمہاری قوم کے جو لوگ اس کے پاس پہنچ گئے ہیں ان کو وہ تمہارے حوالے کر دے اور تم انتقام لے سکو، پس تم دو سمجھدار آدمیوں کو اپنا نمائدہ بنا کر بھیجو ، چناچہ عمرو بن العاص اور عمارۃ بن ولید یا عمارہ بن ابی معیط کو کچھ چمڑے وغیرہ بطور ہدیہ دے کر نجاشی کے پاس سب نے باتفاق رائے بھیجا ، یہ دونوں سمندر کے راستے حبشہ جا پہنچے اور نجاشی کے دربار میں حاضر ہو کر انہوں نے سجدہ کیا اور سلامتی کی دعا دی اور عرض کیا ہماری قوم آپ کی خیر خواہ اور شکر گزار ہے اور آپ کی عافیت کی طلب گار ہے ، انہوں نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ ہم آپ کو اطلاع کریں کہ مکہ سے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے ہیں آپ ان سے ہوشیار رہیں یہ ایسی قوم کے لوگ ہیں جن کا جھوٹا دعوی ہے کہ ہم میں اللہ کا نبی مبعوث ہوا ہے اور اس کی پیروی چند بیوقوفوں نے کی (نعوذ باللہ) اور اب ان کو ہم نے اتنا تنگ کیا ہے کہ انہوں نے ہمارے ملک کی ایک گھاٹی میں پناہ لی ہے ، اور وہاں لوگوں کی آمد ورفت بند ہوگئی نہ وہاں سے کوئی باہر نکلتا ہے اور نہ ہی باہر سے اندر جاتا ہے ، بھوک اور پیاس کی شدت ان کی جانوں کو ہلاک کرنے والی ہے ، بالاخر اتنی سختی سے تنگ آکر اس نے اپنے چچا کے بیٹے کو آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ وہ آپ کا مذہب خراب کر دے اور آپ کی حکومت ورعیت کو بھی خراب کر دے ، آپ ان لوگوں سے احتیاط اختیار کریں اور ان کو اپنے سے دور کر کے ہمارے حوالے کردیں تاکہ ہم ان کو آپ سے روک دیں اور ان دونوں کے کہا کہ ان کی نشانی یہ ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں گے تو وہ آپ کو سجدہ نہیں کریں گے اور نہ ہی آپ کو تحیہ کریں گے ، ہم آپ کا ادب سے جھکنا بجا لاتے ہیں آپ کے دین اور طریقے کی رغبت اختیار کرتے ہوئے فرمایا نجاشی نے ان کو بلوایا جب وہ حاضر ہوئے تو حضرت جعفر ؓ چلا کر دروازے سے اندر داخل ہونے کی اجازت ان الفاظ میں طلب کی ،” یستاذن علیک حزب اللہ “۔ اللہ کا گروہ بازیاب ہونے کی اجازت چاہتا ہے نجاشی نے یہ سن کر کہا کہ اس چیخنے والے کو حکم دو کہ دوبارہ یہی الفاظ کہے ، حضرت جعفر ؓ نے دوبارہ ایسے الفاظ کہے ، پھر نجاشی نے کہا ، جی ہاں اللہ کے اذن اور ذمہ داری کے تحت داخل ہوجاؤ ، عمرو بن العاص نے اپنے ساتھی سے کہا تم سن رہے ہو کیسے انہوں نے کس طرح لفظ حزب اللہ کہا اور نجاشی نے ان کو کیا جواب دیا ، عمرو بن العاص اور عمارۃ کو حضرت جعفر ؓ کے کلام سے اور نجاشی کے اس طرح جواب دینے سے بہت دکھ ہوا ، جب وہ حضرات اندر آئے تو انہوں نے نجاشی کو سجدہ نہیں کیا ، عمرو بن العاص نے نجاشی سے کہا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ، یہ آپ کو سجدہ کرنے سے بھی غرور کرتے ہیں ، نجاشی نے ان حضرات سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ تم نے مجھ کو سجدہ نہیں کیا ، اور وہ آداب شاہی بجا نہ لائے جو اور لوگ لاتے ہیں ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس کو جواب دیا کہ ہم اس ذات کو سجدہ کرتے ہیں جس نے تجھے پیدا کیا اور تجھے بادشاہت دی ، سلام کا یہ طریقہ اس وقت تھا جب ہم بتوں کی پوجا کرتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے ہم میں سچا نبی بھیجا ، اس نے ہمیں اس طرح سلام کرنے کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند تھا ۔
اور وہ لفظ سلام ہے اور یہی اہل جنت کا سلام ہے اسی گفتگو سے نجاشی سمجھ گیا کہ یہی بات حق ہے اور تورات و انجیل میں بھی یہی ہے، اس نے کہا کہ تم میں سے کون ہے جس نے حزب اللہ کہہ کر بازیاب ہونے کی چیخ کر اجازت طلب کی تھی ، حضرت جعفر ؓ نے فرمایا میں ہوں اس کے بعد آپ نے فرمایا کوئی شبہ نہیں کہ آپ زمین کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ ہیں اور اہل کتاب میں سے ہیں ، آپ کے سامنے نہ زیادہ باتیں کرنا مناسب ہے نہ کسی پر ظلم میں چاہتا ہوں ، اپنے ساتھیوں کی طرف سے تنہا جواب دوں ، آپ ان دونوں آدمیوں کو حکم دیجئے کہ ان میں سے ایک بات کرے اور دوسرا خاموش رہ کر ہماری گفتگو سنتا رہے ، یہ سن کر عمرو نے حضرت جعفر ؓ سے کہا بولو حضرت جعفر ؓ نے نجاشی سے کہا ان دونوں سے دریافت کیجئے کہ ہم کیا آزاد ہیں یا غلام عمرو نے کہا نہیں تم آزاد ہو اور معزز ہو ، نجاشی نے کہا کہ غلام ہونے (کے الزام) سے تو بچ گئے ، حضرت جعفر ؓ نے کہا کہ ان سے دریافت کیجئے کیا ہم نے ناحق کوئی خون کیا ہے جس کا قصاص ہم سے لیا جائے ، عمرو نے کہا نہیں ایک قطرہ بھی خون تم نے نہیں بہایا ، حضرت جعفر ؓ نے کہا کیا ہم نے ناحق لوگوں کا مال لیا ہے جس کی ادائیگی ہمارے ذمے ہے نجاشی نے کہا کہ اگر ایک قنطار کے برابر بھی تمہارے اوپر ہوگا تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے ، عمرو نے کہا کوئی مال نہیں ایک قیراط بھی نہیں، نجاشی نے کہا تو پھر تم ان سے کیا مطالبہ کرتے ہو ، عمرو نے کہا ہم اور یہ ایک مذہب اور ایک طریقہ پر تھے ، باپ دادا کے دین پر تھے ، انہوں نے اس دین کو چھوڑ دیا اور دوسرے دین کو اختیار کرلیا ، اس لیے ہماری قوم نے ہم کو آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ ان کو ہمارے حوالے کر دو ، نجاشی نے پوچھا مجھے سچ سچ بتاؤ وہ مذہب جس پر تم تھے وہ کیا تھا اور اب جس دین کے پیرو ہیں اب وہ کیا ہے حضرت جعفر ؓ نے کہا جس مذہب پر ہم تھے وہ شیطان کا مذہب تھا ، ہم اللہ کا انکار کرتے تھے پتھروں کو پوجتے تھے اور پلٹ کر جس دین کو ہم نے اختیار کیا وہ اللہ تعالیٰ کا دین اسلام ہے اللہ کے پاس سے اس دین اسلام کو لیے کر ہمارے پاس ایک نبی آیا اور ایک کتاب بھی ویسی ہی آئی جیسی ابن مریم (علیہا السلام) لے کر آئے تھے یہ کتاب بھی اسی کتاب کے موافق ہے، نجاشی نے کہا تم نے بڑا بول بولا ہے ، نرم رفتار پر رہو۔
اس کے بعد نجاشی کے حکم سے ناقوس بجایا گیا اور تمام عیسائی علماء ومشائخ جمع ہوگئے، جب سب اکٹھے ہوگئے تو نجاشی نے ان سے کہا میں تم کو اس خدا کی جس نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل نازل کی تھی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم کو (کتاب میں) یہ بات ملتی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور قیامت کے درمیان کوئی نبی مرسل آئے گا ، علماء نے جواب دیا بیشک خدا گواہ ہے ایسا ہے ہم کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی بشارت دی ہے اور یہ بھی فرما دیا ہے جو اس پر ایمان لایا ، وہ مجھ پر ایمان لایا اور جس نے اس کا انکار کیا اس نے میرا انکار کیا ، نجاشی نے حضرت جعفر ؓ سے کہا یہ شخص تمہیں کیا کہتا ہے ؟ کیا کرنے کا حکم کرتا ہے اور کس چیز سے منع کرتا ہے حضرت جعفر ؓ نے جواب دیا وہ ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھتے ہیں اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں برے کاموں سے روکتے ہیں ، ہمسایوں سے حسن سلوک کرنے ، قرابت داروں سے میل جول رکھنے اور یتیموں کو نوازنے کا حکم دیتے ہیں اور یہ بھی ہدایت فرماتے ہیں کہ ہم فقط اللہ ہی کی پوجا کریں جس کا کوئی شریک نہیں ہے، نجاشی نے کہا جو کلام وہ تمہارے سامنے پڑھتے ہیں اس میں سے مجھے کچھ سناؤ ۔ حضرت جعفر ؓ نے سورة عنکبوت وروم کی تلاوت کی جس کو سن کر نجاشی اور اس کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔
نجاشی کے ساتھی بولے حضرت جعفر ؓ یہ پاکیزہ کلام ہمیں اور کچھ سناؤ ، حضرت جعفر ؓ نے سورة کہف پڑھ کر سنائی ، یہ حالت دیکھ کر عمرو بن العاص نے چاہا کہ نجاشی کو حضرت جعفر ؓ پر غصہ دلائے ، اس لیے کہنے لگا یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی ماں کو گالی دیتے ہیں ، اس پر نجاشی نے حضرت جعفر ؓ سے پوچھا تم عیسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی والدہ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ حضرت جعفر ؓ نے جواب میں سورة مریم کی تلاوت کی اور مریم و عیسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ پر پہنچے تو نجاشی نے مسواک کا باریک ریزہ جیسے آنکھ کے اندر تنکا ہوتا ہے اٹھایا اور کہنے لگا خدا کی قسم ! مسیح اس بیان سے اتنے بھی زائد نہ تھے ، پھر حضرت جعفر ؓ اور ان کے ساتھیوں سے خطاب کرکے کہا جاؤ میرے ملک میں تم محفوظ ہو یعنی امن کے ساتھ رہو جو تم کو گالی دے گا یا کچھ ستائے گا اس کو سزا بھگتنا پڑے گی ، پھر کہنے لگا تم خوش رہو اور کوئی خوف نہ رکھو ، ابراہیم (علیہ السلام) کے گروہ کا آج بگاڑ نہیں ہوگا عمرو نے پوچھا نجاشی ابراہیم کی جماعت کون سی ہے ؟ نجاشی نے جواب دیا یہی گروہ اور ان کا وہ آقا جس کے پاس سے یہ آئے ہیں اور ان کی پیروی کرنے والے مشرکین نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا اور خود دین ابراہیمی (علیہ السلام) ہونے کا دعوی کیا پھر نجاشی نے وہ مال واپس کردیا جو عمرو اور اس کا ساتھی لے کر آئے ہیں اور کہا تمہارا یہ ہدیہ محض رشوت ہے اس پر اپنا قبضہ کرلو ، اللہ تعالیٰ نے مجھے بغیر رشوت کے بادشاہت عطا فرمائی ہے۔ حضرت جعفر ؓ کا بیان ہے پھر ہم لوٹ کر آئے اور بہترین مکان اور بڑی عزت کی عمدہ مہمانی میں رہے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے اسی روز مدینہ میں رسول اللہ ﷺ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہونے کے نزاع کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” ان اولی الناس بابراھیم للذین اتبعوا وھذا النبی والذین امنوا واللہ ولی المؤمنین “۔
Ayah 3:69(تفسیر) 69۔:
(آیت)” ودت طائفۃ من اھل الکتاب “ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ، جب یہودیوں نے ان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین معاذ بن جبل ؓ ، حذیفہ بن یمان ؓ ، عمار بن یاسر ؓ ، کو اپنے مذہب کی دعوت دی (آیت)” ودت طائفۃ “ کا معنی ہے اہل کتاب کی ایک جماعت نے تمنا کی (یہود نے) (آیت)” لویضلونکم “ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اور کفر کی طرف لوٹا دیں ۔ (آیت)” وما یضلون الا انفسھم وما یشعرون “۔
Ayah 3:7070۔ (آیت)” یاھل الکتاب لم تکفرون بایات اللہ “ آیات اللہ سے مراد قرآن کریم یا آپ ﷺ کی صفات جو تورات و انجیل میں بیان کی گئی ہیں۔ (آیت)” وانتم تشھدون “۔
Ayah 3:7171۔ (آیت)” یاھل الکتاب لم تلبسون الحق بالباطل “۔ تم اسلام کے ساتھ یہودیت اور نصرانیت کو کیوں ملاتے ہو ، بعض نے کہا کہ اپنے ایمان کے ساتھ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ایمان کو کیوں ملاتے ہو ، محمد ﷺ کے اوپر ایمان لانے کے انکار کے ساتھ ، عیسیٰ (علیہ السلام) کا دین حق تھا اور آپ ﷺ کا انکار باطل تھا ۔
بعض نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ تورات کی آیات کے ساتھ اپنی طرف سے لکھے ہوئے باطل کو ملا دیتے ہو (آیت)” وتکتمون الحق وانتم تعلمون “۔ کہ محمد ﷺ اور آپ کا دین حق ہے ۔
Ayah 3:7272۔ (آیت)” وقالت طائفۃ من اھل الکتاب امنوا “۔ حسن (رح) ، قتادہ (رح) ، اور سدی (رح) کا قول ہے کہ یہود خیبر اور مدینہ کے دیہات والے بارہ یہودیوں نے اس بات پر اتفاق کیا اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ دن کے شروع میں ان کے دین پر ایمان لاؤ صرف زبان سے نہ کہ اعتقاد کے ساتھ پھر دن کے دوسرے حصے (شام) انکار کر دو ، وجہ یہ بیان کرو کہ ہم نے ان کی کتاب میں اور ان کے علماء کے مشوروں میں ہم نے محمد ﷺ کو ایسا نہیں پایا جو صفات ہم نے تورات میں پڑھی ہیں پھر ان کا کذب ظاہر ہوجائے گا ، جب ایسا کرو گے تو ان کے ساتھ رہنے والے صحابہ کو شک وشبہ پر جائے گا تو پھر ان سے کہو کہ ہم اہل کتاب ہیں اور ہم اس کو بہتر جانتے ہیں تو وہ تمہارے دین کی طرف لوٹ کر آجائیں گے ۔
مجاہد (رح) ، مقاتل (رح) ، فرماتے ہیں کہ یہ معاملہ قبلہ کے متعلق ہوا تھا کہ جب بیت المقدس سے کعبہ کی طرف رخ پھیرا گیا تو یہود کو یہ بہت شاق ہوا ، کعب بن اشرف نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ قبلہ کے معاملے میں جو محمد پر نازل ہوا ، اس کو مانو اور دن کے اول حصہ میں کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو ، پھر دن کے آخری حصے میں تم اس کا انکار کرو اور اپنے قبلہ بیت المقدس کی طرف لوٹ آؤ ، شاید کہ وہ کہیں کہ یہ اہل کتاب ہیں ، یہ زیادہ جانتے ہیں پس وہ ہمارے قبلہ کی طرف لوٹ آئیں گے ، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ ﷺ کو یہ راز بتلا دیا اور یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” بالذی انزل علی الذین امنوا وجہ النھار “۔ دن کے اول حصے کو ” وجہ “ سے تعبیر کیا کیونکہ چہرہ محاسن میں سے ہے اور دیکھنے والے کو سب سے پہلے وہی دکھتا ہے (آیت)” واکفروا اخرہ لعلھم یرجعون “۔ وہ شک کرنے لگیں گے اور اپنے دین کی طرف لوٹ آئیں گے ۔
Ayah 3:73(تفسیر) 73۔:
(آیت)” ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم “۔ اس کا عطف ما قبل ” امنوا “ پر ہے جہاں یہود کا قول بعض کا بعض کے ساتھ ہے (آیت)” ولا تؤمنوا “ مطلب یہ ہے ” ولا تصدقوا “ کہ تم تصدیق نہ کرو (آیت)” الا لمن تبع دینکم “ مگر انہی لوگوں کو جو تمہارے دین پر چلیں اس کا مطلب ” وافق ملتکم “ جو تمہاری ملت کے موافق ہے ۔ (آیت)” لمن “ میں لام ” من “ موصولہ پر داخل ہے، مطلب یہ ہوگا (آیت)” لا تصدقوا الا لمن تبع دینکم الیھودیۃ “ تم ان کی تصدیق نہ کرنا مگر وہ لوگ جو تمہارے دین یہود کا اتباع کریں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” قل عسی ان یکون ردف لکم “۔ اس کا معنی ہے ” ردفکم “ یہاں لام زائدہ ہے جیسا کہ ” لمن تبع “ میں لام زائدہ ہے ، (آیت)” قل ان الھدی ھدی اللہ “۔ یہ خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے گویا اس کا بیان آپ کا بیان ہے ، پھر اس کلام کے متعلق آئمہ کا اختلاف ہے کہ یہ جملہ درمیان کلام میں لانے کی کیا وجہ ہے ؟ پھر یہ جملہ معترضہ ہوگا اور اس کے ساتھ جو متصل کلام ہے اس سے یہود کی خبر دینی مقصود ہے ، اب اس آیت کا معنی یہ ہوگا کہ تم ایمان نہ لاؤ مگر ان لوگوں پر جو تمہاری پیروی کریں اور تم ایمان نہ لاؤ جو تمہارے مثل نشانیاں لائے مثلا علم ، کتاب (زبور) حکمت اور نشانیاں مثلا من وسلوی سمندر میں بارہ راستوں کا بن جانا اور ان جیسی کرامات اور نہ تم ایمان لاؤ جو تمہارے رب کے بارے میں جھگڑے کیونکہ تمہارا دین سب سے زیادہ صحیح اور درست ہے ، یہ مجاہد کا قول ہے بعض نے کہا کہ یہودا اپنے ماتحتوں کو کہتے تھے کہ تم ایمان نہ لاؤ مگر ان لوگوں پر جو تمہاے دین کی اتباع کرے ۔
(آیت)” ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم “ یوتی سے مراد علم ہے ، یہاں پر لامحذوف ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” یبین اللہ لکم ان تضلوا “ اصل میں ” لئلا تضلوا “ تھا ، وہ یہ کہہ رہے تھے کہ تم ان کی تصدیق نہ کرو تاکہ وہ علم نہ جان سکیں جو تم جانتے ہو تاکہ تم ان پر علم میں افضل ہی رہو اور اس لیے بھی ان کی تصدیق نہ کرنا کہ خدا کے سامنے تمہارے مقابلہ میں ان کو غلبہ حاصل نہ ہوجائے ، اور وہ قیامت کے دن یہ نہ کہنے لگیں کہ تم کو ہمارے دین کا حق ہونا ، معلوم تھا مگر تم ایمان نہیں لائے یہ توجیہ ابن جریج (رح) کے نزدیک ہے ۔
حسن (رح) ، اور اعمش (رح) نے ” ان یوتی “ الف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں یہ قول یہود کا ہوگا پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ آپ کہیں اے محمد ﷺ (آیت)” ان الھدی ھدی اللہ “۔ اس صورت میں ” ان یوتی “ (جحد) کے ہوگا ، مطلب یہ ہوگا کہ تمہاری طرح کسی اور کو نہیں عطا کیا گیا جیسا کہ تم اے امت محمدیہ کو عطا کیا گیا ۔
” اویحاجوکم عند ربکم “۔ مگر یہ کہ یہود تم سے لڑیں اور وہ تمہیں کہیں کہ ہم آپ سے افضل ہیں ، اللہ کے اس فرمان ” عند ربکم “ سے مراد ہے ” عند فعل ربکم بکم “ ہے تمہارے پاس تمہارے رب کا فعل قیامت کے دن خدا کے سامنے تم پر کوئی بھی غالب نہیں آسکے گا ، یہ معنی حضرت سعید بن جبیر (رح) ، حسن (رح) ، کلبی (رح) ، اور مقاتل (رح) کا ہے ، فراء (رح) ، فرماتے ہیں کہ ” اویمعنی ” حتی “ کے ہو، جیسا کہ کہاجاتا ہے ” تعلق بہ اویعطیک حقک “ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اے امت محمدیہ تمہیں دین اور حجت میں سے جو کچھ عطا کیا گیا وہ کسی اور کو نہیں دیا گیا ، یہاں تک کہ وہ اپنے رب کے ہاں اس بارے میں جھگڑا کریں، ابن کثیر (رح) نے ” ان یوتی “ مد کے ساتھ پڑھا ہے ، اس صورت میں یہ استفہام ہوگا اور جملہ مختصر ہوگا ، تقدیری عبارت اس طرح ہوگی ، ” ان یوتی احد مثل ما اوتیتم یا معشر المؤمنین حسدوکم “ پس آپ فرما دیجئے فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر اگر وہ تم سے جھگڑا کریں تو ان کو کہہ (آیت)” ان الھدی ھدی اللہ “ اور بھی جائز ہے کہ کہا جائے کہ یہود کا کلام یہاں پورا ہوتا ہے ۔ (آیت)” لعلم یرجعون “” ولاتمومنوا “۔
اللہ کے کلام سے لوگوں کے دلوں کو ثابت قدم رکھے تاکہ وہ یہود کی باتوں سے تشکیک میں نہ پڑیں اور ان کو کہیں اے مؤمنین کی جماعت تم تصدیق نہ کرو مگر جو تمہارے دین کی تابعداری کرے اور نہ تصدیق کرو کہ تم جیسا علم دین ، فضل کسی کو عطا نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان لوگوں کو سچ مانو جو تمہارے دین میں جھگڑتے ہیں (آیت)” قل ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ واسع علیم “۔ یہ تمام آیت اللہ کی طرف سے مؤمنین کو خطاب ہے تاکہ یہود کے شبہ واشکالات سے بچتے رہیں ۔
Ayah 3:74(تفسیر) 74۔:
(آیت)” یختص برحمتہ “ ۔ رحمت سے مراد نبوت ہے (آیت)” من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم “۔
Ayah 3:7575۔ (آیت)” ومن اھل الکتاب من ان تامنہ بقنطار یؤدہ الیک “۔ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ یہود میں امانت و خیانت بہت زیادہ تھی ، قنطار سے مراد مال کثیر ہے اور دینار سے مراد تھوڑا سا مال ہے ، کہا جائے گا کہ ان میں سے بعض لوگ تو وہ تھے جو کثیر مال کی امانت بھی واپس کردیتے تھے اور بعض لوگ تو وہ تھے جو خیانت کرتے تھے تھوڑا سامال بھی واپس نہیں کرتے تھے ، مقاتل (رح) ، فرماتے ہیں (آیت)” ومن اھل الکتاب من ان تامنہ بقنطار یؤدہ الیک “ سے مراد اہل کتاب کے مؤمنین ہیں ، جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ۔
(آیت)” ومنھم ان تامنہ بدینار لایؤدہ الیک “۔ اس سے مراد کفار یہود جیسے کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی ہیں ، جویبر نے ضحاک (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں (آیت)” ومن اھل الکتاب من ان تامنہ بقنطار یؤدہ الیک “۔ کہ اس آیت سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص نے بارہ سو اوقیہ سونا امانت رکھی ، انہوں نے وہ امانت پوری کی پوری ادا کردی اور (آیت)” ومنھم من ان تامنہ بدینار الا یؤدہ الیک “۔ سے مراد نخاص بن عاز وراء ہے کہ قریش کے ایک آدمی نے اس کے پاس ایک دینار امانت رکھی تو اس نے خیانت کی ، (آیت)” یؤدہ الیک “ ، ابو عمرو (رح) ، ابوبکر (رح) ، وحمزہ (رح) ، ” یؤدہ ، لا یؤدہ ، ونصلہ ، ونؤتہ ، ونولہ “ ھاء کے سکون کے ساتھ اور ابوجعفر (رح) وقالون اور یعقوب (رح) نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے اشباع کے ساتھ پڑھا ہے اور جن حضرات کے ہاں ھاء ساکن ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ جزم کے مقام میں ہے اور وہ یاء ہے جو کسرہ پڑھتے ہیں وہ صرف یاء برقرار رکھتے ہوئے اس پر کسرہ ڈالتے ہیں اور جو اشباع کرتے ہیں ، وہ اس کو اپنی اصل حالت پر رکھتے ہیں کیونکہ اس میں اصل ھاء اشباع ہی ہے ۔ ’(آیت)” الا ما دمت علیہ قائما ‘ ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ” قائما علیہ “ سے مراد ” ملحا “ ہے یعنی جب تک کہ تم سخت تقاضا نہ کرو ، اور تقاضے پر جم نہ جاؤ ، ضحاک (رح) کا قول یہی ہے، بعض نے کہا کہ اس سے مراد کہ جب تم نے کوئی چیز ودیعت رکھی تم نے اس کو رجوع کیا اور اس کے سر پر قائم رہا اور اس کے پاس سے اس وقت تک جدا نہیں ہوا جب تک اس نے آپ کی امانت لوٹا نہ دی، اگر تم اس سے جدا ہوجاتے اور مؤخر کرلیتے تو وہ امانت واپس کرنے سے انکار کرجاتا اور امانت ادا نہ کرتے ، ” ذلک “ یہ کسی اشیاء کو حلال قرار دینا اور خیانت کرنا اس وجہ سے تھا کہ وہ کہتے (آیت)” بانھم قالو الیس علینا فی الامیین سبیل “۔ یہودی کہتے کہ عرب کا مال ہمارے لیے حلال ہے اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ (آیت)” ما علی المحسنین من سبیل “ ۔ اور یہود یہ بھی کہتے ہیں کہ عرب چونکہ ہمارے دین پر نہیں ہیں اور ہماری کتاب میں ان کے حقوق بھی نہیں بلکہ یہودی اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے مذہب والوں کی حق تلفی کو حلال جانتے ہیں ، کلبی (رح) نے کہا کہ یہود کہتے ہیں کہ سارے اموال ہمارے ہیں اور جو ان لوگوں کے پاس اموال ہیں وہ بھی ہمارے ہی ہیں ، اگر ہم ان پر ظلم کرکے یا غصب کرکے لیں گے تو ان کے اموال کو ہم سے کوئی چھڑانے والا نہیں ہے ۔
حسن ابن جریج (رح) اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں یہود کے چند لوگوں نے مسلمانوں کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں بیعت کی تھی جب یہ لوگ اسلام لے آئے تو انہوں نے زمانہ جاہلیت کے عہد کے مطابق یہود سے اپنے مال کا مطالبہ کیا تو یہود کہنے لگے کہ ہمارے اوپر تمہارا کوئی حق نہیں اور نہ ہی ہم وہ ادا کریں گے کیونکہ تم نے ہمارے دین کو چھوڑ دیا اور جو عہد تمہارے اور ہمارے درمیان تھا وہ ختم ہوگیا اور وہ حق ہم اپنی کتابوں میں نہیں پاتے اللہ عزوجل نے ان کی تکذیب فرمائی اس فرمان سے (آیت)” ویقولون علی اللہ الکذب وھم یعلمون “۔ پھر فرمایا کہ اس آیت میں ان کی تردید ہے ۔
Ayahs 3:76–77(تفسیر) 76۔ :
” بلی “ یہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو بلکہ اس کے علاوہ تمہارے لیے راستہ ہے پھر اس کلام سے ابتدا کی (آیت)” من اوفی “ لیکن کون شخص ہے جو ایفاء وعدہ کرے ” بعھدہ “ اللہ کے ساتھ وہ وعدہ جو تورات میں موجود ہے کہ ہم محمد ﷺ اور قرآن کریم۔ پر ایمان لائیں گے اور امانت ادا کریں گے بعض نے کہا کہ ” بعھدہ “ میں ہ ضمیر ” اوفی “ کی طرف راجع ہے ” واتقی “ اور بچو کفر سے خیانت سے اور نقض عہد سے (آیت)” فان اللہ یحب المتقین “۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں ہیں جو پائی جائیں جس میں وہ خالص منافق ہوگا اور جب تک اس کے اندر ان خصلتوں میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی وہ منافق ہوگا ۔
یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ نہ دے ، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو دھوکہ دے اور جب جھگڑا کرے تو گالی دے ۔
Ayah 3:78(تفسیر) 78۔:
(آیت)” وان منھم لفریقا “ اس سے مراد اہل کتاب ہے، فریقا کا مطلب جماعت ہے اور وہ کعب بن اشرف ومالک بن صیف ، حی بن اخطب ، ابو یاسر ، شعبہ بن عمر والشاعر ہیں ۔ (آیت)” یلوؤن السنتھم بالکتاب “ وہ اپنی زبان کو نازل شدہ الفاظ سے اپنے اختراع کردہ الفاظ کی طرف پھیر دیتا ہے ، آپ ﷺ کی صفات جو تورات میں بیان کی گئی اور آیت رجم وغیرہ کو یہ چھپاتے تھے، جیسا کہ کہا جاتا ہے ، ” لوی لسانہ عن کذا “ تبدیل کیا اس کی زبان نے ۔ ” لتحسبوہ “ تاکہ تم گمان کرو کہ یہ کتاب کا جزو ہے تحریف شدہ نہیں۔ (آیت)” من الکتاب “۔ کتاب میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے (آیت)” وما ھو من الکتاب ویقولون ھو من عند اللہ وما ھو من عنداللہ یقولون علی اللہ الکذب “ جان کر وہ جھوٹ بولتے ہیں ، (آیت)” وھم یعلمون “۔ اور وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں ، ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت یہود و نصاری سب کے حق میں نازل ہوئی تھی ، کیونکہ انہوں نے تورات و انجیل میں تحریف کی اور کتاب میں اس کو ملا لیا تھا جو کتاب میں نہیں تھا ۔
Ayah 3:7979۔ (آیت)” ما کان لبشر ان یوتیہ اللہ الکتاب “۔ مقاتل (رح) ، اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” ما کان لبشر “ سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں ، اور یہ اس وجہ سے کہ نجران کے نصاری یہ کہتے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس رب بنالیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ان یؤتیہ اللہ الکتاب “ کتاب سے انجیل مراد ہے ، یہی قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور عطاء کا ہے اور (آیت)” ما کان لبشر “ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ۔ (آیت)” ان یؤتیہ اللہ الکتاب “۔ سے مراد قرآن کریم۔ ہے ، یہ قول اس وجہ سے لیا ہے کہ ابو رافع قرظی یہود میں سے اور اہل نجران کے نصاری کے رئیس دونوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ اے محمد ﷺ کیا آپ اس بات کا ارادہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کی عبادت کریں اور آپ کو اپنا رب قرار دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی پناہ میں تمہیں اللہ کے علاوہ کسی اور کو پوجنے کی دعوت دوں ، اللہ نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی اس کے لیے مجھے بھیجا ہے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ، (آیت)” وما کان لبشر “ کسی بشر کے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے (آیت)” مایکون لنا ان نتکلم بھذا “ یعنی ہم میں کسی کے لیے مناسب نہیں، بشر تمام بنی آدم پر بولا جاتا ہے اس کا واحد نہیں آتا جیسے قوم اور جیش کا واحد نہیں آتا اور یہاں اس کو واحد اور جمع کی جگہ پر رکھا گیا ہے (آیت)” والحکم “ سے مراد فہم وعلم ہے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد حکومت ہے ” والنبوۃ “ بلند مقام جس سے خبر دی جاتی ہے ۔ (آیت)” ثم یقول للناس کونوا عبادا لی من دون اللہ ولکن کونوا “ لیکن وہ کہتے کہ تم ربانی ہوجاؤ ۔
(ربانیین کی تشریح)
” ربانیین “ علی ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، حسن ؓ کے نزدیک فقہاء و علماء ہیں ، قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ حکماء و علماء ہیں ، سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ وہ عالم جو اپنے علم پر عمل کرے ، سعید بن جبیر ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ اس سے مراد فقہاء معلمین ہیں ، بعض نے کہا کہ ربانی وہ ہے جو لوگوں کی تربیت چھوٹی عمر میں کریں ان کے بڑے ہونے سے پہلے عطاء (رح) نے فرمایا کہ باوقار دانش مند علماء جو اللہ کی طرف سے مخلوق کے خیر خواہ ہوں ۔
ابوعبیدہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک عالم سے سنا کہ ربانی وہ شخص ہے جو حلال و حرام اور امر ونہی کو جانتا ہو ، امت کے گزشتہ اور آئندہ احوال سے واقف ہو اور بعض نے کہا کہ ربانی حبر سے درجہ میں بڑا ہوتا ہے اور احبار علماء سے درجہ میں بڑا ہو، ربانی وہ ہے جو علم و بصیرت کے ساتھ لوگوں کو جمع کرے ، مؤرخین فرماتے ہیں کہ ربانی وہ شخص ہے جو رب کی طرف منسوب ہو (جسے ہم اللہ والا بولتے ہیں) یہ اصل میں لفظ (ربی) تھا پھر اس میں الف بڑھا دیا تفخیم کے طور پر ، پھر نون داخل کیا الف کو ساکن کرکے جیسا کہ لفظ صنعانی ، بھرانی ہے، مبرد فرماتے ہیں کہ ہم ارباب علم ہیں یہ نام اس وجہ سے کہا گیا کہ یہ اپنے اعمال سے علم کی تکمیل کرتے ہیں اور متعلمین کو تربیت دیتے ہیں ۔
بڑے بڑے علوم سے چھوٹے چھوٹے علوم کی تدریجی تعلیم دیتے ہیں اور ہر وہ شخص جو کسی چیز کی درستگی اور اس کی تکمیل کرنا اور ” ربہ یربہ “ سے ہے ، اس کا واحد ربان ہے جیسا کہ ایان ، عطشان ، شبعان ، غرثان ، پھر اس کے ساتھ یاء نسبتی لگا دی گئی جیسے کہا جاتا ہے الحیانی ورقبانی ، حضرت علی ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ” ربنیین “ وہ لوگ ہیں جو اپنے اعمال سے علم کی تکمیل کرتے ہیں ، محمد بن حنفیہ (رح) فرماتے ہیں جس دن حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ دنیا سے رحلت فرما گئے تو فرمایا کہ اس امت کا ربانی فوت ہوگیا ۔ ” بما کنتم “ یہ ” بما انتم “ کے معنی میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” من کان فی المھد “ جیسا کہ کون ہے گہوارہ میں ۔ (آیت)” تعلمون الکتاب “ ابن عامر (رح) ، عاصم (رح) ، اور کسائی (رح) ، نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور قراء نے ” تعلمون “ پڑھا ہے بمعنی علم (آیت)” وبماکنتم تدرسون “۔ تم پڑھتے ہو۔
Ayah 3:80(تفسیر) 80۔:
(آیت)” ولا یامرکم “ ابن عامر (رح) ، حمزہ (رح) ، یعقوب (رح) ، نے راء کے فتحہ کے ساتھ ” یامرکم “ پڑھا ہے اور اس کا عطف (آیت)” ثم یقول “ پر کیا ہے مطلب یہ ہوگا کہ کوئی بشر اس طرح حکم نہیں کرتا ، یا اضمار قبل الذکر ہے تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اور نہ ہی تم کو کوئی اس طرح حکم کرتا ہے اور باقی قراء نے ” یامرکم “ پڑھا ہے ، معنی ہوگا کہ تم کو اللہ نے ایسا حکم تو نہیں دیا ، ابن جریج اور ایک جماعت نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ تمہیں محمد ﷺ نے ایسا حکم نہیں دیا ۔ (آیت)” ان تتخذوا الملئکۃ والنبیین اربابا “۔ قریش اور صائبین کا فعل یہ تھا کہ وہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ، اور یہود و نصاری بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہتے تھے ، (نعوذ باللہ) ۔۔۔۔۔ (آیت)” ایامرکم بالکفر بعد اذا انتم مسلمون “ ان کو بطور استفہام تعجب و انکار کے لیے ایسے فرمایا ۔
Ayah 3:8181۔ (آیت)” واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حکمۃ “۔ حمزہ (رح) نے لما کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے لما فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے جو اس پر کسرہ پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ لام اضافت ہے جو موصول پر داخل ہے ، اس کا معنی یہ ہوگا اللہ نے انبیاء (علیہم السلام) سے عہد لیا تھا کہ جو کتاب میں نے تم کو دی اور حکمت اور بیشک وہ اصحاب الشرائع ہیں اور جنہوں نے لام پر فتحہ پڑھا ہے تو ان کے نزدیک ” للذی اتیتکم “ بمعنی خبر کے ہوگا ، بعض نے کہا کہ جزاء کے معنی میں ہے ، عبارت یوں ہوگی ” لئن اتیتکم ومھما اتیتکم “ جواب جزاء ” لتومنن بہ “ ہے اور شرط ” لما اتیتکم “ ہے ، نافع اور اہل مدینہ کے نزدیک ” اتیناکم “ ہے اس صورت میں یہ تعظیم کے لیے ہوگا ، جیسا کہ (آیت)” واتینا داؤد زبورا “۔ ۔۔۔۔۔ واتیناہ الحکم صبیا “۔ اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے تاکہ یہ خط کے موافق ہوجائے ۔
(اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے عہد ومیثاق لیا)
اس آیت کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے ، بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر انبیاء کرام (علیہم السلام) سے عہد لیا کہ وہ کتاب اللہ اور رسالت کی تبلیغ اپنے بندوں تک پہنچائیں اور بعض بعض کی تصدیق کریں اور ہر نبی سے یہ عہد لیا کہ آنے والے نبی پر ایمان لائیں جو ان کے بعد آئیں گے اور ان کی مدد فرمائیں گے ، اگر ان کے زمانے کو پایا ، اگر وہ پیغمبر کو نہ پا سکے تو وہ اپنی امت سے عہد لے کر وہ ان کی مدد کریں گے اور ان کی مدد فرمائیں گے ، اگر ان کے زمانے کو پایا ، اگر وہ پیغمبر کو نہ پا سکے تو وہ اپنی امت سے عہد لے کہ وہ ان کی مدد کریں گے اگر وہ آنے والے نبی کو پائیں ، موسیٰ (علیہ السلام) سے عہد لیا کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائیں گے اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے عہد لیا کہ وہ آپ ﷺ پر ایمان لائیں ۔
بعض حضرات نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) سے آپ ﷺ کے متعلق عہد لیا ، اب اس بات میں اختلاف ہوا کہ یہ کس نے کہا ، بعض نے کہا کہ یہ میثاق اہل کتاب سے لیا گیا جن کی طرف انبیاء کرام (علیہم السلام) کو بھیجا گیا ، یہ قول مجاہد اور ربیع (رح) ، کا ہے (آیت)” ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ ولتنصرنہ “۔ حضرت محمد ﷺ کو اہل کتاب کی طرف مبعوث فرمایا ” دون النبیین “ نہ کہ نبیین کی طرف جیسا کہ عبداللہ بن مسعود اور ابی بن کعب کی قراۃ دلالت کرتی ہے (آیت)” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتاب “ معروف قراۃ (آیت)” واذ اخذ اللہ میثاق النبیین “ ہے ، اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہم السلام) سے یہ عہد لیا تھا کہ تم اپنی اپنی امتوں سے یہ عہد لو کہ تم ایمان لانا محمد ﷺ پر اور ان کی تصدیق کرنا اور ان کی مدد کرنا ، یہاں صرف انبیاء کرام (علیہم السلام) کے عہد کو ذکر کیا کیونکہ تابع کے ذکر سے متبوع خود اس میں شامل ہوجاتا ہے ۔
اور یہی قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا ہے ۔
علی ابن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) اور ان کے بعد جو نبی بھی دنیا پر آیا اس سے میثاق اور عہد لیا گیا کہ وہ محمد ﷺ پر ایمان لائے گا اور ان انبیاء کرام (علیہم السلام) نے اپنی اپنی امتوں سے عہد لیا کہ وہ آپ ﷺ پر ضرور بضرور ایمان لائے گا ، اگر ان کی زندگی میں آپ ﷺ مبعوث ہوئے تو ان کی ضرور مدد کریں گے۔ (آیت)” ثم جاء کم رسول مصدق “ سے مراد محمد ﷺ ہیں (آیت)” لتومنن بہ ولتنصرنہ قال “ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے ذریت کو نکالا اس وقت انبیاء کرام (علیہم السلام) سے عہد لیا اور انبیاء کرام (علیہم السلام) اس دن چراغوں کی مانند تھے ، اس وقت محمد ﷺ کے بارے میں عہد لیا (آیت)” قالء اقررتم واخذتم علی ذالکم اصری “ تم اس عہد کو قبول کرو “ والاصر “ سے مراد پکا عہد ہے ۔ (آیت)” قالوا اقررنا قال “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فاشھدوا “ تم گواہ رہو اپنے آپ پر اور اپنے اتباع پر ، (آیت)” وانا معکم من الشاھدین “ میں تمہارے اوپر اور ان پر شاہد ہوں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ، (آیت)” فاشھدوا “۔ کا معنی ہے تم جان لو، سعید بن المسیب ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ سے فرمایا کہ تم گواہ رہو ، یہ کنایہ ہے غیر مذکور سے ۔
Ayah 3:82(تفسیر) 82۔:
(آیت)” فمن تولی بعد ذلک “۔ اس اقرار کے بعد جس نے روگردانی کی ۔ (آیت)” فاولئک ھم الفاسقون “ جو نافرمان ایمان سے خارج ہوئے ۔