Ayah 3:144144۔ (آیت)” ولقد کنتم تمنون الموت من قبل ان تلقوہ “۔ مسلمانوں میں سے بعض لوگ اس کی تمنا کرتے تھے کہ بدر کے دنوں کی طرح کوئی دن آئے تاکہ ہم قتال کریں اور ہم شہادت کا رتبہ حاصل کریں ، اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے احد کا دن دیا (آیت)” تمنون الموت “ موت کے سبب کی تمنا کر رہے تھے اور وہ ہے جہاد کرنا موت سے پہلے (آیت)” فقد رائیتموہ “ یعنی تم اس کے اسباب دیکھ لو (آیت)” وانتم تنظرون “ اگر یہ کہا جائے کہ اس فرمان کا کیا معنی ہے کہ پہلے (آیت)” فقد رائیتموہ “ فرمایا پھر اس کے بعد (آیت)” وانتم تنظرون “ فرمایا حالانکہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے ، دونوں کا ذکر تاکید کے طور پر ہے پہلے ” رائیتموہ “ سے مراد جاننا جب کہ ” تنظرون “ کا مطلب یہ ہے کہ تم آنکھوں سے دیکھ لو جان لو گے جسے ” عین الیقین “ کہا جاتا ہے ، بعض نے کہا کہ ” وانتم تنظرون “ کا مطلب ہے کہ جب تم محمد ﷺ کو دیکھ لو گے ۔
(جنگ احد کا واقعہ)
(تفسیر) اہل مغازی نے بیان کیا ہے کہ احد کی گھاٹی میں حضور اقدس ﷺ سات سو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی جمعیت کے ساتھ اترے اور عبداللہ بن جبیر ؓ کو (پچاس) پیادوں کا سردار بنا کر گھاٹی پر مقرر فرما دیا ، جیسا کہ حضرت براء بن عازب ؓ کی سابق روایت میں گزر چکا ہے ، اب قریش آئے میمنہ پر خالد بن ولید اور میسرہ پر عکرمہ بن ابی جہل کمانڈر تھے عورتیں ان کے ساتھ تھیں جو دف بجا بجا کر شعر گا رہی تھیں ، گھمسان کارن پڑا حضور اقدس ﷺ نے دست مبارک میں تلوار لے کر فرمایا یہ تلوار لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا کہ دشمن کو مارے اور خوب خون بہائے ، ابودجانہ سماک بن حرسہ انصاری ؓ نے وہ تلوار لے کر سرخ عمامہ باندھ کر اٹھلا کر چلنے لگے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا یہ چال اللہ کو ناپسند ضرور ہے مگر اس موقع پر درست ہے مشرکوں کے سرداروں کو ابو دجانہ نے اس تلوار سے قتل کیا ، رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے مشرکوں پر حملہ کیا اور ان کو مار بھگایا اور اللہ نے مسلمانوں کو فتح عنایت کی اور اپنا وعدہ پورا کیا ، مسلمانوں نے کافروں کو تلوار سے کاٹ کر رکھ دیا یا میدان جنگ میں ان کو بھگا دیا اور خوب قتل کیا ۔
مشرکوں کے سواروں نے مسلمانوں پر تین بار حملہ کیا لیکن ہر بار ان پر تیروں کی بوچھاڑ کی گئی اور ان کو پسپا ہونا پڑا ، تیر انداز مسلمانوں کو پشت کی حفاظت کر رہے تھے اور مشرکوں کے سواروں کو تیروں کا نشانہ بنا رہے تھے ہر تیر یا گھوڑے کے لگتا تھا یا آدمی کے آخر کار سب پشت دے کر بھاگے ۔
حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے مشرکوں کے علمبردار طلحہ بن طلحہ کو قتل کردیا اور مسلمانوں تکبیر کہہ کر کافروں کو خوب ہی مارنے لگے ، تنیجہ میں کافروں کی صفیں پراگندہ ہوگئیں ، حضرت زبیر بن عوام ؓ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ ہندہ اور اس کے ساتھ والیاں بھاگتی ہوئی تیزی کے ساتھ پہاڑ پر جا رہی تھیں ان کی پازیبیں (یعنی پنڈلیاں) کھلی ہوئی تھیں ، ان کی گرفتاری سے کوئی مانع نہ تھا جب حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ کے ساتھ والے تیر اندازوں نے دیکھا کہ دشمن پرے چھٹ گئے تو لوٹنے کے لیے یہ بھی میدان جنگ کی طرف چل دیئے جیسا کہ حضرت براء ؓ کی سابق حدیث سے واضح ہوچکا ہے ۔
تیر اندازوں کے کمانڈر یعنی حضرت عبداللہ کے ساتھ دس سے کم آدمی رہ گئے، خالد بن ولید نے جب پہاڑ کی طرف نگاہ کی اور پہاڑ کے محافظ کم نظر آئے اور مسلمانوں کو لوٹ میں مشغول پایا اور ان کی پشت خالی دکھائی دی تو کافروں کے سواروں کو چیخ کر آواز دی اور مسلمانوں کے پیچھے آکر حملہ کیا عکرمہ ؓ بھی خالد کے پیچھے سے آگئے آخر مسلمانوں کو کافروں نے بھگا دیا اور قتل کیا عبداللہ بن جبیر ؓ اپنی جگہ جمے رہے یہاں تک کہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے، کافروں نے آپ کے کپڑے اتار لیے اور بہت بری طرح سے مثلہ کیا ، جب مسلمان لوٹ کھسوٹ میں مشغول تھے اسی وقت خالد بن ولید ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں پر پشت کی طرف سے حملہ کیا ، مار بھگایا اور بےتامل قتل کیا ، مسلمان ہر طرف سے پراگندہ ہوگئے جو مال لوٹا تھا اس کو بھی چھوڑ گئے جن لوگوں کو قید کیا تھا وہ بھی چھوڑنا پڑے ، شروع دن میں ہوا پروا تھی پھر (پچھلے دن میں) پچھمی ہوگئی ، بھاگتے لوگوں کے تین حصے ہوگئے، ایک حصہ زخمی ہوا ایک حصہ قتل ہوا اور ایک حصہ بھاگ گیا ،۔
بیہقی نے حضرت مقداد ؓ کی روایت سے لکھا ہے حضرت مقداد ؓ نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے حضور اقدس ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ، آپ اپنی جگہ سے بالشت بھر نہیں ہٹے دشمن کے سامنے مقابلہ پر رہے، آپ کی طرف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ایک جماعت (حفاظت کے لیے) لوٹتی رہی اور کبھی اس میں شگاف پڑتے رہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ برابر کھڑے کمان سے تیر پھینک رہے تھے اور پتھر مار رہے تھے ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (اس روز) پندہ آدمی جمے رہے ۔ آٹھ مہاجر ، ابوبکر ؓ ، عمر ؓ ، علی ؓ ، طلحہ ؓ ، زبیر ؓ ، عبدالرحمن بن عوف ؓ ، سعد بن ابی وق اس ؓ ، اور ابو عبیدہ بن جراح ؓ ، اور سات انصار ، حباب بن منذر ؓ ، ابودجانہ ؓ ، عاصم بن ثابت ؓ ، حارث بن صمہ ؓ ، سہل بن حنیف ؓ ، محمد بن مسلمہ ؓ ، اور سعد بن معاذ ؓ ، ، بعض روایات میں سعد بن معاذ کی جگہ سعد بن عباد ؓ ، کا ذکر ہے ۔
عبدالرزاق (رح) ، نے مرسلا زہری (رح) ، کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر تلوار کے ستر وار ہوئے اور کوئی ضرب کارگر نہ ہوئی ، اللہ نے محفوظ رکھا ، عتبہ بن وقاص نے حضور ﷺ پرچار پتھر مارے جن سے آپ کا اگلا دایاں نچلا دانت ٹوٹ گیا اور زیریں لب زخمی ہوگیا ، حافظ نے کہا اس سے مراد وہ دانت جو کاٹنے والے اور چبھنے والے دانتوں کے درمیان تھا ، حاطب بن ابی بلتعہ ؓ ، کا بیان ہے میں نے عتبہ کو قتل کردیا اور اس کا سر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لا کر حاضر کردیا ، آپ ﷺ کو اس سے خوشی ہوئی اور میرے لیے دعا فرمائی ۔
عبداللہ بن شہاب زہری نے حضور ﷺ کے سر مبارک کو زخمی کردیا ، اس واقعہ کے بعد یہ شخص مسلمان ہوگیا تھا ، چہرہ مبارک پر خون بہنے لگا یہاں تک کہ ریش اقدس خون سے تر ہوگئی ، عبداللہ بن قیمہ کے پتھر سے رخسار مبارک زخمی ہوگیا اور خود کی دوکڑیاں رخسار میں گھس گئیں عبداللہ بن قمیہ حضور ﷺ کو قتل کرنے کے ارادہ سے آگے آیا لیکن مصعب بن عمیر ؓ ، نے مدافعت کی ، آپ ﷺ کے علمبردار تھے ابن قیمہ نے انکو شہید کردیا اور یہ سمجھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو شہید کردیا ، لوٹ کر گیا تو اپنے لوگوں سے کہا میں نے محمد ﷺ کو قتل کرد یا ، اس پر ایک چیخنے والے ندا کی محمد مارے گئے کہا جاتا ہے کہ یہ پکارنے والا ابلیس تھا طبرانی نے حضرت ابوامامہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن قمیہ سے فرمایا تھا ، اقماک اللہ ، اللہ تجھے بیخ بن سے ہلاک کر دے ۔
اس بددعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ کسی پہاڑی بکرے کو اللہ نے اس پر مسلط کردیا اور بکرے نے سینگ مارتے مارتے اس کو پارہ پارہ کردیا ، رسول اللہ ﷺ اٹھ کر ایک چٹان پر چڑھنا چاہتے تھے لیکن تہ برتہ دو زرہیں پہنے تھے اس لیے خود چڑھ نہ سکے، حضرت طلحہ ؓ ، نے نیچے بیٹھ کر اپنے اوپر رسول اللہ ﷺ کو اٹھا لیا اور اس طرح آپ چٹان پر پہنچ گئے ، حضور ﷺ نے فرمایا طلحہ ؓ ، نے واجب کردیا (یعنی اپنے جنت کو) ہندہ اور اس کے ساتھ دوسری عورتیں شہیدوں کے ناک کان کاٹنے لگیں یہاں تک کہ ہندہ نے ان ہار بنا کر وحشی کو دیئے اور حضرت حمزہ ؓ ، کا جگر نکال کر چبایا مگر نگل نہ سکی تھوک دیا ۔
ادھر رسول اللہ ﷺ لوگوں کو پکار رہے تھے اللہ کے بندو (اوپر آؤ) آواز سن کر حضور ﷺ کے پاس تیس آدمی جمع ہوگئے جن میں سے ہر ایک کہہ رہا تھا میرا چہرہ (زخمی ہو) آپ ﷺ کا چہرہ نہ ہو ، میری جان (کام آئے) آپ کی جان ایسی نہ ہو (یعنی آپ محفوظ رہیں ، میں قربان ہوجاؤں) آپ سالم رہیں ، غرض سب آپ کے محافظ ہوگئے اور مشرکوں کو آپ کی طرف سے ہٹا دیا ، سعد بن ابی وقاص ؓ ، نے اتنے تیر مارے کہ آپ ﷺ کی چھ کمانیں ٹوٹ گئیں ، رسول اللہ ﷺ نے انکے سامنے ترکش سے تیر بکھیر دیئے اور فرمایا تیر مار تجھ پر میرے ماں باپ قربان۔
ابو طلحہ ؓ ، بھی بڑے تیر انداز تھے اور کمان کھینچنے میں بڑے طاقتور تھے ، آپ نے بھی اس روز دو یا تین کمانیں توڑی تھیں جو شخص بھی ان کی طرف سے تیر دان لے کر گزرتا آپ فرماتے تھے ابوطلحہ ؓ ، کے لیے تیر بکھیر دو جب ابو طلحہ ؓ ، تیر پھینکتے تو رسول اللہ ﷺ بھی گردن اٹھا کر تیر لگنے کی جگہ کو دیکھتے ۔
رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لیے حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ ، کا ہاتھ اتنا چٹیلاہوا کہ آخر خشک ہوگیا ، ابو داؤد طیالسی اور ابن حبان (رح) نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ ، نے فرمایا وہ دن سارا کا سارا طلحہ ؓ ، کے لیے ہوا (یعنی حضرت طلحہ ؓ ، کی حفاظت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ محفوظ رہے) محمد بن عمر ؓ ، کا بیان ہے کہ اس روز حضرت طلحہ ؓ ، کے سر میں ایسی چوٹ لگی کہ خون نچڑ گیا اور آپ پر غشی طاری ہوگئی ۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آپ کے چہرہ پر پانی چھڑکا جس سے آپ کو ہو آگیا ، ہوش آتے ہی فرمایا رسول اللہ ﷺ کا کیا ہوا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا خیریت سے ہیں ، انہوں نے ہی مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ، حضرت طلحہ ؓ نے کہا اللہ کا شکر ہے اس کے بعد ہر مصیبت حقیر ہے ، اس روز حضرت قتادہ بن نعمان ؓ کی آنکھ میں چوٹ لگی تھی جس کی وجہ سے آنکھ رخسار پر آپڑی تھی ، رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ جگہ پر لوٹا دی اور آنکھ اچھی بچھی ہوگئی ۔
رسول اللہ ﷺ احد سے واپس آرہے تھے کہ (راستہ میں) ابی بن خلف جمحی نے آلیا اور کہنے لگا اگر اب (میری ہاتھ سے) تم بچ نکلے تو مجھے خدا نہ بچائے (یعنی اس وقت میں ضرور قتل کر دوں گا) لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم میں سے کوئی آدمی اس پر نہ جھک پڑے (یعنی قتل نہ کر دے) فرمایا رہنے دو جب وہ قریب آگیا ، اس سے پہلے ابی رسول اللہ ﷺ سے ملنے کے وقت کہا کرتا تھا میرے پاس خاکستری رنگ کی ایک گھوڑی ہے جس کو روزانہ ایک فرق جوار دے کر میں پالتا ہوں اسی پر سوار ہو کر تم کو قتل کروں گا ، اس کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا ایسا نہیں ہوگا بلکہ میں تجھے قتل کروں گا تو رسول اللہ ﷺ نے حارث بن صمہ سے چھوٹا نیزہ لے کر ابی کے سامنے اس کی گردن پر مارا جس کی وجہ سے کچھ خراش پڑگئی ابی گھوڑے سے لڑھک کر نیچے گرا اور بیل کی طرح دھاڑنے لگا اور کہنے لگا محمد ﷺ نے مجھے مار ڈالا لوگوں نے کہا کوئی خطرہ کی بات نہیں ہے، بولا کیوں نہیں ہے اگر یہ نیزہ کا زخم (تمام قبائل) ربیعہ ومضر کے لگتا تو ان کو بھی ہلاک کردیتا کیا انہوں نے مجھ سے نہیں کہا تھا کہ میں تجھے قتل کروں گا ، اس قول کے بعد تو اگر یہ مجھ پر تھوک دیتے تب بھی قتل کردیتے ، غرض زیادہ مدت نہیں گزری کہ مقام سرف میں پہنچ کر وہ مرگیا۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس کو نبی نے قتل کیا اس پر اللہ کا سخت غضب ہوا اور جس نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو خون آلود کردیا اس پر بھی اللہ کا غضب سخت ہوا ۔ (بخاری)
اہل مغازی نے لکھا ہے کہ لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ محمد ﷺ قتل کردیئے گئے یہ سن کر مسلمان کہنے لگے کوئی قاصد عبداللہ بن ابی کے پاس چلا جاتا تاکہ ابن ابی سفیان سے ہمارے لیے امان لے لیتا کچھ صحابی پست ہمت ہو کر بیٹھ رہے ، بعض اہل نفاق کہنے لگے اگر محمد مارے گئے تو تم اپنے پہلے مذہب میں شامل ہوجاؤ ، حضرت انس بن مالک ؓ کے چچا حضرت انس بن نضر بولے قوم والو ! اگر محمد ﷺ مارے بھی گئے ہوں تو محمد ﷺ کا رب تو قتل نہیں ہوگیا تم رسول اللہ ﷺ کے بعد زندہ رہ کر کیا کرو گے جس کام کے لیے رسول اللہ ﷺ لڑے تم بھی اسی کے لیے لڑو اور جس غرض کے لیے وہ مرے تم بھی اسی کے لیے مرجاؤ ، پھر بولے اے اللہ ! یہ لوگ یعنی مسلمان جو کچھ کہہ رہے ہیں میں تیرے سامنے اس کی معذرت کرتا ہوں اور یہ لوگ یعنی منافق جو بات پیش کر رہے ہیں میں اس سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں یہ کہہ کر تلوار لے کر حضرت انس ؓ ، نے حملہ کیا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔
پھر رسول اللہ ﷺ پتھر کی چٹان کے پاس جا کر لوگوں کو پکارنے لگے سب سے پہلے حضرت کعب بن مالک ؓ نے آپ کو پہچانا ، خود کے نیچے حضور ﷺ کی آنکھیں چمکتی دیکھ کر شناخت کی ، حضرت کعب ؓ کا بیان ہے کہ میں نے حضور ﷺ کو پہچان کر اونچی آواز سے پکار کر کہا اے گروہ اہل اسلام تم کو بشارت ہو، یہ رسول اللہ موجود ہیں ، حضور ﷺ نے میری طرف اشارہ کیا کہ خاموش رہو پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ایک جماعت حضور اقدس ﷺ کے پاس آکر جمع ہوگئی ، آپ نے بھاگنے پر ان کو ملامت کی، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہم کو اطلاع ملی کہ آپ شہید کردیئے گئے اس لیے ہمارے دل خوف زدہ ہوگئے اور ہم پشت پھیر کر بھاگ نکلے (یعنی آپ کو چھوڑ کر بھاگے تھے بلکہ جب آپ کی شہادت کی خبر سن لی تو لڑائی کو بیکار سمجھ کر بھاگ نکلے تھے)
اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل “۔
محمد ﷺ وہ شخص ہیں جو تمام صفات کے جامع ہیں کیونکہ اس کا مستحق وہی شخص ہوسکتا ہے جو کامل الصفات ہو اور تحمید حمد سے زیادہ ہے، پس مستحق تمہید وہی شخص ہوگا جو تمام کمالات کو محیط ہو، اللہ تبارک وتعالی نے اپنے نبی اور صفی کو دو ناموں سے مشتق مانا ہے ، (محمد، احمد سے) حسان بن ثابت ؓ کا قول ہے کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو اپنی دلیل (قرآن) دے کر بھیجا اور اللہ سب سے بزرگ و برتر ہے اور اس کے نام کو اپنے نام سے مشتق کر کے (رکھا) پس مالک عرش محمود ہے اور یہ محمد ﷺ ہیں ۔ (آیت)” افان مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم “ کیا تم اپنے پہلے دین کیطرف لوٹ جاؤ گے ، (آیت)” ومن ینقلب علی عقبیہ “ جو اپنے دین سے مرتد ہوگیا ، (آیت)” فلن یضر اللہ شیئا “۔ مرتد ہوکر وہ اللہ کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے ، (آیت)” وسیجزی اللہ الشاکرین “۔
Ayah 3:145(تفسیر) 145۔:
(آیت)” وماکان لنفس ان تموت “۔ اخفش فرماتے ہیں کہ لنفس میں لام منقولہ ہے ۔ ” تموت “ سے عبارت اس طرح تھی (آیت)” وماکان لنفس ان تموت “۔ کسی جان کے لیے نہیں کہ وہ مرجائے اللہ کی مشیت کے بغیر ۔ ” الا باذن اللہ “ اللہ کے فیصلے اور قدرت سے بعض نے کہا اس کے علم کے بغیر بعض نے کہا اس کے حکم کے بغیر ” کتابا مؤجلا “۔ ہر نفس کے لیے اس کا وقت مقررہ لکھا جا چکا ہے اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں کرسکتا ، ” کتابا “ منصوب مصدر ہونے کی وجہ سے عبارت یہ ہوگی ۔” کتب کتابا “ ۔۔۔۔ ” ومن یرد ثواب الدنیا نوتہ منھا “۔ جو شخص اس نیکی کا بدلہ دنیا میں لینا چاہتا ہے ہم اس کو اپنی مشیت کے مطابق جو کچھ ہم نے مقدر کرلیا دنیا میں ہی دے دیتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” کان یرید العاجلۃ علجلنا لہ فیھا فما نشاء لمن نرید “۔ پس جو شخص چاہتا ہے کہ اس کو جلد مل جائے تو ہم اسے جلد دے دیں گے ہم اس کو جتنا چاہیں ، یہ آیت ان اصحاب کے متعلق نازل ہوئی جنہوں نے مال غنیمت کی وجہ سے اپنے مرکز کو چھوڑ دیا تھا (آیت)” ومن یرد ثواب الاخرۃ نوتہ منھا “۔ جو آخرت کے لیے عمل کرتا ہے تو ہم آخرت میں اس کو ثواب دیتے ہیں ، بعض نے کہا کہ جن لوگوں نے حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ کے ساتھ ثابت قدم رہے یہاں تک کہ انہوں نے شہادت پالی (ان کو آخرت میں بدلہ دیں گے (آیت)” وسنجزی الشکرین “۔ شاکرین سے مراد مؤمنین اطاعت گزار بندے ہیں ۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کی نیت آخرت میں ثواب کی وہ تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں دنیا کی بےرغبتی پیدا فرما دیتے ہیں اور اس کی پریشانی کو جمع کردیتے ہیں اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کی نیت دنیا کا حصول ہو تو اللہ محتاجگی اس کی آنکھوں کے سامنے کردیتا ہے اور اس کے دل کو پراگندہ کردیتا ہے ، دنیا میں اس کو اتنا ہی ملتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے ۔
حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ، پس ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق ملتا ہے ، پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت مال حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہوگی اس کی ہجرت اسی غرض کے لیے ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہوگی ۔
Ayah 3:146146۔ (آیت)” وکاین من نبی قاتل معہ ربیون کثیر “۔ ابن کثیر (رح) نے مد کے ساتھ پڑھا ہے کا عن کے وزن پر دونوں ہمزؤں کے ساتھ دوسرے قراء نے کہا ” کاین “ ہمزہ کی تشدید کی وجہ سے ” عین “ کے وزن پر اس کا معنی ہے ” کم “ کاف تشبیہ کے لیے ہے اس کے ساتھ ” ای “ حرف استفہام داخل کیا گیا اس پر تنوین صورۃ داخل نہیں ہوگی ، بعض قراء نے اس پر وقف قرار دیا ، ” کاین “ بغیر نون کے ذکر کیا ۔
” قاتل “ ابن کثیر، امام نافع ، اہل بصرہ کاف کے ضمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں ، دوسرے قراء نے کاف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ” فماوھنوا “ یہ وصف ان پر محال ہے حالانکہ قتل ہونے کے بعد وہ کیسے بچ سکتے ہیں ، سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات نہیں سنائی کہ کسی نبی کو قتل کیا گیا ہو اس لیے ” قاتل “ اعم ہے، ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں ، اس صورت میں قاتل عام ہوگا اور جو حضرات ” قتل “ پڑھتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ اس کی تین وجوہ ہیں ، ایک یہ کہ قتل راجع ہو نبی کی طرف اس میں کوئی اور شریک نہ ہو (یعنی نبی نے اکیلے قتال کیا) اس صورت میں قاتل پر کلام تمام ہوجاتا ہے اس صورت میں آیت میں اضمار ہوگا ، اس کا معنی یہ ہوگا اس کے ساتھ بکثرت آدمیوں نے جہاد کیا جیسا کہ کہا جاتا ہے فلاں شخص نے جیش کثیر کے ساتھ مل کر جہاد کیا یعنی وہ شخص ان میں شامل تھا ، دوسری وجہ یہ بیان کی کہ قتل کا تعلق نبی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہو تو جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں نے بعض لوگوں کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور عرب کا یہی قول ہے ، اس صورت میں ” فما وھنوا “ باقیوں کی طرف راجع ہوگا ، تیسری صورت یہ ہے کہ قتال کا تعلق نبی کے علاوہ لوگوں سے ہو اس میں اور کوئی شامل نہ ہو۔
(ربیون کثیر کا مصداق)
” ربیون کثیر “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، مجاہد (رح) ، اور قتادہ (رح)، فرماتے ہیں اس سے مجمع کثیر مراد ہے ، ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہزاروں کی جماعت ، کلبی (رح) ، فرماتے ہیں کہ ایک ” ربی “ کہتے ہیں دس ہزار کو ۔ ضحاک (رح) ، فرماتے ہیں ایک ربیہ ایک ہزار کو کہتے ہیں ۔ حسن بصری (رح) ، فرماتے ہیں کہ اس کا معنی فقہاء اور علماء ہے ۔
بعض نے کہا کہ اتباع کرنے والے مراد ہیں ، اس صورت میں ربانیون سے مراد حکام اور ربیون سے مراد اور رعایا ہوگی ، بعض نے کہا ربی رب کی طرف منسوب ہے اور وہ لوگ جو رب کی عبادت کرتے ہیں ” فما وھنو “ کا معنی ہے کیونکہ وہ بزدل ہو رہے ہیں (آیت)” لما اصابھم فی سبیل اللہ وما ضعفوا “۔ جہاد میں زخم پہنچنے اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے شہید ہونے کی وجہ سے وہ کمزور نہیں ہوئے ، (آیت)” وما استکانوا “۔ اور نہ ہی وہ دشمن کے مطیع ہوئے اور نہ ہی اپنے آپ کو دشمن کے سامنے ذلیل ورسوا کیا ، امام سدی (رح) ، نے اس کا ترجمہ کیا کہ نہ وہ دشمنوں کے سامنے ذلیل ہوئے ، عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ نہ ان کے سامنے عاجزی کی ، عالیہ فرماتے ہیں نہ ہی وہ بزدل ہوئے بلکہ اپنے رب کے حکم پر صبر کیا اور اپنے نبی کی اطاعت کی اور دشمنوں کے خلاف جنگ کے لیے آمادہ ہوئے ، (آیت)” واللہ یحب الصابرین “۔
Ayah 3:147(تفسیر) 147۔:
(آیت)” وما کان قولھم “ کان کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کا اسم ” ان قالوا “ ہے اس صورت میں اس کا معنی ہوگا اور ان کے نبی کے قتل ہونے پر وہ یہی کہتے (آیت)” الا ان قالوا ربنا اغفرلنا ذنوبنا “۔ اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں ، (آیت)” واسرافنا فی امرنا “۔ اسراف سے مراد کبیر گناہ ہیں ، (آیت)” وثبت اقدامنا “۔ ہمارے قدموں کو اللہ کے راستے میں جمائے رکھ پھسلانا نہیں۔ (آیت)” وانصرنا علی القوم الکافرین “۔ تو ہ کہتے کہ کاش تم اس طرح کرتے اور تم اس طرح کہتے اے اصحاب محمد ﷺ ۔
Ayah 3:148148۔ (آیت)” فاتاھم اللہ ثواب الدنیا “۔ دنیاوی ثواب سے مراد نصرت اور مال غنیمت کا حصول ہے (آیت)” وحسن ثواب الاخرۃ “ اجر آخرت اور جنت کا وعدہ ۔ (آیت)” واللہ یحب المحسنین “۔
Ayah 3:149149۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا “۔ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں ، حضرت علی ؓ نے فرمایا اس سے مراد منافقین ہیں کیونکہ جب مسلمانوں کو وقتی طور پر شکست ہوئی تو یہ لوگ کہنے لگے کہ اپنے بھائیوں کی طرف لوٹ جاؤ اور ان کا دین اختیار کرو ۔ (آیت)” یردوکم علی اعقابکم “۔ وہ تمہیں پہلے دین کی طرف لوٹا دیں گے جو شرک وکفر ہے (آیت)” فتنقلبوا خاسرین “۔
Ayah 3:150(تفسیر) 150۔:
(آیت)” باللہ مولاکم “۔ اللہ تمہارا مددگار اور دین اسلام پر ہونے کی حالت میں محافظ ہے ۔ (آیت)” وھو خیرالناصرین “۔
Ayah 3:151151۔ (آیت)” سنلقی فی قلوب الذین کفروا الرعب “۔ یہ اس وقت جب ابو سفیان اور مشرکین یوم احد کے دن مکہ کی طرف بھاگا تھا جاتے ہوئے راستے میں پشیمانی ہوئی اس کو خیال آیا کہ ہم نے برا کیا ، اول تو ہم نے ان کو قتل کیا پھر جب چند بھاگے ہوئے لوگوں کے سوا ہمارے مقابلے میں کوئی نہ رہا تو ہم ان کو چھوڑ آئے اس لیے بہتر یہ ہے کہ ابھی لوٹ چلو اور ان کی جڑ ہی اکھاڑ دو ، کافروں نے یہ ارادہ کیا ہی تھا کہ اللہ نے ان دلوں کے اندر مسلمانوں کا رعب ڈال دیا اور اپنے ارادے سے باز آگئے اللہ نے اس پر یہ آیت نازل فرمائی ، یہی مطلب اللہ تعالیٰ کے فرمان (آیت)” سنلقی ای منقذف فی قلوب الذین کفروا الرعب “۔ ہم ڈال دیں گے کافروں کے دلوں میں رعب یعنی ڈر۔ ابو جعفر (رح) ، ابن عامر (رح) ، کسائی (رح) ، یعقوب (رح) ، ” الرعب “ عین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے عین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے ۔ (آیت)” بما اشرکوا باللہ مالم ینزل بہ سلطانا “۔ سلطان کا معنی حجت اور برہان ہے ۔ (آیت)” وماؤھم النار وبئس مثوی الظالمین “۔ ظالمین سے مراد کافر ہیں ۔
Ayah 3:152152۔ (آیت)” ولقد صدقکم اللہ وعدہ “۔ محمد بن کعب قرظی کا بیان ہے کہ جب آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین غزوہ احد سے مدینہ کی طرف لوٹے تو بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے فرمایا کہ اللہ نے تو ہم سے فتح یاب ہونے کا وعدہ کیا تھا تو پھر یہ مصیبت کہاں سے آئی ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” ولقد صدقکم اللہ وعدہ “۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ مدد اور تمہاری کامیابی کا وعدہ کیا تھا یہ کامیابی ابتدائی تھی جو کافروں کو پسا کردیا تھا (آیت)” اذ تحسونھم باذنہ “ یہ اس وجہ سے کہ آپ ﷺ نے لشکر کی ترتیب اس طرح دی کہ احد کی پہاڑی کو پیٹھ پیچھے اور مدینہ چہرے کے سامنے رکھا اور دائیں جانب پہاڑی پر تیر انداز کو حضرت جبیر ؓ کی امارت میں متعین فرمایا اور ان سب کو یہ ارشاد فرمایا کہ تم وہاں مضبوط جمے رہو اگر تم ہمیں مال غنیمت جمع کرتے ہوئے دیکھ لو تو تم ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا اور اگر تم دیکھو کہ وہ ہمیں قتل کرچکے ہیں تو پھر بھی وہاں سے ہماری مدد کے لیے نہ آنا ، جب جنگ شروع ہوئی تو مسلمانوں کے تیروں اور نیزوں نے مشرکین کے گھوڑوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا اور مسلمان ان کو تلواروں سے کاٹ رہے تھے یہاں تک کہ وہ پیٹھ پھیر کر ڈر کر بھاگ گئے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے (آیت)” اذ تحسونھم باذنہ “۔ ان کو اللہ کے حکم کے مطابق قتل کر رہے تھے ۔
ابوعبیدہ ؓ فرماتے ہیں کہ ” حس “ کا معنی ہے قتل کر کے بیخ وبن سے اکھاڑ دینا ، (آیت)” حتی اذا فشلتم “۔ جب تم بزدل ہوگئے بعض نے کہا کہ جب تمہاری رائے کمزور پڑگئی (آیت)” وتنازعتم فی الامر وعصیتم “ ۔ واؤ زائدہ ہے، مطلب یہ ہوگا کہ جب تم بزدل ہوگئے تو باہم نزاع کرنے لگے ، بعض نے کہا یہاں تقدیم و تاخیر ہے ، تقدیری عبارت یوں ہوگی ، (آیت)” وتنازعتم فی الامر وعصیتم فشلتم “۔ جب تم شکست کھاگئے ، اور قیام اور عدم قیام کے متعلق آپس میں لڑنے لگے اور نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد روک لی اور تم پر مصیبت ڈالی ۔
یہاں تنازع سے مراد جھگڑا ہے کہ جب مشرکین کو شکست ہوگئی تو تیر اندازوں میں اختلاف ہوگیا کہ تیر اندازی کریں یا نہ کرین بعض لوگوں نے کہا کہ اب تو کفار شکست کھا گئے ہیں اس جگہ پر ہمارا رکنا کوئی معنی نہیں ، لہذا چلو مال غنیمت جمع کریں اور بعض لوگوں نے کہا کہ آپ ﷺ کے حکم پر تجاوز نہ کرو (اور یہاں سے بھاگو نہیں) اس پر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان کے چند ساتھی جن کی تعداد دس تک پہنچتی ہے ، وہاں قدم رہے ، جب خالد بن ولید اور عکرمہ بن ابی جہل نے دیکھا تو ان کی طرف رخ کیا اور حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان کے ساتھیوں کو شہید کردیا اور وہ مسلمانوں کی طرف رخ کرنے لگے تو ہوا صبا کے بعددبور (پچھوائی ہوا) آئی ، مسلمانوں کی صف پلٹ گئی اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ مختلط ہوگئے ، ہنگامی حالت میں مسلمان خود ایک دوسرے سے قتال کرنے لگ گئے ، خوف اور دہشت کی وجہ سے کسی کو پتہ نہیں چل رہا کہ اس کا مقابل دشمن ہے یا ساجن ، اسی دوران ابلیس نے آواز لگائی کہ (نعوذ باللہ) آپ ﷺ قتل کردیئے ، یہی مسلمانوں کی ہمت ہارنے کا سبب تھا ” وعصیتم “۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کی بناء پر ہوا (آیت)” من بعد مااراکم “۔ تمہیں تمہاری محبوب چیز فتح دکھادی تھی اللہ نے ۔ ” ماتحبون “ مسلمانوں کی کامیابی اور مال غنیمت محبوب چیز ہے ۔ ” منکم من یرید الدنیا “۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی جگہ کو چھوڑ دیا اور لوٹنے کی طرف متوجہ ہوگئے ، (آیت)” ومنکم من یرید الاخرۃ “ جو لوگ عبداللہ بن جبیر ؓ کے ساتھ گھاٹی میں ثابت قدم رہے وہ شہید ہوگئے، عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے ساتھیوں میں سے کسی کو میں نے دنیا کا طلب گار نہیں پایا ، یہاں تک کہ احد کا دن آیا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ثم صرفکم عنھم “۔ پھر تمہیں پھیر دیا فتح سے شکست کی طرف ۔ ” لیبتلیکم “ تاکہ تمہارا اس کے ذریعے امتحان لے ، بعض نے کہا کہ تمہاری نافرمانی کی وجہ سے اللہ نے تم پر مصیبت ڈالنی چاہی ، (آیت)” ولقد عفا عنکم “۔ تمہارے حکم کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے بالکل جڑ سے نہیں اکھاڑ دیا بلکہ تمہیں معاف کردیا (آیت)” واللہ ذوفضل علی المؤمنین “۔
Ayah 3:153(تفسیر) 153۔:
(آیت)” اذ تصعدون “۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہیں معاف کردیا ، جب تم بھاگے جا رہے تھے شکست کھا کر ، عبدالرحمن سلمی ، حسن (رح) ، قتادہ (رح) ، ” تصعدون “ تاء کے فتحہ کے ساتھ اور عین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ، معروف قرات تاء کے ضمہ عین کے کسرہ کے ساتھ ہے ، اصعاد کا معنی ہے ہموار میدان میں جانا ، صعود کا معنی ہے پہاڑ پر چڑھنا اور بعض دور نکل گئے، ابو حاتم کہتے ہیں کہ ” یقال اصعدت کہا جاتا ہے جب کوئی چہرے کے سامنے ہموار میدان میں جائے ” وصعدت “ کہا جاتا ہے کہ جب وہ پہاڑ پر چڑھے ، مبرد فرماتے ہیں کہ ” اصعد “ جب وہ دور چلا گیا یہ دونوں قراتیں صحیح ہیں ، کبھی کبھار ” منھزمین “ کے لیے مصعد اور صاعد استعمال ہوتا ہے اور مفضل کہتے ہیں کہ صعد اور اصعد کا معنی بھی ایک ہے ۔ ” ولا تلوون علی احد ‘۔ شدت دہشت کی وجہ سے کوئی ایکدوسرے کی طرف مڑ کر نہیں دیکھ رہا تھا اور نہ ہی اپنی جگہ پر ثابت قدم رہا ۔
(آیت)” والرسول یدعوکم فی اخراکم “۔ وہ پچھلی صفوں سے آپ کو پکار رہے تھے کہ اللہ کے بندو میری طرف مڑ کر آئے گا اس کے کیلئے جنت ہے ” فاثابکم “ تمہیں بدلہ دیا ، یہاں ” اثابہ “ بمعنی عقاب کے ہے اثاب بمعنی ثواب کے استعمال ہوتا ہے ، (مطلب یہ ہے کہ تم نے ثواب کی امید لگائی ہوئی تھی لیکن تمہارے فعل کی وجہ سے اللہ نے تم کو سزا دی)
اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” فبشرھم بعذاب الیم “۔ یہاں پر بشارت کو عذاب کی جگہ ذکر کیا ، ایسا جملہ بطور استہزاء کے ہوتا ہے ” غما بغم “ باء بمعنی علی کے ہے ، عبارت یوں ہوگی ، ” غم علی غم “ یعنی غم بالائے غم۔
(غما بغم کی مختلف تفاسیر)
پہلے غم سے مراد کامیابی اور مال غنیمت کا ہاتھ سے جانے کا غم، دوسرے غم سے مراد شکست اور مسلمانوں کی شہادت ہے ، بعض نے کہا کہ پہلے غم سے مراد قتل اور زخمی ہونا ہے، دوسرے غم سے مراد محمد ﷺ کی شہادت کی خبر جس کی وجہ سے پہلا والا غم بھول گیا ،
بعض نے کہا کہ پہلے غم سے مراد گھاٹی سے خالد بن ولید کا سواروں کا دستہ لے کر برآمد ہونا اور دوسرے غم سے مراد ابو سفیان کا سامنے سے نمودار ہونا۔
اس کا واقعہ یہ ہوا کہ اس دن آپ ﷺ لوگوں کو پکارتے پکارتے اس جگہ پہنچ گئے جہاں چٹان والے مسلمان جمع تھے انہوں نے جب آپ ﷺ کو دیکھا (تو نہ پہچاننے کی وجہ سے) ایک شخص نے کمان میں تیر جوڑ کر آپ ﷺ کو مارنا چاہا ، آپ ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین رسول اللہ ﷺ کو پا کر بہت خوش ہوگئے ، اور محافظین کو پا کر رسول اللہ ﷺ کو بھی خوشی ہوئی پھر یہ لوگ فتح شدہ مال غنیمت کا اور اپنے ساتھیوں کی شہادت کا ذکر کرنے لگے اتنے میں ابوسفیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ سامنے سے آکر گھاٹی کے دہانے پر کھڑا ہوگیا ، مسلمان اس کو دیکھ کر فکر میں پڑگئے اور ان کو خیال ہوا کہ یہ لوگ ہم پر ٹوٹ پڑیں گے اور ہمیں شہید کردیں گے ، اس خیال کے آتے ہیں پہلے خیال کو بھول گئے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ لوگ ہمارے اوپر نہیں سکیں گے (پھر آپ ﷺ یہ دعا فرمانے لگے) اے اللہ ! اگر یہ گروہ مارا گیا تو زمین پر تیری پرستش کرنے والا کوئی نہیں رہے گا پھر اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو آواز دی ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کافروں کو پتھر مار مار کر نیچے اتار دیا اور کہا گیا کہ ان کو آپ ﷺ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غم لاحق ہوگیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ غم اور قتل سے دیا جس کو غم سے تعبیر کیا گیا ، (آیت)” لکیلا تحزنوا علی مافاتکم “۔ جو فتح شکست سے بدل گئی اور مال غنیمت ہاتھوں سے چلی گئی (آیت)” ولا ما اصابکم “۔ اور جو مصیبت تم پر قتل اور شکست کی بناء پر پڑی ، ” واللہ خبیر بما تعملون “۔
Ayah 3:154(تفسیر) 154۔ :
(آیت)” ثم انزل علیکم “۔ اے مسلمانوں کی جماعت (آیت)” من بعد الغم امنۃ “۔ تمہارے لیے امن اتارا (آیت)” الامن الامنۃ “ دونوں کا معنی ایک ہی یعنی قلبی سکون ، بعض نے کہا کہ امن کہا جاتا ہے خوف کے سبب کو زائل کرنا اور ” امنۃ “ کہتے ہیں خوف کے سبب کے باقی ہونے پر اطمینان حاصل ہونا جبکہ یہاں خوف کا سبب موجود تھا ۔ ” نعاسا “ ۔۔۔۔۔ امنۃ “ سے بدل ہے (آیت)” یغشی طائفۃ منکم “۔ حمزہ اور کسائی نے (تغشی) پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے نعاس کی طرف لوٹاتے ہوئے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس دن اونگھ کی صورت میں ان کے دل کو اطمینان دیا گیا جو اطمینان والا ہوتا ہے اسی کو اونگھ آسکتی ہے اور خائف کو اونگھ نہیں آتی ۔
حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ انس ؓ نے بیان کیا کہ حضرت ابوطلحہ ؓ نے فرمایا احد کے دن جب ہم صف بند میدان میں تھے تو فرمایا کہ ہم پر ایسی اونگھ چھا گئی کہ میری ہاتھ سے چھوٹ کر تلوار گری جاری تھی اور میں اس کو پکڑ رہا تھا ، وہ گری جاری تھی اور میں پکڑ رہا تھا ، حضرت ثابت ؓ ، حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت طلحہ ؓ نے فرمایا کہ احد کے دن میں نے سر اٹھایا تو لوگوں میں کوئی شخص ایسا نہیں آیا کہ اونگھ کی وجہ سے ڈھال کے نیچے وہ جھکا نہ پڑ رہا ہو ۔
عبداللہ بن زبیر ؓ اپنے والد زبیر بن العوام ؓ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا جب شدت لڑائی کے وقت میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا ، اللہ تعالیٰ نے ہم پر نیند مسلط کردی ، خدا کی قسم مجھ پر اونگھ چھائی ہوئی تھی اور ایک خواب کی طرح میں معتب بن قشیر کا یہ قول سن رہا تھا وہ کہہ رہے تھے ” لوکان من الامر شیئ “۔ اگر اس طرح کا کوئی ماجرانہ ہوتا تو اس جگہ ہم قتال نہ کرسکتے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” یغشی طائفۃ منکم “۔ طائفۃ سے مراد مؤمنین ہیں ۔
(آیت)” وطائفۃ قد اھمتھم انفسھم “ اس طائفہ سے مراد منافقین ہیں ، بعض نے کہا کہ یہاں لاکر منافقین سے مؤمنین کو ممتاز کرنا مقصود تھا ، اللہ تعالیٰ نے مؤمنین پر اونگھ کو مسلط کر کے ان کو اطمینان قلبی نصیب فرمائی جبکہ منافقین پر اونگھ نہیں آئی اس وجہ سے ان کے دلوں سے خوف ختم نہیں ہوگا اور ان کے دلوں پر خوف بالائے خوف نازل ہوا ۔
(آیت)” یظنون باللہ غیر الحق “۔ وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی مدد نہیں کرے گا ، بعض نے کہا کہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ (نعوذ باللہ) محمد ﷺ قتل کردیئے گئے ، ” ظن الجاھلیۃ “ جیسا کہ اہل جاہلیت کے زمانے میں لوگ جس طرح گمان کرتے تھے اسی طرح یہ بھی کرنے لگے ، (آیت)” یقولون ھل لنا “ یہ ” مالنا “ ہے لفظ استفہام انکاری ہے (آیت)” من الامر شیئ “ امر سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہے (آیت)” قل ان الامر کلہ للہ “۔ اہل بصرہ لام کے رفع کے ساتھ پڑھتے ہیں ابتداء (مبتدائ) کی وجہ سے اور ” للہ “ اس کی خبر ہے اور دوسرے قراء نے ” کلہ “ منصوب بدل ہونے کی وجہ سے پڑھا ہے ، بعض نے کہا کہ موصوف صفت ہونے کی وجہ سے ” یخفون فی انفسھم مالا یبدون لک۔۔۔۔۔ ما قتلنا ھھنا “۔ یہ منافقین کے بارے میں ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اگر ہمارے اندر عقل و دانش ہوتا تو مکہ سے محمد ﷺ کے ساتھ قتال کرنے نہ نکلتے اور نہ ہی ہمارے سردار قتل ہوتے، بعض نے کہا کہ اگر محمد ﷺ حق پر ہوتے تو یہ قتل کیونکر ہوتے ۔
ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے کہا ہے کہ (آیت)” یظنون باللہ غیر الحق ظن الجاھلیۃ “ یعنی تقدیر کی تکذیب کی اور ان کا قول (آیت)” لوکان لنا من الامر شیء ماقتلنا ھھنا “۔ قل لوکنتم فی بیوتکم “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ الذین کتب “ کتب بمعنی قضی کے ہے (آیت)” علیھم القتل الی مضاجعھم “۔ ان کی خواب گاہوں کی جگہ ” ولیبتلی اللہ “ اور اللہ ان سے امتحان لے گا ۔ (آیت)” مافی صدورکم ولیمحص “۔ اے مسلمانوں تمہارے دلوں کے اندر پیدا ہونے والے وساوس کو نکال دے یا ان کو ظاہر کر دے ۔ (آیت)” مافی قلوبکم واللہ علیم بذات الصدور “۔ جو ان کے دلوں میں خیر اور شر کی جانب سے تھا۔
Ayah 3:155(تفسیر) 155۔ـ:
(آیت)” ان الذین تولوا “۔ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگے ” منکم “ اے مسلمانوں کی جماعت (آیت)” یوم التقی الجمعان “۔ جس دن مسلمانوں اور مشرکین کو جمع کیا احد کے دن ، جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ تیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ان میں سے چھ مہاجرین موجود تھے ، ان میں حضرت ابوبکرصدیق ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ ، عبدالرحمن بن عوف ؓ سعد بن ابی وقاص ؓ ، تھے ، (آیت)” انما استزلھم الشیطان “۔ ان کو پھسلانا چاہا راستے سے ہٹانا چاہا جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ ” استعجلت فلانا اذا طلبت عجلتہ “۔ جب اس کو فورا طلب کیا جائے بعض نے کہا ڈال دی گئی ان پر ذلت یعنی غلمی ، گناہ ، بعض نے کہا کہ ” استھزل “ اور ازل “ دونوں کے ایک معنی ہیں ، ” ببعض ما کسبوا “ یعنی ان کے گناہوں کی نحوست سے ، بعض نے کہا کہ اپنے مرکز کو چھوڑنے کی وجہ سے حسن بصری (رح) فرماتے ہیں شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرکے ان کو مزید ناشکستہ حال بنادیا ۔ (آیت)” ولقد عفا اللہ عنھم ان اللہ غفور حلیم “۔
Ayah 3:156156۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین کفروا “۔ اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں۔ (آیت)” وقالوا لاخوانھم “۔ جو اس کے بھائی منافق اور کافر تھے ، بعض نے کہا کہ جو اس کے نسبی بھائی تھے وہ مراد ہے ، (آیت)” اذا ضربوا فی الارض “ جب وہ تجارت وغیرہ کے لیے ملک میں چلیں پھریں ۔
(آیت)” اوکانو غزی “ غزاۃ جمع ہے غاز کی مطلب یہ ہے کہ سفر پر ہوں یا جہاد پر مارے جائیں یا مرجائیں ۔ (آیت)” لوکانوا عندنا ما ماتوا وما قتلوا لیجعل اللہ ذلک “۔ یعنی ان کے گمان اور ان کے قول کے مطابق ” حسرۃ ۔۔۔۔۔ بصیرا “۔ ابن کثیر (رح) ، حمزہ (رح) ، کسائی (رح) ، نے ” یعلمون “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Ayah 3:157(تفسیر) 157۔ـ:
(آیت)” ولئن قتلتم فی سبیل اللہ اومتم “۔ نافع (رح) ، حمزہ (رح) ، اور کسائی (رح) ، نے ” متم “ میم کے کسرہ کے ساتھ ، بعض نے میم کے ضمہ کے ساتھ اس صورت میں اس کا مصدر مات یموت سے ہوگا ، یہ اس طرح ہے جیسے کوئی کہے ، ” قال یقول “۔ اور جو حضرات کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ مصدر ” مات یمات “ سے ہے ، ” خاف یخاف “ کی طرح (آیت)” لمغفرۃ من اللہ “ اس کے انجام میں بخشش ہے (آیت)” ورحمۃ خیر مما یجمعون “۔ ان سے مراد مال غنیمت ہے، بعض حضرات نے ” تجمعون “ پڑھا ہے ، حفص (رح) اور عاصم (رح) ، نے ” یجمعون “ یاء ساتھ پڑھا ہے جو مغفرت مسلمانوں کو حاصل ہوئی وہ بہتر ہے اس چیز سے جو لوگوں نے جمع کی ۔
Ayah 3:158158۔ (آیت)” ولئن متم اوقتلتم لا الی اللہ تحشرون “۔ آخر ہی کی طرف تمہیں جمع کیا جائے گا ۔
Ayah 3:159159۔ (آیت)” فبمارحمۃ من اللہ “ اللہ کی رحمت سے ، ماصلہ ہے جیسا کہ (آیت)” فبما نقضھم “ میں ما بمعنی صلۃ کے ہے، (آیت)” لنت لھم “ یعنی تم نرم دل ہو اچھے اخلاق کی وجہ سے اور تمہاری کثرت نرمی کی وجہ سے اگر تم ان کی طرف غصہ یا درشت لہجہ استعمال کرتے تو وہ بچھڑ جاتے ، (آیت)” ولو کنت فظا “ اگر تم سخت برے اخلاق والے ہوتے ، ” غلیظ القلب “۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ کلام میں سخت رو اور فعل میں سخت دل ہیں۔ (آیت)” لانفضوا من حولک “۔ وہ آپ کے پاس سے بھاگ جائیں گے اور آپ سے جدا ہوجائیں گے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے (آیت)” فضضتھم فانفضوا “۔ اس کا معنی ہے کہ ہم نے ان کو جدا کیا وہ ہم سے جدا ہوگئے ، (آیت)” فاعف عنھم “ ان سے درگزر کرو جن سے احد کے دن خطاء ہوگئی تھی ، (آیت)” واستغفرلھم “ ان کی شفاعت کرو ، (آیت)” وشاورھم فی الامر “۔ ان سے رائے طلب کریں تاکہ آپ جان لیں کہ ان کے دلوں میں آپ کے بارے میں کیا ہے عرب میں محاورہ بولا جاتا ہے ، ” شرط الدابۃ وشور تھا “۔ جب اس کو لشکر کے لیے نکالا جائے اسی طرح کہا جاتا ہے ” شرط العسل واشرتہ “ جب اس کو لیا جائے اور اس سے شہد نچوڑا جائے اس کے معنی میں اختلاف ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس ﷺ سے مشورہ طلب کرنے کا حکم دیا حالانکہ آپ ﷺ کامل العقل اور کامل الرائے تھے اس کے علاوہ آپ ﷺ پر وحی کے ذریعے معلوم ہوجاتا ہے اور مخلوق پر آپ ﷺ کی تابعداری کو واجب قرار دیا گیا ہے خواہ وہ ان کو پسند آئے یا ناپسند ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی خاص ہے ان سے ان کاموں کے متعلق مشورہ طلب کرو جس میں آپ کا اللہ کا ساتھ عہد نہیں ہے، کلبی (رح)، فرماتے ہیں کہ دشمنوں سے ملاقات یا جنگ کے مکر و فریب کے متعلق ان سے نظر وفکر کرلیا کرو، مقاتل اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم ان کے اطمینان قلبی کے لیے ہے (تاکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مایوس نہ ہوجائیں) تاکہ وہ دلبرداشتہ نہ ہوجائیں ، دوسرا یہ کہ عرب میں یہ مشہور بات ہے کہ کسی بات پر جب کوئی مشورہ نہ کیا جائے تو وہ کام ان کے لیے شاق گزرتا ہے ، حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کو معلوم تھا کہ ان کو مشورہ کی ضرورت نہیں لیکن مشورہ کا حکم اس لیے دیا تاکہ آنے والی امت میں یہ سنت جاری ہوجائے ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ لوگوں کے لیے مشورہ لینے والا کسی شخص کو نہیں دیکھا (آیت)” فاذا عزمت فتوکل علی اللہ “ ان کے مشورہ پر توکل نہ کرو بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق کھڑے ہوجاؤ اور اسی سے مدد طلب کرو۔ (آیت)” ان اللہ یحب المتوکلین “۔
Ayah 3:160(تفسیر) 160۔:
(آیت)” ان ینصرکم اللہ “۔ جس کی اللہ مدد کرے یا اس کا مطلب ہے کہ اللہ نے تمہاری مدد کی اور تم سے دشمنوں کو روکا (آیت)” فلا غالب لکم “۔ بدر کے دن کی طرح تم پر کوئی غلبہ نہیں پاسکتا (آیت)” وان یخذلکم “۔ اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر تمہاری کون مدد کرے گا جیسا کہ وقتی طور پر احد کی جنگ میں ہوا ، خذلان کہا جاتا ہے مدد سے ناامیدا ہو کر بیٹھ جانا ، (آیت)” فمن ذالذی ینصرکم من بعدہ “۔ اس کی مدد کے بغیر تمہاری کون مدد کرسکتا ہے (آیت)” وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون “۔
(متوکلین کی صفات)
بعض حضرات نے کہا کہ توکل کہا جاتا ہے کہ رزق حاصل کرنے کے لیے اللہ کی نافرمانی نہ کرنا ، بعض حضرات نے کہا کہ اپنی ذات کے لیے غیر اللہ کے علاوہ کسی کو اپنا مددگار نہ سمجھے اور نہ ہی رزق کا مالک اور اپنے اعمال کی جزا کسی غیر سے رکھے ،۔
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب وکتاب کے جنت میں داخل ہوں گے ، کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا وہ ہیں جو داغ نہیں لگواتے منتر نہیں پڑھتے اور بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔
عکاشہ بن محصن ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میرے لیے دعا فرمائیے کہ میں ان ہی میں سے ہوجاؤں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تو ان ہی میں سے ہے ، پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا ، اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! ﷺ دعا فرمائیے کہ میں بھی ان میں سے ہوجاؤں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عکاشہ تم پر سبقت کرچکا ۔
عبداللہ بن ہبیرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو تمیم جیشانی کو فرماتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن الخطاب ؓ سے ارشاد فرماتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے تو اللہ تم کو اسی طرح رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس آتے ہیں۔
Ayah 3:161(آیت)” وما کان لنبی ان یغل “۔ کا شان نزول)
161۔ (آیت)” وما کان لنبی ان یغل “۔ عکرمہ ؓ اور مقسم ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس آیت کا شان نزول اس سرخ دھاری دار چادر کے متعلق ہوا جو بدر کے دن گم ہوگئی تھی ، اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ (نعوذ باللہ) آپ ﷺ نے لے لی ، کلبی (رح) ، اور مقاتل (رح) ، کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول غزوہ احد کی مال غنیمت کے متعلق ہوا جب مال غنیمت جمع کرنے کے لیے تیر اندازوں نے گھاٹی کے مرکز کو چھوڑ دیا تھا ، اور کہنے لگے کہ ہم کو خوف ہے کہ کہیں آپ ﷺ یہ نہ ارشاد فرما دیں کہ جس نے جو چیز لی ہو وہ اسی کی ہے اور بدر کی لڑائی کی طرح آج بھی مال غنیمت کی تقسیم نہ ہو ، اس اندیشہ کی وجہ سے انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور اموال غنیمت پر جا پہنچے ، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا میں نے تم کو حکم نہیں دیا تھا کہ جب تک میرا حکم تم کو نہ پہنچے اپنی جگہ نہ چھوڑنا ، کہنے لگے ہم اپنے دوسرے ساتھیوں کو وہیں کھڑا چھوڑ آئیں ہیں ،
آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ تم نے یہ سوچا کہ ہم مال غنیمت میں خیانت کریں گے بانٹ کر تم کو نہیں دیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، قتادہ ؓ نے بیان کیا کہ کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ، بعض نے کہا کہ کچھ طاقتور لوگوں نے اصرار کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے مال غنیمت کی طلب کی ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” وما کان لنبی ان یغل “۔ یعنی نبی کی شایان شان نہیں کہ وہ بعض لوگوں کو دے اور بعض کو نہ دے بلکہ تقسیم میں وہ برابری کرتے ہیں ۔
(آیت)” وما کان لنبی ان یغل “۔ کی تفسیر)
محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ یہ وحی کے بارے میں ہے کہ کسی نبی کے شایان شان یہ نہیں کہ وہ وحی کے متعلق کچھ چھپائیں ، رغبت یارہبت کی وجہ سئے (کسی کے ڈر یا خوف کی وجہ سے وہ وحی میں سے کچھ نہیں چھپاتے) (آیت)” وما کان لنبی ان یغل “۔ ابن کثیر (رح) ، اہل بصرہ (رح) اور عاصم (رح) یاء کے فتحہ اور غین کے ضمہ کے ساتھ ” یغل “ پڑھا ہے اس کا معنی ہے خیانت کرنا ، مراد اس سے امت ہے ۔
بعض نے کہا کہ یہاں لام منقول ہے عبارت اس طرح ہوگی ” ما کان لنبی ان لیغل “۔ کہ کسی نبی کی شان کے لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ کوئی شخص اس طرح گمان نہ کرے اور نہ اسی طرح کی کوئی چیز لائے ، دوسرے قراء نے ” یغل “ یاء کے ضمہ اور غین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس طرح پڑھنے کی دو وجوہات ہیں ۔
پہلی وجہ یہ ہے غلول اسی معنی کے لیے ہو تو پھر آیت کا مطلب ہوگا کسی نبی کے لیے نہیں کہ وہ خیانت کرے ، مطلب اس کی امت خیانت کرے ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ غل بمعنی اغلال کے ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے، خیانت کو نبی کی طرف منسوب کرے ۔ (آیت)” ومن یغلل یات بما غل یوم القیامۃ “۔
(مال غنیمت میں چوری کرنے والے کا برا انجام)
کلبی فرماتے ہیں کہ مال غنیمت سے چرائی ہوئی چیز کی ہم شکل جہنم میں کوئی چیز بنادی جائے گی اور اس خائن سے کہا جائے گا جا اتر کر اس کو لے لے وہ اتر کر اس چیز کو پیٹھ پر اٹھا کرلے آئے گا جب وہ اپنی جگہ آجائے گا تو وہ چیزچھوٹ کر پھر جہنم میں گرپڑے گی اور اس شخص کو حکم دیا جائے گا کہ اتر کر جائے اور اس چیز کو لاد کرلے آئے وہ ایسا کرے گا اور یہی معاملہ اس کے ساتھ ہوتا رہے گا ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ خیبر کے سال ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے وہاں سونا چاندی کوئی ہاتھ نہیں آیا صرف اونٹ ، کپڑے اور سامان ملا، آپ ﷺ نے وادی قری کی طرف رخ کیا ، ایک حبشی غلام جس کو رفاعہ بن زید نے آپ ﷺ کو ہبہ کیا تھا اس کا نام مدعم تھا، جب ہم وادی قری میں پہنچے اور مدعم رسول اللہ ﷺ کے اونٹ کا کجاوا اتارنے لگا اچانک ایک نامعلوم تیر اس کو آ کر لگا ، معلوم نہیں کس نے پھینکا تھا اس سے وہ مرگیا ، لوگوں نے کہا اس کو جنت مبارک ہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے وہ چھوٹی چادر جو غزوہ خیبر کی جنگ میں مال غنیمت سے لے لی تھی اور اس کے حصے میں نہیں آئی تھی وہ اس کے اوپر آگ بن کر بھڑک رہی ہے یہ بات سن کر ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر آیا اور خدمت گرامی میں پیش کردیئے ، فرمایا ایک یا دو تسمے بھی آگ کے ہیں ۔
زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن ایک شخص کا انتقال ہوگیا ، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھو ، یہ سن کر لوگوں کے رنگ فق ہوگئے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے ساتھی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے ہم نے اس کا سامان کھول کر دیکھا تو اس میں یہودیوں سے لوٹے ہوئے کچھ نقلی موتی ملے جو دو درہم کی قیمت کے ہوں گے ۔
ابی حمید الساعدی (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ قبیلہ ازد کا ایک شخص جس کا نام ابن اللتیبۃ تھا ، اسے رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کا عامل مقرر کرکے بھیجا تھا ، جب وہ اموال وصول کرکے واپس آیا تو کہنے لگا یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ میں دیا گیا ، آپ ﷺ نے اس کے بعد کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا کہ ان عمال کو کیا ہوگیا جن کو ہم صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجتے ہیں تو واپس آکر کہتے ہیں کہ یہ تمہارا ہے اور یہ ہمیں ھدیہ میں دیا گیا ، آخر ہ شخص اپنی والدہ اور اپنے باپ کے گھر کیوں بیٹھا نہیں رہتا کہ اگر وہ سچا ہے تو اس کا ہدیہ اس کو گھر ہی میں مل جاتا ، خدا کی قسم ! جو شخص بھی تم میں سے کوئی چیز ناحق لے گا وہ ضرور جب قیامت کے دن اللہ کے سامنے جائے گا تو وہ چیز اپنے اوپر لادے ہوئے آئے گا ، اگر وہ اونٹ چوری کیا ہوگا تو اس کی آواز ہوگی یا گائے کی آواز یا بکری کو اپنے اوپر لادے ہوئے لائے گا ، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ مبارک کو اٹھا کر (بغل کی سفیدی نظر آئی) فرمایا اے اللہ کیا میں نے تیرا حکم پہنچا دیا ہے ؟ اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ تین مرتبہ ارشاد فرمایا ۔
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھے حضور اقدس ﷺ نے یمن کا والی بنا کر بھیجا اور فرمایا کہ میری اجازت کے بغیر کوئی چیز نہ لینا کیونکہ وہ مال غنیمت میں چوری ہوگی ، (آیت)” ومن یغلل یات بما غل یوم القیامۃ “ یعنی جو شخص مال غنیمت میں خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اس مال کے ساتھ آئے گا ۔
حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھے حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو اس حالت میں پاؤ کہ اس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے تو تم اس کے سامان کو جلا دو اور اس کو مارو ، عمرو بن شعیب کے دادا روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ ، نے مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا سامان جلوا دیا اور اس کی پٹائی لگوائی (آیت)” ثم توفی کل نفس ما کسبت وھم لایظلمون “۔
Ayah 3:162(تفسیر) 162۔:
(آیت)” افمن اتبع رضوان “۔ رضوان سے مراد مال غنیمت میں خیانت کو ترک کرکے اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا ، (آیت)” کمن باء بسخط من اللہ “ ان لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کے ساتھ لوٹا، (آیت)” وما واہ جھنم وبئس المصیر “۔
Ayah 3:163163۔ (آیت)” ھم درجات عنداللہ “۔ اللہ کے ہاں ان کے درجات مختلف ہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جنہوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اور جو اللہ کی ناراضگی کے ساتھ لوٹا تو ان دونوں کے درجات اللہ کے ہاں مختلف ہیں جس نے اللہ کی رضا مندی کی اسے ثواب عظیم سے نوازا گیا اور جس نے اللہ کی ناراضگی کی اتباع کی اسے دردناک عذاب ملا۔ (آیت)” واللہ بصیر بما یعملون “۔