3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 3:20

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہوچکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے اور) اسلام لاتے ہو ؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مان لیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچادینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے

(تفسیر) 20۔: (آیت)” فان حاجوک پھر اگر (اے محمد) محمد آپ سے مناظرہ کریں) اے محمد ! اگر وہ آپ سے دین کے معاملے میں جھگڑا کریں یہ جھگڑا کرنے والے یہود و نصاری ہیں۔ اگر یہ لوگ آپ سے کہیں کہ یہودیت اور نصرانیت تو نسب ہے مذہب نہیں ہے دین تو ہمارا اسلام ہے اور ہم اسی پر ہیں (فقل ۔۔۔۔۔ لہ تو آپ ان سے کہہ دیں کہ میں تو اللہ کا فرمان بردار ہوگیا) میں نے اسی کو پیروی کی اپنے دل سے اپنی زبان سے اور تمام اعضاء سووجوارح سے سے یہاں آیت میں چہرے کو خصوصی طور پر ذکر کیا کیونکہ یہ اشرف الاعضاء ہے کہ جب چہرے سے خشوع و خضوع آئے گا تو تمام اعضاء سے خشوع و خضوع صادر ہوگا ، فراء نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ میں نے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کی طرف کردیئے (ومن اتبعن اور وہ جس نے میری پیروی کی) جس نے میری پیروی کر کے اسلام قبول کیا جیسا کہ میں نے اسلام قبول کیا ، نافع ابو عمرو نے ” اتبعن “ میں یاء کو ساتھ ذکر کر کے ” اتبعنی “ نقل کیا ہے، بعض نے یاء کو حذف کیا ” خطائ “ کیونکہ اصل نسخہ میں یاء موجود نہیں تھی (وقل للذین اوتوالکتاب والامیین “۔ اور کہیے اہل کتاب سے اور مشرکین عرب سے) امیین سے مراد عرب ہیں (ااسلمتم کیا تم بھی اسلام لاتے ہو) یہ صیغہ استفہام کا ہے امر کے معنی میں ہے یعنی ” اسلموا “ جیسا کہ کہا گیا (آیت)” فھل انتم منتھون “ اصل میں ” انتھوا “ تھا (فان اسلموا فقد اھتدوا “۔ اگر وہ لوگ اسلام لے آئیں تو وہ لوگ بھی راہ پر آجائیں گے) جب یہ آیت آپ ﷺ نے پڑھی ، اہل کتاب سے کہا کہ اسلام لے آؤ اور یہود سے کہا کہ تم پہلے یہ گواہی دو کہ عزیر (علیہ السلام) اس کے بندے اور رسول ہیں تو یہودی کہنے لگے معاذ اللہ عزیر اس کے بندے ہیں اور نصاری سے کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ عیسیٰ اللہ کا کلمہ اور اس کے بندے ہیں اور رسول ہیں وہ کہنے لگے معاذ اللہ عیسیٰ (علیہ السلام) اسلام اللہ کے بندے ہیں ؟ پھر اللہ عزوجل نے فرمایا (آیت)” وان تولوا فانما علیک البلاغ اگر وہ لوگ روگردانی کریں سو آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے) آپ کے ذمہ پہنچا دینا ہے تبلیغ کے ذریعے اور آپ کے ذمہ ہدایت دینا نہیں (واللہ بصیر بالعباد اور اللہ تمام بندوں کو خوب دیکھتا ہے) جاننے والا ہے ان لوگوں کو بھی جو ایمان لائے اور ان لوگوں کو بھی جو ایمان نہیں لائے ۔
Ayah 3:21

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنادو

(اہل کتاب کا رسول اللہ ﷺ سے مناظرہ) (تفسیر) 21۔: (ان ۔۔۔۔۔ اللہ بیشک جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں) اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں آیات سے مراد قرآن ہے ۔ (آیت)” الذین یکفرون “ سے مراد یہود و نصاری (آیت)” ویقتلون ۔۔۔۔۔ من الناس “ اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے ہیں اور جو لوگ انصاف کرنے کا حکم کرتے ہیں) حمزہ نے ” یقتلون “ کی جگہ ” یقاتلون الذین یامرون “ ذکر کیا ہے۔ ابن جریج (رح) نے کہا کہ بنی اسرائیل کے انبیاء پر وحی اترتی تھی ان کے پاس کتاب نہیں آئی تھی اس وحی کے مطابق وہ اپنی قوم کو نصیحت کرتے تھے تو انبیاء کرام (علیہم السلام) کو شہید کردیا جاتا ۔ پھر انبیاء کرام (علیہم السلام) کے پیروکار نصیحت کرنے والے کھڑے ہوجاتے اور ان کو نصیحت کرتے تو ان کو بھی انبیاء کرام (علیہم السلام) کی طرح شہید کر دیاجاتا ، یہ وہی لوگ تھے جو لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتے تھے ۔ (اشد الناس عذابا یوم القیامۃ) ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب کس کو دیاجائے گا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا منکر کا حکم دیا اور معروف سے روکا پھر آپ ﷺ نے یہ آیت ” ویقتلون النبیین بغیر حق ویقتلون الذین “ سے ” وما لھم من ناصرین “ تک تلاوت فرمائی ، پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا اے ابو عبیدہ ؓ بنو اسرائیل (علیہ السلام) نے دن کے اول حصہ میں ایک ہی وقت میں (43) انبیاء کرام (علیہم السلام) کو شہید کیا ، ان کی شہادت کے بعد پھر بنی اسرائیل میں سے ایک سو بیس عابد کھڑے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کے لیے تو ان عبادوں کو بھی دن کے دوسرے حصہ میں شہید کردیا ، یہ وہی لوگ ہیں جن کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا اور ان کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائی ۔ (فبشرھم بعذاب الیم “۔ سوا نہیں خوشخبری سنا دیں) خبر دے دیں (دردناک عذاب کی) ایسا سخت عذاب جو بہت ہی تکلیف دہ ہو ” فبشرھم “ میں فاء کو داخل کیا خبر ہونے کی وجہ سے ، اس صورت میں ” ان الذین ‘ شرط وجزاء کے معنی کو متضمن ہوگا تقدیری عبارت یوں ہوگی (آیت)” الذین یکفرون ویقتلون فبشرھم “۔ جن لوگوں نے کفر کیا اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کو قتل کیا تو آپ ان کو خوشخبری سنا دو ، یہ شرط جزاء درست نہیں کیونکہ کوئی بھی اس طرح نہیں کہتا ۔ ” ان زیدا فقائم “۔
Ayah 3:22

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہیں اور ان کو کوئی مددگار نہیں (ہوگا)

22۔ (اولئک ۔۔۔۔۔ ناصرین، یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال غارت ہوگئے دنیا میں اور آخرت میں ان کا کوئی حامی اور مددگار نہ ہوگا) دنیا میں اعمال کے باطل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ قبول نہیں کیے جائیں گے اور آخرت میں اس کا کوئی بدلہ نہیں دیا جائے گا ۔
Ayah 3:23

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (خدا یعنی تورات) سے بہرہ دیا گیا اور وہ اس کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (ان کے تنازعات کا) ان میں فیصلہ کردے تو ایک فریق ان میں سے کج ادائی کے ساتھ منہ پھیر لیتا ہے

23۔ (الم تر ۔۔۔۔۔ الکتاب کیا آپ نے ایسے لوگ نہیں دیکھے جن کو کتاب کا ایک حصہ دیا گیا) اس سے مراد یہود ہیں (یدعون ۔۔۔۔ اللہ ان کو بلایا جاتا ہے اللہ کی کتاب کی طرف) اس کتاب کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔ (کتاب اللہ کی تفسیر میں مختلف اقوال) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہودیوں کو کتاب اللہ کی طرف یعنی قرآن کے فیصلہ کی طرف بلایا گیا اور وہ اس سے اعراض کرنے لگے ۔ ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ اللہ نے یہود و نصاری اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان قرآن کو فیصلہ کن قرار دیا تو قرآن نے یہود و نصاری کے درمیان یہ فیصلہ کردیا کہ یہ حق پر نہیں ہیں اور وہ اس فیصلے سے روگرداں ہوگئے اور دوسرے حضرات نے کہا کہ اس سے مراد تورات ہے ۔ سعید بن جبیر ؓ و عکرمہ ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ یہودیوں کی جماعت کنیسہ میں داخل ہوئے اور ان کو اللہ عزوجل کی طرف دعوت دی اس پر نعیم بن عمرو اور حارث بن زید نے کہا کہ اے محمد ﷺ آپ کس دین پر ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ابراہیم کے دین پر ، ان دونوں نے کہا کہ ابراہیم تو یہودی تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تورات لاؤ ، وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے گی ، انہوں نے تورات لانے سے انکار کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (یہودیوں کے بڑے عالم ابن صوریا کا ذکر) کلبی (رح) نے ابو صالح (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ اہل خیبر کے باشندوں میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا اور زناء کی سزا ان کی کتاب میں رجم مقرر تھی ، انہوں نے رجم کو ناپسندیدہ سمجھا کیونکہ زانی عالی مرتبہ والا تھا ، اس وجہ سے انہوں نے رجم کرنا مناسب نہیں سمجھا اور یہ فیصلہ آپ ﷺ کے پاس لے آئے اور انہوں نے یہ امید تھی کہ اس میں کوئی رخصت ہوگی یا کوئی تخفیف مل جائے گی لیکن آپ ﷺ نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دے دیا تو نعمان بن اوفی اور بحری بن عمرو اس سزا کو سن کر بولے کہ آپ نے ان دونوں پر رجم کی سزا جاری کرنے کا حکم کیا حالانکہ ان پر رجم کی سزا نہیں ۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ہمارے درمیان فیصلہ کرنے والی کتاب تورات موجود ہے تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے انصاف کی بات کی ہے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم میں سے تورات کا زیادہ جاننے والا کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا ایک اندھا آدمی جو فدک میں رہتا ہے اس کا نام ابن صوریا ہے چناچہ اس کو بلوایا گیا اور وہ مدینہ آیا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کو ابن صوریا کے متعلق بتلا دیا تھا ، آپ ﷺ نے اس سے کہا کہ تم ہو ابن صوریا ؟ اس نے کہا جی ہاں ، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تم یہودیوں کے بڑے عالم ہو ، ابن صوریا نے کہا کہ لوگ ایسا ہی خیال کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے تورات کا وہ حصہ منگوایا اور اس کو کہا کہ پڑھ جب وہ رجم کی آیت پر پہنچا تو اپنی ہتھیلی اس پر رکھ دی اور آگے پڑھنے لگا ، عبداللہ بن سلام کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! ﷺ یہ آیت رجم کی چھوڑ گیا ، پھر حضرت عبداللہ بن سلام نے خود اٹھ کر اس کا ہاتھ آیت رجم سے ہٹایا اور آپ ﷺ کو اور یہودیوں کو پڑھ کر سنایا ہے کہ محصن اور محصنہ جب زنا کریں اور شہادت سے ثبوت ہوجائے تو ان کو سنگسار کردیا جائے اور اگر عورت حاملہ ہو تو بچہ پیدا ہونے تک سزا موقوف رکھی جائے ، اس فیصلہ کے بعد آپ ﷺ نے ان دونوں کو سنگسار کرا دیا اور یہودی ناراض ہو کر چلے گئے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتاب “۔ کتاب سے مراد تورات ہے (آیت)” (لیحکم بینھم ثم یتولی فریق منھم وھم معرضون “ تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے پھر ان میں سے بعض لوگ کترا کر منہ موڑ لیتے ہیں)
Ayah 3:24

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ یہ اس بات کے قائل ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی اور جو کچھ یہ دین کے بارے میں بہتان باندھتے رہے ہیں اس نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے

(تفسیر) 24۔: (ذلک ۔۔۔۔۔۔۔ فی دینھم یہ اس وجہ سے کہ وہ لوگ یوں کہتے تھے کہ ہمیں آگ نہیں چھوئے گی مگر گنے چنے دن اور انہوں دھوکے میں ڈال رکھا ہے) غرور کہتے ہیں ایسی طمع کرنا جس سے کوئی شئی حاصل نہ ہو (ماکانوا یفترون جس کو وہ تراشتے ہیں) افتراء کہا جاتا ہے جھوٹ میں ملاوٹ ، جھوٹ گھڑنا ۔
Ayah 3:25

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے (یعنی) اس روز جس کے آنے میں کچھ شک نہیں اور ہر نفس اپنے اعمال کا پور اپور بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائیگا

25۔ (فکیف اذا جمعناھم لیوم لاریب فیہ، پس ان کا کیا ہوگا اس وقت جب ہم ان کو ایک دن جمع کریں گے جس (دن) کے آنے میں کوئی شک نہیں) اس وقت ان کا کیا حال ہوگا یا اس وقت وہ کیا کرسکیں گے جب ان کو جمع کیا جائے گا ، ” لیوم “ سے مراد قیامت کا دن ہے (ووفیت اور وہ پورا پائے گا) ” ووفیت “ کا معنی ہے پورا پورا بدلہ (کل نفس ماکسبت ہر نفس کو جو اس نے کمایا) اس کا بدلہ دیا جائے گا نیکی اور برائی کا (ھم لا یظلمون اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا) یعنی ان کی نیکیوں کو کم کرکے اور ان کی برائیوں کو زیادہ کرکے ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔
Ayah 3:26

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

اور کہیے کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخش دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے (اور) بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے

26۔ (قل ۔۔۔۔۔۔ الملک اے محمد ! ﷺ کہہ دیں کہ اے اللہ ! جو مالک الملک ہے) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بتلایا گیا کہ جب آپ ﷺ نے اپنے رب سے روم وفارس کی فتح اپنی امت کے لیے مانگی تو اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت انس بن مالک ؓ نے فرمایا کہ جب آپ ﷺ نے مکہ فتح کرلیا اور آپ نے اپنی امت کے لیے فارس اور روم کی حکومت کا وعدہ فرمایا تو منافق اور یہودی کہنے لگے ، ارے ارے کہاں محمد اور کہاں فارس اور روم کی حکومتیں ، وہ ان سے بہت زیادہ طاقت ور اور مضبوط ہیں ، کیا محمد کے لیے مکہ اور مدینہ کافی نہیں کہ فارس اور روم کی حکومت کے لیے طمع کرنے لگے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی ۔ (قل اللہم کی تحقیق) (آیت)” قل اللھم “۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے ” یا اللہ “ حرف ندا (یا) کو حذف کرکے آخر میں میم لگا دیا ، بعض نے کہا کہ یہاں معنی میم ہے ۔ بعض نے کہا کہ یہ ” اللھم “ اصل میں ” یا اللہ امنا بخیر “ اے اللہ ہماری خیر کا ارادہ کر ، حرف نداء کو حذف کیا گیا ، یہ اس طرف ہوگیا ” ھلم الینا “۔ گویا کہ اس کا اصل ” ھل ام الینا “ کلام میں ہمزہ کو تخفیفا حذف کیا جاتا ہے اور میم مشدد کو لفظ اللہ سے ملا دیا ، ” مالک الملک “ اصل میں یا ” مالک الملک “ تھا مطلب یہ ہے کہ بندوں کا مالک اور جس چیز کے بندے مالک ہیں ان کا بھی مالک ، بعض نے کہا کہ اے زمین و آسمان کے مالک ! اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ بعض کتب میں اسی طرح ارشاد فرمایا ” انا اللہ ملک الملوک ومالک الملوک قلوب الملوک ونواصیھم بیدی “ میں اللہ بادشاہوں کا بادشاہ ، بادشاہوں کے دلوں کا مالک اور ان کی پیشانیوں کا مالک اگر بندے میری فرمانبرداری کرتے ہیں تو میں ان پر رحمت بھیجتا ہوں اور اگر میں نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کو سزا دیتا ہوں لہذا تم بادشاہوں کو برا بھلا نہ کہو بلکہ میری طرف رجوع کرو میں ان بادشاہوں کو تمہاری طرف پھیر دوں گا (تؤتی الملک من تشاء تو دیتا ہے بادشاہت جس کو چاہتا ہے) مجاہد (رح) اور سعید بن جبیر ؓ نے کہا کہ ملک سے مراد نبوت ہے ۔ کلبی (رح) نے کہا (آیت) ” توتی الملک من تشاء “۔ سے مراد محمد ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں (آیت)” وتنزع الملک ممن تشائ “۔ اور چھین لیتا ہے بادشاہت جس سے چاہتا ہے اس سے مراد ابو جہل اور قریش کے بڑے بڑے سردار ۔ بعض نے کہا کہ (آیت) ” توتی الملک من تشاء “۔ سے مراد عرب ہے اور (آیت)” تنزع الملک ممن تشائ “ سے مراد روم وفارس ہیں ۔ امام سدی (رح) نے کہا کہ (آیت) ” توتی الملک من تشاء “۔ سے مراد انبیاء کرام (علیہم السلام) کی ملک اور بندوں کا ان کی اطاعت کرنا ہے اور (آیت) ” وتنزع الملک ممن تشائ “ سے مراد جبارین ہیں اور بندوں کو ان کی اطاعت سے روکا گیا ، بعض نے کہا کہ (آیت) ” توتی الملک من تشاء “۔ سے مراد آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد ہے اور (آیت)” وتنزع الملک ممن تشائ “ سے مراد ابلیس اور اس کا لشکر ہے اور جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے) (وتعزمن تشاء وتذک من تشاء کی تفسیر) عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت) ” تعز من تشاء “۔ سے مراد مہاجرین اور انصار ہیں ۔ (آیت) ” وتذل من تشاء “ سے مراد فارس اور روم ہیں اور بعض نے کہا کہ (آیت) ” تعز من تشاء “۔ سے مراد محمد ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں کہ یہ مکہ میں دس ہزار کی تعداد میں داخل ہوئے (آیت) ” وتذل من تشاء “۔ سے مراد ابوجہل اور اس کے کارندے ہیں جن کو بدر کے مقام پر گھسٹ کر گڑے میں ڈالا گیا تھا ۔ بعض حضرات نے کہا کہ (آیت) ” تعز من تشاء “۔ سے مراد ایمان و ہدایت ہے اور (آیت) ” وتذل من تشاء “۔ سے مراد کفر اور گمراہی ہے بعض نے کہا (آیت) ” تعز من تشاء “۔ سے مراد نیکی اور (آیت) ” تذل من تشاء “۔ سے مراد برائی ہے۔ بعض نے کہا کہ (آیت) ” تعز من تشاء “۔ سے مر اد نصرت ہے اور (آیت) ” تذل من تشاء “۔ سے مراد عذاب ہے۔ بعض نے کہا کہ (آیت) ” تعز من تشاء “۔ سے مراد مال دار ہونا اور اور (آیت) ” وتذل من تشاء “۔ سے مراد فقروفاقہ ہے، بعض نے کہا کہ (آیت) ” تعز من تشاء “۔ سے مراد قناعت اور رضا ہے اور (آیت) ” تذل من تشاء “۔ سے مراد حرص اور طمع ہے (بیدک الخیر تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے) اصل عبارت اس طرح تھی ” بیدک الخیر والشر “ کیونکہ خیر اور شر دونوں اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں ۔ یہاں صرف ” خیر “ کو ذکر کر کے اسی پر اکتفاء کیا ، یہ ایسے ہی ہے جیسے ” وسرابیل تقیکم الحر “ اصل میں ” الحر اور والبرد “ تھا یہاں صرف ” حر “ کو ذکر کیا اور برد کو اسی پر اکتفاء کیا (بانک علی کل شیء قدیر بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے)
Ayah 3:27

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور تو ہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو ہی بےجان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بےجان پیدا کرتا ہے اور تو ہی جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق بخشتا ہے

(تفسیر) 27۔: (تولج اللیل فی النھار “۔ یعنی تو رات کو دن میں) رات کو دن میں داخل کرنے والا کبھی دن کو پندرہ ساعات کا ہوتا ہے اور رات نوساعات کی (وتولج النھار فی اللیل اور تو داخل کرتا ہے دن کو رات میں) اور رات پندرہ ساعات کی اور دن نوساعات کا تو اس صورت میں دن کو رات میں اور رات کو دن میں داخل کرتا ہے ۔ (وتخرج ۔۔۔۔ الحیی اور تو نکالتا ہے جاندار کو بےجان سے اور بےجان کو جاندار سے) قراء اہل مدینہ حمزہ (رح) کسائی (رح) حفص بن عاصم (رح) نے ” المیت “ میں یاء کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ۔ سورۃ انعام ، سورة یونس ، سورة روم میں بھی اسی طرح ہے، اعراف میں ” لبلد میت “ اور فاطر میں ” الی بلد میت “ نافع نے (آیت)” اومن کان میتا فاحییناہ “ اور (آیت)” لحم اخیہ میتا والارض المیتۃ احییناھا “ میں بھی مشدد پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے امام یعقوب (رح) نے (آیت)” یخرج الحی من المیت “ اور (آیت)” ولحم اخیہ میتا “ میں مشدد پڑھا ہے ۔ (تخرج الحی من المیت ۔۔۔۔۔۔۔۔ الآیۃ کی مختلف تفاسیر) اس آیت کی تفسیر میں ابن مسعود ؓ ۔ سعید بن جبیر (رح) مجاہد (رح) قتادہ (رح) ، نے کہا کہ اللہ جانور کو نفطہ سے اور نطفہ میت ہے اور نطفہ کو حیوان سے نکالتے ہیں ، عکرمہ (رح) اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” تخرج الحی من المیت “۔ سے مراد بچے کو انڈے سے اور انڈے کو پرندے سے نکالنا ، حسن (رح) اور عطاء (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد مؤمن کو کافر سے اور کافر کو مؤمن سے پیدا کرتا ہے ، مؤمن زندہ اور کافر مردہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” اومن کان میتا فاحییناہ “۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد تروتازہ نباتات کو خشک بیج سے پیدا کرنا اور خشک بیج کو تر ٹہنی سے پیدا کرنا ، ہے (وترزق ۔۔۔۔۔۔ حساب اور تو رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بغیر حساب کے) بغیر تنگی اور کمی کے ۔ (مقبول الشفاعت آیات) حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” فاتحۃ الکتاب “ اور آیت الکرسی اور سورة آل عمران کی دو آیات یعنی (آیت)” شھد اللہ “ سے لے کر (آیت)” ان الدین عند اللہ الاسلام “ تک اور دوسری آیت وقل اللھم مالک الملک “ سے لے کر ” بغیر حساب “ تک شفاعت کو قبول کرنے والی ہیں ، عرش کے ساتھ معلق ہیں ان کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ، انہوں نے کہا تھا اے رب تو ہم کو زمین پر اتار کر ایسے لوگوں کے پاس بھیج رہا ہے جو تیری نافرمانی کریں گے ، اللہ عزوجل نے فرمایا میں اپنی قسم کھاتا ہوں کہ میرے بندوں میں جو کوئی ہر نماز کے بعد تمہاری تلاوت کرے گا وہ کیسا ہی ہو میں جنت کو اس کا ٹھکانہ ضرور بناؤں گا ۔ میں ” حظیرۃ القدس “ میں اس کو ضرور ٹھہراؤں گا ، میں اس کی طرف ضرور نظر رحمت کروں گا اور روزانہ اس کی ستر حاجتیں پوری کروں گا ان میں ادنی درجہ گناہوں کی بخشش کا ہوگا اور میں ہر دشمن وحاسد سے اس کو پناہ دوں گا اور اس کو غالب کروں گا ۔ امام بغوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ روایت حارث بن عمر سے مروی ہے اور وہ ضعیف راوی ہے ۔
Ayah 3:28

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

مومنوں کو چاہئے کہ مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو تو مضائقہ نہیں اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے

(تفسیر) 28۔: (لایتخذ ۔۔۔۔۔ المؤمنین نہ بنائیں مؤمنین کا فروں کو دوست اہل ایمان کو چھوڑ کر) (شان نزول) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ حجاج بن عمرو ابن ابی الحقیق اور قیس بن زید ان تینوں نے انصار کے چند آدمیوں سے اندرونی دوستی لگائی تاکہ دین سے ان کو دور کریں اور بہکا دیں ۔ رفاعہ بن منذر اور عبداللہ بن جبیر ؓ اور سعید بن حثمہ نے انصار سے کہا کہ آپ لوگ ان یہودیوں سے بچتے رہیں کہیں دین کی طرف سے آپ کو بہکا نہ دیں ، انصار نے اندرونی دوستی ترک کرنے سے انکار کردیا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، مقاتل نے کہا کہ اس آیت کا نزول حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ وغیرہ کے متعلق نازل ہوا جو کفار مکہ سے دوستی کا اظہار کرتے تھے ۔ کلبی (رح) نے ابو صالح (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ اس آیت کا نزول عبداللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھیوں کے بارے میں ہوا جو مشرکوں اور یہودیوں سے دوستی رکھتے تھے اور مسلمانوں کی خبریں ان کو اس امید پر پہنچاتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ پر ان کو غلبہ حاصل ہوجائے گا ۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مؤمنین کو ان کے فعل سے منع فرما دیا (ومن یفعل ذلک اور جو ایسا کرے گا) یعنی کفار کے ساتھ دوستی اور مسلمانوں کی خبریں ان تک پہنچانا تاکہ وہ مسلمانوں کے عیوب پر مطلع ہوجائیں (فلیس من اللہ فی شیء تو اللہ سے اس کا کچھ بھی دوستی کا تعلق نہیں) اللہ کے دین میں ان کا کچھ حصہ نہیں ، پھر اس کو مستثنی ذکر کیا اور فرمایا (الا ۔۔۔۔۔ تقاۃ مگر یہ کہ کافروں کی طرف سے تم کو کچھ شر کا اندیشہ ہو) یعنی کافروں سے ظاہر تعلقات ان کے شر کا اندیشہ ہونے کی وجہ سے درست ہے ، اور کسی وقت جائز نہیں۔ (ان تتقوا منھم تقاۃ کی تفسیر میں ائمۃ مفسرین کی توجہات) مجاہد (رح) اور یعقوب (رح) نے اس کو ” تقیۃ “ وزن ” بقیۃ “ پر پڑھا ہے اور یاء کو برقرار رکھا ہے الف کو نہیں پڑھا جیسے ” حصاۃ “ اور جب ” اتقیت “ کہا جائے تو اس کا مصدر ” الاتقاء “ آئے گا اگر ان کا باب ثلاثی مجرد سے ہو تو پھر ” تقاۃ “ بولا جاتا ہے اور اتقاء نہیں کہا جاتا اگر یہ دونوں لفظ ایک ہی ہوں تو مصدر بھی ایک ہی آئے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرمان ” وتبتل الیہ تبتیلا “ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا ، کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو کفار کے ساتھ میل جول رکھنے سے منع فرمایا ہے یا اس وقت جائز ہے جب کفار مغلوب ہوں اور ان کی طرف سے شر کا کوئی اندیشہ نہ ہو یا کوئی مؤمن کفار کے علاقے میں رہتا ہو تو ان کی زبانی مداہنت کرسکتا ہے جب کہ اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو تو صرف اپنے آپ سے شر کو دور کرنے کے لیے ایسا کرے لیکن ان کے ساتھ دوستی میں کسی حلال چیز کو حرام قرار دینا یا حرام چیز کو حلال قرار دینا یا مسلمانوں کے عیوب کو کفار کے سامنے بیان کرنا یا مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے ان کو طرح طرح کی تدبیریں بتلانا اور مسلمانوں کے رازوں کو بتلانا جائز نہیں اور وہ کسی کلام میں تقیہ نہ کرے مگر اس کو جان کا خوف ہو تو اس صورت میں اگر اس کی نیت درست ہے تو پھر کوئی حرج نہیں ، اللہ تعالیٰ کا اس کے بارے میں فرمان ہے اور جس کو زبردستی کی گئی اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہے تو اس کے لیے رخصت ہے اگر اس نے صبر کیا اور کلمہ کفر نہ کہا پھر وہ مارا گیا تو اجر عظیم ہوگا ، بعض حضرات نے تقاۃ کو ناجائز قرار دیا ، اسلام کے ظہور کے بعد کیونکہ حضرت معاذ بن جبل ؓ اور مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ابتداء اسلام میں جب تک دین کا استحکام نہ ہوا تھا اور اسلام میں قوت نہیں آئی تھی تو اس وقت تقاۃ جائز تھا لیکن اب اللہ نے اسلام کو عزت بخشی ہے تو اہل اسلام میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ دشمن تقیہ کرے ۔ یحی البکاء نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر (رح) سے حجاج بن یوسف کی حکومت کے دنوں میں پوچھا کہ حسن آپ سے کہا کرتے تھے ” تقیہ باللسان والقلب مطمئن بالایمان “ کہ تقیہ صرف زبان سے ہو جبکہ دل مطمئن ہو۔ سعید نے کہا کہ اسلام میں تقیہ جائز نہیں ، تقیہ تو جنگ کی حالت میں ہوتا ہے (ویحذرکم اللہ نفسہ اور اللہ تم کو اپنی ناراضگی اور عذاب سے ڈرا رہا ہے) اللہ تعالیٰ تم کو کفار کے ساتھ دوستی کرنے کی سزا کے بارے میں ڈراتا ہے اور ” منھی عنہ “ امور کے ارتکاب اور غیر شرعی امور کے ارتکاب سے تمہیں سزا کے متعلق ڈراتا ہے (واللہ رؤف بالعباد اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے)
Ayah 3:29

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ کوئی بات تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو خدا اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو سب کی خبر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

(تفسیر) 29۔: (قل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدورکم اے محمد ! ﷺ کہہ دو کہ اگر تم چھپائے رکھو اپنے دلوں میں) تمہارے دلوں میں کفار کی دوستی جو چھپائے رکھے ہو (اوتبدوہ یا اس کا اظہار کرو) ان کی دوستی کا اظہار کرو قول وعمل سے (یعلمہ اللہ اللہ اس کو خوب جانتا ہے) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اس کو چھپاؤ یعنی آپ ﷺ کے سامنے جھوٹ بول کر اس کا اظہار نہ کرو یا کفار کے سامنے جا کر آپ ﷺ کی جنگ کے متعلق گفتگو اور قتال کے متعلق ان کو بتلائیں ، اللہ ان سب باتوں کو جانتا ہے اور ان کو محفوظ کرکے رکھتا ہے اور تمہیں اس کا بدلہ بھی دیا جائے گا (ویعلم ۔۔۔۔۔ والارض اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب کو جانتا ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ جب زمین و آسمان میں کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں تو تمہاری دوستی کیسے پوشیدہ ہوسکتی ہے اور تمہارے دلوں کا میلان کیسے مخفی رہ سکتا ہے (واللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ قدیر اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) ۔
Ayah 3:30

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہوجاتی، اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے

30۔ (یوم تجد کل نفس جس دن پائے گا ہر نفس) ” یوم منصوب بنزع الخافض “ ہے۔ یعنی حرف جارہ فی محذوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، ” فی یوم “ تھا یا فعل محذوف ” اذکروا، اتقوا فعل کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (ما۔۔۔۔۔۔ محضرا اپنی کی ہوئی نیکی اپنے سامنے) اس سے کچھ بھی کم نہیں کیا جائے گا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” ووجدوا ماعملوا حاضرا “ انہوں نے جو عمل کیا وہ انہوں نے اپنے سامنے حاضر پایا (وما عملت من سوء اور جو اس نے برائی کی ہوگی) بعض حضرات نے ” خیرا “ کو منصوب پڑھا ہے جو اعمال اس نے کئے خواہ وہ خیر ہوں یا شر ، بعض نے کہا کہ وہ اپنے نیک اعمال کو چھپائے گا ۔ بعض حضرات نے خیرا کو جملہ مستانفہ بنایا ہے اس کی دلیل حضرت ابن مسعود ؓ نے اسی طرح پڑھا ہے ۔ ” وما عملت من سوء ودت لوان بینھا وبینہ امدا بعیدا “۔ (تودان بینھما تو وہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے درمیان) اس کے درمیان سے مراد اس کے نفس کے درمیان ہے (وبینہ اور اس کے) برے عمل کے درمیان (امدا بعیدادور کی مسافت پائے گا) سدی (رح) نے فرمایا کہ ” امدا بعیدا “ سے ” مکانا بعیدا “ مراد ہے۔ مقاتل (رح) نے فرمایا مراد اس سے مشرق ومغرب کے درمیان اور امد سے مراد زندگی ہے اور غایت اس کی جہاں تک اس کی انتہاء ہے ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ہر آدمی کو یہ تمنا ہوگی کہ اس کی بدی اس کے سامنے کبھی نہ آئے ۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اس بات کی تمنا کرے گا کہ کاش ! اس نے یہ برے اعمال کیے ہی نہ ہوتے (ویحذرکم ۔۔۔۔۔۔ نفسہ ۔۔۔۔۔۔۔ بالعباد اور اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتے ہیں اور اللہ مؤمن بندوں پر بڑا مہربان)
Ayah 3:31

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میر پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیگا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(شان نزول) (تفسیر) 31۔: اس آیت کا نزول یہود و نصاری کے بارے میں ہوا تھا کیونکہ انہوں نے کہا تھا (آیت)” نحن ابناء اللہ واحبائہ “ کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں ۔ (نعوذ باللہ) ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ قریش کے پاس آئے جب وہ مسجد حرام میں موجود تھے انہوں نے کعبہ کے اندر بت نصب کیے تھے اور ان پر شترمرغ کے انڈے لٹکائے ہوئے تھے اور ان کے کانوں میں بالیاں پہنائی ہوئی تھیں اور ان بتوں کو سجدے کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا واللہ ! اے قریش کی جماعت تم نے اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے طریقے کی مخالفت کی ، آپ ﷺ کو قریش نے جواب دیا کہ ہم تو اللہ کی محبت میں ان کی پوجا کرتے ہیں تاکہ یہ ہم کو خدا کے مقرب بنادیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فرمایا اے محمد ! ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو اور بتوں کی پوجا اس لیے کرتے ہو تاکہ وہ تمہیں خدا کے قریب کردیں تو تم میری پیروی کرو تو تم سے اللہ محبت کرے گا ، میں اس کی طرف سے تمہاری طرف بھیجا ہوا رسول اور تم پر حجت ہوں ، تم میری شریعت وسنت کی پیروی کرو ، اللہ تم سے محبت کرے گا پس مؤمنین کی اللہ سے محبت یہ ہے کہ وہ اس حکم کی پیروی کریں اور اس کی اطاعت میں خرچ کریں اور اس کی رضا چاہیں اور اللہ تعالیٰ کی مؤمنین سے محبت یہ ہے کہ ان کی تعریف کرتا ہے اور ان کو اجر عطا کرتا ہے اور ان سے خطاؤں کو معاف کرتا ہے (ویغفر ۔۔۔۔۔ رحیم اور وہ بخش دے گا تمہارے گناہوں کو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے) جب یہ آیت نازل ہوئی تو عبداللہ بن ابی منافق نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ محمد ﷺ اپنی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دے رہے ہیں اور ہم کو حکم دے رہے ہیں کہ ہم ان سے ویسی ہی محبت کریں جیسے نصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
Ayah 3:32

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اگر نہ مانیں تو خدا بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا

32۔ (قل ان کنتم) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرا ہر امتی جنت میں جائے گا سوائے اس کے جس نے انکار کیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے فرمایا کہ کون انکار کرے گا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا ، (من اطاعنی فقد اطاع اللہ) جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس فرشتے آئے ، جب آپ ﷺ سو رہے تھے ، بعض فرشتوں نے بعض سے کہا کہ آپ ﷺ سو رہے ہیں بعض نے کہا کہ آپ ﷺ کی آنکھ سوتی ہے دل نہیں سوتا ، فرشتے کہنے لگے کہ ان کی مثال بیان کرو تو انہوں نے مثال بیان کی وہ کہنے لگے ان کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے کہ جس نے گھر بنایا اور اس میں اس نے دعوت کا کھانا تیار کیا اور ایک شخص کو بلانے کے لیے بھیجا ، پس جس شخص نے اس بلانے والے کو قبول کیا وہ اس گھر میں داخل ہوگا اور اس نے دعوت سے کھانا کھایا اور جس نے اس بلانے والے کی دعوت کو قبول نہیں کیا وہ اس گھر میں بھی داخل نہیں ہوگا اور نہ ہی اس نے اس گھر سے دعوت تو انہوں نے کہا ا ن میں پہلا وہ شخص جس کو اللہ نے دین کی سمجھ عطا فرمائی ، بعض نے کہا کہ آپ ﷺ سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ آپ ﷺ کی آنکھ سوتی ہے اور دل جاگتا ہے ، پھر انہوں نے کہا کہ دار سے مراد جنت ہے داعی سے مراد محمد ﷺ ہیں پس جس نے محمد ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس شخص نے محمد ﷺ کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ، محمد ﷺ نے لوگوں کے درمیان فرق کردیا ۔
Ayah 3:33

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا

(شان نزول) (تفسیر) 33۔: حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں یہود کہتے ہیں کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں اور ہم انہی کے دین پر ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام کے لیے چن لیا اور تم دین اسلام پر نہیں ہو ، اصطفی ، اختار کی طرح ہے باب افتعال سے صفوۃ سے مصدر ہے اس کا معنی ہے خالص ، آدم (علیہ السلام) تمام مخلوقات کے باپ ہیں اور نوح (علیہ السلام) بھی (وال ابراھیم ۔۔۔۔۔۔۔ عمران اور ابراہیم و عمران کی اولاد) (ال ابراہیم اور ال عمران کی وضاحت) ” الی ابراھیم و عمران “ سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور عمران (علیہ السلام) ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” وبقیۃ مماترک ال موسیٰ وال ھرون “ یعنی موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) ، بعض نے کہا کہ آل ابراہیم سے مراد اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب والاسباط ہیں اور محمد ﷺ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ باقی رہے آل عمران کے بارے میں مقاتل (رح) نے کہا کہ یہ عمران بن یصھر بن فاہت بن لاوی بن یعقوب (علیہم السلام) ہیں اور آل موسیٰ و ہارون (علیہم السلام) ہیں ، حسن (رح) اور وہب (رح) کہتے ہیں کہ عمران بن اشھم بن عمون جو حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) کے بیٹے ہیں اور ان کی آل مریم عیسیٰ (علیہما السلام) ہے ۔ اور بعض نے کہا کہ اس سے عمران بن ماثان ہیں ان دونوں کو اس لیے خاص کیا کیونکہ تمام انبیاء اور رسول انہی کی نسل سے ہیں ، (علی العالمین تمام جہانوں پر)
Ayah 3:34

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

ان میں سے بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

34۔ (ذریۃ اولاد) ذریۃ یہ ذراء سے مشتق ہے اس کا معنی ہے پیدا کرنا اور بعض نے کہا کہ یہ ” ذر “ سے مشتق ہے چیونٹی کو کہتے ہیں کیونکہ اس کو آدم کی پیٹھ سے نکالا گیا ، اس وقت آدم (علیہ السلام) کی ذریت چیونٹیوں کی مانند تھیں ، ذریۃ کا اطلاق اولاد پر بھی ہوتا ہے اور باپ دادا پر بھی ، اباء کو ذریۃ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ان سے اولاد پیدا ہوتی ہے اور اولاد ذریت اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اللہ ان کو باپ سے پیدا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرامن (آیت)” وایۃ لھم ان حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون “۔ ذریۃ منصوب ہے معنا اور ہم نے چن لیا ذریت کو بعض کو بعض سے (بعضھا من بعض بعض کو پیدا کیا ہے بعض سے) بعض نے کہا کہ بعض کو بعض کے ساتھ مدد دی نصرت دی ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد ان میں سے کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے دین پر ہیں ۔ (واللہ سمیع علیم اور اللہ تعالیٰ سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں)
Ayah 3:35

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھونگی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما تو تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

35۔ (اذ ۔۔۔۔۔۔ عمران یاد کرو جبکہ عمران کی بیوی نے کہا تھا) (ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) کے درمیان کتنی مدت کا فاصلہ) عمران (علیہ السلام) کی بیوی کا نام حنۃ بنت فاقوذا جو حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ محترمہ تھیں اور عمران سے عمران بن ماثان ہیں، عمران بن ابی موسیٰ (علیہ السلام) نہیں تھے کیونکہ ان دونوں کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو سال کا فاصلہ ہے ۔ اور بعض نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے اور ماثان کی اولاد بنی اسرائیل کی سردار اور بادشاہ تھی اور بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مراد عمران بن اشھم ہیں ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (رب ۔۔۔۔۔۔ بطنی محررا اے میرے رب میں نے نذر مانی ہے آپ کے لیے اس بچے کی جو میرے بطن میں ہے کہ وہ آزاد رکھا جائے گا) (گرجا کی خدمت کیلئے بچوں کو وقف کرنے کی نذر ماننا) یعنی جو کچھ میرے بطن میں ہے اس کو تیرے لیے آزاد کرتی ہوں اور تیرے لیے نذر مانتی ہوں (فتقبل ۔۔۔۔ العلیم، پس تو اس کو میرے لیے قبول فرما ، بیشک تو سننے والا اور جاننے والا ہے) نذر کہتے ہیں انسان جو اپنے اوپر لازم کرلے محرزا اس کو خالص اللہ کی رضا کے لیے ، محض اللہ کی عبادت کے لیے اور گرجا کی خدمت کے لیے آزاد کرتی ہوں تاکہ دنیا کے وہ کسی کام میں مشغول نہ ہو اور جس کو اللہ کے لیے خالص کیا جائے تو اس کو محرر کہا جاتا تھا ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ” حررت العبد اذا اعتقتہ “۔ جب غلام کو آزاد کیا جائے اور اس کو رقیت سے نجات دلا دی جائے ، کلبی (رح) نے محمد بن اسحاق (رح) وغیرہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب گرجا گھر کے لیے کسی کو آزاد کردیا جاتا تو وہ جوان ہونے تک ، اس کی خدمت کرتا جوان ہونے کے بعد اس کو اختیار ہوتا کہ چاہے تو وہیں رہ کر گرجا کی خدمت کرتا رہے اور چاہیے تو کہیں چلا جائے پھر اس سے زبردستی خدمت نہ لی جاتی ، کوئی پیغمبر اور مذہبی عالم ایسا نہیں ہوتا کہ اس کی نسل کا کوئی فرد بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف نہ کیا گیا ہو ، یہ وقف کرنے کا دستور لڑکوں کے لیے تھا نہ کہ لڑکیوں کیلیے کیونکہ ان کے ساتھ وہ عوارض لاحق ہوتے ہیں جو لڑکوں کے ساتھ نہیں ہوتے ۔ (ام مریم (علیہا السلام) کی دعا اور قصہ) ام مریم (علیہا السلام) نے اپنے بطن میں جو کچھ تھا اس کو آزاد کردیا اس کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت عمران (علیہ السلام) نے دونوں بہنوں کے ساتھ شادی کی ایشاع بنت فاقوذا جو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی والدہ تھیں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی بیوی تھیں اور حنۃ بنت فاقوذا حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ یہ عمران (علیہ السلام) کی بیوی تھیں ، حضرت حنۃ کی کوئی اولاد نہ ہوئی یہاں تک کہ وہ بوڑھی ہوگئیں ، ایک روز کسی درخت کے نیچے سے انہوں نے دیکھا کہ ایک پرندہ اپنے بچے کو چونچ سے کھلا رہا ہے یہ دیکھ کر ان کے دل میں بچے کے لیے خواہش اٹھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے اللہ !, مجھے بھی بچہ عطا فرما اور فرمانے لگیں اے اللہ ! اگر تو نے مجھے بچہ عطا فرمایا تو میں اس کو بیت المقدس کی طرف صدقہ کروں گی تاکہ وہ بیت المقدس کی خدمت کرسکے، حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ کی دعا قبول ہوئی اور اللہ نے ان کو مریم (علیہ السلام) سے حاملہ کردیا اور ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ حمل مذکر ہے یا مؤنث ، پھر ان کے شوہر نے کہا کہ ہلاکت ہو یہ تو نے کیا کیا ، کیا تو دیکھتی اگر وہ لڑکی ہوئی تو وہ اس کی صلاحیت نہیں رکھے گی دونوں اس وجہ سے غمگین ہوگئے اسی اثناء میں حضرت عمران (علیہ السلام) انتقال کر گئے اور حضرت حنہ مریم (علیہا السلام) سے حاملہ تھیں ۔
Ayah 3:36

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لئے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اسکی اولاد شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

(تفسیر) 36۔: (فلما وضعتھا پھر جب لڑکی جنی) جب اس لڑکی کو جنا ، ” وضعتھا “ میں ھا ضمیر ماقبل کی طرف لوٹ رہی ہے نہ کہ ما کی طرف ، اسی وجہ سے اس کو مؤنث ذکر کیا (قالت تو کہنے لگی) حضرت حنہ کہنے لگیں اور وہ لڑکے کی امید رکھتی تھیں (رب ۔۔۔۔۔۔ انثی اے میرے رب ! میں نے تو وہ حمل لڑکی جنی) اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا عذر پیش کرنے لگیں (واللہ اعلم بما وضعت اور اللہ تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں اس کو جو انہوں نے جنی) اب عامر (رح) ، ابوبکر (رح) ، یعقوب (رح) نے ” وضعت “ پڑھا ہے اور اس کلام کو حضرت مریم (علیہا السلام) کا قرار دیا اور دوسرے قراء نے ” وضعت “ تاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے (ولیس ؛۔۔۔۔۔۔ کالانثی “ اور وہ لڑکا اس لڑکی کے برابر نہیں) گرجا کی خدمت کے لیے چونکہ لڑکا مضبوط اور قوی ہوتا ہے لڑکی کمزور ہوتی ہے پھر اس کو عوارض نسوانی بھی لاحق ہوتے ہیں اس لیے لڑکی لڑکے کی طرح نہیں ہوسکتی (وانی ۔۔۔۔۔ مریم اور میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا ہے) مریم کا معنی عابدہ ہے اور یہ نام اس لیے رکھا کہ امید ہے اللہ اس کو عابدہ بنا دے ، حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے زمانے کی عورتوں میں سب سے خوبصورت اور سب سے افضل تھیں (وذریتھا اور میں پناہ دیتی ہوں اس کو) اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے اس سے روکا ہے اور اس کو تیرے حوالے کیا ہے (اور اس کی اولاد کو) ذریت سے مراد مریم (علیہا السلام) کی اولاد ہے (من الشیطان الرجیم شیطان مردود سے) رجیم رجم سے ہے چونکہ اس کو شہاب ثاقب مارا جاتا ہے۔ (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) شیطان کے چونکہ مارنے سے محفوظ رہے) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ بنی آدم میں سے جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے اس کی پیدائش کے وقت شیطان اس کو مس کرتا ہے جس کی وجہ سے بچہ چیختا ہے ، شیطان کے چونکا مارنے کی وجہ سے ، علاوہ حضرت مریم (علیہا السلام) اور ان کے بیٹے کے ، پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ” وانی اعیذھا بکم وذریتھا من الشیطن الرجیم “ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمام بنی آدم کے دونوں پہلوؤں میں شیطان انگلی سے ٹھونگ مارتا ہے علاوہ عیسیٰ بن مریم (علیہا السلام) کے ، شیطان ان کو چونکا مارنے گیا تھا لیکن اس نے پردہ میں چونکا مارا ۔
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) سے پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں کہ خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

(تفسیر) 37۔: (فتقلبھا ۔۔۔۔ حسن پس ان کو ان کے رب نے بوجہ احسن قبول فرما لیا) اللہ تعالیٰ نے حضرت حنہ سے مریم (علیہا السلام) کو قبول کرلیا ” تقبل بمعنی قبول اور رضا مندی کے ہے ، قبول مصدر ہے ” قبل یقبل “ سمع ویسمع سے مثل ولوغ اور وزوغ کے ۔ ان تین مصادر کے علاوہ نہیں آتا، بعض نے کہا کہ قبول تقبل کے معنی میں ہے ان کی تربیت میں کفالت کرنا (وانبتھا نباتا حسنا اور عمدہ طور پر ان کو نشونما دیا) یہ فعل محذوف کا م مفعول مطلق ہے ، عبارت اس طرح ہوگی ، ” وانبتھا فنبتت نباتا حسنا “۔ بعض نے کہا کہ یہ مصدر ایسا ہے کہ اس کا کوئی مصدر نہیں جیسا کہ اللہ کا فرمان (آیت)” فتقبلھا ربھا بقبول حسن “ ، اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی کہے ” تکلمت کلاما “ جریر (رح) نے ضحاک (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ، فرماتے ہیں کہ ” فتقبلھا ربھا بقبول حسن “ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو نیک لوگوں کے راستے پر چلائے گا اور ” انب تھا نباتا حسنا “۔ کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو برابر پیدا کیا ، میں کوئی بیشی نہیں رکھی اور یہ ایک دن میں بڑھاوا اتنا ہوتا تھا جتنا دوسرے بچوں کا سال بھر میں ہوتا ہے۔ (حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت کا واقعہ) (آیت)” وکفلھا زکریا “ اہل اخبار نے کہا کہ جب حضرت مریم (علیہا السلام) پیدا ہوئیں تو حضرت حنۃ نے ان کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر ان کی مسجد میں جا کر مشائخ مسجد کے سامنے رکھ دیا ، یہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے ، یہ لوگ بیت المقدس کے متولی تھے جیسے دربان کعبہ کے متولی ہوتے ہیں اور انکو جا کر کہا یہ لو نذیرہ ہے حضرت مریم (علیہا السلام) چونکہ ان کے امام اور متولی قربانی کی بیٹی تھیں اس لیے سب نے ان کو لے لینے کی بڑھ چڑھ کر خواہش کی ، ان کو حضرت زکریا (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تم سے زیادہ حق دار ہوں کیونکہ اس کی خالہ میری بیوی ہے ، احبار نے ان سے کہا کہ آپ اس طرح نہ کریں ۔ (کفالت کی تعیین میں قرعہ اندازی کا معاملہ) لیکن ہم ان کے بارے میں قرعہ اندازی کریں گے جن کے حصے میں آئیں گی تو وہی ان کی پرورش کرے گا ، پھر وہ اس کام کے لیے چل نکلے ، ان لوگوں کی تعداد انتیس تھی یہ نہر پر گئے ۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اردن کی نہر تھی سب نے اپنے اپنے قلم پانی میں ڈال دیئے اور یہ شرط لگائی کہ جس کا قلم پانی میں رک جائے گا اور سیدھا رہے گا وہی حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت کرے گا ، اور بعض نے کہا کہ ہر قلم پر ہر ایک کا نام لکھا ہوا تھا ۔ بعض نے کہا کہ وہ تورات لکھ رہے تھے اور انہوں نے اپنے قلموں کو پانی میں ڈال دیا جو ان کے ہاتھ میں تھے ، حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قلم رکھ گیا اور بقیہ کے قلم بہنے لگے ، یہی قول محمد بن اسحاق اور ایک جماعت کا ہے بعض نے کہا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قلم مخالف سمت چلنے لگا اور دوسروں کے قلم پانی کے بہنے کے ساتھ بہہ گئے ، امام سدی (رح) اور ایک جماعت کے نزدیک ش کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قلم پانی میں اس طرح رک گیا جیسا کہ مٹی میں ہو، اب قرعہ اور حصہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے متعلق نکلا ، یہ ان متولیواں کے سردار اور نبی تھے ، اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان حضرت مریم (علیہا السلام) وکفلھا زکریا “۔ حمزہ (رح) عاصم (رح) کسائی (رح) نے ” کفلھا “ فاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ، اس صورت میں لفظ زکریا محل نصب میں واقع ہے ، عبارت یوں ہوگی ، ” ضمنھا اللہ وضمھا الیہ بالقرعۃ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے قرعہ اندازی کے ذریعے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذمہ دار بنادیا اور بعض قراء نے فاء کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ، اس صورت میں زکریا محل رفع ہوگا ، مطلب یہ ہوگا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم (علیہا السلام) کے کفیل بنے اور اس کے حکم پر کھڑے ہوئے ، زکریا بن اذن بن مسلم بن صدوق حضرت سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) کی نسل سے تھے ، حمزہ (رح) ، کسائی (رح) ، حفص بن عاصم (رح) ، نے زکریا کو مقصور پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے مد کے ساتھ کے ساتھ پڑھا ہے ، جب حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت سنبھالی تو سب سے پہلے ان کے لیے گھر بنایا اور ان کے لیے دودھ پلانے والی کا انتظام کیا ۔ (حضرت زکریا (علیہ السلام) کا حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت کرنا) محمد بن اسحاق (رح) کی رائے کے مطابق حضرت مریم (علیہا السلام) کو ان کی خالہ کے حوالے کردیا اور یہی ان کی دیکھ بھال کرتی رہیں ، جب حضرت مریم (علیہا السلام) بڑی ہوگئیں اور عورتوں کی عمر تک پہنچ گئیں تو مسجد میں ان کے لیے ایک بالا خانہ تعمیر کروایا اور اس کا دروازہ اس کے درمیان میں رکھا، اس دروازہ تک بغیر زینے کے کوئی نہیں چڑھ سکتا تھا ، جیسا کہ آج کل کعبہ کا دروازہ ہے کہ اس میں بغیر زینے کے کوئی نہیں چڑھ سکتا ، حضرت زکریا (علیہ السلام) ہر روز ان کے پاس کھانے پینے ، تیل کی اشیاء پہنچاتے ، ان کے علاوہ کوئی بالا خانے میں نہ آتا ۔ (آیت)” کلما دخل علیھا زکریا المحراب “۔ محراب غرفۃ کو کہا جاتا ہے ، محراب سب سے اونچی اور اعلی نشست گاہ کو کہتے ہیں اس طرح مسجد کو بھی محراب کہتے ہیں مبرد فرماتے ہیں کہ محراب اس بالا خانے کو کہا جاتا ہے جس پر بغیر زینے کے نہ چڑھا جاتا ہو، ربیع بن انس نے فرمایا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نیحضرت مریم (علیہا السلام) کو سات دروازوں کے اندر رکھا تھا ، جب بھی وہ اندر داخل ہوتے تو ان دروازوں کو کھول دیتے ، (آیت)” وجد عندھا رزقا “۔ ایسے پھل ان کے پاس موجود ہوتے تھے جن کا موسم نہیں ہوتا تھا ، گرمیوں کے پھل سردیوں میں اور سردیوں کے پھل گرمیوں میں (آیت)” قال یا مریم انی لک ھذا “۔ ابو عبیدہ ؓ نے اس کا معنی یہ کیا ہے کہ یہ پھل تیرے پاس کہاں سے آئے ہیں۔ بعض نے اس معنی کا انکار کیا اور کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ کس جہت کی طرف سے تمہارے پاس آئے ہیں ، ” انی “ سے جہت کے متعلق پوچھا گیا ” این “ سے مکان کے متعلق سوال کیا گیا ” قالت ھو من عنداللہ “۔ اللہ کی طرف سے جنت سے آئے ہیں ، ابو الحسن (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے پیدا ہونے کے بعد انہوں نے کسی دودھ پلانے والی کے پستان کو منہ میں نہیں لیا بلکہ ان کا رزق جنت سے آتا تھا ، پھر اس بناء پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کہتے ہیں یہ پھل کہاں سے آئے ؟ تو وہ فرماتیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اور انہوں نے بچپن میں کلام بھی کیا (آیت)” ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب “۔ محمد بن اسحاق (رح) کا بیان ہے کہ بنی اسرائیلیوں کو ایک مرتبہ آزمائش نے گھیر لیا ، اسی اثناء میں حضرت زکریا (علیہ السلام) بھی ضعیف ہوگئے ، اور حضرت مریم (علیہا السلام) کو اٹھانے کی قوت نہیں رہی ، ایک مرتبہ بنی اسرائیلیوں کی طرف گئے اور کہا کہ اے بنی اسرائیلیوں کی جماعت میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت نہیں سنبھال سکتا تم میں سے کون ان کی کفالت لے گا تو وہ کہنے لگے اللہ کی قسم ! تحقیق ہمیں مشقت پہنچی اور ہمیں قحط بھی پہنچا ہم میں سے کوئی نہیں جو ہمارے درمیان مدافعت کرے (یعنی ہم میں کوئی ایسا شخص موجود نہیں جو اس کام کے لیے اپنے آپ کو پیش کرسکے) اس معاملہ میں آپ ہم میں قرعہ ڈالیں ، جب قرعہ ڈالا گیا تو قرعہ بنی اسرائیل کے ایک شخص بنی نجار کے حصے میں نکلا جس کا نام یوسف بن یعقوب تھا ، یہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے چچا کا بیٹا تھا جب اس شخص نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت سنبھالی تو حضرت مریم (علیہا السلام) نے اس کے چہرے پر شدت بوجھ کو محسوس کیا ، حضرت مریم (علیہا السلام) نے اس سے کہا اے یوسف اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھو، بیشک اللہ تعالیٰ ہمیں رزق عطا فرمائے گا ، یوسف حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس روزانہ کمائی کرکے رزق لاتا ، اپنی طاقت اور ہمت سے جو حاصل ہوتا وہ پیش خدمت کرتا ، جب وہ کما کر کھانا کینسہ میں لاتا تو کھانا بڑھ جاتا ، پھر حضرت زکریا (علیہ السلام) جب حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس آتے تو ایسا رزق ان کے پاس موجود پاتے جو یوسف کے لانے کی قدرت سے باہر تھے، پھر زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم (علیہا السلام) سے پوچھتے (آیت)” یا مریم انی لک ھذا قالت ھو من عنداللہ ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب “۔ اہل احبار کا قول ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) یا ماجرا دیکھتے تو فرماتے جب اللہ تعالیٰ حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس بغیر سبب کے بےموسمی پھل لانے پر قادر ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ مجھے اولاد دے بڑھاپے میں بغیر جوانی کے، یہ بچوں کی خواہش کرنے لگے اور گھر والے بھی اولاد جننے کی میعاد کاٹ چکے تھے اور حضرت زکریا (علیہ السلام) بھی بوڑھے ہوگئے تھے اور اولاد سے مایوس ہوچکے تھے ۔
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار ! مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بیشک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے

(تفسیر) 38۔: ” ھنالک “ اسی وقت (جب انہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس بےموسمی پھل اور رحمت خدا کی وسعت دیکھی) (آیت)” دعا زکریا ربہ “ حضرت زکریا (علیہ السلام) محراب میں داخل ہوئے دروازے بند کردیئے اور اپنے رب سے مناجات کی (آیت)” قال رب “ رب اصل میں ” یارب “ تھا ۔ ” ھب لی “ مجھے عطا کر ” من لدنک “ اپنی طرف سے ” ذریۃ طیبۃ “ ایسا مبارک بیٹا جو متقی نیک گناہوں سے پاک ، ” ذریۃ “ کا اطلاق واحد ، جمع ، مذکر ، مؤنث سب پر ہوتا ہے یہاں پر واحد استعمال ہوا ہے دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” فھب لی من لدنک ولیا۔۔۔۔۔۔ طیبۃ “۔ مؤنث ذکر کیا ، ” ذریۃ کی تانیث کی وجہ سے (آیت)” انک سمیع الدعا “۔ تو دعا کو سننے والا ہے ، بعض نے ترجمہ کیا کہ دعا کو قبول کرنے والا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” انی امنت بربکم فاسمعون “۔ اس سے مراد قبول فرمانا ہے۔