3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 3:83

اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ Open ayah 3:83 in the Quran reader

کیا یہ (کافر) خدا کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں ؟ حالانکہ سب اہل آسمان و زمین خوشی یا زبردستی سے خدا کے فرمانبردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

(83) (آیت)” افغیر دین اللہ یبغون “۔ اہل کتاب آپس میں اختلاف کیا کرتے تھے، ان میں سے ہر ایک دعوی کرتا تھا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہے ، یہ جھگڑا لے کر آپ ﷺ کے پاس گئے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں فریقین ابراہیم (علیہ السلام) کے دین سے بیزار ہیں ، یہ سن کر وہ غصہ ہونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تمہارے فیصلے پر راضی نہیں اور نہ ہی ہم نے آپ کے دین کو اختیار کیا ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” افغیر دین اللہ یبغون “۔ اہل بصرہ (رح) اور حفص بن عاصم (رح) نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے حضرات تاء کے ساتھ پڑھتے ہیں ” ولہ اسلم “ اور اسی کے فرمانبردار ہیں ۔ (آیت)” من فی السموت والارض “۔ (آیت)” طوعا وکرھا “ طوع کہتے ہیں تسلیم کرنا اور آسانی کے ساتھ اتباع کرنا ، ” وکرھا “ وہ کام جو مشکل اور نفس پر گراں گزرے ، طوعا وکرھا “۔ میں آئمہ کے مختلف اقوال ہیں ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ آسمان والے ” طوعا “ اسلام لائے اور زمین والے بعض طوعا اسلام لائے اور بعض ” کرھا “ تلوار اور قید کے ڈر سے اسلام لائے ، مجاہد (رح) نے فرمایا مؤمن نے خوشی سے اسلام قبول کیا اور ” کرھا “ کافروں کے لیے ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا وظلالھم بالغدو والاصال “۔ بعض نے کہا کہ یہی دن میثاق کا تھا جب ان سے کہا گیا (آیت)” الست بربکم قالو بلی “۔ اس بعض نے خوشی سے ” بلی “ کہا اور بعض نے ” کرھا “ کہا ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ مؤمن جو خوشی سے ایمان لائے انہیں ایمان نے نفع پہنچایا اور کافروں نے تنگی سے اسلام قبول کیا تو کمزوری کے وقت انہیں ایمان نے کوئی نفع نہیں پہنچایا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راؤ باسنا “۔ امام شعبی (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ اضطراری حالت میں اللہ سے پناہ طلب کرتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” فاذا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین “۔ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ” طوعا “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام پر پیدا ہوئے اور زبردستی ان لوگوں پر جبرا اسلام پیش کردیا گیا جن کو قید میں ڈالا گیا ، (آیت)” والیہ یرجعون “ حفص بن عاصم (رح) و یعقوب (رح) نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے ” یبغون “ پڑھا ہے اور بعض نے اس کو تاء کے ساتھ پڑھا ہے ، پہلا اس میں خاص ہے اور دوسرا عام ہے کیونکہ سب مخلوقات کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ (سورہ آل عمران آیت 83) ” افغیر دین اللہ الخ اگر کسی کا گھوڑا منہ زور ہو کر اپنی پیٹھ پر سوار نہ ہونے دے تو یہ آیت افغیردین اللہ سے لے کر والیہ یرجعون تک پڑھے اور اس کے دونوں کانوں میں پھونک دے پھر سوار ہوجائے ان شاء اللہ وہ ہرگز کچھ نہ بولے گا ۔ (تفسیر میرٹھی)
Ayah 3:84

قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١۪ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:84 in the Quran reader

کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اترے اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انییاء کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں سب پر ایمان لائے ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں

(تفسیر) 84۔: (آیت)” قل امنا باللہ واما انزل علینا وما انزل علی ابراھیم واسماعیل واسحق و یعقوب والاسباط وما اوتی موسیٰ و عیسیٰ والنبیون من ربھم لا نفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون “۔ مختلف ملتوں اور ادیان کا ذکر کیا اور اس میں لوگوں کے اضطراب کو بیان کیا پھر آپ ﷺ کو حکم دیا کہ وہ یہ فرمائیں (آیت)” امنا باللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ الایۃ “۔
Ayah 3:85

وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ١ۚ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 3:85 in the Quran reader

اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہر گر قبول نہیں کیا جائیگا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانیوالوں میں ہوگا

85۔ (آیت)” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ “۔ اس آیت کا نزول بارہ آدمیوں کے بارے میں ہوا یہ لوگ مرتد ہو کر مدینہ سے مکہ کو چلے گئے تھے انہیں میں حارث بن سوید انصاری بھی تھے (اور یہ مرتد ہو کر چلے گئے تھے لیکن پھر سچے دل سے توبہ کرکے واپس آگئے تھے) (آیت)” وھو فی الاخرہ من الخاسرین “۔ 86۔ (آیت)” کیف یھدی اللہ قوما کفروا بعد ایمانھم “۔ کیف حرف استفہام جحد کے معنی میں ہے عبارت یوں ہوں ی (آیت)” لایھدی اللہ “۔ کہ اللہ ان کو ہدایت نہیں دے گا اور بعض نے کہا کہ اللہ ان کو آخرت میں کیسے ہدایت دے گا جنت اور ثواب کی طرف۔ (آیت)” وشھدوا ان الرسول حق وجاء ھم البینت ، واللہ لا یھدی القوم الظالمین “۔
Ayahs 3:86–87

كَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:86 in the Quran reader

خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور (پہلے) اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہیں ؟ اور انکے پاس دلائل بھی آگئے اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیتا

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 3:87 in the Quran reader

ان لوگوں کی سزایہ ہے کہ ان پر خدا کی لعنت اور فرشتوں کی اور انسانوں کی سب کی لعنت ہو

(تفسیر) 87۔ اولئک جزاء ھم “۔
Ayah 3:88

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَۙ Open ayah 3:88 in the Quran reader

ہمیشہ اس لعنت میں (گرفتار) رہیں گے ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ملہت دی جائے گی

88۔: خالدین فیھا “۔ (شان نزول) حارث بن سوید جب مرتد ہو کر کافروں سے ملے تو ندامت ہوئی تو انہوں نے آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی کو بھیجا تا کہ ان سے پوچھیں کہ میرے لیے توبہ قبول ہوسکتی ہے ، اور اگر ایسا کروں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
Ayah 3:89

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١۫ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:89 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنی حالت درست کرلی تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

89۔ (آیت)” الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا فان اللہ غفور رحیم “۔ جو شخص آپ ﷺ کے پاس بھیجا گیا اس نے واپس آکر یہ آیت پڑھی تو حارث بن سوید نے کہا کہ اللہ کی قسم تم (میرے عمل میں) سچے آدمی ہو اور رسول اللہ ﷺ تم سے زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان تینوں سے بڑھ کر سچا ہے ، حارث مدینہ کی طرف لوٹ آئے اور اسلام لائے اور وہ بہترین مسلمانوں میں سے ہوگئے ۔
Ayah 3:90

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ Open ayah 3:90 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہیں

90۔ (آیت)” ان الذین کفروا بعد ایمانھم ثم ازدادوا کفرا “۔ حضرت قتادہ (رح) ، حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول یہودیوں کے حق میں ہوا جنہوں نے تورات اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اسلام لانے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل پر ایمان لانے سے انکار کردیا ، پھر آپ ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کر کے کفر میں مزید ترقی کرلی ، ابوالعالیہ ؓ کہتے ہیں کہ اس آیت کا نزول یہود و نصاری دونوں کے متعلق ہوا کہ ان دونوں فریقوں نے آپ ﷺ کے اوصاف اور ان کے انعامات اپنی کتابوں میں پڑھے اور ان کو مانا لیکن بعث نبوی ﷺ کے بعد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لائے اور اس انکار کی وجہ سے ان کے کفر میں مزید ترقی ہوگئی ، امام مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کا نزول تمام کفار کے متعلق ہوا جو اللہ کے خالق ہونے کا اقرار کرنے کے باوجود شرک کرتے ہیں پھر کفر میں بڑھ جاتے ہیں یعنی مرتے دم تک کفر پر قائم رہتے ہیں ، حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ کفر میں زیادتی کا مطلب یہ ہے کہ جو آیت آپ ﷺ پر اترتی گئی اس کا انکار کرتے گئے ، بعض نے کہا کہ کفر میں زیادتی ان کے ان قول کی وجہ سے ہے ” نتربص بمحمد ریب المنون “۔ (ہم محمد ﷺ کے مرنے کے منتظر ہیں) (شان نزول) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کا نزول حارث بن سوید کے ساتھیوں کے متعلق ہوا کہ حارث کے اسلام لانے کے بعد بھی وہ کفر پر قائم رہے اور مکہ میں مقیم رہے اور وہ کہنے لگے کہ ہم کفر پر ڈٹے رہیں گے ہمیں کوئی اس راستہ سے ہٹا نہیں سکتا ، اور جب واپس لوٹنے کا ارادہ کرتے تو کہتے کہ یہ آیت تو ہمارے لیے نازل ہوئی ہے ، حارث بن سوید کے بارے میں نازل نہیں ہوئی ، جب مکہ فتح ہوا تو جو شخص تم میں سے اسلام لائے گا اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور جو کافر ہو کر مرے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ، (آیت)” ان الذین کفروا وماتوا وھم کفار “۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو تم میں سے توبہ کرے گا اس کی توبہ قبول کی جائے گی پھر اس آیت کا کیا مطلب ہے (آیت)” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیئات حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الان “۔ اور بعض نے کہا یہ حارث بن سوید کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ، جب انہوں نے اسلام سے اعراض کیا اور وہ کہنے لگے ” نتربص بمحمد ریب المنون “۔ زمانے کے پلٹنے کے ساتھ وہ بھی اپنے دین سے رجوع کرلیں گے ، (آیت)” لن تقبل توبتھم “۔ ان کی توبہ اسی وجہ سے قبول نہیں ہوتی کیونکہ یہ منتظر ہیں بغیر کسی دلیل وحجت کے اور یہ گمراہ لوگ ہیں ، (واولئک ھم الضالون)
Ayah 3:91

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠ Open ayah 3:91 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مرگئے وہ اگر (نجات) حاصل کرنی چاہیں (اور) بدلے میں زمین بھر کر سونا دیں تو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ان لوگوں کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا

(تفسیر) 91۔ـ: (آیت)” ان الذین کفروا وما توا وھم کفار فلن یقبل من احدھم ملء الارض “۔ جس قدر مشرق تا مغرب زمین بھر جائے اتنی بقدر وہ سونے لے آویں تو قبول نہیں کیا جائے گا ، ” ذھبا “ منصوب تفسیر کی بناء پر ہے ، جیسا کہ ” عشرون درھما “ منصوب ہے ، (آیت)” ولوافتدی بہ “۔ اگر وہ اس کے عوض سونا دے بھی دے واؤ زائدہ ہے ’(آیت)” اولئک لھم عذاب الیم وما لھم من ناصرین “۔ حضرت شعبہ ابی عمران سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے سنا وہ آپ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے کم تر عذاب والے دوزخی سے اللہ فرمائے گا اگر تیرے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو وہ عذاب سے بچنے کے لیے سب چیزیں دے دیگا ، دوزخی کہے گا جی ہاں ، اللہ فرمائے گا جب تو آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھا اس وقت میں نے تجھ سے اس سے بہت زیادہ آسان چیز کی خواہش کی تھی کہ تو کسی کو میرے ساتھ شریک نہ ٹھہرانا تو نے انکار کیا اور شرک کئے بغیر نہ رہ سکا،
Ayah 3:92

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ۬ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 3:92 in the Quran reader

(مو منو ! ) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمہیں عزیز ہیں (راہ خدا) میں صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کرسکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے۔

(تفسیر) 92۔: (آیت)” لن تنالوا البر “۔ بر کا معنی جنت سے کیا ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ابن مسعود ؓ اور مجاہد (رح) اور مقاتل (رح) نے کہا کہ اس سے مراد تقوی ہے ، بعض نے کہا طاعت بعض کے نزدیک بھلائی ہے ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ تم (ابرار) خیر کثیر نہیں ہوسکتے ۔ حضرت شقیق ؓ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ صدق نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور بر (نیکی) جنت کی طرف لے جاتی ہے، آدمی لگا تار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی نیت کرتا ہے تو اللہ کے ہاں اس کو صدیق لکھ دیا جاتا ہے ، جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے اور بدکاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے ، آدمی لگا تار جھوٹ بولتا رہتا ہے اور اس کی نیت کرلیتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک کذاب (جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے (آیت)” حتی تنفقوا مما تحبون “۔ جو تمہارا پسندیدہ محبوب مال ہے۔ (اپنے پسندیدہ مال سے صدقہ اور زکوۃ ادا کرنا) ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے اس سے مراد زکوۃ کی ادائیگی ہے ، مجاہد (رح) اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت زکوۃ کی آیت سے منسوخ ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مسلمان جو مال خرچ کرے گا وہ اس نیکی تک پہنچ جائے گا عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ تم دین میں فضیلت اور تقوی اس وقت نہیں پاسکتے جب تک تم صحت اور ضرورت کی حالت میں اس کو خیرات نہ کرو۔ (حضرت طلحہ ؓ کا اپنا باغ صدقہ کردینا) اسحق بن عبداللہ بن ابی طلحہ ؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابوطلحہ انصاری ؓ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے مدینہ میں سب سے زیادہ مال دار تھے اور آپ کا پسندیدہ مال بیرحاء (بستان) تھا جو مسجد کے سامنے تھا آپ ﷺ کبھی کبھار جا کر وہاں کا عمدہ پانی پیتے تھے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” لن تنالو البر حتی تنفقوا مما تحبون “۔ تو حضرت ابو طلحہ ؓ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے (آیت)” لن تنالو البر حتی تنفقوا مما تحبون “۔ مجھے اپنے مال میں بیرحاء بہت پسند ہے میں اللہ کی خوشنودی کے لیے کو دیتا ہوں میں امید کرتا ہوں ، اللہ اس کا ثواب اور اجر میرے لیے جمع کرے گا ، آپ ﷺ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا واہ ، واہ کیا بات ہے یہ تو نفع بخش مال ہے جو کچھ تم نے کہا میں نے سن لیا میری رائے یہ ہے کہ تم اس کو اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کرلو ، حضرت ابو طلحہ ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ میں ایسا ہی کروں گا ، چناچہ ابو طلحہ ؓ نے وہ باغ اپنے اقرباء اور چچا زادوں کو تقسیم کردیا ۔ مجاہد نے روایت نقل کی کہ حضرت عمر بن الخطاب ؓ نے حضرت موسیٰ اشعری ؓ کو خط لکھا کہ جلولاء کے قیدیوں میں سے کوئی باندی خرید لو، وہ باندی حضرت عمر ؓ کے پاس لے آئے ان کو یہ باندی بہت پسند آئی ، حضرت عمر ؓ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں (آیت)” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “۔ حضرت عمر ؓ نے اس کو آزاد کردیا ، حضرت حمزہ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ کے دل میں جب یہ آیت کھٹکی تو دل میں سوچا کہ خدادا نعمتوں میں سے مرغوب چیز کیا ہے سوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ فلاں باندی سے زیادہ دل کو محبوب اور کوئی چیز نہیں میں اس باندی کو آزاد کرتا ہوں فرمایا کہ بارگاہ الہی میں پیش کی ہوئی چیز کو واپس لینے کا خیال نہ ہوتا تو میں اس سے نکاح کرلیتا (آیت)” وما تنفقوا من شیء فان اللہ بہ علیم “۔ اللہ اس سب کو جانتا ہے اور اسی کو بدلہ دے گا ۔
Ayah 3:93

كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:93 in the Quran reader

بنی اسرائیل کے لئے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کرلی تھیں۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)

(کل الطعام کان حلا لبنی اسرائیل کا شان نزول) (تفسیر) 93۔: اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ یہود آپ ﷺ کو کہنے لگے آپ کا گمان ہے کہ آپ ﷺ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو اونٹوں کا گوشت کھاتے تھے نہ دودھ پیتے تھے حالانکہ آپ تو گوشت بھی کھاتے ہو اور ان کا دودھ بھی پیتے ہو ، آپ انکی ملت پر نہیں ہو، آپ ﷺ نے ان کو جواب دیا یہ دونوں اشیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے حلال تھیں ، یہودی کہنے لگے آج کے دن جس کو ہم حرام قرار دیتے ہیں وہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں بھی حرام تھیں ۔ حتی کہ یہاں تک کہ اس کی حرمت پہنچی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، (آیت)” کل الطعام کان حلا لبنی اسرائیل “۔ اس سے مراد مردار اور خون کے علاوہ کیونکہ یہ دونوں چیزیں کسی امت میں حلال نہیں تھیں مگر یہ کہ بنی اسرائیل نے بعض چیزیں خود اپنے اوپر حرام کردی تھیں ، توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے ، مطلب یہ ہوا کہ جس طرح تمہارا دعوی ہے کہ یہ اشیاء سب امتوں میں حرام تھیں اور اونٹوں کا گوشت اور دودھ دونوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حرام تھے بلکہ یہ سب اشیاء ان کے لیے بھی حلال تھیں اور بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں ، لیکن بنی اسرائیل نے خود اپنے اوپر کچھ اشیاء حرام کردی تھیں تورات سے پہلے ، تورات میں ان اشیاء کی حرمت کا ذکر نہیں ۔ (حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کون سی اشیاء اپنے لیے حرام کردی تھی) مفسرین کا اس بات میں اختلاف ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کون سی چیز اپنے اوپر حرام قرار دی اور اس کی وجہ کیا تھی ۔ ابو العالیہ (رح) ، عطاء (رح) ، مقاتل (رح) ، کلبی (رح) ، فرماتے ہیں کہ یہ دو گوشت تھے اونٹ اور اس کا دودھ ، روایت میں آتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ایک سخت مرض لاحق ہوگیا جو طوالت اختیار کر گیا ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے مجھے عافیت بخشی تو میں اپنے پسندیدہ کھانے اور پینے کی اشیاء کو ترک کر دوں گا ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا پسندیدہ کھانا گوشت اور اونٹ کا دودھ تھا ، انہوں نے ان دونوں اشیاء کو اپنے اوپر حرام کردیا ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، مجاہد (رح) ، قتادہ (رح) ، سدی (رح) ، ضحاک (رح) ، فرماتے ہیں کہ یہ عروق (عرق النساء ، لنگڑی کا درد) کی بیماری تھی اور اس کا درد شدید تھا ، جویبر (رح) ، ضحاک (رح) ، سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے نذر مانی کہ اللہ نے اگر ان کو بارہ بیٹے دیئے اور میں بیت المقدس صحیح سلامت لوٹ آؤں تو آخری بیٹے کو ذبح کروں گا تو فرشتے نے ان سے ملاقات کی ، اس نے کہا اے یعقوب ! آپ تو رجل قوی ہو آپ کو آج تک کسی نے شکست دی ہے یا آپ کو پچھاڑا ہو ، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے آج تک کسی نے نہیں شکست دی ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو فرشتے نے بھینچا اس وجہ سے آپ کو عرق النساء کی بیماری لگ گئی ، پھر فرشتے نے کہا کہ اگر آپ (علیہ السلام) چاہتے تو میرے ساتھ زور آزمائی کرتے تو میں کرلیتا لیکن میں نے صرف آپ کو بھینچا ہے اگر آپ نے اللہ تعالیٰ کے لیے نذر نہ مانی ہوتی کہ آپ بیت المقدس آکر اپنے آخری بیٹے کو ذبح کریں گے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس غمز کی وجہ سے آنے والی مشکلات کو آسان کردیا ہے ، جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) وہاں پہنچے اور بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو فرشتے کی بات بھول گئے ، فرشتہ ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کو دبانے کا مقصد اس مشکل سے نجات دلانا تھا تحقیق ان کی نذر پوری ہوگئی ، اب آپ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم نہیں۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، مجاہد (رح) ، قتادہ (رح) ، اور سدی (رح) ، فرماتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) نے جب حران سے بیت المقدس جانے کا ارادہ کیا جب یہ اپنے بھائی عیصو سے جنگ سے فارغ ہوئے اور یہ مضبوط آدمی تھے ان کی فرشتے سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے سوچا کہ یہ چور ہے یہ اس کے پیچھے بھاگے تاکہ اس کو پکڑیں فرشتے نے پکڑ کر خوب بھینچا ، پھر وہ آسمان کی طرف اٹھ گیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس کو دیکھتے رہے اس وجہ سے ان کو عرق النساء کی بیماری لگ گئی اس وجہ سے ان کو مشکل اور شدت پیش آئی ، یہ تکلیف کی وجہ سے رات کو سوتے نہیں تھے اور رات گزارتے اس حال میں کہ چیختے رہتے ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے قسم اٹھالی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شفاء دی تو وہ شراب اور کھانا نہیں کھائیں گے، انہوں نے اپنے اوپر حرام کرلیا ، پھر ان کے بعد ان کے بیٹے بھی عروق اور گوشت نہیں کھاتے تھے۔ جویبر (رح) نے ضحاک (رح) ، کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو عرق النساء کی بیماری لاحق ہوئی تو اطباء نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ اونٹ کے گوشت سے اجتناب کریں تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اوپر اس کو حرام کردیا ، حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیلیوں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام قرار دیا تھا اللہ کی عبادت سمجھتے ہوئے۔ پھر اس کی حرمت میں مفسرین کے قول ہیں ، عند البعض بنی اسرائیلیوں نے تورات کے نازل ہونے کے بعد حرام کیا تھا ، امام سدی (رح) ، فرماتے ہیں کہ نزول تورات سے قبل یہ اپنے اوپر حرام قرار دیتے تھے اس لیے تورات میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی ۔ عطیہ (رح) نے فرمایا کہ انہوں نے اپنے اوپر ان چیزوں کو حرام قرار دیا ، بنی اسرائیلیوں کے حرام قرار دینے کی وجہ سے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ اگر مجھے عافیت مل گئی تو میں اور میری اولاد اس کا گوشت نہیں کھائے گی جبکہ تورات میں اس کی حرمت نہیں آئی تھی ، کلبی (رح) ، فرماتے ہیں کہ تورات میں ان کے لیے حرام نہیں کی گئی بلکہ بعد میں ان کے ظلم کی وجہ سے حرام قرار دی گئی ، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے (آیت)” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبات احلت لھم “۔ دوسرے مقام پر فرمایا (آیت)” وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر “۔ سے لے کر (آیت)” ذلک جزیناھم ببغیھم وانا لصادقون “۔ جب بنی اسرائیل بڑے گناہ کے مرتکب ہوئے تو اللہ نے ان سے بڑی نعمت کو حرام قرار دیا اور ان پر ذلت ڈال دیا گئی ، ضحاک (رح) فرماتے ہیں نہ ہی کوئی چیز ان پر حرام تھی اور نہ ہی تورات میں کوئی چیز حرام قرار دی گئی بلکہ انہوں نے ان اشیاء کو اپنے اوپر خود حرام قرار دیا اپنے باپ دادوں کی اتباع کرتے ہوئے ، پھر اس حرمت کی اضافت کو اللہ تعالیٰ کی طرف کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹ کو اس آیت سے ثابت کیا فرمایا ” قل “ (آیت)” فاتوا بالتوراۃ فاتلوھا “۔ یہاں تک کہ جب وہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ انہوں نے کیا کیا، (آیت)” ان کنتم صادقین “۔ اور تم کوئی دلیل نہیں لاسکتے ، (اس دلیل کے مقابلے میں)
Ayah 3:94

فَمَنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَؐ Open ayah 3:94 in the Quran reader

جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹ افترا کریں تو ایسے لوگ ہی بےانصاف ہیں۔

(تفسیر) 94۔: (آیت)” فمن افتری علی اللہ الکذب “۔
Ayah 3:95

قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ١۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:95 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا نے سچ فرما دیا۔ پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔

95۔ (آیت)” قل صدق اللہ فاتبعوا ملۃ ابراھیم حنیفا وما کان من المشرکین “۔ ان کو ملت ابراہیمی کی اتباع کی طرف بلاؤ کیونکہ ملت ابراہیمی کا اتباع دراصل محمد ﷺ کی اتباع ہے۔
Ayah 3:96

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 3:96 in the Quran reader

پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ وہی ہے جو مکہ میں ہے بابرکت اور جہاں کے لئے موجب ہدایت۔

96۔ (آیت)” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا “۔ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ یہودیوں نے مسلمانوں سے کہا کہ بیت المقدس ہمارا قبلہ ہے اور وہ کعبہ سے افضل ہے اور وہ قدیم ہے اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کا مقام ہجرت بھی قرار دیا ، مسلمانوں نے اس کے اس سوال کا جواب دیا کہ کعبہ افضل ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ (آیت)” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی اللعالمین “۔۔۔۔۔۔ فیہ ایات بینات مقام ابراہیم ولن دخلہ کان امنا۔۔۔۔۔۔ فان اللہ غنی لمن العلمین “۔
Ayah 3:97

فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ١ۚ۬ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا١ؕ وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:97 in the Quran reader

اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے۔ جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا اس نے امن پالیا۔ اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہل عالم سے بےنیاز ہے

(تفسیر) 97۔ (آیت)” فیہ ایات بینات مقام ابراہیم ومن دخلہ کان امنا “۔ یہ فضائل بیت المقدس کے بارے میں نہیں۔ (اول بیت وضع سے کیا مراد ہے) علماء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ (آیت)” اول بیت وضع “ سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات کے نزدیک آسمان و زمین کی پیدائش کے زمانے میں پانی کی سطح سے سب سے پہلے کعبہ کا مقام نمودار ہوا، شروع میں یہ سفید جھاگ تھی جو بعد میں منجمد ہوگئی زمین کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے ، اس کی تخلیق ہوئی تھی پھر اس کے نیچے سے زمین پھیلائی ، یہ قول عبداللہ بن عمر ؓ ، امام مجاہد (رح) ، قتادہ (رح) ، اور سدی (رح) ، کا ہے ۔ بعض نے کہا کہ زمین پر سب سے پہلا گھر جو بنایا گیا وہ بیت اللہ ہے۔ حضرت علی بن حسین ؓ ، کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش کے نیچے ایک مکان بنایا جس کا نام بیت المعمور ہے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ اس کا طواف کریں، پھر زمین پر رہنے والے فرشتوں کو حکم دیا کہ بیت المعمور کی طرح زمین پر ایک مکان بنائیں ، اسی کی مثل اور اسی مقدار پر ، فرشتوں نے اس کو تعمیر کیا اور اس کا نام (صراح) رکھا ، اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم اس گھر کا طواف کرو جیسا کہ آسمان والے فرشتے بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں اور بعض روایات میں ہے کہ بیت اللہ کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے بنایا اور اس کا حج کرتے تھے ، جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے حج کیا تو فرشتوں نے کہا اے آدم آپ کا حج مبرور ہے ، ہم نے آپ سے دو ہزار سال پہلے اس کا حج کیا تھا ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی گئی کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے سب سے اول زمین پر کعبہ کی عمارت بنائی تھی ۔ بعض نے کہا کہ اولیت برکت والا گھر ہے جس میں لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور تاکہ لوگ اس کی طرف عبادت کریں اور حج کریں ۔ بعض نے کہا کہ لوگوں کے لیے جو قبلہ اول بنایا گیا وہ یہی ہے ۔ حسن (رح) ، اور کلبی (رح) ، فرماتے ہیں معنی اس کا یہ ہے کہ زمین میں عبادت کرنے کے لیے پہلی مسجد جو تعمیر کی گئی وہ پہلی مسجد بیت اللہ ہے، اسی طرح علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ سب سے پہلا مکان جس میں برکت عطا کی گئی وہ بیت اللہ ہے ، بعض نے کہا کہ زمین میں سب سے پہلے وہ عمارت بنائی گئی جس میں اللہ کی عبادت کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” فی بیوت اذن اللہ ان ترفع “ بیوت سے مراد مساجد ہیں۔ ابراہیم بن یزید التیمی (رح) ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! ﷺ (سب سے پہلی مسجد ، مسجد حرام) زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد قائم کی گئی ؟ فرمایا مسجد حرام ، میں نے کہا پھر کون سی مسجد ؟: فرمایا مسجد اقصی ، فرمایا ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ کا فاصلہ ہے ؟ فرمایا چالیس سال ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، پس تم میں سے جس کو جہاں نماز کا وقت آجائے وہاں پڑھ لے اس میں فضیلت ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” للذی ببکۃ “ بعض نے کہا کہ اس سے مکہ مراد ہے یہی ضحاک (رح) ، کا قول ہے اور عرب کے نزدیک باء اور میم ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے رہتے ہیں ، جیسے ” سبدا راسہ “ کو ” سمدا راسہ “۔ پڑھتے ہیں ، ” ضربۃ لازب “ کو ” ضربۃ لازم “ پڑھتے ہیں ، دوسرے حضرات کے ہاں مکہ میں بکۃ ایک جگہ کا نام ہے اور مکہ پورے شہر کا نام ہے ، بعض نے کہا کہ بکۃ بیت اللہ اور مطاف کے درمیان جگہ کا نام ہے اس کو بکہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ، یہ نام اس وجہ سے رکھا گیا کہ اس جگہ خوب آہ وزاری سے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں اور اس جگہ لوگوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے ، عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں اس جگہ کو ” بکۃ “ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں جابر بادشاہ کی گردن جھک جاتی ہے اور اس جگہ پر وہ کسی برائی کا نہیں سوچتے ، مکہ کو مکۃ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں پانی کی کمی ہوتی تھی (مکہ میں پانی بہت نایاب ہوتا تھا) اس وجہ سے اس کو مکہ کہا جاتا ہے ، جیسا کہ عرب کا قول ہے کہ کھیتی خشک ہوگئی ، یہ اس وقت بولتے ہیں جب عورتوں میں دودھ کی کمی واقع ہوجائے اور بچہ کی پرورش کے لیے دائی کو بلایا جاتا ہے وہ اس پر رحم کرتی ہے اور وہ اس کو دودھ بھی پلاتی ہے، ” مبارکا “ منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے عبارت یوں ہوگی ، ” ذا برکۃ وھدی للعالمین “ کہ وہ برکت والی اور دو جہانوں کے لیے ہدایت ہے کیونکہ یہ قبلہ مؤمنین کا ہے اس میں واضح نشانیاں موجود ہیں ۔ (آیات بینات کی مختلف تفاسیر) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے ” آیۃ بینۃ “ واحد پڑھا ہے ، اس سے مراد مقام ابراہیم (علیہ السلام) لیا ہے ۔ دوسرے حضرات نے جمع کے صیغہ کے ساتھ ” آیات بینات “ پڑھا ہے ، اس صورت میں مقام ابراہیم (علیہ السلام) اور حجر اسود اور وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر حضر ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی اور اس پتھر پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاؤں کے نشانات پڑگئے ، اب لوگوں کے کثرت سے مس کرنے کی وجہ سے وہ نشانات مٹ گئے ، ” آیات بینات “ میں حجراسود ، حطیم ، زمزم ، اور مشاعر سب شامل ہیں ، بعض نے کہا کہ مقام ابراہیم (علیہ السلام) تمام حرم کا نام ہے، بیت اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے اوپر کوئی پرندہ نہیں اڑتا اور اسی طرح جب زخمی شکار حرم میں داخل ہوجائے تو اس سے شکاری تعرض نہیں کرتا بلکہ اس کا پیچھا کرنے سے رک جاتا ہے ، یہ ایسا شہر ہے جس کی طرف انبیاء کرام (علیہم السلام) اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ، اولیاء ابرار آتے ہیں اور اس جگہ نیکی کرنے سے دگنا اجر ملتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دوسری مسجدوں میں ہزاروں نمازوں سے افضل ہے، (آیت)” ومن دخلہ کان امنا “ جو کوئی کسی لڑ کر اس میں پناہ لے ، یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی برکت کی وجہ سے تھا ، ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا مانگی تھی (آیت)” رب اجعل ھذا البلد امنا “۔ زمانہ جاہلیت میں عرب باہم ایک دوسرے کے ساتھ قتل و قتال کرتے تھے اور حرم میں پناہ لیتے تھے تو وہ قتال سے مامون ہوجاتے ، یہی قول حسن (رح) ، قتادہ (رح) ، اور اکثر مفسرین کے نزدیک ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویتخطف الناس من حولھم “۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد جو شخص عمرۃ القضاء میں آپ ﷺ کے ساتھ مکہ میں داخل ہوا وہ امن والا ہوگیا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” لتدخلن المسجد الحرام ان شاء اللہ آمنین “۔ یہ خبر بمعنی امر کے ہے تقدیری عبارت یوں ہوگی (آیت)” ومن دخلہ فامنوہ “ آگے فرمایا (آیت)” فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج “ یہاں بھی امر کے معنی میں ہے کہ بےحیائی اور برائی سے بچو، اسی وجہ سے بعض اہل علم کا قول ہے کہ جس شخص پر قصاص یا حد واجب ہو اور وہ حرم میں پناہ لے لے تو اس سے حرم میں بدلہ نہیں لیا جائے گا بلکہ اس کا کھانا پینا بند کردیا جائے گا اور نہ ہی کوئی چیز اس کو بیچی جائے گی اور نہ ہی اس سے کوئی چیز خریدی جائے گی ، یہاں تک کہ وہ وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوجائے، پھر جب وہ باہر آجائے گا تو اس کو قتل کیا جائے گا ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور امام ابوحنیفہ (رح) اور بعض حضرات اس طرف گئے ہیں کہ قصاص تو شریعت کی طرف سے واجب ہوا ہے اس سے بدلہ لیا جائے گا ، اگر وہ حرم کے اندر جرم کا ارتکاب کرے تو بالاتفاق اس سے حرم کے اندر ہی اس کی سزا دی جائے گی ، بعض علماء نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جو شخص حرم کی تعظیم اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے حرم میں داخل ہوگا قیامت کے دن عذاب سے مامون ہوگا ، (آیت)” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لیے بعض لوگوں پر حج فرض ہے اور بعض پر واجب ہے ، ابو جعفر (رح) ، اور حمزہ (رح) ، کسائی (رح) ، اور حفص (رح) ، نے ” حج البیت “ کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اکثر قراء نے حاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ لغت اہل حجاز کے ہاں ہے اور یہی دونوں لغت فصیح ہیں ، دونوں کا معنی ایک ہی ہے ، حج بھی اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ، گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، دوسرا نماز ادا کرنا ، تیسرا زکوۃ ادا کرنا رمضان کے روزے رکھنا ، بیت اللہ کا حج کرنا ، اہل اسلام کے ہاں وجوب حج پانچ شرائط کے ساتھ ہوتا ہے، اسلام ، عقل ، بلوغ ، آزاد ہونا ، طاقت زاد راہ کا ہونا، حج کافر اور مجنون پر فرض نہیں ، اگر ان دونوں نے ادا کردیا تو ان کا حج قبول نہیں ہوگا کیونکہ کافر تو اس کا اہل نہیں اور مجنون کی طرف شریعت کا حکم متوجہ ہی نہیں ، اسی طرح بچے اور غلام پر فرض نہیں ، اگر کسی سمجھدار بچے نے حج کرلیا یا غلام نے حج کیا تو دونوں کا حج صحیح ہوگا لیکن نفل ہوگا لیکن ان دونوں سے فرضیت ساقط نہیں ہوگی ، اگر بچہ بالغ ہوگیا اور غلام آزاد ہوگیا تو ان پر مذکورہ شرائط کے پائے جانے کی وجہ سے حج فرض ہوگا اور جو شخص استطاعت نہیں رکھتا اس پر حج فرض نہیں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” من استطاع الیہ سبیلا “۔ اگر کسی شخص نے تکلف کے ساتھ بغیر استطاعت کے حج کرلیا تو اس سے حج کی فرضیت ساقط ہوجائے گی ۔ (من استطاع کی وضاحت) استطاعت کی دو قسمیں ہیں ۔ (1) وہ شخص بذات کود استطاعت رکھتا ہو ۔ ّ (2) وہ استطاعت غیر کی وجہ سے ہو ، اگر وہ شخص بنفسہ قادر ہو اور زاد وراحلۃ پر قدرت رکھتا ہو، یہاں پر پہلی قسم مراد ہے ۔ عباد بن جعفر (رح) ، فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ کون سا حج مقبول ہے ؟ فرمایا ” الشعث الثفل “ بکھرے بال ہوں (یعنی جس میں خوب مشقت اٹھائی جائے) دوسرا شخص کھڑا ہوا ، اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! ﷺ کون سا حج افضل ہے فرمایا جس میں چلانا اور خون بہانا ہو ؟ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! ﷺ سبیل کیا ہے ؟ فرمایا زاد راحلۃ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ سواری ایسی ہو جو آنے جانے پر قادر ہو اور زاد سے مراد جو آنے اور جانے کے لیے کافی ہو اپنے اہل و عیال سے زائد ہو اور زاد وراحلۃ اتنا ہو کہ اس کے آنے تک گھر والوں کے لیے کافی ہوجائے اور جو ان پر قرض ہو اس کی ادائیگی بھی پوری ہو ، ان اشیاء کا حساب اپنے شہر سے نکلنے کے وقت لگایا جائے گا ، اگر وہ پہلے نکلے یا بعد میں حج کے لیے نکلے یا انکو تاخیر ہوگئی کہ ایک نماز کا وقت نہیں گزرا یا ان سے ایک دن قافلہ نکل گیا تو اس وقت ان کا حج کے لیے نکلنا لازم نہیں ، بایں معنی اس عذر کی وجہ سے وہ گنہگار نہیں ہوگا ۔ (حج کی شرائط اور فضیلت) حج کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ راستہ امن و سلامتی والا ہو، ہاں اگر راستے میں کسی دشمن کا خوف ہو تو اس حج فرض نہیں اور اس کے لیے زاد وراحلۃ کے لیے جگہ کا ہونا جہاں پر پانی اور دوسری ضروریات سامان مل جائے اگر راستہ ایسا ہے جس سے اپنے اہل و عیال کا لشکر سے جدا ہونا معلوم ہو رہا ہو تو پھر بھی حج فرض نہیں ، اگر وہ سواری پر قدرت نہیں رکھتا لیکن پیدل چلنے پر قدرت رکھتا ہے یا زاد پر قدرت نہیں رکھتا لیکن یہ ممکن ہے کہ وہ راستے میں کمائی کرلے گا تو پھر بھی اس پر حج فرض نہیں ۔ دوسری قسم جو استطاعت بالغیر کے متعلق ہے ، سو اس میں انسان بنفسہ عاجز ہوتا ہے اور غیر کا محتاج ہوتا ہے یا اس کو ایسا مرض لاحق ہے جو زائل ہونے والا نہیں ہے یا اس کے پاس اتنا مال ہے کہ وہ اجرت پر لگالے تو حج پر جاسکتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ تجارت کرے یا خود تو اس کے پاس مال نہیں بلکہ اس کے بیٹے کے پاس مال ہے یا کسی اجنبی کے پاس ہے اور اس کو یقین ہے کہ یہ اشخاص اس کو حج کروا دیں گے تو اس پر واجب ہے کہ یہ حج کرنے کا ارادہ کرلے جب اسے ان پر مکمل یقین ہو کیونکہ حج کا وجوب استطاعت کے ساتھ اور وہ یقین کے ساتھ حاصل ہوگئی اور حج واجب ہوتا ہے جب استطاعت ہو ، جیسا کہ عرف میں کہا جاتا ہے فلاں صاحب استطاع ہے کیونکہ اس نے گھر بنایا اگرچہ اس نے بنفسہ خود گھر نہ بنایا ہو اگرچہ اس کے مال سے یا اس کے مددگاروں نے بنایا ہو ، امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ایسے شخص پر واجب نہیں ، امام مالک (رح) کے نزدیک مغصوبہ مال پر حج واجب نہیں۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ فضل بن عباس ؓ آپ ﷺ کے ساتھ پیچھے سوار تھے ، ایک خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت نے مسئلہ پوچھا ، فضل ان کی طرف دیکھنے لگے اور وہ عورت بھی ان کو دیکھنے لگی آپ ﷺ نے تھوڑا سا چہرہ مبارک پھیر کر فضل کو دیکھا ، وہ عورت کہنے لگی اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے، میرے والد بڑھاپے میں ہیں وہ سواری کی طاقت نہیں رکھتے ، کیا میں ان کے لیے حج ادا کرسکتی ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں (آیت)” ومن کفر فان اللہ غنی عن العالمین “۔ ابن عباس ؓ ، حسن (رح) ، عطاء (رح) ، فرماتے ہیں کہ جس نے حج کی فرضیت کا انکار کیا ، مجاہد (رح) ، فرماتے ہیں جس نے اللہ اور آخرت کے دن کا انکار کیا ، سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو فرمایا مکہ کی طرف حج کرنا واجب نہیں ، سدی (رح) فرماتے ہیں جس شخص پر حج فرض ہو اور اس نے حج نہ کیا اس حالت میں مرگیا تو وہ کافر ہوجائے گا ۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جس شخص کو کسی حاجت اور ضرورت نے نہ روکا ہو نہ کسی مرض نے یا سلطان جابر (ظالم بادشاہ) نے تو پھر بھی اس نے حج نہیں کیا تو چاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر مرے ۔
Ayah 3:98

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:98 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو ؟ اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے

(تفسیر) 98۔: (آیت)” قل یاھل الکتاب ۔۔۔۔۔۔۔ واللہ شھید علی ما تعملون “۔
Ayah 3:99

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُهَدَآءُ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:99 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! تم مومنوں کو خدا کے راستے سے کیوں روکتے ہو ؟ اور باوجودیکہ تم اس سے واقف ہو اس میں کجی نکالتے ہو اور خدا تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں

99۔ (آیت)” قل یاھل الکتاب لم تصدون عن سبیل اللہ “۔ کیوں پھیرتے ہو اللہ کے راستے سے (آیت)” من امن تبغونھا “۔ جو تم طلب کرتے ہو ، ” عوجا “ کجی اور مائل ہونے کو مطلب یہ ہے کہ تم کیوں اللہ کے راستے سے ہٹاتے ہو ان کے ساتھ بغاوت اور کجی کرتے ہوئے ، ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں عوج کسرہ کے ساتھ دین ، قول ، عمل میں کجی کو کہتے ہیں اور عوج عین کے فتحہ کے ساتھ ہو تو دیوار کے معنی میں ہوگا یا ہر وہ شخص جو کھڑا ہو (آیت)” وانتم شھداء وما اللہ بغافل عما تعملون “۔ تورات میں آپ ﷺ کے اوصاف مذکور تھے اور اسلام کا دین خدا ہونا جو تورات میں مذکور ہے تم خود اس کے گواہ ہو ۔
Ayah 3:100

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 3:100 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم اہل کتاب کے کسی فریق کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر بنادیں گے

100۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا ان تطیعوا فریقا من الذین اوتوالکتاب “۔ (انصار میں پھوٹ پیدا کرنے کی یہودی سازش) زید بن اسلم ؓ نے کہا کہ مرشاش بن قیس (بعض نے شماس بن قیس لکھا ہے) یہودی بڑا سخت کافر تھا یہ مسلمانوں پر بہت طعن وتشنیع کرتا تھا ، اوس اور خزرج کے کچھ لوگوں کی مجلس کے پاس سے گزرا یہ دونوں قبیلے والے آپس میں محوگفتگو تھے ، اس یہودی نے ان کو دیکھتے ہی (کہ ان کے درمیان کتنی گہری محبت ہے) جل گیا کیونکہ زمانہ جاہلیت میں ان دونوں قبیلوں کے درمیان عداوت تھی ، اسلام لانے کے بعد ان کے درمیان محبت ہوگئی اور کہنے لگا کہ بنی قیلہ کی جماعتیں تو اس ملک میں کبھی جمع نہیں ہوتیں اگر یہ جمع ہوگئے تو ہمیں ان کے ساتھ اس جگہ استقرار حاصل نہیں ہوگا ، یہ کہنے کے بعد اپنے ساتھی کو کہا جو جوان تھا کہ تم جا کر ان کی مجلسوں میں بیٹھو ، ان کے سامنے جنگ بعاث اور اس سے پہلے عداوتوں کا تذکرہ کرو اور جنگ بعاث کے متعلق فریقین نے جو اشعار کہے ہیں وہ بھی ان کے سامنے پڑھو۔ بعاث قبائل اوس خزرج کی باہمی ایک جنگ کا نام ہے جس میں خزرج پر اوس کو فتح حاصل ہوئی تھی ، یہودی نے ان کے سامنے جا کر گفتگو کی ، نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں قبیلوں میں سے ایک ایک آدمی زانو کے بل کھڑا ہوگیا ، آپس میں سب جھگڑنے اور مقابل کے خلاف اپنے فخر کا اظہار کرنے لگے ، ایک شخص اوس بن قبطی قبیلہ اوس بنی حارثہ اور دوسرا جبار بن صخر جو بنی سلمہ کا خزرجی تھا ، دونوں کے درمیان خوب شور برپا کیا ، ایک نے دوسرے سے کہا اگر تم چاہتے ہو تو ہم بھی از سر نو اس (واقعہ) کو زندہ کرنے کے لیے تیار ہیں ، دونوں فریق غضبناک ہوگئے اور کہنے لگے ہم لڑائی کے لیے تیار ہیں ، دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے سامنے اسلحہ سے للکارا اور کہا کہ مقام حرہ میں اس کا مقابلہ ہوگا ، اوس اور خزرج دونوں ایک دوسرے کے خلاف آوازیں بلند کرنے لگے جیسے زمانہ جاہلیت میں کرتے تھے ، یہ اطلاع آپ ﷺ تک پہنچی ۔ آپ ﷺ مہاجرین کی جماعت لے کر ان کی طرف نکلے اور فرمایا اے گروہ اسلام ! ابھی میں تمہارے اندر موجود ہوں باوجود یہ کہ اللہ نے تم کو اسلام کی عزت عطا فرما دی اور جاہلیت کی باتیں ختم کردیں اور تمہارے آپس میں الفت و محبت پیدا کردی تو پھر کیا تم دو بار جاہلیت کی پکار کر کے واپس لوٹ رہے ہو ، اللہ سے ڈرو۔ اللہ سے ڈرو اس وقت لوگوں کو احساس ہوا کہ یہ سب کچھ شیطان کا دھوکہ اور مکر تھا ، انہوں نے فورا ہتھیار پھینک دیئے اور رونے لگے اور گلے ملنے لگے پھر آپ ﷺ کے ساتھ انتہائی فرمانبرداری اور اطاعت گزاری کے ساتھ لوٹ آئے ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا۔۔۔۔۔۔ اوتو الکتاب “۔ اس سے مراد مرشاش اور اس کے ساتھی ہیں ۔ (آیت)” یردوکم بعد ایمانکم کافرین “۔ وہ تمہارے مؤمن ہونے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف لوٹا دیں گے، حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ میں نے اس روز سے زیادہ کوئی دن برا نہیں دیکھا جس دن ہم دوبارہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوئے اور اس دن سے اچھا کوئی دن نہیں دیکھا جس دن آپ ﷺ نے ہمارے درمیان دوباہ صلح کروائی ، پھر اللہ تعالیٰ نے بطور تعجب کے یہ ارشاد فرمایا ۔
Ayah 3:101

وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 3:101 in the Quran reader

اور تم کیونکر کفر کرو گے جبکہ تم کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کے پیغمبر موجود ہیں اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے راستے لگ گیا

(تفسیر) 101۔ : (آیت)” وکیف تکفرون “۔ کیوں تم کفر کی طرف جاتے ہو ۔ (آیت)” وانتم تتلی علیکم آیات اللہ “۔ اس سے مراد قرآن ہے، (آیت)” وفیکم رسولہ “۔ اس سے مراد محمد ﷺ ہیں ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں دو واضح نشانیاں مذکور ہیں ، اللہ کی کتاب اور اللہ کا نبی ، اللہ کے نبی تو چلے گئے ، البتہ اللہ کی کتاب موجود ہے جو اللہ کی رحمت اور نعمت ہے ۔ حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا ، پہلے اللہ کی حمد بیان کی ، پھر ثناء بیان فرمائی ، پھر فرمایا اما بعد ! اے لوگو ! میں ایک آدمی ہوں ، عنقریب میرے رب کی طرف سے بھیجا ہوا میرے پاس آئے گا اور میں اس کی دعوت قبول کروں گا ، میں تمہارے اندر دو بڑی عظیم چیزیں چھوڑ رہا ہوں ، پہلی کتاب اللہ جس کے اندر نور و ہدایت ہے ، تم اللہ کی کتاب پکڑو اور مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور میں تمہیں برانگیختہ کرتا ہوں کتاب اللہ کی طرف اور اس کی طرف رغبت دلاتا ہوں ، پھر فرمایا یہ میرے اہل بیت ہیں، میں اپنے اہل بیت کے متعلق تم کو اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، دو مرتبہ ارشاد فرمایا (آیت)” ومن یعتصم باللہ “ کون ہے جو اللہ کے دین سے روکنے والا ہے تم مضبوطی سے اس کے دین کو اور اس کی فرمانبرداری کو لازم پکڑو۔ (آیت)” فقد ھدی الی صراط مستقیم “ سیدھی راہ کی ہدایت ضرور مل جائے گی ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” یعتصم باللہ “ کا معنی ہے (آیت)” یؤمن باللہ “ لغت میں عظمت کا معنی ہے حفاظت اور کسی چیز کی حفاظت کرنے سے اس کا بچاؤ ہوجاتا ہے۔
Ayah 3:102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 3:102 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا

102۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ “۔ (شان نزول) مقاتل بن حبان ؓ کی روایت ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں اوس اور خزرج کے درمیان لڑائی تھی ، جب آپ ﷺ مدینہ کی طرف ہجرت کرچکے اور وہاں پہنچے تو ان دونوں فریقوں میں صلح کروا دی ، پھر اس کے بعد دو آدمیوں میں ایک دوسرے نے فخر کیا ، ان میں سے ایک ثعلبہ بن غنم اوس قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ، اور اسعد بن زرارہ خزرج قبیلہ سے تعلق رکھتے اوسی نے کہا یہ ہم ہی میں سے تھا وہ خزیمہ بن ثابت ؓ جس کی تنہا شہادت کو دو گواہوں کے برابر مانا گیا تھا حنظلہ ؓ ” غسیل الملائکۃ “ اور عاصم بن ثابت بن افلح اور سعد بن معاذ ؓ جن کی وجہ سے رحمن کا عرش ہل گیا تھا (یہ سب ہم میں سے تھے) اور بنوقریظہ کے متعلق اس کے فیصلہ کو اللہ نے پسند کیا تھا ، خزرجی نے کہا ہم میں چار آدمی ایسے ہیں جنہوں نے قرآن کریم کو محکم کرلیا ہے ان میں ابی بن کعب ؓ ، معاذ بن جبل ؓ ، زید بن ثابت ؓ ، ابو زید ؓ ، اور ان میں سعد بن عبادہ ؓ ، جو انصار کے سردار تھے ، اس طرح گفتگو جاری رہی اور دونوں غصے میں آگئے ، دونوں فخریہ اشعار پڑھنے لگے اوس اور خزرج اسلحہ لے کر آگئے آپ ﷺ ان کے پاس آئے ، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے ، اس کی نافرمانی نہ کی جائے ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حق ادا کرو اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت تمہیں نہ روکے اور اللہ کے انصاف کو قائم کرو اگر تمہیں اپنا نقصان یا اپنے والدین میں سے کسی کا نقصان ہو رہا ہو یا اولاد کا ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ بندہ اس وقت تک تقوی کے حق تک نہیں پہنچ سکتا ، جب تک اپنی زبان کو کنٹرول میں نہ کرے ، جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر شاق گزرا کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! ﷺ اس حکم کی پوری تعمیل کرنے کی کس میں جرات ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” فاتقوا اللہ مااستطعتم “ یہ آیت منسوخ ہے اور مقاتل فرماتے ہیں کہ آل عمران میں اس آیت کے سوا اور کوئی آیت منسوخ نہیں (آیت)” ولاتموتن الا وانتم مسلمون “۔ بمعنی مؤمنین کے ہے، بعض نے کہا کہ اس سے وہ مخلصین مراد ہیں جنہوں نے اپنے امور کو اللہ کے سپرد کیا ہے، فضیل فرماتے ہیں کہ مسلمون محسنون کے معنی میں ہے جو اللہ پر حسن ظن رکھنے والے ہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! اللہ سے ڈرتے رہو جیسے ڈرنے کا حق ہے، اگر زقوم کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکا دیا جاتا تو زمین والوں کے لیے زندگی تنگ ہوجاتی ، پس اس شخص کا کیا حال ہوگا جس کا کھانا سوائے زقوم کے اور کچھ نہیں ہوگا ۔