نمازوں کے اوقات کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 6 · 133 hadiths · Page 4 of 7

554Sunan An Nasai

جس شخص نے کسی نماز کی ایک رکعت پائی

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever catches up with a Rak’ah of the prayer, then he has caught up with it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 553
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس نے نماز وقت پر ادا کرنے کی فضیلت پالی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢٩ (٥٨٠)، صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤١ (١١٢١)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ١٥٢٤٣)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٣ (١٥)، مسند احمد ٢/٢٤١، ٢٦٥، ٢٧١، ٢٨٠، ٣٧٥، ٣٧٦، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٦، ١٢٥٧) (صحیح )
555Sunan An Nasai

جس شخص نے کسی نماز کی ایک رکعت پائی

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Whoever catches up with a Rak’ah of the prayer, then he has caught up with the prayer.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 554
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٢١٤)، مسند احمد ٢/ ٣٧٥ (صحیح )
556Sunan An Nasai

جس شخص نے کسی نماز کی ایک رکعت پائی

أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الْعَطَّارُ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ سَمَاعَةَ، عَنْمُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز کو پا لیا ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever catches up with a Rak’ah of the prayer has caught up with it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 555
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٠١) (صحیح )
557Sunan An Nasai

جس شخص نے کسی نماز کی ایک رکعت پائی

أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever catches up with a Rakah of the prayer has caught up with it".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 556
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣١٩٥) (صحیح )
558Sunan An Nasai

جس شخص نے کسی نماز کی ایک رکعت پائی

أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْجُمُعَةِ أَوْ غَيْرِهَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کی یا کسی اور نماز کی ایک رکعت پالی اس کی نماز مکمل ہوگئی ١ ؎۔

It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever catches up with with a Rakah of Jumuah or any other (prayer), his prayer is complete".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 557
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پوری نماز کے وقت پر ادا کرنے کا ثواب اسے مل گیا نہ کہ بالفعل اسے پوری نماز مل گئی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة ٩١ (١١٢٣)، (تحفة الأشراف: ٧٠٠١) (صحیح )
559Sunan An Nasai

جس شخص نے کسی نماز کی ایک رکعت پائی

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا، إِلَّا أَنَّهُ يَقْضِي مَا فَاتَهُ.

سالم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی البتہ وہ چھٹی ہوئی رکعتوں کو پڑھ لے ۔

It was narrated from Salim that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever catches up with a Rakah of one of the prayers has caught up with it, except that he has to make up the portion that he missed".

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 558
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، مگر پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ بھی صحیح ہے )
560Sunan An Nasai

وہ اوقات جن میں نماز پڑھنے کی ممانعت آئی ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الشَّمْسُ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ.

عبداللہ صنابحی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورج نکلتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کی سینگ ہوتی ہے ١ ؎، پھر جب سورج بلند ہوجاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوجاتا ہے، پھر جب دوپہر کو سورج سیدھائی پر آجاتا ہے تو پھر اس سے مل جاتا ہے، اور جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہوجاتا ہے، پھر جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے، تو اس سے مل جاتا ہے، پھر جب سورج ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہوجاتا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ان (تینوں) اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Abdullah As-Sunabihi that the Messenger of Allah ﷺ said: "The sun rises and with it the horn of the Shaitan, then when it is fully risen, he goes away. Then when it approaches the meridian he comes near to it, and when it has passed the zenith he goes away. Then when it is close to setting, he comes near to it, then when it has set, he goes away". And the Messenger of Allah ﷺ forbade praying at those times.

صحيح إلا قوله فإذا استوت قارنها فإذا زالت فارقهاصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 559
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شیطان سورج سے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، اس سے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ سورج کے پوجنے والوں کا سجدہ اس کے لیے ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة ١٤٨ (١٢٥٣)، موطا امام مالک/القرآن ١٠ (٤٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٧٨)، مسند احمد ٤/٣٤٨، ٣٤٩ (صحیح) (لیکن تعلیل میں ” فإذا استوت قارنھا، فإذا زالت فارقھا “ کا جملہ منکر ہے، اس کی جگہ عمروبن عبسہ کی حدیث (رقم: ٥٧٣) میں ” فإنہا ساعة تفتح فیہا أبواب جہنم وتسجر “ کا جملہ صحیح ہے )
561Sunan An Nasai

وہ اوقات جن میں نماز پڑھنے کی ممانعت آئی ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قال: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ تین اوقات ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھنے سے اور اپنے مردوں کو دفنانے سے منع کرتے تھے: ایک تو جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہوجائے، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہوجائے یہاں تک کہ ڈوب جائے۔

It was narrated that Musa bin Ali bin Rabah said: "I heard my father say: I heard Uqbah bin Amir Al-Juhani say: There are three times during which the Messenger of Allah ﷺ forbade us to pray in or bury our dead: When the sun has clearly stated to rise, until it is fully risen; when it is directly overhead at noon, until it has passed its zenith; and when it is close to setting, until it has fully set".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 560
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٥١ (٨٣١)، سنن ابی داود/الجنائز ٥٥ (٣١٩٢)، سنن الترمذی/الجنائز ٤١ (١٠٣٠)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٠ (١٥١٩)، (تحفة الأشراف: ٩٩٣٩)، مسند احمد ٤/١٥٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٢ (١٤٧٢)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥٦٦، ٢٠١٥ (صحیح )
562Sunan An Nasai

فجر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اور فجر کے بعد (بھی) یہاں تک کہ سورج نکل آئے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade praying after Asr until the sun had set, and after Subh until the sun had risen.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 561
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٥١ (٨٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٦٦)، موطا امام مالک/القرآن ١٠ (٤٨)، مسند احمد ٢/٤٦٢، ٤٩٦، ٥١٠، ٥٢٩ (صحیح )
563Sunan An Nasai

فجر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ وَكَانَ مِنْ أَحَبِّهِمْ إِلَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے کئی صحابہ کرام ؓ سے سنا ہے، جن میں عمر ؓ بھی ہیں اور وہ میرے نزدیک سب سے محبوب تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے ١ ؎، اور عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا، یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "I heard more than one of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) - including Umar who was one of the dearest of them to me - that the Messenger of Allah ﷺ forbade praying after Fajr until the sun had risen, and praying after Asr until the sun had set.".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 562
Notes · وضاحت
١ ؎: بخاری کی روایت میں حتى ترتفع الشمس ہے دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ طلوع (نکلنے) سے مراد مخصوص قسم کا طلوع ہے، اور وہ سورج کا نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٣٠ (٥٨١)، صحیح مسلم/المسافرین ٥١ (٨٢٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٩ (١٢٧٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠ (١٨٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٤٧ (١٢٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٩٢)، مسند احمد ١/ ١٨، ٢٠، ٣٩، ٥٠، ٥١، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٢ (١٤٧٣) (صحیح )
564Sunan An Nasai

سورج طلوع ہونے کے وقت نماز کے ممنوع ہونے کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَتَحَرَّ أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت نماز پڑھنے کا قصد نہ کرے ۔

It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "No one of you should deliberately try to pray when the sun is rising, or when it is setting".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 563
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٣٠ (٥٨٢)، ٣١ (٥٨٥)، ٣٢ (٥٨٩)، فضل الصلاة بمکة والمدینة والحج ٧٣ (١١٩٢)، بدء الخلق ١١ (٣٢٧٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٥١ (٨٢٨)، موطا امام مالک/القرآن ١٠ (٤٧)، (تحفة الأشراف: ٨٣٧٥)، مسند احمد ٢/١٣، ١٩، ٣٣، ٣٦، ٦٣، ١٠٦ (صحیح )
565Sunan An Nasai

سورج طلوع ہونے کے وقت نماز کے ممنوع ہونے کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يُصَلَّى مَعَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ غُرُوبِهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج کے نکلنے یا اس کے ڈوبنے کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ forbade praying when the sun is rising or setting.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 564
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٨٨٦)، مسند احمد ٢/ ٢٩، ٣٦ (صحیح )
566Sunan An Nasai

دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عقبہ بن عامر ؓ کو کہتے سنا کہ تین اوقات ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھنے، یا اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے: ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو، یہاں تک کہ بلند ہوجائے، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے۔

It was narrated from Musa bin Ali that his father said: "I heard Uqbah bin Amir say: There are three times during which the Messenger of Allah ﷺ forbade us from praying or burying our dead: When the sun had clearly started to rise until it was fully risen, when it was directly overhead at noon until it has passed the zenith, and when it was close to setting until it had fully set".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 565
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٦١(صحیح )
567Sunan An Nasai

نماز عصر کے بعد نماز کے ممنوع ہونے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى الطُّلُوعِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى الْغُرُوبِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کے بعد سورج نکلنے تک، اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Damrah bin Saeed that he heard Abu Saeed Al-Khudri (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ forbade praying after Subh until the sun had risen, and praying after Asr until the sun had set."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 566
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٠٨٤) مسند احمد ٣/ ٦، ٦٦ (صحیح )
568Sunan An Nasai

نماز عصر کے بعد نماز کے ممنوع ہونے کا بیان

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَبْزُغَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے ۔

It was narrated from Damrah bin Saeed that he heard Abu Saeed Al-Khudri (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ forbade praying after Subh until the sun had risen, and praying after Asr until the sun had set".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 567
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٣١ (٥٨٦)، فضل الصلاة بمکة ٦ (١١٩٧)، الصید ٢٦ (١٨٦٤)، الصوم ٦٧ (١٩٩٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٥١ (٨٢٧)، (تحفة الأشراف: ٤١٥٥)، مسند احمد ٣/ ٧، ٣٩، ٤٦، ٥٢، ٥٣، ٦٠، ٦٧، ٧١، ٩٥ (صحیح )
569Sunan An Nasai

نماز عصر کے بعد نماز کے ممنوع ہونے کا بیان

أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.

اس سند سے بھی ابو سعید خدری ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔

(Another chain) from Abu Saeed Al-Khudri (RA), from the Messenger of Allah ﷺ with a similar report.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 568
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
570Sunan An Nasai

نماز عصر کے بعد نماز کے ممنوع ہونے کا بیان

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade praying after Asr.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 569
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٧٦١)، سنن الدارمی/المقدمة ٣٨ (٤٤٠) (صحیح الإسناد )
571Sunan An Nasai

نماز عصر کے بعد نماز کے ممنوع ہونے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَنْبَسَةَ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قالت عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَوْهَمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَتَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ عمر ؓ سے وہم ہوا ہے ١ ؎ رسول اللہ ﷺ نے تو صرف یہ فرمایا ہے: سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت تم اپنی نماز کا ارادہ نہ کرو، اس لیے کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔

It was narrated from Ibn Tawus that his father said: "Aishah (RA) said: Umar (RA) is not correct, rather the Messenger of Allah ﷺ only prohibited, as he said: Do no deliberately seek to pray when the sun is rising or when it is setting, for it rises between the horns of a Shaitan".

صحيح دون قوله فإنها ...صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 570
Notes · وضاحت
١ ؎: ام المؤمنین عائشہ ؓ کا مقصود یہ ہے کہ عمر ؓ سمجھتے تھے کہ فجر اور عصر کے بعد مطلقاً نماز پڑھنے کی ممانعت ہے، یہ صحیح نہیں بلکہ ممانعت اس بات کی ہے کہ آدمی نماز کے لیے ان دونوں وقتوں کو خاص کرلے، اور یہ عقیدہ رکھے کہ ان دونوں وقتوں میں نماز پڑھنا اولیٰ و انسب ہے، یا یہ ممانعت سورج کے نکلنے یا ڈوبنے کے وقت کے ساتھ خاص ہے نہ کہ عصر اور فجر کے بعد مطلقاً، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ یہ ممانعت مطلقاً ہے کیونکہ ابوسعید اور ابوہریرہ ؓ کی روایات میں علی الاطلاق ممانعت وارد ہے، اور بعض روایات میں جو تقیید ہے وہ اطلاق کی نفی پر دلالت نہیں کر رہی ہیں، نووی نے دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ تحری والی روایت اس بات پر محمول ہوگی کہ فرض نماز کو اس قدر مؤخر کیا جائے کہ سورج کے نکلنے یا ڈوبنے کا وقت ہوجائے، اور مطلقاً ممانعت والی روایت ان صلاتوں پر محمول ہوگی جو سببی نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٥٣ (٨٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٥٨)، مسند احمد ٦/ ١٢٤، ٢٥٥ (کلاھما بدون قولہ ” فإنھا…“ (صحیح )
572Sunan An Nasai

نماز عصر کے بعد نماز کے ممنوع ہونے کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تُشْرِقَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغْرُبَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو نماز کو مؤخر کرو، یہاں تک کہ وہ روشن ہوجائے، اور جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے تو نماز کو مؤخر کرو یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے ۔

Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the edge of the sun rises, then delay prayer until it has fully risen, and when the edge of the sun starts to set, delay prayer until it has fully set".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 571
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٣٠ (٥٨٢)، بدء الخلق ١١ (٣٢٧٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٥١ (٨٢٩)، موطا امام مالک/القرآن ١٠ (٤٥) (مرسلاً )، مسند احمد ٢/١٣، ١٩، ٢٤، ١٠٦، (تحفة الأشراف: ٧٣٢٢) (صحیح )
573Sunan An Nasai

نماز عصر کے بعد نماز کے ممنوع ہونے کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ، قَالُوا: سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، يقول: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ مِنَ الْأُخْرَى أَوْ هَلْ مِنْ سَاعَةٍ يُبْتَغَى ذِكْرُهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ أَقْرَبَ مَا يَكُونُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعَبْدِ جَوْفَ اللَّيْلِ الْآخِرَ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، وَهِيَ سَاعَةُ صَلَاةِ الْكُفَّارِ فَدَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى تَرْتَفِعَ قِيدَ رُمْحٍ وَيَذْهَبَ شُعَاعُهَا، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ الشَّمْسُ اعْتِدَالَ الرُّمْحِ بِنِصْفِ النَّهَارِ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَتُسْجَرُ فَدَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى يَفِيءَ الْفَيْءُ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغِيبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَهِيَ صَلَاةُ الْكُفَّارِ.

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ ؓ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں دوسری گھڑیوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ ہوتا ہو، یا کوئی ایسا وقت ہے جس میں اللہ کا ذکر مطلوب ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اللہ عزوجل بندوں کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصہ میں ہوتا ہے، اگر تم اس وقت اللہ عزوجل کو یاد کرنے والوں میں ہوسکتے ہو تو ہوجاؤ، کیونکہ فجر میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور سورج نکلنے تک رہتے ہیں، (پھر چلے جاتے ہیں) کیونکہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، اور یہ کافروں کی نماز کا وقت ہے، لہٰذا (اس وقت) تم نماز نہ پڑھو، یہاں تک کہ سورج نیزہ کے برابر بلند ہوجائے، اور اس کی شعاع جاتی رہے پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے، اور موجود رہتے ہیں یہاں تک کہ ٹھیک دوپہر میں سورج نیزہ کی طرح سیدھا ہوجائے، تو اس وقت بھی نماز نہ پڑھو، یہ ایسا وقت ہے جس میں جہنم کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور وہ بھڑکائی جاتی ہے، تو اس وقت بھی نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ سایہ لوٹنے لگ جائے، پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور موجود رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، کیونکہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے درمیان ڈوبتا ہے، اور وہ کافروں کی نماز کا وقت ہے ۔

Abu Yahya Sulaim bin Amir, Damrah bin Habib and Abu Talhah Nuaim bin Ziyad said: "We heard Abu Umamah Al-Bahili say: I heard Amrah bin Abasah say: I said: O Messenger of Allah, is there any moment which brings one close to Allah than another, or any moment that should be sought out for remembering Allah? He said: Yes, the closest that the Lord is to His slave is in the last part of the night, so if you can be among those who remember Allah at that time, then do so. For prayer is attended and witnessed (by the angels) until the sun rises, then it rises between the two horns of the Shaitan, that is the time when the disbelievers pray, so do not pray until the sun had risen to the height of a spear and its rays have disappeared. Then prayer is attended and witness (by the angels) until the sun is directly overhead at midday, and that is the time when the gates of Hell are opened and it is stoked up. So do not pray until the shadows appear. Then prayer is attended and witnessed (by angels) until the sun sets, and it sets between the horns of a Shaitan, and that is the time when the disbelievers pray".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 572
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي: (تحفة الأشراف: ١٠٧٦١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٥٢ (٨٣٢) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٩ (١٢٧٧)، سنن الترمذی/الدعوات ١١٩ (٣٥٧٤)، (مختصراً )، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٨٢ (١٣٦٤)، مسند احمد ٤/١١١، ١١٤ (صحیح )