نمازوں کے اوقات کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 6 · 133 hadiths · Page 3 of 7

534Sunan An Nasai

نماز عشاء میں تاخیر کرنا مستحب ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز عشاء کو مؤخر کرتے تھے۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Messenger of Allah ﷺ used to delay the later Isha". It is described as the later Isha prayer because the Maghrib prayer is sometimes called Isha prayer, but it is the first Isha. Some scholars are of the opinion that it is disliked to call Maghrib Isha without qualifying it as the first Isha. See Fath Al-Bari.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 533
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٤٣)، (تحفة الأشراف: ٢١٧٠)، مسند احمد ٥/٨٩، ٩٣، ٩٤، ٩٥ (صحیح )
535Sunan An Nasai

نماز عشاء میں تاخیر کرنا مستحب ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے شاق نہ سمجھتا تو انہیں عشاء کو مؤخر کرنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah, I would have commanded them to delay Isha and to use the Siwak for every prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 534
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطھارة ١٥ (٢٥٢) مختصراً، سنن ابی داود/الطھارة ٢٥ (٤٦) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧ (٢٨٧) مختصراً، الصلاة ٨ (٦٩٠) مختصراً، موطا امام مالک/الطھارة ٣٢ (١١٤)، مسند احمد ٢/٢٤٥، ٢٥٠، ٢٥٩، ٢٨٧، ٤٠٠، ٤٢٩، ٤٣٣، ٤٦٠، ٥٠٩، ٥١٧، ٥٣١، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٨ (١٥٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٧٣) (صحیح )
536Sunan An Nasai

نماز عشاء کے آخر وقت سے متعلق

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعَتَمَةِ، فَنَادَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: مَا يَنْتَظِرُهَا غَيْرُكُمْ، وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ قَالَ: صَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِوَاللَّفْظُ لِابْنِ حِمْيَرٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات عشاء میں تاخیر کی، تو عمر ؓ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نکلے، اور فرمایا: تمہارے سوا اس نماز کا کوئی انتظار نہیں کر رہا ہے ١ ؎، اور (اس وقت) صرف مدینہ ہی میں نماز پڑھی جا رہی تھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اسے شفق غائب ہونے سے لے کر تہائی رات تک پڑھو ۔ اور اس حدیث کے الفاظ ابن حمیر کے ہیں۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ delayed Atamah one night, and Umar (RA), called out to him: The women and children have gone to sleep. The Messenger of Allah ﷺ came out and said: No one is waiting for it except you. At that time no prayer was offered except in Al-Madinah. Then he said: Pray it between the time when the twilight disappears and when one-third of the night has passed".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 535
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ یہ شرف فضیلت صرف تم ہی کو حاصل ہے، اس لیے اس انتظار کو تم اپنے لیے باعث زحمت نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے شرف اور رحمت کا باعث ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث شعیب بن أبي حمزة عن الزہري عن عروة أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٦٢)، ١٦٢ (٨٦٤)، مسند احمد ٦/ ٢٧٢، (تحفة الأشراف: ١٦٤٦٩)، وحدیث إبراہیم بن أبي عبلة عن الزہري عن عروة قد تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٦٤٠٥) (صحیح )
537Sunan An Nasai

نماز عشاء کے آخر وقت سے متعلق

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَاحَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومِ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قالت: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، وَقَالَ: إِنَّهُ لَوَقْتُهَا، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم ﷺ نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا بہت سا حصہ گزر گیا، اور مسجد کے لوگ سو گئے، پھر آپ ﷺ نکلے اور نماز پڑھائی، اور فرمایا: یہی (اس نماز کا پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا (تو اسے اس کا حکم دیتا) ۔

It was narrated that Aishah (RA) the Mother of the Believers said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) delayed the prayer one night until most of the night had passed and the people in the Masjid had gone home to sleep, then he went out and prayed, and said: This is indeed its (prayer) time, were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 536
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٨٤)، حصحیح مسلم/٦ (١٥٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩ (١٢٥٠) (صحیح )
538Sunan An Nasai

نماز عشاء کے آخر وقت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِشَاءِ الْآخِرَةِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: إِنَّكُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ. ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے، جب تہائی یا اس سے کچھ زیادہ رات گزر گئی تو آپ نکل کر ہمارے پاس آئے، اور جس وقت نکل کر آئے آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ ایک ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے سوا کسی اور دین کا ماننے والا اس کا انتظار نہیں کر رہا ہے، اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو انہیں اسی وقت نماز پڑھاتا ، پھر آپ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھائی۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "We stayed in the Masjid one night waiting for the Messenger of Allah ﷺ to pray Isha. He came out to us when one-third of the night or more had passed, and he said when he came out: You are waiting for a prayer for which the followers of no other religion are waiting. Were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah, I would have led them in prayer at this time. Then he commanded the Muadhdhin to say the Iqamah and he prayed".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 537
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٣٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٧ (٤٢٠)، (تحفة الأشراف: ٧٦٤٩)، مسند احمد ٢/ ١٢٦ (صحیح )
539Sunan An Nasai

نماز عشاء کے آخر وقت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ، لَأَمَرْتُ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ أَنْ تُؤَخَّرَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو مغرب پڑھائی، پھر آپ نہیں نکلے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، پھر نکلے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر فرمایا: لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہیں، اور تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے نماز ہی میں تھے، اگر کمزور کی کمزوری، اور بیمار کی بیماری نہ ہوتی تو میں حکم دیتا کہ اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کیا جائے ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ led us in Maghrib prayer, then he did not come out to us until half the night had passed. Then he came out and led them in prayer, then he said: The people have prayed and gone to sleep, but you are still in a state of prayer so long as you are waiting for the prayer. Were it not for the weakness of the weak and, the sickness of the sick, I would have commanded that this prayer be delayed until halfway through the night".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 538
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٧ (٤٢٢)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٨ (٦٩٣)، (تحفة الأشراف: ٤٣١٤)، مسند احمد ٣/٥ (صحیح )
540Sunan An Nasai

نماز عشاء کے آخر وقت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قال: سُئِلَ أَنَسٌ: هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَنْ صَلَّى أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا. قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ.

حمید کہتے ہیں: انس ؓ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی اکرم ﷺ نے انگوٹھی پہنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، ایک رات آپ نے آدھی رات کے قریب تک عشاء مؤخر کی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا: جب تک تم لوگ نماز کا انتظار کرتے رہے برابر نماز میں رہے ۔ انس کہتے ہیں: گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “If the people knew what (virtue) there was in the call to prayer and the first row, and they could not find any way to get to do that other than by drawing lots, they would do that. If they knew what (virtue) there was in coming early to prayer, they would compete to be first in the Masjid. If they knew what (virtue) there was in Al-’Atamah and Subh, they would come to them even if they had to crawl.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 539
Takhrij · تخریج
حدیث إسماعیل عن حمید أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ٢٥ (٥٧٢)، الأذان ٣٦ (٦٦١)، ١٥٦ (٨٤٧)، اللباس ٤٨ (٥٨٦٩)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٥٧٨)، مسند احمد ٣/١٨٢، ١٨٩، ٢٠٠، ٢٦٧، وحدیث خالد عن حمید أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصلاة ٨ (٦٩٢)، (تحفة الأشراف: ٦٣٥) (صحیح) علی بن حجر کی روایت میں ” إلی قریب من شطرا للیل “ کے بجائے ” إلی شطر اللیل “ ہے ۔
541Sunan An Nasai

نماز عشاء کو عتمہ کہنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ اس ثواب کو جو اذان دینے اور پہلی صف میں کھڑے ہونے میں ہے جان لیتے پھر اس کے لیے سوائے قرعہ اندازی کے کوئی اور راہ نہ پاتے، تو ضرور قرعہ ڈالتے، اور اگر لوگ جان لیتے کہ اول وقت نماز پڑھنے میں کتنا ثواب ہے، تو ضرور اس کی طرف سبقت کرتے، اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ عتمہ (عشاء) اور فجر میں آنے میں کیا ثواب ہے، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آتے خواہ انہیں گھٹنے یا سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑتا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If the people knew what (virtue) there was in the call to prayer and the first row, and they not find any way to get to do that other than by drawing lots, they would do that. If they knew what (virtue) there was in coming early to prayer, they would compete to be first in the Masjid. If they knew what (virtue) there was in Al-Atamah and Subh, they would come to them even if they had to crawl". Indicating the two mentioned items: that is the call to prayer and praying in the first row.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 540
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩ (٦١٥)، ٣٢ (٦٥٤)، ٧٢ (٧٢١)، الشھادات ٣٠ (٢٦٨٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٢ (٢٢٥)، موطا امام مالک/الصلاة ١ (٣)، الجماعة ٢ (٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٧٠)، مسند احمد ٢/٢٣٦، ٢٧٨، ٣٠٣، ٣٣٤، ٣٧٥، ٣٧٦، ٤٢٤، ٤٦٦، ٤٧٢، ٤٧٩، ٥٣١، ٥٣٣، ویأتي عند المؤلف في باب ٣١ برقم: ٦٧٢) (صحیح )
542Sunan An Nasai

نماز عشاء کو عتمہ کہنا

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ هَذِهِ، فَإِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَلَى الْإِبِلِ وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آجائیں ١ ؎ وہ لوگ اپنی اونٹنیوں کو دوہنے کے لیے دیر کرتے ہیں (اسی بنا پر دیر سے پڑھی جانے والی اس نماز کو عتمہ کہتے ہیں) حالانکہ یہ عشاء ہے ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say on the Minbar: ‘Do not let the Bedouin make you change the name of your prayer; verily, it is ‘Isha’.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 541
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تم ان کی پیروی میں اسے عتمہ نہ کہنے لگو بلکہ اسے عشاء کہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٤٤)، سنن ابی داود/الأدب ٨٦ (٤٩٨٤)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٣ (٧٠٤)، (تحفة الأشراف: ٨٥٨٢)، مسند احمد ٢/١٠، ١٨، ٤٩، ١٤٤ (صحیح )
543Sunan An Nasai

نماز عشاء کو عتمہ کہنا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، أَلَا إِنَّهَا الْعِشَاءُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا: تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آجائیں، جان لو اس کا نام عشاء ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say on the Minbar: Do not let the Bedouin make you change the name of your prayer; verily, it is Isha.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 542
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے عشاء کو عتمہ کہنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ اعراب (دیہاتیوں) کی اصطلاح ہے، قرآن میں ومن بعد صلا ۃ العشاء وارد ہے بعض حدیثوں میں جو عشاء کو عتمہ کہا گیا ہے اس کی تاویل کئی طریقے سے کی جاتی ہے، ایک تو یہ کہ یہ اطلاق نہی (ممانعت) سے پہلے کا ہوگا، دوسرے یہ کہ نہی تنزیہی ہے، تیسرے یہ کہ یہ اطلاق ان اعراب کو سمجھانے کے لیے ہوگا جو عشاء کو عتمہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
544Sunan An Nasai

نماز فجر کا اول وقت کونسا ہے؟

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْأَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر پڑھی جس وقت صبح (صادق) آپ پر واضح ہوگئی۔

Jafar bin Muhammad bin Ali bin Al-Husain narrated from his father, that Jabir bin Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ prayed Subh as soon as he was certain the dawn had appeared".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 543
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٦٢٧)، وأخرجہ صحیح مسلم/الحج ١٩ (١٢١٨)، سنن ابی داود/المناسک ٥٧ (١٩٠٥)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٤ (٣٠٧٤)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٣)، (من حدیثہ في سیاق حجة النبی ﷺ ) (صحیح )
545Sunan An Nasai

نماز فجر کا اول وقت کونسا ہے؟

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا مِنَ الْغَدِ أَمَرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ فَصَلَّى بِنَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَسْفَرَ ثُمَّ أَمَرَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے فجر کے وقت کے بارے میں پوچھا، تو جب ہم نے دوسرے دن صبح کی تو آپ نے ہمیں جس وقت فجر کی پو پھٹی نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر جب دوسرا دن آیا، اور خوب اجالا ہوگیا تو حکم دیا تو نماز کھڑی کی گئی، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر فرمایا: نماز کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ انہی دونوں کے درمیان (فجر کا) وقت ہے ۔

Humaid narrated from Anas (RA) that a man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and asked him about the time of the Subh prayer. The following morning he commanded that the Iqamah for prayer be said when dawn broke, and he led us in prayer. The next day when there was light he commanded that the Iqamah for prayer be said and he led us in prayer. Then he said: "Where is the one who was asking about the time for prayer? (It is) between these two times".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 544
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٩٢)، مسند احمد ٣/١١٣، ١٨٢ (صحیح الإسناد )
546Sunan An Nasai

اگر سفر نہ ہو تو نماز فجر کس اندھیرے میں ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر پڑھتے تھے (آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر) عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی لوٹتی تھیں، تو وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔

It was narrated that Aishah said: "When the Messenger of Allah ﷺ has prayed Subh, the women would depart, wrapped in their wrappers, unrecognizable because of the darkness".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 545
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٣ (٣٧٢)، المواقیت ٢٧ (٥٧٨)، والأذان ١٦٣ (٨٦٧)، ١٦٥ (٨٧٢)، صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٨ (٤٢٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢ (١٥٣)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ١٧٩٣١)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٤)، مسند احمد ٦/٣٣، ٣٦، ١٧٨، ٢٤٨، ٢٥٩ (صحیح )
547Sunan An Nasai

اگر سفر نہ ہو تو نماز فجر کس اندھیرے میں ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، فَيَرْجِعْنَ فَمَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی فجر پڑھتی تھیں، پھر وہ لوٹتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے کوئی انہیں پہچان نہیں پاتا تھا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The women used to pray Subh with the Messenger of Allah ﷺ, wrapped in their wrappers, then they would return, and no one would recognize them because of the darkness".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 546
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٥)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٦٩)، مسند احمد ٦/ ٣٧، (تحفة الأشراف: ١٦٤٤٢) (صحیح )
548Sunan An Nasai

دوران سفر نماز فجر اندھیرے میں ادا کرنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِغَلَسٍ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْهُمْ، فَأَغَارَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ مَرَّتَيْنِ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھی، (آپ خیبر والوں کے قریب ہی تھے) پھر آپ نے ان پر حملہ کیا، اور دو بار کہا: اللہ أكبر اللہ سب سے بڑا ہے خیبر ویران و برباد ہوا، جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ prayed Fajr on the day of Khaibar during the time it was still dark, when he was near the enemy. Then he attacked them and said: Allahu Akbar! Khaibar is destroyed! Twice. Then, when it descends in their courtyard, evil will be the morning for those who had been warned"! As-Saffat 37:177

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 547
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ تباہ و برباد ہوجاتے ہیں اور ہم فتح یابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٢ (٣٨١)، الخوف ٦ (٩٤٧)، (تحفة الأشراف: ٣٠١)، مسند احمد ٣/١٠٢، ١٨٦، ٢٤٢، (صحیح )
549Sunan An Nasai

نماز فجر روشنی میں ادا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، قال: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْمَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فجر اسفار میں پڑھو ١ ؎۔

It was narrated from Rafi bin Khadij that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Pray Fajr when the dawn shines".

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 548
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس قدر تاخیر کرو کہ طلوع فجر میں شبہ باقی نہ رہے، یا یہ حکم ان چاندنی راتوں میں ہے جن میں طلوع فجر واضح نہیں ہوتا، شاہ ولی اللہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے کہ یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جنہیں جماعت میں کم لوگوں کی حاضری کا خدشہ ہو، یا ایسی بڑی مساجد کے لوگوں کو ہے جس میں کمزور اور بچے سبھی جمع ہوتے ہوں، یا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فجر خوب لمبی پڑھو تاکہ ختم ہوتے ہوتے خوب اجالا ہوجائے جیسا کہ ابوبرزہ ؓ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ فجر پڑھ کر لوٹتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہچان لیتا، اس طرح اس میں اور غلس والی روایت میں کوئی منافات نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٨ (٤٢٤) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة ٥ (١٥٤) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٧٢) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٢)، مسند احمد ٣/٤٦٥، ٤/ ١٤٠، ١٤٢، سنن الدارمی/الصلاة ٢١ (١٢٥٣، ١٢٥٤، ١٢٥٥) (حسن صحیح )
550Sunan An Nasai

نماز فجر روشنی میں ادا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قال: أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَسْفَرْتُمْ بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ بِالْأَجْرِ.

محمود بن لبید اپنی قوم کے کچھ انصاری لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جتنا تم فجر اجالے میں پڑھو گے، اتنا ہی ثواب زیادہ ہوگا ١ ؎۔

It was narrated from Mahmud bin Labid, from some men among his people who were of the Ansar, that the Messenger of Allah ﷺ said: "The more you delay Fajr, the greater the reward".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 549
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء نے اسفار کی تاویل یہ کی ہے کہ فجر واضح ہوجائے، اس کے طلوع میں کوئی شک نہ ہو، اور ایک تاویل یہ بھی ہے کہ اس حدیث میں صلاۃ سے نکلنے کے وقت کا بیان ہے نہ کہ صلاۃ میں داخل ہونے کا اس تاویل کی رو سے فجر غلس میں شروع کرنا، اور اسفار میں ختم کرنا افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: ١٥٦٧٠) (صحیح الإسناد )
551Sunan An Nasai

جس شخص نے نماز فجر کا ایک سجدہ سورج نکلنے سے پہلے حاصل کرلیا تو اس کا کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنِيعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے سورج نکلنے سے پہلے نماز فجر کا ایک سجدہ پا لیا اس نے نماز فجر پالی ١ ؎ اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کا ایک سجدہ پا لیا اس نے نماز عصر پالی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever catches up with a prostration of Subh before the sun rises, then he has caught up with it; and whoever catches up with a prostration of Asr before the sun sets, then he has caught up with it".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 550
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مقصد ایک پوری رکعت پالینے کا ہے، جیسا کہ عائشہ کی حدیث میں آ رہا ہے یعنی اس کی وجہ سے وہ اس قابل ہوگیا کہ اس کے ساتھ باقی اور رکعتیں ملا لے، اس کی یہ نماز ادا سمجھی جائیگی قضاء نہیں، یہ مطلب نہیں کہ یہ رکعت پوری نماز کے لیے کافی ہوگی، اور جو لوگ کہتے ہیں کہ نماز کے دوران سورج نکلنے سے اس کی نماز فاسد ہوجائے گی وہ کہتے ہیں کہ اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسے اتنا وقت مل گیا جس میں وہ ایک رکعت پڑھ سکتا ہو تو وہ نماز کا اہل ہوگیا، اور وہ نماز اس پر واجب ہوگئی مثلاً بچہ ایسے وقت میں بالغ ہوا یا حائضہ حیض سے پاک ہوئی یا کافر اسلام لے آیا ہو کہ وہ وقت کے اندر ایک رکعت پڑھ سکتا ہو، تو وہ نماز اس پر واجب ہوگئی لیکن حدیث رقم:( ٥١٧ ) سے جس میں فلیتم صلوٰتہ کے الفاظ وارد ہیں اس تاویل کی نفی ہو رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٩٣٧)، مسند احمد ٢/٣٩٩، ٤٧٤ (صحیح )
552Sunan An Nasai

جس شخص نے نماز فجر کا ایک سجدہ سورج نکلنے سے پہلے حاصل کرلیا تو اس کا کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی اس نے عصر پالی ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever catches up with a Rakah of Fajr before the sun rises, then he has caught up with it; and whoever catches up with a Rakah of Asr before the sun sets, then he has caught up with it".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 551
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٩)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١١ (٧٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٠٥)، مسند احمد ٦/٧٨ (صحیح )
553Sunan An Nasai

نماز فجر کا آخری وقت کونسا ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي صَدَقَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ قَالَ: عَلَى إِثْرِهِ، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اس وقت پڑھتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، اور عصر تمہاری ان دونوں نمازوں ١ ؎ کے درمیان پڑھتے تھے، اور مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈوب جاتا تھا، اور عشاء اس وقت پڑھتے تھے جب شفق غائب جاتی تھی، پھر اس کے بعد انہوں نے کہا: اور آپ فجر پڑھتے تھے یہاں تک کہ نگاہ پھیل جاتی تھی ٢ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to pray Zuhr when the sun passed its zenith, and he would pray Asr between these two prayers; and he would pray Maghrib when the sun had set, and he used to pray Isha when the twilight had disappeared", then he said straight after that: "And he would pray Fajr when a man could see clearly".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 552
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں نمازوں سے مراد ظہر اور عصر ہے یعنی تمہاری ظہر اور تمہاری عصر کے بیچ میں رسول اللہ ﷺ کی عصر ہوتی تھی، مقصود اس سے یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر جلدی پڑھتے تھے اور تم لوگ تاخیر سے پڑھتے ہو۔ ٢ ؎: یعنی اجالا ہوجاتا اور ساری چیزیں دکھائی دینے لگتی تھیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٥٩)، مسند احمد ٣/١٢٩، ١٦٩ (صحیح الإسناد )