Sunan An Nasai 542

نمازوں کے اوقات کا بیان

542Sunan An Nasai

نماز عشاء کو عتمہ کہنا

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ هَذِهِ، فَإِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَلَى الْإِبِلِ وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آجائیں ١ ؎ وہ لوگ اپنی اونٹنیوں کو دوہنے کے لیے دیر کرتے ہیں (اسی بنا پر دیر سے پڑھی جانے والی اس نماز کو عتمہ کہتے ہیں) حالانکہ یہ عشاء ہے ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say on the Minbar: ‘Do not let the Bedouin make you change the name of your prayer; verily, it is ‘Isha’.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 541
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تم ان کی پیروی میں اسے عتمہ نہ کہنے لگو بلکہ اسے عشاء کہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٤٤)، سنن ابی داود/الأدب ٨٦ (٤٩٨٤)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٣ (٧٠٤)، (تحفة الأشراف: ٨٥٨٢)، مسند احمد ٢/١٠، ١٨، ٤٩، ١٤٤ (صحیح )