Sunan An Nasai 550

نمازوں کے اوقات کا بیان

550Sunan An Nasai

نماز فجر روشنی میں ادا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قال: أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَسْفَرْتُمْ بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ بِالْأَجْرِ.

محمود بن لبید اپنی قوم کے کچھ انصاری لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جتنا تم فجر اجالے میں پڑھو گے، اتنا ہی ثواب زیادہ ہوگا ١ ؎۔

It was narrated from Mahmud bin Labid, from some men among his people who were of the Ansar, that the Messenger of Allah ﷺ said: "The more you delay Fajr, the greater the reward".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 549
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء نے اسفار کی تاویل یہ کی ہے کہ فجر واضح ہوجائے، اس کے طلوع میں کوئی شک نہ ہو، اور ایک تاویل یہ بھی ہے کہ اس حدیث میں صلاۃ سے نکلنے کے وقت کا بیان ہے نہ کہ صلاۃ میں داخل ہونے کا اس تاویل کی رو سے فجر غلس میں شروع کرنا، اور اسفار میں ختم کرنا افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: ١٥٦٧٠) (صحیح الإسناد )