عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے (ٹخنے سے نیچے) اپنا کپڑا تکبر سے لٹکایا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔
It was narrated that Muharib said: "I heard Ibn Umar narrating that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drags his garment out of vanity, Allah, the Mighty and Sublime, will not look at him on the Day of Resurrection.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5328
حذیفہ بن الیمان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تہبند آدھی پنڈلی تک جہاں گوشت ہوتا ہے ہونا چاہیئے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کچھ نیچے، اور اگر ایسا بھی نہ ہو تو پنڈلی کے اخیر تک، اور ٹخنوں کا تہبند میں کوئی حق نہیں ۔
It was narrated that Hudhaifah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The Izar should come to the middle of the shins and the calf. If you insist, then a little lower, and if you insist, then a little further down, but the Izar has no right to (come to) the ankle." This is the wordings of Muhammad.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5329
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص کو نہیں دیکھے گا جو (ٹخنے سے نیچے) تہبند لٹکاتا ہے ۔
It was narrated that Ashath said: "I heard Saeed bin Jubair narrate from Ibn Abbas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Allah will not look at the Musbil (the one who lets his Izar come below the ankles).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5332
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین لوگ ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا، نہ انہیں (گناہوں سے) پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے : کچھ دے کر حد سے زیادہ احسان جتانے والا، (ٹخنے سے نیچے) تہبند لٹکانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا ۔
It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There are three to whom Allah (the Mighty and Sublime) will not speak on the Day of Resurrection, nor will He sanctify them, and theirs will be a painful torment: The one who reminds others of what he has given them (Al-Mannan), the one who lets his Izar come below his ankles, and the one who sells his product by means of false oaths.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5333
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تہبند، قمیص اور پگڑی میں کسی کو بھی کوئی تکبر (گھمنڈ) سے لٹکائے تو قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Al-Isbal may apply to the Izar, the Qamis and the turban. Whoever drags any one of these out of vanity, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5334
Notes · وضاحت
١ ؎: تکبر اور گھمنڈ اللہ تعالیٰ کو قطعی پسند نہیں ہے، نیز تہبند، قمیص اور عمامہ (پگڑی) میں تکبر اور گھمنڈ کے قبیل سے جو زائد حصہ لگ رہا ہے وہ اسراف سے خالی نہیں ہے۔
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اپنا کپڑا تکبر (گھمنڈ) سے گھسیٹے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا ، ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے تہبند کا ایک کونا لٹک جاتا ہے، إلا اس کے کہ میں اس کا بہت زیادہ خیال رکھوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر (گھمنڈ) کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں ۔
It was narrated from Salim, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever drags his garment out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection." Abu Bakr said: "O Messenger of Allah, one side of my Izar slips unless I pay attention to it." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "You are not one of those who do that out of pride.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5335
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا لٹکایا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا ، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! تو پھر عورتیں اپنے دامن کیسے رکھیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اسے ایک بالشت لٹکائیں ، وہ بولیں : تب تو ان کے قدم کھلے رہیں گے ؟ ، آپ نے فرمایا : تو ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drags his garment out of pride, Allah will not look at him. Umm Salamah said: O Messenger of Allah, what should women do with their hems? He said: Let it down a hand span. She said: But then their feet will show. He said: Let it down a forearms length, but no more than that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5336
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عورتوں کے دامن لٹکانے کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ ایک بالشت لٹکائیں ١ ؎، ام سلمہ رضی اللہ عنہا بولیں : تب تو کھلا رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : تب ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں ۔
It was narrated from Umm Salamah that: She mentioned womens hems to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Let it down a hand span." Umm Salamah said: "But that will uncover (her feet)." He said: "Let it down a forearms length, but no more than that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5337
Notes · وضاحت
١ ؎: عورتیں ایک بالشت یا ایک ہاتھ زیادہ کہاں سے لٹکائیں ؟ اس بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ مردوں کی جائز حد (ٹخنوں) سے زیادہ ایک بالشت لٹکائیں یا حد سے حد ایک ہاتھ زیادہ لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہیں، یہ اجازت اس لیے ہے تاکہ عورتوں کے قدم اور پنڈلیاں چلتے وقت ظاہر نہ ہوجائیں، آج ٹخنوں تک پاجامہ (شلوار) کے بعد لمبے موزوں سے عورتوں کا مذکورہ پردہ حاصل ہوسکتا ہے، لیکن عورتوں کے لباس اصلی شلوار وغیرہ میں اس بات کی احتیاط ہونی چاہیئے کہ وہ سلاتے وقت ٹخنے کے نیچے ناپ کر سلاتے جائیں۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب تہبند کے بارے میں جو کچھ کیا اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : پھر عورتیں کیسے کریں ؟ آپ نے فرمایا : ایک بالشت لٹکائیں ، وہ بولیں تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے ! آپ نے فرمایا : پھر ایک ہاتھ اور لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں ۔
It was narrated from Umm Salamah that: When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said what he said about the Izar, Umm Salamah said: "What about women?" He said: "Let it down a hand span." She said: "But then their feet will show." He said: "Then (let it down) a forearms length, but no more than that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5338
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا : عورت اپنا دامن کس قدر لٹکائے ؟ آپ نے فرمایا : ایک بالشت ، وہ بولیں : تب تو کھلا رہ جائے گا ! آپ نے فرمایا : ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں ۔
It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked how much a woman should let her hem drag. He said: A hand span. She said: But then it will uncover her (feet). He said: A forearms length, and no more than that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5339
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اشتمال صماء سے اور ایک ہی کپڑے میں احتباء سے کہ شرمگاہ پر کچھ نہ ہو منع فرمایا۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ishtimal As-Samma and wrapping oneself in a single garment (that did not cover the private parts).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5340
Notes · وضاحت
١ ؎: اشتمال صماء اہل لغت کے یہاں اشتمال صماء : یہ ہے کہ ایک آدمی کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح سے لپیٹ لے کہ ہاتھ پاؤں کی حرکت مشکل ہو، اس طرح کا تنگ کپڑا پہننے سے آدمی بوقت ضرورت کسی تکلیف دہ چیز سے اپنا دفاع نہیں کرسکتا، اور فقہاء کے نزدیک اشتمال صماء یہ ہے کہ پورے بدن پر صرف ایک کپڑا لپیٹے اور ایک جانب سے ایک کنارہ اٹھا کر گندھے پر رکھ لے، اس طرح کہ ستر (شرمگاہ) کھل جائے، اہل لغت کی تعریف کے مطابق یہ مکروہ ہے، اور فقہاء کی تعریف کے مطابق حرام۔ احتباء یہ ہے کہ آدمی ایک کپڑا پہنے اور گوٹ مار کر اس طرح بیٹھے کہ کپڑا اس کے ستر (شرمگاہ) سے ہٹ جائے۔
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کپڑا پورے بدن پر لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں آدمی کے احتباء کرنے سے کہ شرمگاہ کھلی ہوئی ہو، منع فرمایا۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ishtimal As-Samma and wrapping oneself in a single garment (that did not cover the private parts).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5341
جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پورے بدن پر کپڑا لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں لپیٹ کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔
It was narrated from Jabir that: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ishtimal As-Samma and wrapping oneself in a single garment (that did not cover the private parts).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5342
عمرو بن حریث (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو کی پگڑی باندھے دیکھا۔
It was narrated from Jafar bin Amr bin Huraith that his father said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing a black turban.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5343
Notes · وضاحت
١ ؎: حرقانیہ لفظ حرق (جلنا) سے ہے، یعنی : جلنے کے بعد کسی چیز کا جو رنگ ہوتا ہے، وہ سرمئی ہوتا ہے، لیکن مؤلف کے سوا سب کے یہاں، یہاں لفظ سوداء ہے، (خود مؤلف کے یہاں بھی آگے سوداء ہی ہے) اس لحاظ سے دونوں حدیثوں کو ایک ہی باب ( ١٠٩ ) میں لانا چاہیئے تھا، مگر کسی راوی کے یہاں حرقانی ۃ ہونے کی وجہ سے اور رنگ میں ذرا سا فرق ہونے کی وجہ سے مؤلف نے شاید الگ الگ دو باب باندھے ہیں، واللہ اعلم۔
جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں احرام کے بغیر داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔
It was narrated from Jabir that: On the Day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered (the city) wearing a black turban, and he was not in Ihram.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5344
عمرو بن امیہ (رض) کہتے ہیں : گویا میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھ رہا ہوں اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے ہیں، اس کا کنارہ اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان (پیچھے) لٹکا رکھا ہے۔
It was narrated from Jafar bin Amr bin Umayyah that his father said: "It is as if I am looking now at the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Minbar, wearing a black turban, the end of which he has let hang down between his shoulders.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5346