Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 268 of 289

5330Sunan An Nasaiصحیح

بہت زیادہ تہہ بند لٹکانے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ مَخِيلَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَنْظُرْ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے (ٹخنے سے نیچے) اپنا کپڑا تکبر سے لٹکایا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔

It was narrated that Muharib said: "I heard Ibn Umar narrating that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drags his garment out of vanity, Allah, the Mighty and Sublime, will not look at him on the Day of Resurrection.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5328
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٥ (٥٧٩١) ، صحیح مسلم/اللباس ٩ (٢٠٦٢ م) ، (تحفة الأشراف : ٧٤٠٩) ، مسند احمد (٢/٤٢، ٤٦) (صحیح )
5331Sunan An Nasaiصحیح

تہہ بند کس جگہ تک ہونا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَوْضِعُ الْإِزَارِ إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ وَالْعَضَلَةِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَمِنْ وَرَاءِ السَّاقِ، وَلَا حَقَّ لِلْكَعْبَيْنِ فِي الْإِزَارِ. وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.

حذیفہ بن الیمان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تہبند آدھی پنڈلی تک جہاں گوشت ہوتا ہے ہونا چاہیئے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کچھ نیچے، اور اگر ایسا بھی نہ ہو تو پنڈلی کے اخیر تک، اور ٹخنوں کا تہبند میں کوئی حق نہیں ۔

It was narrated that Hudhaifah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The Izar should come to the middle of the shins and the calf. If you insist, then a little lower, and if you insist, then a little further down, but the Izar has no right to (come to) the ankle." This is the wordings of Muhammad.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5329
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٤١ (١٧٨٣) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٧ (٣٥٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٨٣) ، مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠١) (صحیح )
5332Sunan An Nasaiصحیح

ٹخنوں سے نیچے ازار رکھنے کا حکم (وعید)

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يَعْقُوبَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ٹخنوں سے نیچے کا تہبند جہنم کی آگ میں ہوگا ١ ؎۔

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whatever of the Izar comes below the ankles is in the Fire.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5330
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جسم کا وہ حصہ جو ٹخنے سے نیچے ازار (تہبند) سے چھپا ہوا ہے جہنم کی آگ میں جلے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٤٠٩٩، ١٤٣٥٥) (صحیح )
5333Sunan An Nasaiصحیح

ٹخنوں سے نیچے ازار رکھنے کا حکم (وعید)

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَقَدْ كَانَ يُخْبِرُ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم کی آگ میں ہوگا ۔

The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whatever of the Izar comes below the ankles is in the Fire.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5331
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤ (٥٧٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٩٦١) ، مسند احمد (٢/٤١٠، ٤٦١، ٤٩٨) (صحیح )
5334Sunan An Nasaiصحیح

تہہ بند لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ، قَالَ: سَمِعْتُسَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَى مُسْبِلِ الْإِزَارِ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص کو نہیں دیکھے گا جو (ٹخنے سے نیچے) تہبند لٹکاتا ہے ۔

It was narrated that Ashath said: "I heard Saeed bin Jubair narrate from Ibn Abbas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Allah will not look at the Musbil (the one who lets his Izar come below the ankles).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5332
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٤٣٥) ، مسند احمد (١/٣٢٣) (صحیح )
5335Sunan An Nasaiصحیح

تہہ بند لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مِهْرَانَ الْأَعْمَشَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سَلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ.

ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین لوگ ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا، نہ انہیں (گناہوں سے) پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے : کچھ دے کر حد سے زیادہ احسان جتانے والا، (ٹخنے سے نیچے) تہبند لٹکانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا ۔

It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There are three to whom Allah (the Mighty and Sublime) will not speak on the Day of Resurrection, nor will He sanctify them, and theirs will be a painful torment: The one who reminds others of what he has given them (Al-Mannan), the one who lets his Izar come below his ankles, and the one who sells his product by means of false oaths.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5333
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٢٥٦٥ (صحیح )
5336Sunan An Nasaiصحیح

تہہ بند لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِسْبَالُ فِي الْإِزَارِ، وَالْقَمِيصِ، وَالْعِمَامَةِ، مَنْ جَرَّ مِنْهَا شَيْئًا خُيَلَاءَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تہبند، قمیص اور پگڑی میں کسی کو بھی کوئی تکبر (گھمنڈ) سے لٹکائے تو قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Al-Isbal may apply to the Izar, the Qamis and the turban. Whoever drags any one of these out of vanity, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5334
Notes · وضاحت
١ ؎: تکبر اور گھمنڈ اللہ تعالیٰ کو قطعی پسند نہیں ہے، نیز تہبند، قمیص اور عمامہ (پگڑی) میں تکبر اور گھمنڈ کے قبیل سے جو زائد حصہ لگ رہا ہے وہ اسراف سے خالی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٣٠ (٤٠٩٤) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٩ (٣٥٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٦٨) (صحیح )
5337Sunan An Nasaiصحیح

تہہ بند لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ خُيَلَاءَ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اپنا کپڑا تکبر (گھمنڈ) سے گھسیٹے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا ، ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے تہبند کا ایک کونا لٹک جاتا ہے، إلا اس کے کہ میں اس کا بہت زیادہ خیال رکھوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر (گھمنڈ) کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں ۔

It was narrated from Salim, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever drags his garment out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection." Abu Bakr said: "O Messenger of Allah, one side of my Izar slips unless I pay attention to it." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "You are not one of those who do that out of pride.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5335
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٥) ، اللباس ٢ (٥٧٨٤) ، سنن ابی داود/اللباس ٢٨ (٤٠٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٢٦) ، مسند احمد (٢/٦٧، ١٣٦) (صحیح )
5338Sunan An Nasaiصحیح

خواتین کس قدر آنچل لٹکائیں؟

أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ تَصْنَعُ النِّسَاءُ بِذُيُولِهِنَّ ؟ قَالَ: تُرْخِينَهُ شِبْرًا. قَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفَ أَقْدَامُهُنَّ ؟ قَالَ: تُرْخِينَهُ ذِرَاعًا لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا لٹکایا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا ، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! تو پھر عورتیں اپنے دامن کیسے رکھیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اسے ایک بالشت لٹکائیں ، وہ بولیں : تب تو ان کے قدم کھلے رہیں گے ؟ ، آپ نے فرمایا : تو ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drags his garment out of pride, Allah will not look at him. Umm Salamah said: O Messenger of Allah, what should women do with their hems? He said: Let it down a hand span. She said: But then their feet will show. He said: Let it down a forearms length, but no more than that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5336
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٩ (٢٠٨٥) ، سنن الترمذی/اللباس ٩ (١٧٣١) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٢٦) ، مسند احمد (٢/٥، ٥٥، ١٠١) (صحیح )
5339Sunan An Nasaiصحیح

خواتین کس قدر آنچل لٹکائیں؟

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُيُولَ النِّسَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُرْخِينَ شِبْرًا، قَالَتْ: أُمُّ سَلَمَةَ: إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا ؟ قَالَ: تُرْخِي ذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عورتوں کے دامن لٹکانے کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ ایک بالشت لٹکائیں ١ ؎، ام سلمہ رضی اللہ عنہا بولیں : تب تو کھلا رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : تب ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں ۔

It was narrated from Umm Salamah that: She mentioned womens hems to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Let it down a hand span." Umm Salamah said: "But that will uncover (her feet)." He said: "Let it down a forearms length, but no more than that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5337
Notes · وضاحت
١ ؎: عورتیں ایک بالشت یا ایک ہاتھ زیادہ کہاں سے لٹکائیں ؟ اس بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ مردوں کی جائز حد (ٹخنوں) سے زیادہ ایک بالشت لٹکائیں یا حد سے حد ایک ہاتھ زیادہ لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہیں، یہ اجازت اس لیے ہے تاکہ عورتوں کے قدم اور پنڈلیاں چلتے وقت ظاہر نہ ہوجائیں، آج ٹخنوں تک پاجامہ (شلوار) کے بعد لمبے موزوں سے عورتوں کا مذکورہ پردہ حاصل ہوسکتا ہے، لیکن عورتوں کے لباس اصلی شلوار وغیرہ میں اس بات کی احتیاط ہونی چاہیئے کہ وہ سلاتے وقت ٹخنے کے نیچے ناپ کر سلاتے جائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٢١٧) (صحیح )
5340Sunan An Nasaiصحیح

خواتین کس قدر آنچل لٹکائیں؟

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ذُكِرَ، فِي الْإِزَارِ مَا ذُكِرَ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَكَيْفَ بِالنِّسَاءِ ؟ قَالَ: يُرْخِينَ شِبْرًا، قَالَتْ: إِذًا تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ ؟ قَالَ: فَذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب تہبند کے بارے میں جو کچھ کیا اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : پھر عورتیں کیسے کریں ؟ آپ نے فرمایا : ایک بالشت لٹکائیں ، وہ بولیں تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے ! آپ نے فرمایا : پھر ایک ہاتھ اور لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں ۔

It was narrated from Umm Salamah that: When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said what he said about the Izar, Umm Salamah said: "What about women?" He said: "Let it down a hand span." She said: "But then their feet will show." He said: "Then (let it down) a forearms length, but no more than that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5338
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٠ (٤١١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٨٢) ، موطا امام مالک/اللباس ٦ (١٣) ، مسند احمد (٦/٢٩٥) ، سنن الدارمی/الإستئذان ١٦ (٢٦٨٦) (صحیح )
5341Sunan An Nasaiصحیح

خواتین کس قدر آنچل لٹکائیں؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ تَجُرُّ الْمَرْأَةُ مِنْ ذَيْلِهَا ؟ قَالَ: شِبْرًاقَالَتْ: إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا ؟ قَالَ: ذِرَاعٌ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا : عورت اپنا دامن کس قدر لٹکائے ؟ آپ نے فرمایا : ایک بالشت ، وہ بولیں : تب تو کھلا رہ جائے گا ! آپ نے فرمایا : ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں ۔

It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked how much a woman should let her hem drag. He said: A hand span. She said: But then it will uncover her (feet). He said: A forearms length, and no more than that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5339
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٠ (٤١١٧) ، سنن الترمذی/اللباس ٩ (١٧٣١) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ١٣ (٣٥٨٠) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٥٩) ، مسند احمد (٦/٢٩٣، ٣١٥) (صحیح )
5342Sunan An Nasaiصحیح

تمام جسم پر کپڑا لپیٹنے سے متعلق اس طریقہ سے کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں ممنوع ہے۔

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اشتمال صماء سے اور ایک ہی کپڑے میں احتباء سے کہ شرمگاہ پر کچھ نہ ہو منع فرمایا۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ishtimal As-Samma and wrapping oneself in a single garment (that did not cover the private parts).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5340
Notes · وضاحت
١ ؎: اشتمال صماء اہل لغت کے یہاں اشتمال صماء : یہ ہے کہ ایک آدمی کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح سے لپیٹ لے کہ ہاتھ پاؤں کی حرکت مشکل ہو، اس طرح کا تنگ کپڑا پہننے سے آدمی بوقت ضرورت کسی تکلیف دہ چیز سے اپنا دفاع نہیں کرسکتا، اور فقہاء کے نزدیک اشتمال صماء یہ ہے کہ پورے بدن پر صرف ایک کپڑا لپیٹے اور ایک جانب سے ایک کنارہ اٹھا کر گندھے پر رکھ لے، اس طرح کہ ستر (شرمگاہ) کھل جائے، اہل لغت کی تعریف کے مطابق یہ مکروہ ہے، اور فقہاء کی تعریف کے مطابق حرام۔ احتباء یہ ہے کہ آدمی ایک کپڑا پہنے اور گوٹ مار کر اس طرح بیٹھے کہ کپڑا اس کے ستر (شرمگاہ) سے ہٹ جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠ (٣٦٧) ، اللباس ٢١ (٥٨٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٤١٤٠) ، مسند احمد (٣/٦، ١٣، ٤٦) (صحیح )
5343Sunan An Nasaiصحیح

تمام جسم پر کپڑا لپیٹنے سے متعلق اس طریقہ سے کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں ممنوع ہے۔

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کپڑا پورے بدن پر لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں آدمی کے احتباء کرنے سے کہ شرمگاہ کھلی ہوئی ہو، منع فرمایا۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ishtimal As-Samma and wrapping oneself in a single garment (that did not cover the private parts).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5341
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٥١٦ (صحیح )
5344Sunan An Nasaiصحیح

ایک ہی کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت سے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ.

جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پورے بدن پر کپڑا لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں لپیٹ کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔

It was narrated from Jabir that: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ishtimal As-Samma and wrapping oneself in a single garment (that did not cover the private parts).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5342
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٠، ٢١(٢٠٩٩) ، سنن الترمذی/الٔڑدب ٢٠ سنن ابی داود/الٔتدب ٣٦ (٤٨٦٥) ، (الاستئذان ٥٤) (٢٧٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٠٥) ، مسند احمد (٣/٣٤٩) (صحیح )
5345Sunan An Nasaiصحیح

سیاہ رنگ کا عمامہ باندھنا

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِمَامَةً حَرْقَانِيَّةً.

عمرو بن حریث (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو کی پگڑی باندھے دیکھا۔

It was narrated from Jafar bin Amr bin Huraith that his father said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing a black turban.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5343
Notes · وضاحت
١ ؎: حرقانیہ لفظ حرق (جلنا) سے ہے، یعنی : جلنے کے بعد کسی چیز کا جو رنگ ہوتا ہے، وہ سرمئی ہوتا ہے، لیکن مؤلف کے سوا سب کے یہاں، یہاں لفظ سوداء ہے، (خود مؤلف کے یہاں بھی آگے سوداء ہی ہے) اس لحاظ سے دونوں حدیثوں کو ایک ہی باب ( ١٠٩ ) میں لانا چاہیئے تھا، مگر کسی راوی کے یہاں حرقانی ۃ ہونے کی وجہ سے اور رنگ میں ذرا سا فرق ہونے کی وجہ سے مؤلف نے شاید الگ الگ دو باب باندھے ہیں، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٩) ، سنن ابی داود/اللباس ٢٤ (٤٠٧٧) ، سنن الترمذی/الشمائل ١٦(١٠٨) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٢ (٢٨٢١) ، اللباس ١٤ (٣٥٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧١٦) ، مسند احمد (٤/٣٠٧) (صحیح )
5346Sunan An Nasaiصحیح

سیاہ رنگ کا عمامہ باندھنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ.

جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں احرام کے بغیر داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔

It was narrated from Jabir that: On the Day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered (the city) wearing a black turban, and he was not in Ihram.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5344
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٢٨٧٢ (صحیح )
5347Sunan An Nasaiصحیح

سیاہ رنگ کا عمامہ باندھنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن (مکہ میں) داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔

It was narrated that Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) entered (Makkah) on the Day of the Conquest wearing a black turban.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5345
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٨) ، سنن الترمذی/الجہاد ٩ (١٦٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٩٠) ، مسند احمد (٣/٣٨٧) (صحیح )
5348Sunan An Nasaiصحیح

دونوں کندھوں کے درمیان (عمامہ کا) شملہ لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ السَّاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ.

عمرو بن امیہ (رض) کہتے ہیں : گویا میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھ رہا ہوں اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے ہیں، اس کا کنارہ اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان (پیچھے) لٹکا رکھا ہے۔

It was narrated from Jafar bin Amr bin Umayyah that his father said: "It is as if I am looking now at the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Minbar, wearing a black turban, the end of which he has let hang down between his shoulders.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5346
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٣٤٥ (صحیح )
5349Sunan An Nasaiصحیح

تصاویر کے بیان سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ.

ابوطلحہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تصویر (مجسمہ) ۔

It was narrated from Abu Talhah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The angels do not enter a house in which there is a dog or an image.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5347
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٢٨٧ (صحیح )