علی بارقی (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے اس سے کہا : یہ ابن عمر (رض) ہیں، (ان سے پوچھ لو) وہ مسئلہ پوچھنے ان کے پیچھے گئی اور میں بھی اس کے پیچھے گیا تاکہ وہ جو کہیں اسے سنوں، وہ بولی : مجھے حریر نامی ریشم کے بارے میں بتائیے، ابن عمر (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Ali Al-Bariqi said: "A woman came to me to ask a question, and I said to her: There is Ibn Umar. So she went after him to ask him, and I went after her to hear what he would say. She said: Tell me about silk. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5308
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا : آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے، چاندی کے برتن سے، ریشمی زین سے، قسی، استبرق، دیبا اور حریر نامی ریشم کے استعمال سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated that Al-Bara bin Azib said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) enjoined seven things upon us, and forbade seven things for us. He forbade to us gold rings, silver vessels, Al-Mayathir, Al-Qassiyah, Al-Istabraq, Ad-Dibaj, and silk.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5309
انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام (رض) کو کھجلی کی وجہ سے جو انہیں ہوگئی تھی ریشم کی قمیص (پہننے) کی اجازت دی ١ ؎۔
It was narrated from Anas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) granted a concession to Abdur-Rahman bin Awf and Az-Zubair bin Al-Awwam allowing them to wear silken shirts because of scabies that they were suffering from.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5310
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اجازت عذر (کھجلی) کی بنا پر تھی، اس لیے صرف عذر تک کی اجازت رہے گی، عذر ختم ہوجانے کے بعد ایسی قمیص نکال دینی ہوگی، یہ پوری قمیص پہننے کے بارے میں ہے، اور جہاں تک صرف ریشم کے بٹن کی بات ہے تو یہ مردوں کے لیے ہر حالت میں جائز ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ٥٣١٤ )
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمٰن اور زبیر (رض) کو ریشم کی قمیص کی اجازت دی اس مرض یعنی کھجلی کے سبب جو انہیں ہوگئی تھی۔
It was narrated from Anas that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) granted a concession to Abdur-Rahman and Az-Zubair to wear silken shirts because of scabies that they were suffering from.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5311
ابوعثمان النہدی کہتے ہیں کہ ہم عتبہ بن فرقد کے ساتھ تھے کہ عمر (رض) کا فرمان آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ریشم تو وہی پہنتا ہے جس کا اس میں سے آخرت میں کوئی حصہ نہیں مگر اتنا ، ابوعثمان نے انگوٹھے کے پاس والی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے کہا، میں نے دیکھا وہ طیلسان کے کپڑوں کے چند بٹن تھے، یہاں تک کہ میں نے طیلسان کا کپڑا بھی دیکھا۔
It was narrated from Jarir from Sulaiman At-Taimi, from Abu Uthman A-Nahdi, who said: "We were with Utbah bin Farqad when the letter of Umar came, saying that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: No one wears silk except one who has no share of it in the Hereafter, except this much." And Abu Uthman gestured with the two fingers that are next to the thumb. And I saw the two of them pointing to the borders of the Tayalisah, so that I could see the Tayalisah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5312
براء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ لال جوڑا ١ ؎ پہنے ہوئے اور کنگھی کیے ہوئے تھے، میں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، نہ آپ سے پہلے، نہ آپ کے بعد۔
It was narrated that Al-Bara said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing a red Hullah, with his hair combed, and I have never seen anyone before or since, who was more handsome than he.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5314
Notes · وضاحت
١ ؎: متعدد صحیح احادیث میں یہ بات صراحت کے ساتھ آئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مردوں کے لیے لال رنگ کو ناپسند فرمایا ہے، (دیکھئیے حدیث نمبر ٥٣١٨ ، اور بعد کی حدیثیں) آپ کی مذکورہ چادر میں تھوڑی سی لال رنگ کی ملاوٹ تھی، یا لال رنگ سے آپ نے اس کے بعد منع فرمایا تھا۔ (لال رنگ کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں تفصیلی بحث کے لیے دیکھئیے فتح الباری میں اس حدیث کی شرح، کتاب اللباس، باب الثوب الأحمر) ۔
عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیکھا، وہ دو کپڑے زرد رنگ کے پہنے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا : یہ کفار کا لباس ہے، اسے مت پہنو ۔
Abdullah bin Amr narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) saw him wearing two garments dyed with safflower and he said: "This is the clothing of disbelievers; do not wear it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5316
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، وہ پیلے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر نبی اکرم ﷺ غصہ ہوئے اور فرمایا : جاؤ اور اسے اپنے جسم سے اتار دو ۔ وہ بولے : کہاں ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : آگ میں ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that: He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing two garments dyed with safflower. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) got angry and said: "Go and take them off." He said: "Where should I throw them, O Messenger of Allah?" He said: "In the fire.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5317
Notes · وضاحت
١ ؎: چناچہ انہوں نے اسے گھر کے تنور میں ڈال دیا، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے آگ میں ڈال دینے کا حکم دیا، ایسا صرف زجر و توبیخ کے لیے تھا، ورنہ اس نوع کا کپڑا عورتوں کے لیے جائز ہے، نیز بیچ کر کے قیمت کا استعمال بھی جائز ہے۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی سے، ریشمی کپڑوں سے، زعفرانی رنگ کے لباس سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
Ali said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me from wearing gold rings, and from wearing Al-Qassiyah garments, and garments dyed with safflower, and reciting Quran while I am bowing.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5318
خباب بن ارت (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (کفار و مشرکین کی ایذا رسانی کی) شکایت کی، اس وقت آپ چادر کا تکیہ لگائے ١ ؎ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے کہا : کیا آپ ہمارے لیے مدد طلب نہیں کریں گے ؟ کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعائیں نہیں کریں گے ؟۔
It was narrated that Khabbab bin Al-Aratt said: "We complained to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was reclining on his rolled-up Burdah in the shade of the Kabah. We said: Will you not pray for victory for us, will you not pray to Allah for us?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5320
سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت ایک چادر لے کر آئی، جانتے ہو وہ کیسی چادر تھی ؟ لوگوں نے کہا : ہاں، یہی شملہ، اس کی گوٹا کناری بنی ہوئی تھی، وہ بولی : اللہ کے رسول ! میں نے یہ اپنے ہاتھ سے بنی ہے تاکہ آپ کو پہناؤں، رسول اللہ ﷺ نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی، پھر آپ باہر نکلے اور ہمارے پاس آئے اور آپ اسی کا تہبند باندھے ہوئے تھے۔
It was narrated that Sahl bin Sad said: "A woman brought a Burdah" - Sahl said: "Do you know what a Burdah is?" They said: "Yes, it is a cloak with two woven borders" - and she said: O Messenger of Allah, I wove this with my own hands for you to wear. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) took it as he had need of it, then he came out to us and he was wearing it as his Izar (lower garment).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5321
سمرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سفید کپڑے پہنا کرو، اس لیے کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو سفید کفن دیا کرو ۔ (عمرو بن علی کہتے ہیں کہ) یحییٰ نے کہا : میں نے اس روایت کو نہیں لکھا، میں نے کہا : کیوں ؟ کہا : میمون بن ابی شبیب کی وہ روایت جو سمرہ (رض) سے ہے وہی میرے لیے کافی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Samurah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Wear white garments, for they are purer and better, and shroud your dead in them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5322
سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم سفید کپڑوں کو پہنو، زندہ اسے پہنیں اور مردوں کو اسی کا کفن دو کیونکہ یہی کپڑوں میں سب سے عمدہ کپڑا ہے ۔
It was narrated that Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: You should wear white garments; dress your living ones in them, and shroud your dead in them, for they are among the best of your garments.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5323
مسور بن مخرمہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ق بائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ (رض) نے کہا : بیٹے ! مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلو، چناچہ میں ان کے ساتھ گیا، انہوں نے کہا : اندر جاؤ اور آپ کو میرے لیے بلا لاؤ، چناچہ میں نے آپ کو بلا لایا، آپ نکل کر آئے تو آپ انہیں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا : اسے میں نے تمہارے ہی لیے چھپا رکھی تھی ، مخرمہ نے اسے دیکھا اور پہن لی۔
It was narrated that Miswar bin Makhramah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) distributed some Qabas but he did not give anything to Makhramah. Makhramah said: O my son, let us go to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). So I went with him and he said: Go in and call him for me. So I called him, and he came out wearing one of the Qabas. He said: I kept this for you. And he looked at him, and Makhramah put it on.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5324
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرفات میں نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جسے تہبند نہ ملے تو وہ پاجامہ پہن لے، اور جسے چپل نہ ملے وہ خف (چمڑے کے موزے) پہن لے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that: He heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say in Arafat: "Whoever cannot find an Izar (waist wrapper), let him wear trousers, and whoever cannot find sandals, let him wear Khuffs (leather socks).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5325
Notes · وضاحت
١ ؎: جب احرام کی حالت میں پاجامہ پہن سکتے ہیں تو احرام کے علاوہ حالت میں بدرجہ اولیٰ پہن سکتے ہیں یہی باب سے مناسبت ہے۔
عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک شخص تکبر (گھمنڈ) سے اپنا تہبند لٹکاتا تھا، ) تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، چناچہ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جا رہا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "While a man was dragging his Izar out of pride, the earth swallowed him up, and he will continue sinking into it until the Day of Resurrection.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5326
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کسی مجبوری سے خود سے پاجامہ (تہبند) ٹخنے سے نیچے آجاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور تکبر سے کی قید احتراز نہیں ہے، (کہ اگر تکبر سے تہبند لٹکائے تو حرام ہے، ورنہ نہیں) بلکہ یہ لفظ اس لیے آیا ہے کہ عام طور سے تہبند کا لٹکانا پہلے تکبر اور گھمنڈ ہی سے ہوتا تھا، بہت سی روایات میں لفظ خیلاء نہیں ہے، ازار میں وہ سارے کپڑے شامل ہیں جو تہبند (لنگی) کی جگہ پہنے جاتے ہیں، دیکھئیے حدیث نمبر ٥٣٣١ - ٥٣٣٧۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا (ٹخنے سے نیچے) لٹکایا (یا یوں فرمایا : جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا لٹکاتا ہے) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drags his garment out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5327