Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 266 of 289

5290Sunan An Nasaiصحیح

نگینہ کی جگہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَتَّمُ بِخَاتَمٍ مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ طَرَحَهُ وَلَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَنُقِشَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَنْقُشَ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا، وَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے، پھر آپ نے اسے اتار پھینکا اور چاندی کی انگوٹھی پہنی، اور اس پر محمد رسول اللہ نقش کرایا، پھر فرمایا : کسی کے لیے جائز نہیں کہ میری اس انگوٹھی کے نقش پر کچھ نقش کرائے ، آپ نے اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا تھا۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wore a ring of gold, then he discarded it and wore a ring of silver on which were engraved (the words) Muhammad Rasul Allah. Then he said: No one should copy this inscription of mine. And he wore the stone (Fass) toward his palm.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5288
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥١٦٧، ٥٢١٩ (صحیح )
5291Sunan An Nasaiصحیح

انگوٹھی اتارنا اور اس کو نہ پہننا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا فَلَبِسَهُ، قَالَ: شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمَ إِلَيْهِ نَظْرَةٌ، وَإِلَيْكُمْ نَظْرَةٌ، ثُمَّ أَلْقَاهُ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اسے پہنا، اور فرمایا : اس نے آج سے میری توجہ تمہاری طرف سے بانٹ دی ہے، ایک نظر اسے دیکھتا ہوں اور ایک نظر تمہیں ، پھر آپ نے وہ انگوٹھی اتار پھینکی۔

It was narrated from Ibn Abbas that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) took a ring and put it on, then he said: "This distracted me from you all day, shifting my gaze from it to you (and back again)." Then he threw it away.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5289
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٥١٥) ، مسند احمد (١/٣٢٢) (صحیح الإسناد )
5292Sunan An Nasaiصحیح

انگوٹھی اتارنا اور اس کو نہ پہننا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ يَلْبَسُهُ فَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَصَنَعَ النَّاسُ ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، وَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ، وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ، فَرَمَى بِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، آپ اسے پہنتے تھے اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے، تو لوگوں نے بھی (انگوٹھیاں) بنوائیں، پھر آپ منبر پر بیٹھے اور اسے اتار پھینکا اور فرمایا : میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی طرف رکھتا تھا ، پھر آپ نے اسے پھینک دی، پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا ، پھر لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔

It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had a ring made of gold and he used to wear it with the stone (Fass) against his palm, and the people did likewise. Then he sat on the Minbar and said: "I used to wear this ring and put its stone (Fass) on the inside." Then he threw it away and said: "By Allah, I will never wear it again." And the people threw their rings away.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5290
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الٔلیمان ٦ (٦٦٥١) ، صحیح مسلم/اللباس ١١ (٢٠٩١) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٨١) ، مسند احمد (٢/١١٩) (صحیح )
5293Sunan An Nasaiصحیح

انگوٹھی اتارنا اور اس کو نہ پہننا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قِرَاءَةً، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا فَصَنَعُوهُ، فَلَبِسُوهُ، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَرَحَ النَّاسُ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی ١ ؎ صرف ایک دن دیکھی، تو لوگوں نے بھی بنوائی اور اسے پہنا، پھر نبی اکرم ﷺ نے پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔

It was narrated from Anas that: He saw a ring of silver on the hand of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) one day, and the people made and wore similar rings. Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) threw his ring away and the people threw their rings away too.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5291
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ راوی کا وہم ہے، کیونکہ صحیح یہ ہے کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٦ (٥٨٦٨ تعلیقًا) ، صحیح مسلم/اللباس ١٤ (٢٠٩٣) ، سنن ابی داود/الخاتم ٢ (٤٢٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٤٧٥) ، مسند احمد (٣/١٦٠، ٢٠٦، ٢٢٣، ٢٢٥) (صحیح )
5294Sunan An Nasaiصحیح

انگوٹھی اتارنا اور اس کو نہ پہننا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ جَعَلَ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَطَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، پھر آپ ﷺ نے اپنی انگوٹھی اتار دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار دیں، اور رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس سے آپ (خطوط پر) مہر لگاتے تھے اور اس کو پہنتے نہیں تھے۔

It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) put on a ring of gold, and he used to wear its stone (Fass) next to his palm. Then the people started to wear rings of gold too. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) threw it away, and the people threw their rings away too. Then he took a ring of silver and he used to seal letters with it, but he did not wear it.

صحيح دون قوله ولا يلبسه فإنه شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5292
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٢٢١ (صحیح) (اس میں لفظ ” ولا یلبسہ “ شاذ ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے )
5295Sunan An Nasaiصحیح

انگوٹھی اتارنا اور اس کو نہ پہننا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ، فَأَلْقَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا، ثُمَّ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَدْخَلَهُ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ حَتَّى هَلَكَ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا، پھر لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں، تو آپ نے اسے نکال دیا اور فرمایا : میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا ، پھر آپ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اسے اپنے ہاتھ میں پہن لیا، پھر وہ انگوٹھی ابوبکر (رض) کے ہاتھ میں رہی، پھر عمر (رض) کے ہاتھ میں، پھر عثمان (رض) عنہ کے ہاتھ میں یہاں تک کہ وہ اریس نامی کنویں میں ضائع ہوگئی۔

It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) put on a ring of gold and he used to wear its stone (Fass) next to his palm. Then the people started to wear rings too. Then the Messenger of Allah threw it away and said: "I will never wear it again." Then the Messenger of Allah took a ring of silver, and wore it on his hand. Then it was on the hand of Abu Bakr, then on the hand of Umar, then on the hand of Uthman, until it was lost in the well of Aris.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5293
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٢٠٩١) ، (تحفة الٔاشراف : ٨٠٨٩) (صحیح )
5296Sunan An Nasaiصحیح

کس قسم کے کپڑے پہننا بہتر ہیں اور کس قسم کے کپڑے برے ہیں؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْأَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي سَيِّئَ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟، قَالَ: نَعَمْ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ لَكَ مَالٌ فَلْيُرَ عَلَيْكَ.

ابوالاحوص کے والد عوف بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے خستہ حالت میں دیکھا، تو فرمایا : کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال دے رکھا ہے، آپ نے فرمایا : جب تمہارے پاس مال ہو تو اس کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Al-Ahwas that his father said: "I entered upon the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he saw me looking scruffy. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do you have anything? He said: Yes, Allah has given me all kinds of wealth. He said: If you have wealth, let it be seen on you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5294
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : فضول خرچی اور ریاء و نمود کے کے بغیر، اور حیثیت کے مطابق آدمی کے اوپر اچھا لباس ہونا چاہیئے، ہاں۔ اسراف، فضول خرچی اور ریاء و نمود والا لباس ناپسندیدہ اور مکروہ ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٢٢٥ (صحیح )
5297Sunan An Nasaiصحیح

سیرا (لباس) کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذَا لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، قَالَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ مِنْهَا بِحُلَلٍ فَكَسَانِي مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا لِتَكْسُوَهَا، أَوْ لِتَبِيعَهَا، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مِنْ أُمِّهِ مُشْرِكًا.

عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ مسجد کے دروازے کے پاس میں نے ایک ریشمی دھاری والا جوڑا بکتے دیکھا، تو عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ اسے جمعہ کے دن کے لیے اور اس وقت کے لیے جب آپ کے پاس وفود آئیں خرید لیتے (تو اچھا ہوتا) ١ ؎، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ سب وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ پھر اس میں کے کئی جوڑے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو ان میں سے آپ نے ایک جوڑا مجھے دے دیا، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ جوڑا آپ نے مجھے دے دیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہیں یہ پہننے کے لیے نہیں دیا ہے، بلکہ کسی (اور) کو پہنانے یا بیچنے کے لیے دیا ہے ، تو عمر (رض) نے اسے اپنے ایک ماں جائے بھائی کو دے دیا جو مشرک تھا۔

It was narrated from Umar bin Al-Khattab that: He saw a Hullah of Sira silk being offered for sale at the door of the Masjid. I said: "O Messenger of Allah, why dont you buy this and wear it on Fridays, and (when meeting) the delegations when they come to you?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "This is only worn by one who has no share in the Hereafter." After that some (other) Hullahs were brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he gave me one. He said: "O Messenger of Allah, you gave me this when you said what you said about it!" The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I did not give it to you to wear it! Rather I gave it to you to give away or to sell." So Umar gave it to a brother of his son on his mothers side who was an idolater.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5295
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے عمر (رض) کی اس بات پر کوئی نکیر نہیں کی، اس سے ثابت ہوا کہ ان مواقع کے لیے اچھا لباس اختیار کرنے کی بات پر آپ نے صاد کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٨) ، (تحفة الٔاشراف : ١٠٥٥١) (صحیح )
5298Sunan An Nasaiضعیف

عورتوں کو سیرا (نامی لباس) کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ریشم کی دھاری والی قمیص پہنے دیکھا۔

It was narrated that Anas said: "I saw Zainab, the daughter of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), wearing a Qamis of Sira.

شاذ والمحفوظ أم کلثوم مکان زينبصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5296
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ١٩(٣٥٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٠) (شاذ) (صحیح نام ” ام کلثوم “ ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے، اسی وجہ سے یہ روایت شاذ ہے ویسے اس روایت کے معنی میں کوئی ضعف نہیں )
5299Sunan An Nasaiصحیح

عورتوں کو سیرا (نامی لباس) کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَنِي: أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَ سِيَرَاءَ، وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ.

انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو سیراء دھاری دار ریشمی چادر پہنے دیکھا۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: He saw Umm Kalthum, the daughter of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), wearing a Burdah of Sira silk, and Sira is a fabric with stripes of silk

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5297
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٣٠ (٥٨٤٢) ، سنن ابی داود/اللباس ١٤ (٤٠٥٨) ، (تحفة الٔاشراف : ١٥٣٣) (صحیح )
5300Sunan An Nasaiصحیح

عورتوں کو سیرا (نامی لباس) کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، وَأَبُو عَامِرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ الْحَنَفِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا، فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي.

علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سیراء چادر تحفے میں آئی، تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دی، میں نے اسے پہنا، تو میں نے آپ کے چہرے پر غصہ دیکھا، چناچہ آپ نے فرمایا : سنو، میں نے یہ پہننے کے لیے نہیں دی تھی ، پھر آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اس کو اپنے خاندان کی عورتوں میں تقسیم کردیا۔

Ali said: "A Hullah of Sira was given to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he sent it to me. I put it on, then I saw anger in his face. He said: I did not give it to you to wear it. Then he told me to divide it among my womenfolk.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5298
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٧١) ، سنن ابی داود/اللباس ١٠ (٤٠٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٢٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/اللباس ٣٠ (٥٨٤٠) ، مسند احمد ١/١٣٠، ١٣٩) (صحیح )
5301Sunan An Nasaiصحیح

استبرق پہننے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ فَرَأَى حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْتَرِهَا فَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَحِينَ يَقْدَمُ عَلَيْكَ الْوَفْدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ، ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ حُلَلٍ مِنْهَا، فَكَسَا عُمَرَ حُلَّةً، وَكَسَا عَلِيًّا حُلَّةً، وَكَسَا أُسَامَةَ حُلَّةً فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ثُمَّ بَعَثْتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: بِعْهَا، وَاقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ، أَوْ شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ.

عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ عمر (رض) نکلے تو دیکھا بازار میں استبرق کی چادر بک رہی ہے، آپ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! اسے خرید لیجئے اور اسے جمعہ کے دن اور جب کوئی وفد آپ کے پاس آئے تو پہنئے۔ آپ نے فرمایا : یہ تو وہ پہنتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا ، پھر آپ کے پاس تین چادریں لائی گئیں تو آپ نے ایک عمر (رض) کو دی، ایک علی (رض) کو اور ایک اسامہ (رض) کو دی، عمر (رض) نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا، پھر بھی آپ نے اسے میرے پاس بھیجوایا ؟ آپ نے فرمایا : اسے بیچ دو اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرلو یا اسے اپنی عورتوں کے درمیان دوپٹہ بنا کر تقسیم کر دو ۔

Ibn Umar narrated that: Umar went out and saw a Hullah of Al-Istabraq being offered for sale in the marketplace. He went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Messenger of Allah, buy this and wear it on Fridays, and when the delegations come to you." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "This is only worn by the one who has no share (in the Hereafter)." Then three Hullahs (of the same fabric) were brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he gave one to Umar, one to Ali and one to Usamah. He (Umar) came to him and said: "O Messenger of Allah, you said what you said about it, then you sent one to me!" He said: "Sell it and spend the money on your needs, or cut it into pieces for your womenfolk to use as head covers.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5299
Notes · وضاحت
١ ؎: استبرق ایک قسم کا ریشم ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ٦٧٥٩) (صحیح )
5302Sunan An Nasaiصحیح

استبرق کی کیفیت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: مَا الْإِسْتَبْرَقُ ؟ قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ، وَخَشُنَ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: رَأَى عُمَرُ مَعَ رَجُلٍ حُلَّةَ سُنْدُسٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِ هَذِهِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ سالم نے پوچھا : استبرق کیا ہے ؟ میں نے کہا : ایک قسم کا ریشم ہے جو سخت ہوتا ہے، وہ بولے : میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ عمر (رض) نے ایک شخص کے پاس ایک جوڑا سندس کا دیکھا، اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہا : اسے خرید لیجئیے … پھر پوری روایت بیان کی۔

Yahya - bin Ishaq - said: "Salim said: What is Al-Istabraq? I said: A thick type of Ad-Dibaj, and a coarse type of it. He said: I heard Abdullah (bin Umar) say: "Umar saw a Hullah of Sundus with a man, and he brought it to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: Buy this" and he quoted the Hadith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5300
Notes · وضاحت
١ ؎: سندس یہ بھی ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الٔمدب ٦٦ (٦٠٨١) ، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٨) ، (تحفة الٔاشراف : ٧٠٣٣) ، مسند احمد (٢/٤٩٤٩) (صحیح )
5303Sunan An Nasaiصحیح

دیبا پہننے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَأَبُو فَرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ، فَأَتَاهُ دُهْقَانٌ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَحَذَفَهُ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِمْ مِمَّا صَنَعَ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي نُهِيتُهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ، وَلَا الْحَرِيرَ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ.

عبداللہ بن عکیم سے روایت ہے کہ حذیفہ بن الیمان (رض) نے پانی مانگا تو ایک اعرابی (دیہاتی) چاندی کے برتن میں پانی لے آیا، حذیفہ (رض) نے اسے پھینک دیا، پھر جو کیا اس کے لیے لوگوں سے معذرت کی اور کہا : مجھے اس سے روکا گیا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیبا نامی ریشم نہ پہنو اور نہ ہی حریر نامی ریشم، کیونکہ یہ ان (کفار و مشرکین) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں ۔

It was narrated that Abdullah bin Ukaim said: "Hudhaifah asked for some water and the chief brought water in a silver vessel. He threw it aside, then he apologized to them for what he had done, and said: I told him before not to do that. I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Do not drink from vessels of gold and silver, and do not wear Ad-Dibaj or silk. They are for them in this world, and for you in the Hereafter.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5301
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٩ (٥٤٢٦) ، الأشربة ٢٧ (٥٦٣٢) ، ٢٨ (٥٦٣٣) ، اللباس ٢٥ (٥٨٣١) ، ٢٧ (٥٨٣٧) ، صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٧) ، سنن ابی داود/الأشربة ١٧ (٣٧٢٣) ، سنن الترمذی/الأشربة ١٠ (١٨٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٧ (٣٤١٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٦٨، ٣٣٧٣) ، مسند احمد (٥/٣٨٥، ٣٩، ٣٩٦، ٤٠٠، ٤٠٨) (صحیح )
5304Sunan An Nasaiصحیح

دیبا پہننا جو کہ سونے کی تار سے بنا گیا ہو

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّ سَعْدًا كَانَ أَعْظَمَ النَّاسِ وَأَطْوَلَهُ، ثُمَّ بَكَى فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى أُكَيْدِرٍ صَاحِبِ دُومَةَ بَعْثًا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا الذَّهَبُ، فَلَبِسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَقَعَدَ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ وَنَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَهَا بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ، لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ.

واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک (رض) جب مدینے آئے، تو میں ان کے پاس گیا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں، وہ بولے : سعد تو بہت عظیم شخص تھے اور لوگوں میں سب سے لمبے تھے، پھر وہ رو پڑے اور بہت روئے، پھر بولے : رسول اللہ ﷺ نے دومۃ کے بادشاہ اکیدر کے پاس ایک وفد بھیجا، تو اس نے آپ کے پاس دیبا کا ایک جبہ بھیجا، جس میں سونے کی کاریگری تھی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے پہنا، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور بیٹھ گئے، پھر کچھ کہے بغیر اتر گئے، لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھونے لگے، تو آپ نے فرمایا : کیا تمہیں اس پر تعجب ہے ؟ سعد کے رومال جنت میں اس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جسے تم دیکھ رہے ہو ١ ؎۔

It was narrated that Waqid bin Amr bin Sad bin Muadh said: "I entered upon Anas bin Malik (RA) when he came to Al-Madinah and greeted him with Salam. He said: Where are you from? I said: I am Waqid bin Amr bin Sad bin Muadh. He said: Sad was the greatest and most virtuous of people. Then he wept a great deal, then he said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent a delegation to Ukaidir the ruler of Dumah, who sent him a Jubbah made of Ad-Dibaj interwoven with gold. The Messenger of Allah put it on, then he stood on the Minbar and sat, without speaking, then he came down and the people started touching it with their hands. He said: Are you admiring this? The handkerchiefs of Sad in Paradise are more beautiful than what you see.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5302
Notes · وضاحت
١ ؎: دیبا نامی ایسا ریشمی کپڑا پہننا منسوخ ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٣ (١٧٢٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الہبة ٢٨ (٢٦١٥) ، وبدء الخلق ٨ (٣٢٤٨) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٤ (٢٤٦٩) ، مسند احمد (٢/١٢١) (صحیح )
5305Sunan An Nasaiصحیح

مذکورہ بالا شے دیباج کے منسوخ ہونے سے متعلق

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ، ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام. فَجَاءَ عُمَرُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ. قَالَ: إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ، إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ لِتَبِيعَهُ، فَبَاعَهُ عُمَرُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دیبا کی ایک قباء پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی، پھر تھوڑی دیر بعد اسے اتار دیا اور اسے عمر (رض) کے پاس بھیجا، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ نے اسے بہت جلد اتار دی، فرمایا : مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کے استعمال سے روک دیا ہے ، اتنے میں عمر (رض) روتے ہوئے آئے اور بولے : اللہ کے رسول ! ایک چیز آپ نے ناپسند فرمائی اور وہ مجھے دے دی ؟ فرمایا : میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، میں نے تمہیں بیچ دینے کے لیے دی ہے ، چناچہ عمر (رض) نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ دیا۔

Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) put on a Qaba of Ad-Dibaj that had been given to him, but he soon took it off and sent it to Umar. It was said to him: How soon you took it off, O Messenger of Allah. He said: Jibril, peace be upon him, prohibited me from wearing it. Then Umar came weeping and said: O Messenger of Allah, you disliked something but you gave it to me. He said: I did not give it to you to wear it, rather I gave it to you to sell it. So Umar sold it for two thousand Dirhams.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5303
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٧٠) ، (تحفة الٔاشراف : ٢٨٢٥) ، مسند احمد (٣/٣٨٣) (صحیح )
5306Sunan An Nasaiصحیح

ریشم پہننے کی سزا اور وعید اور جو شخص اس کو دنیا میں پہنے گا آخرت میں نہیں پہنے گا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، وَيَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ.

ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر (رض) کو سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے : محمد ﷺ نے فرمایا : جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا ١ ؎۔

Abdullah bin Az-Zubair said, while he was on the Minbar delivering a Khutbah: "Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever wears silk in this world, will not wear it in the Hereafter.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5304
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مردوں کے لیے ہے۔ عورتوں کے لیے ریشم پہننا جائز ہے، جیسا کہ حدیث نمبر ١٥٥١ میں گزرا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٢٥ (٥٨٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٥٧) ، مسند احمد (٤/٥) (صحیح )
5307Sunan An Nasaiصحیح

ریشم پہننے کی سزا اور وعید اور جو شخص اس کو دنیا میں پہنے گا آخرت میں نہیں پہنے گا

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ.

عبداللہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ تم اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ اس لیے کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا ١ ؎۔

Khalifah said: "I heard Abdullah bin Az-Zubair say: Do not let your womenfolk wear silk, for I heard Umar bin Al-Khattab say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever wears it in this world will not wear it in the Hereafter.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5305
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عبداللہ بن زبیر (رض) کی اپنی سمجھ ہے، انہوں نے اس فرمان کو عام سمجھا حالانکہ یہ مردوں کے لیے ہے، ممکن ہے ان کو وہ حدیث رسول ﷺ نہیں پہنچ سکی ہو جس میں صراحت ہے کہ ریشم امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہے ، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٢٥ (٥٨٣٤) ، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٤٨٣) ، مسند احمد (١/٤٦) (صحیح )
5308Sunan An Nasaiصحیح

ریشم پہننے کی سزا اور وعید اور جو شخص اس کو دنیا میں پہنے گا آخرت میں نہیں پہنے گا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيعِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ: عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ؟ فَقَالَ: سَلْ عَائِشَةَ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَلْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ.

عمران بن حطان سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے ریشم پہننے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ لو، چناچہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو وہ بولیں : عبداللہ بن عمر (رض) سے پوچھ لو، میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا تو انہوں نے کہا : مجھ سے ابوحفص (عمر) (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے دنیا میں ریشم پہنا، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ١ ؎۔

Imran bin Hittan narrated that : He asked Abdullah bin Abbas about wearing silk. He said: "Ask Aishah (RA)." "So I asked Aishah (RA) and she said: Ask Abdullah bin Umar. So I asked Ibn Umar and he said: Abu Hafs told me, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever wears silk in this world will have no share in the Hereafter.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5306
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بطور زجر و تہدید ہے، جو صرف مردوں کے لیے حرام ہیں، البتہ سونے چاندی کے برتن، اور ریشمی زین دونوں کے لیے حرام ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٢٥ (٥٨٣٥) ، (تحفة الٔاشراف : ١٠٥٤٨) (صحیح )
5309Sunan An Nasaiصحیح

ریشم پہننے کی سزا اور وعید اور جو شخص اس کو دنیا میں پہنے گا آخرت میں نہیں پہنے گا

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَبِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ.

عبداللہ بن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حریر نامی ریشم تو وہی پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ۔

It was narrated from Ibn Umar, : That the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Silk is only worn by one who has no share.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5307
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ٦٦٥٦، ٦٦٥٩) (صحیح )