ابوطلحہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ ایسے گھر میں جس میں مورتیاں (مجسمے) ۔
It was narrated that Abu Talhah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The angels do not enter a house in which there is a dog or an image of an animate being.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5348
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ ابوطلحہ انصاری (رض) کے پاس عیادت کے لیے گئے، ان کے پاس انہیں سہل بن حنیف مل گئے۔ تو ابوطلحہ (رض) نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ ان کے نیچے سے بچھونا نکالے۔ ان سے سہل نے کہا : اسے کیوں نکال رہے ہیں ؟ وہ بولے ؟ اس لیے کہ اس میں تصویریں (مجسمے) ہیں اور اسی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا وہ فرمان ہے جو تمہارے علم میں ہے، وہ بولے : کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا : اگر کپڑے میں نقش ہوں تو کوئی حرج نہیں ، انہوں نے کہا : کیوں نہیں، لیکن مجھے یہی بھلا معلوم ہوتا ہے (کہ میں نقش والی چادر بھی نہ رکھوں) ١ ؎۔
It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah that: He entered upon Abu Talhah Al-Ansari to visit him (when he was sick), and he found Sahl bin Hunaif there. Abu Talhah told someone to remove a blanket from beneath him, and Sahl said to him: "Why do you want to remove it?" He said: "Because there are images on it, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said what you know concerning them." He said: "Did he not say: Except for patterns on fabrics?" He said: "Yes, but this makes me feel more comfortable.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5349
Notes · وضاحت
١ ؎: تصویر کے سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ ذی روح (جاندار) کی تصویر حرام ہے، خواہ یہ تصاویر جسمانی ہیئت (مجسموں کی شکل) میں ہوں یا نقش و نگار کی صورت میں، إلا یہ کہ ان کے اجزاء متفرق ہوں، البتہ گڑیوں کی شکل کو علماء نے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
ابوطلحہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر (مجسمہ) ہو ، بسر کہتے ہیں : پھر زید بیمار پڑگئے تو ہم نے ان کی عیادت کی، اچانک دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ ہے جس میں تصویر ہے، میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا : کیا زید نے ہمیں تصویر کے بارے میں پہلے روز حدیث نہیں سنائی تھی ؟ کہا : عبیداللہ نے کہا : کیا تم نے انہیں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : کپڑے کے نقش کے سوا۔
It was narrated from Abu Talhah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The angels do not enter any house in which there is an image." Busr said: "Then Zaid fell sick and we went to visit him, and on his door there was a curtain on which there was an image. I said to Ubaidullah Al-Khawlani: Didnt Zaid tell us about images yesterday? Ubaidullah said: Didnt you hear him say: Except for patterns on fabrics?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5350
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا اور نبی اکرم ﷺ کو مدعو کیا، چناچہ آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے تو ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ١ ؎، تو آپ باہر نکل گئے اور فرمایا : فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جن میں تصویریں ہوں ۔
It was narrated that Ali said: "I made some food and invited the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) (to come and eat). He came and entered, then he saw a curtain on which there were images, so he went out and said: The Angels do not enter a house in which there are images.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5351
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ باہر نکلے پھر اندر چلے گئے، میں نے وہاں ایک باریک رنگین کپڑا لٹکا رکھا تھا جس میں پر دار گھوڑے بنے ہوئے تھے، جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا : اسے نکال دو ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out, then he came in, and I had hung up a curtain on which there were (images of) horses with wings. When he saw it, he said: Get rid of it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5352
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر چڑیا کی شکل بنی ہوئی تھی جب کوئی آنے والا آتا تو وہ ٹھیک سامنے پڑتا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! اسے بدل دو ، اس لیے کہ جب میں اندر آتا ہوں اور اسے دیکھتا ہوں تو دنیا یاد آتی ہے ، ہمارے پاس ایک چادر تھی جس میں نقش و نگار تھے، ہم اسے استعمال کیا کرتے تھے۔ لیکن اسے ہم نے کاٹا نہیں ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "We had a curtain on which there were images of birds, at the entrance to the house. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: O Aishah, remove it, for ever time I come in and see it, I remember this world." She said: "We had a plush wrap, with a border on it, that we would wear, and it was not cut off.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5353
Notes · وضاحت
١ ؎: بقول امام نووی : یہ تصویروں کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، اس لیے آپ نے حرمت کی بجائے ذکرِ دنیا کا حوالہ دیا اور ہٹوا دیا، یا یہ غیر جاندار کے نقش و نگار تھے جنہیں دنیاوی اسراف و تبذیر کی علامت ہونے کے سبب آپ نے ہٹوا دیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر میں ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ١ ؎، چناچہ میں نے اسے گھر کے ایک روشندان میں لٹکا دیا، اور رسول اللہ ﷺ اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر آپ نے فرمایا : عائشہ ! اسے ہٹا دو ، پھر میں نے اسے نکال دیا اور اس کے تکیے بنا دیے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "In my house there was a cloth on which were images, which I put in a niche of the house, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray facing it. Then he said: O Aishah, take it away from me. So I took it down and made it into pillows.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5354
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بھی تصویروں کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، یا یہ بھی غیر جاندار چیزوں کے نقش و نگار تھے، لیکن دیواروں یا روشن دانوں پر پردہ اسراف وتبذیر ہے جس کی وجہ سے آپ نے ہٹوا کر بچھونے بنوا دیئے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکایا جس میں تصویریں تھیں، پھر رسول اللہ ﷺ اندر آئے تو اسے نکال دیا، چناچہ میں نے اسے کاٹ کر دو تکیے بنا دیے۔ اس وقت مجلس میں بیٹھے ایک شخص نے جسے ربیعہ بن عطا کہا جاتا ہے : نے کہا میں نے ابو محمد، یعنی قاسم کو، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے سنا، وہ بولیں : رسول اللہ ﷺ ان پر ٹیک لگاتے تھے۔
It was narrated from Aishah (RA) that: She put up a curtain on which there were images, then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came in and took it down, so she cut it up (and made) two pillows. A man in the gathering there whose name was Rabiah bin Ata said: "I heard Abu Muhammad - meaning Al-Qasim - narrate that Aishah (RA) said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recline on them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5355
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر سے آئے، میں نے ایک روشندان میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، جس میں تصویریں تھیں، چناچہ آپ نے اسے اتار دیا اور فرمایا : قیامت کے روز سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came from a journey, and I had hung a curtain on which there were images over a niche. He took it down and said: The people who will be most severely punished on the Day of Resurrection will be those who try to match the creation of Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5356
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ آئے، میں نے ایک پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر تصاویر تھیں، چناچہ جب آپ نے اسے دیکھا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے پھاڑ دیا اور فرمایا : قیامت کے روز سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں ۔
It was narrated that Aishah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered upon me, and I had put up a curtain on which there were images. When he saw it, his face changed color, then he tore it down with his hand and said: The people who will be most severely punished on the Day of Resurrection will be those who try to imitate the creation of Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5357
نضر بن انس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس اہل عراق میں سے ایک شخص آیا اور بولا : میں یہ تصویریں بناتا ہوں، آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : قریب آؤ۔ میں نے محمد ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے دنیا میں کوئی صورت بنائی قیامت کے روز اسے حکم ہوگا کہ اس میں روح پھونکے، حالانکہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا ۔
It was narrated that An-Nadr bin Anas said: "I was sitting with Ibn Abbas when a man from among the people of Al-Iraq came to him and said: I make these images; what do you say concerning them? He said: Come closer, come closer. I heard Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever makes an image in this world will be commanded on the Day of Resurrection to breathe a soul into it, and he will not be able to do so.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5358
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی تصویر بنائی، تو اسے عذاب ہوگا یہاں تک کہ وہ اس میں روح ڈال دے، اور وہ اس میں روح نہیں ڈال سکے گا ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever makes an image will be punished until (he is commanded) to breathe a soul into it, and he will not be able to do so.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5359
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی تصویر بنائی، قیامت کے روز اسے حکم ہوگا کہ وہ اس میں روح ڈالے اور وہ اس میں روح نہیں ڈال سکے گا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever makes an image will be commanded on the Day of Resurrection to breathe the soul into it but he will not be able to do so.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5360
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ وہ لوگ جو تصویریں بناتے ہیں، قیامت کے روز عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان سے کہا جائے گا : زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا ۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The makers of these images will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them: Breathe life into that which you have created.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5361
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ یہ تصویریں بنانے والے قیامت کے دن عذاب پائیں گے اور ان سے کہا جائے گا : زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا ۔
It was narrated from Aishah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The makers of these images will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them: Bring to life that which you have created.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5362
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو مخلوق کی تصویر بنانے میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
It was narrated that Aishah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "The people who will be most severely punished on the Day of Resurrection will be those who try to match the creation of Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5363
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب والے تصویر بنانے والے لوگ ہیں ۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Among the people who will be most severely punished on the Day of Resurrection will be the image-makers.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5364
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت طلب کی، تو آپ نے فرمایا : اندر آئیے، وہ بولے : میں کیسے اندر آؤں ؟ آپ کے گھر میں تو ایسا پردہ لٹکا ہے جس میں تصویریں ہیں، لہٰذا یا تو آپ ان کے سر کاٹ دیجئیے، یا پھر ان کا بچھونا بنا دیجئیے تاکہ وہ روندا جائے۔ کیونکہ ہم فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہو۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "Jibril, peace be upon him, asked permission to enter upon the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Come in. He said: How can I come in when there is a curtain in your house on which there are images? You should either cut off their heads or make it into a rug to be stepped on, for we Angels do not enter a house in which there are images.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5365
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری اوڑھنے کی چادر میں نماز نہیں پڑھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would not pray in our blankets.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5366
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا آپ احتیاط کے طور پر کرتے تھے، کیونکہ اس بات کا امکان تھا کہ کوئی ایسی چیز ہو جو آپ کے لیے باعث تکلیف ہو، بہرحال اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ آپ کے اہل خانہ لحاف استعمال کرتے تھے۔