Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 270 of 289

5370Sunan An Nasaiصحیح

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جوتے کیسے تھے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: كَانَ لِنَعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَالَانِ.

عمرو بن اوس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے جوتوں کے دو تسمے تھے۔

It was narrated that Amr bin Aws said: "The sandals of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had two straps.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5368
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩١٥٩) (صحیح )
5371Sunan An Nasaiصحیح

ایک جوتہ پہن کر چلنا ممنوع ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَهَا.

ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرا لے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If the strap of the sandal of one of you breaks, let him not walk in one sandal until he fixes it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5369
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا کرنے سے آپ نے اس لیے منع کیا تاکہ ایک پاؤں اونچا اور دوسرا نیچا نہ رہے کیونکہ ایسی صورت میں پھسلنے کا خطرہ ہے، ساتھ ہی دوسروں کی نگاہ میں برا بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٤٥٩) ، مسند احمد (٢/ ٥٢٨) (صحیح )
5372Sunan An Nasaiصحیح

ایک جوتہ پہن کر چلنا ممنوع ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى جَبْهَتِهِ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا.

ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو دیکھا وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ مار رہے تھے، اور کہہ رہے تھے : عراق والو ! تم کہتے ہو کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ گھڑتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرا لے ۔

It was narrated that Abu Razin said: "I saw Abu Hurairah clap his hand to his forehead and say: O people of Al-Iraq, you claim that I tell lies about the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). I bear witness that I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: If the strap of the sandal of one of you breaks, let him not walk in the other until he fixes it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5370
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١٩ (٢٠٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٠٨) ، مسند احمد (٢/٤٢٤٢٤، ٤٨٠) (صحیح )
5373Sunan An Nasaiصحیح

کھالوں پر بیٹھنا اور لیٹنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَر، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ أَبُو مُطَرِّفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَجَعَ عَلَى نَطْعٍ فَعَرِقَ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى عَرَقِهِ فَنَشَّفَتْهُ فَجَعَلَتْهُ فِي قَارُورَةٍ، فَرَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟، قَالَتْ: أَجْعَلُ عَرَقَكَ فِي طِيبِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک کھال پر لیٹے تو آپ کو پسینہ آگیا، ام سلیم رضی اللہ عنہا اٹھیں اور پسینہ اکٹھا کر کے ایک شیشی میں بھرنے لگیں، نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا : ام سلیم ! یہ تم کیا کر رہی ہو ؟ وہ بولیں : میں آپ کے پسینے کو عطر میں ملاؤں گی، یہ سن کر نبی اکرم ﷺ ہنسنے لگے ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) lay down on a leather mat and sweated. Umm Sulaim got up and collected his sweat and put it in a bottle. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw her and said: "What are you doing O Umm Sulaim?" She said: "I am putting your sweat in my perfume." And the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) smiled.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5371
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نبی اکرم ﷺ کے پسینے کے ساتھ خاص تھا، چناچہ سلف میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی نے کسی کا پسینہ محفوظ رکھا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٦٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الاستئذان ٤١ (٦٢٨١) ، صحیح مسلم/الفضائل ٢٢ (٢٣٣١) ، مسند احمد (٣/١٣٦، ٢٢١) (صحیح )
5374Sunan An Nasaiصحیح

خدمت کے لئے ملازم رکھنا اور سواری رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ طَعِينٌ، فَأَتَاهُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ، فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا يُبْكِيكَ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ، أَمْ عَلَى الدُّنْيَا فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا ؟، قَالَ: كُلٌّ لَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُهُ، قَالَ: إِنَّهُ لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالًا تُقْسَمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَدْرَكْتُ فَجَمَعْتُ.

ابو وائل سے روایت ہے کہ سمرہ بن سہم جو ابو وائل کے قبیلے کے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے ابوہاشم بن عتبہ (رض) کے یہاں ٹھہرا، وہ طاعون میں مبتلا تھے، چناچہ ان کی عیادت کے لیے معاویہ (رض) آئے، تو ابوہاشم رونے لگے، معاویہ (رض) نے کہا : کیوں رو رہے ہو ؟ کیا کسی تکلیف کی وجہ سے رو رہے ہو یا دنیا کے لیے ؟ دنیا کی راحت تو اب گئی، انہوں نے کہا : ایسی کوئی بات نہیں ہے، دراصل مجھے رسول اللہ ﷺ کا ایک عہد یاد آگیا جو آپ نے مجھ سے لیا تھا، میں چاہتا تھا کہ میں اس کی پیروی کروں، آپ نے فرمایا : تیرے سامنے ایسے اموال آئیں گے جو لوگوں کے درمیان تقسیم کیے جائیں گے، لیکن تمہارے لیے اس میں سے صرف ایک خادم اور اللہ کی راہ کے لیے ایک سواری کافی ہے، لیکن میں نے مال پایا پھر اسے جمع کیا ۔

It was narrated that Samurah bin Sahm said: "I came to Abu Hashim bin Utbah when he was suffering the plague, and Muawiyah came to visit him. Abu Hashim wept. Muawiyah said to him: Why are you weeping? Is it because of some pain that is hurting you, or is it for this world, the best of which has gone? He said: Neither, but the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gave me some advice, which I wish that I had followed. He said: "Perhaps you will live to see wealth that will be distributed among the people when all that would suffice you of that would be a servant and a mount to ride in the cause of Allah." I lived to see that, and I accumulated (wealth).

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5372
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزہد ١٩ (٢٣٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ١ (٤١٠٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٧٨) ، مسند احمد (٣/٤٤٣، ٤٤٤، ٥/٢٩٠) (حسن )
5375Sunan An Nasaiصحیح

تلوار کے زیور سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ: كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ.

ابوامامہ بن سہل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔

It was narrated that Abu Umamah bin Sahl said: "The pommel of the sword of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was of silver.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5373
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٤٢) (صحیح )
5376Sunan An Nasaiصحیح

تلوار کے زیور سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، وَجَرِيرٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ نَعْلُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ، وَقَبِيعَةُ سَيْفِهِ فِضَّةٌ، وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ حِلَقُ فِضَّةٍ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے نیام کا نچلا حصہ چاندی کا تھا، آپ کی تلوار کا دستہ بھی چاندی کا تھا، اور ان کے درمیان میں چاندی کے حلقے تھے۔

It was narrated that Anas said: "The metallic end of the scabbard of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was of silver, the pommel of his sword was silver, and in between were rings of silver.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5374
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٧١ (٢٥٨٣) ، سنن الترمذی/الجھاد ١٦ (١٦٩١) ، والشمائل ١٣ (٩٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٦، ١٤٢٥، ١٨٦٨٨) (صحیح )
5377Sunan An Nasaiصحیح

تلوار کے زیور سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ.

سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔

It was narrated that Saeed bin Abi Al-Hasan said: "The pommel of the sword of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was of silver.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5375
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ بھی صحیح ہے )
5378Sunan An Nasaiصحیح

لال رنگ کے زین پوش کے استعمال کی ممانعت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ: اللَّهُمَّ سَدِّدْنِي وَاهْدِنِي، وَنَهَانِي عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْمَيَاثِرِ، وَالْمَيَاثِرُ: قَسِّيٌّ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى الرَّحْلِ، كَالْقَطَائِفِ مِنَ الْأُرْجُوَانِ.

علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کہو : اللہم سددني واهدني اے اللہ مجھے درست رکھ اور ہدایت عطا کر اور آپ نے مجھے میاثر پر بیٹھنے سے منع فرمایا، میاثر ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے، جسے عورتیں اپنے شوہروں کے لیے پالان پر ڈالنے کے لیے بناتی تھیں۔ جیسے گلابی رنگ کی چھوردار چادریں۔

It was narrated that Ali said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: "Say: O Allah, make me steadfast and guide me." And he forbade me to sit on Al-Mayathir." Al-Mayathir: Qassi which the women used to put on the saddles for their husbands, such as red cushions.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5376
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٢١٤ (صحیح )
5379Sunan An Nasaiصحیح

کرسیوں پر بیٹھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ ؟،فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خِلْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا، فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّهَا.

ابورفاعہ (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، آپ خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک اجنبی شخص اپنے دین کے بارے میں معلومات کرنے آیا ہے، اسے نہیں معلوم کہ اس کا دین کیا ہے ؟ چناچہ رسول اللہ ﷺ متوجہ ہوئے اور خطبہ روک دیا یہاں تک کہ آپ مجھ تک پہنچ گئے، پھر ایک کرسی لائی گئی، میرا خیال ہے اس کے پائے لوہے کے تھے، رسول اللہ ﷺ اس پر بیٹھے اور مجھے سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھایا تھا، پھر آپ لوٹ کر آئے اور اپنا خطبہ مکمل کیا۔

It was narrated that Humaid bin Hilal said: "Abu Rifaah said: I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) while he was delivering a Khutbah, and said: "O Messenger of Allah, a stranger has come to ask about his religion, for he does not know what his religion is." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stopped delivering his Khutbah and turned to me. A chair was brought, and I think its legs were of iron. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sat down on it and started to teach me what Allah has taught him, then he went and completed his Khutbah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5377
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٥ (الصلاة ١٨٠) (٨٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٥) ، مسند احمد (٥/٨٠) (صحیح )
5380Sunan An Nasaiصحیح

لال رنگ کے خیموں کے استعمال سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ وَعِنْدَهُ أُنَاسٌ يَسِيرُ، فَجَاءَهُ بِلَالٌ، فَأَذَّنَ فَجَعَلَ يُتْبِعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا.

ابوحجیفہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ بطحاء میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ایک لال خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تھوڑے سے لوگ بیٹھے تھے، اتنے میں آپ کے پاس بلال (رض) آئے اور انہوں نے اذان دینی شروع کی، تو اپنا منہ ادھر ادھر کرنے لگے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Juhaifah said: "We were with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in Al-Batha and he was in a red tent, and some people were with him, and he was about to set out. Bilal came and called the Adhan, turning this way and that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5378
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے وقت اپنا رخ دائیں اور بائیں کرنے لگے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٣) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤ (٥٢٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠ (١٩٧ مطولا) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٠٦) ، مسند احمد (٤/٣٠٨) (صحیح )
5381Sunan An Nasaiصحیح

عادل حاکم کی تعریف اور منصف حاکم کی فضیلت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو. ح، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، عَلَى يَمِينِ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا. قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک انصاف کرنے والے لوگ رحمان (اللہ) کے دائیں نور کے منبر پر ہوں گے ١ ؎، یعنی وہ لوگ جو اپنے فیصلوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ان کے تابع ہیں انصاف کرتے ہیں۔ مدد بن آدم کی روایت میں ہے : اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr bin Al-As that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Those who are just and fair will be with Allah, Most High, on thrones of light, at the right hand of the Most Merciful, those who are just in their rulings and in their dealings with their families and those of whom they are in charge." Muhammad (one of the narrators) said in his Hadith: "And both of His hands are right hands.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5379
Notes · وضاحت
١ ؎: حقیقت میں انہیں نور کے منبر ملیں گے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں بلند درجات بھی نصیب ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الٕامارة ٥(١٨٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٩٨) ، مسند احمد (٢/١٦٠) (صحیح )
5382Sunan An Nasaiصحیح

انصاف کرنے والا امام

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ خَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا. فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سات لوگ ہیں اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن (عرش کے) سائے میں رکھے گا، جس دن کہ اس کے سوا کسی کا سایہ نہ ہوگا : انصاف کرنے والا حاکم، وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بڑھتا جائے، وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، دو ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں دوست ہوں، ایسا شخص جسے رتبے والی خوبصورت عورت (اپنے ساتھ غلط کام کرنے کے لیے) بلائے تو وہ کہہ دے : مجھے اللہ تعالیٰ کا ڈر لگ رہا ہے، ایک ایسا شخص جو صدقہ کرے تو اس طرح چھپا کر کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا کیا ہے ؟ ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are seven whom Allah, the Mighty and Sublime, will shade with His shade on the Day of Resurrection, the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a young man who grows up worshipping Allah, the Mighty and Sublime; a man who remembers Allah when he is alone and his eyes flow (with tears); a man whose heart is attached to the Masjid; two men who love each other for the sake of Allah, the Mighty and Sublime; a man who is called (to commit sin) by a woman of high status and beauty, but he says: I fear Allah; and a man who gives charity and conceals it, so that his left hand does not know what his right hand is doing.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5380
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٣٦ (٦٦٠) ، الزکاة ١٦ (١٤٢٣) ، الرقاق ٢٤ (٦٤٧٩) ، الحدود ١٩ (٦٨٠٦) ، صحیح مسلم/الزکاة ٣٠ (١٠٣١) ، سنن الترمذی/الزہد ٥٣ (٢٣٩١) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٦٤) ، موطا امام مالک/الشعر ٥ (١٤) ، مسند احمد (٢/٤٣٩) (صحیح )
5383Sunan An Nasaiصحیح

اگر کوئی شخص صحیح فیصلہ کرے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب حاکم فیصلہ (کا ارادہ) کرے اور اجتہاد سے کام لے پھر وہ صحیح فیصلہ تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دو اجر ہیں، اور اگر اجتہاد کرنے میں غلطی کر بیٹھے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If a judge passes judgment and strives to reach the right conclusion and gets it right, he will have two rewards; if he strives to reach the right conclusion but gets it wrong, he will still have one reward.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5381
Notes · وضاحت
١ ؎: حاکم مراد وہ حاکم ہے جو عالم ہونے کے ساتھ ساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، قدیم و جدید سارے علما مجتہدین کے اجتہادات کا بھی یہی حکم ہے۔ کسی غلط فیصلہ یا اجتہاد کا گناہ حاکم یا عالم یا امام پر تو نہیں ہوگا، مگر جان بوجھ کر کسی امام یا عالم کے کسی فتوے پر اڑے رہ جانے والوں کو ضرور گناہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتصام ٢١ (٧٣٥٢) ، صحیح مسلم/الأقضیة (١٧١٦) ، سنن ابی داود/الأقضیة ٢(٣٥٧٤) ، سنن الترمذی/الاحکام ٢ (١٣٢٦) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣ (٢٣١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٤٨) ، مسند احمد (٤/١٩٨، ٢٠٤) (صحیح )
5384Sunan An Nasaiصحیح

جو کوئی قاضی بننے کی آرزو کرے اس کو کبھی قاضی نہ بنایا جائے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَتَانِي نَاسٌ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَقَالُوا: اذْهَبْ مَعَنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ لَنَا حَاجَةً فَذَهَبْتُ مَعَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعِنْ بِنَا فِي عَمَلِكَ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَاعْتَذَرْتُ مِمَّا قَالُوا، وَأَخْبَرْتُ أَنِّي لَا أَدْرِي مَا حَاجَتُهُمْ فَصَدَّقَنِي، وَعَذَرَنِي، فَقَالَ: إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ فِي عَمَلِنَا بِمَنْ سَأَلَنَا.

ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میرے پاس قبیلہ اشعر کے کچھ لوگوں نے آ کر کہا : ہمیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلئے، ہمیں کچھ کام ہے، چناچہ میں انہیں لے کر گیا، ان لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم سے اپنا کوئی کام لیجئیے ١ ؎ میں نے آپ سے ان کی اس بات کی معذرت چاہی اور بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان کی غرض کیا تھی، چناچہ آپ نے میری بات کا یقین کیا اور معذرت قبول فرما لی اور فرمایا : ہم اپنے کام (عہدے) میں ایسے لوگوں کو نہیں لگاتے جو ہم سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Musa said: "Some people from among the Asharis came to me and said: Go with us to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), for we have something to ask him. So I went with them, and they said: O Messenger of Allah, use us to do your work." Abu Musa said: "I apologized for what they said, and I told him that I did not know what they were going to ask. He believed me and excused me, and said: We do not appoint for our work anyone who asks for that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5382
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہمیں کوئی عہدہ دیجئیے۔ ٢ ؎: یعنی جو شخص منصب و عہدے کا طالب ہو ہم اسے یہ چیز نہیں دیتے کیونکہ اگر اسے صحیح طور پر انجام نہ دے سکا تو ایسے شخص کی صرف دنیا ہی نہیں بلکہ آخرت کی تباہی و بربادی کا بھی ڈر ہے، اور عہدہ و منصب کا طالب تو وہی ہوگا جو حصول دنیا کا خواہاں ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٠٩٣) ، مسند احمد (٤/٤١٧) (صحیح )
5385Sunan An Nasaiصحیح

جو کوئی قاضی بننے کی آرزو کرے اس کو کبھی قاضی نہ بنایا جائے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ: عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا ؟ قَالَ: إِنَّكُمْسَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ.

اسید بن حضیر (رض) سے روایت ہے کہ انصار کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا : کیا آپ مجھے کام نہیں دیں گے جیسے فلاں کو دیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : میرے بعد تم پاؤ گے کہ ترجیحات ١ ؎ ہوں گی ایسے حالات میں تم صبر سے کام لینا یہاں تک کہ حوض پر تم مجھ سے ملو ۔

It was narrated from Usaid bin Hudair that: A man from among the Ansar came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "Will you not appoint me as you appointed so-and-so?" He said: "You will encounter selfishness after I am gone, so be patient until you meet me at the cistern (Al-Hawd).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5383
Notes · وضاحت
١ ؎: مستحق اور اہلیت والے کو محروم کر کے نالائق کو کام پر رکھنا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الٔعنصار ٨ (٣٧٩٢) ، الفتن ٢ (٧٠٥٧) ، صحیح مسلم/الإمارة ١١ (١٨٤٥) ، سنن الترمذی/الفتن ٢٥ (٢١٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨) ، مسند احمد (٤/٣٥١، ٣٥٢) (صحیح )
5386Sunan An Nasaiصحیح

حکومت کی خواہش نہ کرنا

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ. ح، وَأَنْبَأَنَاعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا.

عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : منصب طلب مت کرو، اس لیے کہ اگر مانگے سے وہ تمہیں ملا تو تم اسی کے سپرد کر دئیے جاؤ گے ١ ؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے مل گیا تو تمہاری اس میں مدد ہوگی ۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do not ask for governorship. For if it is given to you because of asking, you will be left to your own devices, but if it is given to you without asking, you will be helped (by Allah).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5384
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی نصرت و تائید سے تم محروم رہو گے اور کوئی مدد نہیں ملے گی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣٨١٣ (صحیح )
5387Sunan An Nasaiصحیح

حکومت کی خواہش نہ کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ، وَإِنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَةُ، وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عنقریب تم لوگ منصب کی خواہش کرو گے، لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہوگی پس دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے، (اس لیے کہ ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے ) ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "You will be keen for governorship but it will be regret and loss on the Day of Resurrection. What a good position it is when they are alive, but how miserable their state when they die (and leave it behind).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5385
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : حکومت اور منصب والی زندگی تو بھلی لگے گی لیکن اس کے بعد والی زندگی ابتر اور بری ہوگی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٢١٦ (صحیح )
5388Sunan An Nasaiصحیح

(ایک یمنی قوم) اشعریوں کو حکومت سے نوازنا

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُقَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمِّرِ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدٍ، وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَلْ أَمِّرِ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَنَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ سورة الحجرات آية 1 - 5.

عبداللہ بن زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ بنو تمیم کے کچھ سوار نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، ابوبکر (رض) نے کہا : قعقاع بن معبد کو سردار بنائیے، اور عمر (رض) نے کہا : اقرع بن حابس کو سردار بنائیے، پھر دونوں میں بحث و تکرار ہوگئی، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہوگئی، تو اس سلسلے میں یہ حکم نازل ہوا اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے آگے مت بڑھو (یعنی ان سے پہلے اپنی رائے مت پیش کرو) یہاں تک کہ یہ آیت اس مضمون پر ختم ہوگئی : اگر وہ لوگ تمہارے باہر نکلنے تک صبر کرتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا ١ ؎۔

Abdullah bin Az-Zubair narrated that: A group from Banu Tamim came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). Abu Bakr said: "Appoint Al-Qaqa bin Mabad (as commander or governor)," and Umar said: "No, (appoint) Al-Aqra bin Habis." They argued until they began to raise their voices, then the words were revealed: "O you who believe! Make not (a decision) in advance before Allah and His Messenger…" until the end of the Verse: "And if they had patience till you could come out to them, it would have been better for them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5386
Notes · وضاحت
١ ؎: شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کی بحث و تکرار کے سبب ابتداء سورة سے أجر عظیم تک ٣ آیتیں نازل ہوئیں، اور آیت : ولو أنهم صبروا حتى تخرج إليهم لکان خيرا لهم اقرع بن حابس (رض) کے آپ ﷺ کو زور زور سے یا محمد اخرج کہنے کی وجہ سے نازل ہوئی، ان میں سے اقرع شاعر تھے، یہی بات باب سے مناسبت ہے، یعنی : کسی شاعر ہونے کے سبب اس کو کسی عہدہ سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٦٨ (٤٣٦٧) ، تفسیر سورة الحجرات ١ (٤٨٤٥) ، ٢ (٤٨٤٧) ، الاعتصام ٥ (٧٣٠٢) ، سنن الترمذی/تفسیر سورة الحجرات (٣٢٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٦٩) (صحیح )
5389Sunan An Nasaiصحیح

جس وقت کسی کو فیصلہ کے لئے ثالث مقرر کریں اور وہ فیصلہ دے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَهُ وَهُمْ يَكْنُونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ، وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ ؟، فَقَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ، قَالَ: مَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا، فَمَا لَكَ مِنَ الْوُلْدِ ؟، قَالَ لِي: شُرَيْحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ، وَمُسْلِمٌ، قَالَ: فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ ؟قَالَ: شُرَيْحٌ، قَالَ: فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ، فَدَعَا لَهُ وَلِوَلَدِهِ.

ہانی (رض) سے روایت ہے کہ وہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ نے لوگوں کو سنا کہ وہ ہانی کو ابوالحکم کی کنیت سے پکارتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور ان سے فرمایا : حکم تو اللہ ہے اور حکم کرنا بھی اسی کا کام ہے ، وہ بولے : میری قوم کے لوگوں کا جب کسی چیز میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس چلے آتے ہیں، میں ان کے درمیان فیصلے کرتا ہوں اور دونوں فریق رضامند ہوجاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اس سے بہتر کیا ہوسکتا ہے، تمہارے کتنے لڑکے ہیں ؟ وہ بولے : شریح، عبداللہ اور مسلم، آپ نے فرمایا : ان میں بڑا کون ہے ؟ وہ بولے : شریح، آپ ﷺ نے فرمایا : تو تم اب سے ابوشریح ہو ، پھر آپ نے ان کے لیے اور ان کے بیٹے کے لیے دعا کی۔

It was narrated from Shuraih bin Hani from his father, that: When he came to the Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) and he heard them calling Hani by the nickname of Abu Al-Hakam, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) called him and said to him: "Allah is Al-Hakam (the Judge) and judgment is His. Why are you known as Abu Al-Hakam?" He said: "If my people differ concerning something, they come to me, and I pass judgment among them, and both sides accept it." He said: "How good this is. Do you have any children?" He said: "I have Shuraih, and Abdullah, and Muslim." He said: "Who is the eldest of them?" He said: "Shuraih." He said: "Then you are Abu Shuraih," and he supplicated for him and his son.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5387
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الٔیدب ٧٠(٤٩٥٥) (تحفة الأشراف : ١١٧٢٥) (صحیح )