ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک چیز کی وجہ سے روکے رکھا ١ ؎ جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی، جب کسریٰ ہلاک ہوا تو آپ نے فرمایا : انہوں نے کسے جانشین بنایا ؟ لوگوں نے کہا : اس کی بیٹی کو، آپ ﷺ نے فرمایا : وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے کسی عورت کو حکومت کے اختیارات دے دیے ۔
It was narrated that Abu Bakrah said: "Allah protected me with something that I heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). When Chosroes died, he said: Whom have they appointed as his successor? They said: His daughter. He said: No people will ever prosper who entrust their leadership to a woman.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5388
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے علی (رض) سے جب جنگ کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس فرمان رسول ﷺ کے سبب محفوظ رکھا۔
فضل بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ وہ قربانی کے دن (یعنی دسویں ذی الحجہ کو) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے، آپ کے پاس قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی اور بولی : اللہ کے رسول ! اللہ کا اپنے بندوں پر عائد کردہ فریضہ حج میرے والد پر کافی بڑھاپے میں واجب ہوا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے سوائے اس کے کہ انہیں باندھ دیا جائے، تو کیا میں ان کی جانب سے حج کرلوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، ان کی طرف سے حج کرلو۔ اس لیے کہ اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو وہ بھی تم ہی ادا کرتیں ١ ؎۔
It was narrated from Al-Fadl bin Abbas that: He was riding behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the morning of the Day of Sacrifice, when a woman from Khatham came to him and said: "O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man and cannot ride unless he is tied crossways on a mount; can I perform Hajj on his behalf? He said: "Yes, perform Hajj on his behalf, for if he owed a debt you would pay it off for him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5389
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا اس مثال کے ذریعہ آپ ﷺ نے اس عورت پر اس کے معذور باپ کے اوپر فرض حج کی ادائیگی کا فیصلہ دیا، اسی طرح دنیا کی ہر عدالت میں اشباہ و نظائر کے سہارے فیصلہ کیا جاتا ہے۔
عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا (فضل اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے۔ ) وہ بولی : اللہ کے رسول ! اللہ کا اپنے بن دوں پر عائد کردہ فرض فریضۂ حج میرے والد پر اس وقت فرض ہوا ہے جب وہ کافی بوڑھے ہوچکے ہیں، وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے، تو ان کی طرف سے میرا حج کرنا کافی ہے ؟ (محمود نے (فهل يجزي یعنی کافی ہے ؟ کے بجائے) فهل يقضي (یعنی کیا ادا ہوجائے گا) کہا۔ ) آپ ﷺ نے اس سے فرمایا : ہاں ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : اس حدیث کو زہری سے ایک سے زائد لوگوں نے روایت کیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اس کا ذکر نہیں کیا جس کا ذکر ولید نے کیا ١ ؎۔
It was narrated from Sulaiman bin Yasar that Ibn Abbas told him: "A woman from Khatham asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) a question when Al-Fadl was riding behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). She said: O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man, he cannot sit upright in the saddle. Will it suffice if I perform Hajj on his behalf? He said: Yes.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5390
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ولید نے اس حدیث کو مسند فضل سے روایت کیا ہے جب کہ زہری سے روایت کرنے والے دوسرے شاگردوں نے اسے مسند ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ فضل بن عباس (رض) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے، اتنے میں قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ سے مسئلہ پوچھنے آئی، فضل (رض) اس کی طرف دیکھنے لگے وہ ان کی طرف دیکھنے لگی، رسول اللہ ﷺ فضل کا رخ دوسری طرف موڑ دیتے، وہ بولی : اللہ کے رسول ! اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کا فرض کردہ فریضہ حج میرے والد پر اس وقت فرض ہوا جب وہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں، وہ سواری پر سیدھے بیٹھ بھی نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، اور یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔
It was narrated that Abdullah bin Abbas said: "Al-Fadl bin Abbas was riding behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a woman from Khatham came to ask him a question. Al-Fadl started looking at her, and she at him, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) turned the face of Al-Fadl the other way. She said: O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man, and he cannot sit firmly in the saddle; can I perform Hajj on his behalf? He said: Yes. That was during the Farewell Pilgrimage.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5391
عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کا اپنے بندوں پر عائد کردہ فریضہ حج میرے والد پر اس وقت فرض ہوا جبکہ وہ کافی بوڑھے ہوچکے ہیں، وہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے، اگر میں ان کی طرف سے حج کرلوں تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہوجائے گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : ہاں ، فضل اس کی طرف مڑ مڑ کر دیکھنے لگے، وہ ایک حسین و جمیل عورت تھی، رسول اللہ ﷺ نے فضل کو پکڑا اور ان کا رخ دوسری جانب گھما دیا۔
It was narrated from Ibn Shihab that Sulaiman bin Yasar told him that Ibn Abbas told him that: A woman from Khatham said: "O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man, and he cannot sit upright in the saddle. Will it discharge his duty if I perform Hajj on his behalf?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to her: "Yes." Al-Fadl starting turning toward her, for she was a beautiful woman, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) turned Al-Fadls face to the other side.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5392
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا : میرے والد پر حج فرض ہوگیا ہے، اور وہ اس قدر بوڑھے ہوگئے ہیں کہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے، اور اگر انہیں باندھ دوں تو خطرہ ہے کہ وہ اس سے مر نہ جائیں، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کرلوں ؟ آپ نے فرمایا : اگر ان پر کچھ قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کیا وہ کافی ہوتا ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : تو تم اپنے باپ کی طرف سے حج کرلو ۔
It was narrated from Abdullah bin Abbas that: A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم): "The (command to perform) Hajj has come while my father is an old man and cannot sit firmly in the saddle, and if I tie him, I fear that he may die. Can I perform Hajj on his behalf?" He said: "Do you think that if he owed a debt you would pay it off for him?" He said: "Yes." He said: "Then perform Hajj on behalf of your father.
شاذ مضطرب والمحفوظ أن السائل امرأة والمسؤول عنه أبوهاصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5393
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٢٦٣٥ (شاذ) (اس واقعہ میں سائل کا مرد ہونا شاذ ہے )
فضل بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے سوار تھے، اتنے میں ایک شخص نے آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میری ماں بہت بڑی بوڑھی عورت ہیں، اگر میں انہیں سوار کر دوں تو وہ اسے پکڑ نہیں سکیں گی اور اگر انہیں باندھ دوں تو خطرہ ہے کہ وہ میرے اس عمل سے مر نہ جائیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تمہاری ماں پر کچھ قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے یا نہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو تم اپنی ماں کی طرف سے حج کرو ۔
It was narrated from Al-Fadl bin Abbas, that: He was riding behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), when a man came and said: "O Messenger of Allah, my mother is an old woman; if I put her on a mount she cannot sit firmly, and if I tie her, I fear that I may kill her." He said: "Do you think that if your mother owed a debt you would pay it off for her?" He said: "Yes." He said: "Then perform Hajj on behalf of your mother.
شاذ والمحفوظ خلافة كما ذکرت في الذي قبلهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5394
فضل بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے نبی ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، حج نہیں کرسکتے، اگر میں انہیں سوار کر دوں، تو اسے پکڑ کر بیٹھ نہیں سکیں گے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے باپ کی طرف سے حج کرو ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : سلیمان کا فضل بن عباس (رض) سے سماع ثابت نہیں ہے۔
It was narrated from Sulaiman bin Yasar, who narrated from Al-Fadl bin Abbas, who said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Prophet of Allah, my father is an old man and cannot perform Hajj. If I put him on a mount he cannot sit firm. Can I perform Hajj on his behalf? He said: Perform Hajj on behalf of your father.
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5395
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : میرے والد کافی بوڑھے ہیں، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کافی ہوتا یا نہیں ؟ ۔
It was narrated from Ibn Abbas that: A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "My father is an old man, can I perform Hajj on his behalf? He said: "Yes. Dont you think that if he owed a debt and you paid it off, that would suffice him?
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5396
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایک دن عبداللہ بن مسعود (رض) سے بہت سارے موضوعات پر بات چیت کی، عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : ہم پر ایک زمانہ ایسا بھی گزر چکا ہے کہ ہم نہ تو کوئی فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی فیصلہ کرنے کے قابل تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مقدر کر رکھا تھا کہ ہم اس مقام کو پہنچے جو تم دیکھ رہے ہو، لہٰذا آج کے بعد سے جس کسی کو فیصلہ کرنے کی ضرورت آپڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں ہے، پھر اگر ایسا کوئی معاملہ اسے درپیش آئے جو کتاب اللہ (قرآن) میں نہ ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نبی اکرم ﷺ نے کیا تھا، اور اگر کوئی ایسا معاملہ ہو جو نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کا کوئی فیصلہ ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نیک لوگوں نے کیا ہو ١ ؎، اور اگر کوئی ایسا معاملہ آئے جو نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو، نہ نبی اکرم ﷺ کا اس سلسلے میں کوئی فیصلہ ہو اور نہ ہی نیک لوگوں کا) تو اسے چاہیئے کہ اپنی عقل سے اجتہاد کرے اور یہ نہ کہے کہ مجھے ڈر ہے، مجھے ڈر ہے، کیونکہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں تو تم ان باتوں کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالیں اور وہ کرو جو شک سے بالاتر ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ حدیث بہت اچھی ہے۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Yazid said: "The people asked Abdullah too many questions one day, and Abdullah said: There was a time when we did not pass so many judgments, but now that time is over. Now Allah, the Mighty and Sublime, has decreed that we reach a time when, as you see, (we are asked to pass many judgments). Whoever among you is asked to pass a judgment after this day, let him pass judgment according to what is in the Book of Allah. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, let him pass judgment according to the way His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed judgment. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah and concerning which His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not pass judgment, then let him pass judgment according to the way the righteous passed judgment. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, and concerning which His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and the righteous did not pass judgment, then let him strive to work it out, and let him not say I am afraid, I am afraid. For that which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, and between them are matters which are not as clear. Leave that which makes you doubt for that which does not make you doubt.
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5397
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد نیک علماء ہیں، کیونکہ ابن مسعود (رض) کے زمانہ میں صالحین صحابہ کرام ہی تھے، اور ان کی اکثریت عالم تھی، خلاصہ کلام یہ کہ صحابہ کرام کا اجماع مراد ہے، اسی طرح ہر زمانہ کے نیک علماء و ائمہ کرام کا اجماع بھی دلیل ہوگا، اور چونکہ مراد زمانہ کے علماء کا اجماع ہے اس لیے اس سے ایک عالم کی تقلید شخصی ہرگز مراد نہیں ہوسکتی، جیسا کہ بعض مقلدین نے اس سے تقلید شخصی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر ایک ایسا وقت آیا کہ اس وقت نہ ہم فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی فیصلہ کرنے کے اہل تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے وہ مقام مقدر کردیا جہاں تم ہمیں دیکھ رہے ہو، لہٰذا جس کسی کو آج کے بعد کوئی معاملہ درپیش ہو تو وہ اس کا فیصلہ اس کے مطابق کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں ہے، اور اگر اس کے پاس کوئی ایسا معاملہ آئے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہے تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نبی اکرم ﷺ نے اس بارے میں کیا تھا، اور اگر کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جو نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نیک لوگوں نے کیا ہو، اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے، مجھے ڈر لگ رہا ہے، کیونکہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ شبہ والی چیزیں ہیں، لہٰذا جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور جو شک میں نہ ڈالے اسے لے لو۔
It was narrated that Abdullah bin Masud said: "There was a time when we did not pass so many judgments, but now that time is over. Now Allah, the Mighty and Sublime, has decreed that we reach a time when, as you see, (we are asked to pass many judgments). Whoever among you is asked to pass a judgment after this day, let him pass judgment according to what is in the Book of Allah. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, let him pass judgment according to the way His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed judgment. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, and concerning which His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not pass judgment, then let him pass judgment according to the way the righteous passed judgment. And let him not say I am afraid, I am afraid. For that which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, and between them are matters which are not as clear. Leave that which makes you doubt for that which does not make you doubt.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5398
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩١٩٧) (صحیح) (اس کے راوی ” حریث “ مجہول ہیں، لیکن پچھلی سند صحیح لغیرہ ہے )
شریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر (رض) سے ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے انہیں ایک خط لکھا تو انہوں نے لکھا : فیصلہ کرو اس کے مطابق جو کتاب اللہ (قرآن) میں ہے، اور اگر وہ کتاب اللہ (قرآن) میں نہ ہو تو سنت رسول (حدیث) کے مطابق، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ سنت رسول (حدیث) میں تو اس کے مطابق فیصلہ کرو جو نیک لوگوں نے کیا تھا، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ سنت رسول ﷺ میں اور نہ ہی نیک لوگوں کا کوئی فیصلہ ہو تو اگر تم چاہو تو آگے بڑھو (اور اپنی عقل سے کام لے کر فیصلہ کرو) اور اگر چاہو تو پیچھے رہو (فیصلہ نہ کرو) اور میں پیچھے رہنے ہی کو تمہارے حق میں بہتر سمجھتا ہوں۔ والسلام علیکم۔
It was narrated from Shuraih that: He wrote to Umar, to ask him (a question), and Umar wrote back to him telling him: "Judge according to what is in the Book of Allah. If it is not (mentioned) in the Book of Allah, then (judge) according to the Sunnah of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). If it is not (mentioned) in the Book of Allah or the Sunnah of the Messenger of Allah, then pass judgment according to the way the righteous passed judgment. If it is not (mentioned) in the Book of Allah, or the Sunnah of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and the righteous did not pass judgment concerning it, then if you wish, go ahead (and try to work it out by yourself) or if you wish, leave it. And I think that leaving it is better for you. And peace be upon you.
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5399
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے بعد کئی بادشاہ ہوئے جن ہوں نے تورات اور انجیل کو بدل ڈالا، ان میں کچھ مومن تھے جو توراۃ پڑھتے تھے، ان کے بادشاہوں سے عرض کیا گیا : ہمیں اس سے زیادہ سخت گالی نہیں ملتی جو یہ ہمیں دیتے ہیں، یہ لوگ پڑھتے ہیں جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں یہ لوگ اس قسم کی آیات پڑھتے ہیں ور ساتھ ہی وہ چیزیں پڑھتے ہیں جس میں ہمارا عیب نکلتا ہے تو انہیں بلا کر کہو کہ وہ بھی ویسے ہی پڑھیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور اسی طرح کا ایمان لائیں جیسا ہم لائے ہیں، چناچہ اس (بادشاہ) نے انہیں بلایا اور اکٹھا کیا اور کہا : قتل منظور کرو یا پھر توراۃ اور انجیل کو پڑھنا چھوڑ دو ، البتہ وہ پڑھو جو بدل دیا گیا ہے۔ وہ بولے : تمہارا اس سے کیا مقصد ہے ؟ ہمیں چھوڑ دو ۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا : ہمارے لیے ایک مینار بنادو اور ہمیں اس پر چڑھا دو پھر ہمیں کھانے پینے کی کچھ چیزیں دے دو ، تو ہم تمہارے پاس کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا : ہمیں چھوڑ دو ، ہم زمین میں گھومیں ور بھٹکتے پھریں اور جنگلی جانوروں کی طرح پئیں، پھر اگر تم ہمیں اپنی زمین میں دیکھ لو تو مار ڈالنا، ان میں سے بعض لوگوں نے کہا : ہمارے لیے صحراء و بیابان میں گھر بنادو ، ہم خود کنویں کھود لیں گے اور سبزیاں بولیں گے، پھر پلٹ کر تمہارے پاس نہ آئیں گے اور نہ تمہارے پاس سے گزریں گے، اور کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کا دوست یا رشتہ دار اس میں نہ ہو۔ چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آیت : ورهبانية ابتدعوها ما کتبناها عليهم إلا ابتغاء رضوان اللہ فما رعوها حق رعايتها اور جو درویشی انہوں نے خود نکالی تھی ہم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا سوائے اللہ کی رضا جوئی کے، پھر انہوں نے اس کی بھی پوری رعایت نہیں کی (الحدید : ٢٧ ) نازل فرمائی، کچھ دوسرے لوگوں نے کہا : ہم بھی فلاں کی طرح عبادت کریں گے اور فلاں کی طرح گھومیں گے اور فلاں کی طرح گھر بنائیں گے حالانکہ وہ شرک میں مبتلا تھے، یہ ان لوگوں کے ایمان سے باخبر نہ تھے جن کی پیروی کا یہ دم بھر رہے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو بھیجا تو ان میں سے بہت تھوڑے سے لوگ بچے تھے، ایک شخص اپنے عبادت خانے سے اترا اور جنگل میں گھومنے والا گھوم کر لوٹا اور گرجا گھر میں رہنے والا گرجا گھر سے لوٹا اور یہ سب کے سب آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وآمنوا برسوله يؤتكم كفلين من رحمته اے لوگو ! جو ایمان رکھتے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کا دوگنا حصہ دے گا (الحدید : ٢٩ ) دوہرا اجر ان کے عیسیٰ ، تورات اور انجیل پر ایمان کے بدلے اور محمد ﷺ پر ایمان اور تصدیق کے بدلے، پھر فرمایا : وہ تمہارے چلنے کے لیے ایک روشنی دے گا یعنی قرآن اور نبی اکرم ﷺ کی پیروی تاکہ اہل کتاب یعنی وہ اہل کتاب جو تمہاری مشابہت کرتے ہیں جان لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "There were kings after Isa bin Mariam who altered the Tawrah and the Injil, but there were among them believers who read the Tawrah. It was said to their kings: We have never heard of any slander worse than that of those (believers) who slander us and recite: "And whosoever does not judge by what Allah has revealed, such are the disbelievers." In these Verses, they are criticizing us for our deeds when they recite them. So he called them together and gave them the choice between being put to death, or giving up reading the Tawrah and Injil, except for what had been altered. They said: Why do you want us to change? Leave us alone. Some of them said: Build us a tower and let us go up there, and give us something to lift up our food and drink so we do not have to mix with you. Others said: Let us go and wander throughout the land, and we will drink as the wild animals drink, and if you capture us in your land, you may kill us. Others said: Build houses for us in the wilderness, and we will dig wells and grow vegetables, and we will not mix with you or pass by you, for there is no one of the tribes among whom we do not have close relatives. So they did that, and Allah revealed the words: But the monasticism which they invented for themselves, We did not prescribe for them, but (they sought it) only to please Allah therewith, but that they did not observe it with the right observance. Then others said: We will worship as so-and-so worshipped, and we will wander as so-and-so wandered, and we will adopt houses (in the wilderness) as so-and-so did. But they were still following their Shirk with no knowledge of the faith of those whom they claimed to be following. When Allah sent the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and they were only a few of them left, a man came down from his cell, and a wanderer came from his travels, and a monk came from his monastery, and they believed in him. And Allah said: O you who believe! Fear Allah, and believe in His Messenger (Muhammad), He will give you a double portion of His mercy - meaning, two rewards, because of their having believed in Isa and in the Tawrah and Injil, and for having believing in Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم); and He will give you a light by which you shall walk (straight), - meaning, the Quran, and their following the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم); and He said: So that the people of the Scripture (Jews and Christians) may know that they have no power whatsoever over the Grace of Allah.
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5400
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ میرے سامنے مقدمات لاتے ہو، میں تو بس تمہاری طرح ایک انسان ہوں ١ ؎، ممکن ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں (اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو اسے وہ نہ لے کیونکہ میں تو اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں ۔
It was narrated from Umm Salamah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "You refer your disputes to me, but I am only human, and some of you may be more eloquent in arguing their case than others. If I pass judgment in favor of one of you, against his brothers rights, let him not take it, for it is a piece of fire that I am giving him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5401
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی غیب کا علم صرف اللہ کو ہے، میں تو صرف ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہوں۔
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو عورتیں تھیں ان دونوں کے ساتھ ان کا ایک ایک بچہ تھا، اتنے میں بھیڑیا آیا اور ایک کا بچہ اٹھا لے گیا، تو اس نے دوسری سے کہا : وہ تمہارا بچہ لے گیا، دوسری بولی : تمہارا بچہ لے گیا، پھر وہ دونوں مقدمہ لے کر داود (علیہ السلام) کے پاس گئیں تو آپ نے بڑی کے حق میں فیصلہ کیا۔ پھر وہ دونوں سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئیں اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : ایک چھری لاؤ، میں اسے دونوں کے درمیان تقسیم کردیتا ہوں، چھوٹی بولی : ایسا نہ کیجئیے، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، وہ اسی کا بیٹا ہے، تو انہوں نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! سوائے اس دن کے ہم نے کبھی چھری کا نام سکین نہیں سنا، ہم) تو اسے مدیہ کہا کرتے تھے۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There were two woman who had two children, and the wolf came and took away the son of one of them. She said to her companion: It took away your son. The other one said: No, it took away your son. They referred the matter to Dawud علیہ السلام, for judgment (about the remaining child) and he ruled in favor of the older one. Then they went out to Sulaiman bin Dawud علیہما السلام and told him (about that). He said: Give me a knife and I will cut him in half (to be shared) between you. The younger one said: Do not do that, may Allah have mercy on you; he is her son. So he ruled that (the child) belonged to the younger woman." Abu Hurairah said: "By Allah! I never heard Sikkin used until that day. We would only say: Mudyah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5402
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو عورتیں نکلیں، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کردیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا، وہ دونوں اس بچے کے سلسلے میں جو باقی تھا جھگڑتی ہوئی داود (علیہ السلام) کے پاس آئیں، تو انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا، پھر وہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئیں، وہ بولے : تم دونوں کا کیا قضیہ ہے ؟ چناچہ انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے کہا : چھری لاؤ، بچے کے دو حصے کر کے ان دونوں کے درمیان تقسیم کروں گا ١ ؎، چھوٹی عورت بولی : کیا آپ اسے کاٹیں گے ؟ کہا : ہاں، وہ بولی : ایسا نہ کیجئیے، اس میں جو میرا حصہ ہے وہ بھی اسی کو دے دیجئیے، سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : یہ تمہارا بیٹا ہے، چناچہ آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کردیا۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Two women went out with two children of theirs, and the wolf attacked one of them and took her child. The next day they referred their dispute over the remaining child to Dawud علیہ السلام, and he ruled that (the child) belonged to the older woman. Then they passed by Sulaiman علیہ السلام and he said: What is your story? So they told him. He said: Bring me a knife and I will cut him in half (to be shared) between you. The younger one said: Will you cut him in half? He said: Yes. She said: Do not do that; I will give my share of him to her. He said: He is your child and he ruled that he belonged to her.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5403
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے، سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد بچے کو حقیقت میں ٹکڑے کر کے تقسیم کرنا نہیں تھا، بس اس طریقے سے وہ بچے کی حقیقی ماں کو پہچاننا چاہتے تھے، واقعی میں جس کا بچہ تھا وہ (چھوٹی عورت) بچے کے ٹکڑے کرنے پر راضی نہیں ہوئی، جب کہ جس کا بچہ نہیں تھا وہ خاموش رہی، اسے دوسری کے بچے سے کیا محبت ہوسکتی تھی ؟ اس لیے ٹکڑے کرنے پر خاموش رہی، اس طرح آپ نے حقیقت کا پتہ چلا لیا۔
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دو عورتیں نکلیں، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کردیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا، وہ اس بچے کے سلسلے میں جو باقی رہ گیا تھا جھگڑتی ہوئی داود (علیہ السلام) کے پاس آئیں، انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا، وہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا : تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ کیا ؟ (چھوٹی) بولی بڑی کے حق میں فیصلہ کیا، سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کروں گا، ایک حصہ اس کے لیے اور دوسرا حصہ اس کے لیے ہوگا، بڑی عورت بولی : ہاں ! آپ اسے کاٹ دیں، جب کہ چھوٹی عورت نے کہا : ایسا نہ کیجئیے، یہ بچہ اسی کا ہے، چناچہ انہوں نے اس کے حق میں فیصلہ کیا جس نے بچہ کو کاٹنے سے روکا تھا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Two women went out with their two children, and the wolf took one of the children from them. They referred their dispute to Prophet Dawud علیہ السلام, and he ruled that (the remaining child) belonged to the older woman. Then they passed by Sulaiman علیہ السلام, and he said: How did he judge between you? She said: He ruled that (the child) belongs to the older woman. Sulaiman علیہ السلام said: Cut him in half, and give half to one and half to the other. The older woman said: Yes, cut him in half. The younger woman said: Do not cut him, he is her child. So he ruled that the child belonged to the woman who refused to let him be cut.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5404
Notes · وضاحت
١ ؎: سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے باپ داود (علیہ السلام) کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، یہی باب سے مطابقت ہے۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خالد بن ولید (رض) کو بنی جذیمہ کی طرف روانہ کیا، خالد (رض) نے انہیں اسلام کی دعوت دی، مگر وہ اچھی طرح اسلمنا ہم اسلام لائے نہ کہہ سکے بلکہ کہنے لگی : ہم نے اپنا دین چھوڑا، چناچہ خالد (رض) نے بعض کو قتل کردیا اور بعض کو قیدی بنا لیا اور ہر شخص کو اس کا قیدی حوالے کردیا، جب صبح ہوئی تو خالد (رض) نے ہم میں سے ہر شخص کو اپنا قیدی قتل کرنے کا حکم دیا، ابن عمر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنا قیدی قتل نہیں کروں گا اور نہ ہی (میرے ساتھیوں میں سے) کوئی دوسرا، پھر ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور خالد (رض) کی اس کارروائی کا آپ سے ذکر کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا (اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھی) : اے اللہ میں اس سے برأت کا اعلان کرتا ہوں جو خالد نے کیا ١ ؎۔ بشر کی روایت میں ہے کہ آپ نے یوں فرمایا : اے اللہ ! میں اس سے بَری ہوں جو خالد نے کیا ہے ، ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا۔
It was narrated from Salim that his father said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent Khalid bin Al-Walid to Banu Jadhimah. He called them to Islam, but they could not say Aslamna (we submitted, i.e., became Muslim) so they started to say Sabana (we changed our religion). Khalid started killing and taking prisoners, and he gave a prisoner to each man. The next day Khalid bin Al-Walid issued orders that each man among us kill his prisoner." Ibn Umar said: "I said: By Allah, I will not kill my prisoner, and no one (among my companions) will kill his prisoner. We came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and he was told of what Khalid had done. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I disavow what Khalid has done, twice.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5405
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی باب سے مناسبت ہے، آپ ﷺ نے خالد بن ولید کے فیصلہ کو رد کردیا۔
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے لکھوایا تو میں نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کے پاس لکھا وہ سجستان کے قاضی تھے، تم دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے ۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Abi Bakrah said: "My father wrote to Ubaidullah bin Abi Bakrah - who was the judge of Sijistan - saying: Do not pass judgment between two people when you are angry, for I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: No one should pass judgment between two people when he is angry.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5406
زبیر بن عوام (رض) سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص سے جو بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوا تھا حرہ کی نالیوں کے سلسلہ میں ان کا جھگڑا ہوگیا۔ وہ دونوں ہی اس سے اپنے کھجوروں کے باغ کی سنیچائی کرتے تھے۔ انصاری نے کہا : پانی چھوڑ دو وہ اس سے گزر کر چلا جائے، انہوں نے پانی چھوڑنے سے انکار کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زبیر ! پہلے سنیچائی کرو، پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ، انصاری کو غصہ آگیا وہ بولا : اللہ کے رسول ! وہ (زبیر) آپ کے پھوپھی زاد (بھائی) ہیں نا ؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا ١ ؎، پھر فرمایا : زبیر ! سینچائی کرو، پھر پانی اس قدر روکو کہ میڈوں تک ہوجائے ، اس طرح رسول اللہ ﷺ نے زبیر کو ان کا پورا پورا حق دلایا، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے جو مشورہ دیا تھا اس میں ان کا بھی فائدہ تھا اور انصاری کا بھی۔ لیکن جب رسول اللہ ﷺ کو انصاری نے غصہ دلایا تو آپ نے زبیر (رض) کو صریح حکم دے کر ان کا حق دلا دیا۔ زبیر (رض) کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے : فلا وربک لا يؤمنون حتى يحكموک فيما شجر بينهم نہیں، آپ کے رب کی قسم ! وہ مومن نہیں یہاں تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو حکم تسلیم نہ کرلیں (النساء : ٦٥ ) (اس حدیث کے دو راوی ہیں) اس واقعہ کو بیان کرنے میں ایک کے یہاں دوسرے کے بالمقابل کچھ کمی بیشی ہے۔
It was narrated from Az-Zubair bin Al-Awwam that: He disputed with a man among Ansar who had been present at Badr with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), concerning a stream in Al-Harrah from which they both used to water their date palm trees. The Ansari said: "Let the water flow." But he (Az-Zubair) refused. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Irrigate (your land), O Zubair! Then let the water flow to your neighbor." The Ansari became angry and said, "O Messenger of Allah, is it because he is your cousin?" The face of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) changed color (because of anger) and he said: "O Zubair! Irrigate (your land) then block the water, until it flows back to the walls." So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) allowed Az-Zubair to take his rights in full, although before that he had suggested to Az-Zubair a middle way that benefited both him and the Ansari. But when the Ansari made the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) angry, he gave Az-Zubair his rights in full, as stated clearly in his ruling. Az-Zubair said: "I think that this Verse was revealed concerning this matter: But no, by your Lord, they can have no faith, until they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5407
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی باب سے مطابقت ہے کہ غصہ کی حالت میں ایک فیصلہ صادر فرمایا، چونکہ آپ امین تھے اس لیے آپ کو غصہ کی حالت میں بھی فیصلہ کرنے کا حق تھا، عام قاضیوں کو یہ حق نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٦٣٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الشرب والمساقاة ٦-٨ (٢٣٦٠- ٢٣٦٢) ، والصلح ١٢ (٢٧٠٨) ، و تفسیر سورة النساء ١٢ (٤٥٨٥) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣٦ (٢٣٥٧) ، سنن ابی داود/الأقضیة ٣١ (٣٦٣٧) ، سنن الترمذی/الأحکام ٢٦ (١٣٦٣) ، و تفسیر سورة النساء، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٥) ، والرہون ٢٠ (٢٤٨٠) ، مسند احمد (١/١٦٥) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٥٤١٨ (صحیح )