کعب (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن ابی حدرد (رض) سے اپنے قرض کا جو ان کے ذمہ تھا تقاضا کیا، ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو سنائی دیں، آپ اپنے گھر میں تھے، چناچہ آپ ان کی طرف نکلے، پھر اپنے کمرے کا پردہ اٹھایا اور پکارا : کعب ! وہ بولے : حاضر ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : اتنا قرض معاف کر دو اور آپ نے آدھے اشارہ کیا۔ کہا : میں نے معاف کیا، پھر آپ نے (ابن ابی حدرد سے) کہا : اٹھو اور قرض ادا کرو ۔
It was narrated from Abdullah bin Kab, from his father, that: He asked Ibn Abi Hadrad to pay off a debt that he owed him. Their voices grew so loud that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) heard them when he was inside his house. He came out to them, drew back the curtain of his room and called out: "O Kab!" He said: "Here I am, O Messenger of Allah." He said: "Drop his debt to half." He said: "I will do that." He said (to the debtor): "Go and pay it off.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5408
عباد بن شرحبیل (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مدینے آیا تو وہاں کے ایک باغ میں گیا اور ایک بالی (توڑ کر) مسل ڈالی، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے میری چادر چھین لی اور مجھے مارا، میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کے خلاف مدد چاہی، چناچہ آپ نے اس شخص کو بلا بھیجا۔ لوگ اسے لے کر آئے، آپ نے فرمایا : اس اقدام پر تمہیں کس چیز نے اکسایا ؟ وہ بولا : اللہ کے رسول ! یہ میرے باغ میں آیا اور بالی توڑ کر مسل دی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ تو تم نے اسے بتایا جب کہ وہ ناسمجھ تھا، نہ تم نے اسے کھلایا جبکہ وہ بھوکا تھا، اس کی چادر اسے لوٹا دو ، اور مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک وسق یا آدھا وسق دینے کا حکم دیا ١ ؎۔
It was narrated that Abbad bin Shurahbil said: "I came to Al-Madinah with my paternal uncles and entered one of its gardens, where I rubbed an ear of grain (to take some grains). The owner of the garden came, took my cloak and hit me. I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and sought his help against him. He sent for the man and they brought him. He said: What made you do that? He said: O Messenger of Allah, he entered my garden and took one of the ears of grain and rubbed it. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: You did not teach him if he was ignorant, nor feed him if he was hungry. Give him back his cloak. And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered me with a Wasq or half a Wasq.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5409
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداؤد کے الفاظ ہیں وأعطانی یعنی اس باغ والے نے مجھے ایک یا آدھا صاع غلہ دیا یعنی اس نے جو میری ساتھ زیادتی کی تھی اس کے بدلے میں آپ ﷺ نے میرے لیے اس تاوان کا حکم دیا۔
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا : ہمارے درمیان کتاب اللہ (قرآن) سے فیصلہ فرمایئے اور دوسرا جو زیادہ سمجھدار تھا بولا : ہاں، اللہ کے رسول اور مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیجئیے، وہ کہنے لگا : میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں نوکر تھا، اس نے اس کی عورت کے ساتھ زنا کیا، تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے، چناچہ میں نے اسے بدلے میں سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی دے دی، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور رجم کی سزا اس کی عورت کی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ (قرآن) کے مطابق فیصلہ کروں گا، تمہاری بکریاں اور لونڈی تو تمہیں لوٹائی جائیں گی ، اور آپ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا، اور انیس (رضی اللہ عنہ) کو حکم دیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائیں ١ ؎، اگر وہ اس جرم کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کر دو ، چناچہ اس نے اعتراف کرلیا تو انہوں نے اسے رجم کردیا۔
It was narrated from Abu Hurairah and Zaid bin Khalid Al-Juhani that: Two men referred a dispute to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). One of them said: "O Messenger of Allah, pass judgment between us according to the Book of Allah." The other, who was wiser, said: "Yes, O Messenger of Allah, and allow me to speak." He said: "My son was a laborer serving this man, and he committed Zina with his wife. They told me that my son was to be stoned to death, but I ransomed him with one hundred sheep and a slave girl of mine. Then I asked the people of knowledge, who told me that my son was to be given one hundred lashes and exiled for a year, and that his (the mans) wife was to be stoned to death." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "By the One in Whose hand is my soul, I will pass judgment between you according to the Book of Allah. As for your sheep and your slave girl, take them back." Then he gave his son one hundred lashes, and exiled him for one year, and he ordered Unais to go to the wife of the other man and if she confessed, to stone her to death. She did confess, so he stoned her to death.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5410
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی میں باب سے مطابقت ہے، یعنی : وہ عورت مجلس قضاء میں طلب نہیں کی گئی، اسی لیے آپ نے انیس (رض) کو اس کے پاس اس کے گھر بھیجا، ہاں اگر کسی معاملہ میں عورتوں کی حاضری مجلس قضاء میں ضروری ہو تو پردے کے ساتھ ان کو لایا جاسکتا ہے، اور پردے کی آڑ سے ان کا بیان لیا جاسکتا ہے۔
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کیجئے، پھر اس کا فریق مخالف کھڑا ہوا اور وہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، اس نے کہا : اس نے ٹھیک کہا ہے، آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ فرمایئے۔ آپ نے فرمایا : بتاؤ تو اس نے کہا : میرا بیٹا اس کے یہاں نوکر تھا، تو وہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر بیٹھا۔ چناچہ میں نے اس کے بدلے سو بکریاں اور ایک خادم (غلام) دے دیا (گویا اسے معلوم تھا کہ اس کے بیٹے پر رجم ہے، چناچہ اس نے تاوان دے دیا) ، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کروں گا : رہیں سو بکریاں اور خادم (غلام) تو وہ تمہیں لوٹائے جائیں گے، اور تمہارے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور انیس ! تم صبح اس کی عورت کے پاس جاؤ، اگر وہ اقبال جرم کرلے تو اسے رجم کردینا ، چناچہ وہ گئے، اس نے اقبال جرم کیا تو انہوں نے اسے رجم کردیا۔
It was narrated that Abu Hurairah, Zaid bin Khalid and Shibl said: "We were with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when a man stood up and said: I adjure you, by Allah, pass judgment between us according to the Book of Allah. His opponent, who was wiser than him, stood up and said: He is right, pass judgment between us according to the Book of Allah. He said: Speak. He said: My son was a laborer serving this man, and he committed Zina with his wife. I ransomed him with one hundred sheep and a servant. It is as if he was told that his son was to be stoned to death but he ransomed him from that. Then I asked some knowledgeable men and they told me that my son was to be given one hundred lashes and exiled for a year. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: By the One in Whose hand is my soul, I will pass judgment between you according to the Book of Allah, the Mighty and Sublime. As for the one hundred sheep and the servant, take them back, and your son is to be given one hundred lashes and exiled for a year. O Unais, go tomorrow to the wife of this man and if she confesses, then stone her to death. She did confess, so he stoned her to death.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5411
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے (مرسلاً ) ١ ؎ روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک عورت لائی گئی، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا تو آپ نے فرمایا : کس کے ساتھ ؟ وہ بولی : اپاہج سے جو سعد (رض) کے باغ میں رہتا ہے، آپ نے اسے بلا بھیجا چناچہ وہ لاد کر لایا گیا اور اسے آپ کے سامنے رکھا گیا، پھر اس نے اعتراف کیا تو رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے خوشے منگا کر اسے مارا اور اس کے لنجے پن کی وجہ سے اس پر رحم کیا اور اس پر تخفیف کی ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif that: A woman who had committed Zina was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: "With whom?" She said: "With the paralyzed man who lives in the garden of Sad." He was brought and placed before (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) and he confessed. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) called for a bunch of palm leaves and hit him. He took pity on him because of his disability and was lenient with him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5412
Notes · وضاحت
١ ؎: نسائی کی روایت مرسل ہے، لیکن دیگر لوگوں کے یہاں سعید بن سعد بن عبادہ (ایک چھوٹے صحابی) یا : بعض اصحاب نبی اکرم ﷺ کا واسطہ موجود ہے، اس لیے حدیث متصل مرفوع صحیح ہے۔ ٢ ؎: چونکہ وہ غیر شادی شدہ تھا اس لیے اس کو رجم کی سزا نہیں دی گئی، اور کوڑے میں بھی تخفیف سے کام لیا گیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٤٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الحدود ٣٤ (٤٤٧٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٨ (٢٥٧٤) ، مسند احمد (٥/٢٢٢٢٢) (کلھم بزیادة ” سعید بن سعد بن عبادة “ أو ” بعض أصحاب النبی ﷺ “ بعد ” أبی أمامة “ ) (صحیح )
سہل بن سعد ساعدی (رض) کہتے ہیں کہ انصار کے دو قبیلوں کے درمیان تکرار ہوئی یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو پتھر مارنے لگے، تو نبی اکرم ﷺ ان کے درمیان صلح کرانے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، تو بلال (رض) نے اذان دی اور آپ کا انتظار کیا اور رکے رہے، پھر اقامت کہی اور ابوبکر (رض) آگے بڑھے، اتنے میں نبی اکرم ﷺ آگئے، ابوبکر (رض) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو دیکھا تو (بتانے کے لیے) تالی بجا دی۔ (ابوبکر نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے) پھر جب انہوں نے ان سب کی تالی کی آواز سنی تو مڑے، دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ہیں، انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو آپ نے وہیں رہنے کا اشارہ کیا، تو ابوبکر (رض) نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، پھر رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا : تمہیں وہیں رکنے سے کس چیز نے روکا ؟ وہ بولے : یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ ابوقحافہ کے بیٹے کو اپنے نبی کے آگے دیکھے، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آتی ہے تو تالی بجانے لگتے ہو، یہ تو عورتوں کے لیے ہے، تم میں سے کسی کو جب کوئی بات پیش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے ۔
Sahl bin Sad Al-Saidi said: "Words were exchanged between two clans of the Ansar, to the point that they began to throw rocks at one another. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) went to reconcile between them. The time for prayer came, so Bilal called Adhan and waited for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), but he was delayed. He said the Iqamah and Abu Bakr (RA) with him, went forward (to lead the prayer). Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came while Abu Bakr was leading the people in prayer, and when the people saw him they clapped. Abu Bakr would not turn around when he was praying, but when he heard them clapping, he turned around and saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He wanted to step back but (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) gestured to him to stay where he was. Abu Bakr, may Allah be pleased with him, raised his hands, then he moved backward and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came forward and led (the rest of) the prayer. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) finished praying, he said: What prevented you from staying where you were? He said: I would not like Allah to see the son of Abu Quhafah standing in front of His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). Then he (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) turned to the people and said: If you noticed something while you were praying, why did you clap? That is for women. Whoever notices something while he is praying, let him say: "Subhan Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5413
کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی (رض) پر ان کا قرضہ تھا، وہ راستے میں مل گئے تو انہیں پکڑ لیا، پھر ان دونوں میں تکرار ہوگئی، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہوگئیں، ان کے پاس سے رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا تو آپ نے فرمایا : کعب ! پھر اپنے ہاتھ سے ایک اشارہ کیا گویا آپ کہہ رہے تھے : آدھا ، چناچہ انہوں نے آدھا قرضہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔
It was narrated from Kab bin Malik that: He owed a debt by Abdullah bin Abi Hadrad Al-Aslami. He met him, and asked him to pay it off. They exchanged words until their voices became loud. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by them and said: "O Kab!" and he gestured with his hand to say half. So he took half of what was owed and let him off the other half.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5414
وائل (رض) کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھا جب قاتل کو مقتول کا ولی ایک رسی میں باندھ کر گھسیٹتا ہوا لایا، رسول اللہ ﷺ نے مقتول کے ولی سے فرمایا : کیا تم معاف کر دو گے ؟ وہ بولا : نہیں، آپ نے فرمایا : کیا دیت لو گے ؟ وہ بولا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو اسے قتل کرو گے ؟ کہا : جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے لے جاؤ (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا : کیا معاف کر دو گے ؟ کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : دیت لو گے ؟ کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : تو اسے قتل کرو گے ؟ کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : لے جاؤ اسے (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا : کیا معاف کر دو گے ؟ کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : دیت لو گے ؟ کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : تو اسے قتل کرو گے ؟ کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : لے جاؤ اسے (اور قتل کرو) پھر رسول اللہ ﷺ نے اس وقت فرمایا : اگر تم اسے معاف کر دو تو یہ اپنے گناہ اور تمہارے (مقتول) ساتھی کے گناہ سمیٹ لے گا ، یہ سن کر اس نے معاف کردیا اور اسے چھوڑ دیا، میں نے دیکھا کہ وہ اپنی رسی کھینچ رہا تھا۔
It was narrated that Wail said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a killer was brought by the heir of the victim by a string. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to the heir of the victim: Will you forgive him? He said: No. He said: Will you accept the Diyah? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him away. When he went and turned away from him, he called him back and said: Will you forgive him? He said: No. He said: Will you accept the Diyah? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him away. When he went and turned away from him, he called him back and said: Will you forgive him? He said: No. He said: Will you accept the Diyah? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him away. At that point the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: But if you forgive him, he will carry his own sin and the sin of your companion. So he forgave him, and I saw him dragging his string.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5415
عبداللہ بن زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے زبیر (رض) سے حرہ کی نالیوں کے سلسلے میں جھگڑا کیا، (جن سے وہ باغ کی سینچائی کرتے تھے) اور مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئے، انصاری نے کہا : پانی کو بہتا چھوڑ دو ، تو انہوں نے انکار کیا، ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس مقدمہ پیش کیا، تو آپ نے فرمایا : زبیر ! سینچائی کرلو پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ، انصاری کو غصہ آگیا، وہ بولا : اللہ کے رسول ! وہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں نا ؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے فرمایا : زبیر ! سینچائی کرو، اور پانی مینڈوں تک روک لو ، زبیر (رض) کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ یہ آیت : فلا وربک لا يؤمنون نہیں، تمہارے رب کی قسم ! وہ مومن نہیں ہوں گے (النساء : ٦٥ ) اسی سلسلے میں اتری۔
It was narrated from Urwah that Abdullah bin Az-Zubair narrated to him that: A man among the Ansar disputed with Az-Zubair concerning a stream in Al-Harrah from which they both used to water their date palm trees. The Ansari said: "Let the water flow," but he (Az-Zubair) refused. They brought their dispute to the Messenger of Allah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Irrigate (your land), O Zubair, then let the water flow to your neighbor." The Ansari became angry and said: "O Messenger of Allah, is it because he is your cousin?" The face of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) changed color (because of anger) and he said: "O Zubair, irrigate (your land) then block the water until it flows back to the walls." Az-Zubair said: "I think that this Verse was revealed concerning this matter: But no, by your Lord, they can have no faith.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5416
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا، گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس (بریرہ) کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں، اور ان کے آنسو ڈاڑھی پر بہہ رہے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے عباس (رض) سے کہا : عباس ! کیا آپ کو حیرت نہیں ہے کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث سے کس قدر نفرت کرتی ہے ؟ ، رسول اللہ ﷺ نے اس (بریرہ) سے فرمایا : اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاتی (تو بہتر ہوتا) اس لیے کہ وہ تمہارے بچے کا باپ ہے ، وہ بولیں : اللہ کے رسول ! کیا مجھے آپ حکم دے رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، میں تو سفارش کر رہا ہوں ، وہ بولیں : پھر تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The husband of Barirah was a slave called Mughith. It is as if I can see him walking behind her weeping, with the tears running down onto his beard. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to Al-Abbas: "O Abbas, are you not amazed by the love of Mughith for Barirah and the hatred of Barirah for Mughith?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to her: "Why dont you take him back, for he is the father of your child?" She said: "O Messenger of Allah, are you commanding me (to do so)?" He said: "I am just interceding." She said: "I have no need of him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5417
Notes · وضاحت
١ ؎: مغیث اور بریرہ (رضی اللہ عنہما) کے معاملہ میں عدالتی قانونی فیصلہ تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزادی مل جانے کے بعد مغیث کے نکاح میں نہ رہنے کا حق حاصل ہے مگر اس عدالتی فیصلہ سے پہلے بریرہ رضی اللہ عنہا سے قانوناً نہیں اخلاقی طور پر مغیث کے نکاح میں باقی رہنے کی سفارش کی، یہی باب سے مناسبت ہے، اور اس طرح کی سفارش صرف ایسے ہی معاملات میں کی جاسکتی ہے، جس میں مدعی کو اختیار ہو (جیسے بریرہ کا معاملہ اور قصاص ودیت والا معاملہ وغیرہ) لیکن چوری و زنا کے حدود کے معاملے میں اس طرح کی سفارش نہیں کی جاسکتی۔
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے مدابرہ کے طور پر اپنا ایک غلام آزاد کردیا، حالانکہ وہ ضرورت مند تھا اور اس پر قرض بھی تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے آٹھ سو درہم میں بیچ کر مال اسے دے دیا اور فرمایا : اپنا قرض ادا کرو اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرو ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "A man among the Ansar stated that his salve was to be set free after he died; he was in need, and he owed a debt. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sold him (the slave) for eight hundred Dirhams, and he gave (the money) to him and said: Pay off your debt and spend on your dependents.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5418
Notes · وضاحت
١ ؎: مدابرہ یہ کہنا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔
ابوامامہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو آدمی کسی مسلمان آدمی کا حق قسم کھا کر مار لے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا اور جنت اس پر حرام کر دے گا ، ایک شخص نے آپ سے کہا : اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : گرچہ وہ پیلو کی ایک ڈال ہو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Umamah that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever seizes the wealth of a Muslim unlawfully by means of his (false) oath, Allah makes the Fire required for him, Paradise unlawful for him." A man said to him: "O Messenger of Allah, even if it is something small?" He said: "Even if it is a twig of an Arak tree.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5419
Notes · وضاحت
١ ؎: جب جھوٹی قسم کھا کر پیلو کی ایک ڈال ہڑپ کرلینے پر اتنی سخت وعید ہے تو اتنی سی معمولی چیز کے بارے میں عدالتی فیصلہ بھی ہوسکتا ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٦١ (١٣٧) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٨ (٢٣٢٤) ، موطا امام مالک/الأقضیة ٨ (١١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٤) ، مسند احمد (٥/٢٦٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! ابوسفیان بخیل شخص ہیں، وہ مجھ پر اور میرے بچوں پر اس قدر نہیں خرچ کرتے ہیں جو کافی ہو، تو کیا میں ان کے مال میں سے کچھ لے لیا کروں اور انہیں پتا بھی نہ چلے ؟ آپ نے فرمایا : بھلائی کے ساتھ اس قدر لے لو کہ تمہارے لیے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "Hind came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said : O Messenger of Allah, Abu Sufyan is a stingy man who does not spend enough on my child and I. Can I take from his wealth without him realizing? He said: Take what is sufficient for you and your child on a reasonable basis.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5420
Notes · وضاحت
١ ؎: اس غائب اور غیر موجود کو پہچانتا ہو، اور مدعی کی صداقت اور مدعی علیہ کے حالات سے گہری واقفیت رکھتا ہو جیسا کہ ہند اور ابوسفیان (رض) کے معاملہ کی بابت آپ ﷺ جانتے تھے، ہر مدعی علیہ کے بارے میں اس طرح فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ عام حالات میں مدعی کی گواہی یا قسم اور مدعا علیہ کے بیان سننے کی ضرورت ہے۔
عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ (سجستان کے گورنر تھے) کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکرہ (رض) نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : کوئی ایک قضیہ میں دو فیصلے نہ کرے ١ ؎، اور نہ کوئی دو فریقوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کرے ۔
It was narrated that Abdullah bin Abi Bakrah, who was a governor in Sijistan, said: "Abu Bakrah wrote to me, saying: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: No one should pass two judgments on one issue, and no one should pass judgment between two disputing parties while he is angry.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5421
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ قضاء کا مقدمہ جھگڑے کو ختم کرنا ہے، اور ایک ہی معاملہ میں دو طرح کے فیصلے سے جھگڑا ختم نہیں ہوتا۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو، حالانکہ میں ایک انسان ہوں، اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے دلیل دینے میں چرب زبان ہو۔ میں تو صرف اس کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں، اب اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں (اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو گویا میں اس کو جہنم کا ٹکڑا دلا رہا ہوں ۔
It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: You refer your disputes to me, but I am only human. And some of you may be more eloquent in arguing their case than others, and I may pass judgment on the basis of what I hear. If I pass judgment in favor of one of you against his brothers rights, then it is a piece of the fire that I am giving him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5422
Notes · وضاحت
١ ؎: تو کیا وہ پانے والے کے لیے ہر حال میں حلال ہوگا ؟ نہیں، خود جب نبی اکرم ﷺ کے فیصلے پر ملنے سے حلال نہیں ہوسکتا، (اگر حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو دوسرے کسی قاضی کے فیصلے سے کیسے جائز ہوسکتا ہے، اس لیے اس طرح کے معاملے میں سخت محتاط رہنے کی ضرورت ہے، جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے تو یہ فیصلہ ٹھیک ہے، لیکن اس طرح کے فیصلے حرام کو حلال، اور حلال کو حرام نہیں کرسکتے، اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے خود اپنے فیصلے پر یہ عرض کیا کہ حقیقت میں غلط فیصلہ پر عمل آدمی کو جہنم پہنچا سکتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ بغض و نفرت لڑاکے اور جھگڑالو شخص سے ہے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The most hated of men to Allah is the most quarrelsome of opponents.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5423
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد : باطل کے لیے جھگڑا کرنے والا اور چرب زبانی کرنے والا ہے۔
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ دو لوگ ایک جانور کے بارے میں جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، ان میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اس کے آدھا کیے جانے کا فیصلہ کیا۔
It was narrated from Abu Musa: That two men referred a dispute to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) concerning an animal, and neither of them had any evidence, so he ruled that it be shared equally between them.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5424
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الٔرقضیة ٢٢ (٣٦١٣) ، سنن ابن ماجہ/الٔوحکام ١١ (٢٣٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٨٨) ، مسند احمد (٤/٤٠٣) (ضعیف) (اس روایت کی سند اور متن دونوں میں سخت اختلاف ہے، اس کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے، دیکھیے الإرواء رقم ٢٦٥٦ )
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ دو لڑکیاں طائف میں موزے (خف) بنایا کرتی تھیں، ان میں سے ایک باہر نکلی، تو اس کے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا، اس نے بتایا کہ اس کی سہیلی نے اسے زخمی کیا ہے، لیکن دوسری نے انکار کیا، تو میں نے اس سلسلے میں ابن عباس (رض) کو لکھا تو انہوں نے جواب لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ قسم تو مدعا علیہ سے لی جائے گی، اگر لوگوں کو ان کے دعوے کے مطابق (فیصلہ) مل جایا کرے تو بعض لوگ دوسرے لوگوں کے مال اور ان کی جان کا بھی دعویٰ کر بیٹھیں، اس لیے اس عورت کو بلا کر اس کے سامنے یہ آیت پڑھو : إن الذين يشترون بعهد اللہ وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة جو لوگ اللہ کے عہد اور قسموں کو معمولی قیمت سے بیچ دیتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (آل عمران : ٧٧ ) یہاں تک کہ آیت ختم کی، چناچہ میں نے اسے بلایا اور یہ آیت اس کے سامنے تلاوت کی تو اس نے اس کا اعتراف کیا، جب انہیں (ابن عباس کو) یہ بات معلوم ہوئی تو خوش ہوئے۔
It was narrated from Nafi bin Umar, that Ibn Abi Mulaikah said: "There were two female neighbors who used to do leatherwork (with an awl) in At-Taif. One of them came out with her hand bleeding and claimed that her companion had injured her, but the other one denied it. I wrote to Ibn Abbas concerning that. He wrote, (saying) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) ruled that the person against whom the claim was made should swear an oath. For if people were to be given what they claimed was theirs, then people would make claims against the wealth and blood of others." So he called her and recited this Verse to her: "Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allahs Covenant and their oaths, they shall have no portion in the Hereafter..." until the end of the Verse. He called her and recited that to her, and she confessed to that. News of that reached him and he was happy.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5425
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : کسی معاملہ میں قسم کی ضرورت پڑے تو پہلے حاکم جس سے قسم لے اس کو نصیحت کرے۔
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ معاویہ (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے حلقے کی طرف نکل کر آئے اور فرمایا : کیوں بیٹھے ہو ؟ وہ بولے : ہم بیٹھے ہیں، اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی ہدایت بخشی اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا، آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ٢ ؎ تم اسی لیے بیٹھے ہو ؟ وہ بولے : اللہ کی قسم ! ہم اسی لیے بیٹھے ہیں، آپ نے فرمایا : سنو، میں نے تم سے قسم اس لیے نہیں لی کہ تمہیں جھوٹا سمجھا، بلکہ میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں پر تمہاری وجہ سے فخر کرتا ہے ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "Muawiyah, (RA) said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out to a circle - meaning, of his Companions - and said: What are you doing? They said: We have come together to pray to Allah and praise Him for guiding us to His religion, and blessing us with you. He said: I ask you, by Allah, is that the only reason? They said: By Allah, we have not come together for any other reason. He said: I am not asking you to swear to an oath because of any suspicion; rather Jibril came to me and told me that Allah, the Mighty and Sublime, is boasting of you to the angels.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5426
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب کسی معاملہ میں قاضی کو قسم لینے کی ضرورت ہو تو کن الفاظ کے ساتھ قسم لے۔ ٢ ؎: اسی لفظ میں باب سے مناسبت ہے، یعنی آپ ﷺ لفظ واللہ سے قسم کھایا یا لیا کرتے تھے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا، تو اس سے پوچھا : کیا تم نے چوری کی ؟ وہ بولا : نہیں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ١ ؎، عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : میں نے یقین کیا اللہ پر اور جھوٹا سمجھا اپنی آنکھ کو۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Isa bin Mariam علیہ السلام saw a man stealing, and said to him: Are you stealing? He said: No, by Allah besides Whom there is no other God! Isa علیہ السلام said: I believe in Allah and I disbelieve my eyes.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5427
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں یہی قسم کے الفاظ ہیں، ان الفاظ کے ساتھ بھی کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ قسم کھایا یا لیا کرتے تھے، دونوں حدیثوں میں مذکور دونوں الفاظ کے علاوہ بھی کچھ الفاظ کے ذریعہ آپ ﷺ قسم کھایا یا کرتے تھے جیسے لا ومصرف القلوب، لا ومقلب القلوب وغیرہ۔