جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خیبر کے دن ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلانا اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
It was narrated that Jabir said: " On the Day of Khaibar, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) allowed us to eat the flesh of horses but he forbade us from the flesh of donkeys.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4329
خالد بن ولید (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانا حلال نہیں ۔
It was narrated from Khalid bin al-walid that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "It is not permissible to eat the flesh of horses, mules or donkeys.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4331
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٢٦ (٣٧٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٤ (٣١٩٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٠٥) ، مسند احمد (٤/٨٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” صالح بن یحییٰ “ ضعیف، اور ان کے باپ ” یحییٰ “ مجہول الحال ہیں )
خالد بن ولید (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے گھوڑے، خچر اور گدھے اور دانت والے ہر درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
It was narrated from Khalid bin Al-Walid that: the Messenger of Allah ﷺ forbade eating the flesh of horses, mules and donkeys, and any predator that has fangs.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4332
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ گھوڑوں کا گوشت کھاتے تھے، عطاء کہتے ہیں : میں نے کہا : خچر ؟ کہا : نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Ata, that Jabir said: We used to eat horseflesh. ": I said: "And mules?" He said: "No.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4333
Notes · وضاحت
١ ؎: امام نسائی نے پہلے گھوڑے کی حلت سے متعلق باب میں صحیح احادیث کی تخریج کی پھر اس کی حرمت سے متعلق باب میں دو حدیث ذکر کی، جس کی سند میں دو ضعیف راوی ہیں، اور آخر میں جابر (رض) کے اس اثر کو ذکر کر کے اس بات کو راجح قرار دیا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے۔
علی (رض) نے ابن عباس (رض) سے کہا : نبی اکرم ﷺ نے خیبر کے دن نکاح متعہ ١ ؎ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔
It was narrated from Al- Hasan bin Muhammad, and Abdullah bin Muhammad that their father said: "Ali said to IbnAbbas (RA): The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Mutah marriage, and the flesh of domesticated donkeys on the Day of Khaibar.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4334
Notes · وضاحت
١ ؎: نکاح متعہ یعنی وقتی نکاح جو جاہلیت میں کچھ پیسوں کے بدلے کیا جاتا تھا، شروع اسلام میں یہ حلال تھا، پھر جنگ خیبر کے دن ہمیشہ کے لیے حرام کردیا گیا۔ اس حدیث میں خاص توجہ کی چیز یہ ہے کہ شیعہ متعہ کو اب بھی حلال مانتے ہیں جب کہ آخری ممانعت کی حدیث علی (رض) ہی سے ہے۔
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ جنگ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت (کھانے) سے منع فرمایا۔
It was narrated from Al-Hasan bin Muhammad, and Abdullah bin Muhammad, from their father, that Ali bin Abi Talib may Allah be please with him, said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Mutah and the flesh of domesticated donkeys on the Day of Khaibar.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4335
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت (پکا ہوا ہو یا غیر پکا ہوا) سے منع فرمایا۔
It was narrated that Al-Bara said: "On the Day of Khaibar, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade the flesh of domesticated donkeys, cooked or raw.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4338
عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں کہ جنگ خیبر کے دن ہم نے گاؤں سے باہر کچھ گدھے پکڑ کر پکائے، اتنے میں نبی اکرم ﷺ کے منادی نے آواز لگائی کہ رسول اللہ ﷺ نے (گھریلو) گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے، لہٰذا تم لوگ ہانڈیاں الٹ دو ، چناچہ ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔
It was narrated that Abdullah bin Awfa said: "On the Day of khaiber we caught some donkeys outside the village and we cooked them. Then the caller of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) called out: The Messenger of Allah ﷺ has forbidden the flesh of donkeys, so turn over your cooking pots with whatever is in them. So we turned them over.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4339
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح کے وقت خیبر پہنچے اور وہ سب (خیبر والے) ہماری طرف نکلے تھے، ان کے ساتھ کدال (بیلچے) تھے، جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو کہا : محمد اور فوج، اور جلدی جلدی واپس قلعے میں چلے گئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا : اللہ أكبر اللہ أكبر، خیبر کا برا ہوا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے جنہیں تنبیہ کی جا چکی ہے ، وہاں کچھ گدھے ملے جنہیں ہم نے پکایا، اتنے میں نبی اکرم ﷺ کے منادی نے آواز لگائی : کہا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں اس لیے کہ یہ (یعنی گوشت) رجس (ناپاک) ہے۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ reached Khaibar in the morning, and they came out to us carrying their shovels. When they saw us they said: Muhammad and the army! And they rushed back inot the fortress. The Messenger of Allah ﷺ raised his hands, then he said: Allahu Akbar, Allahu Akbar, Khaibar is destroyed. Verily, when we descend in field of a people (i.e. near to them), evil will be the morning for those who had been warned! Acquired some donkeys there and we cooked the., Then the caller of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) called out: Allah and His Messenger forbid you to eat the flesh of donkeys, for it is an abomination.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4340
ابوثعلبہ خشنی (رض) کہتے ہیں کہ وہ لوگ (صحابہ کرام) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ کے لیے خیبر گئے، لوگ بھوکے تھے، انہیں وہاں گھریلو گدھوں میں سے کچھ گدھے مل گئے، لوگوں نے ان میں سے کچھ ذبح کیے۔ اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کو حکم دیا۔ انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا : سنو ! پالتو گدھوں کا گوشت اس شخص کے لیے حلال نہیں جو گواہی دے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ١ ؎۔
It was narrated from Abu ThaAabah Al-Khushani that: they went on a military campaign with the Messenger of Allah ﷺ to Khaibar, and the people were starving. They found some domesticated donkeys there, so the people slaughtered some of them. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was told about that, and he ordered Abdur-rahman bin Awf to announce to the people: "The flesh of domesticated donkeys is not permissible for the one who testifies that I am the Messenger of Allah ﷺ.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4341
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مسلمان کے لیے گدھا کا گوشت کھانا حلال نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٨٦٦) (صحیح) (اس کے راوی ” بقیہ “ ضعیف ہیں، مگر شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ بھی صحیح ہے )
ابوثعلبہ خشنی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دانت (سے پھاڑ نے) والے تمام درندوں اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
It was narrated from Abu Thalabah Al-khushani that: the Messenger of Allah ﷺ forbade eating any -predator with fangs, and the flesh of domesticated donkeys.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4342
جابر (رض) کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن ہم نے گھوڑوں اور نیل گائے کا گوشت کھایا، اور ہمیں نبی اکرم ﷺ نے (گھریلو) گدھے (کے گوشت کھانے) سے منع فرمایا۔
It was narrated that Jabir said: "On the Day of Khaibar we ate the flesh of horses, and onagers, but the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade us (from eating) donkeys."(sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4343
عمیر بن سلمہ ضمری (رض) کہتے ہیں کہ اس دوران جب کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ روحاء کے پتھروں میں چل رہے تھے اور لوگ احرام باندھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک زخمی نیل گائے ملی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ممکن ہے اسے زخمی کرنے والا آئے ، اتنے میں قبیلہ بہز کا ایک شخص آیا، اسی نے اس کو زخمی کیا تھا، وہ بولا : اللہ کے رسول ! آپ اس نیل گائے کو لے لیجئے تو آپ نے ابوبکر (رض) کو حکم دیا کہ وہ اسے لوگوں میں بانٹ دیں۔
It was narrated that Umair bin Salamah Ad-Damri said: "While we were traveling with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in part of Athaya Ar-Rawha and they were in Ihram, we saw a wounded onager, the Messenger of Allah ﷺ said: "Leave it, for soon the one who wounded it will come, then a man from Bahz came, and he was the one who had wounded the onager. He said: O Messenger of Allah, it is up to you what you do with this onager, The Messenger of Allah ﷺ ordered Abu Bakr to distribute it among the people.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4344
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک نیل گائے شکار کیا اور اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لے کر آئے، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے اور میں حلال (یعنی احرام سے باہر) تھا تو ہم نے اس میں سے کھایا، پھر ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کہا : ہم اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیتے تو بہتر ہوتا، چناچہ ہم نے آپ ﷺ سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ، پھر فرمایا : کیا تم لوگوں کے پاس اس میں سے کچھ ہے ؟ ہم نے کہا : جی ہاں، آپ نے فرمایا : ہمیں بھی دو ، تو ہم اس میں سے کچھ گوشت آپ کے پاس لے آئے، آپ نے اس میں سے کھایا حالانکہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔
It was narrated that from Ibn Abi Qatadah, from Abu Qatadah, that: he caught an onager and brought it to his companions who were in Ihram whereas he was not, and they ate from it. Then they said to one another: "Let us ask the Messenger of Allah ﷺ about it," So we asked him and he said:" You did well" Then he said to us: "Do you have anything left of it?" We said: "Yes." He said: "Give us some "So we brought him some, and he ate from it, while he was in Ihram.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4345
زہدم سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ (رض) کے پاس ایک مرغی لائی گئی تو لوگوں میں سے ایک شخص وہاں سے ہٹ گیا، ابوموسیٰ اشعری (رض) نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ وہ بولا : میں نے اسے دیکھا کہ وہ کوئی چیز کھا رہی تھی تو میں نے اس کو گندہ سمجھا اور قسم کھالی کہ میں اسے نہیں کھاؤں گا، ابوموسیٰ اشعری (رض) نے کہا : قریب آؤ اور کھاؤ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے کھاتے دیکھا ہے، اور اسے حکم دیا کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
It was narrated from Zahdam that: some chicken was brought to AbuMusa and a man moved away form the people. He said: "What is the matter with You?" He said: "I saw it eating something that I consider filthy, and I swore I would not eat it." Abu Musa said: "Come and eat, for I saw the Messenger of Allah ﷺ eating it." And he told him to offer expiation for his vow (Kafarat Al- Yamin)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4346