عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض (آڑے نیزہ اور تیر) کے شکار کے پوچھا سوال کیا تو آپ نے فرمایا : جب (شکار میں) معراض (آڑے نیزہ اور تیر) کی نوک لگے تو کھاؤ اور جب وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ۔
It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ about hunting with the Mirad and the said: If the sharp edge hits (the game), then eat, but if the broad edge of it strikes it, do not eat it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4307
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض (آڑے نیزہ اور تیر) کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : جب اس (شکار) میں معراض کی نوک لگے تو کھاؤ اور جب وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ کیونکہ وہ موقوذہ (چوٹ کھایا ہوا شکار) ہے ۔
It was narrated that Adiyy bin Htim said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ about hunting with Mirad and he said: If the sharp edge hits (the game), then eat, but if the broad edge of it strikes it, then it has been killed by a blow.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4308
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو باديہ (دیہات) میں رہے گا وہ سخت مزاج ہوگا، اور جو شکار کا پیچھا کرے گا وہ (اس کے علاوہ دوسری چیزوں سے) غافل ہوجائے گا، اور جو بادشاہ کا چکر لگائے گا وہ فتنے اور آزمائش میں پڑجائے گا ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever lives in the desert, he becomes hard-hearted, and whoever follows game becomes preoccupied with it (and neglectful toward other duties), and whoever follows the ruler will put himself through trial."(Sahih) The wording is of Ibn Al-Muthanna.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4309
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک خرگوش لایا، اس نے اسے بھون رکھا تھا، اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، رسول اللہ ﷺ رکے رہے اور خود نہیں کھایا اور لوگوں کو کھانے کا حکم دیا۔ اعرابی بھی رک گیا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : تمہیں کھانے سے کیا چیز مانع ہے ؟ وہ بولا : میں ہر ماہ تین دن کے روزے رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : اگر تمہیں روزے رکھنے ہیں تو چاندنی راتوں (تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں) میں رکھا کرو ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A Bedouin brought a rabbit to the Messenger of Allah ﷺ that he had grilled and placed it before him. The me4ssenger of Allah refrained form eating but he told the people to eat. The Bedouin also refrained from eating, and the Mesenger of Allah said to him: What is keeping you from eating?" He said: I fast three days of e4ach month." He Said: If you are going to fast, then fast the bright days (Al-Ghurr).
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4310
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٢٤٢٣ (ضعیف) (اس کے راوی ” عبدالملک “ مدلس اور مختلط ہیں، موسیٰ بن طلحہ سے صحیح سند ” عن أبی ذر “ ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے )
عمر (رض) کہتے ہیں کہ قاحہ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) کے دن ہمارے ساتھ کون تھا ؟ ابوذر (رض) بولے : میں، (اس دن) نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک خرگوش لایا گیا تو جو لے کر آیا اس نے کہا : میں نے اسے حیض آتے دیکھا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے نہیں کھایا پھر فرمایا : تم لوگ کھاؤ، ایک شخص نے کہا : روزہ دار ہوں، آپ نے فرمایا : تمہارا یہ کون سا روزہ ہے ؟ اس نے کہا : ہر ماہ تین دن والا، آپ ﷺ نے فرمایا : تو تم ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں راتوں کے روزے کیوں نہیں رکھتے ؟ ۔
It was narrated that Ibn Al- Hawtakiyyah said: "Umar, May Allah be pleased with us on the day when we stopped at Al-Qaha? Abu Dharr said: I was. A rabbit was brought to the Messenger Allah and the man who brought it said: I saw it bleeding (menstruating). The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not eat, then he said: "Eat." A man said: "I am fasting." He said: "What fast are you observing?" He said: "Three days each month" He said: "Why dont yo0u fast the bright shining days, the thirteenth, fourteenth and fifteenth.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4311
انس (رض) کہتے ہیں کہ مرالظہران میں میں نے ایک خرگوش کو چھیڑا اور اسے پکڑ لیا، میں اسے لے کر ابوطلحہ (رض) کے پاس آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا، پھر مجھے اس کی دونوں رانیں اور پٹھے دے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا، تو آپ نے اسے قبول فرمایا۔
Anas said: "We disturbed a rabbit in Marr Az-Zahran so I caught it, and brought it to Abu Talhah who slaughtered it, and sent me with its thighs and haunches to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he accepted it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4312
ابن صفوان (رض) کہتے ہیں کہ مجھے دو خرگوش ملے، انہیں ذبح کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو میں نے انہیں سفید پتھر سے ذبح کردیا ١ ؎، پھر نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلے میں پوچھا، تو آپ نے مجھے انہیں کھانے کا حکم دیا۔
It was narrated that Ibn Safwan said: "I caught two rabbits but I could not find anything with which to slaughter then, so I slaughtered them with a sharp-edged stone. I asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about that and he commanded me to eat them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4313
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سفید پتھر نوک دار تھا، کسی بھی دھاردار یا نوکدار چیز سے جس سے خون بہہ جائے، ذبح کردینے سے جانور کا ذبح کرنا شرع کے مطابق صحیح ہوگا اور اس کا کھانا حلال ہوگا، ذبح کا اصل مقصود اللہ کا نام لینا اور خون بہنا ہے۔
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تھے تو ضب کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : میں اسے نہ کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah ﷺ was asked about mastigures when he was on the Minbar and he said? "I do not eat them, but I do not say that they are Haram.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4314
Notes · وضاحت
١ ؎: ضب : گوہ ایک رینگنے والا جانور جو چھپکلی کے مشابہ ہوتا ہے، اس کو سوسمار بھی کہتے ہیں، سانڈا بھی گوہ کی قسم کا ایک جانور ہے جس کا تیل نکال کر گٹھیا کے درد کے لیے یا طلاء کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہ جانور نجد کے علاقہ میں بہت ہوتا ہے، حجاز میں نہ ہونے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے اس کو نہ کھایا لیکن آپ ﷺ کے دستر خوان پر یہ کھایا گیا اس لیے حلال ہے۔ جس جانور کو نبی اکرم ﷺ کے دستر خوان پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھایا اس کو عربی میں ضب کہتے ہیں اور خود حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ یہ نجد کے علاقہ میں پایا جانے والا جانور ہے، جو بلاشبہ حلال ہے۔ احناف اور شیعی فرقوں میں امامیہ کے نزدیک گوہ کا گوشت کھانا حرام ہے، فرقہء زیدیہ کے یہاں یہ مکروہ ہے، لیکن صحیح بات اس کی حلت ہے۔ نجد کے علاقے میں پایا جانے والا یہ جانور برصغیر (ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش) میں پائے جانے والے گوہ یا سانڈے سے بہت سی چیزوں میں مختلف ہے : ضب نامی یہ جانور صحرائے عرب میں پایا جاتا ہے، اور ہندوستان میں پایا جانے والا گوہ یا سانڈاز رعی اور پانی والے علاقوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ - نجدی ضب (گوہ) پانی نہیں پیتا اور بلا کھائے اپنے سوراخ میں ایک لمبی مدت تک رہتا ہے، کبھی طویل صبر کے بعد اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے، جب کہ برصغیر کا گوہ پانی کے کناروں پر پایا جاتا ہے، اور خوب پانی پیتا ہے۔ - نجدی ضب (گوہ) شریف بلکہ سادہ لوح جانور ہے، جلد شکار ہوجاتا ہے، جب کہ ہندوستانی گوہ کا پکڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ - ہندوستانی گوہ سانپ کی طرح زبان نکالتی اور پھنکارتی ہے، جب کہ نجدی ضب (گوہ) ایسا نہیں کرتی۔ نجدی ضب (گوہ) کی کھال کو پکا کر عرب اس کی کپی میں گھی رکھتے تھے، جس کو ضبة کہتے ہیں اور ہندوستانی گوہ کی کھال کا ایسا استعمال کبھی سننے میں نہیں آیا اس لیے کہ وہ بدبودار ہوتی ہے۔ ضب اور ورل میں کیا فرق ہے ؟ صحرائے عرب میں ضب کے مشابہ اور اس سے بڑا بالو، اور صحراء میں پائے جانے والے جانور کو وَرَل کہتے ہیں، تاج العروس میں ہے : ورل ضب کی طرح زمین پر رینگنے والا ایک جانور ہے، جو ضب کی خلقت پر ہے، إلا یہ کہ وہ ضب سے بڑا ہوتا ہے، بالو اور صحراء میں پایا جاتا ہے، چھپکلی کی شکل کا بڑا جانور ہے، جس کی دم لمبی اور سر چھوٹا ہوتا ہے، ازہری کہتے ہیں : وَرَل عمدہ قامت اور لمبی دم والا جانور ہے، گویا کہ اس کی دم سانپ کی دم کی طرح ہے، بسا اوقات اس کی دم دو ہاتھ سے بھی زیادہ لمبی ہوتی ہے، اور ضب (گوہ) کی دم گانٹھ دار ہوتی ہے، اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لمبی، عرب ورل کو خبیث سمجھتے اور اس سے گھن کرتے ہیں، اس لیے اسے کھاتے نہیں ہیں، رہ گیا ضب تو عرب اس کا شکار کرنے اور اس کے کھانے کے حریص اور شوقین ہوتے ہیں، ضب کی دم کھُردری، سخت اور گانٹھ والی ہوتی ہے، دم کا رنگ سبز زردی مائل ہوتا ہے، اور خود ضب مٹ میلی سیاہی مائل ہوتی ہے، اور موٹا ہونے پر اس کا سینہ پیلا ہوجاتا ہے، اور یہ صرف ٹڈی، چھوٹے کیڑے اور سبز گھاس کھاتی ہے، اور زہریلے کیڑوں جیسے سانپ وغیرہ کو نہیں کھاتی، اور ورل بچھو، سانپ، گرگٹ اور گوبریلا سب کھاتا ہے، ورل کا گوشت بہت گرم ہوتا ہے، تریاق ہے، بہت تیز موٹا کرتا ہے، اسی لیے عورتیں اس کو استعمال کرتی ہیں، اور اس کی بیٹ (کا سرمہ) نگاہ کو تیز کرتا ہے، اور اس کی چربی کی مالش سے عضو تناسل موٹا ہوتا ہے (ملاحظہ ہو : تاج العروس : مادہ ورل، و لسان العرب) سابقہ فروق کی وجہ سے دونوں جگہ کے نجدی ضب اور ورل اور ہندوستان پائے جانے والے جانور جس کو گوہ یا سانڈا کہتے ہیں، ان میں واضح فرق ہے، بایں ہمہ نجدی ضب (گوہ) کھانا احادیث نبویہ اور اس علاقہ کے مسلمانوں کے رواج کے مطابق حلال ہے، اور اس میں کسی طرح کی قباحت اور کراہت کی کوئی بات نہیں، رہ گیا ہندوستانی گوہ کی حلت و حرمت کا مسئلہ تو سابقہ فروق کو سامنے رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہیئے، اگر ہندوستانی گوہ نجاست کھاتا اور اس نجاست کی وجہ سے اس کے گوشت سے یا اس کے جسم سے بدبو اٹھتی ہے تو یہ چیز علماء کے غور کرنے کی ہے، جب گندگی کھانے سے گائے بکری اور مرغیوں کا گوشت متاثر ہوجائے تو اس کا کھانا منع ہے، اس کو اصطلاح میں جلالہ کہتے ہیں، تو نجاست کھانے والا جانور گوہ ہو یا کوئی اور وہ بھی حرام ہوگا، البتہ برصغیر کے صحرائی علاقوں میں پایا جانے والا گوہ نجد کے ضب (گوہ) کے حکم میں ہوگا۔ ضب اور ورل کے سلسلے میں نے اپنے دوست ڈاکٹر محمد احمد المنیع پروفیسر کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور صحرائے نجد کے جانوروں کے واقف کار ہیں، سوال کیا تو انہوں نے اس کی تفصیل مختصراً یوں لکھ کردی : نجدی ضب نامی جانور کھایا جاتا ہے، اور ورل نہیں کھایا جاتا ہے ضب کا شکار آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور ورل کا شکار مشکل کام ہے، ضب گھاس کھاتا ہے، اور ورل گوشت کھاتا ہے، ضب چیر پھاڑ کرنے والا جانور نہیں ہے، جب کہ ورل چیر پھاڑ کرنے والا جانور ہے، ضب کا ایک ہی رنگ ہوتا ہے، اور ورل دھاری دھار ہوتا ہے، ضب کی جلد کھُردری ہوتی ہے اور ورل کی جلد نرم ہوتی ہے، ضب کا سر چوڑا ہوتا ہے، اور وَرل کا سر دم نما ہوتا ہے، ضب کی گردن چھوتی ہوتی ہے، اور ورل کی گردن لمبی ہوتی ہے، ضب کی دم چھوٹی ہوتی ہے اور ورل کی دم لمبی ہوتی ہے، ضب کھُردرا اور کانٹے دار ہوتا ہے، اور ورل نرم ہوتا ہے، ضب اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے، اور ورل بھی اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے، اور دم سے شکار بھی کرتا ہے، ضب گوشت بالکل نہیں کھاتا، اور ورل ضب اور گرگٹ سب کھا جاتا ہے، ضب تیز جانور ہے، اور ورل تیز ترضب میں حملہ آوری کی صفت نہیں پائی جاتی جب کہ ورل میں یہ صفت موجود ہے، وہ دانتوں سے کاٹتا ہے، اور دم اور ہاتھ سے حملہ کرتا ہے، ضب ضرورت پڑنے پر اپنا دفاع کاٹ کر اور ہاتھوں سے نوچ کر یا دم سے مار کرتا ہے، اور وَرل بھی ایسا ہی کرتا ہے، ضب میں کچلی دانت نہیں ہے، اور وَرل میں کچلی دانت ہے، ضب حلال ہے، اور ورل حرام، ورل کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ زہریلا جانور ہے۔ صحرائے عرب کا ضب، وَرل اور ہندوستانی گوہ یا سانڈا سے متعلق اس تفصیل کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس جانور کے بارے میں صحیح صورت حال سامنے آجائے، حنفی مذہب میں بھینس کی قربانی جائز ہے اور دوسرے فقہائے کے یہاں بھی اس کی قربانی اس بنا پر جائز ہے کہ یہ گائے کی ایک قسم ہے، جب کہ گائے کے بارے میں یہ مشہور ہے اور مشاہدہ بھی کہ وہ پانی میں نہیں جاتی جب کہ بھینس ایسا جانور ہے جس کو پانی سے پیار اور کیچڑ سے محبت ہے اور جب یہ تالاب میں داخل ہوجائے تو اس کو باہر نکالنا مشکل ہوتا ہے، اگر بھینس کی قربانی کو گائے پر قیاس کر کے فقہاء نے جائز کہا ہے تو دونوں جگہ گوہ کے بعض فرق کا اعتبار نہ کرتے ہوئے اس جنس کے جانوروں کو حلال ہونا چاہیئے، اہل علم کو فقہی تنگنائے سے ہٹ کر نصوص شرعیہ کی روشنی میں اس مسئلہ پر غور کرنا چاہیئے اور عاملین حدیث کے نقطہٰ نظر کو صحیح ڈھنگ سے سمجھنا چاہیئے۔ گوہ کی کئی قس میں ہیں اور ہوسکتا ہے کہ بہت سی چیزیں سب میں قدر مشتر کہوں جیسے کہ قوت باہ میں اس کا مفید ہونا اس کی چربی کے طبی فوائد وغیرہ وغیرہ۔ حکیم مظفر حسین اعوان گوہ کے بارے میں لکھتے ہیں : نیولے کے مانند ایک جنگلی جانور ہے، دم سخت اور چھوٹی، قد بلی کے برابر ہوتا ہے، اس کے پنجے میں اتنی مضبوط گرفت ہوتی ہے کہ دیوار سے چمٹ جاتا ہے، رنگ زرد سیاہی مائل، مزاج گرم وخشک بدرجہ سوم … اس کی کھال کے جوتے بنائے جاتے ہیں۔ (کتاب المفردات : ٤٢٧ ) ، ظاہر ہے کہ یہ برصغیر میں پائے جانے والے جانور کی تعریف ہے۔ گوہ کی ایک قسم سانڈہ بھی ہے جس کے بارے میں حکیم مظفر حسین اعوان لکھتے ہیں : مشہور جانور ہے، جو گرگٹ یا گلہری کی مانند لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے، اس کی چربی اور تیل دواء مستعمل ہے، مزاج گرم و تر بدرجہ اول، افعال و استعمال بطور مقوی جاذب رطوبت، معظم ذکر، اور مہیج باہ ہے (کتاب المفردات : صفحہ ٢٧٥ )
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ضب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نہ اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں ۔
It was narrated from Ibn Umar that a man said: "O Messenger of Allah what do you think about mastigures?" He said: "I do not eat them but I do not say that they arte Haram.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4315
خالد بن ولید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بھنا ہوا ضب لایا گیا اور آپ کے قریب رکھا گیا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تاکہ اس سے کھائیں، تو وہاں موجود کچھ لوگوں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! یہ تو ضب کا گوشت ہے، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا، اس پر خالد بن ولید (رض) نے آپ سے کہا کہ اللہ کے رسول ! کیا ضب حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، لیکن میری قوم کی زمین میں نہیں تھا، لہٰذا مجھے اس سے گھن آرہی ہے ، پھر خالد (رض) نے اپنا ہاتھ ضب کی طرف بڑھایا اور اس میں سے کھایا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔
It was narrated form Khaild bin Al-Walid that: A grilled mastigure was brought to the Messenger of Allah ﷺ and was placed near to him. He reached out his hand to eat it, and someone who was present said: "O Messenger of Allah, it is the meat of a mastigure." He withdrew his hand and Khaild bin Al-Walid said to him: "O Messenger of Allah, is mastigure Haram?" He said: "No, but it is not found in the land of my people, and I find it distasteful." He said: "Then Khalid bent over the mastigure and ate some of it, and the Messenger of Allah ﷺ was looking at him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4316
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں خالد بن ولید (رض) ١ ؎ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے (یہ ان کی خالہ تھیں) ٢ ؎، تو رسول اللہ ﷺ کے سامنے ضب کا گوشت پیش کیا گیا، آپ کا معمول تھا کہ آپ کوئی چیز نہ کھاتے جب تک معلوم نہ ہوجائے کہ وہ کیا ہے، تو امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کہا : کیا تم رسول اللہ ﷺ کو نہیں بتاؤ گی کہ آپ کیا کھا رہے ہیں ؟ تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ یہ ضب کا گوشت ہے، چناچہ آپ نے اسے چھوڑ دیا، خالد (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کیا وہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، لیکن وہ ایسا کھانا ہے جو میری قوم کی زمین میں نہیں ہوتا، اس لیے مجھے اس سے گھن آرہی ہے ۔ خالد بن ولید (رض) کہتے ہیں : تو میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اسے کھایا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔ اس حدیث کو ابن الاصم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، ابن الاصم آپ کی گود میں پلے تھے۔
It was narrated from Ibn Abbas that: Khalid bin Al-Walid said that he entered upon Maimunah bint Al-Harith, who was his maternal aunt, with the Messenger of Allah ﷺ, and some meat of a mastigure was offered to the Messenger of Allah. The Messenger of Allah would not eat anything until he knew what it was. One of the women said: "Why dont you tell the Messenger of Allah what he is eating?" So she told him that it was the meat of a mastigure, and he stopped eating. Khalid said: "I asked the Messenger of Allah Is it Haram? He said: "No but it is a food that is no9t known in the land of my people, and I find it distasteful."" Khalid said: "I pulled it over toward myself and ate it, and the Messenger of Allah was watching me." And Ibn Al-Asamm narrated it from Maimunah, and he was in her apartment.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4317
Notes · وضاحت
١ ؎: ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ابن عباس کے دونوں بیٹے عبداللہ اور فضل اور خالد بن الولید تین کی خالہ ہیں، عبداللہ بن عباس کی والدہ کا نام لبابۃ الکبری ام الفضل ہے، اور خالد کی والدہ کا نام لبابۃ الصغریٰ بنت حارث بن حزن الھلالی ہے، رضی اللہ عنھن۔ ٢ ؎: ام المؤمنین خالد بن ولید (رض) کی خالہ تھیں، ابن الاصم یہ یزید بن الاصم، عمرو بن عبید بن معاویہ ہیں اور یزید میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میری خالہ (ام حفید رضی اللہ عنہا) نے مجھے پنیر، گھی اور ضب دے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا، آپ نے پنیر اور گھی میں سے کھایا اور کراہت کی وجہ سے ضب چھوڑ دی، لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کے دستر خوان پر کھائی گئی ١ ؎ اگر وہ حرام ہوتی تو رسول اللہ ﷺ کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی اور نہ ہی آپ اسے کھانے کا حکم فرماتے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "My maternal aunt gave some cottage cheese, cooking fat, and mastigures to the Messenger of Allah ﷺ He ate some of the cottage cheese and cooking fat, and left the mastigures, as he found them distasteful. But they were eaten upon the table-spread of the Messenger of Allah ﷺ and if they were Haram they would not have been eaten upon the table-spread of the Messenger of Allah ﷺ and he would not have told others to eat them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4318
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ان سے ضب کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : ام حفید (ابن عباس (رض) کی خالہ) نے رسول اللہ ﷺ کے پاس گھی پنیر اور ضب بھیجا تو آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور کراہت کی وجہ سے ضب چھوڑ دیا، لیکن اگر وہ حرام ہوتی تو رسول اللہ ﷺ کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی اور نہ آپ اسے کھانے کا حکم دیتے۔
It was narrated from Ibn Abbas that: he was asked about eating mastigures. He said: "Umm Hufaid gave some cooking fat, cottage cheese, and mastigures to the Messenger of Allah ﷺ and the ate some of the cooking fat and cottage cheese, but he did not eat the mastigures because he found them distasteful. If they were Haram they would not have been eaten at the table-spread of the Messenger of Allah ﷺ and the would not have told others to eat them.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4319
ثابت بن یزید انصاری (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ ٹھہرے، لوگوں کو ضب ملی، میں نے ایک ضب پکڑی اور اسے بھونا، پھر اسے لے کر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ نے ایک لکڑی لی اور اس کی انگلیاں گنیں، پھر فرمایا : بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی شکل مسخ کر کے زمین کے کچھ جانوروں کی طرح بنادی گئی، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سا جانور ہے ١ ؎، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں نے اس میں سے کھالیا ہے، تو پھر نہ آپ نے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا۔
It was narrated that Thabit bin Yazid Al-Ansari said: "We were with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) on a journey. We stopped to camp and the people caught some mastigures. I took a mastigure and grilled it, and brought it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He took a palm stalk, and started counting his fingers with it, and said: A nation from among the children of Israel was turned into beasts of the Earth, and I do not know what kind of animals they were, I said: O Messenger of Allah, the people have eaten some of them. He did not tell them to eat it, and he did not forbid them from eating it.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4320
Notes · وضاحت
١ ؎: احتمال ہے کہ آپ کا یہ فرمان اس وقت کا ہو جب آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ مسخ کی ہوئی مخلوق تین دن سے زیادہ مدت تک باقی نہیں رہتی۔
ثابت بن یزید بن ودیعہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ضب لایا۔ آپ اسے دیکھنے لگے اور اسے الٹا پلٹا اور فرمایا : ایک امت کی صورت مسخ کردی گئی تھی، نہ معلوم اس کا کیا ہوا، اور میں اس کا علم نہیں، شاید یہ اسی میں سے ہو ۔
It was narrated that Thabit bin Wadi ah said: "A man brought a mastigure to the Messenger of Allah ﷺ and he started looking at it, and turning it over. He said: A nation was transformed, it is not known what they did, and I do not know if this is one of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4321
ثابت بن یزید بن ودیعہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ضب لایا، آپ نے فرمایا : ایک امت مسخ کردی گئی تھی ، واللہ اعلم۔
It was narrated from al-Bara bin Azib, from Thabit bin Wadiah, that: a man brought a mastigure to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said? "A nation was transformed, and Allah knows best.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4322
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے لکڑ بگھا کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا، میں نے کہا : کیا وہ شکار ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، میں نے کہا : کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ کہا : ہاں ۔
It was narrated that Ibn Abi Ammar said: "I asked Jabir bin Abdullah about hyenas and he told me to eat them. I said: Are they game that can be hunted)? He said: Yes, I said: Did you hear that form the Messenger of Allah ﷺ He said: Yes.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4323
Notes · وضاحت
١ ؎: ضبع: ایک درندہ ہے، جو کتے سے بڑا اور اس سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اس کا سربڑا اور جبڑے مضبوط ہوتے ہیں، اس کی جمع اضبع ہے (المعجم الوسیط : ٥٣٣-٥٣٤ ) ہند و پاک میں اس درندے کو لکڑ بگھا کہتے ہیں، جو بھیڑیئے کی قسم کا ایک جنگلی جانور ہے، اور جسامت میں اس سے بڑا ہوتا ہے، اور اس کے کیچلی کے دانت بڑے ہوتے ہیں، اس کے جسم کے بال کالے اور راکھ کے رنگ کے رنگ دھاری دار ہوتے ہیں، پیچھے بائیں پاؤں دوسرے پاؤں سے چھوٹا ہوتا ہے، اس کا سر چیتے کے سر کی طرح ہوتا ہے، لیکن اس سے چھوٹا ہوتا ہے، وہ اپنے چوڑے چکلے مضبوط جبڑوں سے شیر اور چیتوں کے سر کو توڑ سکتا ہے، اکثر رات میں نکلتا ہے، اور اپنے مجموعے کے ساتھ رہتا ہے، یہ جانور زمین میں سوراخ کر کے مختلف چھوٹے چھوٹے کمرے بناتے ہیں، اور بیچ میں ایک ہال ہوتا ہے، جس میں سارے کمروں کے دروازے ہوتے ہیں، اور ایک دروازہ اس ہال سے باہر کو جاتا ہے، نجد میں ان کی اس رہائش کو مضبعہ یا مجفرہ کہتے ہیں، ماں پورے خاندان کی نگران ہوتی ہے، اور سب کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے، اور نر سوراخ کے کنارے پر چھوٹوں کی نگرانی کرتا ہے، یہ جانور مردہ کھاتا ہے، لیکن شکار کبھی نہیں کرتا اور کسی پر حملہ بھی نہیں کرتا إلا یہ کہ کوئی اس پر حملہ آور ہو، یہ جانوروں کے پیچھے رہتا ہے، اس کی گردن سیدھی ہوتی ہے، اس لیے دائیں بائیں جسم موڑے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اہل نجد کے یہاں یہ جانور کھایا جاتا تھا اور لوگ اس کا شکار کرتے تھے، میں نے اس کے بارے میں اپنے ایک دوست ڈاکٹر محمد احمد المنیع پروفیسر کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور بذات خود صحرائی جانور کا تجربہ رکھتے ہیں، سے پوچھا تو انہوں نے مذکورہ بالا تفصیلات سے مجھے آگاہ کیا اور اس کے زمین کے اندر کے گھر کا نقشہ بھی بنا کر دکھایا۔ اس کے گھر کو ماند اور کھوہ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ یہ تفصیل اس واسطے درج کی جاری ہے کہ مولانا وحیدالزماں نے ضبع کا ترجمہ بجو سے کیا ہے، فرماتے ہیں : فارسی زبان میں اسے کفتار اور ہندی میں بجو کہتے ہیں، یہ گوشت خور جانور ہے، جو بلوں میں رہتا ہے، مولانا محمد عبدہ الفلاح فیروز پوری کہتے ہیں کہ ضبع سے مراد بجو نہیں ہے بلکہ اس نوع کا ایک جانور ہے جسے شکار کیا جاتا ہے، اور اس کو لکڑ بگڑ کھا کہا جاتا ہے، جو سابقہ ریاست سندھ اور بہاولپور میں پایا جاتا ہے۔ اوپر کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث میں مذکور ضبع سے مراد لکڑ بگھا ہے، بجو نہیں، شاید مولانا وحیدالزماں کے سامنے دمیری کی حیاۃ الحیوان تھی جس میں ضبع کی تعریف بجو سے کی گئی ہے، اور شیخ صالح الفوزان نے بھی حیاۃ الحیوان سے نقل کر کے یہی لکھا ہے، مولانا وحیدالزماں بجو کے بارے میں فرماتے ہیں : اس سے صاف نکلتا ہے کہ بجو حلال ہے، امام شافعی کا یہی قول ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ دانت والا درندہ ہے، تو اور درندوں کی طرح حرام ہوگا، اور جب حلت اور حرمت میں تعارض ہو تو اس سے باز رہنا بھی احتیاط ہے ، سابقہ تفصیلات کی روشنی میں ہمارے یہاں لکڑ بگھا ہی ضبع کا صحیح مصداق ہے، اور اس کا شکار کرنا اور اس کو کھانا صحیح حدیث کی روشنی میں جائز ہے۔ واضح رہے کہ چیر پھاڑ کرنے والے حیوانات حرام ہے، یعنی جس کی کچلی ہوتی ہے، اور جس سے وہ چیر پھاڑ کرتا ہے، جیسے : کتا، بلی جن کا شمار گھریلو یا پالتو جانور میں ہے اور وحشی جانور جیسے : شیر، بھیڑیا، چیتا، تیندوا، لومڑی، جنگلی بلی، گلہری، بھالو، بندر، ہاتھی، سمور (نیولے کے مشابہ اور اس سے کچھ بڑا اور رنگ سرخ سیاہی مائل) گیدڑ وغیرہ وغیرہ۔ حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے یہاں یہ سارے جانور حرام ہیں، اور مالکیہ کا ایک قول بھی ایسے ہی ہے، لکڑ بگھا اور لومڑی ابویوسف اور محمد بن حسن کے نزدیک حلال ہے، جمہور علماء ان حیوانات کی حرمت کے دلیل میں ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر کچلی والے درندے کا کھانا حرام ہے (صحیح مسلم و موطا امام مالک) ۔ لکڑ بگھا حنابلہ کے یہاں صحیح حدیث کی بنا پر حلال ہے، کچلی والے درندے میں سے صرف لکڑ بگھا کو حرمت کے حکم سے مستثنی کرنے والوں کی دلیل اس سلسلے میں وارد احادیث و آثار ہیں، جن میں سے زیر نظر جابر (رض) کی حدیث ہے، جو صحیح ہے بلکہ امام بخاری نے بھی اس کی تصحیح فرمائی ہے (کمافي التلخیص الحبیر ٤/١٥٢ ) ، نافع مولیٰ ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر کو یہ بتایا کہ سعد بن ابی وقاص لکڑ بگھا کھاتے ہیں تو ابن عمر نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ مالکیہ کے یہاں ان درندوں کا کھانا حلال ہے، ان کا استدلال اس آیت کریمہ سے ہے : قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما مسفوحا أو لحم خنزير فإنه رجس أو فسقا أهل لغير الله به فمن اضطر غير باغ ولا عاد فإن ربک غفور رحيم (سورة الأنعام : 145) ان آیات میں درندوں کے گوشت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اس لیے یہ حلال ہوں گے اور ہر کچلی والے درندے کے گوشت کھانے سے ممانعت والی حدیث کراہت پر محمول کی جائے گی۔ خلاصہ یہ کہ مالکیہ کے علاوہ صرف حنبلی مذہب میں صحیح حدیث کی بنا پر لکڑ بگھا حلال ہے (ملاحظہ ہو : الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ : ٥/١٣٣-١٣٤ ) ۔
ابوثعلبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوٹا ہوا مال حلال نہیں، دانت (سے پھاڑنے) والا درندہ حلال نہیں، اور مجثمہ حلال نہیں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Thalabah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Wealth taken by force is (not permissible), any predator that has fangs is not permissible, and any animal used for target practice is not permissible.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4326
Notes · وضاحت
١ ؎: مجثمہ ہر وہ جانور جسے باندھ کر اس پر تیر وغیرہ چلایا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٨٦٥) ، مسند احمد (٤/١٩٤) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٤٤٣) (صحیح )