Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 219 of 289

4352Sunan An Nasaiصحیح

مرغ کے گوشت کی کھانے کی اجازت سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى، فَقُدِّمَ طَعَامُهُ، وَقُدِّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى فَلَمْ يَدْنُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: ادْنُ، فَإِنِّي قَدْرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ.

زہدم جرمی کہتے ہیں کہ ہم ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پاس تھے، اتنے میں انہیں ان کا کھانا پیش کیا گیا اور ان کے کھانے میں مرغی کا گوشت پیش کیا گیا، لوگوں میں بنی تیم کا ایک سرخ آدمی تھا جیسے وہ غلام ہو ١ ؎، وہ کھانے کے قریب نہیں آیا، اس سے ابوموسیٰ (رض) نے کہا : قریب آؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے کھاتے دیکھا ہے۔

It was narrated that Zahadam Al-Jarmi said: "We were with Abu Musa and His food was brought, including chicken. Among the people there was a man from banu Taimullah who had reddish complexion, as if he were a freed slave. He did not come close and Abu Musa said: "Come (and eat) for I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) eating it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4347
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ عام طور پر غلام عجمی ہوتے ہیں جو رومی یا ایرانی اور ترکی ہوتے تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣٨١٠ (صحیح )
4353Sunan An Nasaiصحیح

مرغ کے گوشت کی کھانے کی اجازت سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ بِشْرٍ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن پنجے والے تمام پرندوں کو کھانے سے اور دانت (سے پھاڑنے) والے تمام درندوں کو کھانے سے روکا۔

It was narrated from Ibn Abbas that: on the Day of Khaibar, the Prophet of Allah forbade eating any birds with talons and any predators with fangs. (Daif)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4348
Notes · وضاحت
١ ؎: اور چونکہ مرغی ان میں سے نہیں ہے اس لیے حلال ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٣٣ (٣٨٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١٣ (٣٨٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٣٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصید ٣ (١٩٣٤) ، مسند احمد (١/ ٣٣٩) (صحیح )
4354Sunan An Nasaiصحیح

چڑیوں کے گوشت کھانے کے اجازت سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ إِنْسَانٍ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا، إِلَّا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا ؟، قَالَ: يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلُهَا، وَلَا يَقْطَعُ رَأْسَهَا يَرْمِي بِهَا.

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو بھی انسان کسی گوریا، یا اس سے بھی زیادہ چھوٹی چڑیا کو ناحق قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اس کے متعلق سوال کرے گا ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اس کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ اسے ذبح کرے اور کھائے اور اس کا سر کاٹ کر نہ پھینکے ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no person who kills a small bird or anything larger for no just reason, but Allah, the Mighty and Sublime, will ask him about it." It was said: "O Messenger of Allah ﷺ, what does just reason; mean? Her said: "That you slaughter it and eat it, and do not cut off its head and throw it aside.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4349
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث گرچہ ضعیف ہے، لیکن دیگر دلائل سے گوریا حلال پرندوں میں سے ہے (دیکھئیے پچھلی حدیث) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٨٢٩) ، مسند احمد (٢/١٦٦، ١٩٧، ٢١٠) ، سنن الدارمی/الأضاحي ١٦ (٢٠٢١) ، ویأتي عند المؤلف في الضحایا ٤٢ (برقم : ٤٤٥٠) (حسن) (تراجع الالبانی ٤٥٧، صحیح الترغیب والت رہیب ٢٢٦٦ )
4355Sunan An Nasaiصحیح

دریائی مرے ہوئے جانور

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي مَاءِ الْبَحْرِ: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ.

ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سمندر کے پانی کے سلسلے میں فرمایا : اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) (said), concerning the water of the sea: "Its water is pure (and Purification) and its dead meat is permissible (to eat).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4350
Notes · وضاحت
١ ؎: سمندر کا مردار حلال ہے اس سے مراد سمندر کے وہ حلال جانور ہیں جو کسی صدمہ سے مرگئے اور سمندر نے ان کو ساحل کی طرف بہا دیا ہو اسی کو قرآن میں : أحل لکم صيد البحر وطعامه (المائدة : 96) میں طعام سے مراد لیا گیا ہے، یاد رہے سمندری جانور وہ کہلاتا ہے جو خشکی میں زندگی نہ گزار سکے جیسے مچھلی۔ مچھلی کی تمام اقسام حلال ہیں، دیگر جانور اگر مضر اور خبیث ہیں یا ان کے بارے میں نص شرعی وارد ہے تو حرام ہیں اگر کسی جانور کا نص شرعی سے نبی اکرم ﷺ یا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کھانا ثابت نہیں ہے، جبکہ وہ جانور ان کے زمانہ میں موجود تھا تو اس کے نہ کھانے کے بارے میں ان کی اقتداء ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٩ (صحیح )
4356Sunan An Nasaiصحیح

دریائی مرے ہوئے جانور

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ زَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا، فَفَنِيَ زَادُنَا حَتَّى كَانَ يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِنَّا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَأَيْنَ تَقَعُ التَّمْرَةُ مِنَ الرَّجُلِ ؟، قَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا، فَأَتَيْنَا الْبَحْرَ، فَإِذَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا.

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں نبی اکرم ﷺ نے (سریہ فوجی ٹولی میں) بھیجا، ہم تین سو تھے، ہم اپنا زاد سفر اپنی گردنوں پر لیے ہوئے تھے، ہمارا زاد سفر ختم ہوگیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص کے حصے میں روزانہ ایک کھجور آتی تھی، عرض کیا گیا : ابوعبداللہ ! اتنی سی کھجور آدمی کا کیا بھلا کرے گی ؟ انہوں نے کہا : ہمیں اس کا فائدہ تب معلوم ہوا جب ہم نے اسے بھی ختم کردیا، پھر ہم سمندر پر گئے، دیکھا کہ ایک مچھلی ہے جسے سمندر نے باہر پھینک دیا ہے، تو ہم نے اسے اٹھارہ دن تک کھایا۔

It was narrated that Jabir bin Abdulah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent us, a group of three hundred, and we carried our provision on our mounts. Our supplies ran our until each man of us had one date per day." It was said to him: "O AbuAbdullah , what good is one date for a man? He said: "When we ran out of dates it became very difficult for us. Then we found a whale that had been cast ashore by the sea. And we ate from it for eighteen days.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4351
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرکة ١ (٢٤٨٣) ، الجہاد ١٢٤ (٢٩٨٣) ، المغازي ٦٥ (٣٤٦٣) ، الصید ١٢ (٥٤٩٤) ، سنن الترمذی/القیامة ٣٤ (٢٤٧٥) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ١٢(٤١٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٣١٢٥) ، موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ ١٠(٢٤) (صحیح )
4357Sunan An Nasaiصحیح

دریائی مرے ہوئے جانور

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِائَةِ رَاكِبٍ، أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، قَالَ: فَأَلْقَى الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ فَثَابَتْ أَجْسَامُنَا، وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلْعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَنَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ جَمَلٍ، وَأَطْوَلِ رَجُلٍ فِي الْجَيْشِ فَمَرَّ تَحْتَهُ، ثُمَّ جَاعُوا فَنَحَرَ رَجُلٌ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ جَاعُوا فَنَحَرَ رَجُلٌ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ جَاعُوا فَنَحَرَ رَجُلٌ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟، قَالَ: فَأَخْرَجْنَا مِنْ عَيْنَيْهِ كَذَا وَكَذَا، قُلَّةً مِنْ وَدَكٍ، وَنَزَلَ فِي حَجَّاجِ عَيْنِهِ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ، وَكَانَ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ جِرَابٌ فِيهِ تَمْرٌ فَكَانَ يُعْطِينَا الْقَبْضَةَ، ثُمَّ صَارَ إِلَى التَّمْرَةِ، فَلَمَّا فَقَدْنَاهَا وَجَدْنَا فَقْدَهَا.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا۔ ہمارے امیر ابوعبیدہ بن جراح (رض) تھے، ہم قریش کی گھات میں تھے، چناچہ ہم سمندر کے کنارے ٹھہرے، ہمیں سخت بھوک لگی یہاں تک کہ ہم نے درخت کے پتے کھائے، اتنے میں سمندر نے ایک جانور نکال پھینکا جسے عنبر کہا جاتا ہے، ہم نے اسے آدھے مہینہ تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا، تو ہمارے بدن صحیح ثابت ہوگئے، ابوعبیدہ (رض) نے اس کی ایک پسلی لی پھر فوج میں سے سب سے لمبے شخص کو اونٹ پر بٹھایا، وہ اس کے نیچے سے گزر گیا، پھر ان لوگوں کو بھوک لگی، تو ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کئے، پھر ابوعبیدہ (رض) نے اسے روک دیا، (سفیان کہتے ہیں : ابوالزبیر جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں) ، پھر ہم نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا : کیا اس کا کچھ بقیہ تمہارے پاس ہے ؟ پھر ہم نے اس کی آنکھوں کی چربی کا اتنا اتنا گھڑا (بھرا ہوا) نکالا اور اس کی آنکھ کے حلقے میں سے چار لوگ نکل گئے، ابوعبیدہ کے ساتھ ایک تھیلا تھا، جس میں کھجوریں تھیں وہ ہمیں ایک مٹھی کھجور دیتے تھے پھر ایک ایک کھجور ملنے لگی، جب وہ بھی ختم ہوگئی تو ہمیں اس کے نہ ملنے کا احساس ہوا ١ ؎۔

It was narrated that Amr said: "I heard Jabir say: The Messenger of Allah ﷺ sent us, three hundred riders led by "Ubaidah bin al-Jarrah, to lie in wait for the caravan of the Quraish. We stayed on the coast and became very hungry, so much so that we ate Khabat. Then the sea cast ashore a beast called (Al-Anbar), and we ate from it for half a month, and daubed our bodies with its fat, and our health was restored. Abu Ubaidah took one it its ribs and looked for the tallest camel man and the tallest man in the army, and he passed beneath it. Then they got hungry again and a man slaughtyered three camels, the they got hungry and a man slaughtered three camels, then they got hungry and a man slaughtered three camels, then they got hungry and a man slaughtered three camels. Then Abu Ubaidah told him not to do that."(One of the narrators) Sufyan said:"Abu Az-Zubair said, narrating form Jabir: "We asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Do you have anything left of it?" he said; "We took out, such-and -such an amount of a fat from its (the whales) eyes, and four men could fit into its eye socket. Abu Ubaidah had a sack of dates and he used to give them out by the handful, then he started to give one date at a time, and when we ran our of dates it became very difficult for us.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4352
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں واقعات کی ترتیب آگے پیچھے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٦٥ (٤٣٦١) ، الصید ١٢ (٥٤٩٤) ، صحیح مسلم/الصید ٣ (١٩٣٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٢٩، ٢٧٧٠) ، مسند احمد (٣/٣٠٨) ، سنن الدارمی/الصید ٦ (٢٠٥٥) (صحیح )
4358Sunan An Nasaiصحیح

دریائی مرے ہوئے جانور

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ فِي سَرِيَّةٍ، فَنَفِدَ زَادُنَا فَمَرَرْنَا بِحُوتٍ قَدْ قَذَفَ بِهِ الْبَحْرُ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْهُ، فَنَهَانَا أَبُو عُبَيْدَةَ، ثُمَّ قَالَ: نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ كُلُوا. فَأَكَلْنَا مِنْهُ أَيَّامًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ بَقِيَ مَعَكُمْ شَيْءٌ فَابْعَثُوا بِهِ إِلَيْنَا.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ (رض) کے ساتھ ایک سریے (فوجی مہم) میں بھیجا، ہمارا زاد سفر ختم ہوگیا، ہمارا گزر ایک مچھلی سے ہوا جسے سمندر نے باہر نکال پھینکا تھا۔ ہم نے چاہا کہ اس میں سے کچھ کھائیں تو ابوعبیدہ (رض) نے ہمیں اس سے روکا، پھر کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے نمائندے ہیں اور اللہ کے راستے میں نکلے ہیں، تم لوگ کھاؤ، چناچہ ہم نے کچھ دنوں تک اس میں سے کھایا، پھر جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو ہم نے آپ کو اس کی خبر دی، آپ نے فرمایا : اگر تمہارے ساتھ (اس میں سے) کچھ باقی ہو تو اسے ہمارے پاس بھیجو ١ ؎۔

It was narrated that Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent us with Abu Ubaidah on a campaign. Our supplies ran out. Then we passed by a whale that had been cast ashore by the sea. We wanted to eat form it, but Abu; Ubaidah told us not to then he said: We are the envoys of the Messenger of Allah ﷺ for the sake of Allah So eat So we ate form it for several days. When we came to the Messenger of Allah we told him about that and he said: If you have anything left of it then send it to us.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4353
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا کہ آپ ﷺ نے اس کو حلال قرار دیا تبھی تو اس میں سے طلب فرمایا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٩٩٢) ، مسند احمد (٣/٣٠٣) (صحیح )
4359Sunan An Nasaiصحیح

دریائی مرے ہوئے جانور

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ، وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ فَأَعْطَانَا قَبْضَةً قَبْضَةً، فَلَمَّا أَنْ جُزْنَاهُ أَعْطَانَا تَمْرَةً تَمْرَةً حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَمُصُّهَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ، وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ، فَلَمَّا فَقَدْنَاهَا وَجَدْنَا فَقْدَهَا حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَخْبِطُ الْخَبَطَ بِقِسِيِّنَا وَنَسَفُّهُ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى سُمِّينَا جَيْشَ الْخَبَطِ، ثُمَّ أَجَزْنَا السَّاحِلَ فَإِذَا دَابَّةٌ مِثْلُ الْكَثِيبِ، يُقَالُ لَهُ: الْعَنْبَرُ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ لَا تَأْكُلُوهُ. ثُمَّ قَالَ جَيْشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَنَحْنُ مُضْطَرُّونَ، كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَجَعَلْنَا مِنْهُ وَشِيقَةً، وَلَقَدْ جَلَسَ فِي مَوْضِعِ عَيْنِهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، قَالَ: فَأَخَذَ أبُو عُبَيْدَةَ ضِلْعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَرَحَلَ بِهِ أَجْسَمَ بَعِيرٍ مِنْ أَبَاعِرِ الْقَوْمِ فَأَجَازَ تَحْتَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا حَبَسَكُمْ، قُلْنَا: كُنَّا نَتَّبِعُ عِيرَاتِ قُرَيْشٍ، وَذَكَرْنَا لَهُ مِنْ أَمْرِ الدَّابَّةِ، فَقَالَ: ذَاكَ رِزْقٌ رَزَقَكُمُوهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، أَمَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟، قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ (رض) کے ساتھ (ایک فوجی مہم میں) بھیجا، ہم تقریباً تین سو دس لوگ تھے، ہمیں توشہ کے بطور کھجور کا ایک تھیلا دیا گیا، وہ ہمیں ایک ایک مٹھی دیتے، پھر جب ہم اکثر کھجوریں کھاچکے تو ہمیں ایک ایک کھجور دینے لگے، یہاں تک کہ ہم اسے اس طرح چوستے جیسے بچہ چوستا ہے اور اس پر پانی پی لیتے، جب وہ بھی ختم ہوگئی تو ہمیں ختم ہونے پر اس کی قدر معلوم ہوئی، نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہم اپنی کمانوں سے پتے جھاڑتے اور اسے چبا کر پانی پی لیتے، یہاں تک کہ ہماری فوج کا نام ہی جیش الخبط (یعنی پتوں والا لشکر) پڑگیا، پھر جب ہم سمندر کے کنارے پر پہنچے تو ٹیلے کی طرح ایک جانور پڑا ہوا پایا جسے عنبر کہا جاتا ہے، ابوعبیدہ (رض) نے کہا : مردہ ہے مت کھاؤ، پھر کہا : رسول اللہ ﷺ کا لشکر ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے اور ہم مجبور ہیں، اللہ کا نام لے کر کھاؤ، چناچہ ہم نے اس میں سے کھایا اور کچھ گوشت بھون کر سکھا کر رکھ لیا، اس کی آنکھ کی جگہ میں تیرہ لوگ بیٹھے، ابوعبیدہ (رض) نے اس کی پسلی لی پھر کچھ لوگوں کو اونٹ پر سوار کیا تو وہ اس کے نیچے سے گزر گئے، جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : تمہیں کس چیز نے روکے رکھا ؟ ہم نے عرض کیا : ہم قریش کے قافلوں کا پیچھا کر رہے تھے، پھر ہم نے آپ سے اس جانور (عنبر مچھلی) کا معاملہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخشا ہے، کیا اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ sent us with Abu Ubaidah and we numbered over three hundred men. He supplied us with a sack of dates and gave them out by the handful. When he ran short, he gave us one date at a time, until we used to suck on it like an infant, and we would drink water with it. When we ran out of them it became very difficult for us. We used to hit the Khabat leaves with our bows to knock them down) and swallow them, then drink water with it. We became known as Jaish Al-Khabat (the Khabat army). Then, when we were about to turn inland, we saw a beast like a hill, caloled Al-Anbar. Abu Ubaidah said: It is dead meat, do not eat it. Then he said: The army of the Messenger of Allah ﷺ in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and we are forced by necessity; eat in the name of Allah. So we arte from it and we made some if it into jerked meat. Thirteen men could sit in its eye-socket. Abu Ubaidah took one of its ribs and seated a man on the biggest camel that the people had, and they passed beneath it. When we came to the Messenger of Allah ﷺ, he said: What kept you so long? We said: The Quraish and we told him about the beast. He said: That is provision that Allah granted to you. Do you have anything of it with you? "We said: Yes.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4354
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٩٨٧) (صحیح )
4360Sunan An Nasaiصحیح

مینڈک سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ: أَنَّ طَبِيبًا ذَكَرَ ضِفْدَعًا فِي دَوَاءٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهِ.

عبدالرحمٰن بن عثمان (رض) عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ ﷺ کے پاس دوا میں مینڈک کا تذکرہ کیا تو آپ نے اسے مار ڈالنے سے روکا ١ ؎۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Uthman that: a physician made mention of the use of frogs in a remedy in the presence of the Messenger of Allah ﷺ and the Messengher of Allah forbade killing them. (sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4355
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ نے مینڈک کو مار کر دوا میں استعمال کرنے سے روکا، کیونکہ یہ نجس و ناپاک ہے اور ناپاک چیزوں سے علاج حرام ہے، نیز مینڈک کو مارنے سے روکنے سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا کھانا بھی حرام ہے، کیونکہ کھانے کے لیے بھی قتل کرنا پڑتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطب ١١ (٣٨٧١) ، الأدب ١٧٧ (٥٢٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٠٦) ، مسند احمد (٣/٤٥٣، ٤٩٩) ، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٦ (٢٠٤١) (صحیح )
4361Sunan An Nasaiصحیح

ٹڈی سے متعلق حدیث شریف

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورَ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَكُنَّا نَأْكُلُ الْجَرَادَ.

عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات جنگیں کیں، ہم (ان میں) ٹڈی کھاتے تھے۔

It was narrated from Abu Ya fur that he heard Abdullah bin Abi Awfa says: "We went on seven campaigns with the Messenger of Allah ﷺ and we used to eat locusts.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4356
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ١٣ (٥٤٩٥) ، صحیح مسلم/الصید ٨ (١٩٥٢) ، سنن ابی داود/الأطعمة ٣٥ (٣٨١٢) ، سنن الترمذی/الأطعمة ١٠ (١٨٢١) ، (تحفة الأشراف : ٨١٨٢) مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٧، ٣٨٠) ، سنن الدارمی/الصید ٥ (٢٠٥٣) (صحیح )
4362Sunan An Nasaiصحیح

ٹڈی سے متعلق حدیث شریف

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى: عَنْ قَتْلِ الْجَرَادِ ؟، فَقَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ.

ابویعفور کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے ٹڈی کے مارنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ جنگیں کی ہیں، ہم (ان میں) ٹڈی کھاتے تھے۔

It was narrated that Abuy ya fur said: "I asked Abdullah bin Abu Awfa about killing locusts and he said: I went on six campaigns with the Messenger of Allah ﷺ hand we ate locusts.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4357
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4363Sunan An Nasaiصحیح

چیو نٹی مارنے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ، أَنْ قَدْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ، أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک چیونٹی نے نبیوں میں سے ایک نبی کو کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کے گھر کو جلا دینے کا حکم دیا اور وہ جلا دیا گیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی : اگر تمہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا تھا تو (ایک ہی کو مارتے مگر) تم نے ایک ایسی امت (مخلوق) کو مار ڈالا جو (ہماری) تسبیح (پاکی بیان) کر رہی تھی ١ ؎۔

Was narrated from Abu Hurairah from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم): "An ant bit one of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s, and he ordered that the ant nest be burned. Then Allah revealed to him: "One ant bit you, and you destroyed one of the nations that glorify Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4358
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نبی کی شریعت میں کاٹنے والی چیونٹی کو جلانا جائز تھا مگر اسلامی شریعت میں جلانا جائز نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٥٣ (٣٠١٩) ، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٩) ، صحیح مسلم/السلام ٣٩ (٢٢٤١) ، سنن ابی داود/الأدب ١٧٦ (٥٢٦٦) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١٠(٣٢٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٠٧، ١٣٣١٩) ، مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح )
4364Sunan An Nasaiصحیح

چیو نٹی مارنے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ: نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِبَيْتِهِنَّ فَحُرِّقَ عَلَى مَا فِيهَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةٌ وَاحِدَةٌ. وقَالَالْأَشْعَثُ: عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ: فَإِنَّهُنَّ يُسَبِّحْنَ.

حسن بصری سے روایت ہے کہ ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے تو انہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے ان کے گھروں کے بارے میں حکم دیا تو ان میں جو بھی تھا اسے جلا دیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل کی : آخر تم نے صرف ایک کو کیوں نہ جلایا ۔ اشعث کہتے ہیں : ابن سیرین سے روایت ہے وہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ (رض) نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں یہ زائد ہے اس لیے کہ وہ تسبیح (اللہ کی پاکی بیان) کر رہی تھیں ۔

It was narrated from al-Hasan: "One of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s stopped beneath a tree and an ant bit him, so he gave instructions that their nest be burned with all the ants inside it. Then Allah revealed to him" Why did you not punish just one ant?" Al-Ash ath said: "A similar report was narrated from Ibn Sirin, from Abu Hurairah, from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), in which were added the words: for they glorify Allah.

صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4359
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٢٥٧، ١٤٤٠٤) ، ویأتي عند المؤلف : ٤٣٦٦) (صحیح) (حدیث اور حسن بصری کا اثر دونوں صحیح ہیں )
4365Sunan An Nasaiضعیف

چیو نٹی مارنے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح مروی ہے لیکن یہ مرفوع نہیں ہے۔

Narrated from Abu Hurairah: A similar report was narrated from Abu Hurairah, but was not attributed to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).

ضعيف الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4360
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٣٦٣ (ضعیف الإسناد) (حسن بصری مدلس ہیں، نیز ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ان کا سماع نہیں ہے )
4366Sunan An Nasaiصحیح

چیو نٹی مارنے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ حَتَّى يُضَحِّيَ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے ذی الحجہ کے مہینے کا چاند دیکھا پھر قربانی کرنے کا ارادہ کیا تو وہ اپنے بال اور ناخن قربانی کرنے تک نہ لے ١ ؎۔

It was narrated from Ummm Salamah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever sees the new crescent of Dhul-Hijjah and wants to offer a sacrifice, let him not remove any of his hair or nails until he has offered the sacrifice.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4361
Notes · وضاحت
١ ؎: بال اور ناخن وغیرہ کچھ نہ کاٹے، جمہور کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحی ٣ (١٩٧٧) ، سنن ابی داود/الضحایا ٣ (٢٧٩١) ، سنن الترمذی/الضحایا ٢٤(١٥٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الضحایا ١١ (٣١٥٠) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٥٢) مسند احمد ٦/٢٨٩، ٣٠١، ٣١١، سنن الدارمی/الأضاحی ٢ (١٩٩٠) ، ویأتی برقم : ٤٣٦٧-٤٣٦٩) (صحیح )
4367Sunan An Nasaiصحیح

چیو نٹی مارنے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَقْلِمْ مِنْ أَظْفَارِهِ، وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي عَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص قربانی کرنا چاہے تو وہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں نہ اپنے ناخن کترے اور نہ بال کٹوائے ۔

It was narrated that Amr bin Muslim said: "Ibn Al-Musayyab told me that Umm Salamah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told him that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever wants to offer a sacrifice, let him not remove anything from his nails or cut his hair for the first ten days Dhul-Hijjah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4362
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4368Sunan An Nasaiضعیف

چیو نٹی مارنے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ الْأَحْلَافِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَدَخَلَتْ أَيَّامُ الْعَشْرِ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا أَظْفَارِهِ. فَذَكَرْتُهُ لِعِكْرِمَةَ، فَقَالَ: أَلَا يَعْتَزِلُ النِّسَاءَ، وَالطِّيبَ.

تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جو شخص قربانی کا ارادہ کرے اور (ذی الحجہ کے ابتدائی) دس دن شروع ہوجائیں تو اپنے بال اور اپنے ناخن نہ کترے، میں نے اس چیز کا ذکر عکرمہ سے کیا تو انہوں نے کہا : وہ عورتوں اور خوشبو سے بھی دور رہے ١ ؎۔

It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Whoever wants to offer a sacrifice when dhul-Hijjah begins, let him not remove anything from his hair or nails." I (the narrator) mentioned that to Ikrimah, and he said: "Should he not also keep away from women and perfume?

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4363
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کو اس بابت مرفوع حدیث نہیں پہنچی تھی اس لیے بطور طنز ایسا کہا، ویسے اس کی سند ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر رقم : ٤٣٦٦ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” شریک القاضی “ حافظے کے کمزور ہیں )
4369Sunan An Nasaiصحیح

چیو نٹی مارنے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ فَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ بَشَرِهِ شَيْئًا.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں کا کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے اپنے بال اور اپنی کھال سے کچھ نہیں چھونا چاہیئے ۔

It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah ﷺ said: "when the (first) ten (days of Dhul-Jijjah) begin, and one of you wants to offer a sacrifice, let him not remove anything from his hair or skin.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4364
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٣٦٦ (صحیح )
4370Sunan An Nasaiصحیح

جس شخص میں قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو؟

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، وَذَكَرَ آخَرِينَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى، أَفَأُضَحِّي بِهَا ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ، وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ، وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : مجھے قربانی کے دن (دسویں ذی الحجہ) کو عید منانے کا حکم ہوا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لیے عید کا دن بنایا ہے ، وہ شخص بولا : اگر میرے پاس سوائے ایک دو دھاری بکری کے کچھ نہ ہو تو آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا میں اس کی قربانی کروں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ تم (قربانی کے دن) ١ ؎ اپنے بال، ناخن کاٹو، اپنی مونچھ تراشو اور ناف کے نیچے کے بال کاٹو، تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری مکمل قربانی ہے ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr bin al-As that the Messenger of Allah ﷺ said to a man: "I have been instructed to take the Day of Sacrifice as an Id which Allah, the Might and Sublime, has ordained for this Ummah." The man said: "What do you think if I cannot find anything but a female sheep that has been loaned to me so that I may benefit from its milk - should I sacrifice it?" He said: "No. Rather cut something from your hair and your nails, trim your mustache and shave your pubic hairs, and you will have a complete reward with Allah, the Might and Sublime, as if you had offered the sacrifice.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4365
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جاؤ، اور عید کی نماز پڑھ کر ان کو کاٹو تو تمہیں بھی مکمل قربانی کا ثواب ملے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحی ١ (٢٧٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٠٩) ، مسند احمد (٢/١٦٩) (حسن) (شیخ البانی نے ” عیسیٰ بن ہلال صوفی “ کو مجہول قرار دے کر اس حدیث کی تضعیف کی ہے ۔ جب کہ عیسیٰ ب تحقیق ابن حجر ” صدوق “ ہیں دیکھئے ” أحکام العیدین للفریابی “ تحقیق مساعد الراشد حدیث رقم ٢ )
4371Sunan An Nasaiصحیح

امام کا عید گاہ میں قربانی کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِأَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْبَحُ، أَوْ يَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ میں ہی (قربانی کا جانور) ذبح یا نحر کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Nafi that: Abdullah told him that the Messenger of Allah ﷺ used to offer the sacrifice at the prayer place.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4366
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں مدینہ میں عید گاہ کے اندر قربانی کرنے کی سہولت میسر تھی تو آپ نے ایسا کیا، اگر آج ایسی سہولت میسر ہو تو عید گاہ کے اندر ایسا کیا جاسکتا ہے، یہ کوئی واجب اور سنت نہیں کہ ہر حال میں ایسا ہی کیا جائے، اس زمانہ میں تو اب شاید کسی دیہات میں بھی یہ سہولت نہ ہو، شہروں میں تو اب ایسا ممکن ہی نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ١٥٩٠ (صحیح )