سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں (اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں (البقرہ: ١٨٤ ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص چاہتا کہ وہ افطار کرے (کھائے پئے) اور فدیہ دیدے (تو وہ ایسا کرلیتا) یہاں کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اسے منسوخ کردیا ١ ؎۔
It was narrated that Salamah bin Al-Akwa’ said: “When this Verse was revealed - ‘And as for those who can fast with difficulty, (e.g. an old man), they have (a choice either to fast or) to feed a MiskIn (poor person) (for every day) - those among us who did not want to fast would pay the Fidyah, until the Verse after it was revealed and abrogated this.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2316
Notes · وضاحت
١ ؎: بعد والی آیت سے مراد سورة البقرہ کی یہ آیت ہے فمن شہد منکم الشھر فلیصمہ یعنی تم میں سے جو بھی آدمی رمضان کا مہینہ پائے وہ روزہ رکھے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: وعلى الذين يطيقونه میں يطيقونه کی تفسیر میں کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھنے کے مکلف ہیں، (تو ہر روزہ کے بدلے) ان پر ایک مسکین کے دونوں وقت کے کھانے کا فدیہ ہے، (اور جو شخص ازراہ ثواب و نیکی و بھلائی) ایک سے زیادہ مسکین کو کھانا دے دیں تو یہ منسوخ نہیں ہے، (یہ اچھی بات ہے، اور زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ روزہ ہی رکھے جائیں) یہ رخصت صرف اس شخص کے لیے ہے جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو، یا بیمار ہو اور اچھا نہ ہو پا رہا ہو۔
It was narrated from Ata from Ibn Abbas: concerning this verse "And as for those who can fast with difficulty, (a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day)." That for those who can fast with difficulty means they find it hard; to feed a Miskin means feeding one poor person for each day. But whoever does good of his own accord means feeding another poor person. This is not abrogated, and it is bette for him. And: that "you fast is better for you" means there is no concession regarding this except for those who are not able to fast, or who are incurably sick.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2317
معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا عورت جب حیض سے پاک ہوجائے تو نماز کی قضاء کرے؟ انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ١ ؎ ہے؟ ہم عورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں حیض سے ہوتی تھیں، پھر ہم پاک ہوتیں تو آپ ہمیں روزہ کی قضاء کا حکم دیتے تھے، اور نماز کی قضاء کے لیے نہیں کہتے تھے۔
It was narrated from Muadhah Al-’Adawiyyah that a woman asked Aishah (RA): “Should a menstruating woman make up the prayers when she becomes pure?” She said: “Are you a Haruri? We used to menstruate at the time of the Messenger of Allah ﷺ then we would become pure. He told us to make up the fast, but he did not tell us to make up the prayers.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2318
Notes · وضاحت
١ ؎: حروریۃ حروراء کی طرف منسوب ہے، جو کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے، چونکہ خوارج یہیں جمع تھے اس لیے اسی کی طرف منسوب کر کے حروری کہلاتے تھے، یہ لوگ حیض کے دنوں میں فوت شدہ نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیتے تھے۔
محمد بن صیفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کے دن فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے آج کے دن کھایا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن ہوں نے روزہ رکھا ہے، اور کچھ لوگوں نے نہیں رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا باقی دن (بغیر کھائے پیئے) پورا کرو ١ ؎، اہل عروض ٢ ؎ کو خبر کرا دو کہ وہ بھی اپنا باقی دن (بغیر کھائے پئے) پورا کریں ۔
It was narrated that Muhammad bin Saifi said: "The Messenger of Allah said on the day of Ashura: Is there anyone among you who has eaten today? They said: Some of us are fasting and some of us are not. He said: Do not eat for the rest of the day, and send word to the people of Al-Al-Arud telling them not to eat for the rest of the day.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2320
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنا باقی دن بغیر کھائے پیئے پورا کرو، اسی جملہ سے ترجمۃ الباب پر استدلال ہے، اس میں روزہ رکھنے والوں اور روزہ نہ رکھنے والوں دونوں کو اتمام کا حکم ہے۔ ٢ ؎: عروض کا اطلاق مکہ، مدینہ اور اس کے اطراف پر ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ٤١ (١٧٣٥)، (تحفة الأشراف: ١١٢٢٥)، مسند احمد ٤/٣٨٨ (صحیح )
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے کہا: لوگوں میں عاشوراء کے دن اعلان کر دو: جس نے کھالیا ہے وہ باقی دن (بغیر کھائے پیئے) پورا کرے، اور جس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھے ۔
It was narrated that Yazid said: “Salamah told us that the Messenger of Allah ﷺ said to a man: ‘Announce the day of Ashura’. Whoever has eaten let him not eat for the rest of the day, and whoever has not eaten, let him fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2321
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن میرے پاس آئے، اور پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ (کھانے کو) ہے؟ تو میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو میں روزہ سے ہوں ، اس دن کے بعد پھر ایک دن آپ میرے پاس سے گزرے، اس دن میرے پاس تحفہ میں حیس ١ ؎ آیا ہوا تھا، میں نے اس میں سے آپ کے لیے نکال کر چھپا رکھا تھا، آپ کو حیس بہت پسند تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے حیس تحفے میں دیا گیا ہے، میں نے اس میں سے آپ کے لیے چھپا کر رکھا ہے، آپ نے فرمایا: لاؤ حاضر کرو، اگرچہ میں نے صبح سے ہی روزہ کی نیت کر رکھی ہے (مگر کھاؤ گا) تو آپ ﷺ نے کھایا، پھر فرمایا: نفلی روزہ کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنے مال میں سے (نفلی) صدقہ نکالتا ہے، جی چاہا دے دیا، جی چاہا نہیں دیا، روک لیا ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ came to me one day and said: ‘Do you have anything (to eat)?’ I said: ‘No.’ He said: ‘Then I am fasting.’ Then he came to me after that day, and I had been given some Hais. I had kept some for him as he liked Hais. She said: ‘Messenger of Allah ﷺ, we have been given some Hais and I kept some for you.’ He said: ‘Bring it here. I started the day fasting.’ Then he ate some of it, then he said: ‘The likeness of a Voluntary fast is that of a man who allocated some of his wealth to give in charity; if he wishes he may go ahead and give it, and if he wishes he may keep it.” (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2322
Notes · وضاحت
١ ؎: حیس ایک کھانا ہے جو کھجور، پنیر، گھی اور آٹے سے بنایا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٦ (١٧٠١)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٧٨)، مسند احمد ٦/٤٩، ٢٠٧، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم ٣٢ (١١٥٤)، سنن ابی داود/الصوم ٧٢ (٢٤٥٥)، سنن الترمذی/الصوم ٣٥ (٢٣٤) (حسن )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ گھوم کر میرے پاس آئے اور پوچھا: تمہارے پاس کوئی چیز (کھانے کی) ہے؟ میں نے عرض کیا، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں ، پھر ایک اور بار میرے پاس آئے، اس وقت ہمارے پاس حیس ہدیہ میں آیا ہوا تھا، تو میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی تو آپ نے اسے کھایا، تو مجھے اس بات سے حیرت ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمارے پاس آئے تو روزہ سے تھے پھر بھی آپ ﷺ نے حیس کھالیا؟ آپ نے فرمایا: ہاں عائشہ! جس نے کوئی روزہ رکھا لیکن وہ روزہ رمضان کا یا رمضان کی قضاء کا نہ ہو، یا نفلی روزہ ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے مال میں سے (نفلی) صدقہ نکالا، پھر اس میں سے جتنا چاہا سخاوت کر کے دے دیا اور جو بچ رہا بخیلی کر کے اسے روک لیا ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ passed by my door. He said: ‘Do you have anything (to eat)?’ I said: ‘I do not have anything.’ He said: ‘Then I am fasting.” She said: “Then he passed by my door a second time and we had been given some Hais. I brought it to him and he ate, and I was surprised. I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, you entered upon me and you were fasting, then you ate Hais.’ He said: ‘Yes, Aishah (RA). The one who observes a fast other than in Ramadan, or making up a missed Ramadan fast, is like a man who allocated some of his wealth to give in charity; if he wishes he may go ahead and give it, and if he wishes he may keep it.” (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2323
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے نفلی روزے کے توڑنے کا جواز ثابت ہوا، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ نفلی روزہ توڑ دینے پر اس کی قضاء واجب نہیں، جمہور کا مسلک یہی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے تھے اور پوچھتے تھے: کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟ میں کہتی تھی: نہیں، تو آپ فرماتے تھے: میں روزہ سے ہوں ، ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے، اس دن ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا تھا، آپ نے کہا: کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں ہے، ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: میں نے صبح روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا ، پھر آپ نے (اسے) کھایا۔ قاسم بن یزید نے ان کی یعنی ابوبکر حنفی کی مخالفت کی ہے ١ ؎، (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔
It was narrated that Aishah said the Messenger of Allah would come and say: "Do you have any food for breakfast?" and we would say no, so he would say: "I am fasting." One day he came to us and we had been given some Hais. He said: "Do you have anything (to eat)?" and we said: "Yes, we have been given some Hais." He said: "I started the day wanting to fast," but then he ate.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2324
Notes · وضاحت
١ ؎: سند میں مخالفت اس طرح ہے کہ ابوبکر والی روایت میں طلحہ بن یحییٰ اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے درمیان مجاہد کا واسطہ ہے اور قاسم کی روایت میں عائشہ بنت طلحہ کا، نیز دونوں روایتوں کے متن کے الفاظ بھی مختلف ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، ہم نے عرض کیا: ہمارے پاس حیس کا تحفہ بھیجا گیا، ہم نے اس میں آپ کا (بھی) حصہ لگایا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں روزہ سے ہوں ، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ came to us one day and we said: ‘We have been given some Hais and we set aside some for you.’ He said: ‘I am fasting,’ but he broke his fast. (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2325
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آتے تھے اور آپ روزہ سے ہوتے تھے (اس کے باوجود) پوچھتے تھے: تمہارے پاس رات کی کوئی چیز ہے جسے تم مجھے کھلا سکو؟ ہم کہتے نہیں۔ تو آپ ﷺ فرماتے: میں نے روزہ رکھ لیا پھر اس کے بعد ایک بار آپ ان کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس ہدیہ آیا ہوا ہے آپ نے پوچھا: کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: حیس ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے صبح روزہ کا ارادہ کیا تھا پھر آپ نے کھایا۔
It was narrated from Aishah (RA), the Mother of the Believers, that the Prophet ﷺ used to come to her when he was fasting and say: “Do you have anything this morning that you can give me to eat?” We would say no, and he would say: “I am fasting.” Then after that he came and she said: “I have been given a gift.” He said: “What is it?” She said: “Hais.” He said: “I started the day fasting,” but then he ate. (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2326
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا: تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟ ہم نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو میں روزہ سے ہوں ۔
It was narrated that Aishah (RA) , the Mother of the Believers, said: “The Messenger of Allah ﷺ, came to me one day and said: ‘Do you have anything (to eat)?’ We said: ‘No.’ He said: ‘Then I am fasting.” (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2327
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو میں روزہ سے ہوں ، پھر آپ ایک اور دن تشریف لائے، تو عائشہ ؓ نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، تو آپ نے اسے منگوایا، اور فرمایا: میں نے صبح روزہ کی نیت کی تھی ، پھر آپ نے کھایا۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ came to her and said: “Do you have any food?” We said: “No.” He said: “I am fasting.” Then he came on another day, and Aishah (RA) said: “Messenger of Allah ﷺ, we have been given some Hais.” So he called for it, and said: “I started the day fasting,” then he ate.(Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2328
مجاہد اور ام کلثوم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے، اور ان سے پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ آگے اسی طرح ہے جیسے اس سے پہلی روایت میں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اور اسے سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے روایت کی اور اس نے عائشہ بنت طلحہ سے روایت کی ہے (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔
It was narrated from Mujahid and Umm Kulthum that the Messenger of Allah ﷺ entered upon Aishah (RA) and said: “Do you have any food?” a similar report. (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: Simak bin Harb reported it, he said: “A man narrated to me, from Aishah bint Talhah.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ آئے اور پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں ، پھر دوسری بار آپ میرے پاس تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کرلی تھی ۔
It was narrated that Aishah, the Mother of the Believers, said: “The Messenger of Allah ﷺ came one day and said: ‘Do you have any food?’ I said: ‘No.’ He said: ‘Then I will fast.’ She said: ‘He came in to me on another occasion, and I said: ‘O Messenger of Allah ﷺ, we have been given some Hais.’ He said: ‘Then I will break my fast today, although I had started my day fasting.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2330
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٨٨٤) (صحیح) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہ ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from Hafsah that the Prophet ﷺ said: “Whoever does not have the intention of fasting before dawn, then there is no fast for him.’ (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2331
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم فرض روزوں کے سلسلہ میں ہے یا قضاء اور کفارہ کے روزوں کے سلسلہ میں، نفلی روزے کے لیے رات میں نیت ضروری نہیں، جیسا کہ ابھی عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث سے معلوم ہوا۔
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہیں کی تو اس کا روزہ نہیں ہوگا ۔
It was narrated from Hafsah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Whoever does not have the intention of fasting before dawn, then there is no fast for him.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2332
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے روزہ کی نیت رات ہی میں نہ کرلی ہو تو اس کا روزہ نہیں ۔
It was narrated from Hafsah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Whoever does not have the intention of fasting from the night before, then there is no fast for him.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2334