روزہ کی نیت اور سیدہ عائشہ صدیقہ کی حدیث میں طلحہ بن یحیٰی کے متعلق اختلاف
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟، قُلْنَا: لَا، قَالَ: فَإِنِّي صَائِمٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا: تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟ ہم نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو میں روزہ سے ہوں ۔
It was narrated that Aishah (RA) , the Mother of the Believers, said: “The Messenger of Allah ﷺ, came to me one day and said: ‘Do you have anything (to eat)?’ We said: ‘No.’ He said: ‘Then I am fasting.” (Sahih)