روزہ کی نیت اور سیدہ عائشہ صدیقہ کی حدیث میں طلحہ بن یحیٰی کے متعلق اختلاف
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ وَيَقُولُ: هَلْ عِنْدَكُمْ غَدَاءٌ ؟، فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَأَتَانَا يَوْمًا وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟، قُلْنَا: نَعَمْ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، قَالَ: أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ فَأَكَلَ، خَالَفَهُ قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے تھے اور پوچھتے تھے: کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟ میں کہتی تھی: نہیں، تو آپ فرماتے تھے: میں روزہ سے ہوں ، ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے، اس دن ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا تھا، آپ نے کہا: کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں ہے، ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: میں نے صبح روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا ، پھر آپ نے (اسے) کھایا۔ قاسم بن یزید نے ان کی یعنی ابوبکر حنفی کی مخالفت کی ہے ١ ؎، (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔
It was narrated that Aishah said the Messenger of Allah would come and say: "Do you have any food for breakfast?" and we would say no, so he would say: "I am fasting." One day he came to us and we had been given some Hais. He said: "Do you have anything (to eat)?" and we said: "Yes, we have been given some Hais." He said: "I started the day wanting to fast," but then he ate.