Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 116 of 289

2298Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Hamzah said: “I asked the Messenger of Allah ﷺ about fasting while traveling. He said: ‘If you wish to fast then fast, and if you wish not fast then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2296
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2299Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Hamzah bin ‘Amr said: “I asked the Messenger‘ of Allah about fasting while traveling. He said: if you wish to fast then fast, and if you wish not to fast then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2297
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2300Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ، فَذَكَرَ آخَرَ، عَنْبُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں سفر میں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں (تو کیا میں روزہ رکھوں؟ ) آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Hamzah bin ‘Amr Al-Aslami said: “Messenger of Allah ﷺ , I feel able to fast while traveling.” He said: “If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2298
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2301Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: اگر رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated from Hamzah bin ‘Amr that he asked the Messenger of Allah ﷺ about fasting while traveling. He said: “If You wish to fast then fast, and if you wish not to fast then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2299
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2302Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَحَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَانِي جَمِيعًا، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَسْرُدُ الصِّيَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي أَسْرُدُ الصِّيَامَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مسلسل روزہ رکھتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں مسلسل روزہ رکھوں؟ تو آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Hamzah bin ‘Amr said: “I used to fast continually at the time of the Messenger of Allah ﷺ. I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, I fast continually while traveling.’ He said: ‘If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2300
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2303Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ ! إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصِّيَامَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں مسلسل روزہ رکھنے والا آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی برابر روزہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Hamzah said: “I said: ‘Prophet of Allah ﷺ, I am a man who fasts continually, so should I fast while traveling?’ He said: ‘If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2301
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2304Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رَجُلًا يَصُومُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو سفر میں روزہ رکھتے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

Hamzah bin ‘Amr narrated that he asked the Messenger of Allah ﷺ and he was a man who used to fast while traveling. He said: “If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2302
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2305Sunan An Nasai

حضرت حمزہ کی روایت میں حضرت عروہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، وَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجِدُ فِيَّ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ ؟ قَالَ: هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا (اگر میں روزہ رکھوں تو) مجھ پر گناہ ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں ۔

It was narrated from Hamzah bin ‘Amr that he said to the Messenger of Allah ﷺ “I feel able to fast while traveling; is there any sin on me?” He said: “It is a concession from Allah, the Mighty and Sublime, so whoever accepts it has done well, and whoever wants to fast, there is no sin on him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2303
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2306Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ہشام بن عروہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میں سفر روزہ میں رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated from Hamzah bin ‘Amr Al-Aslami that he asked the Messenger of Allah ﷺ: “Should I fast while traveling?” He said: “If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2304
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2307Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ہشام بن عروہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللَّانِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated from Aishah (RA) that Hamzah bin ‘Amr said: Messenger of Allah ﷺ, I am a man who fasts, so should I fast while traveling? He said: “If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2305
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2308Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ہشام بن عروہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “Hamzah said to the Messenger of Allah ﷺ: ‘Messenger of Allah ﷺ, should I fast while traveling?’ He used to fast a great deal. The Messenger of Allah ﷺ said to him: ‘If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2306
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٣ (١٩٤٣)، صحیح مسلم/الصوم ١٧ (١١٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧١٦٢، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢٤)، مسند احمد ٦/٤٦، ٩٣، ٢٠٢، ٢٠٧، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم ١٧ (١١٢١)، سنن ابی داود/الصوم ٤٢ (٢٤٠٢)، سنن الترمذی/الصوم ١٩ (٧١١)، سنن ابن ماجہ/الصوم ١٠ (١٦٦٢) (صحیح )
2309Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ہشام بن عروہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “Hamzah asked the Messenger of Allah ﷺ ‘Messenger of Allah ﷺ, should I fast while traveling?’ He said: ‘If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2307
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٢٣٨) (صحیح )
2310Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ہشام بن عروہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، وَكَانَ رَجُلًا يَسْرُدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو مسلسل روزہ رکھتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated from Aishah (RA) that Hamzah Al-Aslami asked the Messenger of Allah ﷺ about asting while traveling- as he was a tnan who used to fast continually. fle said: “If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2308
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ١٩ (٧١١)، (تحفة الأشراف: ١٧٠٧١) (صحیح )
2311Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں حضرت ابونضرہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ فِي رَمَضَانَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، لَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رمضان میں (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ) سفر کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی روزہ سے ہوتا تھا، اور کوئی بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والوں کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو معیوب سمجھتا تھا۔

Abu Saeed said: “We were traveling in Ramadan and among us were some who were fasting and some who were not. Those who were fasting did not criticize those who were not, and those who were not fasting did not criticize those who were.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2309
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٦)، سنن الترمذی/الصوم ١٩ (٧١٣)، (تحفة الأشراف: ٤٣٢٥)، مسند احمد ٣/١٢، ٤٥، ٥٠، ٧٤، ٨٧ (صحیح )
2312Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں حضرت ابونضرہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، وَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کرتے تھے، تو ہم میں بعض روزہ دار ہوتے تھے اور بعض بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا، اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو عیب کی نظر سے دیکھتا تھا۔

It was narrated that Abu Saeed said: “We were traveling with the Prophet ﷺ and among us were some who were fasting and Some who were not. Those who were fasting did not criticize those who were not, and those who were not fasting did not criticize those who were.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2310
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٦)، سنن الترمذی/الصوم ١٩ (٧١٢)، (تحفة الأشراف: ٤٣٤٤)، مسند احمد ٣/١٢، ٥٠ (صحیح )
2313Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں حضرت ابونضرہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَامَ بَعْضُنَا وَأَفْطَرَ بَعْضُنَا.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھے اور بعض نے نہیں۔

It was narrated that Jabir said: “We traveled with the Messenger of Allah ﷺ and some of us fasted and some of us did not.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2311
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٧)، (تحفة الأشراف: ٣١٠٢)، مسند احمد ٣/٣١٦ (صحیح )
2314Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں حضرت ابونضرہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمَا سَافَرَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ، وَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ.

ابو سعید خدری اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا، تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا، اور نہ رکھنے والا کھاتا پیتا، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب نہیں سمجھتا، اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو معیوب نہیں سمجھتا۔

It was narrated from Abu Saeed and Jabir bin ‘Abdullah that they traveled with the Messenger of Allah ﷺ Some fasted and some did not, and those who were fasting did not criticize those who were not, and those who were not fasting did not criticize those who were. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2312
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2315Sunan An Nasai

مسافر کے واسطے ماہ رمضان المبارک میں اس کا اختیار ہے کہ وہ کچھ دن روزہ رکھے اور کچھ دن نہ رکھے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں فتح مکہ کے سال روزہ کی حالت میں نکلے۔ یہاں تک کہ جب کدید ١ ؎ میں پہنچے تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ went out in the year of the Conquest, fasting during Ramadan. Then when he was in Al-Kadid, he broke his fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2313
Notes · وضاحت
١ ؎: کَدِید یا قدید یہ دونوں مقامات عسفان کے پاس ہیں، اس لیے رواۃ کبھی عسفان کہتے ہیں اور کبھی قدید اور کبھی کَدِید، واقعہ ایک ہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٤ (١٩٤٤)، الجہاد ١٠٦ (٢٩٥٣)، المغازي ٤٨ (٤٢٧٥، ٤٢٧٦)، صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٣)، (تحفة الأشراف: ٥٨٤٣)، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢١)، مسند احمد ١ (٢١٩، ٢٦٦، ٣١٥، ٣٣٤، ٣٤٨، ٣٦٦، سنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧٤٩) (صحیح )
2316Sunan An Nasai

جو کوئی ماہ رمضان المبارک میں روزہ رکھے پھر وہ سفر کرے تو روزہ توڑ سکتا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ فَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر کیا تو روزہ رکھا یہاں تک کہ عسفان پہنچے، پھر آپ نے (پانی سے بھرا) ایک برتن منگایا، اور دن ہی میں پیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے، یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے۔ تو آپ نے مکہ کو رمضان میں فتح کیا۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا، اور روزہ توڑ بھی دیا ہے، تو جس کا جی چاہے روزہ رکھے، اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ traveled and fasted until he reached ‘Usfan, then he called for a cup and drank during the day when the people could see him. Then he fast until he reached and he conquered Makkah during Ramadhan. Ibn ‘Abbas said: “And the Messenger of Allah ﷺ fasted and broke his fast while traveling, so whoever wishes may fast, and whoever wishes may not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2314
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٣ (صحیح )
2317Sunan An Nasai

حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو روزہ کی معافی سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنْهُمْ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ لِلْمُسَافِرِ الصَّوْمَ، وَشَطْرَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ.

انس بن مالک (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ۔ انہوں نے عرض کیا: میں روزہ دار ہوں، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ عزوجل نے مسافر کو روزہ کی، اور آدھی نماز کی چھوٹ دے دی ہے، نیز حاملہ اور مرضعہ کو بھی روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ دی گئی ہے ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that he came to the Prophet ﷺ, in Al-Madinah when he was eating breakfast. The Prophet ﷺ said to him: “Come and eat, the breakfast.” He said: “I am fasting.” The Prophet ﷺ said to him: “Allah, the Mighty and Sublime, has waived fasting and half of the prayer for the traveler and for pregnant and breastfeeding women.” (Sahih).

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2315
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٧٦ (صحیح )