حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated that Hamzah said: “I asked the Messenger of Allah ﷺ about fasting while traveling. He said: ‘If you wish to fast then fast, and if you wish not fast then do not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2296
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated that Hamzah bin ‘Amr said: “I asked the Messenger‘ of Allah about fasting while traveling. He said: if you wish to fast then fast, and if you wish not to fast then do not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2297
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں سفر میں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں (تو کیا میں روزہ رکھوں؟ ) آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated that Hamzah bin ‘Amr Al-Aslami said: “Messenger of Allah ﷺ , I feel able to fast while traveling.” He said: “If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2298
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: اگر رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated from Hamzah bin ‘Amr that he asked the Messenger of Allah ﷺ about fasting while traveling. He said: “If You wish to fast then fast, and if you wish not to fast then do not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2299
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مسلسل روزہ رکھتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں مسلسل روزہ رکھوں؟ تو آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated that Hamzah bin ‘Amr said: “I used to fast continually at the time of the Messenger of Allah ﷺ. I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, I fast continually while traveling.’ He said: ‘If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2300
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں مسلسل روزہ رکھنے والا آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی برابر روزہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated that Hamzah said: “I said: ‘Prophet of Allah ﷺ, I am a man who fasts continually, so should I fast while traveling?’ He said: ‘If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2301
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو سفر میں روزہ رکھتے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔
Hamzah bin ‘Amr narrated that he asked the Messenger of Allah ﷺ and he was a man who used to fast while traveling. He said: “If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2302
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا (اگر میں روزہ رکھوں تو) مجھ پر گناہ ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں ۔
It was narrated from Hamzah bin ‘Amr that he said to the Messenger of Allah ﷺ “I feel able to fast while traveling; is there any sin on me?” He said: “It is a concession from Allah, the Mighty and Sublime, so whoever accepts it has done well, and whoever wants to fast, there is no sin on him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2303
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میں سفر روزہ میں رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated from Hamzah bin ‘Amr Al-Aslami that he asked the Messenger of Allah ﷺ: “Should I fast while traveling?” He said: “If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2304
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated from Aishah (RA) that Hamzah bin ‘Amr said: Messenger of Allah ﷺ, I am a man who fasts, so should I fast while traveling? He said: “If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2305
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “Hamzah said to the Messenger of Allah ﷺ: ‘Messenger of Allah ﷺ, should I fast while traveling?’ He used to fast a great deal. The Messenger of Allah ﷺ said to him: ‘If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2306
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “Hamzah asked the Messenger of Allah ﷺ ‘Messenger of Allah ﷺ, should I fast while traveling?’ He said: ‘If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2307
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو مسلسل روزہ رکھتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated from Aishah (RA) that Hamzah Al-Aslami asked the Messenger of Allah ﷺ about asting while traveling- as he was a tnan who used to fast continually. fle said: “If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2308
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رمضان میں (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ) سفر کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی روزہ سے ہوتا تھا، اور کوئی بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والوں کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو معیوب سمجھتا تھا۔
Abu Saeed said: “We were traveling in Ramadan and among us were some who were fasting and some who were not. Those who were fasting did not criticize those who were not, and those who were not fasting did not criticize those who were.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2309
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کرتے تھے، تو ہم میں بعض روزہ دار ہوتے تھے اور بعض بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا، اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو عیب کی نظر سے دیکھتا تھا۔
It was narrated that Abu Saeed said: “We were traveling with the Prophet ﷺ and among us were some who were fasting and Some who were not. Those who were fasting did not criticize those who were not, and those who were not fasting did not criticize those who were.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2310
ابو سعید خدری اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا، تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا، اور نہ رکھنے والا کھاتا پیتا، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب نہیں سمجھتا، اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو معیوب نہیں سمجھتا۔
It was narrated from Abu Saeed and Jabir bin ‘Abdullah that they traveled with the Messenger of Allah ﷺ Some fasted and some did not, and those who were fasting did not criticize those who were not, and those who were not fasting did not criticize those who were. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2312
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں فتح مکہ کے سال روزہ کی حالت میں نکلے۔ یہاں تک کہ جب کدید ١ ؎ میں پہنچے تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ went out in the year of the Conquest, fasting during Ramadan. Then when he was in Al-Kadid, he broke his fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2313
Notes · وضاحت
١ ؎: کَدِید یا قدید یہ دونوں مقامات عسفان کے پاس ہیں، اس لیے رواۃ کبھی عسفان کہتے ہیں اور کبھی قدید اور کبھی کَدِید، واقعہ ایک ہی ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر کیا تو روزہ رکھا یہاں تک کہ عسفان پہنچے، پھر آپ نے (پانی سے بھرا) ایک برتن منگایا، اور دن ہی میں پیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے، یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے۔ تو آپ نے مکہ کو رمضان میں فتح کیا۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا، اور روزہ توڑ بھی دیا ہے، تو جس کا جی چاہے روزہ رکھے، اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ traveled and fasted until he reached ‘Usfan, then he called for a cup and drank during the day when the people could see him. Then he fast until he reached and he conquered Makkah during Ramadhan. Ibn ‘Abbas said: “And the Messenger of Allah ﷺ fasted and broke his fast while traveling, so whoever wishes may fast, and whoever wishes may not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2314
انس بن مالک (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ۔ انہوں نے عرض کیا: میں روزہ دار ہوں، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ عزوجل نے مسافر کو روزہ کی، اور آدھی نماز کی چھوٹ دے دی ہے، نیز حاملہ اور مرضعہ کو بھی روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ دی گئی ہے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that he came to the Prophet ﷺ, in Al-Madinah when he was eating breakfast. The Prophet ﷺ said to him: “Come and eat, the breakfast.” He said: “I am fasting.” The Prophet ﷺ said to him: “Allah, the Mighty and Sublime, has waived fasting and half of the prayer for the traveler and for pregnant and breastfeeding women.” (Sahih).
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2315