ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوقلابہ نے یہ حدیث بیان کی، پھر مجھ سے کہا: کیا آپ اس حدیث کے بیان کرنے والے سے ملنا چاہیں گے؟ پھر انہوں نے ان کی طرف میری رہنمائی کی، تو میں جا کر ان سے ملا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے ایک رشتہ دار نے جنہیں انس بن مالک کہا جاتا ہے نے بیان کیا کہ میں اپنے اونٹوں کے سلسلے میں جو پکڑ لیے گئے تھے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں پہنچا تو آپ کھانا کھا رہے تھے، تو آپ نے مجھے اپنے کھانے میں شریک ہونے کے لیے بلایا۔ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں، (سنو) اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ، اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے ۔
It was narrated that Ayyub said: “Abu Qilabah narrated this Hadith to us, then he said: ‘Do you want to meet the one who narrated this Hadith?’ He directed me to him and l met him and he said:’A relative of mine who was called • Anas bin Mahk said: I came to the Messenger of Allah ﷺ concerning some camels of mine that had been taken away. When I saw him he was eating, and he called me to eat with him, but I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Come close and I will tell you about that. Allah has waived fasting and half of the prayer for the traveler.” (Sahih)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2276
ایک صحابی کہتے ہیں: میں ایک ضرورت سے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اتفاق کی بات آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ نے کہا: آؤ کھانا میں شریک ہوجاؤ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی چھوٹ دی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Qilabah that a man said: ‘I came to the Prophet ﷺ to discuss Something and he was eating breakfast. He said: ‘Come and eat.’I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Come and I will tell you about fasting. Allah has waived half of prayer and fasting from the traveler, and He has granted a concession to pregnant women and the sick.” (Sahih)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2277
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر ان کے روزہ رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا شیرخوار بچہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اوہ روزہ نہ رکھیں۔
ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور میں روزے سے تھا، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: آؤ (کھانے میں شریک ہوجاؤ) میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ادھر آؤ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ۔ میں نے کہا: اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے؟ آپ نے فرمایا: روزے کی، اور آدھی نماز کی۔
It was narrated from Hani’ bin Ash-Shikhkhir, from a man from Balharish, that his father said: “I was traveling and I came to the Prophet ﷺ when I was fasting, and he was eating. He said: ‘Come (and eat).’ I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Come here; do you not know what Allah has waived for the traveler?’ I said: ‘What has Allah waived for the traveler?’ He said: ‘Fasting and half of the prayer.” (Sahih).
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2279
Notes · وضاحت
١ ؎: بلحریش بنی الحریش کا مخفف ہے جیسے بلحارث بنی الحارث کا مخفف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: ٥٣٥٣ (صحیح) (سابقہ متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ھانی بن الشخیر “ لین الحدیث ہیں، نیز اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے )
ہانی بن عبداللہ بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا ہم سفر کرتے رہے، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزے کی چھوٹ دی ہے، اور آدھی نماز کی بھی۔
It was narrated from Hani’ bin ‘Abdullah bin Ash-ShikhkhIr from a man from Balharish, that his father said: “We had been traveling for as long as Allah willed, then we came to the Messenger of Allah ﷺ and he was eating. He said: ‘Come and eat.’ I said: ‘I am fasting.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I will tell you about fasting. Allah has waived fasting and half of the prayer for the traveler.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2280
عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا، آپ نے فرمایا: آؤ (کھانا کھالو) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، میں نے کہا: کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، آپ ﷺ نے فرمایا: روزے اور آدھی نماز کی ۔
It was narrated from Hani’ bin ‘Abdullah bin Shikhkhir that his father said: “I was traveling and I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was eating and I was fasting. He said: ‘Come and eat.’ I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Do you know what Allah has waived for the traveler?’ I said: ‘What has Allah waived for the traveler?’ He said: ‘Fasting and half of the prayer.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2281
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٨١ (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ھانی “ لین الحدیث ہیں )
غیلان کہتے ہیں: میں ابوقلابہ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا (کھانے کے وقت) انہوں نے کھانا میرے آگے بڑھایا تو میں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں نکلے، آپ نے کھانا آگے بڑھاتے ہوئے ایک شخص سے کہا: قریب آ جاؤ کھانا کھاؤ، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا ـ: اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے آدھی نماز کی اور سفر میں روزے کی چھوٹ دی ہے ۔ تو اب آؤ کھاؤ، تو میں قریب ہوگیا، اور کھانے لگا۔
It was narrated that Ghailan said: “I went out with Aba Qilabah on a journey and he brought some food. I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ went out on a journey and brought some food, and said to a man: Come and eat. He said: I am fasting. He said: Allah has waived for the traveler half of the prayer and fasting when traveling, so come and eat. So I came close and ate.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2282
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٧٦ (صحیح) (سند میں ضعف ارسال کی وجہ سے ہے، اس لیے کہ ابو قلابہ نے راوی صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے تھے اور کچھ لوگ بغیر روزے کے تھے، ہم نے ایک گرم دن میں پڑاؤ کیا، اور ہم (چھولداریاں اور خیمے لگا لگا کر) سایہ کرنے لگے، تو روزہ دار (سخت گرمی کی تاب نہ لا کر) گر گرپڑے، اور روزہ نہ رہنے والے اٹھے، اور انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج غیر روزہ دار ثواب مار لے گئے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and some of us were fasting and some of us were not. We made a stop on a hot day and looked for shade. Those who were fasting fell to the ground, but those who were not fasting got up and watered the animals. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Those who were not fasting today have taken the reward.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2283
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں: کہا جاتا ہے سفر میں روزہ رکھنا ایسا ہے جیسے حضر میں افطار کرنا۔
It was narrated that ‘Abdur Rahman bin ‘Awf said: “It is said that fasting while traveling is like not fasting while a resident.” (Da‘if)
ضعيف موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2284
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ١١ (١٦٦٦) مرفوعا (ضعیف) (ابوسلمہ کا اپنے والد ” عبدالرحمن بن عوف “ سے سماع نہیں ہے (لیکن حمید کا سماع ہے، ان کی روایت آگے آرہی ہے، اور ابن ماجہ کی روایت جو مرفوعاً ہے اس میں یہی انقطاع ہے، نیز اس میں ایک ضعیف راوی بھی ہے )
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں: سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے ١ ؎۔
It was narrated from Humaid bin Abdur-Rahman bin Awf that his father said: "The one who fasts while traveling is like one who does not fast while a resident. (Daif)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2286
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس طرح حضر میں افطار کرنا گناہ ہے اس طرح سفر میں روزہ رکھنا بھی باعث گناہ ہے، مگر یہ صحابی کا قول ہے جو حدیث رسول ﷺ کے مخالف ہے (یعنی مسافر کو چھوٹ ہے چاہے رکھے، چاہے نہ رکھے اور قضاء کرے)۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، تو آپ روزے سے رہے۔ یہاں تک کہ آپ قدید پہنچے، تو آپ کے سامنے دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، تو آپ نے پیا، اور آپ نے اور آپ کے صحابہ نے روزہ توڑ دیا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ went Out in Ramadan and fasted until he came to Qudaid, then a cup of milk was brought to him and he drank and broke his fast; he and his Companions. (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2287
Notes · وضاحت
١ ؎: قدید مدینہ سے سات منزل کی دوری پر عسفان کے قریب ایک گاؤں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٤٧٩)، مسند احمد ١/٢٤٤، ٣٤١، ٣٤٤، ٣٥٠ (صحیح) (آنے والی احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں روزہ رکھا، (اور چلے) یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا، اور مکہ پہنچنے تک بغیر روزہ کے رہے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ fasted from Al-Madinah until he came to Qudaid, then he broke his fast until he reached Makkah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2288
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے دودھ کا ایک پیالہ منگایا اور (اسے) پیا، اور آپ نے اور آپ کے اصحاب نے روزہ توڑ دیا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ fasted while traveling until he reached Qudaid, then he called for a cup of milk and drank and broke his fast; he and his Companions.(Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2289
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے لیے نکلے، آپ روزہ رکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ آپ عسفان ١ ؎ پہنچے، تو ایک پیالہ منگایا اور پیا۔ شعبہ کہتے ہیں: یہ واقعہ رمضان کے مہینے کا ہے، چناچہ ابن عباس ؓ کہتے تھے: سفر میں جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ went out to Makkah, and he fasted until he came to ‘Usfan. Then he called for a cup and drank.” (One of the narrators) Shu’bah said: “(That was) in Ramadan. Ibn ‘Abbas used to say: Whoever wants to fast, may fast, and whoever wants to break may break his fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2290
Notes · وضاحت
١ ؎: عسفان کے پاس ہی قدید ہے، یہ واقعہ وہی ہے جس کا تذکرہ اوپر روایتوں میں ہے، کسی راوی نے قدید کہا اور کسی نے عسفان۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ١٠ (١٦٦١) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٦٤٢٥)، مسند احمد ١/٣٤٠ (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں سفر کیا، اور آپ روزہ رکھے ہوئے تھے، یہاں تک کہ عسفان پہنچے تو آپ نے ایک برتن منگایا، تو دن ہی میں پی لیا، لوگ اسے دیکھ رہے تھے، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ traveled during Ramadan and fasted until he reached ‘Usfan. Then he called for a vessel and drank during the day when the people could see him, then he did not fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2291
عوام بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سفر میں روزہ رکھتے تھے اور نہیں بھی رکھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Al ‘Awwam bin Hawshab said: “I said to Mujahid: ‘What about fasting while traveling?’ He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to fast (sometimes) and not fast (sometimes).” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2292
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنی آسانی دیکھ کر جیسا مناسب سمجھے کرے، اللہ نے نہ رکھنے کی رخصت دی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٢ (صحیح) (اس کے راوی عوام ضعیف ہیں، لیکن اگلی سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: چاہو تو روزہ رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated from Hamza bin Amr Al-Aslami that: he asked the Messenger of Allah about fasting while traveling. He said: "If," then he said something to the effect that: "If you want, then fast, and if you want, then do not fast.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2294
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٧ (١١٢١)، سنن ابی داود/الصوم ٤٢ (٢٤٠٢)، مسند احمد ٣/٤٩٤، سنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧١٤)، وانظر الأرقام التالیة إلی ٢٣٠٧، وأیضاً رقم ٢٣٠٨-٢٣١٠ (صحیح) (مؤلف کی اس سند میں ” سلیمان “ اور ” حمزہ “ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن حدیث رقم ٢٣٠٤ کی سند متصل ہے، نیز اس کی دیگر سند میں بھی متصل ہیں )
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آگے اوپر والی حدیث کے مثل ہے اور یہ حدیث مرسل ٢ ؎ ہے۔
It was narrated from Sulaiman bin Yasar that Hamzah bin ‘Amr said: “Messenger of Allah ﷺ .” (And he narrated) something similar, in Mursal form. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مرسل سے مراد منقطع ہے کیونکہ سلیمان بن یسار اور حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کے درمیان ابو مرواح کا واسطہ چھوٹا ہوا ہے جیسا کہ حدیث نمبر ٢٣٠٤ (جو آگے آرہی ہے) کی سند سے واضح ہے (واللہ اعلم)۔