( تابعی) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے، صحیح روایت وہ ہے جو پہلے گزری ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس پر ابن محمد بن کثیر کی متابعت کی ہے۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘It is not righteousness to fast when traveling.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This is a mistake, and what is correct is the one that is before it. We do not know of anyone who followed up Ibn Kathir.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2256
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جس کی وضاحت خود مؤلف نے کردی ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر اصل حدیث صحیح ہے )
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو ایک شخص کو گھیرے ہوئے دیکھا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: (کیا بات ہے؟ کیوں لوگ اکٹھا ہیں؟ ) تو لوگوں نے کہا: ایک شخص ہے جسے روزہ نے نڈھال کردیا ہے، تو آپ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی و تقویٰ نہیں ہے ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ saw some people gathered around a man, so he asked (what was happening) and they said: “It is a man who is exhausted because of fasting.” The Messenger of Allah ﷺ said: “It is not righteousness to fast when traveling.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2257
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک درخت کے سایہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس پر پانی چھڑکا جا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تمہارے اس ساتھی کو کیا ہوگیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ روزہ دار ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ نیکی و تقویٰ نہیں ہے کہ تم سفر میں روزہ رکھو، اللہ نے جو رخصت تمہیں دی ہے اسے قبول کرو ۔
Jabir bin ‘Abdullah narrated that the Messenger of Allah ﷺ passed by a man in the shade of a tree on whom water was being sprinkled. He said: “What is the matter with your companion?” They said: “Messenger of Allah ﷺ, he is fasting.” He said: “It is not righteousness to fast when traveling. Take to the concession which Allah has granted you, accept it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2258
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے، اللہ عزوجل کی دی گئی رخصت (اجازت) کو لازم پکڑو اور اسے قبول کرو ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: “It is not righteousness to fast when traveling. Take to the concession which Allah, the Mighty and Sublime, has granted you, accept it.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2260
محمد بن عبدالرحمٰن نے محمد بن عمرو بن حسن سے روایت کی، اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ سفر میں اس کے اوپر سایہ کیا گیا ہے، تو آپ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ saw a man who was being shaded on a journey. He said: “It is not righteousness to fast when traveling.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2262
Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر والی روایت میں مذکور عن رجل میں رجل سے مراد یہی محمد بن عمرو بن حسن ہیں۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے نکلے، تو آپ نے روزہ رکھا، یہاں تک کہ آپ کراع الغمیم پر پہنچے، تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا، تو آپ کو خبر ملی کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہوگیا ہے، تو آپ نے عصر کے بعد پانی سے بھرا ہوا پیالہ منگایا، پھر پانی پیا، اور لوگ دیکھ رہے تھے، تو (آپ کو دیکھ کر) بعض لوگوں نے روزہ توڑ دیا، اور بعض رکھے رہ گئے، آپ کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا ـ: یہی لوگ نافرمان ہیں ۔
It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah ﷺ went out to Makkah in the year of the Conquest in Ramadan. He fasted until he reached Kura’ Al Ghamim, and the people fasted. Then he heard that it was too difficult for the people to fast, so he called for a vessel of water after ‘Asr and drank it while the people were looking on. Then some of the people broke their fast and some continued to fast. He heard that some people were still fasting and he said: ‘Those are the disobedient ones.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2263
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مرالظہران (مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے) میں کھانا لایا گیا، تو آپ نے ابوبکر و عمر ؓ سے فرمایا: تم دونوں قریب آ جاؤ اور کھاؤ، انہوں نے عرض کیا: ہم روزہ سے ہیں، تو آپ نے لوگوں سے کہا: اپنے دونوں ساتھیوں کے کجاوے کس دو، اور اپنے دونوں ساتھیوں کے کام کر دو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “Some food was brought to the Messenger of Allah ﷺ at Marr Az-Zahran, and he said to Abu Bakr (RA) and ‘Umar (RA): ‘Come and eat.’ They said: ‘We are fasting.’ He said: ‘Saddle the camels for your companions, and help your companions.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2264
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے سفر میں روزہ رکھنے کا جواز ثابت ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ روزہ دار کو سہولت پہنچائی جائے۔
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر ؓ بھی تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ یہ روایت مرسل ہے۔
It was narrated that Abu Salamah said: “When the Messenger of Allah ﷺ was eating breakfast in Marr Az-Zahran, and Abu Bakr (RA) and ‘Umar were with him, he said:‘(Come and eat) breakfast.” (Da’if) He narrated it in Mursal form.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2265
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جیسا کہ مؤلف نے بیان فرمایا اس لیے ابوسلمہ تابعی نے صحابی کا ذکر نہیں کیا لیکن اصل حدیث سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے )
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابوبکر و عمر ؓ مرالظہران میں تھے یہ روایت مرسل ہے۔
It was narrated from Abu Salamah that the Messenger of Allah ﷺ Abu Bakr (RA) and ‘Umar were in Marr Az-Zahran. He narrated it in Mursal form. (Da‘if)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2266
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر رقم ٢٢٦٦ (صحیح) (اس سند میں بھی ارسال ہے جیسا کہ اوپر والی روایت میں گزرا، لیکن اصل حدیث سے سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے، اور یہ واضح رہے کہ مؤلف (رح) اس طرح کی روایتوں کو ان کی علت اور ضعف بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں، کبھی صراحة اور کبھی صحیح اور غیر صحیح روایات کو پیش کر کے ان کی اصل اور ان کے اختلافات کا تذکرہ کرتے ہیں )
عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا، آپ نے فرمایا: اے ابوامیہ! (بیٹھو) صبح کے کھانے کا انتظار کرلو ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: آؤ میرے قریب آ جاؤ، میں تمہیں مسافر سے متعلق بتاتا ہوں، اللہ عزوجل نے اس سے روزے معاف کردیا ہے اور آدھی نماز بھی ١ ؎۔
‘Amr bin Umayyah Ad PamrI said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ from a journey and he said: ‘Stay and have a meal to break the fast, O Abu Umayyah.’ I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Come close to me and I will tell you about the traveler. Allah, the Mighty and Sublime, has waived fasting and half of the prayer for him.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2267
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سفر کی حالت میں مسافر پر روزہ رکھنا ضروری نہیں، قرار دیا، بلکہ اسے اختیار دیا ہے کہ وہ چاہے تو روزہ رکھ لے (اگر اس کی طاقت پاتا ہے تو) یا چاہے تو ان کے بدلہ اتنے ہی روزے دوسرے دنوں میں رکھ لے، لیکن مسافر سے روزہ بالکل معاف نہیں ہے، ہاں چار رکعت والی نماز میں سے دو رکعت کی چھوٹ دی ہے، چاہے تو چار رکعت پڑھے اور چاہے تو دو رکعت، اور پھر اس کی قضاء نہیں ہے۔
عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے امیہ! تم کیوں نہیں دوپہر کے کھانے کا انتظار کرلیتے ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: (میرے قریب) آ جاؤ۔ میں مسافر کے سلسلے میں تمہیں (شریعت کا حکم) بتاتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے اس سے روزہ کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کردی ہے ۔
Jafar bin Amr bin Umayyah Ad-Damri narrated that his father said: "I came to the Messenger of Allah and the Messenger of Allah said to me: Stay and have a meal for breakfast, O Abu Umayyah. I said: I am fasting. He said: Come and I will tell you about the traveler. Allah has waived meaning the fasting and half the prayer for him.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2268
ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا، تو میں نے آپ کو سلام کیا، پھر جب میں نکلنے لگا تو آپ نے فرمایا: اے ابوامیہ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کرلو ۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں مسافر کے بارے میں بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کردی ہے ۔
It was narrated that Abu Umayyah Ad Damri- said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ from a journey and greeted him with Salam. When I was going to leave he said: ‘Stay and have meal for breakfast, Abu Umayyah. ’I said: I am fasting, Prophet ﷺ of Allah ﷺ.’ He said: ‘Come and I will tell about the traveler. Allah, Most High, has waived fasting and of the prayer for him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2269
ابوقلابہ جرمی کا بیان ہے کہ ان سے ابوامیہ ضمری ؓ نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ نے ان سے کہا: ابوامیہ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کرلو (کھا کر چلے جانا) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: قریب آؤ، میں مسافر کے بارے میں تمہیں بتاتا ہوں: اللہ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کردی ہے ۔
Abu Qilabah Al-Jarmi narrated that Abu Umayyah Ad Damri told them that he came to the Messenger of Allah ﷺ from a journey and he said: “Come and have a meal for breakfast, Abu Umayyah.” “I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Come close and I will tell you about the traveler. Allah, Most High, has waived fasting and half of the prayer for him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2271
ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ سفر سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور وہ روزے سے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا: (تم جانا چاہتے ہو) کیا، تم دوپہر کے کھانے کا انتظار نہیں کرو گے ، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آؤ میں روزے سے متعلق تمہیں بتاتا ہوں۔ اللہ عزوجل نے مسافر کو روزے کی چھوٹ دی ہے اور نماز آدھی کردی ہے ۔
It was narrated from Abu Qilabah that Abu Umayyah Ad Damri told him that he came to the Messenger of Allah ﷺ from a journey and he was fasting. The Messenger of Allah ﷺ said to him, “Won’t you come and have meal for the breakfast?” He said: “I am fasting.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Come and I will tell you about fasting. Allah, the Mighty and Sublime, has waived fasting and half of the prayer from the traveler.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2272
ابوامیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سفر سے آئے، آگے راوی نے پوری روایت اسی طرح ذکر کی۔
It was narrated from Abu Qilabah, from a man, that Abu Umayyah told him that he came to the Prophet ﷺ from a journey, and he narrated something similar. (Sahih)
انس (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے اور، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی (روزے کی چھوٹ دی ہے) ۔
It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ said: “Allah has waived - meaning - half of the prayer and fasting for the traveler, and from pregnant women and the sick.” (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2274
ایوب قبیلہ قشیر کے ایک شیخ سے، اور وہ قشیری اپنے چچا ١ ؎ سے روایت کرتے ہیں، (ایوب کہتے ہیں) ہم سے حدیث بیان کی گئی، پھر ہم نے انہیں (شیخ قشیری کو) ان کے اونٹوں میں پایا، تو ان سے ابوقلابہ نے کہا: آپ ان سے (ایوب سے) حدیث بیان کیجئے تو (قشیری) شیخ نے کہا: مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ وہ اپنے اونٹوں میں گئے، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، آپ کھانا کھا رہے تھے (راوی کو شک ہے یا ٔکل کہا یا یطعم کہا) آپ ﷺ نے فرمایا: قریب آؤ اور کھانا کھاؤ (راوی کو شک ہے ادن فکل کہا یا ادن فاطعم کہا) تو میں نے کہا: مںَ صائم ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی ٢ ؎۔
It was narrated from Ayyub, from a Shaikh of Qushair, from his paternal uncle; then we met him concerning some camels of his, and Abu Qilabah said to him: “Tell it to us.” The old man said: “My paternal uncle told me that he went to the Prophet ﷺ, concerning some camels of his, while he was eating. He said: ‘Come and eat.’ I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Allah, the Mighty and Sublime, has waived half of the prayer and fasting for the traveler, the pregnant woman and the sick.” (Sahih)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2275
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کا نام انس بن مالک قشیری ہے۔ ٢ ؎: حاملہ اور مرضعہ کو روزے کی چھوٹ دی ہے، نہ کہ آدھی نماز کی، جیسا کہ متبادر ہو رہا ہے، ترمذی کی عبارت واضح ہے مسافر کو روزہ اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ و مرضعہ کو روزے کی۔
Takhrij · تخریج
انظر رقم ٢٢٧٦ (حسن) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے )