مسافر کے واسطے ماہ رمضان المبارک میں اس کا اختیار ہے کہ وہ کچھ دن روزہ رکھے اور کچھ دن نہ رکھے
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں فتح مکہ کے سال روزہ کی حالت میں نکلے۔ یہاں تک کہ جب کدید ١ ؎ میں پہنچے تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ went out in the year of the Conquest, fasting during Ramadan. Then when he was in Al-Kadid, he broke his fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2313
Notes · وضاحت
١ ؎: کَدِید یا قدید یہ دونوں مقامات عسفان کے پاس ہیں، اس لیے رواۃ کبھی عسفان کہتے ہیں اور کبھی قدید اور کبھی کَدِید، واقعہ ایک ہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٤ (١٩٤٤)، الجہاد ١٠٦ (٢٩٥٣)، المغازي ٤٨ (٤٢٧٥، ٤٢٧٦)، صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٣)، (تحفة الأشراف: ٥٨٤٣)، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢١)، مسند احمد ١ (٢١٩، ٢٦٦، ٣١٥، ٣٣٤، ٣٤٨، ٣٦٦، سنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧٤٩) (صحیح )