Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 8 of 218

141Sunan Ibne-Majah

حضرت عباس بن عبدالمطلب کے فضائل

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، فَمَنْزِلِي وَمَنْزِلُ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُجَاهَيْنِ، وَالْعَبَّاسُ بَيْنَنَا مُؤْمِنٌ بَيْنَ خَلِيلَيْنِ .

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل (گہرا دوست) بنایا ہے، جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل (گہرا دوست) بنایا، چناچہ میرا اور ابراہیم کا گھر جنت میں قیامت کے دن آمنے سامنے ہوگا، اور عباس ہم دو خلیلوں کے مابین ایک مومن ہوں گے ۔

It was narrated that ‘Abdulláh bin ‘Aim said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah has taken me as a close friend (Khalil) as He took Ibrâhim as a close friend. So my house and the house of Ibrâhim will be opposite to one another on the Day of Resurrection, and ‘Abbâs will be in between us, a believer between two close friends.” (Maudu’)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩١٤، ومصباح الزجاجة: ٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٨، ٢٢٥) (موضوع) (سند میں مذکور عبدالوہاب بن ضحاک متہم بالوضع راوی ہے، اس لئے یہ حدیث موضوع ہے، لیکن حدیث کا یہ ٹکڑا إن الله اتخذني صحیح ہے، جیسا کہ حدیث نمبر ( ٩٣ ) میں مذکور ہے، نیز تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٠٣٤ )
142Sunan Ibne-Majah

حضرت علی (رض) کے صاحبزادوں حس و حسین (رض) کے فضائل

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، نَبَّأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْحَسَنِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ ، قَالَ: وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حسن ؓ کے بارے میں فرمایا: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر، اور اس سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرے ١ ؎۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ یہ فرما کر آپ ﷺ نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said to Hasan: “O Allah, I love him, so love him and love those who love him.” He said: “And he hugged him to his chest.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حسن ؓ سے محبت اور دوستی کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک مسلمان نبی اکرم ﷺ کی سنت پر جان دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٤٩ (٢١٢٢)، اللباس ٦٠ (٥٨٨٤)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٨ (٢٤٢١)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٩، ٣٣١) (صحیح )
143Sunan Ibne-Majah

حضرت علی (رض) کے صاحبزادوں حس و حسین (رض) کے فضائل

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ أَبِي الْحَجَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے حسن و حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever loves Hasan and Husain, loves me; and whoever hates them, hates me.’” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: محبت ان حضرات کی یہی ہے کہ ان کے احترام کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلا جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٣٩٦، ومصباح الزجاجة: ٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٨٨، ٤٤٠، ٥٣١) (حسن )
144Sunan Ibne-Majah

حضرت علی (رض) کے صاحبزادوں حس و حسین (رض) کے فضائل

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي السِّكَّةِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ وَبَسَطَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَفِرُّ هَهُنَا وَهَهُنَا وَيُضَاحِكُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَخَذَهُ فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ، وَالْأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، مِثْلَهُ.

یعلیٰ بن مرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں نکلے، دیکھا تو حسین ؓ) گلی میں کھیل رہے ہیں، نبی اکرم ﷺ لوگوں سے آگے نکل گئے، اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لیے، حسین ؓ بچے تھے، ادھر ادھر بھاگنے لگے، اور نبی اکرم ﷺ ان کو ہنسانے لگے، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا، اور اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر بوسہ لیا، اور فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے، اور حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Sa’eed bin Abu Râshid that Ya’la bin Murrah told them that they had gone out with the Prophet ﷺ to a meal to which they had been invited, and Husain was there playing in the street. The Prophet ﷺ came in front of the people and stretched out his hands, and the child started to run here and there. The Prophet ﷺ made him laugh until he caught him, then he put one hand under his chin and the other on his head and kissed him, and said, “Husain is part of me and I am part of him. May Allah love those who love Husain. Husain is a tribe among tribes.” (Hasan) Another chain with similar meaning).

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث حسین بن علی ؓ کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، نیز کھانے کی دعوت میں جانا، چھوٹے بچوں کا گلی میں کھیلنا، نیز چھوٹے بچوں کو پیار میں ہنسانا مسنون و مستحب ہے۔ یہ حدیث علی بن محمد سے وکیع عن سفیان کے واسطے سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٥٠، ومصباح الزجاجة: ٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب ٣١ (٣٧٧٥)، مسند احمد (٤/١٧٢) (حسن) (تراجع الألباني، رقم: ٣٧٥ )
145Sunan Ibne-Majah

حضرت علی (رض) کے صاحبزادوں حس و حسین (رض) کے فضائل

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ أَنَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین ؓ سے فرمایا: میں اس شخص کے لیے سراپا صلح ہوں جس سے تم لوگوں نے صلح کی، اور سراپا جنگ ہوں اس کے لیے جس سے تم لوگوں نے جنگ کی ۔

It was narrated that Zaid bin Arqam said: “The Messenger of Allah ﷺ said to ‘All, Fâtimah, Hasan and Husain: ‘I am peace for those with whom you make peaces and I am wax for those with whom you make war.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٦١ (٣٨٧٠)، (تحفة الأشراف: ٣٦٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٢) (ضعیف) (اس سند میں علی بن المنذر میں تشیع ہے، اسباط بن نصر صددق لیکن کثیر الخطا ٔ ہیں، اور غرائب بیان کرتے ہیں، سدی پر تشیع کا الزام ہے، اور ان کی حدیث میں ضعف ہے، نیز صبیح لین الحدیث ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٦٠٢٨ )
146Sunan Ibne-Majah

حضرت عمار بن یاسر (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، عمار بن یاسر ؓ نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انہیں آنے کی اجازت دو، طیب و مطیب پاک و پاکیزہ شخص کو خوش آمدید ۔

It was narrated that ‘Ali bin Abu Tálib said: “I was sitting with the Prophet ﷺ and ‘Ammar Bin Yasir asked permission to ter. The Prophet ﷺ said: ‘Let in, welcome to the good and purified.’” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٣٥ (٣٧٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٩، ١٠٠، ١٢٣، ١٢٦، ١٣٠، ١٣٧) (صحیح )
147Sunan Ibne-Majah

حضرت عمار بن یاسر (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: دَخَلَ عَمَّارٌ عَلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ.

ہانی بن ہانی ؓ کہتے ہیں کہ عمار ؓ علی ؓ کے پاس گئے تو علی ؓ نے کہا: طیب و مطیب پاک و پاکیزہ کو خوش آمدید، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: عمار ایمان سے بھرے ہوئے ہیں، ایمان ان کے جوڑوں تک پہنچ گیا ١ ؎۔

It was narrated that Hâni bin Hani said that Ammar enter upon ‘Ali and he said: Welcome to the good and the purifieded. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Ammâr’s heart overflows with faith (Literally: up to the top of his bones.’”

Notes · وضاحت
١ ؎: مشاش: ہڈیوں کے جوڑ کو کہتے ہیں، جیسے کہنی یا گھٹنے یا کندھے کا جوڑ، مراد یہ ہے کہ عمار ؓ کے دل میں ایمان گھر کر گیا ہے، اور وہاں سے ان کے سارے جسم میں ایمان کے انوار و برکات پھیل گئے ہیں، اور رگوں اور ہڈیوں میں سما گئے ہیں، یہاں تک کہ جوڑوں میں بھی اس کا اثر پہنچ گیا ہے، اور اس میں عمار بن یاسر ؓ کے کمال ایمان کی شہادت ہے جو عظیم فضیلت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٣٠٣، ومصباح الزجاجة: ٥٦) (صحیح )
148Sunan Ibne-Majah

حضرت عمار بن یاسر (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنْ حَبيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَمَّارٌ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمار پر جب بھی دو کام پیش کئے گئے تو انہوں نے ان میں سے بہترین کام کا انتخاب کیا ۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: ‘The Messenger of Allah ﷺ said: “Ammâr — no two things were shown to him but he chose the better of the two.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٣٥ (٣٧٩٩)، سنن النسائی/الکبری، المناقب ٣٧ (٨٢٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١٣) (صحیح )
149Sunan Ibne-Majah

حضرت سلمان، ابوذر، مقداد (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ ، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ؟ قَالَ: عَلِيٌّ مِنْهُمْ ، يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا: وَأَبُو ذَرٍّ، وَسَلْمَانُ، وَالْمِقْدَادُ .

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے چار افراد سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت رکھتا ہے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: علی انہیں لوگوں میں سے ہیں (آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا) ، اور ابوذر، سلمان اور مقداد ہیں ۔

Ibn Buraidah narrated that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah has commanded me to love four people, and He told me that He also loves them.’ He was asked: O Messenger of Allah, who are hey?’ He said: “Ali is one of them’ and he said that three ‘and Abu Dharr, Salman Miqdâd.”

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المنا قب ٢١ (٣٧١٨)، (تحفة الأشراف: ٢٠٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥١، ٣٥٦) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٥٤٩ )
150Sunan Ibne-Majah

حضرت سلمان، ابوذر، مقداد (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمْ الْمُشْرِكُونَ، وَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ، وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا، إِلَّا بِلَالًا فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ فَأَخَذُوهُ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِ فِي شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ: أَحَدٌ أَحَدٌ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ پہلے پہل جن لوگوں نے اپنا اسلام ظاہر کیا وہ سات افراد تھے: رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد ؓ ، رہے رسول اللہ ﷺ تو اللہ تعالیٰ نے کفار کی ایذا رسانیوں سے آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعہ آپ کو بچایا، اور ابوبکر ؓ کو ان کی قوم کے سبب محفوظ رکھا، رہے باقی لوگ تو ان کو مشرکین نے پکڑا اور لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا، چناچہ ان میں سے ہر ایک سے مشرکین نے جو کہلوایا بظاہر کہہ دیا، سوائے بلال کے، اللہ کی راہ میں انہوں نے اپنی جان کو حقیر سمجھا، اور ان کی قوم نے بھی ان کو حقیر جانا، چناچہ انہوں نے بلال ؓ کو پکڑ کر بچوں کے حوالہ کردیا، وہ ان کو مکہ کی گھاٹیوں میں گھسیٹتے پھرتے اور وہ اَحَد، اَحَد کہتے (یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے) ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Mas’ud said: “The people to declare their Islam publicly were seven: The Messanger of Allah ﷺ Abu Bakr, Ammâr and his mother Sumayyah, Suhaib, Bilâl and Miqdâd. With regard to the Messenger of Allah, Allah protected him through his paternal uncle Abu Talib. With regard to Abu Bakr, Allah protected him through his people. As for the rest, the idolaters seized them and made them wear coats of chain-mail and exposed them to the intense heat of the sun. There was none of them who did not do what they wanted them to do, except for Bilâl. He did not care what happened to him for the sake of Allah, and his people did not care what happened to him. Then they gave him to the children, who took him around in the streets of Makkah while he was saying, ‘Mmd, Mmd (One, One).”

Notes · وضاحت
١ ؎: ان چھ سابق الایمان صحابہ کرام ؓ کی استقامت اور دین کی خاطر ان کی عزیمت لائق اتباع ہے، ان میں بلال ؓ کی عزیمت سب سے اعلی وارفع ہے، جان کے خطرے کے وقت دین پر دلی اطمینان کی صورت میں کفر کا اظہار جائز ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان سوائے اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو (النحل: 106) جس کی نظر میں اللہ کی عظمت و شان ہوتی ہے، اس کے دل میں موجودات عالم کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی حتی کہ اپنی جان بھی حقیر نظر آتی ہے، بلال ؓ کی حالت یہی تھی ؓ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٢٤، ومصباح الزجاجة: ٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٤) (حسن )
151Sunan Ibne-Majah

حضرت سلمان، ابوذر، مقداد (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ، وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ، وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَالِثَةٌ، وَمَا لِي وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا مَا وَارَى إِبِطُ بِلَالٍ .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں دی گئیں کہ اتنی کسی کو نہ دی گئیں ہوں گی، اور میں اللہ کی راہ میں اس قدر ڈرایا گیا کہ اتنا کوئی نہیں ڈرایا گیا ہوگا، اور مجھ پہ مسلسل تین ایام ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے لیے کوئی چیز کھانے کی نہ تھی جسے کوئی ذی روح کھاتا سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں چھپا ہوا تھا ۔

It was narrated that Anas bin Mâlik said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I have been tortured for the sake of Allah as no one else has, and I have suffered fear for the sake of Allah as no one else has. I have spent three days when Bilál and I had no food that any living being could eat but that which could be concealed in the armpit of Bilal (RA) .’” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ٣٤ (٢٤٧٢)، (تحفة الأشراف: ٣٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٠، ٢٨٦) (صحیح )
152Sunan Ibne-Majah

حضرت بلال (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمٍ: أَنَّ شَاعِرًا مَدَحَ بِلَالَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَذَبْتَ لَا، بَلْ بِلَالُ رَسُولِ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ .

سالم سے روایت ہے کہ ایک شاعر نے بلال بن عبداللہ کی مدح سرائی کی، اور مصرعہ کہا: بلال بن عبد الله خير بلال بلال بن عبداللہ بلالوں میں سب سے بہتر ہیں ، تو ابن عمر ؓ نے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو، ایسا نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ کے بلال بلالوں میں سب سے افضل اور بہتر ہیں۔

It was narrated from Sálim that a poet praised Bilal (RA) bin ‘Abdullah and said: “BiIâl bin Abdullah is better than any other Bilâl.” Ibn ‘Umar said: ‘You are lying. The Bildl of the Messenger of Allah ﷺ is better than any other Bilâl.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: بلال بن عبداللہ سے مراد عبداللہ بن عمر ؓ کے صاحبزادے بلال ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٨١، ومصباح الزجاجة: ٥٩) (ضعیف) (عمر بن حمزہ ضعیف ہیں )
153Sunan Ibne-Majah

حضرت خباب (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، قَالَ: جَاءَ خَبَّابٌ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: ادْنُ فَمَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْمَجْلِسِ مِنْكَ إِلَّا عَمَّارٌ، فَجَعَلَ خَبَّابٌ يُرِيهِ آثَارًا بِظَهْرِهِ مِمَّا عَذَّبَهُ الْمُشْرِكُونَ 2.

ابولیلیٰ کندی کہتے ہیں کہ خباب ؓ عمر ؓ کے پاس آئے، تو عمر ؓ نے کہا: میرے قریب بیٹھو، تم سے بڑھ کر میرے قریب بیٹھنے کا کوئی مستحق نہیں سوائے عمار ؓ کے، پھر خباب ؓ اپنی پیٹھ پر مشرکین کی مار پیٹ کے نشانات ان کو دکھانے لگے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Laila Al-Kindi said: “Khabbâb came to ‘Umar and said: ‘Come close, for no one deserves this meeting more than you, except ‘Animâr.’ Then Khabbâb started to show him the marks on his back where the idolaters had tortured him.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصحاب فضل و کمال کو مجلس میں ممتاز مقام پر رکھنا چاہیے، عمر ؓ افاضل صحابہ کو اپنے پاس جگہ دیتے تھے، عمار ؓ نے بھی اللہ کی راہ میں بہت تکلیفیں اٹھائی تھیں اس لئے عمر ؓ نے ان کو بھی یاد کیا، اور معلوم ہوا کہ کسی کی تعریف اس کے سامنے اگر اس سے خود پسندی اور عجب کا ڈر نہ ہو تو جائز ہے، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار اس اعتبار سے جائز ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں ہیں، جیسے خباب ؓ نے اپنے جسم کے نشان دکھائے کہ جو ایک نعمت الٰہی تھی، اور جو اللہ کے نزدیک بلندی درجات کا سبب ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٢٣، ومصباح الزجاجة: ٥٨) (صحیح )
154Sunan Ibne-Majah

حضرت خباب (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ،

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں، اللہ کے دین میں سب سے زیادہ سخت اور مضبوط عمر ہیں، حیاء میں سب سے زیادہ حیاء والے عثمان ہیں، سب سے بہتر قاضی علی بن ابی طالب ہیں، سب سے بہتر قاری ابی بن کعب ہیں، سب سے زیادہ حلال و حرام کے جاننے والے معاذ بن جبل ہیں، اور سب سے زیادہ فرائض (میراث تقسیم) کے جاننے والے زید بن ثابت ہیں، سنو! ہر امت کا ایک امین ہوا کرتا ہے، اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Mâlik that the Messenger of Allah ﷺ said: “The most merciful of my Ummah towards my Ummah is Abu Bakr; the one who adheres most sternly to the religion of Allah is ‘Umar; the most sincere of them in shyness and modesty is ‘Uthmân; the best judge is ‘Ali bin Abu Thlib; the best in reciting the Book of Allah is Ubayy bin Ka’b; the most knowledgeable of what is lawful and unlawful is Mu’âdh bin Jabal; and the most knowledgeable of the rules of inheritance (Fard’id) is Zaid bin Thâbit. And every nation has a trustworthy guardian, and the trustworthy guardian of this Ummah is Abu ‘Ubaidah bin Jarráh.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ان آٹھوں صحابہ کرام ؓ کی فضیلت معلوم ہوئی، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر ایک میں قابل تعریف صفات موجود تھیں، مگر بعض کمالات ہر ایک میں بدرجہ أتم موجود تھے، اگرچہ وہ صفتیں اوروں میں بھی تھیں، اس لئے ہر ایک کو ایک صفت سے جو اس میں بدرجہ کمال موجود تھی یاد فرمایا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٣٣ (٣٧٩١)، (تحفة الأشراف: ٩٥٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب ٢١ (٣٧٤٤)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٧ (٢٤١٩)، مسند احمد (٣/١٨٤، ٢٨١) (صحیح )
155Sunan Ibne-Majah

حضرت خباب (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، مِثْلَهُ عِنْدَ ابْنِ قُدَامَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ فِي حَقِّ زَيْدٍ: وَأَعْلَمُهُمْ بِالْفَرَائِضِ.

ابوقلابہ سے ابن قدامہ کے نزدیک اسی کے مثل مروی ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس میں زید بن ثابت ؓ کے حق میں: أفرضهم کے بجائے أعلمهم بالفرائض ہے۔

Another chain with similar wording (as no. 154) but he if said that Zaid was: “The most knowledgeable of them concerning the rules of inheritance.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
156Sunan Ibne-Majah

حضرت خباب (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ، وَلَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْ أَبِي ذَرٍّ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: زمین نے کسی ایسے شخص کو نہ اٹھایا، اور نہ آسمان اس پر سایہ فگن ہوا جو ابوذر سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا ہو ۔

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amir said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘There is no one on earth, or under the sky, who speaks more truthfully than Abu Dharr.’” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٣٦ (٣٨٠١)، (تحفة الأشراف: ٨٩٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ١٦٣، ١٧٥، ٢٢٣) (صحیح )
157Sunan Ibne-Majah

حضرت سعد بن معاذ (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَةٌ مِنْ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَدَاوَلُونَهَا بَيْنَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا؟ فَقَالُوا لَهُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا تحفہ میں پیش کیا گیا، لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ تمہارے لیے تعجب انگیز ہے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں بہتر ہوں گے ١ ؎۔

it was nanated that Barâ’ bin ‘ Azib (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ was given a gift of a length of silk fabric. The people started passing it around to one another. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Are you admiring this?’ They said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘By the One in Whose Hand is my soul! The handkerchief of Sa’d bin Mu’ âdh in Paradise is better than this.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے کئی باتیں ثابت ہوئیں: ١ ۔ ہدیہ لینا سنت ہے چاہے ہدیہ دینے والا مشرک و کافر ہی کیوں نہ ہو، اس لئے کہ نبی اکرم ﷺ نے کفار و مشرکین کے ہدایا و تحائف قبول فرمائے۔ ٢ ۔ جنت میں رومال بھی ہوں گے۔ ٣ ۔ سعد ؓ کے لیے جنت کی بشارت۔ ٤ ۔ جنت کی ادنیٰ چیز بھی دنیا کی اعلیٰ چیزوں سے بلکہ ساری دنیا سے افضل اور بہتر ہے، اور کیوں کر نہ ہو کہ وہ باقی رہنے والی ہے، اور دنیا کی یہ چیزیں فانی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٨ (٣٢٤٩)، مناقب الأنصار ١٢ (٣٨٠٢)، اللباس ٢٦ (٥٨٣٦) الأیمان والنذور ٣ (٦٦٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٦١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٤ (٢٤٦٨)، سنن الترمذی/المناقب ٥١ (٣٨٤٧)، مسند احمد (٢/٢٥٧، ٣٩٨) (صحیح )
158Sunan Ibne-Majah

حضرت سعد بن معاذ (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اهْتَزَّ عَرْشُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سعد بن معاذ کی موت کے وقت رحمن کا عرش جھوم اٹھا ١ ؎۔

It was narrated that Jâbir said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Throne of the Most Merciful trembled upon the death of Sa’d bin Mu’âdh.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب ان کی پاکیزہ روح وہاں پہنچی تو خوشی کے سبب سے عرش حرکت میں آگیا، یا اس سے کنایہ ہے رب العرش کے خوش ہونے کا، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روحیں عرش تک جاتی ہیں، اس لئے کہ اللہ رب العزت کا دربار خاص وہیں لگتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ١٢ (٣٨٠٣)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٤ (٢٤٦٦)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب ٥١ (٣٨٤٨)، مسند احمد (٣/٢٣٤، ٢٩٦، ٣١٦) (صحیح )
159Sunan Ibne-Majah

حضرت جریر بن عبداللہ بجلی (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي، وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا.

جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پاس آنے سے نہیں روکا، اور جب بھی مجھے دیکھا میرے روبرو مسکرائے اور میں نے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر ٹک نہیں پاتا (گر جاتا ہوں) تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پہ مارا اور دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو ثابت رکھ اور اسے ہدایت کنندہ اور ہدایت یافتہ بنا دے ١ ؎۔

It was narrated that Jarir bin ‘Abdullâh Al-Bajali said: “The Messenger of Allah ﷺ never refused to see me from the time I became Muslim, and whenever he saw me he would smile at me. I complained to him that I could not sit firmly on a horse, so he struck me on the chest with his hand and said: ‘O Allah, make him firm and cause him to guide others and be rightly-guided.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جریر ؓ دراز قد، خوبصورت اور حسین و جمیل تھے، عمر ؓ ان کو اس امت کا یوسف کہا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٥٤ (٣٠٣٥)، الأدب ٦٨ (٦٠٨٩)، مناقب الأنصار ٢١ (٣٨٢٢)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٩ (٢٤٧٥)، سنن الترمذی/ المناقب ٤٢ (٣٨٢٠)، (تحفة الأشراف: ٣٢٢٤)، مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٥٩، ٣٦٢، ٣٦٥) (صحیح )
160Sunan Ibne-Majah

اہل بدر کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ أَوْ مَلَكٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فِيكُمْ ، قَالُوا: خِيَارَنَا، قَالَ: كَذَلِكَ هُمْ عِنْدَنَا خِيَارُ الْمَلَائِكَةِ .

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) یا کوئی اور فرشتہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ اپنے میں شرکائے بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: وہ ہم میں سب سے بہتر ہیں، اس فرشتہ نے کہا: اسی طرح ہمارے نزدیک وہ (شرکائے بدر) سب سے بہتر ہیں ١ ؎۔

Rãfi’ bin Khadij said: “Jibril or an angel came to the Prophet ﷺ and said: ‘How do you regard those among you who were present at Bath?’ He said: ‘They are the best among us.’ He said: ‘We think the same (of the angels who were present at Badr), they are the best of the angels.’”(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے غزوہ بدر کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس لئے کہ شرکاء بدر انسان ہی نہیں بلکہ فرشتوں میں بھی سب سے افضل اور بہتر لوگ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٦٥، ومصباح الزجاجة: ٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٥) (صحیح) (اس حدیث کو امام بخاری نے ( ٧ /٣١١) بطریق یحییٰ بن سعید عن معاذ بن رفاعہ عن أبیہ ذکر کیا ہے، یہ نقل کرنے کے بعد بوصیری کہتے ہیں کہ اگر یہ یعنی سند ابن ماجہ محفوظ ہے تو یہ جائز ہے کہ یحییٰ بن سعید کے اس حدیث میں دو شیخ ہیں، اور سب ثقہ ہیں )