Sunan Ibne-Majah 153

سنت کی پیروی کا بیان

153Sunan Ibne-Majah

حضرت خباب (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، قَالَ: جَاءَ خَبَّابٌ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: ادْنُ فَمَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْمَجْلِسِ مِنْكَ إِلَّا عَمَّارٌ، فَجَعَلَ خَبَّابٌ يُرِيهِ آثَارًا بِظَهْرِهِ مِمَّا عَذَّبَهُ الْمُشْرِكُونَ 2.

ابولیلیٰ کندی کہتے ہیں کہ خباب ؓ عمر ؓ کے پاس آئے، تو عمر ؓ نے کہا: میرے قریب بیٹھو، تم سے بڑھ کر میرے قریب بیٹھنے کا کوئی مستحق نہیں سوائے عمار ؓ کے، پھر خباب ؓ اپنی پیٹھ پر مشرکین کی مار پیٹ کے نشانات ان کو دکھانے لگے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Laila Al-Kindi said: “Khabbâb came to ‘Umar and said: ‘Come close, for no one deserves this meeting more than you, except ‘Animâr.’ Then Khabbâb started to show him the marks on his back where the idolaters had tortured him.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصحاب فضل و کمال کو مجلس میں ممتاز مقام پر رکھنا چاہیے، عمر ؓ افاضل صحابہ کو اپنے پاس جگہ دیتے تھے، عمار ؓ نے بھی اللہ کی راہ میں بہت تکلیفیں اٹھائی تھیں اس لئے عمر ؓ نے ان کو بھی یاد کیا، اور معلوم ہوا کہ کسی کی تعریف اس کے سامنے اگر اس سے خود پسندی اور عجب کا ڈر نہ ہو تو جائز ہے، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار اس اعتبار سے جائز ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں ہیں، جیسے خباب ؓ نے اپنے جسم کے نشان دکھائے کہ جو ایک نعمت الٰہی تھی، اور جو اللہ کے نزدیک بلندی درجات کا سبب ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٢٣، ومصباح الزجاجة: ٥٨) (صحیح )