حضرت خباب (رض) کے فضائل۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، قَالَ: جَاءَ خَبَّابٌ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: ادْنُ فَمَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْمَجْلِسِ مِنْكَ إِلَّا عَمَّارٌ، فَجَعَلَ خَبَّابٌ يُرِيهِ آثَارًا بِظَهْرِهِ مِمَّا عَذَّبَهُ الْمُشْرِكُونَ 2.
ابولیلیٰ کندی کہتے ہیں کہ خباب ؓ عمر ؓ کے پاس آئے، تو عمر ؓ نے کہا: میرے قریب بیٹھو، تم سے بڑھ کر میرے قریب بیٹھنے کا کوئی مستحق نہیں سوائے عمار ؓ کے، پھر خباب ؓ اپنی پیٹھ پر مشرکین کی مار پیٹ کے نشانات ان کو دکھانے لگے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Laila Al-Kindi said: “Khabbâb came to ‘Umar and said: ‘Come close, for no one deserves this meeting more than you, except ‘Animâr.’ Then Khabbâb started to show him the marks on his back where the idolaters had tortured him.” (Da’if)