عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم شکار کرتے ہیں اور ہمیں ذبح کرنے کے لیے تیز پتھر اور دھار دار لکڑی کے سوا کچھ نہیں ملتا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس چیز سے چاہو خون بہاؤ، اور اس پر اللہ کا نام لے لو ۔
It was narrated that Adi bin Hatim said: "I said: O Messenger of Allah, we hunt game but we cannot find anything but the sharp edge of a stone or stick (with which to slaughter it). He said: Cause the blood to flow with whatever you want, and mention the Name of Allah over it.’”
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ غزوات میں ہوتے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو خون بہا دے اور جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے، کیونکہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ١ ؎۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "We were with the Prophet ﷺ on a journey, and I said: O Messenger of Allah, we are (sometimes) on military campaigns, and we have no knife with us: He said: (Use) whatever causes the blood to flow, mention the Name of Allah and eat, but (do not use) teeth or nails, for the tooth is a bone and the nail is the knife of the Ethiopians."
Notes · وضاحت
١ ؎: دانت اور ناخن کے سوا ہر دھار دار اور تیز چیز سے ذبح کرنا جائز ہے، اور تلوار، چھری، نیزے، تیر کے پھل، دھاردار پتھر اور لکڑی، کانچ، تانبے اور ٹین وغیرہ سے غرض جو چیز تیز ہو کر خون بہا دے اس سے ذبح کرنا جائز، اور ذبیحہ حلال ہے، اور شافعی کہتے ہیں کہ ذبح میں حلقوم (گلے کی وہ نالی جس سے کھانا پانی نیچے اترتا ہے)، اور مری (مڑکنی ہڈی گلے سے معدہ تک کی نلی) کا کٹ جانا شرط ہے اور دونوں رگوں کا بھی کاٹ ڈالنا مستحب ہے، امام احمد سے بھی اصح روایت یہی ہے، اور لیث بن سعد، ابو ثور، داود ظاہری اور ابن منذر نے کہا ہے کہ ان سب کا کٹنا شرط ہے، اور ابوحنیفہ نے کہا: اگر ان چاروں میں تین بھی کٹ جائیں تو درست ہے، اور مالک نے کہا کہ حلقوم اور دونوں (ودج) رگوں کا کٹنا ضروری ہے، مری کا کٹنا شرط نہیں، ابن منذر نے کہا: علماء کا اجماع ہے اس پر کہ جب حلقوم اور مری، اور مری اور دونوں رگیں کٹ جائیں، اور خون بہہ جائے، تو ذبح ہوگیا، امام نووی نے اہلحدیث کے مذہب میں اوداج کا کٹنا ضروری قرار دیا ہے۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: الگ ہوجاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں ، پھر آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے لڑکے! اس طرح سے کھال اتارو ، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ passed by a boy who was skinning a sheep. The Messenger of Allah ﷺ said to him: "Step aside and I will show you how." The Messenger of Allah ﷺ put his hand between the skin and the flesh, and thrust his arm in until it disappeared up to the armpit, and said: "O boy, this is how you skin it." Then he went and led the people in prayer and did not perform Wudu.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی ضیافت کے لیے جانور ذبح کرنے کے واسطے چھری سنبھالی تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: دودھ والی سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ came to a man from among the Ansar who had picked up a knife to slaughter an animal for the Messenger of Allah. The Messenger of Allah ﷺ said to him: “Avoid those that are lactating." (i.e. those from which milk is received).
Notes · وضاحت
١ ؎: دودھ والے جانور کا بلا عذر ذبح کرنا مکروہ ہے، اس لئے کہ دودھ سے بہتوں کو بہت دنوں تک فائدہ ہوسکتا ہے، اور گوشت کھا لینے میں یہ فائدہ جاتا رہے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٤٦٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة ٢٠ (٢٠٣٨)، سنن الترمذی/الزہد ٣٩ (٢٣٦٩) (صحیح )
ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اور عمر ؓ سے فرمایا: تم دونوں ہمیں واقفی کے پاس لے چلو، تو ہم لوگ چاندنی رات میں چلے یہاں تک کہ باغ میں پہنچے تو اس نے ہمیں مرحبا و خوش آمدید کہا، پھر چھری سنبھالی اور بکریوں میں گھوما آپ ﷺ نے فرمایا: دودھ والی یا فرمایا: تھن والی بکری سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا۔
Abu Hurairah (RA) narrated that Abu Bakr (RA) bin Quhafah narrated that the Messenger Of Allah said to him and to ‘Umar (RA) : "Let us go out to Waqifi." He said: “So we went out in the moonlight until we came to the garden and he (the owner of the garden) said: Welcome. Then he took up the knife and went among the sheep (to choose for slaughter), and the Messenger of Allah ﷺ said, Avoid those that are lactating.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٦٢٧، ومصباح الزجاجة: ١١٠٠) (ضعیف جدا) (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک راوی ہے )
کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک بکری کو پتھر سے ذبح کردیا، پھر رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔
It was narrated from a son of Kab bin Malik, from his father that a woman slaughtered a sheep with a stone, and that was mentioned to the Messenger of Allah, but he did not see any thing wrong with that.
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ سرکش ہوگیا، ایک شخص نے اس کو تیر مارا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان میں کچھ وحشی ہوتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جنگلی جانوروں کی طرح تو جو ان میں سے تمہارے قابو میں نہ آسکے، اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ١ ؎۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "We were with the Prophet ﷺ on a journey, and a camel ran away. A man shot an arrow at it and the Prophet ﷺ said: It has the inclination to run away like a wild animal. If this happens to any of you, do likewise.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بسم اللہ کہہ کر تیر، برچھی وغیرہ سے مار دو، اگر وہ مرجائے تو حلال ہوگا یہ اضطراری ذبح ہے، اس کا حکم مثل ذبح کے ہے، جب ذبح پر قدرت نہ ہو، اب تیر کے قائم مقام بندوق اور توپ ہے، اگر بندوق بسم اللہ کہہ کر چلائے، اور جانور ذبح کرنے سے پہلے مرجائے تو وہ حلال ہے، یہی قول محققین کا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣١٣٧)، (تحفة الأشراف: ٣٥١٦) (صحیح )
ابوالعشراء کے والد کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا صرف حلق اور کوڑی کے بیچ ہی میں (ذبح) کرنا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اس کی ران میں کونچ دو تو بھی کافی ہے ۔
It was narrated from Abu Ushara that his father said: "I said: O Messenger of Allah, should slaughtering only be done in the throat or upper chest? He said: If you stab it in the thigh that will suffice you."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحي ١٦ (٢٨٢٥)، سنن الترمذی/الصید ١٣ (١٤٨١)، سنن النسائی/الضحایا ٢٤ (٤٤١٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٤)، سنن الدارمی/الأضاحي ١٢ (٢٠١٥) (ضعیف) (ابو العشراء اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٥٣٥ )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade mutilating animals."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کا کوئی عضو کاٹنے سے مثلا ناک، کان اور ہاتھ پاؤں وغیرہ کیونکہ اس میں جانور کی تعذیب ہے، اور وہ حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٩٤، ومصباح الزجاجة: ١١٠١) (ضعیف جدا) (موسیٰ بن محمد بن ابراہیم ضعیف راوی ہے، لیکن مثلہ سے ممانعت کی حدیث صحیح ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٢٣٠ )
ابواسحاق شیبانی (سلیمان بن فیروز) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم خیبر کے دن بھوک سے دوچار ہوئے، ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، لوگوں کو شہر کے باہر سے کچھ گدھے ملے تو ہم نے انہیں ذبح کیا، ہماری ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز لگائی: لوگو! ہانڈیاں الٹ دو، اور گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ، تو ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔ ابواسحاق (سلیمانی بن فیروز الشیبانی الکوفی) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے پوچھا: نبی اکرم ﷺ نے گدھا واقعی حرام قرار دے دیا ہے؟ تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے اس کو بالکل ہی حرام قرار دے دیا ہے کیونکہ وہ گندگی کھاتا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Ishaq Shaiban said: "I asked Abdullah bin Abu Awfa about the flesh of domesticated donkeys and he said: We were starving on the Day of Khaibar, when we were with the Prophet. The people had gotten some donkeys as spoils of war on the way out from Al-Madinah, so we slaughtered them and our cooking pots were boiling when the caller of the Messenger Of Allah cried out, telling us to overturn our pots and not to eat anything of the flesh of donkeys. So we overturned them.’ I said to ‘Abdullah bin Abu Awfa: ‘Was it made unlawful?’ He said: ‘We think that the Messenger Of Allah forbade it altogether because it eats excrement.’
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء اور اہلحدیث کا یہ قول ہے کہ پالتو گدھا حرام ہے، اور اس کی حرمت میں براء بن عازب، اور ابن عمر اور ابوثعلبہ خشنی ؓ کی احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہیں، البتہ جنگلی گدھا یعنی نیل گائے بالاتفاق حلال ہے، اور رسول اکرم ﷺ کو ہدیہ دیا گیا اور آپ نے اس میں سے کھایا (الروضۃ الندیۃ)۔ امام مالک اور علماء کی ایک جماعت کے نزدیک پالتو گدھا حلال ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ممانعت اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے غنیمت کا مال تقسیم ہونے سے پہلے کھانا چاہا، اور وہ منع ہے جیسے اوپر گزرا اور ان کی دلیل ابوداود میں موجود غالب بن ابجر ؓ کی یہ حدیث ہے کہ اپنے گھر والوں کو موٹے گدھوں میں سے کھلاؤ، میں نے ان کو نجاست کھانے کی وجہ سے حرام کیا تھا، لیکن یہ روایت ضعیف اور مضطرب الاسناد ہے، یہ حلت کی دلیل نہیں بن سکتی خصوصاً جب کہ صریح احادیث میں ممانعت آئی ہے۔
مقدام بن معدیکرب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، حتیٰ کہ انہوں نے (ان حرام چیزوں میں) پالتو گدھے کا بھی ذکر کیا۔
It was narrated from Miqdam bin Madikarib Al-Kindi that the Messenger of Allah ﷺ forbade several things, until he mentioned (the meat of) domesticated donkeys.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٥٥٤، ومصباح الزجاجة: ١١٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٩، ١٣٢) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پالتو گدھے کا گوشت پھینک دینے کا حکم دیا، خواہ وہ کچا ہو یا پکا ہوا ہو، پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے اس کے کھانے کا حکم ہمیں نہیں دیا۔
It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to throw away the meat of domesticated donkeys, raw or cooked, then he did not say anything to us about it after that.”
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی لڑائی لڑی، پھر شام ہوگئی اور لوگوں نے آگ جلائی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا پکا رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا: پالتو گدھے کا گوشت (یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا: جو کچھ ہانڈی میں ہے اسے بہا دو، اور ہانڈیاں توڑ دو تو لوگوں میں سے ایک نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ایسا نہ کریں کہ جو ہانڈی میں ہے اسے بہا دیں اور ہانڈی کو دھل (دھو) ڈالیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایسا ہی کرلو ۔
It was narrated that Salamah bin Akwa said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ on the campaign of Khaibar, and in the evening the people lit their fires, The Prophet ﷺ said: What are you cooking? They said: The meat of domesticated donkeys. He said: Throw out what is in them (the pots) and break them. A man said: Or can we throw out what is in them and wash them? The Prophet ﷺ said: Or (do) that."
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٣٢ (٢٤٧٧)، صحیح مسلم/الجہاد ٤٣ (١٨٠٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٨، ٥٠) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے منادی نے آواز لگائی: اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the caller of the Prophet ﷺ cried out: "Allah and His Messenger forbid you to eat the flesh of domesticated donkeys, for it is filthy."