علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے اونٹ کے سبھی اجزاء، اس کے گوشت، اس کی کھالوں اور جھولوں سمیت سبھی کچھ مساکین کے درمیان تقسیم کرنے کا حکم دیا۔
Ali bin Abu narrated that the Messenger of Allah ﷺ commanded him to distribute the entire sacrificial camel - its meat, skin and covers - among the poor.
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے ہر اونٹ کا ایک ٹکڑا منگایا، پھر ان سب ٹکڑوں کو ایک ہانڈی میں پکانے کا حکم دیا، تو وہ ایک ہانڈی میں رکھ کر پکایا گیا، پھر سبھی لوگوں نے اس کا گوشت کھایا، اور اس کا شوربہ پیا۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ ordered that a piece from every camel that had been slaughtered be brought and placed in a pot, then they ate from its meat and drank some of the broth.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی محتاجی اور فقر کی وجہ سے قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی سے منع فرما دیا تھا، پھر آپ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی۔
It Was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ only forbade storing the meat of the sacrifices because the people were facing hardship. Then later he permitted that."
نبیشہ (نبیشہ بن عبداللہ الہذلی) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، لیکن اب اسے کھاؤ اور ذخیرہ اندوزی کرو ١ ؎۔
It was narrated from Nubaishah that the Messenger of Allah ﷺ said: "I used to forbid you to store the meat of the sacrifices for more than three days, but (now) eat some and store some."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جتنے دن چاہو اسے کھاؤ اور محفوظ کر کے رکھو، اس لئے کہ اب فقر و فاقہ کے دن گئے، لوگ خوشحال ہوگئے، اس لئے اب اس کو تین دن میں کھانا اور تقسیم کرنا غیر ضروری ہوگیا۔
ام کرز ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ١ ؎۔
It was narrated that Umm Kurz said: "I heard the Prophet ﷺ say: On behalf of a boy, two sheep of equal age and on behalf of a girl one sheep."
Notes · وضاحت
١ ؎: جو جانور نومولود کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے اسے عقیقہ کہتے ہیں، اور نومولود کے بالوں کو بھی عقیقہ کہا جاتا ہے، جو جانور کے ذبح کے وقت اتارے جاتے ہیں۔
سلمان بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکے کا عقیقہ ہے تو تم اس کی طرف سے خون بہاؤ، اور اس سے گندگی کو دور کرو ۔
It was narrated from Salman bin Amir that he heard the Prophet ﷺ say: "For a boy there should be an Aqiqah, so shed blood for him and remove the harm from him."
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور نام رکھا جائے ۔
It was narrated from Samurah that the Prophet ﷺ said: "Every boy is mortgaged by his Aqiqah, so slaughter for him on the seventh day, and shave his head, and name him."
یزید بن عبدالمزنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے، اور اس کے سر میں عقیقہ کے جانور کا خون نہ لگایا جائے ١ ؎۔
Yazid bin Abdul-Muzani narrated that the Prophet ﷺ said: "Offer an Aqiqah for the boy, but do not smear his head with blood."
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا، سنن ابی داود کی روایت رقم ( ٢٨٣٧ ) جس میں عقیقہ کا خون بچے کے سر پر لگانے کا ذکر ہے یہ روایت منسوخ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٣٢) (صحیح) (یزید بن عبد المزنی مجہول ہے، لیکن عائشہ وبریدہ ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤/ ٣٨٨ / ٣٩٩ )
نبیشہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو آواز دی اور کہا: اللہ کے رسول! ہم زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں عتیرہ کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس مہینے میں چاہو اللہ کے لیے قربانی کرو، اللہ تعالیٰ کے لیے نیک عمل کرو، اور (غریبوں کو) کھانا کھلاؤ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں فرع کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر سائمہ (چرنے والے جانور) میں فرع ہے جس کو تمہارا جانور جنے یہاں تک کہ جب وہ بوجھ لادنے کے لائق (یعنی جوان) ہوجائے تو اسے ذبح کرو، اور اس کا گوشت (میرا خیال ہے انہوں نے کہا) مسافروں پر صدقہ کر دے تو یہ بہتر ہے ١ ؎۔
It was narrated that Nubaishah said: "A man called the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Atirah: during the Ignorance days in Rajab; what do you command us to do? He said: "Sacrifice to Allah whatever month it is, do good for the sake of Allah and feed (the poor):They said: O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Farah during the Ignorance days; what do you command us to do? He said: For every Saimah (flock of grazing animals), feed the I firstborn as you feed the rest of your flock until it reaches an age where it could be used to carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity - I think he said - to the wayfarer, for that is good.
Notes · وضاحت
١ ؎: عتیرہ رجب کی قربانی ہے، اور فرع جاہلیت میں جو مروج تھا وہ اونٹنی کا پہلونٹا بچہ ہوتا تھا، جس کو مشرک بتوں کے لئے ذبح کرتے تھے اور بعضوں نے کہا کہ جب سو اونٹ کسی کے پاس پورے ہوجاتے تو وہ ایک بچہ ذبج کرتا، اس کو فرع کہتے ہیں، اسلام میں یہ لغو ہوگیا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: بچہ کاٹنے سے تو یہ بہتر ہے کہ اس کو جوان ہونے دے، جب مضبوط اور تیار ہوجائے تو اس کو اس وقت ذبح کر کے مسافروں کو کھلا دیا جائے، بعضوں نے کہا: فرع اور عتیرہ اب بھی مستحب ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے کرنا چاہیے، اور اس حدیث سے فرع کا جواز نکلتا ہے، دوسری روایت میں ہے کہ جب وہ جوان ہوجائے، تو اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دے تاکہ جہاد میں اس پر سواری یا بوجھ لایا جائے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہ فرعہ ہے اور نہ عتیرہ (یعنی واجب اور ضروری نہیں ہے) ، ہشام کہتے ہیں:فرعہ: جانور کے پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں، ١ ؎ اور عتیرہ: وہ بکری ہے جسے گھر والے رجب میں ذبح کرتے ہیں ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "There is no Farah and no Atirah." In his narration, Hisham said: "The Farah is the first offspring, and the Atirah is a sheep that the household sacrifices in Rajab."
Notes · وضاحت
١ ؎: جاہلیت میں اونٹنی کے پہلوٹے بچے کو لوگ اپنے معبودوں کے نام پر ذبح کردیا کرتے تھے اسے فرعہ کہتے تھے۔ ٢ ؎: اسے رجبیہ بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جانور جسے رجب کے مہینے میں ایک خاص نیت و ارادہ سے ذبح کیا جائے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہ فرعہ (واجب) ہے اور نہ عتیرہ ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ابی عمر عدنی کے تفردات میں سے ہے۔
It was narrated from Muhammad bin Abu (Umar) Adani that the Prophet ﷺ said: "There is no Far’ah and no Atirah.” Ibn Majah said: This (narration) is among those only narrated by (Muhammad bin Abi Umar) ‘Al-Adani.
شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل نے ہر چیز میں احسان (رحم اور انصاف) کو فرض قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو (تاکہ مخلوق کو تکلیف نہ ہو) اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کرلے، اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ١ ؎۔
It was narrated from Shaddad bin Aws that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah has prescribed Al-Ihsan (proficiency) in all things. So if you kill, then kill well, and if you slaughter, then slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ذبح کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر جائے، یہاں تک کہ جانور ٹھنڈا ہوجائے، اس وقت کھال اتارے اور کاٹے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو ایک بکری کا کان پکڑے اسے گھسیٹ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا کان چھوڑ دو، اور اس کی گردن کی طرف پکڑ لو (تاکہ اسے تکلیف نہ ہو) ۔
It was narrated that "Abu Sa’eed Al-Khudri said: The Prophet ﷺ passed by a man who was dragging a sheep by its ear. He said: Leave its ear alone and hold it by the sides of its neck.’
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٠٩٧) (ضعیف جدا) (سند میں موسیٰ بن محمد منکر الحدیث راوی ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چھری کو تیز کرنے، اور اسے جانوروں سے چھپانے کا حکم دیا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی ذبح کرے تو اچھی طرح ذبح کرے تاکہ اس کی جان جلد نکل جائے۔
It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded that the blade should be sharpened, and hidden from the animals, and he said: When one of you slaughters, let him do it quickly." Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٩٠٥، ومصباح الزجاجة: ١٠٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٠٨) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ اور قرة ضعیف راوی ہیں، تراجع الألبانی: رقم: ٨ )
اس سند سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٠٣٦، ومصباح الزجاجة: ١٠٩٩ )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ آیت کریمہ: إن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم (سورة الأنعام: 121) کی تفسیر میں کہتے ہیں: ان کی وحی یہ تھی کہ جس (ذبیحہ) پر اللہ کا نام لیا جائے اس کو مت کھاؤ، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے کھاؤ، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم الله عليه جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ ١ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas (RA) : "And certainly, the Shayatin (devils) do inspire their friends (from mankind). He said: "They used to say: Whatever the Name of Allah has been mentioned over, do not eat it, and whatever the Name of Allah has not been mentioned over, eat it. Then Allah said: "Eat not of that over which Allahs Name has not been pronounced."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان سے گوشت لے لینا جائز ہے، اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا یا نہیں کیونکہ مسلمان کی ظاہری حالت امید دلاتی ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا نام ضرور لیا ہوگا، البتہ مشرک سے گوشت لینا جائز نہیں جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے، اگر دیکھے نہیں لیکن مشرک یہ کہے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے تو اس کا لینا جائز ہے، بشرطیکہ یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مردار ہے منخنقہ وغیرہ ورنہ ہرگز جائز نہ ہوگا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت (بیچنے کے لیے) لاتے ہیں، اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں؟! آپ ﷺ نے فرمایا: تم بسم اللہ کہہ کر کھاؤ اور وہ لوگ (ابھی) نو مسلم تھے۔
It was narrated from Aisha (RA) , the Mother of the Believers, that some people said: of "O Messenger of Allah, Some people bring us meat, and we do not know whether the Name of Allah has been mentioned over it or not." He said: "Say: Bismillah and eat. They were new in Islam.
محمد بن صیفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک تیز دھار والے پتھر سے دو خرگوش ذبح کئے، پھر انہیں لے کر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے مجھے ان کے کھانے کی اجازت دی۔
It was narrated that Muhammad bin Saifi said: I slaughtered two rabbits with a sharp-edged stone and brought them to the Prophet, and he told me to eat them."
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ بھیڑئیے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دیئے، تو لوگوں نے اس بکری کو پتھر سے ذبح کر ڈالا، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔
It was narrated from Zaid bin Thabit that a wolf bit a sheep, and they slaughtered it with a sharp-edged stone, and the Messenger of Allah ﷺ allowed them to eat it.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الضحایا ١٧ (٤٤٠٥)، ٢٣ (٤٤١٢)، (تحفة الأشراف: ٣٧١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٤) (صحیح) (سند میں حاضر بن مہاجر کو ابو حاتم نے مجہول کہا ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )