ادب کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 62 · 249 hadiths · Page 11 of 13

6182Sahih Bukhari

زمانے کو برا بھلا نہ کہو۔

حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ، وَلَا تَقُولُوا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ.

ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انگور عنب کو كرم نہ کہو اور یہ نہ کہو کہ ہائے زمانہ کی نامرادی۔ کیونکہ زمانہ تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Dont call the grapes Al-Karm, and dont say Khai

6183Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا فرمانا کہ کرم مومن کا دل ہے اور فرمایا مفلس وہ ہے جو قیامت کے (اعمال کے اعتبار سے) مفلس ہو نیز آپ ﷺ کا فرمانا کہ کشتی میں بچھاڑنا دراصل یہ ہے کہ بوقت غضب اپنے نفس کو قابو میں رکھے نیز آپ کا فرمانا کہ ملک اللہ ہی کا ہے اور آپ نے اس طرح بیان کیا کہ وہی آخری بادشاہ ہے پھر بادشاہوں کا بھی ذکر کیا اور فرمایا کہ بادشاہ جب کسی آبادی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تاخت و تاراج کر ڈالتے ہیں۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيَقُولُونَ الْكَرْمُ إِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ (انگور کو) كرم کہتے ہیں،كرم تو مومن کا دل ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "They say Al-Karm (the generous), and in fact Al-Karm is the heart of a believer."

6184Sahih Bukhari

کسی شخص کا فداک ابی و امی کہنا اس میں زبیر کی روایت ہے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي أَحَدًا غَيْرَ سَعْدٍ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي أَظُنُّهُ يَوْمَ أُحُدٍ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے عبداللہ بن شداد نے اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی کے لیے اپنے آپ کو قربان کرنے کا لفظ کہتے نہیں سنا، سوا سعد بن ابی وقاص کے۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے۔ تیر مار، اے سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، میرا خیال ہے کہ یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا۔

Narrated Ali (RA) : I never heard Allahs Apostle ﷺ saying, "Let my father and mother be sacrificed for you," except for Sad (bin Abi Waqqas). I heard him saying, "Throw! (arrows), Let my father and mother be sacrificed for you !" (The sub-narrator added, "I think that was in the battle of Uhud.")

6185Sahih Bukhari

کسی شخص کا یہ کہنا کہ اللہ مجھ کو تم پر فدا کرے اور حضرت ابوبکر (رض) نے نبی ﷺ سے کہا کہ ہم اپنے باپوں اور ماؤں کو آپ پر فدا کریں۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةُ مُرْدِفُهَا عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَثَرَتِ النَّاقَةُ، فَصُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ، وَأَنَّ أَبَا طَلْحَةَ قَالَ: أَحْسِبُ اقْتَحَمَ عَنْ بَعِيرِهِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، هَلْ أَصَابَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْمَرْأَةِفَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ ثَوْبَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَصَدَ قَصْدَهَا، فَأَلْقَى ثَوْبَهُ عَلَيْهَا، فَقَامَتِ الْمَرْأَةُ، فَشَدَّ لَهُمَا عَلَى رَاحِلَتِهِمَا، فَرَكِبَا فَسَارُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ، أَوْ قَالَ أَشْرَفُوا عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهَا حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ وہ اور ابوطلحہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ (مدینہ منورہ کے لیے) روانہ ہوئے۔ ام المؤمنین صفیہ ؓ نبی کریم ﷺ کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں، راستہ میں کسی جگہ اونٹنی کا پاؤں پھسل گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین گرگئے۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے ابوطلحہ نے اپنی سواری سے فوراً اپنے کو گرا دیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے اور عرض کیا: یا نبی اللہ! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کیا آپ کو کوئی چوٹ آئی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، البتہ عورت کو دیکھو۔ چناچہ ابوطلحہ ؓ نے کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لیا، پھر ام المؤمنین کی طرف بڑھے اور اپنا کپڑا ان کے اوپر ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ کھڑی ہوگئیں اور نبی کریم ﷺ اور ام المؤمنین کے لیے ابوطلحہ نے پالان مضبوط باندھا۔ اب آپ نے سوار ہو کر پھر سفر شروع کیا، جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے (یا یوں کہا کہ مدینہ دکھائی دینے لگا) تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا آيبون تائبون، عابدون لربنا حامدون ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور اس کی حمد بیان کرتے ہوئے۔ نبی کریم ﷺ اسے برابر کہتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوگئے۔

Narrated Anas bin Malik (RA): That he and Abu Talha were coming in the company of the Prophet ﷺ towards Medina), while Safiya (the Prophets wife) was riding behind him on his she-camel. After they had covered a portion of the way suddenly the foot of the she-camel slipped and both the Prophet ﷺ and the woman (i.e., his wife, Safiya) fell down. Abu Talha jumped quickly off his camel and came to the Prophet ﷺ (saying.) "O Allahs Apostle ﷺ ! Let Allah sacrifice me for you! Have you received any injury?" The Prophet ﷺ said, "No, but take care of the woman (my wife)." Abu Talha covered his face with his garment and went towards her and threw his garment over her. Then the woman got up and Abu Talha prepared their she camel (by tightening its saddle, etc.) and both of them (the Prophet ﷺ and Safiya) mounted it. Then all of them proceeded and when they approached near Medina, or saw Medina, the Prophet ﷺ said, "Ayibun, abidun, taibun, liRabbina hamidun (We are coming back (to Medina) with repentance, worshipping (our Lord) and celebrating His (our Lords) praises". The Prophet ﷺ continued repeating these words till he entered the city of Medina.

6186Sahih Bukhari

اللہ کے نزدیک محبوب ترین نام کا بیان۔

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا: لَا نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا كَرَامَةَ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سَمِّ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ.

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، ان سے ابن المنکدر نے بیان کیا اور ان سے جابر ؓ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک صاحب کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم تم کو ابوالقاسم کہہ کر نہیں پکاریں گے (کیونکہ ابوالقاسم نبی کریم ﷺ کی کنیت تھی) اور نہ ہم تمہاری عزت کے لیے ایسا کریں گے۔ ان صاحب نے اس کی خبر نبی کریم ﷺ کو دی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لے۔

Narrated Jabir (RA) : A boy was born for a man among us, and the man named him Al-Qasim. We said to him, "We will not call you Abu-l-Qasim, nor will we respect you for that." The Prophet ﷺ was informed about that, and he said, "Name your son Abdur-Rahman."

6187Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا فرمانا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔ انس نے نبی ﷺ سے اس کو نقل کیا ہے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقَالُوا: لَا نَكْنِيهِ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے جابر ؓ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے ان سے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم ﷺ سے نہ پوچھ لیں۔ ہم اس نام پر تمہاری کنیت نہیں ہونے دیں گے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ اختیار کرو۔

Narrated Jabir (RA) : A man among us begot a boy whom he named Al-Qasim. The people said, "We will not call him (i.e., the father) by that Kuniya (Abu-l-Qasim) till we ask the Prophet ﷺ about it. The Prophet ﷺ said. "Name yourselves by my name, but do not call (yourselves) by my Kuniya."

6188Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا فرمانا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔ انس نے نبی ﷺ سے اس کو نقل کیا ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Abu-l-Qasim (The Prophet) said, "Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kuniya."

6189Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا فرمانا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔ انس نے نبی ﷺ سے اس کو نقل کیا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقَالُوا لَا نَكْنِيكَ بِأَبِي الْقَاسِمِ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ.

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا کہ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے سنا کہ ہم میں سے ایک آدمی کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم نہیں رکھیں گے اور نہ تیری آنکھ اس کنیت سے پکار کر ٹھنڈی کریں گے۔ وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لو۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : A man among us begot a boy whom he named Al-Qasim. The people said (to him), "We will not call you Abul-l-Qasim, nor will we please you by calling you so." The man came to the Prophet ﷺ and mentioned that to him. The Prophet ﷺ said to him, "Name your son Abdur-Rahman."

6190Sahih Bukhari

حزن نام رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمَحْمُودٌ هُوَ ابْنُ غَيْلانَ ، قَالَا: حَدَّثَنَاعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، بِهَذَا.

اس سند سے بھی یہی روایت ہے۔

Narrated Al-Musaiyab (RA) : on the authority of his father similarly as above (i.e., 209).

6191Sahih Bukhari

ایک نام بدل کر اس سے اچھا نام رکھنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ: أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ، فَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ، فَاحْتُمِلَ مِنْ فَخِذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفَاقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ الصَّبِيُّ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: قَلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: مَا اسْمُهُ ؟ قَالَ: فُلَانٌ. قَالَ: وَلَكِنْ أَسْمِهِ الْمُنْذِرَ، فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ.

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل ؓ نے بیان کیا کہ منذر بن ابی اسید ؓ کی ولادت ہوئی تو انہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے بچہ کو اپنی ران پر رکھ لیا۔ ابواسید ؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم ﷺ کسی چیز میں جو سامنے تھی مصروف ہوگئے (اور بچہ کی طرف توجہ ہٹ گئی) ۔ ابواسید ؓ نے بچہ کے متعلق حکم دیا اور نبی کریم ﷺ کی ران سے اٹھا لیا گیا۔ پھر جب نبی کریم ﷺ متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے؟ ابواسید ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اسے گھر بھیج دیا۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: اس کا نام کیا ہے؟ عرض کیا کہ فلاں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، بلکہ اس کا نام منذر ہے۔ چناچہ اسی دن نبی کریم ﷺ نے ان کا یہی نام منذر رکھا۔

Narrated Sahl (RA) : When Al-Mundhir bin Abu Usaid was born, he was brought to the Prophet ﷺ who placed him on his thigh. While Abu Usaid was sitting there, the Prophet ﷺ was busy with something in his hands so Abu Usaid told someone to take his son from the thigh of the Prophet ﷺ . When the Prophet ﷺ finished his job (with which he was busy), he said, "Where is the boy?" Abu Usaid replied, "We have sent him home." The Prophet ﷺ said, "What is his name?" Abu Usaid said, "(His name is) so-and-so. " The Prophet ﷺ said, "No, his name is Al-Mundhir." So he called him Al-Mundhir from that day.

6192Sahih Bukhari

ایک نام بدل کر اس سے اچھا نام رکھنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَقِيلَ: تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ.

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں عطاء بن ابی میمونہ نے، انہیں ابورافع نے اور انہیں ابوہریرہ ؓ نے کہ ام المؤمنین زینب ؓ کا نام برہ تھا، کہا جانے لگا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہیں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے ان کا نام زینب رکھا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Zainabs original name was "Barrah," but it was said "By that she is giving herself the prestige of piety." So the Prophet ﷺ changed her name to Zainab.

6193Sahih Bukhari

ایک نام بدل کر اس سے اچھا نام رکھنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ جَدَّهُ حَزْنًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ: اسْمِي حَزْنٌ. قَالَ: بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ. قَالَ: مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي. قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: فَمَا زَالَتْ فِينَا الْحُزُونَةُ بَعْدُ.

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا مجھ کو عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ نے خبر دی، کہا کہ میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے دادا حزن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا نام حزن ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم سہل ہو، انہوں نے کہا کہ میں تو اپنے باپ کا رکھا ہوا نام نہیں بدلوں گا۔ سعید بن مسیب نے کہا اس کے بعد سے اب تک ہمارے خاندان میں سختی اور مصیبت ہی رہی۔ حزونة سے صعوبت مراد ہے۔

Narrated Said bin Al-Musaiyab (RA) : That when his grandfather, Hazn visited the Prophet ﷺ the Prophet ﷺ said (to him), "What is your name?" He said, "My name is Hazn." The Prophet ﷺ said, " But you are Sahl." He said, "I will not change my name with which my father named me." Ibn Al-Musaiyab added: So we have had roughness (in character) ever since.

6194Sahih Bukhari

انبیاء علیھم السلام کے نام پر نام رکھنے کا بیان اور حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ابراہیم یعنی اپنے صاحبزادے کا بوسہ لیا۔

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى : رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَاتَ صَغِيرًا، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ.

ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے، ان سے اسماعیل بن ابی خالد بجلی نے، کہ میں نے ابن ابی اوفی سے پوچھا۔ تم نے نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کو دیکھا تھا؟ بیان کیا کہ ان کی وفات بچپن ہی میں ہوگئی تھی اور اگر نبی کریم ﷺ کے بعد کسی نبی کی آمد ہوتی تو نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکن نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

Narrated Ismail (RA) : I asked Abi Aufa, "Did you see Ibrahim, the son of the Prophet ﷺ ?" He said, "Yes, but he died in his early childhood. Had there been a Prophet ﷺ after Muhammad then his son would have lived, but there is no Prophet ﷺ after him."

6195Sahih Bukhari

انبیاء کے نام پر نام رکھنے کا بیان اور حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ابراہیم یعنی اپنے صاحبزادے کا بوسہ لیا۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں عدی بن ثابت نے کہا کہ میں نے براء ؓ سے سنا، بیان کیا کہ جب آپ کے فرزند ابراہیم (علیہ السلام) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی دایہ مقرر ہوگئی ہے۔

Narrated Al-Bara (RA) : When Ibrahim (the son of the Prophet) died, Allahs Apostle ﷺ said, "There is a wet nurse for him in Paradise."

6196Sahih Bukhari

انبیاء کے نام پر نام رکھنے کا بیان اور حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ابراہیم یعنی اپنے صاحبزادے کا بوسہ لیا۔

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ، وَرَوَاهُ أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جریر بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ اختیار کرو کیونکہ میں قاسم (تقسیم کرنے والا) ہوں اور تمہارے درمیان (علوم دین کو) تقسیم کرتا ہوں۔ اور اس روایت کو انس ؓ نے بھی نبی کریم ﷺ سے نقل کیا۔

Narrated Jabir bin Abdullah Al-Ansari (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Name yourselves after me (by my name) but do not call (yourselves) by my Kuniya (1), for I am Al-Qasim (distributor), and I distribute among you Allahs blessings." This narration has also come on the authority of Anas that the ! Prophet ﷺ said so."

6197Sahih Bukhari

انبیاء کے نام پر نام رکھنے کا بیان اور حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ابراہیم یعنی اپنے صاحبزادے کا بوسہ لیا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میرے نام پر نام رکھو لیکن تم میری کنیت نہ اختیار کرو اور جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا اور جس نے قصداً میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کی اس نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Name yourselves after me (by my name), but do not call yourselves by my Kuniya, and whoever sees me in a dream, he surely sees me, for Satan cannot impersonate me (appear in my figure). And whoever intentionally ascribes something to me falsely, he will surely take his place in the (Hell) Fire.

6198Sahih Bukhari

انبیاء کے نام پر نام رکھنے کا بیان اور حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ابراہیم یعنی اپنے صاحبزادے کا بوسہ لیا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، وَدَفَعَهُ إِلَيَّ وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى.

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ ؓ نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور ایک کھجور اپنے دہان مبارک میں نرم کر کے اس کے منہ میں ڈالی اور اس کے لیے برکت کی دعا کی پھر اسے مجھے دے دیا۔ یہ ابوموسیٰ کی بڑی اولاد تھی۔

Narrated Abu Musa (RA) : I got a son and I took him to the Prophet ﷺ who named him Ibrahim, and put in his mouth the juice of a date fruit (which be himself had chewed?, and invoked for Allahs blessing upon him, and then gave him back to me. He was the eldest son of Abii Musa.

6199Sahih Bukhari

انبیاء کے نام پر نام رکھنے کا بیان اور حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ابراہیم یعنی اپنے صاحبزادے کا بوسہ لیا۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے، کہا ہم سے زیاد بن علاقہ نے، کہا ہم نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے سنا، بیان کیا کہ جس دن ابراہیم ؓ کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن ہوا تھا۔ اس کو ابوبکرہ نے بھی نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔

Narrated Al-Mughira bin Shuba (RA) : Solar eclipse occurred on the day of Ibrahims death (the Prophets son).

6200Sahih Bukhari

کسی شخص کا بچے کا نام اپنا نام رکھنے کا بیان۔

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ.

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے سر مبارک رکوع سے اٹھایا تو یہ دعا کی اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام، وعياش بن أبي ربيعة، والمستضعفين بمكة اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ میں دیگر موجود کمزور مسلمانوں کو نجات دیدے۔ اللهم اشدد وطأتک على مضر، اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف اے اللہ! قبیلہ مضر کے کفاروں کو سخت پکڑ، اے اللہ! ان پر یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ جیسا قحط نازل فرما۔

Narrated Abu Hurairah (RA): When the Prophet ﷺ (once) raised his head after bowing [in the Salat (prayer)] he said, "O Allah, save Al-Walid bin Al-Walid and Salamah bin Hisham and Aiyyash bin Abu Rabia and the helpless weak believers of Makkah. O Allah, be hard on the tribe of Mudar. O Allah, send on them (famine-drought) years like the (famine-drought) years of (the Prophet) Yusuf علیہ السلام (Joseph)".

6201Sahih Bukhari

اپنے ساتھی کو اس کے نام میں سے کوئی حرف کم کر کے پکارنے کا بیان اور ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا اے ابوہر۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَ، هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ، قُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لَا نَرَى.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا عائش! یہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔ میں نے کہا اور ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ وہ چیزیں دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھتے تھے۔

Narrated Aisha (RA) : (the wife the Prophet) Allahs Apostle ﷺ said, "O Aisha (RA) ! This is Gabriel (علیہ السلام) sending his greetings to you." I said, "Peace, and Allahs Mercy be on him." Aisha (RA) added: The Prophet ﷺ used to see things which we used not to see.