اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ شراب، جوا، بت اور پانسے پھینکنا گندی باتیں شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا، حُرِمَهَا فِي الآخِرَةِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس نے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہے گا۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Whoever drinks alcoholic drinks in the world and does not repent (before dying), will be deprived of it in the Hereafter."
اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ شراب، جوا، بت اور پانسے پھینکنا گندی باتیں شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ، وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ أَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، وَلَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ، غَوَتْ أُمَّتُكَ، تَابَعَهُ مَعْمَرٌ ، وَابْنُ الْهَادِ ، وعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، وَالزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا کہ جس رات رسول اللہ ﷺ کو معراج کرائی گئی تو آپ ﷺ کو (بیت المقدس کے شہر) ایلیاء میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کئے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا پھر آپ ﷺ نے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ اس پر جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا اس اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے آپ کو دین فطرت کی طرف چلنے کی ہدایت فرمائی۔ اگر آپ نے شراب کا پیالہ لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو معمر، ابن الہاد، عثمان بن عمر اور زبیدی نے زہری سے نقل کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
On the night Allahs Apostle ﷺ was taken on a night journey (Miraj) two cups, one containing wine and the other milk, were presented to him at Jerusalem. He looked at it and took the cup of milk. Gabriel (علیہ السلام) said, "Praise be to Allah Who guided you to Al-Fitra (the right path); if you had taken (the cup of) wine, your nation would have gone astray."
اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ شراب، جوا، بت اور پانسے پھینکنا گندی باتیں شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، لَا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ غَيْرِي، قَالَ: مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَقِلَّ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمُهُنَّ رَجُلٌ وَاحِدٌ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی جو تم سے اب میرے سوا کوئی اور نہیں بیان کرے گا (کیونکہ اب میرے سوا کوئی صحابی زندہ موجود نہیں رہا ہے) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ جہالت غالب ہوجائے گی اور علم کم ہوجائے گا، زناکاری بڑھ جائے گی، شراب کثرت سے پی جانے لگے گی، عورتیں بہت ہوجائیں گی، یہاں تک کہ پچاس پچاس عورتوں کی نگرانی کرنے والا صرف ایک ہی مرد رہ جائے گا۔
Narrated Anas (RA) :
I heard from Allahs Apostle ﷺ a narration which none other than I will narrate to you. The Prophet, said, "From among the portents of the Hour are the following: General ignorance (in religious affairs) will prevail, (religious) knowledge will decrease, illegal sexual intercourse will prevail, alcoholic drinks will be drunk (in abundance), men will decrease and women will increase so much so that for every fifty women there will be one man to look after them."
اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ شراب، جوا، بت اور پانسے پھینکنا گندی باتیں شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَابْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولَانِ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ثُمَّ يَقُولُ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُلْحِقُ مَعَهُنَّ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ، يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ فِيهَا حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن مسیب سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب وہ شراب پیتا ہے تو عین شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، ان سے ابوبکر ؓ بیان کرتے تھے اور ان سے ابوہریرہ ؓ۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں امور مذکورہ کے ساتھ اتنا اور زیادہ کرتے تھے کہ کوئی شخص (دن دھاڑے) اگر کسی بڑی پونجی پر اس طور ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن رہتے ہوئے یہ لوٹ مار نہیں کرتا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "An adulterer, at the time he is committing illegal sexual intercourse is not a believer; and a person, at the time of drinking an alcoholic drink is not a believer; and a thief, at the time of stealing, is not a believer." Ibn Shihab (RA) said: Abdul Malik bin Abi Bakr bin Abdur-Rahman bin Al- Harith bin Hisham told me that Abu Bakr (RA) used to narrate that narration to him on the authority of Abu Hurairah (RA) . He used to add that Abu Bakr (RA) used to mention, besides the above cases, "And he who robs (takes illegally something by force) while the people are looking at him, is not a believer at the time he is robbing (taking)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ هُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَمَا بِالْمَدِينَةِ مِنْهَا شَيْءٌ.
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے جو مغول کے صاحبزادے ہیں، بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو انگور کی شراب مدینہ منورہ میں نہیں ملتی تھی۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
"Alcoholic drinks were prohibited (by Allah) when there was nothing of it (special kind of wine) in Medina.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْخَمْرُ حِينَ حُرِّمَتْ وَمَا نَجِدُ يَعْنِي بِالْمَدِينَةِ خَمْرَ الْأَعْنَابِ إِلَّا قَلِيلًا، وَعَامَّةُ خَمْرِنَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوشہاب عبدربہ بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ جب شراب ہم پر حرام کی گئی تو مدینہ منورہ میں انگور کی شراب بہت کم ملتی تھی۔ عام استعمال کی شراب کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔
Narrated Anas (RA) :
"Alcoholic drinks were prohibited at the time we could rarely find wine made from grapes in Medina, for most of our liquors were made from unripe and ripe dates.
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَامَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَأَمَّا بَعْدُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ان سے ابوحیان نے، کہا ہم سے عامر نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر ؓ نے کہ عمر ؓ ممبر پر کھڑے ہوئے اور کہا امابعد! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو اور شراب (خمر) وہ ہے جو عقل کو زائل کر دے۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Umar stood up on the pulpit and said, "Now then, prohibition of alcoholic drinks have been revealed, and these drinks are prepared from five things, i.e.. grapes, dates, honey, wheat or barley And an alcoholic drink is that, that disturbs the mind.
جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو یہ کچی اور پکی کھجوروں سے بنتی تھی
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ، وَأَبَا طَلْحَةَ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، مِنْ فَضِيخِ زَهْوٍ وَتَمْرٍ، فَجَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: قُمْ يَا أَنَسُ فَأَهْرِقْهَا، فَأَهْرَقْتُهَا.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ میں ابوعبیدہ، ابوطلحہ اور ابی بن کعب ؓ کو کچی اور پکی کھجور سے تیار کی ہوئی شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والے نے آ کر بتایا کہ شراب حرام کردی گئی ہے۔ اس وقت ابوطلحہ ؓ نے کہا کہ انس اٹھو اور شراب کو بہا دو چناچہ میں نے اسے بہا دیا۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
I was serving Abu Ubaida, Abu Talha and Ubai bin Kab (RA) with a drink prepared from ripe and unripe dates. Then somebody came to them and said, "Alcoholic drinks have been prohibited." (On hearing that) Abu Talha said, "Get up. O Anas, and pour (throw) it out! So I poured (threw) it out.
جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو یہ کچی اور پکی کھجوروں سے بنتی تھی
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ عُمُومَتِي، وَأَنَا أَصْغَرُهُمُ الْفَضِيخَ، فَقِيلَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالُوا: أَكْفِئْهَا، فَكَفَأْتُهَا، قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا شَرَابُهُمْ ؟، قَالَ: رُطَبٌ وَبُسْرٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ وَكَانَتْ خَمْرَهُمْ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ، وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ میں نے انس ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک قبیلہ میں کھڑا میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ کسی نے کہا کہ شراب حرام کردی گئی۔ ان حضرات نے کہا کہ اب اسے پھینک دو۔ چناچہ ہم نے شراب پھینک دی۔ میں نے انس ؓ سے پوچھا کہ وہ کس چیز کی شراب بنتی تھی؟ فرمایا کہ تازہ پکی ہوئی اور کچی کھجوروں کی۔ ابوبکر بن انس نے کہا کہ ان کی شراب (کھجور کی) ہوتی تھی تو انس ؓ نے اس کا انکار نہیں کیا اور مجھ سے میرے بعض اصحاب نے بیان کیا کہ انہوں نے انس ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں ان کی شراب اکثر کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔
Narrated Anas (RA) :
While I was waiting on my uncles and serving them with (wine prepared from) dates----and I was the youngest of them----it was said, "Alcoholic drinks have been prohibited." So they said (to me), "Throw it away." So I threw it away
جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو یہ کچی اور پکی کھجوروں سے بنتی تھی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْأَنَّ الْخَمْرَ حُرِّمَتْوَالْخَمْرُ يَوْمَئِذٍ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ.
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یوسف ابومعشر براء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو وہ کچی اور پختہ کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
Alcoholic drinks were prohibited. At that time these drinks used to be prepared from unripe and ripe dates.
شراب شہد کی (بھی) ہوتی ہے اور اسی کو تبع کہتے ہیں اور معن نے کہا کہ میں نے مالک بن انس (رض) سے فقاع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب نشہ نہ لائے تو کوئی مضائقہ نہیں اور ابن در اور دی نے کہا کہ ہم نے لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نشہ نہ لائے تو کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ: كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے بتع کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو بھی پینے والی چیز نشہ لاوے وہ حرام ہے۔
Narrated Aisha (RA) :
Allahs Apostle ﷺ was asked about Al-Bit. He said, "All drinks that intoxicate are unlawful (to drink.)
شراب شہد کی (بھی) ہوتی ہے اور اسی کو تبع کہتے ہیں اور معن نے کہا کہ میں نے مالک بن انس (رض) سے فقاع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب نشہ نہ لائے تو کوئی مضائقہ نہیں اور ابن در اور دی نے کہا کہ ہم نے لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نشہ نہ لائے تو کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ وَهُوَ نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَكَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے بتع کے متعلق سوال کیا گیا۔ یہ مشروب شہد سے تیار کیا جاتا تھا اور یمن میں اس کا عام رواج تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو چیز بھی نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے۔
Narrated Aisha (RA) :
Allahs Apostle ﷺ was asked about Al-Bit a liquor prepared from honey which the Yemenites used to drink. Allahs Apostle ﷺ said, "All drinks that intoxicate are unlawful (to drink)." Anas bin Malik (RA) said:
Allahs Apostle ﷺ said, "Do not make drinks in Ad-Dubba nor in Al-Muzaffat. Abu Hurairah (RA) used to add to them Al-Hantam and An-Naqir.
شراب شہد کی (بھی) ہوتی ہے اور اسی کو تبع کہتے ہیں اور معن نے کہا کہ میں نے مالک بن انس (رض) سے فقاع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب نشہ نہ لائے تو کوئی مضائقہ نہیں اور ابن در اور دی نے کہا کہ ہم نے لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نشہ نہ لائے تو کوئی حرج نہیں۔
وَعَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُلْحِقُ مَعَهَا الْحَنْتَمَ وَالنَّقِيرَ.
اور زہری سے روایت ہے، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دباء اور مزفت میں نبیذ نہ بنایا کرو اور ابوہریرہ ؓ اس کے ساتھ حنتم اور نقیر کا بھی اضافہ کیا کرتے تھے۔
Anas bin Malik (RA) said:
Allahs Apostle ﷺ said, "Do not make drinks in Ad-Dubba nor in Al-Muzaffat. Abu Hurairah (RA) used to add to them Al-Hantam and An-Naqir.
اس امر کا بیان کہ خمر وہ پینے کی چیز ہے جو کہ عقل کو مخمور کردے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْخَمْرُ: مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَثَلَاثٌ، وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا عَهْدًا الْجَدُّ وَالْكَلَالَةُ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا، قَالَ: قُلْتُ يَا أَبَا عَمْرٍو: فَشَيْءٌ يُصْنَعُ بِالسِّنْدِ مِنَ الْأُرْزِ ؟، قَالَ: ذَاكَ لَمْ يَكُنْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: عَلَى عَهْدِ عُمَرَ وَقَالَحَجَّاجٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، مَكَانَ الْعِنَبِ: الزَّبِيبَ.
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابوحیان تمیمی نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا جب شراب کی حرمت کا حکم ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی۔ انگور سے، کھجور سے، گیہوں سے، جَو اور شہد سے اور خمر (شراب) وہ ہے جو عقل کو مخمور کر دے اور تین مسائل ایسے ہیں کہ میری تمنا تھی کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے جدا ہونے سے پہلے ہمیں ان کا حکم بتا جاتے، دادا کا مسئلہ، کلالہ کا مسئلہ اور سود کے چند مسائل۔ ابوحیان نے بیان کیا کہ میں نے شعبی سے پوچھا: اے ابوعمرو! ایک ایسا شربت ہے جو سندھ میں چاول سے بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیز رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نہیں پائی جاتی تھی یا کہا کہ عمر ؓ کے زمانے میں نہ تھی اور فرج ابن منہال نے بھی اس حدیث کو حماد بن سلمہ سے بیان کیا اور ان سے ابوحیان نے اس میں انگور کے بجائے کشمش ہے۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Umar delivered a sermon on the pulpit of Allahs Apostle, saying, "Alcoholic drinks were prohibited by Divine Order, and these drinks used to be prepared from five things, i.e., grapes, dates, wheat, barley and honey. Alcoholic drink is that, that disturbs the mind." Umar added, "I wish Allahs Apostle ﷺ had not left us before he had given us definite verdicts concerning three matters, i.e., how much a grandfather may inherit (of his grandson), the inheritance of Al-Kalala (the deceased person among whose heirs there is no father or son), and various types of Riba(1) (usury) ."
اس امر کا بیان کہ خمر وہ پینے کی چیز ہے جو کہ عقل کو مخمور کردے
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: الْخَمْرُ يُصْنَعُ مِنْ خَمْسَةٍ: مِنَ الزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالْعَسَلِ.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ عمر ؓ نے کہا کہ شراب پانچ چیزوں سے بنتی تھی کشمش، کھجور، گیہوں، جَو اور شہد سے۔
Narrated Umar (RA) :
"Alcoholic drinks are prepared from five things, i.e., raisins, dates. wheat, barley and honey."
6- بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يَسْتَحِلُّ الْخَمْرَ وَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ:
باب: اس شخص کی برائی کے بیان میں جو شراب کا نام بدل کر اسے حلال کرے
وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ أَوْ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَاللَّهِ مَا كَذَبَنِي سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ، وَالْحَرِيرَ، وَالْخَمْرَ، وَالْمَعَازِفَ وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوحُ بِسَارِحَةٍ لَهُمْ يَأْتِيهِمْ يَعْنِي الْفَقِيرَ لِحَاجَةٍ، فَيَقُولُونَ ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا، فَيُبَيِّتُهُمُ اللَّهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً، وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
اور ہشام بن عمار نے بیان کیا کہ ان سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے، ان سے عطیہ بن قیس کلابی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوعامر ؓ یا ابو مالک اشعری ؓ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہوجائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنالیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر (اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو (ان کی سرکشی کی وجہ سے) ہلاک کر دے گا پہاڑ کو (ان پر) گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔
Narrated Abu Amir or Abu Malik Al-Ashari:
that he heard the Prophet ﷺ saying, "From among my followers there will be some people who will consider illegal sexual intercourse, the wearing of silk, the drinking of alcoholic drinks and the use of musical instruments, as lawful. And there will be some people who will stay near the side of a mountain and in the evening their shepherd will come to them with their sheep and ask them for something, but they will say to him, Return to us tomorrow. Allah will destroy them during the night and will let the mountain fall on them, and He will transform the rest of them into monkeys and pigs and they will remain so till the Day of Resurrection" .
برتنوں میں اور لکڑی کے پیالوں میں نبیذ بنانے کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا ، يَقُولُ: أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ، وَهِيَ الْعَرُوسُ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْقَعْتُ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا، انہوں نے کہا کہ ابواسید مالک بن ربیع آئے اور نبی کریم ﷺ کو اپنے ولیمہ کی دعوت دی، ان کی بیوی ہی سب کام کر رہی تھیں حالانکہ وہ نئی دلہن تھیں۔ سہل ؓ نے بیان کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا۔ نبی کریم ﷺ کے لیے انہوں نے پتھر کے کو نڈے میں رات کے وقت کھجور بھگو دی تھی۔
Narrated Sahl (RA) :
Abu Usaid As-Saidi came and invited Allahs Apostle ﷺ on the occasion of his wedding. His wife who was the bride, was serving them. Do you know what drink she prepared for Allahs Apostle ﷺ ? She had soaked some dates in water in a Tur overnight.
برتنوں اور ظروف کے استعمال کی ممانعت کے بعد نبی ﷺ کی اجازت مرحمت فرمانے کا بیان
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الظُّرُوفِ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: إِنَّهُ لَا بُدَّ لَنَا مِنْهَا، قَالَ: فَلَا إِذًا، وَقَالَ خَلِيفَةُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا.
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ ابواحمد زبیری نے، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے کی (جن میں شراب بنتی تھی) ممانعت کردی تھی پھر انصار نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو دوسرے برتن نہیں ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تو خیر پھر اجازت ہے۔ امام بخاری (رح) کہتے ہیں مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے اور ان سے سالم بن ابی الجعد نے پھر یہی حدیث روایت کی تھی۔
Narrated Jabir (RA) :
Allahs Apostle ﷺ forbade the use of (certain) containers, but the Ansar said, "We cannot dispense with them." The Prophet ﷺ then said, "If so, then use them."
برتنوں اور ظروف کے استعمال کی ممانعت کے بعد نبی ﷺ کی اجازت مرحمت فرمانے کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَسْقِيَةِ، قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ سِقَاءً: فَرَخَّصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، وہ سلیمان بن ابی مسلم احول سے، وہ مجاہد سے، وہ ابوعیاض عمرو بن اسود سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے مشکوں کے سوا اور برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر کسی کو مشک کہاں سے مل سکتی ہے؟ اس وقت آپ ﷺ نے بن لاکھ لگے گھڑے (روغن زفت لگے برتن) میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔
Narrated Abdullah bin Amr (RA) (RA) :
When the Prophet ﷺ forbade the use of certain containers (that were used for preparing alcoholic drinks), somebody said to the Prophet ﷺ . "But not all the people can find skins." So he allowed them to use clay jars not covered with pitch.
برتنوں اور ظروف کے استعمال کی ممانعت کے بعد نبی ﷺ کی اجازت مرحمت فرمانے کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَلِي ٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ،
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، کہ ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے علی ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے دباء اور مزفت (خاص قسم کے برتن جن میں شراب بنتی تھی) کے استعمال کی بھی ممانعت کردی تھی۔
Narrated Ali (RA) :
the Prophet ﷺ forbade the use of Ad-Dubba and Al Muzaffat.