برتنوں اور ظروف کے استعمال کی ممانعت کے بعد نبی ﷺ کی اجازت مرحمت فرمانے کا بیان
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ : هَلْ سَأَلْتَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ، فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، عَمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ ؟، قَالَتْ: نَهَانَا فِي ذَلِكَ أَهْلَ الْبَيْتِ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ، قُلْتُ: أَمَا ذَكَرَتِ الْجَرَّ وَالْحَنْتَمَ ؟، قَالَ: إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ، أَفَأُحَدِّثُ مَا لَمْ أَسْمَعْ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے کہ میں نے اسود بن یزید سے پوچھا کیا تم نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ (کھجور کا میٹھا شربت) بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، میں نے عرض کیا ام المؤمنین! کس برتن میں نبی کریم ﷺ نے نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خاص گھر والوں کو کدو کی تو نبی اور لاکھی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تھا۔ (ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ) میں نے اسود سے پوچھا انہوں نے گھڑے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا، کیا وہ بھی بیان کر دوں جو میں نے نہ سنا ہو؟
Narrated Ibrahim (RA) :
I asked Al-Aswad, "Did you ask Aisha (RA), Mother of the Believers, about the containers in which it is disliked to prepare (non-alcoholic) drinks?" He said, "Yes, I said to her, O Mother of the Believers! What containers did the Prophet ﷺ forbid to use for preparing (non-alcoholic) drinks?" She said, The Prophet ﷺ forbade us, (his family), to prepare (nonalcoholic) drinks in Ad-Dubba and Al-Muzaffat. I asked, Didnt you mention Al Jar and Al Hantam? She said, I tell what I have heard; shall I tell you what I have not heard? "
برتنوں اور ظروف کے استعمال کی ممانعت کے بعد نبی ﷺ کی اجازت مرحمت فرمانے کا بیان
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ، قُلْتُ: أَنَشْرَبُ فِي الْأَبْيَضِ ؟، قَالَ: لَا.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے سبز گھڑے سے منع فرمایا تھا، میں نے پوچھا کیا ہم سفید گھڑوں میں پی لیا کریں کہا کہ نہیں۔
Narrated Ash-Shaibani (RA) :
I heard Abdullah bin Abi Aufa saying, "The Prophet ﷺ forbade the use of green jars." I said, "Shall we drink out of white jars?" He said, "No."
کھجور کے رس کا بیان، جب تک کہ نشہ نہ پیدا کرے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ الْعَرُوسُ، فَقَالَتْ: مَا تَدْرُونَ مَا أَنْقَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْقَعْتُ، لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، انہوں نے سہیل بن سعد سے سنا کہ ابواسید ساعدی ؓ نے اپنے ولیمہ کی دعوت نبی کریم ﷺ کو دی، اس دن ان کی بیوی (ام اسید سلامہ) ہی مہمانوں کی خدمت کر رہی تھیں۔ زوجہ ابواسید نے کہا تم جانتے ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے کس چیز کا شربت تیار کیا تھا پتھر کے کو نڈے میں رات کے وقت کچھ کھجوریں بھگو دی تھیں اور دوسرے دن صبح کو آپ کو پلا دی تھی۔
Narrated Sahl bin Sad
Abu Usaid As Saidi invited the Prophet ﷺ to his wedding banquet. At that time his wife was serving them and she was the bride. She said, Do you know what (kind of syrup) I soaked (made) for Allahs Apostle? I soaked some dates in water in a Tur (bowl) overnight.
شراب باذق اور ان لوگوں کا بیان جنہوں نے ہر نشہ پیدا کرنے والی چیز سے منع کیا، اور عمر، ابوعبیدہ اور معاذ نے پک کر تہائی رہ جانے والی شراب کے پینے کو جائز خیال کیا ہے اور براء اور ابوجحیفہ نے پر کر نصف رہ جانے والی شراب پی، اور ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ عرق پیو، جب تک کہ تازہ رہے اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ میں عبیداللہ کے منہ سے شراب کی بوپاتا ہوں، میں اس کے متعلق اسے پوچھوں گا، اگر وہ نشہ آور ہے تو میں اسے کوڑے لگاؤں گا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْبَاذَقِ، فَقَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْبَاذَقَ، فَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ، قَالَ: الشَّرَابُ الْحَلَالُ الطَّيِّبُ، قَالَ: لَيْسَ بَعْدَ الْحَلَالِ الطَّيِّبِ، إِلَّا الْحَرَامُ الْخَبِيثُ.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ابوالجویریہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے باذق (انگور کا شیرہ ہلکی آنچ دیا ہوا) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ باذق کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے تھے جو چیز بھی نشہ لائے وہ حرام ہے۔ ابوالجویریہ نے کہا کہ باذق تو حلال و طیب ہے۔ ابن عباس ؓ نے کہا کہ انگور حلال و طیب تھا جب اس کی شراب بن گئی تو وہ حرام خبیث ہے (نہ کہ حلال و طیب) ۔
Narrated Abu Al-Juwairiyya (RA) :
I asked Ibn Abbas (RA) about Al-Badhaq. He said, "Muhammad prohibited alcoholic drinks before It was called Al-Badhaq (by saying), Any drink that intoxicates is unlawful. I said, What about good lawful drinks? He said,Apart from what is lawful and good, all other things are unlawful and not good (unclean Al-Khabith).
شراب باذق اور ان لوگوں کا بیان جنہوں نے ہر نشہ پیدا کرنے والی چیز سے منع کیا، اور عمر، ابوعبیدہ اور معاذ نے پک کر تہائی رہ جانے والی شراب کے پینے کو جائز خیال کیا ہے اور براء اور ابوجحیفہ نے پر کر نصف رہ جانے والی شراب پی، اور ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ عرق پیو، جب تک کہ تازہ رہے اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ میں عبیداللہ کے منہ سے شراب کی بوپاتا ہوں، میں اس کے متعلق اسے پوچھوں گا، اگر وہ نشہ آور ہے تو میں اسے کوڑے لگاؤں گا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ، وَالْعَسَلَ.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ (عروہ بن زبیر) نے بیان کیا اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ حلوا اور شہد کو دوست رکھتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) :
The Prophet ﷺ used to like sweet edible things and honey.
ان لوگوں کا بیان، جنہوں نے کچی اور پکی کھجور کے ملانے کو جب وہ نشہ آور ہوجائے، جائز نہیں سمجھا، اور یہ کہ دونوں کے عرق کو ایک عرق نہ بنایا جائے
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَأَبَا دُجَانَةَ، وَسُهَيْلَ بْنَ الْبَيْضَاءِ خَلِيطَ بُسْرٍ، وَتَمْرٍ، إِذْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فَقَذَفْتُهَا وَأَنَا سَاقِيهِمْ وَأَصْغَرُهُمْ، وَإِنَّا نَعُدُّهَا يَوْمَئِذٍ الْخَمْرَ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ سَمِعَ أَنَسًا .
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس ؓ نے بیان نے کیا کہ میں نے ابوطلحہ، ابودجانہ اور سہیل بن بیضاء ؓ کو کچی کھجور کی ملی ہوئی نبیذ پلا رہا تھا کہ شراب حرام کردی گئی اور میں نے موجودہ شراب پھینک دی۔ میں ہی انہیں پلا رہا تھا میں سب سے کم عمر تھا۔ ہم اس نبیذ کو اس وقت شراب ہی سمجھتے تھے اور عمرو بن حارث راوی نے بیان کیا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے انس ؓ سے سنا۔
Narrated Anas (RA) :
While I was serving Abu Talha. Abu Dujana and Abu Suhail bin Al-Baida with a drink made from a mixture of unripe and ripe dates, alcoholic drinks, were made unlawful, whereupon I threw it away, and I was their butler and the youngest of them, and we used to consider that drink as an alcoholic drink in those days
ان لوگوں کا بیان، جنہوں نے کچی اور پکی کھجور کے ملانے کو جب وہ نشہ آور ہوجائے، جائز نہیں سمجھا، اور یہ کہ دونوں کے عرق کو ایک عرق نہ بنایا جائے
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْبُسْرِ، وَالرُّطَبِ.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، کہا مجھ کو عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، انہوں نے جابر ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے کشمش اور کھجور (کے شیرہ) کو اور تازہ (پختہ، پکی ہوئی) کھجور اور نیم پختہ (کچی، گدری ہوئی) کھجور کو ملا کر بھگونے سے منع فرمایا تھا، اس طور اس میں نشہ جلدی پیدا ہوجاتا ہے۔
Narrated Jabir (RA) :
The Prophet ﷺ forbade the drinking of alcoholic drinks prepared from raisins, dates, unripe dates and fresh ripe dates.
ان لوگوں کا بیان، جنہوں نے کچی اور پکی کھجور کے ملانے کو جب وہ نشہ آور ہوجائے، جائز نہیں سمجھا، اور یہ کہ دونوں کے عرق کو ایک عرق نہ بنایا جائے
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ التَّمْرِ وَالزَّهْوِ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، وَلْيُنْبَذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن ابی کثیر نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس کی ممانعت کی تھی کہ پختہ اور گدرائی ہوئی کھجور، پختہ کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنایا جائے۔ آپ ﷺ نے ہر ایک کو جدا جدا بھگونے کا حکم دیا۔
Narrated Abu Qatada (RA) :
The Prophet ﷺ forbade the mixing of ripe and unripe dates and also the mixing of dates and raisins (for preparing a syrup) but the syrup of each kind of fruit should be prepared separately. ( One may have such drinks as long as it is fresh )
دودھ پینے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول من بین فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربین
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَقَدَحِ خَمْرٍ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ شب معراج میں رسول اللہ ﷺ کو دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کئے گئے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ was presented a bowl of milk and a bowl of wine on the night he was taken on a journey (Al-Miraj).
دودھ پینے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول من بین فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربین
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، سَمِعَ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ، فَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ: شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ فَإِذَا وُقِّفَ عَلَيْهِ، قَالَ: هُوَ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم کو سالم ابوالنضر نے خبر دی، انہوں نے ام الفضل (والدہ عبداللہ بن عباس) کے غلام عمیر سے سنا، وہ ام الفضل ؓ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے روزہ کے بارے میں صحابہ کرام ؓ کو شبہ تھا۔ اس لیے میں نے آپ کے لیے ایک برتن میں دودھ بھیجا اور نبی کریم ﷺ نے اسے پی لیا۔ حمیدی کہتے ہیں کبھی سفیان اس حدیث کو یوں بیان کرتے تھے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے روزہ کے بارے میں لوگوں کو شبہ تھا اس لیے ام الفضل نے نبی کریم ﷺ کے لیے (دودھ) بھیجا۔ کبھی سفیان اس حدیث کو مرسلاً ام الفضل سے روایت کرتے تھے سالم اور عمیر کا نام نہ لیتے۔ جب ان سے پوچھتے کہ یہ حدیث مرسل ہے یا مرفوع متصل تو وہ اس وقت کہتے (مرفوع متصل ہے) ام فضل سے مروی ہے (جو صحابیہ تھیں) ۔
Narrated Um Al-Fadl (RA) :
The people doubted whether Allahs Apostle ﷺ was fasting or the Day of Arafat or not. So I sent a cup containing milk to him and he drank it.
دودھ پینے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول من بین فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربین
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَّا خَمَّرْتَهُ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح (ذکوان) اور ابوسفیان (طلحہ بن نافع قرشی) نے اور ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ ابو حمید ساعدی مقام نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ (کھلا ہوا) لائے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے ایک لکڑی ہی اس پر رکھ لیتے۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) :
Abu Humaid brought a cup of mix from a place called Al-Naqi. Allahs Apostle ﷺ said to him, "Will you not cover it, even by placing a stick across its"
دودھ پینے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول من بین فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربین
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يَذْكُرُ أُرَاهُ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنَ النَّقِيعِ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَّا خَمَّرْتَهُ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا. وَحَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا میں نے ابوصالح سے سنا، جیسا کہ مجھے یاد ہے وہ جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک انصاری صحابی ابو حمید ساعدی ؓ مقام نقیع سے ایک برتن میں دودھ نبی کریم ﷺ کے لیے لائے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے، اس پر لکڑی ہی رکھ دیتے۔ اور اعمش نے کہا کہ مجھ سے ابوسفیان نے بیان کیا، ان سے جابر ؓ نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے یہی حدیث بیان کی۔
Narrated Jabir (RA) :
Abu Humaid, an Ansari man, came from AnNaqi carrying a cup of milk to the Prophet. The Prophet ﷺ said, "Will you not cover it even by placing a stick across it?"
دودھ پینے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول من بین فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربین
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَحَلَبْتُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فِي قَدَحٍ، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ، وَأَتَانَا سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ، فَدَعَا عَلَيْهِ فَطَلَبَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ أَنْ لَا يَدْعُوَ عَلَيْهِ وَأَنْ يَرْجِعَ، فَفَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوالنضر نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے تشریف لائے تو ابوبکر ؓ آپ کے ساتھ تھے۔ ابوبکر ؓ نے کہا کہ (راستہ میں) ہم ایک چرواہے کے قریب سے گزرے۔ نبی کریم ﷺ پیاسے تھے پھر میں نے ایک پیالے میں (چرواہے سے پوچھ کر) کچھ دودھ دوہا۔ آپ ﷺ نے وہ دودھ پیا اور اس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی اور سراقہ بن جعشم گھوڑے پر سوار ہمارے پاس (تعاقب کرتے ہوئے) پہنچ گیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے بددعا کی۔ آخر اس نے کہا کہ نبی کریم ﷺ اس کے حق میں بددعا نہ کریں اور وہ واپس ہوجائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا۔
Narrated Al-Bara (RA) :
The Prophet ﷺ came from Makkah with Abu Bakr. Abu Bakr (RA) said "We passed by a shepherd and at that time Allahs Apostle ﷺ was thirsty. I milked a little milk in a bowl and Allahs Apostle ﷺ drank till I was pleased. Suraqa bin Jushum came to us riding a horse (chasing us). The Prophet ﷺ invoked evil upon him, whereupon Suraqa requested him not to invoke evil upon him, in which case he would go back. The Prophet ﷺ agreed.
دودھ پینے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول من بین فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربین
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نِعْمَ الصَّدَقَةُ اللِّقْحَةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةًوَالشَّاةُ الصَّفِيُّ: مِنْحَةً تَغْدُو بِإِنَاءٍ وَتَرُوحُ بِآخَرَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا ہی عمدہ صدقہ ہے خوب دودھ دینے والی اونٹنی جو کچھ دنوں کے لیے کسی کو عطیہ کے طور پر دی گئی ہو اور خوب دودھ دینے والی بکری جو کچھ دنوں کے لیے عطیہ کے طور پر دی گئی ہو جس سے صبح و شام دودھ برتن بھربھر کر نکالا جائے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "The best object of charity is a she-camel which has (newly) given birth and gives plenty of milk, or a she-goat which gives plenty of milk; and is given to somebody to utilize its milk by milking one bowl in the morning and one in the evening."
دودھ پینے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول من بین فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربین
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَاأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ، وَقَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُفِعْتُ إِلَى السِّدْرَةِ فَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهَرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهَرَانِ بَاطِنَانِ، فَأَمَّا الظَّاهِرَانِ: النِّيلُ وَالْفُرَاتُ، وَأَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ، فَأُتِيتُ بِثَلَاثَةِ أَقْدَاحٍ قَدَحٌ فِيهِ لَبَنٌ، وَقَدَحٌ فِيهِ عَسَلٌ، وَقَدَحٌ فِيهِ خَمْرٌ، فَأَخَذْتُ الَّذِي فِيهِ اللَّبَنُ فَشَرِبْتُ، فَقِيلَ لِي: أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَنْتَ وَأُمَّتُكَ، قَالَ هِشَامٌ ، وَسَعِيدٌ ، وَهَمَّامٌ : عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي الْأَنْهَارِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا، ثَلَاثَةَ أَقْدَاحٍ.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دودھ پیا پھر کلی کی اور فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔
اور ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا، ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا تو وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں۔ دو ظاہری نہریں اور دو باطنی۔ ظاہری نہریں تو نیل اور فرات ہیں اور باطنی نہریں جنت کی دو نہریں ہیں۔ پھر میرے پاس تین پیالے لائے گئے ایک پیالے میں دودھ تھا، دوسرے میں شہد تھا اور تیسرے میں شراب تھی۔ میں نے وہ پیالہ لیا جس میں دودھ تھا اور پیا۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ تم نے اور تمہاری امت نے اصل فطرت کو پا لیا۔ ہشام، سعید اور ہمام نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے، انہوں نے مالک بن صعصعہ ؓ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ اس میں ندیوں کا ذکر تو ایسا ہی ہے لیکن تین پیالوں کا ذکر نہیں ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : Allahs Apostle ﷺ drank milk and then rinsed his mouth and said, "It contains fat. The Prophet ﷺ added: I was raised to the Lote Tree and saw four rivers, two of which were coming out and two going in. Those which were coming out were the Nile and the Euphrates, and those which were going in were two rivers in paradise. Then I was given three bowls, one containing milk, and another containing honey, and a third containing wine. I took the bowl containing milk and drank it. It was said to me, "You and your followers will be on the right path (of Islam)."
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبُّ مَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92. قَامَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ أَوْ رَايِحٌ، شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ، وَفِي بَنِي عَمِّهِ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى: رَايِحٌ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوطلحہ ؓ کے پاس مدینہ کے تمام انصار میں سب سے زیادہ کھجور کے باغات تھے اور ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء کا باغ تھا۔ یہ مسجد نبوی کے سامنے ہی تھا اور رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لے جاتے تھے اور اس کا عمدہ پانی پیتے تھے۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ پھر جب آیت لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون تم ہرگز نیکی نہیں پاؤ گے جب تک وہ مال نہ خرچ کرو جو تمہیں عزیز ہو۔ نازل ہوئی تو ابوطلحہ ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون تم ہرگز نیکی کو نہیں پاؤ گے جب تک وہ مال نہ خرچ کرو جو تمہیں عزیز ہو۔ اور مجھے اپنے مال میں سب سے زیادہ عزیز بیرحاء کا باغ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صدقہ ہے، اس کا ثواب اور اجر میں اللہ کے یہاں پانے کی امید رکھتا ہوں، اس لیے یا رسول اللہ! آپ جہاں اسے مناسب خیال فرمائیں خرچ کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خوب یہ بہت ہی فائدہ بخش مال ہے یا (اس کے بجائے آپ نے) رايح (یاء کے ساتھ فرمایا) ۔ راوی حدیث عبداللہ کو اس میں شک تھا (نبی کریم ﷺ نے ان سے مزید فرمایا کہ) جو کچھ تو نے کہا ہے میں نے سن لیا میرا خیال ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ ابوطلحہ ؓ نے عرض کیا کہ ایسا ہی کروں گا یا رسول اللہ! چناچہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں اپنے چچا کے لڑکوں میں اسے تقسیم کردیا۔ اور اسماعیل اور یحییٰ بن یحییٰ نے رايح. کا لفظ نقل کیا ہے۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
Abu Talha had the largest number of datepalms from amongst the Ansars of Medina. The dearest of his property to him was Bairuha garden which was facing the (Prophets) Mosque. Allahs Apostle ﷺ used to enter it and drink of its good fresh water. When the Holy Verse:-- By no means shall you attain righteousness unless you spend (in charity) of that which you love. (3.92) was revealed, Abu Talha got up and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Allah says: By no means shall you attain righteousness unless you spend of that which you love, and the dearest of my property to me is the Bairuha garden and I want to give it in charity in Allahs Cause, seeking to be rewarded by Allah for that. So you can spend it, O Allahs Apostle, where-ever Allah instructs you. Allah s Apostle ﷺ said, "Good! That is a perishable (or profitable) wealth" (Abdullah is in doubt as to which word was used.) He said, "I have heard what you have said but in my opinion youd better give it to your kith and kin." On that Abu Talha said, "I will do so, O Allahs Apostle! ﷺ " Abu Talha distributed that garden among his kith and kin and cousins.
پانی کے ساتھ دودھ ملانے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَرِبَ لَبَنًا، وَأَتَى دَارَهُ فَحَلَبْتُ شَاةً، فَشُبْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبِئْرِ، فَتَنَاوَلَ الْقَدَحَ، فَشَرِبَ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، فَأَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، فَضْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک ؓ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دودھ پیتے دیکھا اور نبی کریم ﷺ ان کے گھر تشریف لائے تھے (بیان کیا کہ) میں نے بکری کا دودھ نکالا اور اس میں کنویں کا تازہ پانی ملا کر (نبی کریم ﷺ کو) پیش کیا آپ نے پیالہ لے کر پیا۔ آپ کے بائیں طرف ابوبکر ؓ تھے اور دائیں طرف ایک اعرابی تھا آپ نے اپنا باقی دودھ اعرابی کو دیا اور فرمایا کہ پہلے دائیں طرف سے، ہاں دائیں طرف والے کا حق ہے۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
I saw Allahs Apostle ﷺ drinking milk. He came to my house and I milked a sheep and then mixed the milk with water from the well for Allahs Apostle. He took the bowl and drank while on his left there was sitting Abu Bakr, and on his right there was a bedouin. He then gave the remaining milk to the bedouin and said, "The right! The right (first)."
پانی کے ساتھ دودھ ملانے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَاأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا، قَالَ: وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي مَاءٌ بَائِتٌ، فَانْطَلِقْ إِلَى الْعَرِيشِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِهِمَا، فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ، قَالَ: فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن حارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ قبیلہ انصار کے ایک صحابی کے یہاں تشریف لے گئے نبی کریم ﷺ کے ساتھ آپ کے ایک رفیق (ابوبکر ؓ) بھی تھے۔ ان سے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہارے یہاں اسی رات کا باسی پانی کسی مشکیزے میں رکھا ہوا ہو (تو ہمیں پلاؤ) ورنہ منہ لگا کے پانی پی لیں گے۔ جابر ؓ نے بیان کیا کہ وہ صاحب (جن کے یہاں آپ تشریف لیے گئے تھے) اپنے باغ میں پانی دے رہے تھے۔ بیان کیا کہ ان صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس رات کا باسی پانی موجود ہے، آپ چھپر میں تشریف لے چلیں۔ بیان کیا کہ پھر وہ ان دونوں حضرات کو ساتھ لے کر گئے پھر انہوں نے ایک پیالہ میں پانی لیا اور اپنی ایک دودھ دینے والی بکری کا اس میں دودھ نکالا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے اسے پیا، اس کے بعد آپ کے رفیق ابوبکر صدیق ؓ نے پیا۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ and one of his companions entered upon an Ansari man and the Prophet ﷺ said to him, "If you have water kept overnight in a water skin, (give us), otherwise we will drink water by putting our mouth in it." The man was watering his garden then. He said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I have water kept overnight; let us go to the shade." So he took them both there and poured water into a bowl and milked a domestic goat of his in it. Allahs Apostle ﷺ drank, and then the man who had come along with him, drank.
میٹھی چیز اور شہد پینے کا بیان اور زہری نے فرمایا کہ آدمی کا پیشاب پینا شدید ضرورت کے وقت بھی حلال نہیں، اس لئے کہ وہ ناپاک ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہیں اور ابن مسعود (رض) نے نشے آور چیزوں کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا اس چیز میں نہیں رکھی، جو تم پر حرام ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْحَلْوَاءُ، وَالْعَسَلُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ شیرینی اور شہد کو دوست رکھتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) :
The Prophet ﷺ used to like sweet edible things (syrup, etc.) and honey.
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ النَّزَّالِ ، قَالَ: أَتَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى بَابِ الرَّحَبَةِ فَشَرِبَ قَائِمًا، فَقَالَإِنَّ نَاسًا يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَشْرَبَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے، ان سے نزال نے بیان کیا کہ وہ علی ؓ کی خدمت میں مسجد کوفہ کے صحن میں حاضر ہوئے پھر علی ؓ نے کھڑے ہو کر پیا اور کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے اس وقت کھڑے ہو کر پانی پیتے دیکھا ہے۔
Narrated An-Nazzal (RA) :
All came to the gate of the courtyard (of the Mosque) and drank (water) while he was standing and said, "Some people dislike to drink while standing, but I saw the Prophet ﷺ doing (drinking water) as you have seen me doing now."