ادب کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 62 · 249 hadiths · Page 10 of 13

6160Sahih Bukhari

کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ لَهُ: ارْكَبْهَاقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا وَيْلَكَفِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.

مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، وہ امام مالک سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوالزناد سے، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کا اونٹ ہنکائے جا رہا ہے۔ آپ ﷺ نے اس سے کہا کہ تو اس پر سوار ہوجا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ ﷺ نے دوسری بار یا تیسری بار فرمایا کہ تیری خرابی ہو، تو سوار ہوجا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ saw a man driving a Badana (a camel for sacrifice) and said to him, "Ride on it." The man said, "O Allahs Apostle ﷺ ! It is a Bandana." The Prophet ﷺ said, "Ride on it, woe to you!" on the second or third time.

6161Sahih Bukhari

کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ مَعَهُ غُلَامٌ لَهُ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ يَحْدُو، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے (دوسری سند) اور اس حدیث کو حماد نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے ابوقلابہ سے روایت کیا اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک حبشی غلام تھا۔ ان کا نام انجشہ تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا (جس کی وجہ سے سواری تیز چلنے لگی) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا افسوس ويحك اے انجشہ! شیشوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چل۔

Narrated Anas bin Malik (RA): Allahs Apostle ﷺ was on a journey and he had a black slave called Anjasha, and he was driving the camels (very fast, and there were women riding on those camels). Allahs Apostle ﷺ said, "Waihaka (May Allah be merciful to you), O Anjasha! Drive slowly (the camels) with the glass vessels (women)!"

6162Sahih Bukhari

کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ ثَلَاثًا، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًاإِنْ كَانَ يَعْلَمُ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا افسوس ويلك تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی، تین مرتبہ (یہ فرمایا) اگر تمہیں کسی کی تعریف ہی کرنی پڑجائے تو یہ کہو کہ فلاں کے متعلق میرا یہ خیال ہے۔ اگر وہ بات اس کے متعلق جانتا ہو اور اللہ اس کا نگراں ہے میں تو اللہ کے مقابلے میں کسی کو نیک نہیں کہہ سکتا یعنی یوں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اللہ کے علم میں بھی نیک ہے۔

Narrated Abu Bakra (RA) : A man praised another man in front of the Prophet. The Prophet ﷺ said thrice, "Wailaka (Woe on you) ! You have cut the neck of your brother!" The Prophet ﷺ added, "If it is indispensable for anyone of you to praise a person, then he should say, "I think that such-and-such person (is so-and-so), and Allah is the one who will take his accounts (as he knows his reality) and none can sanctify anybody before Allah (and that only if he knows well about that person.)".

6163Sahih Bukhari

کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَالضَّحَّاكِ ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ ذَاتَ يَوْمٍ قِسْمًا، فَقَالَ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ، قَالَ: وَيْلَكَ مَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ، فَقَالَ عُمَرُ: ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ: لَا، إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمُرُوقِ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ قَاتَلَهُمْ، فَالْتُمِسَ فِي الْقَتْلَى فَأُتِيَ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ اور ضحاک نے اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کچھ تقسیم کر رہے تھے۔ بنی تمیم کے ایک شخص ذوالخویصرۃ نے کہا: یا رسول اللہ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، افسوس! اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا۔ عمر ؓ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس کے کچھ (قبیلہ والے) ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو معمولی سمجھو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزے کو معمولی سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ تیر کے پھل میں دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ اس کی لکڑی پر دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ پھر اس کے دندانوں میں دیکھا جائے اور اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا پھر اس کے پر میں دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا۔ (یعنی شکار کے جسم کو پار کرنے کا کوئی نشان) تیر لید اور خون کو پار کر کے نکل چکا ہوگا۔ یہ لوگ اس وقت پیدا ہوں گے جب لوگوں میں پھوٹ پڑجائے گی۔ (ایک خلیفہ پر متفق نہ ہوں گے) ان کی نشانی ان کا ایک مرد (سردار لشکر) ہوگا۔ جس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہوگا یا (فرمایا) گوشت کے لوتھڑے کی طرح تھل تھل ہل رہا ہوگا۔ ابوسعید ؓ نے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں علی ؓ کے ساتھ تھا۔ جب انہوں نے ان خارجیوں سے (نہروان میں) جنگ کی تھی۔ مقتولین میں تلاش کی گئی تو ایک شخص انہیں صفات کا لایا گیا جو نبی کریم ﷺ نے بیان کی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ پستان کی طرح کا تھا۔

Narrated Abu Said Al-Khudri(RA): While the Prophet ﷺ was distributing (war booty etc.) one day, Dhul Khawaisira, a man from the tribe of Bani Tamim, said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Act justly." The Prophets said, "Woe to you! Who else would act justly if I did not act justly?" Umar said (to the Prophet ﷺ ), "Allow me to chop his neck off." The Prophet ﷺ said, "No, for he has companions (who are apparently so pious that) if anyone of (you compares his prayer with) their prayer, he will consider his prayer inferior to theirs, and similarly his fasting inferior to theirs, but they will desert Islam (go out of religion) as an arrow goes through the victims body (games etc.) in which case if its Nasl is examined nothing will be seen thereon, and if its Nady is examined, nothing will be seen thereon, and if its Qudhadh is examined, nothing will be seen thereon, for the arrow has gone out too fast even for the excretions and blood to smear over it. Such people will come out at the time of difference among the (Muslim) people and the sign by which they will be recognized, will be a man whose one of the two hands will look like the breast of a woman or a lump of flesh moving loosely." Abu Said added, "I testify that I heard that from the Prophet ﷺ and also testify that I was with Ali when Ali fought against those people. The man described by the Prophet ﷺ was searched for among the killed, and was found, and he was exactly as the Prophet ﷺ had described him." (See Hadith No. 807, Vol. 4)

6164Sahih Bukhari

کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ، قَالَ: وَيْحَكَ، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: أَعْتِقْ رَقَبَةً، قَالَ: مَا أَجِدُهَا، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قَالَ: مَا أَجِدُ، فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فَقَالَ خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَلَى غَيْرِ أَهْلِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ طُنُبَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنِّي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، قَالَ: خُذْهُ، تَابَعَهُ يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيْلَكَ.

ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی، بیان کیا ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تو تباہ ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، افسوس (کیا بات ہوئی؟ ) انہوں نے کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کرلی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس غلام ہے ہی نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ۔ اس نے کہا کہ اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ کہا کہ اتنا بھی میں اپنے پاس نہیں پاتا۔ اس کے بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور کو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! سارے مدینہ کے دونوں طنابوں یعنی دونوں کناروں میں مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ نبی کریم ﷺ اس پر اتنا ہنس دیئے کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ فرمایا کہ جاؤ تم ہی لے لو۔ اوازاعی کے ساتھ اس حدیث کو یونس نے بھی زہری سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے زہری سے اس حدیث میں بجائے لفظ ويحك کے لفظ ويلك. روایت کیا ہے (معنی دونوں کے ایک ہی ہیں) ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : A man came to Allahs Apostle ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I am ruined!" The Prophet ﷺ said, "Waihaka (May Allah be merciful to you) !" The man said, "I have done sexual intercourse with my wife while fasting in Ramadan." The Prophet ﷺ said, "Manumit a slave." The man said, " I cannot afford that. " The Prophet ﷺ said; "Then fast for two successive months." The man said, " I have no power to do so." The Prophet ﷺ said, "Then feed sixty poor persons." The man said, "I have nothing (to feed sixty persons). Later a basket full of dates were brought to the Prophet ﷺ and he said (to the man), "Take it and give it in charity." The man said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Shall I give it to people other than my family? By Him in Whose Hand my life is, there is nobody poorer than me in the whole city of Medina." The Prophet ﷺ smiled till his premolar teeth became visible, and said, "Take it." Az-Zuhri said (that the Prophet ﷺ said). "Wailaka."

6165Sahih Bukhari

کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا.

ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری نے کہ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! ہجرت کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے (اس کی نیت ہجرت کی تھی) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تجھ پر افسوس! ہجرت کو تو نے کیا سمجھا ہے یہ بہت مشکل ہے۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر سات سمندر پار عمل کرتے رہو۔ اللہ تمہارے کسی عمل کے ثواب کو ضائع نہ کرے گا۔

Narrated Abu Said Al-Khudri (RA) : A bedouin said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Inform me about the emigration." The Prophet ﷺ said, "Waihaka (May Allah be merciful to you)! The question of emigration is a difficult one. Have you got some camels?" The bedouin said, "Yes." The Prophet ﷺ said, "Do you pay their Zakat?" He said, "Yes." The Prophet ﷺ said, "Go on doing like this from beyond the seas, for Allah will not let your deeds go in vain."

6166Sahih Bukhari

کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْقَالَ شُعْبَةُ : شَكَّ هُوَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَقَالَ النَّضْرُ : ، عَنْ شُعْبَةَ وَيْحَكُمْ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ : عَنْ أَبِيهِ ، وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ.

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واقد بن محمد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ان کے والد سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، افسوس ( ويلكم یا ويحكم ) شعبہ نے بیان کیا کہ شک ان کے شیخ (واقد بن محمد کو) تھا۔ میرے بعد تم کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ اور نضر نے شعبہ سے بیان کیا ويحكم اور عمر بن محمد نے اپنے والد سے ويلكم یا ويحكم کے لفظ نقل کئے ہیں۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said, "Wailakum" (woe to you) or "waihakum" (May Allah be merciful to you)." Shuba is not sure as to which was the right word. "Do not become disbelievers after me by cutting the necks of one another."

6167Sahih Bukhari

کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ قَائِمَةٌ ؟ قَالَ: وَيْلَكَ، وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَفَقُلْنَا: وَنَحْنُ كَذَلِكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَفَرِحْنَا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا، فَمَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي، فَقَالَ: إِنْ أُخِّرَ هَذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، وَاخْتَصَرَهُ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس نے کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، افسوس ويلك تم نے اس قیامت کے لیے کیا تیاری کرلی ہے؟ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کے لیے تو کوئی تیاری نہیں کی ہے البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو، جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ ہم نے عرض کیا اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا؟ فرمایا کہ ہاں۔ ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے، پھر مغیرہ کے ایک غلام وہاں سے گزرے وہ میرے ہم عمر تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔

Narrated Anas (RA) : A bedouin came to the Prophet ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! When will The Hour be established?" The Prophet ﷺ said, "Wailaka (Woe to you), What have you prepared for it?" The bedouin said, "I have not prepared anything for it, except that I love Allah and H is Apostle." The Prophet ﷺ said, "You will be with those whom you love." We (the companions of the Prophet) said, "And will we too be so? The Prophet ﷺ said, "Yes." So we became very glad on that day. In the meantime, a slave of Al-Mughira passed by, and he was of the same age as I was. The Prophet ﷺ said. "If this (slave) should live long, he will not reach the geriatric old age, but the Hour will be established."

6168Sahih Bukhari

اللہ بزرگ و برتر کی محبت کی نشانی کا بیان اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تمہیں محبوب رکھے گا۔

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ.

ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔

Narrated Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Everyone will be with those whom he loves."

6169Sahih Bukhari

اللہ بزرگ و برتر کی محبت کی نشانی کا بیان اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تمہیں محبوب رکھے گا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، تَابَعَهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود نے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے میل نہیں ہوسکا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ اس روایت کی متابعت جریر بن حازم، سلیمان بن قرم اور ابوعوانہ نے اعمش سے کی، ان سے ابو وائل نے، ان سے عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے۔

Narrated Abdullah bin Masud (RA) : A man came to Allahs Apostle ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! What do you say about a man who loves some people but cannot catch up with their good deeds?" Allahs Apostle ﷺ said, "Everyone will be with those whom he loves."

6170Sahih Bukhari

اللہ بزرگ و برتر کی محبت کی نشانی کا بیان اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تمہیں محبوب رکھے گا۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ .

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کیا گیا ایک شخص ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے مل نہیں سکا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ سفیان کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اور محمد بن عبید نے کی ہے۔

Narrated Abu Musa (RA) : It was said to the Prophet; , "A man may love some people but he cannot catch up with their good deeds?" The Prophet ﷺ said, "Everyone will be with those whom he loves."

6171Sahih Bukhari

اللہ بزرگ و برتر کی محبت کی نشانی کا بیان اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تمہیں محبوب رکھے گا۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صَوْمٍ وَلَا صَدَقَةٍ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ہمارے والد عثمان مروزی نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں عمرو بن مرہ نے، انہیں سالم بن ابی الجعد نے اور انہیں انس بن مالک ؓ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس کے لیے بہت ساری نمازیں، روزے اور صدقے نہیں تیار کر رکھے ہیں، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم محبت رکھتے ہو۔

Narrated Anas bin Malik (RA): A man asked the Prophet ﷺ "When will the Hour be established O Allahs Apostle?" The Prophet ﷺ . said, "What have you prepared for it?" The man said, " I havent prepared for it much of prayers or fast or alms, but I love Allah and His Apostle." The Prophet ﷺ said, "You will be with those whom you love."

6172Sahih Bukhari

کسی شخص کا کسی کو کہنا کہ دور ہوجا۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ: قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا، فَمَا هُوَ ؟قَالَ: الدُّخُّ، قَالَ: اخْسَأْ.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن زریر نے بیان کیا، کہا میں نے ابورجاء سے سنا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے ابن صیاد سے فرمایا میں نے اس وقت اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے، وہ کیا ہے؟ وہ بولا الدخ. نبی کریم ﷺ نے فرمایا چل دور ہوجا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : Allahs Apostle ﷺ said to Ibn Saiyad "I have hidden something for you in my mind; What is it?" He said, "Ad-Dukh." The Prophet ﷺ said, "Ikhsa."

6173Sahih Bukhari(6175)

کسی شخص کا کسی کو کہنا کہ دور ہوجا۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَرَضَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ: مَاذَا تَرَى ؟ قَالَ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا قَالَ: هُوَ الدُّخُّ، قَالَ: اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ يَكُنْ هُوَ لَا تُسَلَّطُ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ. قَالَ سَالِمٌ: فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنَ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ: أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ هَذَا مُحَمَّدٌ فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ. قَالَ سَالِمٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ: فَقَالَ: إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَقَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: خَسَأْتُ الْكَلْبَ، بَعَّدْتُهُ خَاسِئِينَ مُبْعَدِينَ.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے خبر دی، کہ عمر بن خطاب ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے۔ بہت سے دوسرے صحابہ بھی ساتھ تھے۔ نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ وہ چند بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہا ہے۔ ان دنوں ابن صیاد بلوغ کے قریب تھا۔ نبی کریم ﷺ کی آمد کا اسے احساس نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا۔ پھر فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے نبی کریم ﷺ کی طرف دیکھ کر کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے یعنی (عربوں کے) رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی کریم ﷺ نے اس پر اسے دفع کردیا اور فرمایا، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔ پھر ابن صیاد سے آپ نے پوچھا، تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے لیے معاملہ کو مشتبہ کردیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ وہ الدخ. ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دور ہو، اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ۔ عمر ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ اسے قتل کر دوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اگر یہ وہی (دجال) ہے تو اس پر غالب نہیں ہوا جاسکتا اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی خیر نہیں۔ سالم نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ابی بن کعب انصاری ؓ کو ساتھ لے کر اس کھجور کے باغ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ باغ میں پہنچے تو آپ نے کھجور کی ٹہنیوں میں چھپنا شروع کیا۔ نبی کریم ﷺ چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ وہ دیکھے چھپ کر کسی بہانے ابن صیاد کی کوئی بات سنیں۔ ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم ﷺ کو کھجور کے تنوں سے چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے بتادیا کہ اے صاف! (یہ اس کا نام تھا) محمد آ رہے ہیں۔ چناچہ وہ متنبہ ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کی ماں اسے متنبہ نہ کرتی تو بات صاف ہوجاتی۔ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کرنے کے بعد آپ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا لیکن میں اس کی تمہیں ایک ایسی نشانی بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہوگا اور اللہ کانا نہیں ہے۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : Umar bin Al-Khattab (RA) set out with Allahs Apostle, and a group of his companions to Ibn Saiyad. They found him playing with the boys in the fort or near the Hillocks of Bani Maghala. Ibn Saiyad was nearing his puberty at that time, and he did not notice the arrival of the Prophet ﷺ till Allahs Apostle ﷺ stroked him on the back with his hand and said, "Do you testify that I am Allahs Apostle?" Ibn Saiyad looked at him and said, "I testify that you are the Apostle ﷺ of the unlettered ones (illiterates)". Then Ibn Saiyad said to the Prophets . "Do you testify that I am Allahs Apostle?" The Prophet ﷺ denied that, saying, "I believe in Allah and all His Apostles," and then said to Ibn Saiyad, "What do you see?" Ibn Saiyad said, "True people and liars visit me." The Prophet ﷺ said, "You have been confused as to this matter." Allahs Apostle ﷺ added, "I have kept something for you (in my mind)." Ibn Saiyad said, "Ad-Dukh." The Prophet ﷺ said, "Ikhsa (you should be ashamed) for you can not cross your limits." Umar said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Allow me to chop off h is neck." Allahs Apostle ﷺ said (to Umar). "Should this person be him (i.e. Ad-Dajjal) then you cannot over-power him; and should he be someone else, then it will be no use your killing him." Abdullah bin Umar added: Later on Allahs Apostle ﷺ and Ubai bin Kab (RA) Al-Ansari (once again) went to the garden in which Ibn Saiyad was present. When Allahs Apostle ﷺ entered the garden, he started hiding behind the trunks of the date-palms intending to hear something from Ibn Saiyad before the latter could see him. Ibn Saiyad was Lying on his bed, covered with a velvet sheet from where his mumur were heard. Ibn Saiyads mother saw the Prophet ﷺ and said, "O Saf (the nickname of Ibn Saiyad)! Here is Muhammad ﷺ !" Ibn Saiyad stopped his murmuring. The Prophet ﷺ said, "If his mother had kept quiet, then I would have learnt more about him." Abdullah added: Allahs Apostle ﷺ stood up before the people (delivering a sermon), and after praising and glorifying Allah as He deserved, he mentioned the Ad-Dajjal saying, "I warn you against him, and there has been no prophet but warned his followers against him. Noah warned his followers against him but I am telling you about him, something which no prophet has told his people of, and that is: Know that he is blind in one eye where as Allah is not so."

6176Sahih Bukhari

کسی کو مرحبا کہنے کا بیان اور حضرت عائشہ (رض) کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فاطمہ (رض) سے فرمایا مرحباً اے میری بیٹی اور ام ہانی کا بیان ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا مرحباً اے ام ہانی۔

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ الَّذِينَ جَاءُوا غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَىفَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مُضَرُ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا فَقَالَ: أَرْبَعٌ وَأَرْبَعٌ: أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ.

ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح یزید بن حمید نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مرحبا ان لوگوں کو جو آن پہنچے تو نہ وہ ذلیل ہوئے، نہ شرمندہ (خوشی سے مسلمان ہوگئے ورنہ مارے جاتے شرمندہ ہوتے) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیع کی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر لوگ حائل ہیں اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہوسکتے ہیں (جن میں لوٹ کھسوٹ نہیں ہوتی) آپ کچھ ایسی جچی تلی بات بتادیں جس پر عمل کرنے سے ہم جنت میں داخل ہوجائیں اور جو لوگ نہیں آسکے ہیں انہیں بھی اس کی دعوت پہنچائیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ چار چار چیزیں ہیں۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمت کا پانچواں حصہ (بیت المال کو) ادا کرو اور دباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں نہ پیو۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : When the delegation of Abdul Qais came to the Prophet, he said, "Welcome, O the delegation who have come! Neither you will have disgrace, nor you will regret." They said, "O Allahs Apostle ﷺ ! We are a group from the tribe of Ar-Rabia, and between you and us there is the tribe of Mudar and we cannot come to you except in the sacred months. So please order us to do something good (religious deeds) so that we may enter Paradise by doing that, and also that we may order our people who are behind us (whom we have left behind at home) to follow it." He said, "Four and four:" offer prayers perfectly , pay the Zakat, (obligatory charity), fast the month of Ramadan, and give one-fifth of the war booty (in Allahs cause), and do not drink in (containers called) Ad-Duba, Al-Hantam, An-Naqir and Al-Muzaffat."

6177Sahih Bukhari

لوگ اپنے باپوں کے نام سے پکارے جائیں گے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْغَادِرَ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے ان سے ابن عمر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عہد توڑنے والے کے لیے قیامت میں ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا اور پکار دیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said, "For every betrayer (perfidious person), a flag will be raised on the Day of Resurrection, and it will be announced (publicly) This is the betrayal (perfidy) of so-and-so, the son of so-and-so. "

6178Sahih Bukhari

لوگ اپنے باپوں کے نام سے پکارے جائیں گے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عہد توڑنے والے کے لیے قیامت میں ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا اور پکارا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "A flag will be fixed on the Day of Resurrection for every betrayer, and it will be announced (publicly in front of everybody), This is the betrayal (perfidy) so-and-so, the son of so-and-so."

6179Sahih Bukhari

کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس (مزاج) خبیث ہوا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي.

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس پلید ہوگیا ہے بلکہ یہ کہے کہ میرا دل خراب یا پریشان ہوگیا۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ said, "None of you should say Khabuthat Nafsi, but he is recommended to say Laqisat Nafsi."

6180Sahih Bukhari

کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس (مزاج) خبیث ہوا۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي، تَابَعَهُ عُقَيْلٌ .

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، وہ زہری سے، وہ ابوامامہ بن سہل سے، وہ اپنے باپ سے، وہ نبی کریم ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ہرگز یوں نہ کہے کہ میرا نفس پلید ہوگیا لیکن یوں کہہ سکتا ہے کہ میرا دل خراب یا پریشان ہوگیا۔ اس حدیث کو عقیل نے بھی ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔

Narrated Sahl (RA) : The Prophet ﷺ said, "None of you should say Khabuthat Nafsi but he is recommended to say Laqisat Nafsi (See Hadith No. 202)

6181Sahih Bukhari

زمانے کو برا بھلا نہ کہو۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُ يَسُبُّ بَنُو آدَمَ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان زمانہ کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں رات اور دن ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Allah said, "The offspring of Adam abuse the Dahr (Time), and I am the Dahr; in My Hands are the night and the day." !