باب: رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ: الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ ؟ فَقَالَ: شَهْرَ رَمَضَانَ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ ؟ فَقَالَ: فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ، قَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوسہیل نے، ان سے ان کے والد مالک نے اور ان سے طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے کہ ایک اعرابی پریشان حال بال بکھرے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! بتائیے مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازیں، یہ اور بات ہے کہ تم اپنی طرف سے نفل پڑھ لو، پھر اس نے کہا بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر روزے کتنے فرض کئے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے کے، یہ اور بات ہے کہ تم خود اپنے طور پر کچھ نفلی روزے اور بھی رکھ لو، پھر اس نے پوچھا اور بتائیے زکوٰۃ کس طرح مجھ پر اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہے؟ آپ ﷺ نے اسے شرع اسلام کی باتیں بتادیں۔ جب اس اعرابی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو عزت دی نہ میں اس میں اس سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کردیا ہے کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ مراد کو پہنچایا (آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ) اگر سچ کہا ہے تو جنت میں جائے گا۔
Narrated Talha bin Ubaid-Ullah (RA):
A bedouin with unkempt hair came to Allahs Apostle ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Inform me what Allah has made compulsory for me as regards the prayers." He replied: "You have to offer perfectly the five compulsory prayers in a day and night (24 hours), unless you want to pray Nawafil." The bedouin further asked, "Inform me what Allah has made compulsory for me as regards fasting." He replied, "You have to fast during the whole month of Ramadan, unless you want to fast more as Nawafil." The bedouin further asked, "Tell me how much Zakat Allah has enjoined on me." Thus, Allahs Apostle ﷺ informed him about all the rules (i.e. fundamentals) of Islam. The bedouin then said, "By Him Who has honored you, I will neither perform any Nawafil nor will I decrease what Allah has enjoined on me. Allahs Apostle ﷺ said, "If he is saying the truth, he will succeed (or he will be granted Paradise)."
باب: رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشُورَاءَ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِكَ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَصُومُهُ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صَوْمَهُ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا تھا اور آپ ﷺ نے اس کے رکھنے کا صحابہ ؓ کو ابتداء اسلام میں حکم دیا تھا، جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو عاشورہ کا روزہ بطور فرض چھوڑ دیا گیا، عبداللہ بن عمر ؓ عاشورہ کے دن روزہ نہ رکھتے مگر جب ان کے روزے کا دن ہی یوم عاشورہ آن پڑتا۔
Narrated Ibn Umar (RA):
The Prophet ﷺ observed the fast on the 10th of Muharram (Ashura), and ordered (Muslims) to fast on that day, but when the fasting of the month of Ramadan was prescribed, the fasting of the Ashura was abandoned. Abdullah did not use to fast on that day unless it coincided with his routine fasting by chance.
باب: رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے اور ان سے عراک بن مالک نے بیان کیا، انہیں عروہ نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے فرمایا قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن روزہ کا حکم دیا یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کا جی چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
Narrated Aisha (RA):
(The tribe of) Quraish used to fast on the day of Ashura in the Pre-lslamic period, and then Allahs Apostle ﷺ ordered (Muslims) to fast on it till the fasting in the month of Ramadan was prescribed; whereupon the Prophet ﷺ said, "He who wants to fast (on Ashura) may fast, and he who does not want to fast may not fast."
باب: روزہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَجْهَلْ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، يَتْرُكُ طَعَامَهُ، وَشَرَابَهُ، وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے (روزہ دار) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہیے کہ میں روزہ دار ہوں، (یہ الفاظ) دو مرتبہ (کہہ دے) اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے، (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور (دوسری) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "Fasting is a shield (or a screen or a shelter). So, the person observing fasting should avoid sexual relation with his wife and should not behave foolishly and impudently, and if somebody fights with him or abuses him, he should tell him twice, I am fasting." The Prophet ﷺ added, "By Him in Whose Hands my soul is, the smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. (Allah says about the fasting person), He has left his food, drink and desires for My sake. The fast is for Me. So I will reward (the fasting person) for it and the reward of good deeds is multiplied ten times."
باب: روزہ گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا جَامِعٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ يَحْفَظُ حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ، قَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ، وَمَالِهِ، وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ، وَالصِّيَامُ، وَالصَّدَقَةُ، قَالَ: لَيْسَ أَسْأَلُ عَنْ ذِهِ، إِنَّمَا أَسْأَلُ عَنِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ، قَالَ: وَإِنَّ دُونَ ذَلِكَ بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: فَيُفْتَحُ أَوْ يُكْسَرُ، قَالَ: يُكْسَرُ، قَالَ: ذَاكَ أَجْدَرُ أَنْ لَا يُغْلَقَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ: أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے جامع بن راشد نے بیان کیا، ان سے ابو وائل نے اور ان سے حذیفہ ؓ نے کہ عمر ؓ نے پوچھا فتنہ کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی حدیث کسی کو یاد ہے؟ حذیفہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ انسان کے لیے اس کے بال بچے، اس کا مال اور اس کے پڑوسی فتنہ (آزمائش و امتحان) ہیں جس کا کفارہ نماز روزہ اور صدقہ بن جاتا ہے۔ عمر ؓ نے کہا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا میری مراد تو اس فتنہ سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امنڈ آئے گا۔ اس پر حذیفہ ؓ نے کہا کہ آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ (یعنی آپ کے دور میں وہ فتنہ شروع نہیں ہوگا) عمر ؓ نے پوچھا وہ دروازہ کھل جائے گا یا توڑ دیا جائے گا؟ حذیفہ ؓ نے بتایا کہ توڑ دیا جائے گا۔ عمر ؓ نے فرمایا کہ پھر تو قیامت تک کبھی بند نہ ہو پائے گا۔ ہم نے مسروق سے کہا آپ حذیفہ ؓ سے پوچھئے کہ کیا عمر ؓ کو معلوم تھا کہ وہ دروازہ کون ہے، چناچہ مسروق نے پوچھا تو آپ ؓ نے فرمایا ہاں! بالکل اس طرح (انہیں علم تھا) جیسے رات کے بعد دن کے آنے کا علم ہوتا ہے۔
Narrated Abu Wail from Hudhaifa (RA):
Umar asked the people, "Who remembers the narration of the Prophet ﷺ about the affliction?" Hudhaifa said, "I heard the Prophet ﷺ saying, The affliction of a person in his property, family and neighbors is expiated by his prayers, fasting, and giving in charity." Umar said, "I do not ask about that, but I ask about those afflictions which will spread like the waves of the sea." Hudhaifa replied, "There is a closed gate in front of those afflictions." Umar asked, "Will that gate be opened or broken?" He replied, "It will be broken." Umar said, "Then the gate will not be closed again till the Day of Resurrection." We said to Masruq, "Would you ask Hudhaifa whether Umar knew what that gate symbolized?" He asked him and he replied "He (Umar) knew it as one knows that there will be night before tomorrow, morning.
باب: روزہ داروں کے لیے ریان (نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان)۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا، يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ ؟ فَيَقُومُونَ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ ابن دینار نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد ساعدی ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہوگا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے؟ وہ کھڑے ہوجائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کردیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جاسکے گا۔
Narrated Sahl (RA):
The Prophet ﷺ said, "There is a gate in Paradise called Ar-Raiyan, and those who observe fasts will enter through it on the Day of Resurrection and none except them will enter through it. It will be said, Where are those who used to observe fasts? They will get up, and none except them will enter through it. After their entry the gate will be closed and nobody will enter through it."
باب: روزہ داروں کے لیے ریان (نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان)۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا، قَالَ: نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے معین بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے راستے میں دو چیزیں خرچ کرے گا اسے فرشتے جنت کے دروازوں سے بلائیں گے کہ اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ اچھا ہے پھر جو شخص نمازی ہوگا اسے نماز کے دروازہ سے بلایا جائے گا جو مجاہد ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے جو روزہ دار ہوگا اسے باب الريان سے بلایا جائے گا اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والا ہوگا اسے زکوٰۃ کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ اس پر ابوبکر ؓ نے پوچھا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں یا رسول اللہ ﷺ ! جو لوگ ان دروازوں (میں سے کسی ایک دروازہ) سے بلائے جائیں گے مجھے ان سے بحث نہیں، آپ یہ فرمائیں کہ کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جسے ان سب دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں میں سے ہوں گے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "Whoever gives two kinds (of things or property) in charity for Allahs Cause, will be called from the gates of Paradise and will be addressed, O slaves of Allah! Here is prosperity. So, whoever was amongst the people who used to offer their prayers, will be called from the gate of the prayer; and whoever was amongst the people who used to participate in Jihad, will be called from the gate of Jihad; and whoever was amongst those who used to observe fasts, will be called from the gate of Ar-Raiyan; whoever was amongst those who used to give in charity, will be called from the gate of charity." Abu Bakr (RA) said, "Let my parents be sacrificed for you, O Allahs Apostle ﷺ ! No distress or need will befall him who will be called from those gates. Will there be any one who will be called from all these gates?" The Prophet ﷺ replied, "Yes, and I hope you will be one of them."
باب: رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوسہل نافع بن مالک نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened."
باب: رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ مَوْلَى التَّيْمِيِّينَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ.
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے ان سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا کہ مجھے بنو تمیم کے مولیٰ ابوسہیل بن ابی انس نے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "When the month of Ramadan starts, the gates of the heaven are opened and the gates of Hell are closed and the devils are chained."
باب: رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ، وَقَالَ غَيْرُهُ ، عَنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ وَيُونُسُ لِهِلَالِ رَمَضَانَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سالم نے خبر دی کہ ابن عمر ؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان کا چاند دیکھو تو روزہ شروع کر دو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزہ افطار کر دو اور اگر ابر ہو تو اندازہ سے کام کرو۔ (یعنی تیس روزے پورے کرلو) اور بعض نے لیث سے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل اور یونس نے بیان کیا کہ رمضان کا چاند مراد ہے۔
Narrated Ibn Umar (RA): I heard Allahs Apostle ﷺ saying, "When you see the crescent (of the month of Ramadan), start fasting, and when you see the crescent (of the month of Shawwal), stop fasting; and if the sky is overcast (and you cant see It) then regard the crescent (month) of Ramadan (as of 3O days)".
باب: جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت کر کے رکھے اس کا ثواب۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
The Prophet ﷺ said, "Whoever established prayers on the night of Qadr out of sincere faith and hoping for a reward from Allah, then all his previous sins will be forgiven; and whoever fasts in the month of Ramadan out of sincere faith, and hoping for a reward from Allah, then all his previous sins will be forgiven."
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ، حَتَّى يَنْسَلِخَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا نبی کریم ﷺ سخاوت اور خیر کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ ﷺ کی سخاوت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ سے رمضان میں ملتے، جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ سے رمضان شریف کی ہر رات میں ملتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔ نبی کریم ﷺ جبرائیل (علیہ السلام) سے قرآن کا دور کرتے تھے، جب جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ سے ملنے لگتے تو آپ ﷺ چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہوجایا کرتے تھے۔
Narrated Ibn Abbas (RA):
The Prophet ﷺ was the most generous amongst the people, and he used to be more so in the month of Ramadan when Gabriel (علیہ السلام) visited him, and Gabriel (علیہ السلام) used to meet him on every night of Ramadan till the end of the month. The Prophet ﷺ used to recite the Holy Quran to Gabriel (علیہ السلام), and when Gabriel (علیہ السلام) met him, he used to be more generous than a fast wind (which causes rain and welfare).
باب: جو شخص رمضان میں جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا نہ چھوڑے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد کیسان نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا (روزے رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
The Prophet ﷺ said, "Whoever does not give up forged speech and evil actions, Allah is not in need of his leaving his food and drink (i.e. Allah will not accept his fasting.)"
باب: کوئی روزہ دار کو اگر گالی دے تو اسے یہ کہنا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں؟
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی، انہیں ابوصالح (جو روغن زیتون اور گھی بیچتے تھے) نے انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ پاک فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو اسے فحش گوئی نہ کرنی چاہیے اور نہ شور مچائے، اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہیے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے، روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی (ایک تو جب) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور (دوسرے) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہوگا۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "Allah said, All the deeds of Adams sons (people) are for them, except fasting which is for Me, and I will give the reward for it. Fasting is a shield or protection from the fire and from committing sins. If one of you is fasting, he should avoid sexual relation with his wife and quarreling, and if somebody should fight or quarrel with him, he should say, I am fasting. By Him in Whose Hands my soul is The unpleasant smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. There are two pleasures for the fasting person, one at the time of breaking his fast, and the other at the time when he will meet his Lord; then he will be pleased because of his fasting."
باب: جو کنوارا ہو اور زنا سے ڈرے تو وہ روزہ رکھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ جا رہا تھا۔ آپ نے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی صاحب طاقت ہو تو اسے نکاح کرلینا چاہیے کیونکہ نظر کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو بدفعلی سے محفوظ رکھنے کا یہ ذریعہ ہے اور کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو تو اسے روزے رکھنے چاہئیں کیونکہ وہ اس کی شہوت کو ختم کردیتا ہے۔
Narrated Alqama: While I was walking with Abdullah he said, "We were in the company of the Prophet ﷺ and he said, He who can afford to marry should marry, because it will help him refrain from looking at other women, and save his private parts from looking at other women, and save his private parts from committing illegal sexual relation; and he who cannot afford to marry is advised to fast, as fasting will diminish his sexual power."
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا کہ جب تک چاند نہ دیکھو روزہ شروع نہ کرو، اسی طرح جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ موقوف نہ کرو اور اگر بادل چھا جائے تو تیس دن پورے کرلو۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA):
Allahs Apostle ﷺ mentioned Ramadan and said, "Do not fast unless you see the crescent (of Ramadan), and do not give up fasting till you see the crescent (of Shawwal), but if the sky is overcast (if you cannot see it), then act on estimation (i.e. count Shaban as 3O days)."
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لیے (انتیس پورے ہوجانے پر) جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ شروع کرو اور اگر بادل ہوجائے تو تیس دن کا شمار پورا کرلو۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "The month (can be) 29 nights (i.e. days), and do not fast till you see the moon, and if the sky is overcast, then complete Shaban as thirty days."
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا، وَخَنَسَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، کہ میں نے ابن عمر ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مہینہ اتنے دنوں اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔ تیسری مرتبہ کہتے ہوئے آپ ﷺ نے انگھوٹھے کو دبا لیا۔
Narrated Ibn Umar (RA):
The Prophet ﷺ said, "The month is like this and this," (at the same time he showed the fingers of both his hands thrice) and left out one thumb on the third time.
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، یا یوں کہا کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا چاند ہی دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند ہی دیکھ کر روزہ موقوف کرو اور اگر بادل ہوجائے تو تیس دن پورے کرلو۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
The Prophet ﷺ or Abu-l-Qasim said, "Start fasting on seeing the crescent (of Ramadan), and give up fasting on seeing the crescent (of Shawwal), and if the sky is overcast (and you cannot see it), complete thirty days of Shaban."
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، آلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا، غَدَا، أَوْ رَاحَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ شَهْرًا، فَقَالَ: إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے، ان سے عکرمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ام سلمہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ اپنی ازواج سے ایک مہینہ تک جدا رہے پھر انتیس دن پورے ہوگئے تو صبح کے وقت یا شام کے وقت آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اس پر کسی نے کہا آپ نے تو عہد کیا تھا کہ آپ ﷺ ایک مہینہ تک ان کے یہاں تشریف نہیں لے جائیں گے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
Narrated Um Salama (RA):
The Prophet ﷺ vowed to keep aloof from his wives for a period of one month, and after the completion of 29 days he went either in the morning or in the afternoon to his wives. Someone said to him "You vowed that you would not go to your wives for one month." He replied, "The month is of 29 days."