باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آلَيْتَ شَهْرًا ؟ فَقَالَ: إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ.
ہم سے عبدالعزیزبن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، ان سے حمید نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں سے جدا رہے تھے، آپ ﷺ کے پاؤں میں موچ آگئی تھی تو آپ ﷺ نے بالاخانہ میں انتیس دن قیام کیا تھا، پھر وہاں سے اترے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ جواب میں آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
Narrated Anas (RA):
Allahs Apostle ﷺ vowed to keep aloof from his wives for one month, and he had dislocation of his leg. So, he stayed in a Mashruba for 29 nights and then came down. Some people said, "O Allahs Apostle ﷺ ! You vowed to stay aloof for one month," He replied, "The month is of 29 days."
باب: عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنِي مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ: شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ، وَذُو الْحَجَّةِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسحاق سے سنا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ ؓ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا اور مجھے مسدد نے خبر دی، ان سے معتمر نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ ؓ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دونوں مہینے ناقص نہیں رہتے۔ مراد رمضان اور ذی الحجہ کے دونوں مہینے ہیں۔
Narrated Abu Bakra (RA):
The Prophet ﷺ said, "The two months of Id i.e. Ramadan and Dhul-Hijja, do not decrease (in superiority)."
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ہم لوگ حساب کتاب نہیں جانتے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا يَعْنِي مَرَّةً تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، وَمَرَّةً ثَلَاثِينَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے بیان کیا، ان سے سعید بن عمرو نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عمر ؓ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ہم ایک بےپڑھی لکھی قوم ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا۔ مہینہ یوں ہے اور یوں ہے۔ آپ کی مرد ایک مرتبہ انتیس (دنوں سے) تھی اور ایک مرتبہ تیس سے۔ (آپ ﷺ نے دسوں انگلیوں سے تین بار بتلایا) ۔
Narrated Ibn Umar (RA):
The Prophet ﷺ said, "We are an illiterate nation; we neither write, nor know accounts. The month is like this and this, i.e. sometimes of 29 days and sometimes of thirty days."
باب: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے جائیں۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے (شعبان کی آخری تاریخوں میں) ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
The Prophet ﷺ said, "None of you should fast a day or two before the month of Ramadan unless he has the habit of fasting (Nawafil) (and if his fasting coincides with that day) then he can fast that day."
باب: اللہ عزوجل کا فرمانا کہ حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے رمضان کا راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو، اللہ نے معلوم کیا کہ تم چوری سے ایسا کرتے تھے، سو معاف کر دیا تم کو اور درگزر کی تم سے پس اب صحبت کرو ان سے اور ڈھونڈو جو لکھ دیا اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں (اولاد سے)۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَ الْإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ لَهَا: أَعِنْدَكِ طَعَامٌ ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ لَكَ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ، فَلَمَّا رَأَتْهُ، قَالَتْ: خَيْبَةً لَكَ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ سورة البقرة آية 187، فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا، وَنَزَلَتْ: وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء ؓ نے بیان کیا کہ (شروع اسلام میں) محمد ﷺ کے صحابہ ؓ جب روزہ سے ہوتے اور افطار کا وقت آتا تو کوئی روزہ دار اگر افطار سے پہلے بھی سو جاتا تو پھر اس رات میں بھی اور آنے والے دن میں بھی انہیں کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی تاآنکہ پھر شام ہوجاتی، پھر ایسا ہوا کہ قیس بن صرمہ انصاری ؓ بھی روزے سے تھے جب افطار کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا (اس وقت کچھ) نہیں ہے لیکن میں جاتی ہوں کہیں سے لاؤں گی، دن بھر انہوں نے کام کیا تھا اس لیے آنکھ لگ گئی جب بیوی واپس ہوئیں اور انہیں (سوتے ہوئے) دیکھا تو فرمایا افسوس تم محروم ہی رہے، لیکن دوسرے دن وہ دوپہر کو بیہوش ہوگئے جب اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی حلال کردیا گیا تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا اس پر صحابہ ؓ بہت خوش ہوئے اور یہ آیت نازل ہوئی کھاؤ پیو یہاں تک کہ ممتاز ہوجائے تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری (صبح صادق) سیاہ دھاری (صبح کاذب ) سے۔
Narrated Al-Bara:
It was the custom among the companions of Muhammad that if any of them was fasting and the food was presented (for breaking his fast), but he slept before eating, he would not eat that night and the following day till sunset.
Qais bin Sirma-al-Ansari was fasting and came to his wife at the time of Iftar (breaking ones fast) and asked her whether she had anything to eat. She replied, "No, but I would go and bring some for you." He used to do hard work during the day, so he was overwhelmed by sleep and slept. When his wife came and saw him, she said, "Disappointment for you." When it was midday on the following day, he fainted and the Prophet ﷺ was informed about the whole matter and the following verses were revealed: "You are permitted To go to your wives (for sexual relation) At the night of fasting." So, they were overjoyed by it. And then Allah also revealed: "And eat and drink Until the white thread Of dawn appears to you Distinct from the black thread (of the night)." (2.187)
باب: (سورۃ البقرہ میں) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ سحری کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ کھل جائے تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری (صبح صادق) سیاہ دھاری (یعنی صبح کاذب) سے پھر پورے کرو اپنے روزے سورج چھپنے تک۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، عَمَدْتُ إِلَى عِقَالٍ أَسْوَدَ وَإِلَى عِقَالٍ أَبْيَضَ، فَجَعَلْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ فِي اللَّيْلِ فَلَا يَسْتَبِينُ لِي، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حصین بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، اور ان سے شعبی نے، ان سے عدی بن حاتم ؓ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تاآنکہ کھل جائے تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے۔ تو میں نے ایک سیاہ دھاگہ لیا اور ایک سفید اور دنوں کو تکیہ کے نیچے رکھ لیا اور رات میں دیکھتا رہا مجھ پر ان کے رنگ نہ کھلے، جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے تو رات کی تاریکی (صبح کاذب) اور دن کی سفیدی (صبح صادق) مراد ہے۔
Narrated Adi bin Hatim:
When the above verses were revealed: Until the white thread appears to you, distinct from the black thread, I took two (hair) strings, one black and the other white, and kept them under my pillow and went on looking at them throughout the night but could not make anything out of it. So, the next morning I went to Allahs Apostle ﷺ and told him the whole story. He explained to me, "That verse means the darkness of the night and the whiteness of the dawn."
باب: (سورۃ البقرہ میں) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ سحری کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ کھل جائے تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری (صبح صادق) سیاہ دھاری (یعنی صبح کاذب) سے پھر پورے کرو اپنے روزے سورج چھپنے تک۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ . ح حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: أُنْزِلَتْ: وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ الْفَجْرِ، فَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلِهِ الْخَيْطَ الْأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الْأَسْوَدَ، وَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدُ مِنَ الْفَجْرِ، فَعَلِمُوا أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل بن سعد نے (دوسری سند امام بخاری (رح) نے کہا) اور مجھ سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد ؓ نے بیان کیا کہ آیت نازل ہوئی کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری، سیاہ دھاری سے کھل جائے لیکن من الفجر (صبح کی) کے الفاظ نازل نہیں ہوئے تھے۔ اس پر کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ جب روزے کا ارادہ ہوتا تو سیاہ اور سفید دھاگہ لے کر پاؤں میں باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگے پوری طرح دکھائی نہ دینے لگتے، کھانا پینا بند نہ کرتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے من الفجر کے الفاظ نازل فرمائے پھر لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس سے مراد رات اور دن ہیں۔
Narrated Sahl bin Saud:
When the following verses were revealed: Eat and drink until the white thread appears to you, distinct from the black thread and of dawn was not revealed, some people who intended to fast, tied black and white threads to their legs and went on eating till they differentiated between the two. Allah then revealed the words, of dawn, and it became clear that meant night and day.
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، قَالَ الْقَاسِمُ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ أَذَانِهِمَا إِلَّا أَنْ يَرْقَى ذَا، وَيَنْزِلَ ذَا.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر ؓ نے اور (عبیداللہ بن عمر ؓ نے یہی روایت) قاسم بن محمد سے اور انہوں نے عائشہ ؓ سے کہ بلال ؓ کچھ رات رہے سے اذان دے دیا کرتے تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک ابن ام مکتوم ؓ اذان نہ دیں تم کھاتے پیتے رہو کیونکہ وہ صبح صادق کے طلوع سے پہلے اذان نہیں دیتے۔ قاسم نے بیان کیا کہ دونوں (بلال اور ام مکتوم ؓ) کی اذان کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا تھا کہ ایک چڑھتے تو دوسرے اترتے۔
Narrated Aisha (RA):
Bilal (RA) used to pronounce the Adhan at night, so Allahs Apostle? said, "Carry on taking your meals (eat and drink) till Ibn Um Maktum pronounces the Adhan, for he does not pronounce it till it is dawn.
باب: سحری کھانے میں دیر کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي، ثُمَّ تَكُونُ سُرْعَتِي أَنْ أُدْرِكَ السُّجُودَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد ؓ نے بیان کیا کہ میں سحری اپنے گھر کھاتا پھر جلدی کرتا تاکہ نماز نبی کریم ﷺ کے ساتھ مل جائے۔
Narrated Sahl bin Sad (RA):
I used to take my Suhur meals with my family and then hurry up for presenting myself for the (Fajr) prayer with Allahs Apostle.
باب: سحری اور فجر کی نماز میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالسَّحُورِ ؟ قَالَ: قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس ؓ نے اور ان سے زید بن ثابت ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہم نے سحری کھائی، پھر آپ ﷺ صبح کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں نے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں (پڑھنے) کے موافق فاصلہ ہوتا تھا۔
Narrated Anas (RA):
Zaid bin Thabit said, "We took the Suhur with the Prophet ﷺ . Then he stood for the prayer." I asked, "What was the interval between the Suhur and the Adhan?" He replied, "The interval was sufficient to recite fifty verses of the Quran."
باب: سحری کھانا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ، فَوَاصَلَ النَّاسُ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَنَهَاهُمْ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ أُطْعَمُ وَأُسْقَى.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال رکھا تو صحابہ ؓ نے بھی رکھا لیکن صحابہ ؓ کے لیے دشواری ہوگئی۔ اس لیے آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا، صحابہ ؓ نے اس پر عرض کی کہ آپ ﷺ صوم وصال رکھتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں تو برابر کھلایا اور پلایا جاتا ہوں۔
Narrated Abdullah (RA):
The Prophet ﷺ fasted for days continuously; the people also did the same but it was difficult for them. So, the Prophet ﷺ forbade them (to fast continuously for more than one day). They slid, "But you fast without break (no food was taken in the evening or in the morning)." The Prophet ﷺ replied, "I am not like you, for I am provided with food and drink (by Allah)."
باب: سحری کھانا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، سحری کھاؤ کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
The Prophet ﷺ said, "Take Suhur as there is a blessing in it."
باب: اگر کوئی شخص روزے کی نیت دن میں کرے تو درست ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا يُنَادِي فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: إِنَّ مَنْ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ، أَوْ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ فَلَا يَأْكُلْ.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن اکوع نے کہ نبی کریم ﷺ نے عاشورہ کے دن ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جس نے کھانا کھالیا وہ اب (دن ڈوبنے تک روزہ کی حالت میں) پورا کرے یا (یہ فرمایا کہ) روزہ رکھے اور جس نے نہ کھایا ہو (تو وہ روزہ رکھے) کھانا نہ کھائے۔
Narrated Salama bin Al-Akwa:
Once the Prophet ﷺ ordered a person on Ashura (the tenth of Muharram) to announce, "Whoever has eaten, should not eat any more, but fast, and who has not eaten should not eat, but complete his fast (till the end of the day).
باب: روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو کیا حکم ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ المُغِيرَةِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي حِينَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَ مَرْوَانَ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتَاهُ: أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ، وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ: أُقْسِمُ بِاللَّهِ، لَتُقَرِّعَنَّ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ قُدِّرَ لَنَا أَنْ نَجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَكَانَتْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ أَرْضٌ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا، وَلَوْلَا مَرْوَانُ أَقْسَمَ عَلَيَّ فِيهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ، فَذَكَرَ قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ: كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُنَّ أَعْلَمُ، وَقَالَ هَمَّامٌ ، وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ، وَالْأَوَّلُ أَسْنَدُ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام سمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ عائشہ اور ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا (دوسری سند امام بخاری (رح) نے کہا کہ) اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں مروان نے خبر دی اور انہیں عائشہ اور ام سلمہ ؓ نے خبر دی کہ (بعض مرتبہ) فجر ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اپنے اہل کے ساتھ جنبی ہوتے تھے، پھر آپ ﷺ غسل کرتے اور آپ ﷺ روزہ سے ہوتے تھے، اور مروان بن حکم نے عبدالرحمٰن بن حارث سے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ابوہریرہ ؓ کو تم یہ حدیث صاف صاف سنا دو۔ (کیونکہ ابوہریرہ ؓ کا فتوی اس کے خلاف تھا) ان دنوں مروان، امیر معاویہ ؓ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا، ابوبکر نے کہا کہ عبدالرحمٰن نے اس بات کو پسند نہیں کیا۔ اتفاق سے ہم سب ایک مرتبہ ذو الحلیفہ میں جمع ہوگئے۔ ابوہریرہ ؓ کی وہاں کوئی زمین تھی، عبدالرحمٰن نے ان سے کہا کہ آپ سے ایک بات کہوں گا اور اگر مروان نے اس کی مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی آپ کے سامنے اسے نہ چھیڑتا۔ پھر انہوں نے عائشہ اور ام سلمہ ؓ کی حدیث ذکر کی۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا (میں کیا کروں) کہا کہ فضل بن عباس ؓ نے یہ حدیث بیان کی تھی (اور وہ زیادہ جاننے والے ہیں) کہ ہمیں ہمام اور عبداللہ بن عمر ؓ کے صاحبزادے نے ابوہریرہ ؓ سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ ایسے شخص کو جو صبح کے وقت جنبی ہونے کی حالت میں اٹھا ہو افطار کا حکم دیتے تھے لیکن عائشہ ؓ اور ام سلمہ ؓ کی یہ روایت زیادہ معتبر ہے۔
Narrated Aisha and Um Salama (RA):
At times Allahs Apostle ﷺ used to get up in the morning in the state of Janaba after having sexual relations with his wives. He would then take a bath and fast.
باب: روزہ دار کا اپنی بیوی سے مباشرت یعنی بوسہ، مساس وغیرہ درست ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ، وَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَآرِبُ حَاجَةٌ، قَالَ طَاوُسٌ: غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ الْأَحْمَقُ، لَا حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَاءِ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ روزہ سے ہوتے لیکن (اپنی ازواج کے ساتھ) يقبل (بوسہ لینا) و مباشرت (اپنے جسم سے لگا لینا) بھی کرلیتے تھے۔ نبی کریم ﷺ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے، بیان کیا کہ ابن عباس ؓ نے کہا کہ (سورۃ طہٰ میں جو مآرب کا لفظ ہے وہ) حاجت و ضرورت کے معنی میں ہے، طاؤس نے کہا کہ لفظ أولي الإربة (جو سورة النور میں ہے) اس احمق کو کہیں گے جسے عورتوں کی کوئی ضرورت نہ ہو۔
Narrated Aisha (RA):
The Prophet ﷺ used to kiss and embrace (his wives) while he was fasting, and he had more power to control his desires than any of you. Said Jabir, "The person who gets discharge after casting a look (on his wife) should complete his fast."
باب: روزہ دار کا روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ ضَحِكَتْ.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد عروہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ ؓ نے نبی کریم ﷺ کے حوالہ سے (دوسری سند امام بخاری (رح) نے کہا کہ) اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک (رح) نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بعض ازواج کا روزہ دار ہونے کے باوجود بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پھر آپ ہنسیں۔
Narrated Hishams father (RA):
Aisha said, "Allahs Apostle ﷺ used to kiss some of his wives while he was fasting," and then she smiled.
باب: روزہ دار کا روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ، إِذْ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي، فَقَالَ: مَا لَكِ، أَنَفِسْتِ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ، وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن ابی عبداللہ نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے ام سلمہ ؓ کی بیٹی زینب نے اور ان سے ان کی والدہ (ام سلمہ ؓ) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک چادر میں (لیٹی ہوئی) تھی کہ مجھے حیض آگیا۔ اس لیے میں چپکے سے نکل آئی اور اپنا حیض کا کپڑا پہن لیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کیا حیض آگیا ہے؟ میں نے کہا ہاں، پھر میں آپ ﷺ کے ساتھ اسی چادر میں چلی گئی اور ام سلمہ ؓ اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل (جنابت) کیا کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ روزے سے ہونے کے باوجود ان کا بوسہ لیتے تھے۔
Narrated Zainab:
(daughter of Um Salama) that her mother said, "While I was (lying) with Allahs Apostle ﷺ underneath a woolen sheet, I got the menstruation, and then slipped away and put on the clothes (which I used to wear) in menses. He asked, "What is the matter? Did you get your menses?" I replied in the affirmative and then entered underneath that woolen sheet. I and Allahs Apostle ﷺ used to take a bath from one water pot and he used to kiss me while he was fasting."
باب: روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ اور ابوبکر نے کہ عائشہ ؓ نے کہا رمضان میں فجر کے وقت نبی کریم ﷺ احتلام سے نہیں (بلکہ اپنی ازواج کے ساتھ صحبت کرنے کی وجہ سے) غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔ (معلوم ہوا کہ غسل جنابت روزہ دار فجر کے بعد کرسکتا ہے) ۔
Narrated Aisha (RA):
(At times) in Ramadan the Prophet ﷺ used to take a bath in the morning not because of a wet dream and would continue his fast.
باب: روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ المُغِيرَةِ، أَنَّهُ سَمِعَ بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : كُنْتُ أَنَا وَأَبِي فَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ، غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُهُ.
ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ: مِثْلَ ذَلِكَ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام سمی نے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میرے باپ عبدالرحمٰن مجھے ساتھ لے کر عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عائشہ ؓ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ صبح جنبی ہونے کی حالت میں کرتے احتلام کی وجہ سے نہیں بلکہ جماع کی وجہ سے! پھر آپ روزے سے رہتے (یعنی غسل فجر کی نماز سے پہلے سحری کا وقت نکل جانے کے بعد کرتے) ۔
اس کے بعد ہم ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔
Narrated Abu Bakr (RA) bin Abdur-Rahman:
My father and I went to Aisha (RA) and she said, "I testify that Allahs Apostle ﷺ at times used to get up in the morning in a state of Janaba from sexual intercourse, not from a wet dream and then he would fast that day." Then he went to Um Salama and she also narrated a similar thing.
باب: اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو روزہ نہیں جاتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہ ہمیں یزید بن زریع نے خبر دی، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا، کہ ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب کوئی بھول گیا اور کچھ کھا پی لیا تو اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے۔ کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
The Prophet ﷺ said, "If somebody eats or drinks forgetfully then he should complete his fast, for what he has eaten or drunk, has been given to him by Allah."