Sahih Bukhari 1922

روزے کا بیان

1922Sahih Bukhari

باب: سحری کھانا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ، فَوَاصَلَ النَّاسُ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَنَهَاهُمْ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ أُطْعَمُ وَأُسْقَى.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال رکھا تو صحابہ ؓ نے بھی رکھا لیکن صحابہ ؓ کے لیے دشواری ہوگئی۔ اس لیے آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا، صحابہ ؓ نے اس پر عرض کی کہ آپ ﷺ صوم وصال رکھتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں تو برابر کھلایا اور پلایا جاتا ہوں۔

Narrated Abdullah (RA): The Prophet ﷺ fasted for days continuously; the people also did the same but it was difficult for them. So, the Prophet ﷺ forbade them (to fast continuously for more than one day). They slid, "But you fast without break (no food was taken in the evening or in the morning)." The Prophet ﷺ replied, "I am not like you, for I am provided with food and drink (by Allah)."