خرچ کرنے کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 53 · 23 hadiths · Page 1 of 2

5351Sahih Bukhari

بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان اور لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، آپ کہہ دیجئے کہ ضرورت سے زائد مال، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے شاید کہ تم دنیا اور آخرت میں غور وفکر اور حسن نے کہا کہ عفو سے مراد ضرورت سے زائد مال ہے

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَقُلْتُ عَنِ النَّبِيِّ، فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا کہا میں نے عبداللہ بن یزید انصاری سے سنا اور انہوں نے ابومسعود انصاری ؓ سے (عبداللہ بن یزید انصاری نے بیان کیا کہ) میں نے ان سے پوچھا کیا تم اس حدیث کو نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، نبی کریم ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب مسلمان اپنے گھر میں اپنے جورو بال بچوں پر اللہ کا حکم ادا کرنے کی نیت سے خرچ کرے تو اس میں بھی اس کو صدقے کا ثواب ملتا ہے۔

Narrated Abu Masud Al-Ansari (RA) : The Prophet ﷺ said, "When a Muslim spends something on his family intending to receive Allahs reward it is regarded as Sadaqa for him."

5352Sahih Bukhari

بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان اور لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، آپ کہہ دیجئے کہ ضرورت سے زائد مال، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے شاید کہ تم دنیا اور آخرت میں غور وفکر اور حسن نے کہا کہ عفو سے مراد ضرورت سے زائدمال ہے

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ: أَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ أُنْفِقْ عَلَيْكَ.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! تو خرچ کر تو میں تجھ کو دیئے جاؤں گا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Allah said, O son of Adam! Spend, and I shall spend on you."

5353Sahih Bukhari

بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان اور لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، آپ کہہ دیجئے کہ ضرورت سے زائد مال، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے شاید کہ تم دنیا اور آخرت میں غور وفکر اور حسن نے کہا کہ عفو سے مراد ضرورت سے زائدمال ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ.

ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث (سالم) نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیواؤں اور مسکینوں کے کام آنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے، یا رات بھر عبادت اور دن کو روزے رکھنے والے کے برابر ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "The one who looks after a widow or a poor person is like a Mujahid (warrior) who fights for Allahs Cause, or like him who performs prayers all the night and fasts all the day."

5354Sahih Bukhari

بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان اور لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، آپ کہہ دیجئے کہ ضرورت سے زائد مال، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے شاید کہ تم دنیا اور آخرت میں غور وفکر اور حسن نے کہا کہ عفو سے مراد ضرورت سے زائدمال ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: لِي مَالٌ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالشَّطْرِ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالثُّلُثِ، قَالَ: الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ وَمَهْمَا أَنْفَقْتَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ وَلَعَلَّ اللَّهَ يَرْفَعُكَ يَنْتَفِعُ بِكَ نَاسٌ وَيُضَرُّ بِكَ آخَرُونَ.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں سعید بن ابراہیم نے، ان سے عامر بن سعد ؓ نے، انہوں نے سعد ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لایے۔ میں اس وقت مکہ مکرمہ میں بیمار تھا۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ میرے پاس مال ہے۔ کیا میں اپنے تمام مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا پھر آدھے کی کر دوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں! میں نے کہا، پھر تہائی کی کر دوں (فرمایا) تہائی کی کر دو اور تہائی بھی بہت ہے۔ اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج و تنگ دست چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے وہ ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جب بھی خرچ کرو گے تو وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہوگا۔ یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھنے کے لیے اٹھاؤ گے اور امید ہے کہ ابھی اللہ تمہیں زندہ رکھے گا، تم سے بہت سے لوگوں کو نفع پہنچے گا اور بہت سے دوسرے (کفار) نقصان اٹھائیں گے۔

Narrated Sad (RA) : The Prophet ﷺ visited me at Makkah while I was ill. I said (to him), "I have property; May I bequeath all my property in Allahs Cause?" He said, "No." I said, "Half of it?" He said, "No." I said, "One third of it?" He said, "One-third (is alright), yet it is still too much, for youd better leave your inheritors wealthy than leave them poor, begging of others. Whatever you spend will be considered a Sadaqa for you, even the mouthful of food you put in the mouth of your wife. Anyhow Allah may let you recover, so that some people may benefit by you and others be harmed by you."

5355Sahih Bukhari

اہل وعیال کو خرچ دینا واجب ہے

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ. تَقُولُ الْمَرْأَةُ: إِمَّا أَنْ تُطْعِمَنِي وَإِمَّا أَنْ تُطَلِّقَنِي، وَيَقُولُ الْعَبْدُ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي، وَيَقُولُ الِابْنُ: أَطْعِمْنِي إِلَى مَنْ تَدَعُنِي، فَقَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا، هَذَا مِنْ كِيسِ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا۔ کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جسے دے کردینے والا مالدار ہی رہے اور ہر حال میں اوپر کا ہاتھ (دینے والے کا) نیچے کے (لینے والے کے) ہاتھ سے بہتر ہے اور (خرچ کی) ابتداء ان سے کرو جو تمہاری نگہبانی میں ہیں۔ عورت کو اس مطالبہ کا حق ہے کہ مجھے کھانا دے ورنہ طلاق دے۔ غلام کو اس مطالبہ کا حق ہے کہ مجھے کھانا دو اور مجھ سے کام لو۔ بیٹا کہہ سکتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ یا کسی اور پر چھوڑ دو۔ لوگوں نے کہا: اے ابوہریرہ! کیا (یہ آخری ٹکڑا بھی) کہ جورو کہتی ہے آخر تک۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ یہ ابوہریرہ کی خود اپنی سمجھ ہے۔

: Narrated Abu Hurairah (RA) : "The Prophet ﷺ said, The best alms is that which is given when one is rich, and a giving hand is better than a taking one, and you should start first to support your dependents. A wife says, You should either provide me with food or divorce me. A slave says, Give me food and enjoy my service." A son says, "Give me food; to whom do you leave me?" The people said, "O Abu Hurairah (RA) ! Did you hear that from Allahs Apostle ﷺ ?" He said, "No, it is from my own self."

5356Sahih Bukhari

اہل وعیال کو خرچ دینا واجب ہے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ.

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد بن مسافر نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین خیرات وہ ہے جسے دینے پر آدمی مالدار ہی رہے اور ابتداء ان سے کرو جو تمہاری نگرانی میں ہیں جن کے کھلانے پہنانے کے تم ذمہ دار ہو۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "The best alms is that which you give when you are rich, and you should start first to support your dependants."

5357Sahih Bukhari

اپنے اہل وعیال کے لئے مرد کا ایک سال کا خرچ جمع کرنا اور اہل وعیال کا خرچ کس طرح ہے؟

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قَالَ لِي مَعْمَرٌ: قَالَ لِي الثَّوْرِيُّ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الرَّجُلِ يَجْمَعُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ أَوْ بَعْضِ السَّنَةِ ؟ قَالَ مَعْمَرٌ: فَلَمْ يَحْضُرْنِي، ثُمَّ ذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيعُ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَيَحْبِسُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ.

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، ان سے ابن عیینہ نے کہا کہ مجھ سے معمر نے بیان کیا کہ ان سے ثوری نے پوچھا کہ تم نے ایسے شخص کے بارے میں بھی سنا ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا یا سال سے کم کا خرچ جمع کرلے۔ معمر نے بیان کیا کہ اس وقت مجھے یاد نہیں آیا پھر بعد میں یاد آیا کہ اس بارے میں ایک حدیث ابن شہاب نے ہم سے بیان کی تھی، ان سے مالک بن اوس نے اور ان سے ابن عمر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ بنی نضیر کے باغ کی کھجوریں بیچ کر اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کی روزی جمع کردیا کرتے تھے۔

Narrated Umar (RA) : The Prophet ﷺ used to sell the dates of the garden of Bani An-Nadir and store for his family so much food as would cover their needs for a whole year.

5358Sahih Bukhari

باب

وَقَالَ يُونُسُ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، نَهَى اللَّهُ أَنْ تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَذَلِكَ أَنْ تَقُولَ الْوَالِدَةُ لَسْتُ مُرْضِعَتَهُ وَهِيَ أَمْثَلُ لَهُ غِذَاءً وَأَشْفَقُ عَلَيْهِ وَأَرْفَقُ بِهِ مِنْ غَيْرِهَا، فَلَيْسَ لَهَا أَنْ تَأْبَى بَعْدَ أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ نَفْسِهِ مَا جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَيْسَ لِلْمَوْلُودِ لَهُ أَنْ يُضَارَّ بِوَلَدِهِ وَالِدَتَهُ، فَيَمْنَعَهَا أَنْ تُرْضِعَهُ ضِرَارًا لَهَا إِلَى غَيْرِهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَسْتَرْضِعَا عَنْ طِيبِ نَفْسِ الْوَالِدِ وَالْوَالِدَةِ، فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا بَعْدَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فِصَالُهُ فِطَامُهُ.

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان والوالدات يرضعن أولادهن حولين کاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں پورے دو سال (یہ مدت) اس کے لیے ہے جو دودھ کی مدت پوری کرنا چاہے۔ سے ارشاد بما تعملون بصير تک۔ اور سورة الاحقاف میں فرمایا وحمله وفصاله ثلاثون شهرا اور اس کا حمل اور اس کا دودھ چھوڑنا تیس مہینوں میں ہوتا ہے۔ اور سورة الطلاق میں فرمایا وإن تعاسرتم فسترضع له أخرى * لينفق ذو سعة من سعته ومن قدر عليه رزقه کہ اور اگر تم میاں بیوی آپس میں ضد کرو گے تو بچے کو دودھ کوئی دوسری عورت پلائے گی۔ وسعت والے کو خرچ دودھ پلانے کے لیے اپنی وسعت کے مطابق کرنا چاہیے اور جس کی آمدنی کم ہو اسے چاہیے کہ اسے اللہ نے جتنا دیا ہو اس میں خرچ کرے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد بعد عسر يسرا تک اور یونس نے زہری سے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا ہے کہ ماں اس کے بچہ کی وجہ سے باپ کو تکلیف پہنچائے اور اس کی صورت یہ ہے مثلاً کہ ماں کہہ دے کہ میں اسے دودھ نہیں پلاؤں گی حالانکہ اس کی غذا بچے کے زیادہ موافق ہے۔ وہ بچہ پر زیادہ مہربان ہوتی ہے اور دوسرے کے مقابلہ میں بچہ کے ساتھ وہ زیادہ لطف و نرمی کرسکتی ہے۔ اس لیے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ بچہ کو دودھ پلانے سے اس وقت بھی انکار کر دے جبکہ بچہ کا والد اسے (نان نفقہ میں) اپنی طرف سے وہ سب کچھ دینے کو تیار ہو جو اللہ نے اس پر فرض کیا ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ باپ اپنے بچہ کی وجہ سے ماں کو نقصان نہ پہنچائے۔ اس کی صورت یہ ہے مثلاً باپ ماں کو دودھ پلانے سے روکے اور خواہ مخواہ کسی دوسری عورت کو دودھ پلانے کے لیے مقرر کرے۔ البتہ اگر ماں اور باپ اپنی خوشی سے کسی دوسری عورت کو دودھ پلانے کے لیے مقرر کریں تو دونوں پر کچھ گناہ نہ ہوگا اور اگر وہ والد اور والدہ دونوں اپنی رضا مندی اور مشورہ سے بچہ کا دودھ چھڑانا چاہیں تو پھر ان پر کچھ گناہ نہ ہوگا (گو ابھی مدت رخصت باقی ہو) فصال کے معنی دودھ چھڑانا۔

Narrated Malik bin Aus bin Al-Hadathan: Once I set out to visit `Umar (bin Al-Khattab). (While I was sitting there with him his gate-keeper, Yarfa, came and said, Uthman `AbdurRahman (bin `Auf), Az-Zubair and Sa`d (bin Abi Waqqas) are seeking permission (to meet you). `Umar said, Yes. So he admitted them and they entered, greeted, and sat down. After a short while Yarfa came again and said to `Umar 'Shall I admit `Ali and `Abbas? `Umar said, Yes. He admitted them and when they entered, they greeted and sat down. `Abbas said, O Chief of the Believers! Judge between me and this (`Ali). The group, `Uthman and his companions Sa`d, 'O Chief of the Believers! Judge between them and relieve one from the other. `Umar said. Wait! I beseech you by Allah, by Whose permission both the Heaven and the Earth stand fast ! Do you know that Allah's Apostle said. 'We (Apostles) do not bequeath anything to our heirs, but whatever we leave is to be given in charity.' And by that Allah's Apostles meant himself? The group said, He did say so. `Umar then turned towards 'All and `Abbas and said. I beseech you both by Allah, do you know that Allah's Apostle said that? They said, 'Yes `Umar said, Now, let me talk to you about this matter. Allah favored His Apostle with something of this property (war booty) which He did not give to anybody else. And Allah said:-- 'And what Allah has bestowed on His Apostle (as Fai Booty) from them for which you made no expedition with either cavalry or camelry . . . Allah is Able to do all things.' (59.6) So this property was especially granted to Allah's Apostle. But by Allah he neither withheld it from you, nor did he keep it for himself and deprive you of it, but he gave it all to you and distributed it among you till only this remained out of it. And out of this property Allah's Apostle used to provide his family with their yearly needs, and whatever remained, he would spend where Allah's Property (the revenues of Zakat) used to be spent. Allah's Apostle kept on acting like this throughout his lifetime. Now I beseech you by Allah, do you know that? They said, Yes. Then `Umar said to `Ali and `Abbas, I beseech you by Allah, do you both know that? They said, Yes. `Umar added, When Allah had taken His Apostle unto Him, Abu Bakr said, 'I am the successor of Allah's Apostle. So he took charge of that property and did with it the same what Allah's Apostle used to do, and both of you knew all about it then. Then `Umar turned towards `Ali and `Abbas and said, You both claim that Abu- Bakr was so-and-so! But Allah knows that he was honest, sincere, pious and right (in that matter). Then Allah caused Abu Bakr to die, and I said, 'I am the successor of Allah's Apostle and Abu Bakr.' So I kept this property in my possession for the first two years of my rule, and I used to do the same with it as Allah's Apostle and Abu Bakr used to do. Later both of you (`Ali and `Abbas) came to me with the same claim and the same problem. (O `Abbas!) You came to me demanding your share from (the inheritance of) the son of your brother, and he (`Ali) came to me demanding his wives share from (the inheritance of) her father. So I said to you, 'If you wish I will hand over this property to you, on condition that you both promise me before Allah that you will manage it in the same way as Allah's Apostle and Abu Bakr did, and as I have done since the beginning of my rule; otherwise you should not speak to me about it.' So you both said, 'Hand over this property to us on this condition.' And on this condition I handed it over to you. I beseech you by Allah, did I hand it over to them on that condition? The group said, Yes. `Umar then faced `Ali and `Abbas and said, I beseech you both by Allah, did I hand it over to you both on that condition? They both said, Yes. `Umar added, Do you want me now to give a decision other than that? By Him with Whose permission (order) both the Heaven and the Earth stand fast, I will never give any decision other than that till the Hour is established! But if you are unable to manage it (that property), then return it to me and I will be sufficient for it on your behalf .

5359Sahih Bukhari

کسی عورت کا شوہر غائب ہوجائے اس عورت کے اور بچے کے خرچ کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ.

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے خبر دی اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ ؓ حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان (ان کے شوہر) بہت بخیل ہیں، تو کیا میرے لیے اس میں کوئی گناہ ہے اگر میں ان کے مال میں سے (اس کے پیٹھ پیچھے) اپنے بچوں کو کھلاؤں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، لیکن دستور کے مطابق ہونا چاہیے۔

Narrated Aisha (RA) : Hind bint Utba came and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Abu Sufyan (RA) is a miser so is it sinful of me to feed our children from his property?" Allahs Apostle ﷺ said, "No except if you take for your needs what is just and reasonable. "

5360Sahih Bukhari

کسی عورت کا شوہر غائب ہوجائے اس عورت کے اور بچے کے خرچ کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِهِ.

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر بن راشد نے، ان سے ہمام بن عیینہ نے، کہا کہ میں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے، اس کے حکم کے بغیر (دستور کے مطابق) اللہ کے راستہ میں خرچ کر دے تو اسے بھی آدھا ثواب ملتا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "If the wife gives of her husbands property (something in charity) without his permission, he will get half the reward."

5361Sahih Bukhari

عورت کا اپنے شوہر کے گھر میں کام کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى وَبَلَغَهَا أَنَّهُ جَاءَهُ رَقِيقٌ فَلَمْ تُصَادِفْهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ، قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْنَا نَقُومُ، فَقَالَ: عَلَى مَكَانِكُمَا، فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى بَطْنِي، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَوْ أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا ؟ فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، کہا کہ مجھ سے حکم نے بیان کیا، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے، ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ فاطمہ ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ شکایت کرنے کے لیے حاضر ہوئیں کہ چکی پیسنے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں کتنی تکلیف ہے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے ہیں لیکن نبی کریم ﷺ سے ان کی ملاقات نہ ہوسکی۔ اس لیے عائشہ ؓ سے اس کا ذکر کیا۔ جب آپ ﷺ تشریف لائے تو عائشہ ؓ نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا۔ علی ؓ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ ہمارے یہاں تشریف لائے (رات کے وقت) ہم اس وقت اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ہم نے اٹھنا چاہا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم دونوں جس طرح تھے اسی طرح رہو۔ پھر نبی کریم ﷺ میرے اور فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے۔ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا، تم دونوں نے جو چیز مجھ سے مانگی ہے، کیا میں تمہیں اس سے بہتر ایک بات نہ بتادوں؟ جب تم (رات کے وقت) اپنے بستر پر لیٹ جاؤ تو 33 مرتبہ سبحان الله، 33 مرتبہ الحمد الله اور 34 مرتبہ الله اکبر پڑھ لیا کرو یہ تمہارے لیے لونڈی غلام سے بہتر ہے۔

Narrated Ali (RA) : Fatima went to the Prophet ﷺ complaining about the bad effect of the stone hand-mill on her hand. She heard that the Prophet ﷺ had received a few slave girls. But (when she came there) she did not find him, so she mentioned her problem to Aisha (RA). When the Prophet ﷺ came, Aisha (RA) informed him about that. Ali added, "So the Prophet ﷺ came to us when we had gone to bed. We wanted to get up (on his arrival) but he said, Stay where you are." Then he came and sat between me and her and I felt the coldness of his feet on my abdomen. He said, "Shall I direct you to something better than what you have requested? When you go to bed say Subhan Allah thirty-three times, Alhamdulillah thirty three times, and Allahu Akbar thirty four times, for that is better for you than a servant."

5362Sahih Bukhari

عورت کے لئے خادم رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ مُجَاهِدًا، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَىيُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ ؟ تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِكِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ، فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ قِيلَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ.

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن ابی یزید نے بیان کیا، انہوں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن ابی لیلیٰ سے سنا، ان سے علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے تھے کہ فاطمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تھیں اور آپ سے ایک خادم مانگا تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتادوں جو تمہارے لیے اس سے بہتر ہو۔ سوتے وقت تینتیس (33) مرتبہ سبحان الله، تینتیس (33) مرتبہ الحمد الله اور چونتیس (34) مرتبہ الله اکبر پڑھ لیا کرو۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ ان میں سے ایک کلمہ چونتیس بار کہہ لے۔ علی ؓ نے کہا کہ پھر میں نے ان کلموں کو کبھی نہیں چھوڑا۔ ان سے پوچھا گیا جنگ صفین کی راتوں میں بھی نہیں؟ کہا کہ صفین کی راتوں میں بھی نہیں۔

Narrated Ali Ibn Abi Talib (RA) : Fatima came to the Prophet ﷺ asking for a servant. He said, "May I inform you of something better than that? When you go to bed, recite "Subhan Allah thirty three times, Alhamdulillah thirty three times, and Allahu Akbar thirty four times. All added, I have never failed to recite it ever since." Somebody asked, "Even on the night of the battle of Siffin?" He said, "No, even on the night of the battle of Siffin."

5363Sahih Bukhari

مرد کا اپنے اہل وعیال کی خدمت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، سَأَلْتُ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي الْبَيْتِ ؟ قَالَتْ: كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ خَرَجَ.

ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود بن یزید نے کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا کہ گھر میں نبی کریم ﷺ کیا کیا کرتے تھے؟ ام المؤمنین ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ گھر کے کام کیا کرتے تھے، پھر آپ جب اذان کی آواز سنتے تو باہر چلے جاتے تھے۔

Narrated Al-Aswad bin Yazid (RA) : I asked Aisha (RA) "What did the Prophet ﷺ use to do at home?" She said, "He used to work for his family, and when he heard the Adhan (call for the prayer), he would go out."

5364Sahih Bukhari

اگر شوہر خرچ نہ دے تو عورت کو اختیار ہے کہ اس کو بتائے بغیر ضرورت کے مطابق اتناخرچ نکال لے کہ جو اس بچوں کے لئے کافی ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَقَالَ: خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ.

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، کہا کہ مجھے میرے والد (عروہ نے) خبر دی اور انہیں عائشہ ؓ نے کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان (ان کے شوہر) بخیل ہیں اور مجھے اتنا نہیں دیتے جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو سکے۔ ہاں اگر میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں (تو کام چلتا ہے) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم دستور کے موافق اتنا لے سکتی ہو جو تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو سکے۔

Narrated Aisha (RA) : Hind bint Utba said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Abu Sufyan (RA) is a miser and he does not give me what is sufficient for me and my children. Can I take of his property without his knowledge?" The Prophet ﷺ said, "Take what is sufficient for you and your children, and the amount should be just and reasonable.

5365Sahih Bukhari

بیوی کا اپنے شوہر کے مال کی حفاظت کرنا اور نفقہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ. وَيُذْكَرُ عَنْ مُعَاوِيَةَ وابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (طاؤس) اور ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والی عورتوں میں (یعنی عرب کی عورتوں میں) بہترین عورتیں قریشی عورتیں ہیں۔ دوسرے راوی (ابن طاؤس) نے بیان کیا کہ قریش کی صالح، نیک عورتیں (صرف لفظ قریشی عورتوں کے بجائے) بچے پر بچپن میں سب سے زیادہ مہربان اور اپنے شوہر کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والیاں ہوتی ہیں۔ معاویہ اور ابن عباس ؓ نے بھی نبی کریم ﷺ سے ایسی ہی روایت کی ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "The best women among the camel riders, are the women of Quraish." (Another narrator said) The Prophet ﷺ said, "The righteous among the women of Quraish are those who are kind to their young ones and who look after their husbands property . "

5366Sahih Bukhari

عورت کو دستور کے مطابق پہنانے کا بیان

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: آتَى إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً سِيَرَاءَ فَلَبِسْتُهَا، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَشَقَّقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي.

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان، کہا کہ مجھے عبدالملک بن میسرہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے میرا کپڑے کا جوڑا ہدیہ میں دیا تو میں نے اسے خود پہن لیا، پھر میں نے نبی کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر خفگی دیکھی تو میں نے اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا۔

Narrated Ali (RA) : The Prophet ﷺ gave me a silk suit and I wore it, but when I noticed anger on his face, I cut it and distributed it among my women-folk.

5367Sahih Bukhari

بچوں کی خدمت میں عورت کا اپنے شوہر کی مدد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْ قَالَ: خَيْرًا.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے کہ میرے والد شہید ہوگئے اور انہوں نے سات لڑکیاں چھوڑیں یا (راوی نے کہا کہ) نو لڑکیاں۔ چناچہ میں نے ایک پہلے کی شادی شدہ عورت سے نکاح کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ جابر! تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا، کنواری سے یا بیاہی سے۔ میں نے عرض کیا کہ بیاہی سے۔ فرمایا تم نے کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ تم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور وہ تمہارے ساتھ ہنسی کرتی۔ جابر ؓ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ عبداللہ (میرے والد) شہید ہوگئے اور انہوں نے کئی لڑکیاں چھوڑی ہیں، اس لیے میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان کے پاس ان ہی جیسی لڑکی بیاہ لاؤں، اس لیے میں نے ایک ایسی عورت سے شادی کی ہے جو ان کی دیکھ بھال کرسکے اور ان کی اصلاح کا خیال رکھے۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت دے یا (راوی کو شک تھا) نبی کریم ﷺ نے خيرا. فرمایا یعنی اللہ تم کو خیر عطا کرے۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : My father died and left seven or nine girls and I married a matron. Allahs Apostle ﷺ said to me, "O Jabir! Have you married?" I said, "Yes." He said, "A virgin or a matron?" I replied, "A matron." he said, "Why not a virgin, so that you might play with her and she with you, and you might amuse her and she amuse you." I said, " Abdullah (my father) died and left girls, and I dislike to marry a girl like them, so I married a lady (matron) so that she may look after them." On that he said, "May Allah bless you," or "That is good."

5368Sahih Bukhari

تنگدست کا اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَلَكْتُ، قَالَ: وَلِمَ ؟ قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: فَأَعْتِقْ رَقَبَةً، قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قَالَ: لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ ؟ قَالَ: هَا أَنَا ذَا، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهَذَا، قَالَ: عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، قَالَ: فَأَنْتُمْ إِذًا.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ میں تو ہلاک ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آخر کیا بات ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں ہمبستری کرلی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر دو۔ (یہ کفارہ ہوجائے گا) انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ لو۔ انہوں نے کہا کہ مجھ میں اس کی بھی طاقت نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ انہوں نے کہا کہ اتنا بھی میرے پاس نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ مسئلہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ ان صاحب نے عرض کیا میں یہاں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ لو اسے (اپنی طرف سے) صدقہ کردینا۔ انہوں نے کہا اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر؟ یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ان دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ ہنسے اور آپ کے مبارک دانت دکھائی دینے لگے اور فرمایا، پھر تم ہی اس کے زیادہ مستحق ہو۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said, "I am ruined!" The Prophet ﷺ said, "Why?" He said, "I had sexual intercourse with my wife while fasting (in the month of Ramadan)." The Prophet ﷺ said to him, "Manumit a slave (as expiation)." He replied, "I cannot afford that." The Prophet ﷺ said, "Then fast for two successive months." He said, "I cannot." The Prophet ﷺ said, "Then feed sixty poor persons." He said, "I have nothing to do that." In the meantime a basket full of dates was brought to the Prophet ﷺ . He said, "Where is the questioner." The man said, "I am here." The Prophet ﷺ said (to him), "Give this (basket of dates) in charity (as expiation)." He said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Shall I give it to poorer people than us? By Him Who sent you with the Truth, there is no family between Medinas two mountains poorer than us." The Prophet ﷺ smiled till his pre-molar teeth became visible. He then said, "Then take it."

5369Sahih Bukhari

آیت وعلی الوارث مثل ذلک کی تفسیر اور کیا عورت پر کوئی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول وضرب اللہ مثلارجلین احدہما ابکم۔۔۔ صراط مستقیم کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہیں ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ ؓ نے کہ ام سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا مجھے ابوسلمہ (ان کے پہلے شوہر) کے لڑکوں کے بارے میں ثواب ملے گا اگر میں ان پر خرچ کروں۔ میں انہیں اس محتاجی میں دیکھ نہیں سکتی، وہ میرے بیٹے ہی تو ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں، تمہیں ہر اس چیز کا ثواب ملے گا جو تم ان پر خرچ کرو گی۔

Narrated Um Salama (RA) : I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Shall I get a reward (in the Hereafter) if I spend on the children of Abu Salama and do not leave them like this and like this (i.e., poor) but treat them like my children?" The Prophet ﷺ said, "Yes, you will be rewarded for that which you will spend on them."

5370Sahih Bukhari

آیت وعلی الوارث مثل ذلک کی تفسیر اور کیا عورت پر کوئی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول وضرب اللہ مثلارجلین احدہما ابکم۔۔۔ صراط مستقیم کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ هِنْدُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ ؟ قَالَ: خُذِي بِالْمَعْرُوفِ.

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ ہند نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بخیل ہیں۔ اگر میں ان کے مال سے اتنا (ان سے پوچھے بغیر) لے لیا کروں جو میرے اور میرے بچوں کو کافی ہو تو کیا اس میں کوئی گناہ ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دستور کے مطابق لے لیا کرو۔

Narrated Aisha (RA) : Hind (bint Utba) said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Abu Sufyan (RA) is a miser. Is there any harm if I take of his property what will cover me and my childrens needs?" The Prophet ﷺ said, "Take (according to your needs) in a reasonable manner."