Sahih Bukhari 5370

خرچ کرنے کا بیان

5370Sahih Bukhari

آیت وعلی الوارث مثل ذلک کی تفسیر اور کیا عورت پر کوئی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول وضرب اللہ مثلارجلین احدہما ابکم۔۔۔ صراط مستقیم کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ هِنْدُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ ؟ قَالَ: خُذِي بِالْمَعْرُوفِ.

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ ہند نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بخیل ہیں۔ اگر میں ان کے مال سے اتنا (ان سے پوچھے بغیر) لے لیا کروں جو میرے اور میرے بچوں کو کافی ہو تو کیا اس میں کوئی گناہ ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دستور کے مطابق لے لیا کرو۔

Narrated Aisha (RA) : Hind (bint Utba) said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Abu Sufyan (RA) is a miser. Is there any harm if I take of his property what will cover me and my childrens needs?" The Prophet ﷺ said, "Take (according to your needs) in a reasonable manner."