فتنوں کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 76 · 78 hadiths · Page 1 of 5

7048Sahih Bukhari

اس چیز کا بیان جو اللہ تعالیٰ کے قول میں آیا ہے کہ ڈرو اس فتنے سے جو تم میں سے صرف ظالموں ہی کو نہیں پہنچے گا اور اس امر کا بیان کہ آنحضرت ﷺ سے ڈرایا کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَتْ أَسْمَاءُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا عَلَى حَوْضِي أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ، فَيُؤْخَذُ بِنَاسٍ مِنْ دُونِي فَأَقُولُ أُمَّتِي. فَيَقُولُ لاَ تَدْرِي، مَشَوْا عَلَى الْقَهْقَرَى. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُفْتَنَ.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن سری نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) میں حوض کوثر پر ہوں گا اور اپنے پاس آنے والوں کا انتظار کرتا رہوں گا پھر (حوض کوثر) پر کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کرلیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ جواب ملے گا کہ آپ کو معلوم نہیں یہ لوگ الٹے پاؤں پھرگئے تھے۔ ابن ابی ملیکہ اس حدیث کو روایت کرتے وقت دعا کرتے اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھرجائیں یا فتنہ میں پڑجائیں۔

Narrated Asma: The Prophet ﷺ said, "I will be at my Lake-Fount (Kauthar) waiting for whoever will come to me. Then some people will be taken away from me whereupon I will say, My followers! It will be said, You do not know they turned Apostates as renegades (deserted their religion)." (Ibn Abi Mulaika said, "Allah, we seek refuge with You from turning on our heels from the (Islamic) religion and from being put to trial").

7049Sahih Bukhari

اس چیز کا بیان جو اللہ تعالیٰ کے قول میں آیا ہے کہ ڈرو اس فتنے سے جو تم میں سے صرف ظالموں ہی کو نہیں پہنچے گا اور اس امر کا بیان کہ آنحضرت ﷺ سے ڈرایا کرتے تھے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، لَيُرْفَعَنَّ إِلَيَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ، حَتَّى إِذَا أَهْوَيْتُ لِأُنَاوِلَهُمُ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَصْحَابِي، يَقُولُ: لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے ابو وائل کے غلام مغیرہ ابن مقسم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حوض کوثر پر تم لوگوں کا پیش خیمہ ہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میری طرف آئیں گے جب میں انہیں (حوض کا پانی) دینے کے لیے جھکوں گا تو انہیں میرے سامنے سے کھینچ لیا جائے گا۔ میں کہوں گا اے میرے رب! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی باتیں نکال لی تھیں۔

Narrated Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said, "I am your predecessor at the Lake-Fount (Kauthar) and some men amongst you will be brought to me, and when I will try to hand them some water, they will be pulled away from me by force whereupon I will say, O Lord, my companions! Then the Almighty will say, You do not know what they did after you left, they introduced new things into the religion after you."

7050Sahih Bukhari(7050-7051)

اس چیز کا بیان جو اللہ تعالیٰ کے قول میں آیا ہے کہ ڈرو اس فتنے سے جو تم میں سے صرف ظالموں ہی کو نہیں پہنچے گا اور اس امر کا بیان کہ آنحضرت ﷺ سے ڈرایا کرتے تھے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَمَنْ وَرَدَهُ شَرِبَ مِنْهُ، وَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا، لَيَرِدُ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍوَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا، فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فِيهِ، قَالَ: إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سہل بن سعد سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ میں حوض کوثر پر تم سے پہلے رہوں گا جو وہاں پہنچے گا تو اس کا پانی پئے گا اور جو اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے پھر میرے اور ان کے درمیان پردہ ڈال دیا جائے گا۔ ابوحازم نے بیان کیا کہ نعمان بن ابی عیاش نے بھی سنا کہ میں ان سے یہ حدیث بیان کر رہا ہوں تو انہوں نے کہا کہ کیا تو نے سہل ؓ سے اسی طرح یہ حدیث سنی تھی؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو سعید خدری ؓ سے یہ حدیث اسی طرح سنی تھی۔ ابوسعید اس میں اتنا بڑھاتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھ میں سے ہیں۔ نبی کریم ﷺ سے اس وقت کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا تبدیلیاں کردی تھیں؟ میں کہوں گا کہ دوری ہو دوری ہو ان کے لیے جنہوں نے میرے بعد دین میں تبدیلیاں کردی تھیں۔

Narrated Sahl bin Sad (RA) : I heard the Prophet ﷺ saying, "I am your predecessor at the Lake-Fount (Kauthar), and whoever will come to it, will drink from it, and whoever will drink from it, will never become thirsty after that. There will come to me some people whom I know and they know me, and then a barrier will be set up between me and them." Abu Said Al-Khudri added that the Prophet ﷺ further said: "I will say those people are from me. It will be said, You do not know what changes and new things they did after you. Then I will say, Far removed (from mercy), far removed (from mercy), those who changed (the religion) after me! "

7052Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا ارشاد تم عنقریب ایسی باتیں دیکھو گے جنہیں تم برا سمجھو گے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملاقات کرو۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا تم میرے بعد بعض کام ایسے دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس سلسلے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہیں ان کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔

Narrated Abdullah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said to us, "You will see after me, selfishness (on the part of other people) and other matters that you will disapprove of." They asked, "What do you order us to do, O Allahs Apostle? (under such circumstances)?" He said, "Pay their rights to them (to the rulers) and ask your right from Allah."

7053Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا ارشاد تم عنقریب ایسی باتیں دیکھو گے جنہیں تم برا سمجھو گے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملاقات کرو۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنِ الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے جعد صیرفی نے، ان سے ابورجاء عطاردی نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے (خلیفہ) کی اطاعت سے اگر کوئی بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said, "Whoever disapproves of something done by his ruler then he should be patient, for whoever disobeys the ruler even a little (little = a span) will die as those who died in the Pre-lslamic Period of Ignorance. (i.e. as rebellious Sinners).

7054Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا ارشاد تم عنقریب ایسی باتیں دیکھو گے جنہیں تم برا سمجھو گے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملاقات کرو۔

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً.

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے جعد ابی عثمان نے بیان کیا، ان سے ابورجاء العطاردی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سنا، ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے امیر کی کوئی ناپسند چیز دیکھی تو اسے چاہے کہ صبر کرے اس لیے کہ جس نے جماعت سے ایک بالشت بھر جدائی اختیار کی اور اسی حال میں مرا تو وہ جاہلیت کی سی موت مرے گا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said, "Whoever notices something which he dislikes done by his ruler, then he should be patient, for whoever becomes separate from the company of the Muslims even for a span and then dies, he will die as those who died in the Pre-lslamic period of Ignorance (as rebellious sinners). (Fateh-Al-Bari page 112, Vol. 16)

7055Sahih Bukhari(7056)

نبی ﷺ کا ارشاد تم عنقریب ایسی باتیں دیکھو گے جنہیں تم برا سمجھو گے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملاقات کرو۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ، قُلْنَا: أَصْلَحَكَ اللَّهُ، حَدِّثْ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَعَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ. فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا: أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةً عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے بکیر بن عبداللہ نے، ان سے بسر بن سعید نے، ان سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا کہ ہم عبادہ بن صامت ؓ کی خدمت میں پہنچے وہ مریض تھے اور ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے۔ کوئی حدیث بیان کیجئے جس کا نفع آپ کو اللہ تعالیٰ پہنچائے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے لیلۃ العقبہ میں سنا ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ سے بیعت کی۔ انہوں (عبادہ بن صامت) نے بیان کیا کہ جن باتوں کا نبی کریم ﷺ نے ہم سے عہد لیا تھا ان میں یہ بھی تھا کہ خوشی و ناگواری، تنگی اور کشادگی اور اپنی حق تلفی میں بھی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور یہ بھی کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک ان کو اعلانیہ کفر کرتے نہ دیکھ لیں۔ اگر وہ اعلانیہ کفر کریں تو تم کو اللہ کے پاس سے دلیل مل جائے گی۔

Narrated Junada bin Abi Umaiya (RA) : We entered upon Ubadah bin As-Samit (RA) while he was sick. We said, "May Allah make you healthy. Will you tell us a Hadith you heard from the Prophet ﷺ and by which Allah may make you benefit?" He said, "The Prophet ﷺ called us and we gave him the Pledge of allegiance for Islam, and among the conditions on which he took the Pledge from us, was that we were to listen and obey (the orders) both at the time when we were active and at the time when we were tired, and at our difficult time and at our ease and to be obedient to the ruler and give him his right even if he did not give us our right, and not to fight against him unless we noticed him having open Kufr (disbelief) for which we would have a proof with us from Allah."

7057Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا ارشاد تم عنقریب ایسی باتیں دیکھو گے جنہیں تم برا سمجھو گے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملاقات کرو۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا وَلَمْ تَسْتَعْمِلْنِي ؟، قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي.

ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک ؓ نے اور ان سے اسید بن حضیر ؓ نے، ایک صاحب (خود اسید) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں عمرو بن العاص کو حاکم بنادیا اور مجھے نہیں بنایا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ انصاری میرے بعد اپنی حق تلفی دیکھو گے تو قیامت تک صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔

Narrated Usaid bin Hudair (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! You appointed such-and-such person and you did not appoint me?" The Prophet ﷺ said, "After me you will see rulers not giving you your right (but you should give them their right) and be patient till you meet me."

7058Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا ارشاد کہ میری امت کی ہلاکت کم عقل نوعمر لڑکوں کے ہاتھوں میں ہوگی۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَدِّي ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَمَعَنَا مَرْوَانُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ، يَقُولُ: هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ مَرْوَانُ: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ غِلْمَةً، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ لَفَعَلْتُ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ مَعَ جَدِّي إِلَى بَنِي مَرْوَانَ حِينَ مُلِّكُوا بِالشَّأْمِ، فَإِذَا رَآهُمْ غِلْمَانًا أَحْدَاثًا، قَالَ لَنَا: عَسَى هَؤُلَاءِ أَنْ يَكُونُوا مِنْهُمْ، قُلْنَا: أَنْتَ أَعْلَمُ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دادا سعید نے خبر دی، کہا کہ میں ابوہریرہ ؓ کے پاس مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ میں نے صادق و مصدوق سے سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھ سے ہوگی۔ مروان نے اس پر کہا ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ اگر میں ان کے خاندان کے نام لے کر بتلانا چاہوں تو بتلا سکتا ہوں۔ پھر جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہوگئے تو میں اپنے دادا کے ساتھ ان کی طرف جاتا تھا۔ جب وہاں انہوں نے نوجوان لڑکوں کو دیکھا تو کہا کہ شاید یہ انہی میں سے ہوں۔ ہم نے کہا کہ آپ کو زیادہ علم ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard the truthful and trusted by Allah (i.e., the Prophet) saying, "The destruction of my followers will be through the hands of young men from Quraish."

7059Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا ارشاد کہ عرب کی ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب ہے

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ، أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّوْمِ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ، وَعَقَدَ سُفْيَانُ تِسْعِينَ أَوْ مِائَةً، قِيلَ: أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟، قَالَ: نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ.

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے سنا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ ؓ سے، انہوں نے ام حبیبہ ؓ سے اور انہوں نے زینب بنت جحش ؓ سے کہ انہوں نے بیان کیا نبی کریم ﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کی تباہی اس بلا سے ہوگی جو قریب ہی آ لگی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا سوراخ ہوگیا اور سفیان نے نوے یا سو کے عدد کے لیے انگلی باندھی پوچھا گیا کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہوجائیں گے کہ ہم میں صالحین بھی ہوں گے؟ فرمایا ہاں! جب برائی بڑھ جائے گی (تو ایسا ہی ہوگا) ۔

Narrated Zainab bint Jahsh (RA) : The Prophet ﷺ got up from his sleep with a flushed red face and said, "None has the right to be worshipped but Allah. Woe to the Arabs, from the Great evil that is nearly approaching them. Today a gap has been made in the wall of Gog and Magog like this." (Sufyan illustrated by this forming the number 9O or 10O with his fingers.) It was asked, "Shall we be destroyed though there are righteous people among us?" The Prophet ﷺ said, "Yes, if evil increased."

7060Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا ارشاد کہ عرب کی ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب ہے

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِالزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ،عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنِّي لَأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَوَقْعِ الْقَطْرِ.

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا کہ اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے اسامہ بن زید ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے پر چڑھے پھر فرمایا کہ میں جو کچھ دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہو رہے ہیں۔

Narrated Usama bin Zaid (RA) : Once the Prophet ﷺ stood over one of the high buildings of Madinah and then said (to the people), "Do you see what I see?" They said, "No." He said, "I see afflictions falling among your houses as rain drops fall."

7061Sahih Bukhari

فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيَنْقُصُ الْعَمَلُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّمَ هُوَ ؟، قَالَ: الْقَتْلُ الْقَتْلُ، وَقَالَ شُعَيْبٌ ، وَيُونُسُ ، وَاللَّيْثُ ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْحُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالاعلیٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سوید بن مسیب نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا زمانہ قریب ہوتا جائے گا اور عمل کم ہوتا جائے گا اور لالچ دلوں میں ڈال دیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہونے لگیں گے اور هرج کی کثرت ہوجائے گی۔ لوگوں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! یہ هرج کیا چیز ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قتل! قتل!۔ اور یونس اور لیث اور زہری کے بھتیجے نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے حمید نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Time will pass rapidly, good deeds will decrease, miserliness will be thrown (in the hearts of the people) afflictions will appear and there will be much Al-Harj." They said, "O Allahs Apostle ﷺ ! What is "Al-Harj?" He said, "Killing! Killing!" (See Hadith No. 63, Vol. 8)

7062Sahih Bukhari(7062-7063)

فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَأَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ، الْقَتْلُ.

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ ؓ کے ساتھ تھا، ان دونوں حضرات نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سے پہلے ایسے دن ہوں گے جن میں جہالت اترے پڑے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا اور هرج بڑھ جائے گا اور هرج قتل ہے۔

Narrated Abdullah and Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said, "Near the establishment of the Hour there will be days during which Religious ignorance will spread, knowledge will be taken away (vanish) and there will be much Al-Harj, and Al-Harj means killing."

7064Sahih Bukhari

فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، قَالَ: جَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ، وَأَبُو مُوسَى فَتَحَدَّثَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ، الْقَتْلُ.

ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ ؓ بیٹھے اور گفتگو کرتے رہے پھر ابوموسیٰ ؓ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت اترے پڑے گی اور هرج کی کثرت ہوجائے گی اور هرج قتل ہے۔

Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said, "Near the establishment of the Hour there will be days during which (religious) knowledge will be taken away (vanish) and general ignorance will spread, and there will be Al-Harj in abundance, and Al-Harj means killing."

7065Sahih Bukhari

فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَالْهَرْجُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ: الْقَتْلُ.

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے ابو وائل نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ابوموسیٰ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا اسی طرح۔ هرج حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں۔

Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said...(as above, 185). And Harj, in the Ethiopian language, means killing.

7066Sahih Bukhari(7067)

فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَحْسِبُهُ رَفَعَهُ، قَالَ: بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامُ الْهَرْجِ، يَزُولُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَظْهَرُ فِيهَا الْجَهْلُ، قَالَ أَبُو مُوسَى: وَالْهَرْجُ: الْقَتْلُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ. وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ،عَنِ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ: تَعْلَمُ الْأَيَّامَ الَّتِي ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ الْهَرْجِ، نَحْوَهُ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكْهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے واصل نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے اور میرا خیال ہے کہ اس حدیث کو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا، کہا کہ قیامت سے پہلے هرج کے دن ہوں گے، ان میں علم ختم ہوجائے گا اور جہالت غالب ہوگی۔ ابوموسیٰ ؓ نے بیان کیا کہ حبشی زبان میں هرج بمعنی قتل ہے۔ اور ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہ انہوں نے عبداللہ ؓ سے کہا آپ وہ حدیث جانتے ہیں جو نبی کریم ﷺ نے هرج کے دنوں وغیرہ کے متعلق بیان کی۔ ابن مسعود ؓ نے کہا کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا کہ وہ بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی۔

Narrated Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Near the establishment of the Hour, there will be the days of Al-Harj, and the religious knowledge will be taken away (vanish i.e. by the death of Religious scholars) and general ignorance will spread." Abu Musa (RA) said, "Al-Harj, in the Ethiopian language, means killing," Ibn Masud (RA) added: I heard Allahs Apostle ﷺ saying; (It will be) from among the most wicked people who will be living at the time when the Hour will be established."

7068Sahih Bukhari

کوئی زمانہ نہیں آتا مگر اس کے بعد والا زمانہ اس سے برا ہوتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے زبیر بن عدی نے بیان کیا کہ، ہم انس بن مالک ؓ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی، انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہوگا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے۔

Narrated Az-Zubair bin Adi (RA) : We went to Anas bin Malik (RA) and complained about the wrong we were suffering at the hand of Al-Hajjaj. Anas bin Malik (RA) said, "Be patient till you meet your Lord, for no time will come upon you but the time following it will be worse than it. I heard that from the Prophet."

7069Sahih Bukhari

کوئی زمانہ نہیں آتا مگر اس کے بعد والا زمانہ اس سے برا ہوتا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ،عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَزِعًا، يَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَاذَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْخَزَائِنِ، وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ، يُرِيدُ أَزْوَاجَهُ لِكَيْ يُصَلِّينَ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے۔ (دوسری سند امام بخاری (رح) نے کہا) اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن عقیق نے، ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ہند بنت الحارث الفراسیہ نے کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اللہ کی ذات پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا خزانے نازل کئے ہیں اور کتنے فتنے اتارے ہیں ان حجرہ والیوں کو کوئی بیدار کیوں نہ کرے آپ کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ بہت سے دنیا میں کپڑے باریک پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔

Narrated Um Salama (RA) : (the wife of the Prophet) Allahs Apostle ﷺ woke up one night in a state of terror and said, "Subhan Allah, How many treasures Allah has sent down! And how many afflictions have been sent down! Who will go and wake the lady dwellers (wives of the Prophet) up of these rooms (for prayers)?" He meant his wives, so that they might pray. He added, "A well-dressed (soul) in this world may be naked in the Hereafter."

7070Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا ارشاد کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Whoever takes up arms against us, is not from us."

7071Sahih Bukhari

نبی ﷺ کا ارشاد کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا.

ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے۔

Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said, "Whoever takes up arms against us, is not from us."