اللہ تعالیٰ کا قول کہ مگر وہ جس پر جبر کیا گیا۔ اور اس کا قلب ایمان سے مطمئن ہے، لیکن وہ جس نے سینہ کفر کے لئے کھول دیا تو ان پر اللہ کی طرف سے غضب نازل ہوگا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے، اور فرمایا، تقاۃ کے معنی تقیہ ہیں (یعنی کافروں کے خوف سے ایمان کا چھپانا) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان الذین توفاھم الملاءکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض) الی قولہ واجعل لنا من لدنک نصیرا۔ پس اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ان کو جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کے ترک سے رک نہیں سکتے اور جس شخص پر جبر کیا گیا وہ بھی کمزور ہی ہے کہ جو کچھ اسے حم دیا گیا اس کے کرنے سے رک نہیں سکتا اور حسن کا بیان ہے کہ تقیہ قیامت تک جاری ہے اور حضرت ابن عباس نے کہا کہ جس شخص پر چوروں نے زبردستی کی وہ اس کو طلاق دے دے، تو یہ کچھ بھی نہیں ہے اور حضرت ابن عمر وابن زبیر وشعبی اور حسن نے بھی یہی کہا ہے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَالْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَابْعَثْ عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے خالف بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ہلال بن اسامہ نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نماز میں دعا کرتے تھے کہ اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ، سلمہ بن ہشام اور ولید بن الولید ؓ کو نجات دے۔ اے اللہ بےبس مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ قبیلہ مضر کے لوگوں کو سختی کے ساتھ پیس ڈال اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں آئی تھی۔
Narrated Abi Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ used to invoke Allah in his prayer, "O Allah! Save Aiyash bin Abi Rabia and Salama bin Hisham and Al-Walid bin Al-Walid; O Allah! Save the weak among the believers; O Allah! Be hard upon the tribe of Mudar and inflict years (of famine) upon them like the (famine) years of Joseph."
اس شخص کا یبان جو کفر پر مار کھانے اور قتل کئے جانے اور ذلت کو ترجیح دے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ الطَّائِفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب الطائفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا، اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین خصوصیتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں گی وہ ایمان کی شیرینی پالے گا اول یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اسے سب سے زیادہ عزیز ہوں۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی شخص سے محبت صرف اللہ ہی کے لیے کرے تیسرے یہ کہ اسے کفر کی طرف لوٹ کر جانا اتنا ناگوار ہو جیسے آگ میں پھینک دیا جانا۔
Narrated Anas (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Whoever possesses the (following) three qualities will have the sweetness of faith (1): The one to whom Allah and His Apostle ﷺ becomes dearer than anything else; (2) Who loves a person and he loves him only for Allahs Sake; (3) who hates to revert to atheism (disbelief) as he hates to be thrown into the Fire."
اس شخص کا یبان جو کفر پر مار کھانے اور قتل کئے جانے اور ذلت کو ترجیح دے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، سَمِعْتُ قَيْسًا ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنَّ عُمَرَ مُوثِقِي عَلَى الْإِسْلَامِ، وَلَوِ انْقَضَّ أُحُدٌ مِمَّا فَعَلْتُمْ بِعُثْمَانَ، كَانَ مَحْقُوقًا أَنْ يَنْقَضَّ.
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد نے، ان سے اسماعیل نے، انہوں نے قیس سے سنا، انہوں نے سعید بن زید ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں پایا کہ اسلام لانے کی وجہ سے (مکہ معظمہ میں) عمر ؓ نے مجھے باندھ دیا تھا اور اب جو کچھ تم نے عثمان ؓ کے ساتھ کیا ہے اس پر اگر احد پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے تو اسے ایسا ہی ہونا چاہیے۔
Narrated Qais (RA) :
I heard Said bin Zaid saying, "I have seen myself tied and forced by Umar to leave Islam (Before Umar himself embraced Islam). And if the mountain of Uhud were to collapse for the evil which you people had done to Uthman, then Uhud would have the right to do so." (See Hadith No. 202, Vol. 5)
اس شخص کا یبان جو کفر پر مار کھانے اور قتل کئے جانے اور ذلت کو ترجیح دے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا، أَلَا تَدْعُو لَنَا ؟، فَقَالَ: قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ، فَيُجْعَلُ فِيهَا، فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ، فَيُجْعَلُ نِصْفَيْنِ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ وَعَظْمِهِ، فَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَاللَّهِ لَيَتِمَّنَّ هَذَا الْأَمْرُ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ، وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ، وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن الارت ؓ نے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اپنا حال زار بیان کیا۔ نبی کریم ﷺ اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں انہیں ڈال دیا جاتا پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے ان کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دئیے جاتے لیکن یہ آزمائشیں بھی انہیں اپنے دین سے نہیں روک سکتی تھیں۔ اللہ کی قسم! اس اسلام کا کام مکمل ہوگا اور ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہیں ہوگا اور بکریوں پر سوا بھیڑئیے کے خوف کے (اور کسی لوٹ وغیرہ کا کوئی ڈر نہ ہوگا) لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔
Narrated Khabbab bin Al-Art (RA) :
We complained to Allahs Apostle ﷺ (about our state) while he was leaning against his sheet cloak in the shade of the Ka’bah. We said, "Will you ask Allah to help us? Will you invoke Allah for us?" He said, "Among those who were before you a (believer) used to be seized and, a pit used to be dug for him and then he used to be placed in it. Then a saw used to be brought and put on his head which would be split into two halves. His flesh might be combed with iron combs and removed from his bones, yet, all that did not cause him to revert from his religion. By Allah! This religion (Islam) will be completed (and triumph) till a rider (traveler) goes from Sana (the capital of Yemen) to Hadramout fearing nobody except Allah and the wolf lest it should trouble his sheep, but you are impatient." (See Hadith No. 191, Vol. 5)
مجبور وغیرہ کا اپنے حقوق فروخت کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ: ذَلِكَ أُرِيدُ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، ثُمَّ قَالَ: الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے اور جب ہم بیت المدراس کے پاس پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں آواز دی اے قوم یہود! اسلام لاؤ تم محفوظ ہوجاؤ گے۔ یہودیوں نے کہا: ابوالقاسم! آپ نے پہنچا دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرا بھی یہی مقصد ہے پھر آپ ﷺ نے دوبارہ یہی فرمایا اور یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسم آپ نے پہنچا دیا نبی کریم ﷺ نے تیسری مرتبہ یہی فرمایا۔ اور پھر فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں جلا وطن کرتا ہوں۔ پس تم میں سے جس کے پاس مال ہو اسے چاہیے کہ جلا وطن ہونے سے پہلے اسے بیچ دے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
While we were in the mosque, Allahs Apostle ﷺ came out to us and said, "Let us proceed to the Jews." So we went along with him till we reached Bait-al-Midras (a place where the Torah used to be recited and all the Jews of the town used to gather). The Prophet ﷺ stood up and addressed them, "O Assembly of Jews! Embrace Islam and you will be safe!" The Jews replied, "O Aba-l-Qasim! You have conveyed Allahs message to us." The Prophet ﷺ said, "That is what I want (from you)." He repeated his first statement for the second time, and they said, "You have conveyed Allahs message, O Aba-l-Qasim." Then he said it for the third time and added, "You should Know that the earth belongs to Allah and His Apostle, and I want to exile you fro,,, this land, so whoever among you owns some property, can sell it, otherwise you should know that the Earth belongs to Allah and His Apostle." (See Hadith No. 392, Vol. 4)
مجبور کا نکاح جائز نہیں اور تم اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں اس لئے زنا پر مجبور نہ کرو کہ دنیاوی زندگی کا سامان تیار کرو اور جو شخص انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَمِّعٍ ابني يزيد بن جارية الأنصاري ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا.
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے یزید بن حارثہ انصاری کے دو صاحبزادوں عبدالرحمٰن اور مجمع نے اور ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ نے کہ ان کے والد نے ان کی شادی کردی ان کی ایک شادی اس سے پہلے ہوچکی تھی (اور اب بیوہ تھیں) اس نکاح کو انہوں نے ناپسند کیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر (اپنی ناپسندیدگی ظاہر کردی) تو نبی کریم ﷺ نے اس نکاح کو فسخ کردیا۔
Narrated Khansa bint Khidam Al-Ansariya (RA) :
That her father gave her in marriage when she was a matron and she disliked that marriage. So she came and (complained) to the Prophets and he declared that marriage invalid. (See Hadith No. 69, Vol. 7)
مجبور کا نکاح جائز نہیں اور تم اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں اس لئے زنا پر مجبور نہ کرو کہ دنیاوی زندگی کا سامان تیار کرو اور جو شخص انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو هُوَ ذَكْوَانُ ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُسْتَأْمَرُ النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَإِنَّ الْبِكْرَ تُسْتَأْمَرُ، فَتَسْتَحْيِي، فَتَسْكُتُ، قَالَ: سُكَاتُهَا إِذْنُهَا.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے ابوعمرو نے جن کا نام ذکوان ہے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورتوں سے ان کے نکاح کے سلسلہ میں اجازت لی جائے گی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ہاں۔ میں نے عرض کیا لیکن کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی تو وہ شرم کی وجہ سے چپ سادھ لے گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔
Narrated Aisha (RA) :
I asked the Prophet, "O Allahs Apostle ﷺ ! Should the women be asked for their consent to their marriage?" He said, "Yes." I said, "A virgin, if asked, feels shy and keeps quiet." He said, "Her silence means her consent."
جب کسی شخص کو مجبور کیا جائے کہ وہ کسی کو غلام دیدے یا فروخت کردے تو جائز نہیں۔ اور بعض نے کہا اگر خریدار اس میں نظر مانے تو ان کے خیال میں جائز ہے اسی طرح اگر مدبر کو کیا (توجائز ہے)
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُأَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟، فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَسَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ.
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر ؓ نے کہ ایک انصاری صحابی نے کسی غلام کو مدبر بنایا اور ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو جب اس کی اطلاع ملی تو دریافت فرمایا۔ اسے مجھ سے کون خریدے گا چناچہ نعیم بن النحام ؓ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا۔ بیان کیا کہ پھر میں نے جابر ؓ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ وہ ایک قبطی غلام تھا اور پہلے ہی سال مرگیا۔
Narrated Jabir (RA) :
A man from the Ansar made his slave, a Mudabbar. And apart from that slave he did not have any other property. This news reached Allahs Apostle ﷺ and he said, "Who will buy that slave from me?" So Nuaim bin An-Nahham bought him for 80O Dirham. Jabir added: It was a coptic (Egyptian) slave who died that year.
اکراہ سے کرہ اور کرہ کے ایک معنی میں آتا ہے
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ فَيْرُوزٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ،وَحَدَّثَنِي عَطَاءٌ أَبُو الحَسَنِ السُّوَائِيُّ ، وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا ذَكَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا سورة النساء آية 19 الْآيَةَ، قَالَ: كَانُوا إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ، إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ تَزَوَّجَهَا، وَإِنْ شَاءُوا زَوَّجَهَا، وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجْهَا، فَهُمْ أَحَقُّ بِهَا مِنْ أَهْلِهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ.
ہم سے حسین بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے اسباط بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی سلیمان بن فیروز نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے، شیبانی نے کہا کہ مجھ سے عطاء ابوالحسن السوائی نے بیان کیا اور میرا یہی خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث ابن عباس ؓ سے بیان کی۔ سورة المائدہ کی آیت يا أيها الذين آمنوا لا يحل لکم أن ترثوا النساء کرها بیان کیا کہ جب کوئی شخص (زمانہ جاہلیت میں) مرجاتا تو اس کے وارث اس کی عورت کے حقدار بنتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کرلیتا اور چاہتا تو شادی نہ کرتا اس طرح مرنے والے کے وارث اس عورت پر عورت کے وارثوں سے زیادہ حق رکھتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بیوہ عورت عدت گزارنے کے بعد مختار ہے وہ جس سے چاہے شادی کرے اس پر زبردستی کرنا ہرگز جائز نہیں ہے) ۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : Regarding the Quranic Verse: O you who believe! You are forbidden to inherit women against their will. (4.19) The custom (in the Pre-lslamic Period) was that if a man died, his relatives used to have the right to inherit his wife, and if one of them wished, he could marry her, or they could marry her to somebody else, or prevent her from marrying if they wished, for they had more right to dispose of her than her own relatives. Therefore this Verse was revealed concerning this matter.
اگر کوئی عورت زنا پر مجبور کی گئی تو اس پر حد نہیں ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ جس نے ان کو مجبور کیا تو اللہ تعالیٰ ان کے جبر کیے جانے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے اور لیث نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ امارت کے غلاموں میں سے ایک غلام نے خمس کی ایک لونڈی سے محبت کرلی اس پر زبردستی کی یہاں تک کہ اس کی بکارت زائل ہوگئی تو حضرت عمر نے اس کو حد لگائی اور اس کو شہر بدر کردیا اور اس لونڈی کو درے نہیں لگائے اس سبب کہ اس پر زبردستی کی گئی تھی اور زہری نے بیان کیا کہ اگر کنواری لونڈی سے آزاد مرد جماع کرے تو حاکم اس کنواری لونڈی کی قیمت کے اعتبار سے قیمت وصول کرے گا اس کو درے لگائے گا اور ثیبہ لونڈی کی صورت میں اماموں کے حکم میں تاوان نہیں ہے بلکہ اس پر حد ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ بِسَارَةَ، دَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ، أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ أَرْسِلْ إِلَيَّ بِهَا، فَأَرْسَلَ بِهَا، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ، فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے سارہ (علیہا السلام) کو ساتھ لے کر ہجرت کی تو ایک ایسی بستی میں پہنچے جس میں بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالموں میں سے ایک ظالم رہتا تھا اس ظالم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سارہ (علیہا السلام) کو اس کے پاس بھیجیں آپ نے سارہ کو بھیج دیا وہ ظالم ان کے پاس آیا تو وہ (سارہ علیہا السلام) وضو کر کے نماز پڑھ رہی تھیں انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں تو تو مجھ پر کافر کو نہ مسلط کر پھر ایسا ہوا کہ وہ کم بخت بادشاہ اچانک خراٹے لینے اور گر کر پاؤں ہلانے لگا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "(The Prophet) Abraham migrated with his wife Sarah till he reached a town where there was a king or a tyrant who sent a message, to Abraham, ordering him to send Sarah to him. So when Abraham had sent Sarah, the tyrant got up, intending to do evil with her, but she got up and performed ablution and prayed and said, O Allah ! If I have believed in You and in Your Apostle, then do not empower this oppressor over me. So he (the king) had an epileptic fit and started moving his legs violently. "
کسی شخص کا اپنے ساتھی کے متعلق جب کہ اس کے قتل کئے جانے یا اس طرح کی کسی اور چیز کا خطرہ ہو۔ قسم کھانے کا بیان کہ وہ میرا بھائی ہے اور اسی طرح ہر وہ شخص جس پر زبردستی کی جائے اور خائف ہو اس لئے کہ وہ مظالم کو اس سے دفع کرتا ہے اور اس کی طرف سے جنگ کرتا ہے اور اس کو (بے سہارا) نہیں چھوڑتا، اگر مظلوم کی حمایت میں لڑے تو اس پر قصاص یا خون بہا نہیں ہے اگر اس سے کہا جائے کہ تجھے شراب پینا ہوگی یا مردار کھانا پڑے گا، تجھے اپنا غلام بیچنا پڑے گا، یا تجھے دین کا اقرار کرنا ہوگا، یا تجھے ہبہ کرنا ہوگا یا کوئی اور عقد قائم کرنے کے لئے کہا جائے، ورنہ تیرے باپ کو یا اسلامی بھائی کو ہم قتل کردیں گے تو اس کو اس کی اجازت ہے اس لئے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ مسلم مسلم کا بھائی ہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر اس سے کہا جائے کہ تجھے شراب پینی ہوگی، یا مردار کھانا پڑے گا ورنہ تیرے باپ یا بیٹے یا کسی قریبی رشتہ دار کو ہم قتل کردیں گے، اس کے لئے جائز نہیں اس لئے کہ وہ مجبور نہیں ہے، پھر اس قول کے خلاف ان کا یہ قول ہے کہ اس سے کہا جائے کہ ہم تیرے باپ یا بیٹے کو قتل کردیں گے ورنہ اس غلام کو بیچ دے یا دین کا اقرار کرلے یا ہبہ کردے، تو قیاس کے مطابق یہ اس کو لازم ہیں لیکن ہم بہتر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیع و ہبہ اور تمام عقود اس صورت میں باطل ہیں۔ انہوں نے قریبی رشتہ دار اور ان کے علاوہ لوگوں کے درمیان بغیر کتاب و سنت کے تفریق کی ہے، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی کے متعلق کہا تھا کہ یہ میری بہن ہے اور یہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کے لحاظ سے فرمایا تھا اور نخعی نے کہا کہ جب قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت اور اگر مظلوم ہو تو قسم دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے (کسی ظالم کے) سپرد کرے اور جو شخص اپنے کسی بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہوگا اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت اور حاجت پوری کرے گا۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "A Muslim is a brother of another Muslim. So he should neither oppress him nor hand him over to an oppressor. And whoever fulfilled the needs of his brother, Allah will fulfill his needs."
کسی شخص کا اپنے ساتھی کے متعلق جب کہ اس کے قتل کئے جانے یا اس طرح کی کسی اور چیز کا خطرہ ہو۔ قسم کھانے کا بیان کہ وہ میرا بھائی ہے اور اسی طرح ہر وہ شخص جس پر زبردستی کی جائے اور خائف ہو اس لئے کہ وہ مظالم کو اس سے دفع کرتا ہے اور اس کی طرف سے جنگ کرتا ہے اور اس کو (بے سہارا) نہیں چھوڑتا، اگر مظلوم کی حمایت میں لڑے تو اس پر قصاص یا خون بہا نہیں ہے اگر اس سے کہا جائے کہ تجھے شراب پینا ہوگی یا مردار کھانا پڑے گا، تجھے اپنا غلام بیچنا پڑے گا، یا تجھے دین کا اقرار کرنا ہوگا، یا تجھے ہبہ کرنا ہوگا یا کوئی اور عقد قائم کرنے کے لئے کہا جائے، ورنہ تیرے باپ کو یا اسلامی بھائی کو ہم قتل کردیں گے تو اس کو اس کی اجازت ہے اس لئے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ مسلم مسلم کا بھائی ہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر اس سے کہا جائے کہ تجھے شراب پینی ہوگی، یا مردار کھانا پڑے گا ورنہ تیرے باپ یا بیٹے یا کسی قریبی رشتہ دار کو ہم قتل کردیں گے، اس کے لئے جائز نہیں اس لئے کہ وہ مجبور نہیں ہے، پھر اس قول کے خلاف ان کا یہ قول ہے کہ اس سے کہا جائے کہ ہم تیرے باپ یا بیٹے کو قتل کردیں گے ورنہ اس غلام کو بیچ دے یا دین کا اقرار کرلے یا ہبہ کردے، تو قیاس کے مطابق یہ اس کو لازم ہیں لیکن ہم بہتر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیع و ہبہ اور تمام عقود اس صورت میں باطل ہیں۔ انہوں نے قریبی رشتہ دار اور ان کے علاوہ لوگوں کے درمیان بغیر کتاب و سنت کے تفریق کی ہے، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی کے متعلق کہا تھا کہ یہ میری بہن ہے اور یہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کے لحاظ سے فرمایا تھا اور نخعی نے کہا کہ جب قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت اور اگر مظلوم ہو تو قسم دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَان ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ الله بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولُ اللهِ، أَنْصُرُهُ إِذَا كَانَ مَظْلُومًا، أَفَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ ظَالِمًا كَيْفَ أَنْصُرُهُ ؟، قَالَ: تَحْجُزُهُ أَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ، فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن سلیمان واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب وہ مظلوم ہو تو میں اس کی مدد کروں گا لیکن آپ کا کیا خیال ہے جب وہ ظالم ہوگا پھر میں اس کی مدد کیسے کروں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تم اسے ظلم سے روکنا کیونکہ یہی اس کی مدد ہے۔
Narrated Anas (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Help your brother whether he is an oppressor or an oppressed," A man said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I will help him if he is oppressed, but if he is an oppressor, how shall I help him?" The Prophet ﷺ said, "By preventing him from oppressing (others), for that is how to help him."
وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ عَبْدًا مِنْ رَقِيقِ الْإِمَارَةِ وَقَعَ عَلَى وَلِيدَةٍ مِنَ الْخُمُسِ، فَاسْتَكْرَهَهَا حَتَّى اقْتَضَّهَا، فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ، وَنَفَاهُ، وَلَمْ يَجْلِدِ الْوَلِيدَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ اسْتَكْرَهَهَا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فِي الْأَمَةِ الْبِكْرِ يَفْتَرِعُهَا الْحُرُّ، يُقِيمُ ذَلِكَ الْحَكَمُ مِنَ الْأَمَةِ الْعَذْرَاءِ بِقَدْرِ قِيمَتِهَا، وَيُجْلَدُ، وَلَيْسَ فِي الْأَمَةِ الثَّيِّبِ فِي قَضَاءِ الْأَئِمَّةِ غُرْمٌ، وَلَكِنْ عَلَيْهِ الْحَدُّ.
حکومت کے غلاموں میں سے ایک نے حصہ خمس کی ایک باندی سے صحبت کر لی اور اس کے ساتھ زبردستی کر کے اس کی بکارت توڑ دی تو عمر ؓ نے غلام پر حد جاری کرائی اور اسے شہر بدر بھی کر دیا لیکن باندی پر حد نہیں جاری کی۔ کیونکہ غلام نے اس کے ساتھ زبردستی کی تھی۔ زہری نے ایسی کنواری باندی کے متعلق کہا جس کے ساتھ کسی آزاد نے ہمبستری کر لی ہو کہ حاکم کنواری باندی میں اس کی وجہ سے اس شخص سے اتنے دام بھر لے جتنے بکارت جاتے رہنے کی وجہ سے اس کے دام کم ہو گئے ہیں اور اس کو کوڑے بھی لگائے اگر آزاد مرد ثیبہ لونڈی سے زنا کرے تب خریدے۔ اماموں نے یہ حکم نہیں دیا ہے کہ اس کو کچھ مالی تاوان دینا پڑے گا بلکہ صرف حد لگائی جائے گی۔
And Safiyya bint 'Ubaid said: A governmental male-slave tried to seduce a slave-girl from the Khumus of the war booty till he deflowered her by force against her will; therefore 'Umar flogged him according to the law, and exiled him, but he did not flog the female slave because the male-slave had committed illegal sexual intercourse by force, against her will. Az-Zuhri said regarding a virgin slave-girl raped by a free man: The judge has to fine the adulterer as much money as is equal to the price of the female slave and the adulterer has to be flogged (according to the Islamic Law); but if the slave woman is a matron, then, according to the verdict of the Imam, the adulterer is not fined but he has to receive the legal punishment (according to the Islamic Law).