اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی اس کے لئے شفا بھی، پیدا کی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "There is no disease that Allah has created, except that He also has created its treatment."
کیا مرد عورت کا یا عورت مرد کا علاج کرسکتی ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ رُبَيِّعَ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْقِي الْقَوْمَ وَنَخْدُمُهُمْ وَنَرُدُّ الْقَتْلَى وَالْجَرْحَى إِلَى الْمَدِينَةِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے خالد بن ذکوان نے اور ان سے ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتی تھیں اور مسلمان مجاہد کو پانی پلاتی، ان کی خدمت کرتیں اور مقتولین اور مجروحین کو مدینہ منورہ لایا کرتیں تھیں۔
Narrated Rubai bint Muadh bin Afra (RA) :
We used to go for Military expeditions along with Allahs Apostle ﷺ and provide the people with water, serve them and bring the dead and the wounded back to Medina.
حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْأَفْطَسُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ: شَرْبَةِ عَسَلٍ، وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ، وَكَيَّةِ نَارٍ، وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ، رَفَعَ الْحَدِيثَ وَرَوَاهُ الْقُمِّيُّ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْعَسَلِ وَالْحَجْمِ.
ہم سے حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن منیع نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن شجاع نے بیان کیا، ان سے سالم افطس نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ شفاء تین چیزوں میں ہے۔ شہد کے شربت میں، پچھنا لگوانے میں اور آگ سے داغنے میں لیکن میں امت کو آگ سے داغ کر علاج کرنے سے منع کرتا ہوں۔ ابن عباس ؓ نے اس حدیث کو مرفوعاً نقل کیا ہے اور القمی نے روایت کیا، ان سے لیث نے، ان سے مجاہد نے، ان سے ابن عباس ؓ نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے شہد اور پچھنا لگوانے کے بارے میں بیان کیا۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
(The Prophet ﷺ said), "Healing is in three things: A gulp of honey, cupping, and branding with fire (cauterizing)." But I forbid my followers to use (cauterization) branding with fire."
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، أَخْبَرَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ أَبُو الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ: فِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ، وَأَنَا أَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سریج بن یونس ابوحارث نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے مروان بن شجاع نے بیان کیا، ان سے سالم افطس نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شفاء تین چیزوں میں ہے پچھنا لگوانے میں، شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں مگر میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Healing is in three things: cupping, a gulp of honey or cauterization, (branding with fire) but I forbid my followers to use cauterization (branding with fire)."
شہد سے علاج کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کہ اس میں شفاء ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْحَلْوَاءُ وَالْعَسَلُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کو شیرینی اور شہد پسند تھا۔
Narrated Aisha (RA) :
The Prophet ﷺ used to like sweet edible things and honey.
شہد سے علاج کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کہ اس میں شفاء ہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ أَوْ يَكُونُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ: فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ، تُوَافِقُ الدَّاءَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا، ان سے عاصم بن عمیر بن قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہاری دواؤں میں کسی میں بھلائی ہے یا یہ کہا کہ تمہاری (ان) دواؤں میں بھلائی ہے۔ تو پچھنا لگوانے یا شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے اگر وہ مرض کے مطابق ہو اور میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا ہوں۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) :
I heard the Prophet ﷺ saying, "If there is any healing in your medicines, then it is in cupping, a gulp of honey or branding with fire (cauterization) that suits the ailment, but I dont like to be (cauterized) branded with fire."
شہد سے علاج کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ لاکہ اس میں شفاء ہے
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخِي يَشْتَكِي بَطْنَهُ، فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، ثُمَّ أَتَى الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ،: فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ، اسْقِهِ عَسَلًا، فَسَقَاهُ فَبَرَأَ.
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے، کہا ہم سے سعید نے، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالمتوکل نے اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے کہ ایک صاحب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا بھائی پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں شہد پلا پھر دوسری مرتبہ وہی صحابی حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے اسے اس مرتبہ بھی شہد پلانے کے لیے کہا وہ پھر تیسری مرتبہ آیا اور عرض کیا کہ (حکم کے مطابق) میں نے عمل کیا (لیکن شفاء نہیں ہوئی) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، انہیں پھر شہد پلا۔ چناچہ انہوں نے شہد پھر پلایا اور اسی سے وہ تندرست ہوگیا۔
Narrated Abu Said Al-Khudri(RA):
A man came to the Prophet ﷺ and said, "My brother has some abdominal trouble." The Prophet ﷺ said to him "Let him drink honey." The man came for the second time and the Prophet ﷺ said to him, Let him drink honey." He came for the third time and the Prophet ﷺ said, "Let him drink honey." He returned again and said, "I have done that The Prophet ﷺ then said, "Allah has said the truth, but your brothers abdomen has told a lie. Let him drink honey." So he made him drink honey and he was cured.
اونٹ کے دودھ سے علاج کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَاسًا كَانَ بِهِمْ سَقَمٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ آوِنَا وَأَطْعِمْنَا فَلَمَّا صَحُّوا، قَالُوا: إِنَّ الْمَدِينَةَ وَخِمَةٌ، فَأَنْزَلَهُمُ الْحَرَّةَ فِي ذَوْدٍ لَهُ، فَقَالَ: اشْرَبُوا أَلْبَانَهَا، فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَهُ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ مِنْهُمْ يَكْدِمُ الْأَرْضَ بِلِسَانِهِ حَتَّى يَمُوتَ، قَالَ سَلَّامٌ: فَبَلَغَنِي أَنَّ الْحَجَّاجَ، قَالَ لِأَنَسٍ: حَدِّثْنِي بِأَشَدِّ عُقُوبَةٍ عَاقَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَهُ بِهَذَا فَبَلَغَ الْحَسَنَ، فَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يُحَدِّثْهُ بِهَذَا.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سلام بن مسکین ابوالروح بصریٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت نے بیان کیا ان سے انس ؓ نے کہ کچھ لوگوں کو بیماری تھی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں قیام کی جگہ عنایت فرما دیں اور ہمارے کھانے کا انتظام کردیں پھر جب وہ لوگ تندرست ہوگئے تو انہوں نے کہا کہ مدینہ کی آب و ہوا خراب ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے مقام حرہ میں اونٹوں کے ساتھ ان کے قیام کا انتظام کردیا اور فرمایا کہ ان کا دودھ پیو جب وہ تندرست ہوگئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے اور وہ پکڑے گئے (جیسا کہ انہوں نے چرواہے کے ساتھ کیا تھا) آپ ﷺ نے بھی ویسا ہی کیا ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھروا دی۔ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ زبان سے زمین چاٹتا تھا اور اسی حالت میں وہ مرگیا۔ سلام نے بیان کیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ حجاج نے انس ؓ سے کہا تم مجھ سے وہ سب سے سخت سزا بیان کرو جو رسول اللہ ﷺ نے کسی کو دی ہو تو انہوں نے یہی واقعہ بیان کیا جب امام حسن بصری تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا کاش وہ یہ حدیث حجاج سے نہ بیان کرتے۔
Narrated Anas (RA) :
Some people were sick and they said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Give us shelter and food. So when they became healthy they said, "The weather of Madinah is not suitable for us." So he sent them to Al-Harra with some she-camels of his and said, "Drink of their milk." But when they became healthy, they killed the shepherd of the Prophet ﷺ and drove away his camels. The Prophet ﷺ sent some people in their pursuit. Then he got their hands and feet cut and their eyes were branded with heated pieces of iron. I saw one of them licking the earth with his tongue till he died.
اونٹ کے پیشاب سے علاج کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُأَنَّ نَاسًا اجْتَوَوْا فِي الْمَدِينَةِ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِيهِ يَعْنِي الْإِبِلَ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَلَحِقُوا بِرَاعِيهِ فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَلَحَتْ أَبْدَانُهُمْ، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَسَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ، فَجِيءَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، قَالَ قَتَادَةُ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، أَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے کہ (عرینہ کے) کچھ لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تھی تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ وہ آپ (نبی کریم ﷺ ) کے چرواہے کے ہاں چلے جائیں یعنی اونٹوں میں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ چناچہ وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے چرواہے کے پاس چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا جب وہ تندرست ہوگئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے۔ آپ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے انہیں تلاش کرنے کے لیے لوگوں کو بھیجا جب انہیں لایا گیا تو نبی کریم ﷺ کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی (جیسا کہ انہوں نے چرواہے کے ساتھ کیا تھا) ۔ قتادہ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
Narrated Anas (RA) :
The climate of Madinah did not suit some people, so the Prophet ﷺ ordered them to follow his shepherd, i.e. his camels, and drink their milk and urine (as a medicine). So they followed the shepherd that is the camels and drank their milk and urine till their bodies became healthy. Then they killed the shepherd and drove away the camels. When the news reached the Prophet ﷺ he sent some people in their pursuit. When they were brought, he cut their hands and feet and their eyes were branded with heated pieces of iron.
کالا دانہ (کلونجی) سے علاج کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا وَمَعَنَا غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ فَمَرِضَ فِي الطَّرِيقِ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَعَادَهُ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، فَقَالَ لَنَا: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحُبَيْبَةِ السَّوْدَاءِ فَخُذُوا مِنْهَا خَمْسًا أَوْ سَبْعًا، فَاسْحَقُوهَا، ثُمَّ اقْطُرُوهَا فِي أَنْفِهِ بِقَطَرَاتِ زَيْتٍ، فِي هَذَا الْجَانِبِ، وَفِي هَذَا الْجَانِبِ، فَإِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا مِنَ السَّامِ، قُلْتُ: وَمَا السَّامُ، قَالَ: الْمَوْتُ.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے خالد بن سعد نے بیان کیا کہ ہم باہر گئے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ غالب بن ابجر ؓ بھی تھے۔ وہ راستہ میں بیمار پڑگئے پھر جب ہم مدینہ واپس آئے اس وقت بھی وہ بیمار ہی تھے۔ ابن ابی عتیق ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور ہم سے کہا کہ انہیں یہ کالے دانے (کلونجی) استعمال کراؤ، اس کے پانچ یا سات دانے لے کر پیس لو اور پھر زیتون کے تیل میں ملا کر (ناک کے) اس طرف اور اس طرف اسے قطرہ قطرہ کر کے ٹپکاؤ۔ کیونکہ عائشہ ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ کلونجی ہر بیماری کی دوا ہے سوا سام کے۔ میں نے عرض کیا سام کیا ہے؟ فرمایا کہ موت ہے۔
Narrated Khalid bin Sad (RA) :
We went out and Ghalib bin Abjar was accompanying us. He fell ill on the way and when we arrived at Madinah he was still sick. Ibn Abi Atiq came to visit him and said to us, "Treat him with black cumin. Take five or seven seeds and crush them (mix the powder with oil) and drop the resulting mixture into both nostrils, for Aisha (RA) has narrated to me that she heard the Prophet ﷺ saying, This black cumin is healing for all diseases except As-Sam. Aisha (RA) said, What is As-Sam? He said, Death."
کالا دانہ (کلونجی) سے علاج کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أن أبا هريرة أخبرهما أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، وَالسَّامُ: الْمَوْتُ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ: الشُّونِيزُ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ اور سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ ؓ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ سیاہ دانوں میں ہر بیماری سے شفاء ہے سوا سام کے۔ ابن شہاب نے کہا کہ سام موت ہے اور سیاہ دانہ کلونجی کو کہتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
I heard Allahs Apostle ﷺ saying, "There is healing in black cumin for all diseases except death."
مریض کے لئے تلبینہ کا بیان
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينِ لِلْمَرِيضِ وَلِلْمَحْزُونِ عَلَى الْهَالِكِ، وَكَانَتْ تَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ التَّلْبِينَةَ تُجِمُّ فُؤَادَ الْمَرِيضِ وَتَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ.
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، انہیں عقیل نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے کہ عائشہ ؓ بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ (روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ) پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے (کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آجاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے) ۔
Narrated Ursa (RA) :
Aisha used to recommend At-Talbina for the sick and for such a person as grieved over a dead person. She used to say, "I heard Allahs Apostle ﷺ saying, At-Talbina gives rest to the heart of the patient and makes it active and relieves some of his sorrow and grief. "
مریض کے لئے تلبینہ کا بیان
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينَةِ، وَتَقُولُ: هُوَ الْبَغِيضُ النَّافِعُ.
ہم سے فروہ بن ابی مغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ وہ تلبینہ پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اگرچہ وہ (مریض کو) ناپسند ہوتا ہے لیکن وہ اس کو فائدہ دیتا ہے۔
Narrated Hishams father (RA) :
Aisha (RA) used to recommend At-Talbina and used to say, "It is disliked (by the patient) although it is beneficial.
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے کو اس کی مزدوری دی اور ناک میں دوا ڈلوائی۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ was cupped and he paid the wages to the one who had cupped him and then took Suut (Medicine sniffed by nose).
دریائی قسط ہندی ناک میں ڈالنا، کست بھی اسی کو کہتے ہیں، جیسے کافورقافور (بولتے ہیں) اسی طرح کشطت، نزعت کے معنی ہیں، عبداللہ بن مسعود (رض) نے قشطت پڑھا ہے
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍقَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ: يُسْتَعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ.
وَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّ عَلَيْهِ.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، کہا میں نے زہری سے سنا، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے کہ ام قیس بنت محصن ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا تم لوگ اس عود ہندی ( كست ) کا استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے۔ حلق کے درد میں اسے ناک میں ڈالا جاتا ہے، پسلی کے درد میں چبائی جاتی ہے۔
اور میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اپنے ایک شیرخوار لڑکے کو لے کر حاضر ہوئی پھر نبی کریم ﷺ کے اوپر اس نے پیشاب کردیا تو آپ ﷺ نے پانی منگوا کر پیشاب کی جگہ پر چھینٹا دیا۔
Narrated Um Qais bint Mihsan (RA) :
I heard the Prophet ﷺ saying, "Treat with the Indian incense, for it has healing for seven diseases; it is to be sniffed by one having throat trouble, and to be put into one side of the mouth of one suffering from pleurisy." Once I went to Allahs Apostle ﷺ with a son of mine who would not eat any food, and the boy passed urine on him whereupon he asked for some water and sprinkled it over the place of urine.
کس وقت پچھنے لگوائے، اور ابوموسی نے رات کے وقت پچھنے لگوائے
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (ایک مرتبہ) روزہ کی حالت میں پچھنا لگوایا۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ was cupped while he was fasting.
سفر اور احرام کی حالت میں پچھنے لگوانے کا بیان، ابن بجینہ نے نبی ﷺ سے اس کو روایت کیا ہے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے طاؤس اور عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے پچھنا لگوایا جبکہ آپ احرام سے تھے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ was cupped while he was in a state of Ihram.
بیماری کی وجہ سے پچھنے لگوانے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَجْرِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، وَأَعْطَاهُ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ، فَخَفَّفُوا عَنْهُ، وَقَالَ: إِنَّ أَمْثَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ، وَقَالَ: لَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ مِنَ الْعُذْرَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالْقُسْطِ.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو حمید الطویل نے خبر دی اور انہیں انس ؓ نے ان سے پچھنا لگوانے والے کی مزدوری کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنا لگوایا تھا آپ کو ابوطیبہ (نافع یا میسرہ) نے پچھنا لگایا تھا آپ ﷺ نے انہیں دو صاع کھجور مزدوری میں دی تھی اور آپ نے ان کے مالکوں (بنو حارثہ) سے گفتگو کی تو انہوں نے ان سے وصول کئے جانے والے لگان میں کمی کردی تھی اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ (خون کے دباؤ کا) بہترین علاج جو تم کرتے ہو وہ پچھنا لگوانا ہے اور عمدہ دوا عود ہندی کا استعمال کرنا ہے اور فرمایا اپنے بچوں کو عذرة (حلق کی بیماری) میں ان کا تالو دبا کر تکلیف مت دو بلکہ قسط لگا دو اس سے ورم جاتا رہے گا۔
Narrated Anas (RA) :
that he was asked about the wages of the one who cups others. He said, Allahs Apostle ﷺ was cupped by Abd Taiba, to whom he gave two Sa of food and interceded for him with his masters who consequently reduced what they used to charge him daily. Then the Prophet ﷺ s said, "The best medicines you may treat yourselves with are cupping and sea incense. He added, "You should not torture your children by treating tonsillitis by pressing the tonsils or the palate with the finger, but use incense."
بیماری کی وجہ سے پچھنے لگوانے کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَغَيْرُهُ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَادَ الْمُقَنَّعَ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، إِنَّ فِيهِ شِفَاءً.
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو وغیرہ نے خبر دی، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے عاصم بن عمر بن قتادہ نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ مقنع بن سنان تابعی کی عیادت کے لیے تشریف لائے پھر ان سے کہا کہ جب تک تم پچھنا نہ لگوا لو گے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس میں شفاء ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) :
that he paid Al-Muqanna a visit during his illness and said, "I will not leave till he gets cupped, for I heard Allahs Apostle ﷺ saying, "There is healing in cupping."
سر میں پچھنے لگوانے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْتَجَمَ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي وَسَطِ رَأْسِهِ.
وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَاأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فِي رَأْسِهِ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے علقمہ نے، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن بحینہ ؓ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے راستے میں مقام لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا نبی کریم ﷺ اس وقت محرم تھے۔
اور محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن حسان نے خبر دی، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے سر میں پچھنا لگوایا۔
Narrated Abdullah bin Buhaina (RA) :
Allahs Apostle ﷺ was cupped on the middle of his head at Lahl Jamal on his way to Makkah while he was in a state of Ihram. Narrated Ibn Abbas (RA) : Allahs Apostle ﷺ was cupped on his head.