Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 41 of 265

804Sunan Abu Dawood

آخر کی دو رکعتوں میں مختصر قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي النُّفَيْلِيَّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: حَزَرْنَا قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً قَدْرَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے ظہر اور عصر میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کا اندازہ لگایا تو ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں تیس آیات کے بقدر یعنی سورة الم تنزیل السجدہ کے بقدر قیام فرماتے ہیں، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں اس کے آدھے کا اندازہ لگایا، اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم نے اندازہ کیا تو ان میں آپ کی قرآت ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر ہوتی اور آخری دونوں رکعتوں میں ہم نے اس کے آدھے کا اندازہ لگایا۔

Abu Saeed Al Khudri said: We used to estimate how long the Messenger of Allah ﷺ stood in the noon and the afternoon prayer, and we estimated that he stood in the first two rak’ahs of the noon prayer as long as it takes to recite thirty verses (of the Quran), such as A-L-M Tanzil al-Sajdah. And we estimated that he stood in the last two rak’ahs half the time he stood in the first two rak’ahs. We estimated that he stood in the first two rak’ahs of the afternoon prayer as long as he did in the last two at noon; and we estimated that he stood in the last two rak’ahs of the afternoon prayer half the time he did in first two.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٢)، سنن النسائی/الصلاة ١٦ (٤١٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧ (٨٢٨)، (تحفة الأشراف: ٣٩٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٢ (١٣٢٥) (صحیح )
805Sunan Abu Dawood

ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ وَنَحْوِهِمَا مِنَ السُّوَرِ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں والسماء والطارق ، والسماء ذات البروج اور ان دونوں جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔

Narrated Jabir ibn Samurah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to recite in the noon and afternoon prayer: By the Heaven and the Morning Star (Surah 86) and By the Heaven, holding mansions of the stars (Surah 85) and similar surahs of equal length.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١١٧ (٣٠٧)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٠ (٩٨٠)، (تحفة الأشراف: ٢١٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠١، ١٠٣، ١٠٦، ١٠٨) (حسن صحیح )
806Sunan Abu Dawood

ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ، وَقَرَأَ بِنَحْوٍ مِنْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَالْعَصْرِ كَذَلِكَ، وَالصَّلَوَاتِ كَذَلِكَ إِلَّا الصُّبْحَ فَإِنَّهُ كَانَ يُطِيلُهَا.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے اور اس میں والليل إذا يغشى جیسی سورت پڑھتے تھے، اسی طرح عصر میں اور اسی طرح بقیہ نمازوں میں پڑھتے سوائے فجر کے کہ اسے لمبی کرتے۔

Jabir bin Samurah said: When the sun declined, the Messenger of Allah ﷺ offered the noon prayer and recited surahs lie By the night when it covers over (92) and (recited similar surahs) in the afternoon prayer, and in the other prayers except the dawn prayer which he used to prolong.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦١٨)، سنن النسائی/الإفتتاح ٦٠ (٩٨١)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٣(٦٧٣)، (تحفة الأشراف: ٢١٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ١٠١، ١٠٦، ١٠٨) (صحیح )
807Sunan Abu Dawood

ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَجَدَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ. قَالَ ابْنُ عِيسَى: لَمْ يَذْكُرْ أُمَيَّةَ أَحَدٌ إِلَّا مُعْتَمِرٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر میں سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے اور رکوع کیا تو ہم نے جانا کہ آپ نے الم تنزیل السجدہ پڑھی ہے۔ ابن عیسیٰ کہتے ہیں: معتمر کے علاوہ کسی نے بھی (سند میں) امیہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Ibn Umr said: The prophet ﷺ prostrated himself in the noon prayer; then he stood up and bowed, and we knew that he recited Tanzil al-sajdah (surah xxxii). Ibn ‘Isa said: No one narrated this tradition to Umayyah except Mu’tamir.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٥٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٣) (ضعیف) (اس کے راوی أمیہ مجہول ہیں، نیز سند میں ان کا ہونا نہ ہونا مختلف فیہ ہے )
808Sunan Abu Dawood

ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي شَبَابٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَقُلْنَا لِشَابٍّ مِنَّا: سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍأَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ فَقَالَ: لَا، لَا. فَقِيلَ لَهُ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ، فَقَالَ: خَمْشًا هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا، بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثِ خِصَالٍ: أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَأَنْ لَا نُنْزِيَ الْحِمَارَ عَلَى الْفَرَسِ.

عبداللہ بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں بنی ہاشم کے کچھ نوجوانوں کے ہمراہ عبداللہ بن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم نے اپنے میں سے ایک نوجوان سے کہا: تم ابن عباس سے پوچھو کہ کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے؟ ابن عباس نے کہا: نہیں، نہیں، تو ان سے کہا گیا: شاید آپ ﷺ اپنے جی میں قرآت کرتے رہے ہوں، اس پر ابن عباس ؓ نے کہا: اللہ تمہارے چہرے یا چمڑے میں خراش کرے! یہ پہلی سے بھی بری ہے ١ ؎، آپ ایک مامور (حکم کے پابند) بندے تھے، آپ کو جو حکم ملتا وہی لوگوں کو پہنچاتے، آپ ﷺ نے ہم (بنی ہاشم) کو کوئی مخصوص حکم نہیں دیا سوائے تین باتوں کے: ایک یہ کہ ہم کامل وضو کریں دوسرے یہ کہ صدقہ نہ کھائیں، تیسرے یہ کہ گدھے کو گھوڑی پر نہ چڑھائیں۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Abdullah ibn Ubaydullah said: I went to Ibn Abbas accompanying some youths of Banu Hashim. We said to one of them: Ask Ibn Abbas (RA) : Did the Messenger of Allah ﷺ recite (the Quran) in the noon and afternoon prayers? He replied: No. People said to him: Perhaps he might recite the Quran quietly. He said: May your face be scratched (a kind of curse)! This (statement) is worse than the former. He was only a servant (of Allah) receiving Commands from Him. He preached (the divine) message which he brought with him. He did not command anything to us (Banu Hashim) specially excluding other people except three points: he commanded us to perform ablution perfectly, and not to accept charity (sadaqah) and not to make pairing of donkey with horse.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ابن عباس ؓ کا وہم ہے، نبی اکرم ﷺ سے ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورة فاتحہ اور دوسری سورت کا پڑھنا ثابت ہے، اوپر ابوقتادہ ؓ اور خباب ؓ کی روایتیں گزر چکی ہیں جو صریح طور سے اس پر دلالت کرتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجہاد ٢٣ (١٧٠١)، سنن النسائی/الطھارة ١٠٦ (١٤١)، والخیل ٩ (٣٦١١)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٤٩ (٤٢٦)، (تحفة الأشراف: ٥٧٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢، ٢٣٥، ٢٤٩) (صحیح )
809Sunan Abu Dawood

ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے یا نہیں۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : I do not know whether the Messenger of Allah ﷺ would recite the Quran at the noon and afternoon prayer or not.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٩، ٢٥٧) (صحیح )
810Sunan Abu Dawood

نماز مغرب میں قرأت کی مقدار

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّأُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةِ، إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ام فضل بنت حارث ؓ نے انہیں والمرسلات عرفا پڑھتے ہوئے سنا تو کہنے لگیں: میرے بیٹے! تم نے اس سورة کو پڑھ کر مجھے یاد دلا دیا، یہی آخری سورت ہے جسے میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں پڑھتے ہوئے سنا۔

Um al-fadl daughter of al-Harith said: I heard IbnAbbas reciting wa’l-mursalat urfan (surah lxxxvii). She said; sonny you have reminded me of this surah by your recitation. Thie is the last surah which I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting in the sunset prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٨ (٧٦٣)، والمغازي ٨٣ (٤٤٢٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٦٢)، سنن الترمذی/الصلاة ١١٨ (٣٠٨)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٤ (٩٨٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩ (٨٣١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٥٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٥ (٢٤)، مسند احمد (٦/٣٣٨، ٣٤٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٤ (١٣٣١) (صحیح )
811Sunan Abu Dawood

نماز مغرب میں قرأت کی مقدار

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ.

جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں سورة الطور پڑھتے ہوئے سنا۔

Jubair bin Mutim said: I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting al-Tur (surah lii) in the sunset prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٩ (٧٦٥)، والجھاد ١٧٢ (٣٠٥٠)، والمغازي ١٢ (٤٠٢٣)، و تفسیر الطور ١ (٤٨٥٤)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٦٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٥ (٩٨٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩ (٨٣٢)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٥(٢٣)، مسند احمد (٤/٨٠، ٨٣، ٨٤، ٨٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٤ (١٣٣٢) (صحیح )
812Sunan Abu Dawood

نماز مغرب میں قرأت کی مقدار

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ: الْأَعْرَافُ، وَالْأُخْرَى الْأَنْعَامُ. قَالَ: وَسَأَلْتُ أَنَا ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، فَقَالَ لِي مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ: الْمَائِدَةُ، وَالْأَعْرَافُ.

مروان بن حکم کہتے ہیں کہ زید بن ثابت ؓ نے مجھ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ تم مغرب میں قصار مفصل پڑھا کرتے ہو؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں دو لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، مروان کہتے ہیں: میں نے (ان سے) پوچھا: وہ دو لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا سورة الاعراف اور دوسری سورة الانعام ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے پوچھا: تو انہوں نے مجھ سے خود اپنی طرف سے کہا: وہ سورة المائدہ اور اعراف ہیں۔

Marwan bin a-hakkam said: Zaid bin Thabit asked me: Why do you recite short surahs in the sunset prayer? I saw the Messenger of Allah ﷺ reciting two long surahs at the sunset prayers. I asked him: which are those two long surahs? He replied: Al-A’raf (surah vii) and al-an’am (surah vi). I ( the narrator Ibn Juraij) asked Ibn Mulaikah (about these surahs): He said on his own accord: Al-ma’idah (surah v.) and al-A’raf (furah vii. )

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٨ (٧٦٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٧ (٩٩٠)، (تحفة الأشراف: ٣٧٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٥، ١٨٧، ١٨٨، ١٨٩) (صحیح )
813Sunan Abu Dawood

مغرب کی نماز میں چھوٹی سورتیں پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَيَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ مَا تَقْرَءُونَ وَالْعَادِيَاتِ وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَاكَ مَنْسُوخٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا أَصَحُّ.

حماد کہتے ہیں کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی ہے کہ ان کے والد مغرب میں ایسی ہی سورة پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو مثلاً سورة العادیات اور اسی جیسی سورتیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ١ ؎ حدیث منسوخ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔

HIsham bin Urwah said that his father (‘Umrah) used to recite the surahs as you recite like Wa’l-Adiyat (surah c). Abu Dawud said: This indicates that those (traditions indicating long surahs) are abrogated, and this is more sound tradition.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سورة مائدہ، انعام اور اعراف پڑھنے والی حدیث، اگر منسوخ کے بجائے یہ کہا جائے کہ ” وہ بیان جواز کے لئے ہے “ تو زیادہ بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٠٣٤ أ) (صحیح )
814Sunan Abu Dawood

مغرب کی نماز میں چھوٹی سورتیں پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: مَا مِنْ الْمُفَصَّلِ سُورَةٌ صَغِيرَةٌ وَلَا كَبِيرَةٌ إِلَّا وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ بِهَا فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں مفصل ١ ؎ کی چھوٹی بڑی کوئی سورت ایسی نہیں جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرض نماز میں لوگوں کی امامت کرتے ہوئے نہ سنا ہو۔

Amr bin Shuaib, on his father’s authority, quoted his grandfather as saying: There is no short or long surah in al-Mufassal which I have not heard the Messenger of Allah ﷺ reciting when he led the people in the prescribed prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح قول کی رو سے سورة ” ق “ سے اخیر قرآن تک کی سورتیں ” مفصل “ کہلاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٨٨) (ضعیف) (ابن اسحاق مدلس ہیں اور یہاں انہوں نے عنعنہ سے روایت کیا ہے )
815Sunan Abu Dawood

مغرب کی نماز میں چھوٹی سورتیں پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ النَّزَّالِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّهُصَلَّى خَلْفَ ابْنِ مَسْعُودٍ الْمَغْرِبَ، فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.

ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن مسعود ؓ کے پیچھے مغرب پڑھی تو انہوں نے قل هو الله أحد پڑھی۔

Abu Uthman al-Nahdl said that he offered the sunset prayer behind Ibn Masud, when he recited “Say: He is Allah, the One” (Surah 112).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٣٨٠) (ضعیف) (اس کے راوی النزال لین الحدیث ہیں )
816Sunan Abu Dawood

دو رکعتوں میں ایک ہی سورت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، أَنَّرَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ: إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا. فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ قَرَأَ ذَلِكَ عَمْدًا.

معاذ بن عبداللہ جہنی کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فجر کی دونوں رکعتوں میں إذا زلزلت الأرض پڑھتے ہوئے سنا، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ بھول گئے تھے یا آپ نے عمداً اسے پڑھا۔

Narrated Muadh ibn Abdullah al-Juhani (RA) : A man of Juhaynah told him that he had heard the Prophet ﷺ reciting When the earth is shaken (Surah 99) in both rakahs of the morning prayer. But I do not know whether he had forgotten, or whether he recited it on purpose.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٧٣) (حسن )
817Sunan Abu Dawood

نماز فجر میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَصْبَغَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ: كَأَنِّي أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ: فَلا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ 15 الْجَوَارِ الْكُنَّسِ 16 سورة التكوير آية 15-16.

عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں گویا میں نبی اکرم ﷺ کی آواز سن رہا ہوں، آپ فجر میں فلا أقسم بالخنس * الجوار الکنس پڑھ رہے ہیں۔

Amr bin Huraith said: As if I am hearing the voice of the prophet (may peace by upon him) who would recite at the morning prayer “Oh, but I call to witness the planets, the stars which rise and set” (surah 81: 15-16)

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ٥ (٨١٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٧١٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٥٦)، مسند احمد (٤/٣٠٦، ٣٠٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٦ (١٣٣٦) (صحیح )
818Sunan Abu Dawood

نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ.

ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں نماز میں سورة فاتحہ اور جو سورة آسان ہو اسے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

Abu Saeed said: we were commanded to recite Fatihat al-kitab and whatever was convenient (from the Quran during the prayer).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٣٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥، ٩٧) (صحیح )
819Sunan Abu Dawood

نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَصْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْرُجْ فَنَادِ فِي الْمَدِينَةِ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقُرْآنٍ وَلَوْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ.

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم جاؤ اور مدینہ میں اعلان کر دو کہ نماز بغیر قرآن کے نہیں ہوتی، اگرچہ سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ اور ہی ہو ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Go out and announce in Madina that prayer is not valid but the recitation of the Quran even though it might be fatihat al-kitab and something more.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٦١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٨) (منکر) ( جعفر بن میمون ضعیف راوی ہیں، نیز ثقات کی مخالفت کی ہے )
820Sunan Abu Dawood

نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ.

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں یہ اعلان کر دوں کہ سورة فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھے بغیر نماز نہیں۔

Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ commanded me to announce that prayer is not valid but with the recitation of Fatihat al-kitab and something more.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٣٦١٩) (صحیح) (صحیح مسلم میں مروی عبادہ بن صامت ؓ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بھی جعفر بن میمون ہیں )
821Sunan Abu Dawood

نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زَهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُأَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں ۔ راوی ابوسائب کہتے ہیں:

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone observes a prayer in which he does not recite Umm al-Quran, it is incomplete, it is incomplete, it is incomplete, and deficient. (The narrator said) I said: Abu Hurairah, sometime I pray behind the imam (then what should I do)? Pressing my hand he replied: O Persian, recite it inwardly, for I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying that Allah, Most High, has said: I have Me and the Half for my servant and My servant will receive what he asks. The Messenger of Allah ﷺ said: Recite. When the servant says: “praise be to Allah, the Lord of the Universe, ” Allah, Most High says: “My servant has praised me. ” When the servant says: “ The Compassionate, the merciful, “Allah Most High says: “My servant has lauded me. ” When the servant says: “Owner of the Day of Judgment, ” Allah, Most High, says: “My servant has glorified Me” When the servant says: “ Thee do we worship and of thee we ask help. “ (Allah says) “This is between Me and My servant, and My servant will receive what he asks. ” When the servant says: “ Guide us to the Straight Path, the path of those whom thou hast favoured, not ( the path) of those who earn thine anger nor of those who go astray, ” (Allah says:) “This is for My servant, and My servant will receive what he asks. ”

822Sunan Abu Dawood

نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان

اس پر میں نے کہا: ابوہریرہ! کبھی کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو کیا کروں! ) تو انہوں نے میرا بازو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ١ ؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کردی ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ بھی ہے جو وہ مانگے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پڑھو: بندہ الحمد لله رب العالمين کہتا ہے تو اللہ عزوجل کہتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی، بندہ الرحمن الرحيم کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری توصیف کی، بندہ مالک يوم الدين کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی، بندہ إياک نعبد وإياک نستعين کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر بندہ اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ سب میرے بندے کے لیے ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ٢ ؎۔

Ubadah bin al-Samit reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: the prayer is not valid I one does not recite fatihat al-kitab and something more, sufyan ( the narrator) said: This applies to a man who prays alone.

Notes · وضاحت
١ ؎: نماز سے مراد سورة فاتحہ ہے، تعظیماً کل بول کر جزء مراد لیا گیا ہے۔ ٢ ؎: جو لوگ بسم اللہ کو سورة فاتحہ کا جزء نہیں مانتے ہیں اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بسم اللہ کے سورة فاتحہ کے جزء ہونے کی صورت میں اس حدیث میں اس کا بھی ذکر ہونا چاہیے جیسے اور ساری آیتوں کا ذکر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٥)، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة ٢ (٢٩٥٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٣ (٩١٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١ (٨٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٣٥، ١٤٠٤٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٩ (٣٩)، مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٥٠، ٢٨٥، ٢٩٠، ٤٥٧، ٤٨٧) (صحیح )
822Sunan Abu Dawood

نماز میں قرأت فرض ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا. قَالَ سُفْيَانُ: لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ.

عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورة فاتحہ اور کوئی اور سورت نہیں پڑھی ١ ؎۔ سفیان کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے ہے جو تنہا نماز پڑھے ٢ ؎۔

Narrated Ubadah ibn as-Samit: We were behind the Messenger of Allah ﷺ at the dawn prayer, and he recited (the passage), but the recitation became difficult for him. Then when he finished, he said: Perhaps you recite behind your imam? We replied: Yes, it is so, Messenger of Allah. He said: Do not do so except when it is Fatihat al-Kitab, for he who does not recite it is not credited with having prayed.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ سورة فاتحہ سے کم پر نماز جائز نہیں ہوگی، سورة فاتحہ سے زائد قرات کے وجوب کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ ٢ ؎: خطابی کا کہنا ہے کہ یہ عام ہے بغیر کسی دلیل کے اس کی تخصیص جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٤ (٩١١) (وقد ورد بدون قولہ:” فصاعداً “ عند: صحیح البخاری/الأذان ٩٥ (٧٥٦)، سنن الترمذی/ الصلاة ٦٩ (٢٤٧)، ١١٦ (٣١٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١ (٨٣٧)، (تحفة الأشراف: ٥١١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٤، ٣٢١، ٣٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٦ (١٢٧٨) (صحیح )