Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 40 of 265

784Sunan Abu Dawood

بسم اللہ کا آہستہ پڑھنا

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ، فَقَرَأَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1 حَتَّى خَتَمَهَا، قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابھی ابھی مجھ پر ایک سورة نازل ہوئی ہے ، پھر آپ ﷺ نے پڑھا: بسم الله الرحمن الرحيم * إنا أعطيناک الکوثر یہاں تک کہ آپ نے پوری سورة ختم فرما دی، پھر پوچھا: تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس کو زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کوثر ایک نہر کا نام ہے، جسے میرے رب نے مجھے جنت میں دینے کا وعدہ کیا ہے ۔

Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: A surah has just been revealed to me. He then recited: ”In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. Lo! We have given thee Abundance” until he finished it. Then he asked: Do you know what Abundance (al-Kawthar) is? They replied: Allah and His Messenger know it better. He said: It is a river of which my Lord, the Exalted, the Majestic has promised me to give in Paradise.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٤ (٤٠٠)، الفضائل ٩ (٢٣٠٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٢١ (٩٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٥)، مسند احمد (٣/١٠٢، ٢٨١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر الکوثر (٣٣٥٩)، ویأتي عند المؤلف في السنة برقم: (٤٧٤٧) (حسن )
785Sunan Abu Dawood

بسم اللہ کا آہستہ پڑھنا

حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَذَكَرَ الْإِفْكَ، قَالَتْ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ: أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ سورة النور آية 11 الْآيَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، لَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْكَلَامَ عَلَى هَذَا الشَّرْحِ، وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ كَلَامِ حُمَيْدٍ.

عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہوئے واقعہ افک کا ذکر کیا، عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے اور آپ نے اپنا چہرہ کھولا اور فرمایا: أعوذ بالسميع العليم من الشيطان الرجيم * إن الذين جاء وا بالإفک عصبة منكم ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، اسے ایک جماعت نے زہری سے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے یہ بات اس انداز سے ذکر نہیں کی اور مجھے اندیشہ ہے کہ استعاذہ کا معاملہ خود حمید کا کلام ہو۔

Urwah reported on the authority of Aisha (RA) mentioning the incident of slander. She said: The Messenger of Allah ﷺ sat and unveiled his face and said: “I take refuge in Allah, All-Hearing, All-Knowing from the accursed devil. Lo! They who spread the slander are a gang among you. ” Abu Dawud said: This is a rejected (munkar) tradition. A group of narrators have reported this tradition from al-Zuhri; but did not mention this detail. I am afraid the phrase concerning “seeking refuge in Allah” is the statement of Humaid.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” یعنی بیشک جو لوگ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں یہ بھی تم ہی میں سے ایک گروہ ہے “ (سورہ نور: ١١)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٤٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٩٧) (ضعیف شاذ) (یہ حدیث شاذ اس لئے ہے کہ حمید اگرچہ ثقہ ہیں مگر انہوں نے ثقہ جماعت کی مخالفت کی ہے )
786Sunan Abu Dawood

بسم اللہ کا بلند آواز سے پڑھنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مَا حَمَلَكُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى بَرَاءَةَ وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ وَإِلَى الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي، فَجَعَلْتُمُوهُمَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ وَلَمْ تَكْتُبُوا بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ؟ قَالَ عُثْمَانُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا تَنَزَّلُ عَلَيْهِ الْآيَاتُ فَيَدْعُو بَعْضَ مَنْ كَانَ يَكْتُبُ لَهُ، وَيَقُولُ لَهُ: ضَعْ هَذِهِ الْآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا، وَتَنْزِلُ عَلَيْهِ الْآيَةُ وَالْآيَتَانِ، فَيَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَكَانَتْ الْأَنْفَالُ مِنْ أَوَّلِ مَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهَةً بِقِصَّتِهَا فَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا، فَمِنْ هُنَاكَ وَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ سے پوچھا: آپ کو کس چیز نے ابھارا کہ آپ سورة برات کا جو کہ مئین ١ ؎ میں سے ہے، اور سورة الانفال کا جو کہ مثانی ٢ ؎ میں سے ہے قصد کریں تو انہیں سات لمبی سورتوں میں کردیں اور ان دونوں (یعنی انفال اور برات) کے درمیان میں بسم الله الرحمن الرحيم نہ لکھیں؟ عثمان نے کہا: نبی اکرم ﷺ پر آیتیں نازل ہوتی تھیں تو آپ کاتب کو بلاتے اور ان سے فرماتے: اس آیت کو اس سورة میں رکھو، جس میں ایسا ایسا (قصہ) مذکور ہے ، اور آپ ﷺ پر ایک ایک دو دو آیتیں اترا کرتیں تو آپ ایسا ہی فرمایا کرتے، اور سورة الانفال ان سورتوں میں ہے جو پہلے پہل مدینہ میں آپ پر اتری ہیں، اور برات ان سورتوں میں سے ہے جو آپ ﷺ پر آخر میں اتری ہیں اور سورة برات کا مضمون سورة الانفال کے مضمون سے ملتا جلتا ہے، اس وجہ سے مجھے گمان ہوا کہ شاید برات (توبہ) انفال میں داخل ہے، اسی لیے میں نے دونوں کو سبع طوال ٣ ؎ میں رکھا اور دونوں کے بیچ میں بسم الله الرحمن الرحيم نہیں لکھا۔

Narrated Uthman ibn Affan:: Yazid al-Farisi said: I heard Ibn Abbas say: I asked Uthman ibn Affan: What moved you to put the (Surah) al-Baraah which belongs to the miin (surahs) (containing one hundred verses) and the (Surah) al-Anfal which belongs to the mathani (Surahs) in the category of as-sabu at-tiwal (the first long surah or chapters of the Quran), and you did not write In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful between them? Uthman replied: When the verses of the Quran were revealed to the Prophet ﷺ , he called someone to write them down for him and said to him: Put this verse in the surah in which such and such has been mentioned; and when one or two verses were revealed, he used to say similarly (regarding them). (Surah) al-Anfal is the first surah that was revealed at Madina, and (Surah) al-Baraah was revealed last in the Quran, and its contents were similar to those of al-Anfal. I, therefore, thought that it was a part of al-Anfal. Hence I put them in the category of as-sabu at-tiwal (the seven lengthy surahs), and I did not write In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful between them.

Notes · وضاحت
١ ؎: مئین ان سورتوں کو کہتے ہیں جو سو (١٠٠) سے زیادہ آیتوں پر مشتمل ہوں۔ ٢ ؎: مثانی وہ سورتیں ہیں جو مئین سے چھوٹی ہیں۔ ٣ ؎: سبع طوال سے مراد بقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، انعام اور اعراف ہیں اور ساتویں کے بارے میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ وہ انفال اور براہ (دونوں ایک ساتھ) ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ سورة یونس ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ١٠ (٣٠٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٨١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٥٧، ٦٩) (ضعیف) (یزید الفارسی لین الحدیث ہیں )
787Sunan Abu Dawood

بسم اللہ کا بلند آواز سے پڑھنا

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ: فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الشَّعْبِيُّ، وَأَبُو مَالِكٍ، وَقَتَادَةُ، وَثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَتَّى نَزَلَتْ سُورَةُ النَّمْلِ هَذَا مَعْنَاهُ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے، اس میں ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا، اور آپ نے ہم سے بیان نہیں کیا کہ سورة برات انفال میں سے ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعبی، ابو مالک، قتادہ اور ثابت بن عمارہ نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے بسم الله الرحمن الرحيم نہیں لکھا یہاں تک کہ سورة النمل نازل ہوئی، یہی اس کا مفہوم ہے۔

The above mentioned tradition has been reported by ibn abbas through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: The Messenger of Allah ﷺ died, but he did not mention to us that surah al baraah ins a part of al-anfal. Abu Dawood said: Al-sha’bl, Abu Malik, Qatadah, and Thabit bin Umarah said: The prophet ﷺ did not write”In the name of Allah, the compassionate, the merciful” until Surah al-naml was revealed. This is the meaning of what they said. Further, this is a mursal traditional (omitting the name of the companion)

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٨١٩) (ضعیف )
788Sunan Abu Dawood

بسم اللہ کا بلند آواز سے پڑھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّورَةِ حَتَّى تَنَزَّلَ عَلَيْهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سورة کی حد و انتہا کو نہیں جان پاتے تھے، جب تک کہ بسم الله الرحمن الرحيم آپ پر نہ اتر جاتی، یہ ابن سرح کی روایت کے الفاظ ہیں۔

Ibn Abbas said: The prophet ﷺ did not distinguish between the two surahs until the words “In the name of Allah, the Compassionate, the merciful” was revealed to him. These are the words of Ibn al-sarh.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٤، ١٨٦٧٨) (صحیح )
789Sunan Abu Dawood

دوران نماز کوئی حادثہ پیش آجانے پر نماز میں تخفیف کی جاسکتی ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ اسے لمبی کروں پھر میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو اسے مختصر کردیتا ہوں، اس اندیشہ سے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں ۔

Abu Qatadah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: I stand up to pray and intend to prolong it; but when I hear the cry of a boy I shorten if for fear that his mother might be distressed.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٦٥ (٧٠٧)، ١٦٣ (٨٦٨)، سنن النسائی/الإمامة ٣٥ (٨٢٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٩ (٩٩١)، (تحفة الأشراف: ١٢١١٠)، وقد أخرجہ: (حم ٥/٣٠٥) (صحیح )
796Sunan Abu Dawood

نماز میں ثواب کم ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْصَرِفُ وَمَا كُتِبَ لَهُ إِلَّا عُشْرُ صَلَاتِهِ تُسْعُهَا ثُمْنُهَا سُبْعُهَا سُدْسُهَا خُمْسُهَا رُبْعُهَا ثُلُثُهَا نِصْفُهَا.

عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: آدمی (نماز پڑھ کر) لوٹتا ہے تو اسے اپنی نماز کے ثواب کا صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور آدھا ہی حصہ ملتا ہے ١ ؎۔

Jabir said: Muadh bin Jabal used to pray along with the prophet ﷺ ; then he returned and led us in prayer. Sometimes he (the narrator) said: then he returned and led his people in prayer. One night the prophet ﷺ delayed the prayer. Sometimes he (the narrator) mentioned the word “the night prayer”. Then Muadh prayed along with the Prophet ﷺ , then returned to his people and led them in prayer, and recited surah al-baqrah. A mane turned aside and prayed alone. The people said to him: Have you become a hypocrite, so and so? He replied: I did not become a hypocrite. He then came to the prophet ﷺ and said (to him): Messenger of Allah. Muadh prays along with you and then returns and leads us in prayers. We look after camels used for watering and work for by day. De came to us leading us In prayer, and he recited Surah al-Baqrah (in prayer). He (the prophet) said: Muadh, are you a trouble maker? Recite such an d such ; recite such and such (surahs) The narrator Abu al-zubair said (recite) “Glorify the name of the most high lord” (surah lxxxvii.) and “By the night when it covers over” (surah xcii.) we mentioned this to Amr. He said I think he mentioned it (the names of some surahs).

Notes · وضاحت
١ ؎: جب نماز کے شرائط، ارکان یا خشوع و خضوع میں کسی طرح کی کمی ہوتی ہے تو پوری نماز کا ثواب نہیں لکھا جاتا بلکہ ثواب کم ہوجاتا ہے، بلکہ کبھی وہ نماز الٹ کر پڑھنے والے کے منھ پر مار دی جاتی ہے۔ جابر ؓ کہتے ہیں کہ معاذ ؓ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، نبی اکرم ﷺ نے ایک رات نماز دیر سے پڑھائی اور ایک روایت میں ہے: عشاء دیر سے پڑھائی، چناچہ معاذ بن جبل ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگ کہنے لگے: اے فلاں! تم نے منافقت کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں (اس لیے تھکے ماندے رہتے ہیں) معاذ نے آ کر ہماری امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی (یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے؟ فلاں اور فلاں سورة پڑھا کرو ۔ ابوزبیر نے کہا کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) : تم سبح اسم ربک الأعلى ، والليل إذا يغشى پڑھا کرو ، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکبری: کتاب السہو ١٣٠ (٦١٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٢١) (حسن ) انظر حدیث رقم: (٦٠٠)، (تحفة الأشراف: ٢٥٣٣) (صحیح )
790Sunan Abu Dawood

نماز کو ہلکا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَسَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا، قَالَ مَرَّةً: ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِهِ، فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ، وَقَالَ مَرَّةً: الْعِشَاءَ، فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَصَلَّى، فَقِيلَ: نَافَقْتَ يَا فُلَانُ، فَقَالَ: مَا نَافَقْتُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، وَإِنَّهُ جَاءَ يَؤُمُّنَا فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، اقْرَأْ بِكَذَا، اقْرَأْ بِكَذَا، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى. فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو، فَقَالَ: أُرَاهُ قَدْ ذَكَرَهُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ معاذ ؓ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، نبی اکرم ﷺ نے ایک رات نماز دیر سے پڑھائی اور ایک روایت میں ہے: عشاء دیر سے پڑھائی، چناچہ معاذ بن جبل ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگ کہنے لگے: اے فلاں! تم نے منافقت کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں (اس لیے تھکے ماندے رہتے ہیں) معاذ نے آ کر ہماری امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی (یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے؟ فلاں اور فلاں سورة پڑھا کرو ۔ ابوزبیر نے کہا کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) : تم سبح اسم ربک الأعلى ، والليل إذا يغشى پڑھا کرو ، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔

Hazm bin Ubayy bin Kaab said that he came to Muadh bin Jabal who was leading the people in the sunset prayer. According to this version, the Messenger of Allah ﷺ said: O Muadh, do not become a trouble, because the aged, the weak, the needy and the traveler pray behind you.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٦٠٠)، (تحفة الأشراف: ٢٥٣٣) (صحیح )
791Sunan Abu Dawood

نماز کو ہلکا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ حَزْمِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ أَتَى مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِقَوْمٍ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُعَاذُلَا تَكُنْ فَتَّانًا، فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالْمُسَافِرُ.

حزم بن ابی بن کعب سے اس واقعہ کے سلسلہ میں روایت ہے کہ وہ معاذ بن جبل ؓ کے پاس آئے، وہ لوگوں کو مغرب پڑھا رہے تھے، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے نہ بنو، کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے، کمزور، حاجت مند اور مسافر نماز پڑھتے ہیں ۔

Narrated Some Companions of the Prophet: Abu Salih reported on the authority of some Companions of the Prophet ﷺ : The Prophet ﷺ said to a person: what do you say in prayer? He replied: I first recite tashahhud (supplication recited in sitting position), and then I say: O Allah, I ask Thee for Paradise, and I seek refuge in Thee from Hell-Fire, but I do not understand your sound and the sound of Muadh (what you say or he says in prayer). The Prophet ﷺ said: We too go around it (paradise and Hell-fire).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٣٩٩) (منکر) (اس حدیث میں مسافر کا تذکرہ منکر ہے )
792Sunan Abu Dawood

نماز کو ہلکا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ: أَتَشَهَّدُ، وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ.

ایک صحابی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی سے پوچھا: تم نماز میں کون سی دعا پڑھتے ہو؟ ، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں اور کہتا ہوں: اللهم إني أسألک الجنة وأعوذ بک من النار اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، البتہ آپ اور معاذ کیا گنگناتے ١ ؎ ہیں اس کا مجھے صحیح ادراک نہیں ہوتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ہم بھی اسی ٢ ؎ (جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ) کے اردگرد پھرتے ہیں ۔

Jabir narrated the story of Muadh and said: The prophet ﷺ said to a youth: My nephew, what do you do in prayer? He replied: I recited fatihat al-katab and I ask Allah for paradise and seek his refuge from hell-fire I do not understand well your sound and the sound of Muadh. The prophet ﷺ said: I and Muadh go around both (paradise and Hell-fire), or he said something similar.

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں دندنہ کا لفظ آیا ہے، یعنی انسان کی آواز کی گنگناہٹ سنائی دے لیکن اس کے معنی و مطلب سمجھ میں نہ آئیں۔ وضاحت : حولها میں ها کی ضمیر اس آدمی کے قول کی طرف لوٹتی ہے، یعنی ہمارا اور معاذ کا کلام بھی تمہارے ہی کلام جیسا ہے، ان کا ماحصل بھی جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ مانگنا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، مسند احمد ٣/٤٧٤، (تحفة الأشراف: ١٥٥٦٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٦ (٩١٠) (صحیح )
793Sunan Abu Dawood

نماز کو ہلکا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، ذَكَرَ قِصَّةَ مُعَاذٍ، قَالَ: وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَتَى: كَيْفَ تَصْنَعُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ ؟ قَالَ: أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا دَنْدَنَتُكَ وَلَا دَنْدَنَةُ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي وَمُعَاذٌ حَوْلَ هَاتَيْنِ، أَوْ نَحْوَ هَذَا.

جابر ؓ معاذ ؓ کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس نوجوان سے پوچھا: میرے بھتیجے! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اس میں کیا پڑھتے ہو؟ ، اس نے کہا: میں (نماز میں) سورة فاتحہ پڑھتا ہوں، اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں، اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن مجھے آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ سمجھ میں نہیں آتی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور معاذ بھی انہی دونوں کے اردگرد ہوتے ہیں ، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی۔

Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: When one of you leads the people in prayer, he should be brief, for among them are the weak, the sick, and the aged. But when one of you prays by himself, he may pray as long as he likes.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٣٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٢) (صحیح )
794Sunan Abu Dawood

نماز کو ہلکا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ جماعت میں کمزور، بیمار اور بوڑھے لوگ ہوتے ہیں، البتہ جب تنہا نماز پڑھے تو اسے جتنی چاہے لمبی کرلے ۔

Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: when one of you leads the people in prayer, he should be brief, for among them are the sick, the aged and the needy.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٦٢ (٧٠٣)، سنن النسائی/الإمامة ٣٥ (٨٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٦٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٦٣ (٢٣٦)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٤ (١٣)، مسند احمد (٢ /٢٥٦، ٢٧١، ٣١٧، ٣٩٣، ٤٨٦، ٥٠٢، ٥٣٧) (صحیح )
795Sunan Abu Dawood

نماز کو ہلکا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ ان میں بیمار، بڑے بوڑھے، اور حاجت مند لوگ (بھی) ہوتے ہیں ۔

Ammar bin Yasir said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A man returns after saying his prayer while a tenth part of his prayer, or a ninth part, or an eight part, or a seventh part, or a sixth part, or a fifth part, or a third part, or half of it, is recorded for him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٣٠٤، ١٥٢٨٨) (صحیح )
797Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ مَيْمُونٍ، وَحَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ.

عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا: ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جیسے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بالجہر سنایا ہم نے بھی تمہیں (جہراً ) سنا دیا اور جسے آپ نے چھپایا ہم نے بھی اسے تم سے چھپایا ١ ؎۔

Abu Hurairah said: In every prayer there is a recitation. We make you listen what the Messenger of Allah ﷺ made us listen, and we keep hidden from you what he kept hidden from us.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس میں جہر نہیں کیا اسے آہستہ سے پڑھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٤١٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٠٤ (٧٧٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٤ (٩٧٠)، مسند احمد (٢/ ٢٥٨، ٢٧٣، ٢٨٥، ٣٠١، ٣٤٣، ٣٤٨، ٤١١، ٤١٦، ٤٣٥، ٤٨٧) (صحیح )
798Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْالْحَجَّاجِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَأَبِي سَلَمَةَ: ثُمَّ اتَّفَقَا عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِنَا، فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَتَيْنِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی ہمیں (ایک آدھ) آیت سنا دیتے تھے، اور آپ ظہر کی پہلی رکعت لمبی اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح صبح کی نماز میں کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے فاتحة الکتاب اور سورة کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Abu Qatadah said: The Messenger of Allah ﷺ used to lead us in prayer and recite in the first two rak’ahs of the noon prayers Fatihat al-kitab and two surahs, and he would sometimes recite loud enough for us to hear the verse. He would prolong the first rak’ah of the noon prayer and shorten the second; and he did so in the morning prayer. Abu Dawud said: Musaddad did not mention the words fatihat al-kitab and surah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٦ (٧٥٩)، ٩٧ (٧٦٢)، ١٠٧ (٧٧٦)، ١٠٩ (٨٨٧)، ١١٠ (٧٧٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥١)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٦(٩٧٥)، ٥٧(٩٧٦)، ٥٨ (٩٧٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨ (٨٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨٣، ٥/٢٩٥، ٢٩٧، ٣٠٠، ٣٠١، ٣٠٥، ٣٠٧، ٣٠٨، ٣١٠، ٣١١، ٣٨٣) (صحیح )
799Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، بِبَعْضِ هَذَا، وَزَادَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ: بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَزَادَ. عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطَوِّلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ.

اس سند سے ابوقتادہ ؓ سے گزشتہ حدیث کے بعض حصے مروی ہیں، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ پچھلی دونوں رکعتوں میں (صرف) سورة فاتحہ پڑھتے تھے اور حسن بن علی نے بواسطہ يزيد بن هارون عن همام اتنی زیادتی اور کی ہے کہ آپ پہلی رکعت اتنی لمبی کرتے جتنی دوسری نہیں کرتے تھے اور اسی طرح عصر میں اور اسی طرح فجر میں (بھی کرتے تھے) ۔

The above mentioned tradition as been reported by Abu Qatadah through a different chain of narrators. This version adds: He would recite Fatihat al-kitab in the last two surahs. Hammam added: He would prolong the first rak’ah but would not prolong the second so much; and he did so similarly in the afternoon prayer, and so in the morning prayer.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٨) (صحیح )
800Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يُدْرِكَ النَّاسُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ ﷺ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ لوگ پہلی رکعت پاجائیں۔

Abu Qatadah said: We thought that by this (prolonging the first rak’ah). He (the prophet) meant that the people might join the first rak’ah.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٩٨، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٨) (صحیح )
801Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ: قُلْنَالِخَبَّابٍهَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا: بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ.

ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم نے خباب ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ظہر و عصر میں قرآت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں (قرآت کرتے تھے) ، ہم نے کہا: آپ لوگوں کو یہ بات کیسے معلوم ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی کے ہلنے سے ١ ؎۔

Abu Mamar said: We asked Khabbab (RA) : Did the Messenger of Allah ﷺ recit (the Quran) in the noon and afternoon prayers? He replied: Yes. We then asked: How did you know this? He said: By the shaking of his beard, may peace be upon him.

Notes · وضاحت
١ ؎: امام بیہقی نے اس حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ سری قرات میں یہ ضروری ہے کہ آدمی خود کو سنا سکے کیونکہ اضطراب لحية زبان اور دونوں ہونٹ ہلے بغیر ممکن نہیں اگر آدمی اپنے دونوں ہونٹ بند رکھے اور صرف زبان ہلائے تو داڑھی نہیں ہل سکتی اور قرات خود کو نہیں سنا سکتا (فتح الباری، حدیث: ٧٦٠ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩١ (٧٤٦)، ٩٦ (٧٦٠)، ٩٧، ١٠٨ (٧٧٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧ (٨٢٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠٩، ١١٠، ١١٢، ٦/٣٩٥) (صحیح )
802Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لَا يُسْمَعَ وَقْعُ قَدَمٍ.

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ظہر کی پہلی رکعت میں اتنی دیر تک قیام کرتے تھے کسی قدم کی آہٹ نہیں سنی جاتی ١ ؎۔

Abdullah bin Abl Awfa said: The prophet ﷺ used to stand in the rak’ah of prayer so much so that no sound of steps heard.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جماعت میں آنے والے سب آ چکے ہوتے کوئی باقی نہیں رہتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداو، (تحفة الأشراف: ٥١٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٦) (ضعیف) (اس کی سند میں رجل مبہم راوی ہیں )
803Sunan Abu Dawood

آخر کی دو رکعتوں میں مختصر قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ: قَدْ شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے سعد ؓ سے کہا: لوگوں (یعنی اہل کوفہ) نے آپ کی ہر چیز میں شکایت کی ہے حتیٰ کہ نماز کے بارے میں بھی، سعد ؓ نے کہا: میں پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتا ہوں اور پچھلی دونوں رکعتیں مختصر پڑھتا ہوں، میں رسول اللہ ﷺ (کے طریقہ نماز کی) پیروی کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا اس پر عمر ؓ نے کہا: مجھے آپ سے یہی توقع تھی۔

Jabir bin Samurah reported: Umar said to Saad (RA) : people complain against you for everything, even for prayer. He replied: I prolong the first two rak’ahs of prayer and make the last two rak’ahs brief; I do not fall short of following the prayer offered by the Messenger of Allah ﷺ . He said: I think so about you.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٥ (٧٥٥)، ١٠٣ (٧٧٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٤ (١٠٠٣)، (تحفة الأشراف: ٣٨٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٥، ١٧٦، ١٧٩، ١٨٠) (صحیح )