جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا (عمرو کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی نماز تھی؟ ) آپ ﷺ نے تین تین بار فرمایا: الله أكبر کبيرا الله أكبر کبيرا الله أكبر کبيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا و سبحان الله بكرة وأصيلا اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، اور فرمایا: أعوذ بالله من الشيطان من نفخه ونفثه وهمزه میں شیطان کے کبر و غرور، اس کے اشعار و جادو بیانی اور اس کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں ۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: اس کا نفث شعر ہے، اس کا نفخ کبر ہے اور اس کا همز جنون یا موت ہے۔
Narrated Jubayr ibn Mutim: Jabir saw the Messenger of Allah ﷺ observing prayer. (The narrator Amr said: I do not know which prayer he was offering.) He (the Prophet) said: Allah is altogether great; Allah is altogether great; Allah is altogether great; and praise be to Allah in abundance; and praise be to Allah is abundance; and praise be to Allah in abundance. Glory be to Allah in the morning and after (saying it three times). I seek refuge in Allah from the accursed devil, from his puffing up (nafkh), his spitting (nafth) and his evil suggestion (hamz). He (Amr) said: His nafth it poetry, his nafkh is pride, and his hamz is madness.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢ (٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٣١٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٨٠، ٨٣، ٨٥، ٤/٨٠، ٨٢، ٨٥) (ضعیف) (اس کے ایک راوی عاصم کے نام میں بہت اختلاف ہے، تو گویا وہ مجہول ہوئے، ابن حجر نے ان کو لین الحدیث کہا ہے )
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو نفل نماز میں کہتے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
The above mentioned tradition has also been reported by Jubair bin Mutim through a different chain of narrators. This version adds: I head the Prophet ﷺ uttering (all these supplications) in a supererogatory prayer; he narrated the tradition in a similar manner.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣١٩٩) (ضعیف) (اس کے ایک راوی رجل مبہم ہیں، یہ وہی عاصم ہیں )
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ قیام اللیل (تہجد) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دس بار الله اکبر ، دس بار الحمد الله ، دس بار سبحان الله ، دس بار لا إله إلا الله ، اور دس بار استغفر الله کہتے اور یہ دعا کرتے: اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ ، پھر قیامت کے دن (سوال کے لیے) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پناہ مانگتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن معدان نے ربیعہ جرشی سے ربیعہ نے ام المؤمنین عائشہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Asim ibn Humayd said: I asked Aisha (RA) : By what words the Messenger of Allah ﷺ would begin his supererogatory prayer at night? She replied: You ask me about a thing of which no one asked me before you. When he stood up, be uttered the takbir (Allah is most great) ten times, and uttered Praise be to Allah ten times, and uttered Glory be to Allah ten times, and uttered There is no god but Allah ten times, and sought forgiveness ten times, and said: O Allah, forgive me, and guide me, and give me sustenance, and keep me well, and he sought refuge in Allah from the hardship of standing before Allah on the Day of Judgment. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Khalid bin Madan from Rabiah al-Jarashi on the authority of Aisha (RA) .
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٩ (١٦١٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٠ (١٣٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٢، ١٦١٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٣)، ویأتي عند المؤلف برقم: (٥٠٨٥) (حسن صحیح )
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: اللہ کے نبی کریم ﷺ جب قیام اللیل (تہجد) کے لیے اٹھتے تو اپنی نماز کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ قیام اللیل کرتے تو اپنی نماز اس دعا سے شروع کرتے تھے: اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحکم بين عبادک فيما کانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك أنت تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم اے اللہ! جبرائیل و میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے! غیب اور ظاہر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا، جن چیزوں میں اختلاف کیا گیا ہے، ان میں اپنی مرضی سے حق کی طرف میری رہنمائی کر، بیشک تو جسے چاہتا ہے اسے سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔
Abu Salamah bin Abdur-Rahman bin Awf said: I asked Aisha (RA) : By what words the Prophet ﷺ used to begin his prayer when he stood up at night (to offer tahajjud prayer). She said: When he stood up at night, he began his prayer by saying: O Allah, Lord of Jibra’il, Lord of Mik’ail, and Lord of Israfil, Creator of the Heavens and the Earth, the Knower of what is seen and of what is unseen; Thou decides between Thy servants in which they used to differ. Guide me to the truth where there is a difference of opinion by Thy permission. Thou guidest anyone Thou wishes to the right path.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/صلاة المسافرین ٢٦ (٧٧٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٣١ (٣٤٢٠)، سنن النسائی/قیام اللیل ١١ (١٦٢٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٠ (١٣٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥٦) (حسن )
اس طریق سے بھی عکرمہ سے اسی سند سے اسی معنی کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے جب آپ رات میں (نماز کے لیے) کھڑے ہوتے تو الله اکبر کہتے اور یہ دعا پڑھتے۔
The above mentioned tradition has been reported by ‘Ikramah with a different chain of narrators. This version adds: When he stood up, he said the takbir (Allah is most great) and said. . . .
رفاعہ بن رافع زرقی ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر سمع الله لمن حمده کہا تو آپ ﷺ کے پیچھے ایک آدمی نے اللهم ربنا ولک الحمد حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه کہا، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ابھی ابھی یہ کلمات کس شخص نے کہے ہیں؟ ، اس آدمی نے کہا: میں نے، اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا جو ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون پہلے ان کلمات کو لکھے ۔
Rifaah bin Rafi said: One day we were praying behind the Messenger of Allah ﷺ . When the Messenger of Allah ﷺ raised his head after bowing, he said: Allah listened to him who praised Him. A man behind the Messenger of Allah ﷺ said: O Allah, Our Lord, and to Thee be praise, much praise, good and blessed. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he asked: Which of you if the one who spoke (the words) just now. The man said: I (uttered) these words, Prophet of Allah. The Messenger of Allah ﷺ said: I saw more than thirty angels racing against one another to be the one to write them first.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٢٦ (٧٩٩)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٦ (٩٣٢)، التطبیق ٢٢ (١٠٦٣)، (تحفة الأشراف: ٣٦٠٥)، موطا امام مالک/القرآن ٧ (٢٥)، مسند احمد (٤/٣٤٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٨٤ (٤٠٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:اللهم لک الحمد أنت نور السموات والأرض ولک الحمد أنت قيام السموات والأرض ولک الحمد أنت رب السموات والأرض ومن فيهن أنت الحق وقولک الحق ووعدک الحق ولقاؤك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق اللهم لك أسلمت وبک آمنت وعليك توکلت وإليك أنبت وبک خاصمت وإليك حاکمت فاغفر لي ما قدمت وأخرت وأسررت وأعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت اے اللہ! تیرے لیے حمد و ثنا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، تیرے لیے حمد و ثنا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے، تیرے لیے حمد و ثنا ہے، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، سب کا رب ہے، تو حق ہے، تیرا قول حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تجھ سے ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے، اے اللہ! میں تیرا فرماں بردار ہوا، تجھ پر ایمان لایا، صرف تجھ پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف توبہ کی، تیرے ہی لیے جھگڑا کیا، اور تیری ہی طرف فیصلہ کے لیے آیا، تو میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے سارے گناہ معاف فرما، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔
Ibn Abbas said: When the Messenger of Allah ﷺ stood up for praying at midnight, he said: o Allah, be praise to Thee, Thou art the light of the heavens and the earth; and to Thee be praise; Thou are the maintainer of the heavens and the earth; and to Thee be praise, Thou art the heavens and the earth and what is between them; Thou art the truth, and Thy statement is truth; and Thy promise is the truth; and the visitation with Thee is true; and the Paradise is true and the Hell-fire is true and the Hour is true; O Allah, to Thee I turned my attention, and by Thee I disputed, and to Thee I brought forth my case, so forgive me my former and latter sins, and my secret and open sins, Thou art my deity, there is no deity but Thou.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تہجد میں الله اکبر کہنے کے بعد دعا فرماتے تھے پھر انہوں نے اسی معنی کی حدیث ذکر کی۔
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ used to say in his tahajjud prayer (i. e. supererogatory prayer offered in or after the midnight) after he said the takbir; he then narrated the tradition to the same effect.
رفاعہ بن رافع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، مجھ کو (رفاعہ) کو چھینک آئی۔ اور قتیبہ نے اپنی روایت میں رفاعة کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ تو میں نے یہ دعا پڑھی: الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه مبارکا عليه كما يحب ربنا ويرضى اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، ایسی تعریف جو پاکیزہ، بابرکت اور پائیدار ہو، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے ، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مڑے اور پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ ، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے ہم مثل اور اس سے زیادہ کامل روایت ذکر کی۔
Narrated Rifaah ibn Rafi (RA) : I offered prayer behind the Messenger of Allah ﷺ . Rifaah sneezed. The narrator Qutaybah did not mention the name Rifaah (but he said: I sneezed). So I said: Praise be to Allah, praise much, good and blessed therein, blessed thereupon, as our Lord likes and is pleased. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he turned and said: Who was the speaker in prayer? He then narrated the rest of the tradition like that of Malik and completed it.
عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے حالت نماز میں ایک انصاری نوجوان کو چھینک آگئی، تو اس نے کہا: الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه حتى يرضى ربنا وبعد ما يرضى من أمر الدنيا والآخرة اللہ کے لیے بہت بہت تعریف ہے، ایسی تعریف جو پاکیزہ اور بابرکت ہو، یہاں تک کہ ہمارا رب خوش و راضی ہوجائے اور دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اس کے خوش ہوجانے کے بعد بھی یہ حمد و ثنا برقرار رہے ، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ کلمات کس نے کہے؟ ، عامر بن ربیعہ کہتے ہیں: نوجوان انصاری خاموش رہا، آپ ﷺ نے پھر پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے؟ جس نے بھی کہا ہے اس نے برا نہیں کہا ، تب اس نوجوان نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کلمات میں نے کہے ہیں، میری نیت خیر ہی کی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کلمات عرش الٰہی کے نیچے نہیں رکے (بلکہ رحمن کے پاس پہنچ گئے) ۔
Rabiah said: A young man from the Ansar sneezed behind the Messenger of Allah ﷺ while he was praying. He then said: Praise be to Allah, much, good, blessed, till our Lord is pleased (with us) in the affairs relating to this world and to the other world. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he said: Who was the speaker of these words (in prayer)? The young man kept silence. He again asked: Who was the speaker of these words? He did not say wrong. He said: Messenger of Allah, I said these (words). I did not intend by them but good. He said: These words did not stay below the Throne of the Compassionate (Allah).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٠٣٨) (ضعیف) (اس کے دو راوی شریک اور عاصم ضعیف ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو (نماز کے لیے) کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالى جدک ولا إله غيرك یعنی اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، ہم تیری حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، تیرا نام بابرکت اور تیری ذات بلند و بالا ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں پھر تین بار لا إله إلا الله کہتے، پھر تین بار الله أكبر کبيرا کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه پھر قرآن کی تلاوت کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حدیث علی بن علی سے بواسطہ حسن مرسلاً مروی ہے اور یہ وہم جعفر کا ہے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ got up to pray at night (for tahajjud prayer) he uttered the takbir and then said: Glory be to Thee, O Allah, and Praise be to Thee and Blessed is Thy name, and Exalted is Thy greatness. and There is no god but Thee. He then said: There is no god but Allah three times; he then said: Allah is altogether great three times: I seek refuge in Allah, All-Hearing and All-Knowing from the accursed devil, from his evil suggestion (hamz), from his puffing up (nafkh), and from his spitting (nafth) He then recited (the Quran). Abu Dawud said: It is said that this tradition has been narrated by Ali bin Abi from al-Hasan omitting the name of the Companion of the Prophet ﷺ . The misunderstanding occurred on the part of Jafar.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٦٥ (٢٤٢)، سنن النسائی/الافتتاح ١٨ (٩٠١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١ (٨٠٤)، (تحفة الأشراف: ٤٢٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٠، ٦٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٣ (١٢٧٥) (صحیح) (یہ حدیث اور اگلی حدیث متابعات و شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہیں، ورنہ خود ان کی سندوں میں کچھ کلام ہے جسے مؤلف نے بیان کردیا ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالى جدک ولا إله غيرك پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالسلام بن حرب سے مروی یہ حدیث مشہور نہیں ہے کیونکہ اسے عبدالسلام سے طلق بن غنام کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور نماز کا قصہ بدیل سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا (یعنی: افتتاح کے وقت اس دعا کے پڑھنے کی بابت) ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ began his prayer, he said: Glory be to Thee, O Allah, and Praise be to Thee and Blessed is Thy name, and Exalted is Thy greatness, sand there is no god but Allah. Abu Dawud said: This tradition is not well known from Abd al-Salam bin Harb. No one narrated this except Talq bin Ghannam. A group of narrators reported the description of prayer from (the narrator) Budail; they did not mention therein this supplication.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٦٧ (٢٦٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١ (٨٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٤١) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ مجھے نماز میں دو سکتے یاد ہیں: ایک امام کے تکبیر تحریمہ کہنے سے، قرأت شروع کرنے اور دوسرا جب فاتحہ اور سورت کی قرأت سے فارغ ہو کر رکوع میں جانے کے قریب ہوا، اس پر عمران بن حصین ؓ نے اس کا انکار کیا، تو لوگوں نے اس سلسلے میں مدینہ میں ابی بن کعب ؓ کو خط لکھا، تو انہوں نے سمرہ کی تصدیق کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حمید نے بھی اس حدیث میں اسی طرح کہا ہے کہ دوسرا سکتہ اس وقت کرتے جب آپ قرآت سے فارغ ہوتے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : I remember two period of silence in prayer, one when the imam said the takbir; and one when he finished reciting the Fatihah and the surah when he was about to bow. But Imran ibn Husayn took it as something strange. So they wrote about it to Ubayy (ibn Kab) in Madina. He verified the statement of Samurah. Abu Dawud said: Humaid also narrated in this tradition the words and one period silence when he finished the recitation (of the Quran)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٧٤ (٢٥١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢ (٨٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٦٠٩)، مسند احمد (٥/١١، ٢١، ٢٣) (ضعیف) (حسن بصری نے سمرہ ؓ سے عقیقہ کی حدیث کے سوا اور کوئی حدیث نہیں سنی ہے، نیز وہ مدلس ہیں )
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دو سکتے کرتے: ایک جب نماز شروع کرتے اور دوسرا جب قرآت سے پورے طور سے فارغ ہوجاتے، پھر راوی نے یونس کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Samurah bin Jundub said: The Prophet ﷺ had two periods of silence; when he began his prayer and when he finished the recitation (of the Quran). He then narrated the tradition like the version of Yunus.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٥٧٦)، مسند احمد (٥/١٥، ٢٠، ٢١، ٢٢) (ضعیف) (گذشتہ حدیث ملاحظہ فرمائیں )
حسن سے روایت ہے کہ سمرہ بن جندب اور عمران بن حصین ؓ نے آپس میں (سکتہ کا) ذکر کیا تو سمرہ بن جندب ؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دو سکتے یاد رکھے ہیں: ایک سکتہ اس وقت جب آپ تکبیر تحریمہ کہتے اور دوسرا سکتہ جب آپ ﷺ غير المغضوب عليهم ولا الضالين ١ ؎ کی قرآت سے فارغ ہوتے، ان دونوں سکتوں کو سمرہ نے یاد رکھا، لیکن عمران بن حصین نے اس کا انکار کیا تو دونوں نے اس کے متعلق ابی بن کعب ؓ کو خط لکھا تو انہوں نے ان دونوں کے خط کے جواب میں لکھا کہ سمرہ ؓ نے (ٹھیک) یاد رکھا ہے۔
Narrated Samurah ibn Jundub; Ubayy ibn Kab (RA) : Samurah ibn Jundub and Imran ibn Husayn had a discussion (about the periods of silence in prayer). Samurah then said that he remembered two periods of silence from the Messenger of Allah ﷺ ; one when he uttered the takbir and the other when he finished reciting: Not of those with whom Thou art angry, nor of those who go astray (i. 7). Samurah remembered that, but Imran ibn Husayn rejected it. Then they wrote about it to Ubayy ibn Kab. He wrote a letter to them and gave a reply to them that Samurah remembered correctly.
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة الفاتحة: (٧ )
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٧٧٧)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٩، ٤٦٠٩) (ضعیف )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، سعید کہتے ہیں: ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جب آپ ﷺ نماز میں داخل ہوتے اور جب آپ قرات سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا: جب آپ ﷺ غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہہ لیتے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : I remember from the Messenger of Allah ﷺ two periods of silence. Saeed said: We asked Qatadah (RA) : What are those two periods of silence? He said: (one) when he began his prayer, and (one) when he finished the recitation. Then he added: When he finished reciting (the closing verse of the Fatihah): Not of those with whom Thou art angry, nor of who go astray.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے تو تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان (تھوڑی دیر) خاموش رہتے تو میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان آپ جو سکتہ کرتے ہیں، مجھے بتائیے آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم أنقني من خطاياى کا لثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني بالثلج والماء والبرد اے اللہ! جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے اسی طرح میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری فرما دے، اے اللہ! تو مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک و صاف کر دے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو برف پانی اور اولوں سے دھو دے ۔
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ kept silence between the takbir and the recitation of Quran. So I asked him, for whom I would give my father and mother as ransom: What do you say during you period of silence between the takbir and the recitation? He replied (that he said): O Allah, purify me from sins as a white garment is purified from filth. O Allah, wash away my sings with snow, water and hail.
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ، ابوبکر ؓ، عمر ؓ اور عثمان ؓ عنہ الحمد لله رب العالمين سے قرآت شروع کرتے تھے۔
Anas said: The Prophet (peace be upon hm), Abu Bakr, Umar and Uthman used to begin the recitation with “Praise be to Allah, the Lord of the Universe. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٨٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٨٩ (٧٤٣)، صحیح مسلم/الصلاة ١٣ (٣٩٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٦٨ (٢٤٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٠ (٩٠٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤ (٨١٣)، موطا امام مالک/الصلاة ٦ (٣٠)، مسند احمد (٣/١٠١، ١١١، ١١٤، ١٨٣، ٢٧٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٤ (١٢٧٦) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز کو تکبیر تحریمہ الله اکبر اور الحمد لله رب العالمين کی قرآت سے شروع کرتے تھے، اور جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے اور نہ اسے جھکائے رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ بالکل سیدھے بیٹھ جاتے، اور ہر دو رکعت کے بعد التحيات پڑھتے، اور جب بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور اپنا داہنا پاؤں کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے ١ ؎ سے اور درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے ٢ ؎ سے منع کرتے اور نماز سلام سے ختم کرتے۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ began prayer with the takbir (Allah is most great) and with reciting “Praise be to Allah, the Lord of the Universe”. And when he bowed, he neither raised up nor lowered down his head, but kept it between the two (conditions). And when he raised his head after bowing, he did not prostrate himself until he stood up straight; and when he raised his head after prostration, he did not prostrate (the second time) until he sat down properly; and he recited al-tahiyyat after every pair of rak’ahs; and when he sat, he spread out his left foot and raised his right. He forbade to sit like the sitting of the devil, and to spread out to hands (on the ground in prostration) like animals. He used to finish prayer with uttering the salutation.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد شیطان کی مانند دونوں قدموں کا گاڑ کر ایڑیوں پر بیٹھنا ہے تشہد میں یہ بیٹھک حرام ہے جبکہ دونوں سجدوں کے درمیان اس طرح کی بیٹھک مسنون و مشروع ہے۔ ٢ ؎: اس سے مراد سجدہ میں دونوں ہاتھوں کو زمین پر بچھانا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٦ (٤٩٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤ (٨١٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣١، ١١٠، ١٧١، ١٩٤، ٢٨١)، سنن الدارمی/الصلاة ٣١ (١٢٧٢) (صحیح )