Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 38 of 265

744Sunan Abu Dawood

خالی ہے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ، قَالَ أَبُو دَاوُد فِي حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ حِينَ وَصَفَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے اور جب اپنی قرآت پوری کر چکتے اور رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور آپ ﷺ بیٹھنے کی حالت میں کبھی بھی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ نہیں اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر (تیسری) کے لیے اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور الله اکبر کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوحمید ساعدی ؓ کی حدیث میں ہے کہ جس وقت انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی نماز کی کیفیت بیان کی تو کہا: جب آپ ﷺ دونوں رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو الله اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرلیتے جیسا کہ آپ ﷺ نماز شروع کرتے وقت الله اکبر کہتے وقت کرتے تھے ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: When the Messenger of Allah ﷺ stood for offering the obligatory prayer, he uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands opposite to his shoulders; and he did like that when he finished recitation (of the Quran) and was about to bow; and he did like that when he rose after bowing; and he did not raise his hands in his prayer while he was in his sitting position. When he stood up from his prostrations (at the end of two rakahs), he raised his hands likewise and uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands so as to bring them up to his shoulders, as he uttered the takbir in the beginning of the prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٧١)، سنن الترمذی/الدعوات ٣٢ (٣٤٢١، ٣٤٢٢، ٣٤٢٣)، سنن النسائی/الافتتاح ١٧(٨٩٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥(٨٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٢٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٤(١٦)، مسند احمد (١/٩٣) سنن الدارمی/الصلاة ٣٣ (١٢٧٤) (حسن صحیح )
745Sunan Abu Dawood

خالی ہے

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يَبْلُغَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ.

مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے جب آپ تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کی لو تک لے جاتے۔

Malik bin al-Huwairith said: I saw the Prophet ﷺ raise his hands when he uttered the takbir (Allah is most great), when he bowed and when he raised his head after bowing until he brought them to the lobes of his ears.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٩ (٣٩١)، سنن النسائی/الافتتاح ٤ (٨٨١)، ٨٥ (١٠٢٥)، التطبیق ١٨(١٠٥٧)، ٣٦ (١٠٨٦)، ٨٤ (١١٤٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥ (٨٥٩)، (تحفة الأشراف: ١١١٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٨٤ (٧٣٧)، مسند احمد (٣/٤٣٦، ٤٣٧، ٥/٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٤١ (١٢٨٦) (صحیح )
746Sunan Abu Dawood

خالی ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى، عَنْ عِمْرَانَ، عَنْ لَاحِقٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَلَوْ كُنْتُ قُدَّامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَأَيْتُ إِبِطَيْهِ، زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: يَقُولُ لَاحِقٌ: أَلَا تَرَى أَنَّهُ فِي الصَّلَاةِ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَكُونَ قُدَّامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَزَادَ مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ يَعْنِي: إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ.

بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا: اگر میں نبی اکرم ﷺ کے آگے ہوتا تو (رفع یدین کرتے وقت) آپ کی بغل دیکھ لیتا۔ عبیداللہ بن معاذ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ لاحق (ابومجلز) کہتے ہیں: کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ نماز میں تھے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے آگے نہیں ہوسکتے تھے، ابوداؤد کے شیخ موسیٰ بن مروان رقی نے یہ اضافہ کیا یعنی جب آپ ﷺ تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : If I were in front of the Prophet ﷺ , I would see his armpits. Ibn Muadh added that Lahiq said: Do you not see, Abu Hurairah could not stand in front of the Prophet ﷺ while he was praying. Musa added: When he uttered the takbir, he raised his hands.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٥١ (١١٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١٥) (صحیح )
747Sunan Abu Dawood

خالی ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا، يَعْنِي الْإِمْسَاكَ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی اور رفع یدین کیا، پھر جب آپ ﷺ رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ ملا کر آپ نے انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لیا، جب یہ خبر سعد بن ابی وقاص ؓ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: سچ کہا میرے بھائی (عبداللہ بن مسعود ؓ) نے، پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر آپ ﷺ نے ہمیں اس کا یعنی دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کے پکڑنے کا حکم دیا۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ taught us how to pray. He then uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands; when he bowed, he joined his hands and placed them between his knees. When this (report) reached Saad, he said: My brother said truly. We used to do this; then we were later on commanded to do this, that is, to place the hands on the knees.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ١ (١٠٣٢)، (تحفة الأشراف: ٣٩٠٧، ٩٤٦٩) (صحیح )
748Sunan Abu Dawood

رکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَلَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ.

علقمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ پڑھاؤں؟ علقمہ کہتے ہیں: پھر ابن مسعود ؓ نے نماز پڑھائی، تو رفع یدین صرف ایک بار (نماز شروع کرتے وقت) کیا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک طویل حدیث سے ماخوذ ایک مختصر ٹکڑا ہے، اور یہ حدیث اس لفظ کے ساتھ صحیح نہیں۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Alqamah said: Abdullah ibn Masud said: Should I pray in the way the Messenger of Allah ﷺ had performed it? He said: He prayed, raising his hands only once.

Notes · وضاحت
١ ؎: ائمہ حدیث: احمد، ابن مبارک، بخاری، رازی ابوحاتم، دارقطنی اور ابن حبان نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے، لیکن ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور ابن حزم نے صحیح کہا ہے، نیز یہ حدیث ان احادیث صحیحہ کثیرہ کے معارض نہیں ہے جن سے رکوع وغیرہ میں رفع یدین ثابت ہے اس لئے کہ رفع یدین مستحب ہے فرض یا واجب نہیں ہے، دوسرے یہ کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے یاد نہ رکھنے سے یہ لازم نہیں کہ دوسرے صحابہ کرام کی روایات غلط ہوں، کیونکہ کبار صحابہ نے رفع یدین نقل کیا ہے جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں، عبداللہ بن مسعود ؓ سے بعض مسائل مخفی رہ گئے تھے، ہوسکتا ہے یہ بھی انہیں میں سے ہو جیسے جنبی کے تیمم کا مسئلہ ہے یا تطبیق (یعنی رکوع میں دونوں ہاتھ کو گھٹنے پر نہ رکھ کر دونوں کے بیچ میں رکھنا) کے منسوخ ہونے کا معاملہ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٧٩ (٢٥٧)، سنن النسائی/الافتتاح ٨٧ (١٠٢٧)، التطبیق ٢٠ (١٠٥٩)، (تحفة الأشراف: ٩٤٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤١)، وقد أخرجہ البخاري في رفع الیدین (٣٢) (صحیح )
749Sunan Abu Dawood

رکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو حُذَيْفَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَرَّةً وَاحِدَةً.

براء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے قریب تک اٹھاتے تھے پھر دوبارہ ایسا نہیں کرتے تھے۔

This tradition has also been transmitted by Sufyan through a different chain of narrators. This version has: He raised his hands once in the beginning. Some narrated: (raised his hands) once only.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٢، ٣٠١، ٣٠٢، ٣٠٣) (ضعیف) (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں آخر عمر میں ان کا حافظہ خراب ہوگیا تھا، کبھی لایعود کے ساتھ روایت کرتے تھے اور کبھی بغیر اس کے، اس لئے ان کی روایت کا اعتبار نہیں )
750Sunan Abu Dawood

رکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُودُ.

اس طریق سے بھی یزید سے شریک ہی کی حدیث کی طرح حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے ثم لا يعود (پھر ایسا نہیں کرتے تھے) کا لفظ نہیں کہا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اس کے بعد ہم سے یزید نے کوفہ میں ثم لا يعود کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشیم، خالد اور ابن ادریس نے یزید سے روایت کیا ہے، ان لوگوں نے ثم لا يعود کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Narrated Al-Bara ibn Azib: When the Messenger of Allah ﷺ began prayer, he raised his hands up to his ears, then he did not repeat.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٥) (ضعیف) (گذشتہ حدیث ملاحظہ فرمائیں )
751Sunan Abu Dawood

رکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ، نَحْوَ حَدِيثِ شَرِيكٍ، لَمْ يَقُلْ: ثُمَّ لَا يَعُودُ، قَالَ سُفْيَانُ، قَالَ لَنَا بِالْكُوفَةِ بَعْدُ: ثُمَّ لَا يَعُودُ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ لَمْ يَذْكُرُوا: ثُمَّ لَا يَعُودُ.

اس طریق سے بھی سفیان سے یہی حدیث گذشتہ سند سے مروی ہے، اس میں ہے کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلی دفعہ اٹھایا ، اور بعض لوگوں کی روایت میں ہے کہ ایک بار اٹھایا ۔

This tradition has been narrated by Sufyan through a different chain of transmitters. This version does not have the words “then he did not repeat”. Sufyan said: The words “then he did not repeat“ were narrated to us later on at Kufah by him (Yazid). Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Hushaim, Khalid, and Ibn Idris from Yazid. They did not mention the words “then he did not repeat”

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٧٤٨)، (تحفة الأشراف: ٩٤٦٨) (صحیح )
752Sunan Abu Dawood

رکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْهُمَا حَتَّى انْصَرَفَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِصَحِيحٍ.

براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی، پھر آپ ﷺ نے انہیں نہیں اٹھایا یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوگئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔

Narrated Al-Bara ibn Azib: I saw that the Messenger of Allah ﷺ raised his hands when he began prayer, but he did not raise them until he finished (prayer). Abu Dawud said: This tradition is not sound.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٦) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن ابی لیلی ضعیف ہیں )
753Sunan Abu Dawood

رکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ لمبے کر کے اٹھاتے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ began his prayer, he raised his hands extensively.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٦٣ (٢٤٠)، سنن النسائی/الافتتاح ٦ (٨٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧٥، ٤٣٤، ٥٠٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٢ (١٢٧٣) (صحیح )
754Sunan Abu Dawood

نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْر، يَقُولُ: صَفُّ الْقَدَمَيْنِ وَوَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْيَدِ مِنَ السُّنَّةِ.

زرعہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابن زبیر ؓ کو کہتے سنا: دونوں قدموں کو برابر رکھنا، اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔

zurah bin Abdur-Rahman said: I heard Ibn al-Zubair say: Setting the feet right and placing one hand on the other is a sunnah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٢٦٠) (ضعیف) (اس کے راوی زرعہ لین الحدیث ہیں )
755Sunan Abu Dawood

نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں (اس کیفیت میں) دیکھا تو آپ نے ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Abu Uthman an-Nahdi said: When Ibn Masud prayed he placed his left hand on the right. The Prophet ﷺ saw him and placed his right hand on his left one.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ١٠ (٨٨٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣ (٨١١)، (تحفة الأشراف: ٩٣٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٤٧) (حسن )
756Sunan Abu Dawood

نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ.

ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ علی ؓ کا کہنا ہے کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: Abu Juhayfah said: Ali said that it is a sunnah to place one hand on the other in prayer below the navel.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٣١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١١٠) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی متروک ہیں )
757Sunan Abu Dawood

نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ يَعْنِي ابْنَ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ ابْنِ جَرِيرٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُمْسِكُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ عَلَى الرُّسْغِ فَوْقَ السُّرَّةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَوْقَ السُّرَّةِ، قَالَ أَبُو مِجْلَزٍ: تَحْتَ السُّرَّةِ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.

جریر ضبیی کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا پہنچا (گٹا) پکڑے ہوئے ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید بن جبیر سے فوق السرة (ناف کے اوپر) مروی ہے اور ابومجلز نے تحت السرة (ناف کے نیچے) کہا ہے اور یہ بات ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے لیکن یہ قوی نہیں۔

Jarir ad-Dabbi reported: I saw Ali (Allah be pleased with him) catching hold of his left hand) by his right hand on the wrist above the navel. Abu Dawud said: Saeed bin Jubair narrated the words: above the navel. Abu Mijlaz reported the words: below the navel. This has also been narrated by Abu Hurairah. But that is not strong.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٠٣٠) (ضعیف) (اس کے راوی جریر ضبّی لین الحدیث ہیں )
758Sunan Abu Dawood

نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَخْذُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُضَعِّفُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ إِسْحَاقَ الْكُوفِيَّ.

ابو وائل کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ناف کے نیچے رکھنا (سنت ہے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو سنا، وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق کوفی کو ضعیف قرار دے رہے تھے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : (The established way of folding hands is) to hold the hands by the hands in prayer below the navel. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: The narrator Abdur-Rahman bin Ishaq al-Kufi is weak (i. e. not reliable).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٤٩٤) (ضعیف) (اس سند میں بھی عبدالرحمن بن اسحاق ہیں )
759Sunan Abu Dawood

نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ.

طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔

Narrated Tawus (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to place his right hand on his left hand, then he folded them strictly on his chest in prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٨٢٩) (صحیح) (دو صحابہ وائل اور ہلب ؓ کی صحیح مرفوع روایات سے تقویت پاکر یہ مرسل حدیث بھی صحیح ہے )
760Sunan Abu Dawood

نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ لِي إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، وَإِذَا رَكَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي، وَإِذَا رَفَعَ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، وَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو الله اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشرکين إن صلاتي ونسکي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلک أمرت وأنا أول المسلمين اللهم أنت الملک لا إله لي إلا أنت أنت ربي وأنا عبدک ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بک وإليك تبارکت وتعاليت أستغفرک وأتوب إليك میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تابعدار ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عادتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بری عادتوں کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جاسکتی، میں تیرا ہوں، اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ، اور جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: اللهم لک رکعت وبک آمنت ولک أسلمت خشع لک سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابعدار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے)، اور جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد ملء السموات والأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شىء بعد اللہ نے اس شخص کی سن لی (قبول کرلیا) جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر ۔ اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے: اللهم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره و تبارک الله أحسن الخالقين اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بردار و تابعدار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھ پھاڑے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے وہ بہترین تخلیق فرمانے والا ہے ۔ اور جب آپ ﷺ سلام پھیرتے تو کہتے: اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم والمؤخر لا إله إلا أنت اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما، اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ۔

Ali bin Abi Talib said: When the Messenger of Allah ﷺ stood up for prayer, he uttered the takbir (Allah is most great), then said: I have turned my face, breaking with all others, towards Him Who created the heavens and the earth, and I am not a polytheist. My prayer and my devotion, my life and my death belong to Allah, the Lord of the Universe, Who has no partner. That is what I have been commanded, and I am first of Muslims (those who surrender themselves). O Allah, Thou art the King. There is no God but Thee. Thou art my Lord and I am Thy servant. I have wronged myself, but I acknowledge my sin, so forgive me all my sins; Thou Who alone canst forgive sins; and guide me to the best qualities. Thou Who alone canst guide to the best of them; and turn me from evil ones. Thou who alone canst turn from evil qualities. I come to serve and please Thee. All good is in Thy Hands, and evil does not pertain to Thee. I seek refuge in Thee and turn to Thee, Who art blessed and exalted. I ask Thy forgiveness and turn to thee in repentance. When he bowed, he said: O Allah, to Thee I bow, in Thee I trust, and to Thee I submit myself. My hearing, my sight, my brain, my bone and my sinews humble themselves before Thee. When he raised his head, he said: Allah listens to him who praises Him. O our lord, and all praises be to Thee in the whole of the heavens and the earth, and what is between them, and in whatever Thou creates afterwards. When he prostrated himself, he said: O Allah, to Thee I prostrate myself, to Thee I trust, and to Thee I submit myself. My face prostrated itself before Him Who created it, fashioned it, and fashioned it in the best shape, and brought forth its hearing and seeing. Blessed is Allah, the best of creators. When he saluted at the end of the prayer, he said: O Allah, forgive me my former and my latter sins, my open and secret sins, my sins in exceeding the limits, and what Thou knowest better than I. Thou art He Who puts forward and puts back. There is deity but Thee.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٧١)، سنن الترمذی/ الدعوات ٣٢ (٣٤٢١، ٣٤٢٢)، سنن النسائی/ الافتتاح ١٧ (٨٩٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥، (٨٦٤)، ٧٠ (١٠٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٣، ٩٥، ١٠٢، ١٠٣، ١١٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٣ (١٢٧٤)، ویأتي ہذا الحدیث برقم: (١٥٠٩) (صحیح )
761Sunan Abu Dawood

نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ، وَدَعَا نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الدُّعَاءِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ الشَّيْءَ وَلَمْ يَذْكُرْ: وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَزَادَ فِيهِ: وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ.

علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو الله اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے) ، اور جب اپنی قرأت پوری کر چکتے اور رکوع کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے (رفع یدین کرتے) ، اور نماز میں بیٹھنے کی حالت میں کسی بھی جگہ رفع یدین نہیں کرتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور الله اکبر کہتے، اور عبدالعزیز کی سابقہ حدیث میں گزری ہوئی دعا کی طرح کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ دعا کرتے، البتہ اس روایت میں:والخير كله في يديك والشر ليس إليك کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے: نماز سے فارغ ہوتے وقت آپ ﷺ یہ دعا پڑ ھتے: اللهم اغفر لي ما قدمت وأخرت وما أسررت وأعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے سارے گناہوں کی مغفرت فرما، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ۔

Ali bin Abi Talib said: When the Messenger of Allah ﷺ stood up for (offering) obligatory prayer, he uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands opposite to his shoulders, and he did so when he finished the recitation (of the Quran) and when he was about to bow; and he did like that when he raised (his head) after bowing. He did not raise his hands in prayer when he was sitting. When he stood at the end of two rak’ahs, he raised his hands in a similar way and uttered the takbir and supplicated in a more or less the same manner as narrated by Abd al-Aziz in his version. This version does not mention the words “All good is in Thy Hands and evil does not pertain to Thee. ” And this adds: He said when he finished the prayer: “O Allah, forgive me my former and latter sins, my open and secret sins; Thou art my deity; there is no God but Thee.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٧٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٢٨) (حسن صحیح )
762Sunan Abu Dawood

نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَابْنُ أَبِي فَرْوَةَ وغيرهما من فقهاء أهل المدينة فإذا قُلْتَ أَنْتَ ذَاكَ، فَقُلْ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَعْنِي قَوْلَهُ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ.

شعیب بن ابی حمزہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن منکدر، ابن ابی فروہ، اور دیگر فقہائے اہل مدینہ نے کہا: جب تم اس مذکورہ دعا کو پڑھو تو وأنا أول المسلمين کے جگہ وأنا من المسلمين کہا کرو۔

Shuaib bin Abi Hamzah said: Ibn al-Munkadir, Ibn Abi Farwah and a number of jurists of Madina said to me: When you recite the supplication “I am first of the Muslims, ” say instead; “I am one of the Muslims”.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٤٢٣) (صحیح )
763Sunan Abu Dawood

نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِيَ النَّفَسُ فَقُلْتُهَا، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا، وَزَادَ حُمَيْدٌ فِيهِ: وَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْشِ نَحْوَ مَا كَانَ يَمْشِي فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَهُ وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نماز کے لیے آیا، اس کی سانس پھول رہی تھی، تو اس نے یہ دعا پڑھی: الله أكبر الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه اللہ سب سے بڑا ہے، تمام تعریفیں اسی کو سزاوار ہیں، اور ہم خوب خوب اس کی پاکیزہ و بابرکت تعریفیں بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے ہیں؟ اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی ، تب اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے (کہا ہے) ، جب میں جماعت میں حاضر ہوا تو میرے سانس پھول گئے تھے، اس حالت میں میں نے یہ کلمات کہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے سبھی جلدی کر رہے تھے کہ ان کلمات کو کون پہلے اٹھا لے جائے ۔ حمید نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: جب تم میں سے کوئی آئے تو (اطمینان و سکون سے) اس طرح چل کر آئے جیسے وہ عام چال چلتا ہے پھر جتنی رکعتیں ملیں انہیں پڑھ لے اور جو چھوٹ جائیں انہیں پورا کرلے ۔

Anas bin Malik (RA) said: A man came panting to join the row of worshippers, and said: Allah is most great; praise be to Allah, much praise, good and blessed. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he asked: Which of you is the one who spoke the words? He said nothing wrong. Then the man said: I (said), Messenger of Allah ﷺ ; I came and had difficulty in breathing, so I said them. He said: I saw twelve angels racing against one another to be the one to take them to Allah. The narrator Humaid added: When any of you comes for praying, he should walk as usual (i. e. he should not hasten and run quickly); then he should pray as much as he finds it (along with the imam), and should offer the part of the prayer himself (when the prayer is finished) which the Imam had offered before him.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٧ (٦٠٠)، سنن النسائی/الافتتاح ١٩ (٩٠٢)، (تحفة الأشراف: ٣١٣، ١١٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٧، ١٦٨، ١٨٨، ٢٥٢) (صحیح )