Sunan Abu Dawood 803

نماز کا بیان

803Sunan Abu Dawood

آخر کی دو رکعتوں میں مختصر قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ: قَدْ شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے سعد ؓ سے کہا: لوگوں (یعنی اہل کوفہ) نے آپ کی ہر چیز میں شکایت کی ہے حتیٰ کہ نماز کے بارے میں بھی، سعد ؓ نے کہا: میں پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتا ہوں اور پچھلی دونوں رکعتیں مختصر پڑھتا ہوں، میں رسول اللہ ﷺ (کے طریقہ نماز کی) پیروی کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا اس پر عمر ؓ نے کہا: مجھے آپ سے یہی توقع تھی۔

Jabir bin Samurah reported: Umar said to Saad (RA) : people complain against you for everything, even for prayer. He replied: I prolong the first two rak’ahs of prayer and make the last two rak’ahs brief; I do not fall short of following the prayer offered by the Messenger of Allah ﷺ . He said: I think so about you.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٥ (٧٥٥)، ١٠٣ (٧٧٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٤ (١٠٠٣)، (تحفة الأشراف: ٣٨٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٥، ١٧٦، ١٧٩، ١٨٠) (صحیح )